Roop by Umme Umair NovelR50655 Roop (Episode 27)
Rate this Novel
Roop (Episode 27)
Roop by Umme Umair
جاو وردہ جمال مرزا آپ آزاد ہو ! جو فیصلہ کرنا چاہتی ہو ، وہ کر کے مجھے بتا دینا ۔ میری طرف سے کوئی روک ٹوک نہیں ہو گی ۔۔۔
وردہ نے تڑپ کر موسی کو دیکھا جو بولتے ساتھ ہی دوبارہ سے کمبل چہرے تک تان کر سونے کے لئے پر تولنے لگا ۔
ہمارے بعد اندھیرا رہے گا محفل میں!
بہت چراغ جلاؤ گے _ روشنی کے لیے! (عطا الصمد)
جی چاہا موسی سے لپٹ جائے اور سارا حال دل ایک ہی سانس میں سنا ڈالے مگر موسی کے غصے سے خوف آ رہا تھا ۔ پہلے تو کبھی بھی موسی نے اتنا غصہ نہیں کیا اور نہ ہی اتنی بے رخی برتی ہے ۔
پر آج تو موسی نئے روپ کے ساتھ پیش آئے ہیں ۔۔
وردہ تھکے قدموں کے ساتھ اپنے کمرے میں لوٹ آئی ۔ پھر وہی آنسوؤں کی جھڑی اور وردہ کا تکیہ ۔
موسی جو کہ ہوائی سفر سے نڈھال ہو چکا تھا ، ابھی بھی مذید نیند لینا چاہتا تھا ۔ وردہ کے کمرے سے نکلتے ہی گہری نیند میں چلا گیا ۔ آنکھ دن کے پورے گیارہ بجے کھلی ۔۔۔ کچھ دیر بستر پر بیٹھ کر ہوش و حواس بحال کیئے پھر دوبارہ اپنے کمرے میں آیا تو دیکھا وردہ بھی بے سدھ پڑی ہے ۔ خاموشی سے الماری میں لٹکا کرتا شلوار نکالا ، اور غسل لے کر کمرے میں واپس آیا تو وردہ کو ہنوز اسی حالت میں پایا ۔سر جھٹک کر آئینے کے سامنے اپنے بال سنوارنے لگا ۔ پسندیدہ پرفیوم کی شیشی ابھی اٹھائی ہی تھی کہ عقب سے وردہ کی میٹھی دھیمی آواز ابھری ۔۔
موسی ! موسی نے گردن گھما کر بولے بنا سوالیہ نظروں سے وردہ کو دیکھا ۔۔
وہ وہ وہ موسی آپ میرے سے ناراض ہیں؟
آپ کے خیال میں نہیں ہونا چاہیئے؟ موسی نے وردہ کو لاجواب کر دیا ۔۔
وہ موسی آپ مجھے معاف کر دیں ۔ کس خوشی میں معاف کر دوں ؟! آپ نے کونسا قلعہ فتح کر لیا ہے؟ جسکی خوشی میں مجھ سے معافی کی طلب گار ہو رہی ہیں ؟
وردہ کی آنکھوں نے چھم چھم برسنا شروع کر دیا ۔
موسی نے پرفیوم کی شیشی کو واپس سنگھار میز پر رکھا اور کونے میں پڑی کرسی کو کھینچا اور وردہ کے سامنے رکھتے ہوئے گویا ہوا ۔
وردہ بات جب تک میری ذات تک تھی اور ہمارے دونوں کے درمیان تھی تو مجھ میں برداشت تھی مگر اب یہ بات میرے خون ، میرے بھائی کو پریشان کر رہی ہے ۔ میں نے منع کیا تھا نا ؟ کہ بھابھی کے ساتھ کوئی ایسی ویسی بات نہ کرنا ۔ اسکے باوجود صرف میری ضد میں پردیس میں بیٹھے میرے مختصر سے خاندان کو بھی پریشان اور غمگین کیا ہوا ہے ۔ ایسا کرنے پر کیا ملا ہے ؟
مجھے چاہے جتنا مرضی تنگ کرتی تھی ، بد زبانی کرتی تھی اور ہر وہ حربہ آزماتی تھی جس سے میری ذات کو اذیت پہنچے اور میں زچ ہوں ۔ مجھے کبھی بھی جوابی کاروائی کرتے یا ایسا رویہ اختیار کرتے ہوئے دیکھا تھا ؟
وردہ نے فورا نفی میں گردن ہلائی ۔۔
میں نے کبھی شکوہ کیا تھا یا بدلے میں وہی برتاو کیا تھا ؟ یا کسی اور شخص کو آپکی شکایت لگائی تھی ؟ خاص طور پر آپکے والد محترم کو بتایا تھا ؟
نہیں نا ؟ وردہ مسلسل نفی میں گردن ہلا رہی تھی۔۔
پتا ہے میں نے کسی کو اپنا غم اور پریشانی کیوں نہیں بتائی؟ وردہ نے فورا سوالیہ نظروں سے موسی کو دیکھا ۔
موسی کے چہرے پر چٹانوں جیسی سختی دیکھ کر وردہ نے فورا نظریں جھکا لیں ۔۔ دل کی دھڑکن رکتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔
فورا برستی آنکھوں کو ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے رگڑ ڈالا ۔
موسی وردہ کی ہر کاروائی کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا ۔۔
اب تیار ہو جواب سننے کے لیئے یا پھر آنسوؤں کی برکھا سے دل بہلانا ہے ؟ وردہ نے چھلکتی آنکھوں سمیت سرعت سے اثبات میں گردن ہلائی ۔۔
بند کرو اپنا رونا ! کرخت کاٹ دار لہجہ وردہ کو جھنجھوڑ گیا ۔
میں کوشش کر رہی ہوں لیکن پھر بھی نہیں رک رہا رونا ۔ وردہ نے ہچکیوں میں مزید رونا شروع کر دیا ۔۔
میرے خیال میں آپ ابھی تیار نہیں ہو کہ آپکے ساتھ بات کی جائے ۔ موسی سنجیدہ لہجے میں بولتا اٹھ کھڑا ہوا ۔۔
وردہ نے فورا لپک کر موسی کے ہاتھ کو تھام لیا ۔
پلیز آپ بات کرو ۔ مجھے تو ویسے ہی رونا آ رہا ہے ۔
رونا بند ہو ابھی اور اسی وقت ! ۔
وردہ نے گلے میں پڑے دوپٹے سے آنکھیں رگڑیں ۔۔۔
موسی اپنی تنی رگوں اور سنجیدہ لہجے میں گویا ہوا ۔ میں اپنی ذات سے منسلک رشتوں کو اذیت میں نہیں دیکھ سکتا ہوں، میرا ضمیر ہی نہیں مانتا کہ میری ذات سے دوسروں کو اذیت پہنچے ۔ اگر میں کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا تو کم از کم میری ذات انکے لیئے شر انگیزی کا باعث بھی نہ بنے مگر آپ وردہ جمال مرزا نے اس میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے ۔۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
“ابن آدم کی اکثر غلطیوں کا منبع و مرکز زبان ہی ہے”(المعجم الکبیر للطبرانی:10446)
“تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہ ہوگا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہ نہ چاہے جو اپنے نفس کے لیئے چاہتا ہے”(صحیح بخاری، کتاب الایمان:13)
“لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کونسا اسلام بہتر ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جس کے ماننے والے مسلمانوں کی زبان اور ہاتھ سے سارے مسلمان سلامتی میں رہیں”(صحیح بخاری:11)
جب آپ مجھے کچوکے لگاتی تھی، ستاتی تھی ۔ مجھے تکلیف پہنچتی تھی مگر میں صبر کر جاتا تھا ۔ اب آپکے یہی کچوکے میرے خاندان تک پہنچ رہے ہیں جو میری برداشت سے باہر ہیں ۔۔
موسی معافی تو مانگ رہی ہوں کہ غلطی ہو گئی ہے آئندہ ایسا نہیں کروں گی ۔۔۔ وردہ نے ڈبڈبائی آواز میں بولا ۔
میں بھابھی سے دوبارہ بات کر کے معافی مانگ لوں گی ۔ میں اس اچانک تبدیلی کی وجہ جان سکتا ہوں؟
وردہ نے سوچا کہ زوبی والی بات اگر اب بتائی تو موسی جو پہلے ہی شدید غمگین ہے اور زیادہ غم زدہ ہو جائے گا ۔ بہتر ہے خاموشی اختیار کروں ۔۔۔
وردہ میں نے وجہ پوچھی ہے ، میری غیر موجودگی میں ان دو ہفتوں کے درمیان کونسی ایسی ہوا چلی ہے یا پھر کونسا ایسا پانی پی لیا ہے جس سے معافی تلافی پر اتر آئی ہو ؟ ۔ یا پھر یہ بھی مجھے زچ کرنے کا نیا طریقہ ایجاد کیا ہے ؟
نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔ تو پھر ؟
ابھی جھگڑا ختم ؟ ابھی سب کچھ نارمل ہو گیا ہے ؟
موسی میں اس رشتے کو نہیں توڑنا چاہتی ہوں ۔
اچھا ! موسی نے سنجیدگی سے بولا۔
مجھے دیکھنے دو کہیں میرے پر تو نہیں اگ رہے ہیں جو میری پانچ سالہ پرانی بیوی کو ابھی نظر آئے ہیں ۔
موسی نے کاٹ دار لہجے میں بولا ۔
موسی میں نے بہت بڑی غلطی کی ہے مجھے معاف کر دیں۔۔ میں آئندہ کسی کو بھی کچھ بھی نہیں بتاوں گی ۔ ابھی راضی ہو جائیں پلیز ۔ ابھی “تم سے آپ” اور “جاو سے جائیں” تک کا سفر کر لیا ہے ؟ موسی نے سنجیدگی سے پوچھا اور نظریں گاڑھے وردہ کو نروس کرتا رہا ۔۔۔
وردہ نے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو مروڑنا شروع کر دیا ۔
موسی نے کرسی سے اٹھنا چاہا تو وردہ دوبارہ پکار بیٹھی ۔ موسی آپ نے مجھے معاف کر دیا ہے کیا ؟ سوچوں گا ۔
کیا مطلب سوچوں گا ؟
ابھی تو بات واضح ہو گئی ہے ۔
وردہ نے ضدی بچوں کی طرح لپک کر موسی کی چوڑی ہتھیلی کو پکڑ کر جھنجھوڑا۔۔۔
میری بیوی لائی لگ ہے، فورا دوسروں کی باتوں پر کان دھر لیتی ہے، کیا خبر کل کو کوئی تیسرا میرے خلاف آ کر کانا پھوسی کرے اور میں پھر مجرم ٹھہرایا جاوءں ۔۔۔ میری بیوی کو میری باتوں پر اعتبار کم ہے بہ نسبت دوسرے لوگوں کی باتوں کے ۔۔۔
ایسے لائی لگ بندے / بندی بہت نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں ۔ جو اپنی سوچوں کو دوسروں کے حوالے کر دیتے ہیں ، جو اپنی پسند نا پسند کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے دوسروں کے جذبات و احساسات کی قدر نہیں کرتے اور مسلسل اپنے ان رشتوں کو اپنی نفسانی خواہشات کی رو میں روندتے چلے جاتے ہیں ۔۔۔
پہلے اپنی سوچ کا محور درست کرو پھر کی پھر دیکھی جائے گی ۔ موسی نے اپنی بات مکمل کر کے کرسی اٹھا کر دوبارہ کونے میں واپس جا رکھی ۔
اور سنگھار میز پر پڑی پرفیوم کا چھڑکاؤ کرنے لگا ۔ موسی ! فرماو !
لہجہ کرخت اور سنجیدہ ۔۔
وہ میں نے کل آپ کے لئے کھانا بنایا تھا ۔
تو ؟ تو پھر آپ ابھی وہی کھانا کھائیں گے یا پھر کچھ اور بنا کر دوں؟
آپکو تو کھانا پکانا نہیں آتا تھا اور نہ برتن دھونے کا پتا تھا ؟ موسی کے دل میں آیا کہ سب بول دے مگر کچھ سوچ کر خاموش ہو گیا ۔۔۔
آپ بے فکر رہو میں خود ہی نیچے کچن میں جا کر کچھ بنا لیتا ہوں ۔۔
مجھے اچھا لگے گا موسی ۔ وردہ نے ڈبڈبائی آواز میں بولا ۔ بڑی روشن آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں ۔۔
موسی کو اپنا آپ کمزور ہوتا ہوا محسوس ہونے لگا تو فورا نظریں چرا لیں ۔ فورا سخت لہجے میں گویا ہوا ۔۔
اپنا حلیہ درست کر کے نیچے آ کر پراٹھے بناو اور یہ بال کھلے ہوئے نظر نہ آئیں۔ اور اگر اب میں نے روتے ہوئے دیکھا تو پھر میں نے سیدھا جہاز پر ہی بٹھانا ہے ۔ یہ دھمکی نہیں ہے ۔ اس پر عمل بھی کروں گا ۔
سمجھ آ گئی ہے؟ جی آ گئی ۔۔۔
موسی لمبے ڈھگ بھرتا ہوا کمرے سے نکل گیا ۔۔ وردہ نے رکی ہوئی لمبی سانس کھینچی ۔
بھاگ کر گرے اور سلور جوڑا نکال کر شاور میں گھس گئی ۔ 15 منٹ میں شاور لیا ، 5 منٹ میں ہیئر ڈرایئر سے بال خشک کر کے کیچر میں جکڑے ۔
میک اپ لگا لوں یا نہ لگاوں ؟ خالہ بی کی باتیں دماغ میں گردش کر رہیں تھیں ۔
چلو کاجل اور لپس ٹک لگا لیتی ہوں ۔ ابھی کاجل ہی لگایا تھا کہ موسی کمرے میں واپس لوٹ آیا ۔
اچٹتی نظر ڈال کر لائبریری میں گھس گیا ۔
وردہ نے لپس ٹک کا ارادہ ملتوی کر دیا ۔ اور موسی کے پیچھے ہو لی ۔
وہ موسی میں نیچے جا رہی ہوں ۔ آپ 10 منٹ میں آ جانا ، ناشتہ تیار ہو گا ۔ موسی نے بنا دیکھے اثبات میں گردن ہلائی ۔۔۔
تازہ کر کرے پراٹھوں کی مہک کچن میں پھیلی ہوئی تھی، وردہ ایپرن پہنے روائتی بیویوں کی طرح سرعت سے ہاتھ چلا رہی تھی کہ جیسے ایک سیکنڈ لیٹ ہوئی تو ریل گاڑی چھوٹ جائے گی ۔۔۔
وردہ بالکل اس بات سے بےخبر تھی کہ موسی اس کے نیچے آتے ہی ساتھ ہی آ گیا تھا اور پوری توجہ سے اس کے ہر عمل کو ازبر کر رہا تھا ۔ توے سے پراٹھا اتار کر پلٹی تو حیرت سے آنکھیں پھیل گئیں ۔
موسی کچن کے سٹول پر بیٹھا سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔
سوری موسی مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ آپ آ چکے ہیں ۔
اگر پتا چل جاتا تو کیا کر لیتی ؟ سنجیدگی سے پوچھا ۔
پھر شاید میرے سے پراٹھا جل جاتا اور ٹھیک سے نہ بنتا ۔ کیوں میرے ہاتھ میں بارود ہے یا پھر میں اپنے ساتھ تندور لیئے پھرتا ہوں ؟
ارے نہیں ایسی بات نہیں ہے ۔
پھر کیسی بات ہے ؟
وہ اب مجھے آپ سے ڈر لگتا ہے ۔ وردہ نے تھوک نگلتے ہوئے بولا ۔ میرے سینگ نکل آئے ہیں؟ یا دانت لمبے ہو گئے ہیں؟
یکدم وردہ کی ہنسی چھوٹ گئی جبکہ موسی ہنوز سنجیدگی سے وردہ کو گھور رہا تھا ۔۔
موسی کو سنجیدہ بیٹھے دیکھ کر وردہ نے اپنی ہنسی کو بریک لگا لیئے ۔۔
پراٹھا سامنے میز پر رکھ کر پلٹی تو موسی کی آواز کانوں سے ٹکرائی ۔ یہ تو سادہ پراٹھا ہے ، مجھے تو آلو والا پراٹھا کھانا ہے ۔
اوہ سوری ۔ میں نے سمجھا آپ نے صرف پراٹھا بولا ہے ۔ کوئی نہیں میں خود کھا لوں گی ۔ آپکے لیئے ابھی آلو ابال لیتی ہوں ۔ بس 10 منٹ دے دیں ۔ اور آٹا بھی تازہ ہونا چاہیئے ۔ رات والے آٹے سے پراٹھا نہیں بننا چاہیے ۔
میں آٹا بھی نیا بنا لیتی ہوں، ویسے تو آٹا فریج میں پڑا ہے ۔۔ اچھا تو پھر اسی آٹے سے بنا لو ۔ اور میں دو پراٹھے کھاوں گا ؟ کڑک چائے تیار ہے ؟ چلو ہٹو میں چائے خود بنا لیتا ہوں ۔۔
ارے نہیں بالکل بھی نہیں آپ بیٹھیں میں خود بنا لوں گی ۔ وردہ نے موسی کے ہاتھ سے پانی والی دیگچی لے لی ۔ موسی کو ایک کے بعد ایک جھٹکا لگ رہا تھا ۔۔۔ مگر وہ وردہ پر ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
موسی نے ہتھیار ڈال دیئے اور خود کو ہاتھ میں پکڑے فون پر مصروف کر لیا ۔۔ گاہے بگاہے وردہ کی پھرتیوں کو بھی دیکھ رہا تھا ۔ یہ لڑکی پٹاخہ ہے ۔ پتا نہیں یکدم اتنی اچھی کیسے بن گئی ہے ۔ ایک وقت تھا جب اسکی زبان شعلے اگلتی تھی اور آج اچانک بچھ بچھ جا رہی ہے ۔ موسی آموں سے مطلب رکھ پیڑوں کی گنتی بھول جا ۔ چہرے پر آئی مسکراہٹ کو چھپایا ۔
پراٹھے تیار ہو چکے تھے ۔۔ وردہ نے تازہ کر کرے آلو والے پراٹھے کو پلیٹ میں سجا کر میز پر رکھا ۔ اور پھر ہلکی آنچ پر ابلتی چائے کو بڑے مگ میں انڈیلنے لگی کہ ہاتھوں میں شدید لرزش سے آگ گرم چائے چھلک کر ہاتھ پر گری ۔ ایک دم سے تڑپ کر پیچھے ہٹی اور ہاتھ کو ہوا میں جھٹکنا شروع کر دیا ۔
موسی نے بنا ایک سیکنڈ کی تاخیر کیئے بھاگ کر وردہ کے ہاتھ کو پکڑ کر سینک میں ٹھنڈے پانی کے نل کے نیچے رکھ دیا۔
وردہ کے آنسو بلا روک ٹوک لڑیوں کی صورت میں بہے چلے جا رہے تھے ۔۔ میں نے بولا تھا کہ مجھے چائے بنانے دو ۔ ابھی رونا بند کرو اور جاکر کھانا کھاو، میں چائے انڈیل کر لاتا ہوں ۔
موسی نے وردہ کا ہاتھ پکڑ کر دیکھا تو گرم چائے کے چند چھینٹوں کے لال نشان نظر آئے ۔
کچھ دیر نازک ہاتھ کو پکڑ کر الٹ پلٹ کر کے دیکھتا رہا ۔ بچت ہو گئی ہے ۔
آنکھیں کھول کر کام کیا کرو !
اور یہ رونا بند کرو !
مجھے چھوٹی چھوٹی بات پر روتی ہوئی عورتیں دیکھ کر شدید قسم کی کوفت ہوتی ہے ۔۔
وردہ نے فورا پاس پڑے ٹشو کے ڈبے سے ٹشو نکال کر آنکھیں رگڑ ڈالیں ۔
آپ جائیں میں چائے لے کر آتی ہوں ۔ وہ ویسے ہی ہاتھوں میں لرزش کی وجہ سے چائے چھلک گئی تھی ۔ اب ہاتھوں میں لرزش ختم ہو گئی ہے کیا ؟
موسی نے وردہ کی آنکھوں میں جھانکا ۔
آپ ادھر ہی کھڑے رہیں پلیز ، اگر ہاتھ لرزے تو پکڑ لینا۔
اس سے کیا فائدہ ہو گا ؟ میرا حوصلہ بڑھے گا کہ میں آپکی موجودگی میں بھی کھانا بنا سکتی ہوں ۔
وردہ جمال مرزا کا نرالہ فلسفہ میری سمجھ سے باہر ہے ۔ پراٹھے ٹھنڈے ہو چکے ہیں، ادھر جاو اور کھاو ورنہ دوبارہ سے گرم کرنے پڑیں گے ۔۔۔
آپ جائیں شروع کریں، میں بس ابھی آتی ہوں ۔۔ موسی خاموشی سے آکر بیٹھ گیا اور کرکرے پراٹھوں سے انصاف کرنے لگا ۔ بیوی کے ہاتھوں سے بنی چیزوں میں اتنا ذائقہ ہوتا ہے یا پھر وردہ کے ہاتھوں میں اچھا ذائقہ ہے ؟ موسی دل ہی دل خوش ہو رہا تھا ۔
وردہ چائے کا مگ تھامے خراماں خراماں میز تک پہنچی ۔ مگ رکھ کر پلٹنے لگی تو موسی نے کلائی سے پکڑ لیا ۔ سنجیدہ چہرہ لیئے بولا ۔ ادھر بیٹھ جاو فورا سے پہلے اپنا پراٹھا کھاو ورنہ!
وردہ نے گھبرا کر موسی کے اشارے پر فورا عمل کیا اور بیٹھ گئی ۔
میں نے بولا ہے کھاو ! سنجیدہ لہجہ بغیر کسی تاثر کے وردہ کو ہلا کر رکھ گیا ۔ فورا نوالہ توڑ کر منہ میں ڈالا ۔ موسی بمشکل اپنی ہنسی کو دبائے بظاہر پراٹھا کھانے میں مشغول تھا مگر دھیان سارا وردہ کے کھانے پر تھا جو بڑی دقت سے نوالہ گلے سے اتار رہی تھی ۔ وردہ ہر ممکن موسی کو خوش کرنے اور فرمانبداری کی جان توڑ کوشش کر رہی تھی کہ اچانک ۔۔۔۔۔۔۔۔
