Roop by Umme Umair NovelR50655 Roop (Episode 24)
Rate this Novel
Roop (Episode 24)
Roop by Umme Umair
بی بی جی میں نے نوید صاحب کو فون کیا اور ابھی ابھی پوچھا ہے ، وہ بول رہے ہیں کہ صاحب مذید ایک ہفتہ اور رکنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔
کیوں خالہ بی؟ نوید نے بولا ہے کہ صاحب کی اور لوگوں کے ساتھ میٹنگز بک ہیں جنکو وہ ایک ہفتے میں نپٹا نہیں پائے ہیں، جس کی بنا پر انہیں ایک ہفتہ مزید رکنا پڑے گا ۔۔۔
اوہ اچھا ! خالہ بی موسی نے یقینا مجھے فون یا میسج کیا ہو گا مگر مجھے تو اپنا فون دیکھنے کی فرصت ہی نہیں ملی ہے ۔۔۔
دیکھیں نا صبح سے ہم دونوں موسی کی آمد کی خوشی میں تیاریوں میں اتنی مشغول ہو گئیں تھیں کہ وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلا ۔۔۔
وردہ نے اپنی باطنی حالت کو چھپاتے ہوئے بات کو بدلنے کی بھرپور کوشش کی ۔۔۔
چلو خیر ہے بی بی جی ۔ اچھا ہے صاحب اپنے سارے کام نپٹا کر آئیں گے، ایسے روز روز تھوڑی جانے ہوتا ہے ۔۔۔
جی بالکل خالہ بی ۔۔ میں تو ایک اور ہفتہ انتظار کی سولی پر لٹکی رہوں گی ۔ یہاں پر ایک گھنٹہ گزارنا محال ہو رہا ہے اور مذید ایک ہفتے کا انتظار ۔۔ وردہ کا جی چاہا دھاڑیں مار مار کر روئے ۔۔ خالہ بی اپنے دھیان میں چولہے پر چائے کا پانی چڑھانے لگی ۔۔
خالہ بی میں چائے نہیں پیوں گی ، میں ذرا اوپر کمرے میں جا رہی ہوں، کچھ دیر آرام کروں گی ۔۔ فون بھی اوپر پڑا ہوا ہے موسی یقینا فون کرتے رہے ہونگے ۔۔
بی بی جی آپ جائیں لیکن وہ پوچھنا تھا کہ خریداری کے لئے جانا ہے پھر ؟ ڈرائیور کو بول دیتی ہوں تاکہ وہ گاڑی تیار رکھے ۔
خالہ بی خریداری کے لئے کل چلے جائیں گے۔ کیا خیال ہے ؟؟؟ ویسے بھی موسی ایک ہفتے بعد واپس آ رہے ہیں ، تو ابھی خریداری کے لئے کافی وقت ہے ۔۔
بی بی جی کل درس قرآن بھی ہو گا ۔
اوہ ہاں میں تو بھول ہی گئی تھی ۔ درس قرآن کے بعد چلے جائیں گے۔۔
ٹھیک ہے بی بی جی ۔۔
وردہ نے زخمی دل کے ساتھ زینے چڑھنا شروع کر دیئے ۔۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی دروازہ بند کرکے ادھر ہی فرش پر ڈھیر ہو گئی ۔۔۔
پچھتاووں کی اذیت دن بہ دن بڑھتی جا رہی تھی ۔ آنکھیں رو رو کر سوجھ گئیں ۔۔۔
موسی کب آو گے اور کب میرے دل پہ پڑا بھاری بھرکم پتھر سرکے گا ۔۔ میرے لیئے تو اب سانس لینا بھی محال ہو رہا ہے ۔۔ موسی میں ایسے تڑپ تڑپ کر مر جاوءں گی ۔۔۔
دل کا بوجھ ہلکا کرکے وردہ اپنے بستر کی طرف بڑھی اور سنگھار میز پر پڑا فون دیکھا ، جس پر ووٹس ایپ کی مس کال دیکھ کر فورا دل کی دھڑکن تیز ہو گئی ۔ غور سے دیکھنے پر پتہ چلا وہ کال موسی کی نہیں بلکہ زوبی کی تھی ۔۔
زوبی آج 3 دن گزر چکے ہیں ۔آج پھر سے مجھے کیوں کال کی ہے ؟ سرعت سے فون اٹھا کر کال ملائی ۔ دوسری بیل پر زوبی کی کھانسی کے ساتھ کمزور آواز گونجی ۔۔۔
وردہ مجھے معاف کر دو ، میں اس دن اپنی بات مکمل نہ کر پائی اور پھر بےہوش ہو گئی تھی ۔
کوئی بات نہیں زوبی آپ اپنی بات کو مکمل کرو میں ہمہ تن گوش ہوں ۔۔۔
زوبی نے لمبی سانس کھینچی اور اپنی ادھوری داستان ظلم دھرانا شروع کر دی ۔۔۔
جس داستان کا ایک ایک لفظ وردہ کی روح کو چھلنی کیئے جا رہا تھا ۔۔ ساکت بیٹھی وردہ زوبی کی ایک ایک بات کو اپنے اشکوں میں بہا رہی تھی ۔۔
وردہ پتا ہے میں کیسے موسی کے کمرے تک پہنچی تھی ؟ میں نے موسی کے کمرے تک پہنچنے کے لئے بہت بھاری قیمت چکائی تھی ۔۔۔
زوبی کھانستے ہوئے گویا ہوئی :
موسی کی بلڈنگ میں موجود باقی کمروں کے مکین لڑکوں کے ساتھ میرا ایک معاہدہ طے پایا کہ اگر مجھے انہوں نے موسی کے کمرے میں آنے جانے کے تمام اوقات کے ساتھ ساتھ بلڈنگ سیکورٹی پاس ورڈ اور پھر موسی کے کمرے کی ڈپلیکیٹ چابی مجھے پہنچائیں گے اور باقی تمام معلومات کے بارے میں مجھےآگاہی دیں گے، اور پھر میرا مقصد پورے ہونے کے بعد مجھے انکی مطلوبہ خواہش کو پورا کرنا ہو گا ۔ میرے اوپر جنون سوار تھا کہ مجھے صرف موسی کو پانا ہے ، میں نے ایک مرتبہ بھی انکی ڈیمانڈ کے بارے میں نہ پوچھا اور نہ ہی انہوں نے مجھے بتایا ۔۔۔۔
مجھے اپنے اوپر انتہا درجے کا اعتماد تھا کہ میں انتہا درجے کی خوبصورت لڑکی ہوں، نہایت آسانی سے موسی کو اپنے چنگل میں پھانس لوں گی پھر مجھے ان لڑکوں کی کوئی پرواہ نہیں ہو گی ۔۔۔
ہم انسانوں کے منصوبے کچے دھاگے جیسے کمزور ہوتے ہیں لیکن وہ رب جس نے ہمیں پیدا کیا ہے ہم اس کی تقسیم اور حکمتوں کو پس پشت ڈال کر ضمیر فروشی پر اتر آتے ہیں ۔۔۔ہمیں ابلیسی ہتھکنڈوں میں لذت محسوس ہونے لگتی ہے ۔اپنے نفس کی سودے بازی ہمارے شیطانی ذہن کو تقویت پہنچاتی ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے ، یہ سب وقتی ہوتا ہے اور بعد میں صرف پچھتاوں کی بھٹی میں جلنا باقی رہ جاتا ہے ۔
میں اپنے شیطانی منصوبہ سمیت موسی کے کمرے میں اسکے واپس آنے سے پہلے ہی موجود تھی۔
عریاں لباس اور خوشبووں کے مرغولے ایک نوجوان مرد کو بہکانے کے لئے کافی تھے۔۔۔
موسی کے کمرے میں داخل ہوتے ہی میں لپک کر اس کے ساتھ چمٹ گئی ۔ موسی اس اچانک افتاد پر حواس باختہ ہو گیا ۔
اور خود کو سنبھالتے ہوئے مجھے زور سے دھکا دے کر خود سے دور دھکیلا ۔ اور شدید غصے میں دھاڑا ، یہ کیا بدتمیزی ہے ؟ تم کون ہو ؟ تم کیا چاہتی ہو ؟ تمھاری جرآت کیسے ہوئی میرے کمرے میں آنے کی ؟ میرے کمرے سے ابھی کے ابھی دفعہ ہو جاوء ۔
موسی اپنی آنکھوں کو چھپائے غصے سے چلا رہا تھا ۔ میں نے بولا ہے دفع ہو جاو میرے کمرے سے ابھی اور اسی وقت ورنہ ۔
موسی میری بات تو سنو ۔ میں تمھیں بہت چاہتی ہوں صرف ایک منٹ میری بات تو سن لو ۔
مجھے نہیں سننی تمھاری بات ابھی کے ابھی نکلو میرے کمرے سے باہر ۔
جب میں نے اپنی بات اور خواہش کو بے وقعت ہوتے دیکھا تو میں نے اپنا گریباں چاک کر لیا اور موسی کو بہکانے کے لئے آخری حربہ آزمانے کے لئے آگے بڑھ گئی ۔
موسی نے مجھے اپنے قریب آتے دیکھ کر پوری قوت کے ساتھ ایک زوردار تھپڑ جڑ دیا ۔۔
میں اپنی توہین برداشت نہ کر پائی اور موسی کے گریبان کو بھی چاک کر دیا ۔
بدقسمتی سے یا پھر اتفاقا تم اسی وقت موسی کے کمرے کے باہر دستک دے رہی تھی ۔
موسی کی کھا جانے والی نظروں نے مجھے کمرے میں مزید رکنے نہ دیا اور دروازہ کھولتے ہی مجھے تم نظر آ گئی اور میں نے اپنا آخری کیل بھی ٹھونک دیا ۔۔۔
میں اپنے جھوٹے موٹے ڈرامے کو کامیاب ہوتا دیکھ کر بہت خوش ہوئی کہ اب موسی صرف میرا ہو گا ۔تم موسی سے طلاق لے لو گی اور موسی کا بڑا بھائی موسی کو زنا بالجبر کے جرم میں ملوث مجبور ہو کر میرے سے نکاح کروا دے گا ، مگر میرا شیطانی منصوبہ مجھے ہی لے ڈوبا۔
موسی کی بلڈنگ سے نکلتے ساتھ ہی وہ لڑکے جن کے ساتھ میرا معاہدہ طے پایا تھا وہ مجھے شہر کے بہت مشہور بار ( شراب خانہ) میں لے گئے اور پھر میرے سے میرا انکے ساتھ کیا گیا وعدہ یاد دلایا اور پھر اس کی وصولی کا مطالبہ کر دیا ۔۔۔
میں شدید غم و غصے میں پاگل ، حلال وحرام کی تمیز مکمل طور پر کھو چکی تھی، ایک کے بعد ایک گلاس چڑھا رہی تھی ۔ زوبی نے کھانستے ہوئے اپنی بات جاری رکھی ۔۔۔
پھر اسکے بعد وہ لوگ اپنے بنائے گئے منصوبے کے تحت مجھے اپنی مطلوبہ جگہ لے گئے اور میرے جسم کو اپنی حوس کا نشانہ بناتے رہے ۔۔۔
میں جو دوسروں کے گھر کو توڑ کر اپنا آشیانہ بنانے آئی تھی ،میں جو صرف اپنے نفس کی پجارن بن گئی تھی اور شیطان کے راستے پر چل پڑی تھی ۔ جب میرے رب نے میری دراز رسی کو کھینچا تو میں منہ کے بل گر پڑی ۔۔
اپنی عزت کو تار تار کروا کے بستر پر نیم مردہ پڑی تھی ۔۔۔ جب میں ہوش کی دنیا میں آئی تو سب کچھ فنا ہو چکا تھا، میں لٹی پٹی بے یار و مددگار ہوسٹل کے کمرے میں تھی ۔۔۔ میرے گھر والے اس بات سے مکمل طور پر بےخبر تھے ۔۔۔
اس حادثے نے مجھے ذہنی مریض بنا دیا ۔ میں کسی کو الزام بھی نہیں دے سکتی تھی کیونکہ یہ سب کیا دھرا میرے اپنے ہاتھوں کا تھا ۔۔۔
میں ظالم تھی ، میں نے اپنے آپ کے ساتھ خود دشمنی کی تھی اور پھر جب اللہ کی پکڑ آئی تو میرے جسم و جان نے تڑپنا شروع کر دیا ۔ امتحان ختم ہونے پر گھر واپس آگئی ، چند مہینے گزرے تو مجھے کھانسی بخار نے آ لیا ،چھوٹی چھوٹی بات پر الرجی اور نزلہ زکام ہو جاتا ۔ وزن کم ہونا شروع ہو گیا ۔۔۔
آخر تنگ آ کر جب بلڈ ٹیسٹ کروایا تو ایچ -آئی- وی پوزیٹیو آیا ۔ میرے ہاتھ پاوں پھول گئے ۔۔
اپنی ماں کو بتانے کی سکت نہ تھی ۔ بہر حال چپکے چپکے اپنا علاج کرواتی رہی ۔
وردہ مجھے اللہ کی شدید پکڑ آئی اور میں ایڈز کے مرض میں مبتلا ہو گئی ۔۔۔ مجھے ان یونی فیلوز سے ایڈز ملا ہے ۔۔ آج میں بستر مرگ پر پڑی ایڈز کی جان لیوا بیماری کے آخری سٹیج پر ہوں ۔ میری قوت مدافعت بالکل نہ ہونے کے برابر ہے ۔ کوئی دوائی مجھے اس تکلیف سے نجات نہیں دلا سکتی ہے ۔
وردہ مجھے تمھاری اور موسی کی معافی کی اشد ضرورت ہے ۔ اللہ کا واسطہ ہے مجھے سچے دل کے ساتھ معاف کر دو پلیز ۔
میں مانتی ہوں میرا جرم ناقابل معافی ہے ، میں نے پاکدامن مرد کو زانی کہلوانے کی بھاگ دوڑ کی کہ شاید وہ میرا بن جائے ۔ میں نے رحمان سے مانگنے کے بجائے، شیطان کا راستہ چنا ۔ وردہ میرا بخار تو کبھی اترا ہی نہیں ہے، میرے گلے سے پانی بھی نیچے اتارنا نہایت مشکل ہے ۔ میرا منہ ، میرا گلا سب زخموں سے چھلنی ہے ۔۔۔ زوبی نے کھانسی کو روکنے کی بھرپور کوشش کی ۔
میں نے صرف ایک ہی دعا مانگی تھی کہ اللہ مجھے وردہ اور موسی سے معافی مانگنے کا موقع دے دے ۔ وردہ دیکھ لو سچے دل سے مانگی گئی دعا قبول ہوئی ہے ۔ اور مجھے اعتراف جرم کا موقع میسر آیا ہے۔ الحمداللہ ۔۔
وردہ میں اپنے تمام گناہوں کی معافی چاہتی ہوں، پلیز موسی سے بھی میری بات کرواو دو ۔۔
وردہ نے اپنے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے بولا ۔ زوبی موسی تو گھر پر نہیں ہیں، وہ تو بزنس ٹرپ پر ہیں ۔ نمبر دے دیتی ہوں اگر وقت میسر ہوا تو آپ بات کر لینا ۔۔
ویسے میرا نہیں خیال وہ ایسے کسی انجان نمبر سے کال لیں گے ۔
وردہ مجھے کوئی خبر نہیں کب میں اس فانی دنیا سے کوچ کر جاوءں ۔ اگر میری بات موسی سے نہ ہو پائی تو پلیز میرا پیغام اس تک پہنچا دینا ۔۔
موسی مجھے اللہ کے واسطے معاف کر دے پلیز ۔ یہ ایک خطاکار کی التجا ہے ۔ میں اللہ کی بہت شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے توبہ کا موقع دیا ہے اور میں نے تم سے بات بھی کر لی ، میں اپنے تمام کبیرہ صغیرہ گناہوں کی معافی دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مانگتی ہوں ۔۔۔۔ وردہ بولو تم نے مجھے معاف کر دیا ہے ؟؟ ۔
زوبی میں نے آپکو معاف کیا ہے سچے دل کے ساتھ، اللہ آپ کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے آمین ۔۔۔
زوبی کی نحیف آواز شدید کھانسی میں بدل گئی اور پھر فون پر ابھرنے والی آواز بھی ساکت پڑ گئی ۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
جی انکل سب اللہ کا کرم ہے الحمداللہ ۔۔ جی ایک ہفتہ مذید رکنا پڑے گا ۔ نئی ڈیل چل رہی ہے اب دیکھیں کس حد تک کامیابی ملتی ہے ۔۔
مجھے تم پر پورا بھروسہ موسی بیٹا، تم مجھے کبھی بھی مایوس نہیں کرو گے ۔۔ ان شاءاللہ انکل ۔
اور سناو وردہ کیسی ہے؟
میں نے بارہا کال کی ہے اسکے نئے والے نمبر پر اسکا نمبر مصروف مل رہا تھا ۔ میں نے سوچا آپکے ساتھ بات کر رہی ہو گی ۔۔
نہیں انکل میں تو بس تھوڑی دیر قبل ہی نئی پارٹی سے مل کر باہر گاڑی میں بیٹھا ہوں ۔
آپ سنائیں آنٹی کی طبیعت کیسی ہے؟ وہ اب پہلے سے بہتر ہیں؟
بس بیٹا گزارا چل رہا ہے ۔ دن بہ دن اسکی صحت گرتی جا رہی ہے ۔اللہ رحم کرے آمین ۔ موسی نے دل سے دعا دی ۔
موسی بیٹا ابھی میں چلتا ہوں مجھے ڈاکٹر کے ساتھ تمھاری آنٹی کی موجودہ صورتحال کے بارے میں آگاہی لینی ہے تو پھر بات ہوگی ۔
اوکے انکل السلام علیکم!
فون بند کرتے ہی ظالم حسینہ کی یاد تازہ ہو گئی، وہ جو گزشتہ 6 دنوں سے صبر کیئے ہوئے تھا کہ نہ میسج کرنا ہے اور نہ کال کرنی ہے ، یکدم دل نے سرگوشی کی کہ ایک مرتبہ کال کر ہی ڈالو ۔۔۔
پھر سوچا وردہ کو سیدھا کرنے کے لئے انداز بدلنا پڑے گا ۔ ووٹس ایپ کھول کر پرانے میسجز کو دوبارہ پڑھنا شروع کر دیا ۔۔۔
پتا نہیں مجھے یاد کرتی ہے یا پھر ہر وقت صلواتیں ہی سناتی رہتی ہے؟! موسی اکیلے ہی مسکرائے جا رہا تھا ۔
فون بند کر کے گاڑی کی سیٹ پر رکھنے کے لیئے سوچ رہا تھا کہ بیپ نے سوچوں کا تسلسل توڑا ۔
میسج کھولا تو چہرے پر مسکان در آئی ۔۔
سر کچھ دیر قبل بی بی جی نے خالہ بی کے ذریعے آپ کی واپسی کے بارے میں معلومات لی ہیں ۔ اور پوچھا ہے کہ آپ کونسے وقت گھر پہنچ رہے ہیں ۔ اسکے علاوہ بی بی جی بازار جانا چاہتی ہیں ۔۔
موسی نے جلدی سے ٹائپ کرنا شروع کیا ۔
ہاں یار نوید میں آپ کی بی بی جی کو سرپرائز دینے کے لئے ساری تفصیلات نہیں دے رہا تھا ۔ خیر چلو آپ نے بتا دیا ہے تو کوئی بات نہیں ہے ۔۔
آپکی بی بی جی کے ساتھ خالہ بی اور ڈرائیور ساتھ جائیں اور بنک سے کیش رقم لے کر کل صبح ہی پہنچا آنا ، جو آپکی بی بی جی نے خریداری کرنی ہے وہ آسانی سے کر لیں گی ۔
کوئی مسئلہ نہیں ہے سر ۔
میں رقم 10 بجے تک پہنچا آؤں گا ان شاءاللہ ۔۔۔
موسی کا دل شدت سے مچلا کہ صرف ایک منٹ کی کال کر کے وردہ کی آواز ہی سن لے مگر پھر وردہ کی اکڑ کا سوچ کر اپنا ارادہ ملتوی کر دیا ۔۔۔ وردہ بیگم گھی جب سیدھی انگلیوں سے نہ نکلے تو انگلیاں ٹیڑھی کرنی پڑتی ہیں ۔۔ آپ ٹیڑھی کھیر شاید میری گھر واپسی تک سیدھی ہو جاو ۔
اللہ سبحان و تعالی سے دعا ہے کہ اللہ آپکو دین کی سمجھ بوجھ دے اور خاوند کے حقوق و واجبات کو پورا کرنے کی توفیق دے آمین ۔۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
بی بی جی ڈرایئور باہر گاڑی میں منتظر ہے آپ آرام سے تیار ہو کر باہر آ جائیں میں ذرا باہر باغیچے میں جا رہی ہوں ۔ جی چاہ رہا ہے کہ آج سورج کی تپش کو محسوس کروں ۔
جی خالہ بی آپ جائیں میں تیار ہو کر آپ کو بلانے آؤں گی ۔ میرا تو آدھا گھنٹہ عبایہ پہننے اور سکارف اوڑھنے میں لگ جائے گا ۔
کوئی بات نہیں بی بی جی آپ اس حلیے میں بہت معتبر لگتی ہیں، آپ بہت اپنی اپنی سی لگتی ہیں ۔
کیوں خالہ بی ویسے اپنی اپنی نہیں لگتی ہوں؟
ارے کیوں نہیں بی بی جی ۔ بس اس حلیے میں آپ بہت خاص دکھتی ہیں ماشااللہ ۔۔
چلیں آپ کہتی ہیں تو مان لیتی ہوں ۔
وردہ نے مسکراتے ہوئے زینے چڑھنا شروع کر دیا ۔۔۔
اپنی طرف سے عجلت میں تیاری شروع کر دی مگر پھر بھی 25 منٹ گزر گئے ۔ کیا مصیبت ہے یار ۔
کب میں اسکو پہننا سیکھوں گی ؟
عجیب سی چیز ہے یہ بھی ۔ وردہ نے اکتاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے سر پر آخری پن جڑی ۔
حجاب سے فراغت کے بعد بیتابی سے فون چیک کیا۔۔ وردہ دن میں بار بار اپنا فون دیکھتی کہ شاید موسی کا کوئی میسج یا پھر کوئی کال آئی ہو ۔ خود کال یا میسج کرنے کی ہمت نہیں رکھتی تھی
بجھے دل کے ساتھ فون واپس پرس میں ڈال کر زینے اتر کر گھر کے داخلی دروازے کی طرف بڑھی تو ۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
