Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Roop (Episode 15)

Roop by Umme Umair

موسی کا دل کٹ کر رہ گیا ، اپنی معصوم سی بیوی کو پورے دو ہفتے سے انتظار کی سولی پر لٹکایا ہوا تھا ۔۔۔ موسی نے اپنے روٹھے گھمبیر لہجے میں سلسلہ کلام شروع کیا ۔۔۔ وردہ آپکو پتا ہے نا میں صرف آپ سے ملنے کےلئے اتنا تھکا دینے والا ٹرین کا سفر کر کے آیا تھا ۔۔ اور آپ ہونکوں کی طرح پیش آرہی تھی ۔۔ میں آپکو کھانے لگا تھا کیا ؟!

وردہ کی سڑ سڑ اور ہچکیاں اپنے عروج پر تھیں ، وردہ پلیز اب رونا بند کر دو ۔۔۔۔

آپ نے مجھے معاف کر دیا ہے؟ ہاں معاف کر دیا ہے تو ہی بات کر رہا ہوں ۔۔۔ وردہ کے رونے میں مذید شدت آگئی ۔۔ وردہ میں نے بولا ہے چپ ہو جاوء پلیز ۔ میں ویسے ہی گزشتہ 2 ہفتے سے پریشان ہوں ۔۔ ٹھیک سے سو بھی نہیں پایا ہوں ۔۔ تو موسی آپکو کس نے بولا تھا اتنی لمبی ناراضگی کریں ؟ ۔

وردہ شکوہ کناں تھی ۔ ابھی مجھے نہیں بات کرنی آپ سے ۔ اتنی معمولی غلطی پر کوئی ایسے کرتا ہے بھلا ؟ وردہ آرام سے میری بات سنو ۔۔۔ جب تک میں اپنی بات مکمل نہ کر لوں تو آپ نہیں بولو گی ۔۔

وردہ یہ معمولی غلطی تو نہ تھی ۔۔ جس کا خاوند اتنے مہینوں بعد تھکا دینے والا سفر کر کے خاص الخالص اپنی بیوی سے ملاقات کے لئے آئے اور اگے بیگم صاحبہ چوکیدار ساتھ لیئے 2 منٹ کے لئے دنیا داری نبھا کر یہ “جا اور وہ جا” کریں تو پھر دل تو دکھتا ہے ۔۔۔۔ حد ہوتی ہے بیوقوفی کی بھی ۔

سونے پہ سہاگہ سفر بھی بھابھی بچوں کے ساتھ کیا ہے۔۔۔ وردہ آپکو میرے ساتھ میری گاڑی میں ہونا چاہیئے تھا ۔ مجھے کیا پتا تھا آپ گاڑی لے کر آئے تھے ۔ مجھے ٹیکسٹ کر کے بلا لیتے یا پھر ایک کال کر لیتے ۔ اس وقت افراتفری میں سب گھر سے نکل رہے تھے اور اوپر سے میری پھپھو وہاں پر پہنچ چکی تھیں ، وہ بار بار کال کر رہی تھیں کہ جلدی پہنچو اور میں افراتفری میں بھابھی بچوں کے ساتھ ہی بیٹھ گئی ۔۔ بس یہ بولو وردہ آپ میرے سے جان چھڑانا چاہتی تھی ۔ موسی میرے سے اللہ کی قسم لے لیں ایسی کوئی بات نہ میں نے سوچی تھی اور نہ کبھی سوچ سکتی ہوں ۔۔۔

وردہ رندھی آواز میں بولی تو یہ بات آپ مجھے اسی وقت بتا سکتے تھے دو ہفتے ناراض رہنے کی کیا تک بنتی تھی؟ اگر اسی وقت بتاتا تو آج یہ تڑپ دیکھنے اور سننے کو نہ ملتی ۔۔۔۔

وردہ نے دوبارہ سے بھاں بھاں رونا شروع کر دیا ۔۔

اگر آج میرے ساتھ بات نہ کرتے تو میں نے آپکی شکایت سرمد بھیا سے کر دینی تھی ۔۔ بھلے پھر پورا سال ناراض رہتے ۔۔۔

اچھا رہ لیتی پورا سال میرے ساتھ بات کیئے بنا پھر ؟

نہیں ! تو پھر گیدڑ بھبھکیاں کیوں دے رہی ہو ؟ آپکو ڈرانے کے لئے ۔۔ میں نہیں ڈرتا ایسی دھمکیوں سے ۔ کیوں آپ کے سینے میں دل نہیں ہے ؟

دل ہے مگر معمولی چیزوں پر نہیں ڈرتا ۔۔

موسی آپ نے مجھے “چیز” سے تشبیہ دی ہے اور میں معمولی بھی ہوں؟ میرے معاملے میں کوئی پرواہ نہیں ہے ۔۔ وردہ تو غم سے دھاڑ رہی تھی ۔۔

بس ابھی بالکل بھی بات نہیں کرنی ۔۔۔

وردہ نے جذباتی ہوکر فون بند کر دیا ۔۔ فون نے دوبارہ سے چنگاڑنا شروع کر دیا ۔۔

نہیں اٹھاوں گی کرتے رہیں فون ۔۔۔

مسلسل 10 کالز اور پھر ووئس میسجز کا تانتا بندھ گیا ۔۔

میسج بھی نہیں سننے ۔ ایسے تو پھر ایسے ہی سہی ۔

وردہ جذبات کی رو میں بہہ رہی تھی ۔۔

جی چاہا مم پاس ہوں تو انکی گود میں سر رکھ کر خوب دل کی بھڑاس نکالے ۔

اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرے ۔۔ کوئی بھی تو نہیں تھا جس کو اپنا دکھڑا سناتی ۔۔

ڈیڈ کو وہ پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی اور سوتیلی چاہے اچھا برتاؤ رکھتی تھی لیکن پھر بھی ایک جھجھک تھی جو وردہ کو زیادہ آگے نہ بڑھنے دیتی تھی ۔۔۔۔

جب جی بھر کر رو لیا تو موسی کو واپس کال ملائی ۔ موسی بھی شاید موبائل ہاتھ میں تھامے بیٹھا تھا ۔۔

بیتابی سے بولا ۔ وردہ پلیز فون نہ بند کرنا پلیز ۔ اگر میرے گزشتہ دو ہفتے کے رویے سے تکلیف پہنچی ہے تو معاف کر دو پلیز ۔۔

وردہ نے تو جیسے رونے کا ٹھیکہ لے رکھا تھا ، مسلسل روئے جارہی تھی ۔۔

موسی آپکو پتا بھی ہے ڈیڈ اور آپکے سوا میرا اس دنیا میں کوئی بھی ہمدرد اور قریبی نہیں ہے، پھر بھی آپ نے ایسا رویہ روا رکھا ۔۔۔ میں نے اس دن بھی وضاحت کی تھی کہ مجھے تھوڑا وقت درکار ہے آپ نے پھر بھی نہیں سمجھا اور اپنی ضد پر ڈٹے رہے ہیں ۔۔۔

2 ہفتوں میں ، میں نے 2 کلو وزن کم کیا ہے ۔ ابھی دیکھا تو پھر نیا شکوہ کریں گے کہ اتنی پتلی کیوں ہو گئی ؟؟۔۔

وزن کیوں کم ہوا ہے ؟ موسی کو سن کر فکر لاحق ہوئی ۔۔ آپ کے ڈیڈ کی نئی بیوی تو نہیں تنگ کرتی آپکو؟؟

ورنہ میں کل ہی آکر آپکو اپنے ساتھ لے آوں گا اور ہم ایک چھوٹا سا اپارٹمنٹ کرائے پر لے لیں گے ۔۔ میں ہوسٹل سے سب شفٹ کر لوں گا ۔۔۔

نہیں کوئی ضرورت نہیں ہے اتنا تردد کرنے کی ، اور ڈیڈ کی بیوی بہت اچھی ہے ۔ مجھے کوئی مسئلہ نہیں انکے ساتھ ۔۔۔

میرا مسئلہ موسی سکندر خان ہیں جن کی وجہ سے میں روز جلتی کڑھتی رہی ہوں ۔ اور ٹھیک سے کچھ کھایا بھی نہیں ہے ۔۔۔

کوئی تک بنتی ہے ایسی باتوں پر ناراض ہونے کی بھلا ؟ وردہ پھر بھی موسی کی بات کو نہیں سمجھ رہی تھی ۔۔

وردہ میری جان بولا ہے نا غلطی ہو گئی تھی ۔ اب معاف کردو پلیز ۔۔ کان پکڑیں میں ابھی ویڈیو کال کرتی ہوں ۔۔۔

موسی نے سکھ کا سانس لیا ۔۔۔ ابھی آرام سے دیکھ لو دونوں کان پکڑے ہوئے ہیں ۔ وردہ ابھی آپکی باری ہے ۔ پکڑو دونوں کان فورا سے پہلے!!

اور چہرے کا حشر دیکھو کیا کیا ہوا ؟ آنکھیں دیکھو کتنی سوجھ رہی ہیں ۔۔

وردہ کیوں میری محبت کو رولتی ہو ؟ آئیندہ میں نے آپکو ایسے روتے دیکھا تو پھر دیکھنا میں کیا حشر کرتا ہوں؟ کیا حشر کریں گے ۔ آپکو آپکے ڈیڈ کے گھر سے اغوا کر لوں گا ۔۔۔

زیادہ ہیرو نہ بنیں اب ! میں بھی وارننگ دے رہی ہوں اگر آئیندہ میرے ساتھ ایسے روٹھے تو میں نے بھی حشر بگاڑ دینا ہے ۔ وہ کیسے؟ اب بولو وردہ ۔۔ بولو بھی ابھی کیوں چپ لگ گئی ہے؟

میں آپکی سزا کے بارے میں سوچ رہی ہوں کہ کونسی سزا دوں گی اگر دوبارہ آپ نے ایسا کیا تو !

میں خود ہی اپنی سزا تجویز کر لیتا ہوں ۔ ٹھیک ہے ؟ اچھا چلیں بولیں آپکو کیا سزا دوں ؟

رخصت ہو کر میرے آنگن کی رونق بن جانا وردہ جمال مرزا ۔۔

اللہ معاف کرے ۔ توبہ توبہ ۔ وردہ کی حیرت سے آنکھیں پھیل گئیں ۔۔ یعنی میں سزا ہوں آپکے لیئے ۔۔

میرا رخصت ہو کر آنا آپکو تکلیف دے گا ۔۔۔

تو پھر ٹھیک ہے کل ہی آ جائیں اور لے جائیں میں نے بھی آپکو سیدھا نہ کیا تو میرا نام بھی وردہ جمال مرزا نہیں ہے ۔۔۔

ڈن ؟؟؟ جی ڈن ۔ ٹھیک ہے میں ابھی انکل کو فون کر کے بتا دوں اور سرمد بھیا کو بھی کہ میری بیوی میرے ساتھ رہنا چاہتی ہے ۔۔۔ لہذا کوئی بھی کسی قسم کے روڑے نہ اٹکائے ۔

موسی آپ واقعی ڈیڈ اور سرمد بھیا کو بتانے جا رہے ہیں ؟ جی کوئی اعتراض ہے تو بتا دو ۔۔

مجھے بھلا کیا اعتراض ہونا ہے ۔۔۔ پہلے اپارٹمنٹ لیں، پارٹ ٹائم کام شروع کریں، ایک گھر کو بسانے کا سارا سامان مہیا کرنا پڑے گا، تو پھر کہیں جا کر موسی سکندر خان کی یہ سزا پوری ہو گی ۔۔۔

میں سب کر لوں گا ۔۔

اچھا واقعی؟ جی ! تو پھر کریں سرمد بھیا سے بات، آپ اگر بھول رہے ہیں تو یاددہانی کروا دوں کہ سرمد بھیا کی کیا خواہشات ہیں آپ جناب کے بارے میں؟

کیا ؟

یہی کہ موسی میرا لاڈلا، میرا بھائی، میرا بیٹا جب تک ٹاپ کلاس ڈگری نہیں لے لیتا اور اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہو جاتا تب تک اسکو کسی قسم کی فالتو سرگرمیوں میں شمولیت کی اجازت نہیں ہے ۔۔ سرمد بھیا گاہے بگاہے آپکی رہائش گاہ کا بھی جائزہ لینے کے لئے جاتے رہتے ہیں ۔ آپکی پڑھائی پر ایسے توجہ دیتے ہیں جیسے پرائمری کے بچے کو اے- بی- سی سکھائی جاتی ہے ۔۔۔

یہ باتیں آپکو کس نے بتائی ہیں ؟

وہ بھابھی اس دن ساری تفصیلات دے کر گئیں ہیں اور آپکا چہتا بھتیجا ارسل جو کہ اب میرا بھی ہے۔

کیا مطلب ؟ میرا مطلب ہے چہیتا ۔۔۔

اور میں کس کیٹیگری میں آتا ہوں؟ آپکے بارے میں سوچنا پڑے گا ۔ اور تھوڑا بہت پرکھنا بھی پڑے گا شاید تب کہیں جا کر خاطر خواہ نتائج موصول ہوں ۔

وردہ ۔۔۔ جی بولیں ۔۔ یعنی آپ نے ابھی میرے بارے میں سوچا ہی نہیں ہے اور نہ ہی مجھے یاد کرتی ہیں؟

نہیں !

موسی یاد انکو کیا جاتا ہے جو دل ودماغ سے وقفہ لے کر دور چلے جائیں یعنی بھول جائیں ۔۔۔ اور جو ہر وقت آپکے حواسوں پر چھائے رہیں تو وہ پھر آپکے دل و دماغ میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں ۔۔۔

مجھے یقین نہیں آتا ہے یہ وہی لڑکی ہے جسکو میرے آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کرتے ہوئے شرم آتی ہے ۔۔۔

بس موسی مجھے ایسے آسان لگتا ہے ۔۔۔ ابھی سے پریکٹس کر رہی ہوں ۔۔۔ آہستہ آہستہ آپکے رنگ میں رنگ جاوءں گی ۔۔۔۔۔۔

♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡

خالہ بی موسی کا تو آج روزہ ہے ۔۔۔ ہاں بیٹی جب سے ہمارا موسی صاحب سے واسطہ پڑا ہے ہم نے انہیں سوموار اور جمعرات کا روزہ چھوڑتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔۔۔ لیکن آج تو منگل ہے پھر بھی روزے سے ہیں ماشااللہ ۔۔۔ کیا پتا اب صیام داود علیہ السلام پر عمل شروع کر دیا ہو ۔ ایک دن روزہ اور ایک دن وقفہ ۔۔۔

وردہ پہلو بدل کر رہ گئی ۔۔۔

خالہ بی یہ کوفتے تو تیار ہیں صرف انڈے ابال کر ڈالنے ہیں۔۔۔۔۔ موسی صاحب کو تو کریلے گوشت بھی بہت پسند ہے ، چلو آج سب چیزیں انکی پسند کی بن گئی ہیں ۔۔۔ خالہ بی میں ذرا اوپر جا کر شاور لے لوں آپ جو چیزیں دم پر پڑی ہیں انکا دھیان رکھئے گا کہیں جل نہ جائیں ۔۔ ہم دونوں نے کتنے گھنٹوں کی محنت سے یہ سب تیار کیا ہے ۔وردہ نے مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔

ارے بیٹی سارا کام تو آپ نے کیا ہے میں نے تو صرف چھیل اور کاٹ کر ہی دیا ہے ۔۔۔

وردہ بی بی آپ تو بہت اچھا کھانا بناتی ہیں ۔۔ اچھا واقعی؟ جی بالکل ۔۔ آج تو موسی صاحب نے انگلیاں چاٹتے رہنا ہے ۔۔

خالہ بی پلیز انکو پتا نہ چلے ۔ وردہ اپنے پرانے لہجے پر حیران تھی جب وہ اتنی محبت اور عزت سے موسی سکندر خان کو مخاطب کیا کرتی تھی ۔۔۔ کچھ دیر کے لئے تو بس پرانی یادوں میں کھو گئی ۔۔

آنکھوں میں آئی نمی کو پیچھے دھکیلا ۔۔

وردہ بی بی میں اگر نہ بتاوں تو بھی انکو دوسرے ہاتھ کے ذائقے کا فورا پتا چل جائے گا ۔

وہ کیسے خالہ بی؟

جب صاحب نئے نئے اس گھر میں آئے تھے تو انہوں نے کھانا پکانےکے لیئے ایک باورچی رکھا تھا تو ایک دن اسکی طبیعت کافی خراب ہوگئ اور اس نے اپنے چھوٹے بھائی کو بلوا کر کھانا پکانے پر لگا دیا حالانکہ وہ چھوٹا بھائی بھی تجربہ کار باورچی تھا ۔ اس کے باوجود صاحب نے پہلا نوالہ منہ میں ڈالتے ہی بول دیا یہ کھانا رشید کے ہاتھ کا نہیں بنا ہے ۔۔۔

وردہ خود حیران تھی کہ آج اگر موسی کو پتا چل گیا کہ مجھے سارا کھانا بنانا آتا ہے تو پتا نہیں میرے ساتھ کیسا برتاو کرے گا ؟۔

بیٹی آپ سوچ رہی ہیں کہ انکو کیسے پتا چل جاتا ہے ۔ وہ دراصل خود ایک منجھے ہوئے باورچی ہیں ۔۔۔ ایک مرتبہ خرگوش کا سالن بنایا تھا بھئ کیا کہنے موسی صاحب کے ۔۔۔۔ خالہ بی فرحت جذبات میں بولے جا رہیں تھیں ۔۔۔

آپ نئی نئی ہو سب پتا چل جائے گا، ہمارے صاحب میں کتنی خوبیاں پوشیدہ ہیں ماشااللہ ۔

خالہ بی آپکو موسی صاحب سے بہت انسیت ہے ؟؟؟ ۔ کیوں نا ہو بھئی وہ ہمارے محسن ہیں ، ہم۔کتنے سالوں سے انکا نمک کھا رہے ہیں ۔۔۔

ہم تو موسی صاحب پر ایک آنچ بھی نہ آنے دیں ۔موسی صاحب ہمیں اپنے بیٹوں کی طرح عزیز ہیں ۔۔۔

وردہ کو اپنا آپ بہت چھوٹا محسوس ہو رہا تھا ۔۔ طرح طرح کے عجیب قسم کے خیالات نے جھکڑا ہوا تھا ۔ سر جھٹک کر گویا ہوئی وہ خالہ بی میں ذرا شاور لے لوں ۔۔

ہاں ہاں بیٹی ضرور بےفکر ہو کر جاو، نئی نویلی دلہن ہو آج صاحب شادی کے بعد پہلی مرتبہ سارا دن کام کر کے تھکے ہارے واپس آئیں گے تو پھر اپنی دلہن کو سجے سنورے دیکھ کر ساری تھکن اتر جائے گی ۔۔

ہمارے زمانے میں تو کچھ خاص بناو سنگھار نہیں تھا ، غریب لوگ تھے ، زیادہ سے زیادہ سر میں خوشبو والا تیل ڈال لیا یا پھر آنکھوں میں سرما لگا لیتے تھے ۔۔۔

وردہ نا چاہتے ہوئے بھی ہنس پڑی ۔۔۔ خالہ بی آپ نے مجھے بالکل بھی بور نہیں ہونے دیا ۔۔۔

آپ تو پہلے دن ہی میری سہیلی بن گئی ہیں ۔۔

بھئی بات سچی اور کھری کرنی چاہئے، زندگی موت کا پتا نہیں ہے کب ٹھاہ ہو جائے ۔۔۔

ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ۔ وردہ کا ہنس ہنس کر برا حال ہو رہا تھا ۔۔

پورے ایک ہفتے بعد وردہ کے چہرے پر ہنسی نمودار ہوئی ۔۔۔ ورنہ موسی کو ہر روز سامنے دیکھ دیکھ کر کتنا خون جلا چکی تھی ۔۔۔۔

الماری سے ہلکا فیروزی رنگ کا کرتا اور ساتھ سفید چوڑی دار پاجامہ نکالا جو ڈیڈ نے پاکستان پہنچنے پر خرید کر دیا تھا ۔ دیکھ کر آنکھیں بھر آئیں ۔ کپڑوں کو بستر پر رکھا تو کمرے میں بکھری چیزوں کو دیکھ کر موسی کی دھمکی یاد آ گئی۔۔

چیزیں سمیٹ دوں یا چڑانے کے لئے پڑی رہیں ؟

میرے خیال میں پہلے شاور لے لوں پھر سوچتی ہوں، کیوں کہ موسی نے بولا تھا کمرے میں جو مرضی کرو ۔۔۔

نہانے کے بعد صفائی والی دھمکی بھی ذہن میں آن کودی ۔۔۔

فی الحال صرف پانی ہی بہا دیتی ہوں بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی ۔۔۔

بالوں کو ہیئر ڈرائیر سے خشک کیا اور پھر ساتھ ہی کلپ میں جکڑ دیا ، آج بال کھولنے کو جی نہیں چاہ رہا تھا یا پھر کچن کی وجہ سے بہرحال وردہ خود حیران ہو رہی تھی کہ آج کا دن باقی دنوں سے کتنا بہتر گزرا ہے ۔۔۔

باہر کوریڈور میں گھر والا فون چنگاڑ رہا تھا وردہ کے پہنچنے سے پہلے ہی خالہ بی بات شروع کر چکی تھیں ۔۔۔

جی صاحب بی بی تو نہانے کیلئے گئی ہیں میں دیکھتی ہوں اگر فارغ ہوئیں ہیں تو ابھی بلا لاتی ہوں بی بی کو ۔۔

نہیں خالہ بی آپ بس پیغام پہنچا دیں ۔۔۔

جی بہتر ۔۔۔

خالہ بی نے پلٹ کر دیکھا تو وردہ کمرے کے دروازے پر کھڑی تھی ۔۔ وردہ کو دیکھتے ہی موسی کا پیغام پہنچانے کے لئے الفاظ کا چناؤ کرنے لگیں ۔۔ سمجھ نہیں آرہی تھی کے کیا بولیں؟! خالہ بی سب خیریت ہے نا ؟؟ جی جی اللہ کا فضل و کرم ہے ۔۔۔۔

وہ بی بی دراصل صاحب ۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *