Roop by Umme Umair NovelR50655 Roop (Episode 19)
Rate this Novel
Roop (Episode 19)
Roop by Umme Umair
وردہ پیچ و تاب کھائے جا رہی تھی ۔۔۔ ابھی واش روم میں جانے کا سوچ ہی رہی تھی کہ موسی دوبارہ اپنا پروقار مسکراتا چہرے لیئے کمرے میں داخل ہوا ۔ وردہ موسی کو نظر انداز کرتے ہوئے الماری کی طرف بڑھ گئی ۔۔
وردہ ! جزبے لٹاتی آنکھیں اور محبت سے چور لہجہ وردہ کی دھڑکنیں اتھل پتھل کر گیا ۔۔۔
بیزاری کا خول چڑھائے صرف بھنویں اچکا کر رہ گئی ۔۔
وہ میں نے پوچھنا تھا کونسا فون خریدوں؟ سیم سنگ یا پھر آئی فون؟ مجھے نہیں پتا آپ کے زیر استعمال کونسا فون تھا کم از کم وہی بتا دیں ؟
میرے پاس فون ہے مجھے صرف چارجر درکار ہے ۔
موسی نے سکھ کا سانس لیا ، وردہ نے آج شادی کے 2 ہفتوں بعد پہلی دفعہ سیدھے منہ موسی کی بات کا جواب دیا تھا۔۔۔
وہ تو ٹھیک ہے پر مجھے فون کو ان لاک کروانا پڑے گا اگر پاکستانی سم کارڈ ڈالا تو ۔۔ مجھے اپنا فون دو تاکہ دن میں ان لاک کروا کے نئی سم اور نئے نمبر کے ساتھ نوید کے ہاتھ بجھوا دوں گا ۔۔
وردہ نے بغیر جواب دیئے اپنے ہینڈ بیگ میں سے شریفانہ انداز سے فون نکال کر موسی کو تھمانے کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا ۔۔۔ موسی نے فون سمیت وردہ کا ہاتھ تھام لیا اور بولا وردہ ایسے ہی رہا کرو پلیز ۔۔
مجھ سے محبت نہ سہی ، کم از کم تھوڑی بہت بات ہی کر لیا کرو ، اتنے بڑے گھر میں صرف ہم دو لوگ قیام پذیر ہیں ۔۔ آپ خود بھی اپنا دل جلاتی ہو اور ساتھ میں مجھے بھی اذیت میں مبتلا رکھتی ہو ۔ اب یہ مت سمجھنا کہ مجھے کسی قسم کا کوئی لالچ ہے یا کسی قسم کی کوئی غرض مطلوب ہے ۔۔ میں تو صرف گھر کے سکون کو قائم رکھنا چاہتا ہوں ۔۔
By the way thanks alot for listening to me !
“ویسے میری بات سننے کا بہت شکریہ”!
وردہ میرا آج کا دن بہت اچھا گزرے گا ان شاءاللہ ۔۔۔۔
بولتے ساتھ ہی موسی نے وردہ کا ہاتھ نرمی سے دبا کر اپنی گرفت سے آزاد کر دیا ۔۔۔
اور ہاں آج میری بیگم کیا پکا رہی ہیں؟؟
جو بھی پکاتی ہو کمال کا پکاتی ہو یار ۔۔۔
دوبارہ سے بہت شکریہ ۔۔۔
وردہ خاموشی سے موسی کو دیکھے جا رہی تھی ۔۔۔ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آج وہ کسی قسم کی مذمت کیوں نہیں کر پا رہی ، شاید ڈیڈ کی باتوں کا اثر تھا یا پھر مم کی وجہ سے ؟
بہرحال جو بھی تھا رات دوگھنٹے مسلسل رو کر سمجھوتہ کرنے کا فیصلہ کر چکی تھی ۔۔۔
موسی مسکراتے ہوئے اپنے پیچھے خوشبوئیں بکھیرتا کمرے سے نکلنے لگا ۔۔۔
سنو!
جی ! موسی نے ایک سیکنڈ کی تاخیر کیئے بنا فورا پلٹ کر دیکھا ۔
وردہ کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آج اسکا مزاج اس کی نفرت کی دیوار پر دراڑ ڈالنے پر کیوں تلا ہوا ہے ؟
بولیں میں ہمہ تن گوش ہوں وردہ۔ موسی نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے بولا ۔۔
وہ میں آج خالہ بی کے ساتھ باہر جانا چاہتی ہوں ۔۔۔
ہاں کیوں نہیں ضرور جاو لیکن ایک بات ذہن نشین رکھنی ہے پلیز ، آپ نے خود کو ڈھانپ کر جانا ہے ! جیسے میں نے بولا تھا ۔۔۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
“تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور ہر ایک سے اسکی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا”۔(صحیح بخاری،کتاب النکاح،باب نمبر91، حدیث نمبر: 5200)
وردہ آپ میری بیوی ہو اور اس وقت میری ذمہ داری ہو ، مجھے آپکو ہر طرح کے شر سے محفوظ رکھنا مقصود ہے ۔ وردہ میں آپکی دنیا و آخرت کی بھلائی کے لئے یہ تمام باتیں بول رہا ہوں، میرا اس میں کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہے ۔مجھے صرف ایک رب کے قرآن اور ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے لگاو ہے ۔
Please don’t get me wrong !
“پلیز مجھے غلط نہ سمجھنا”!
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
“”ابن آدم کی ہر گفتگو اس کے خلاف دلیل بنے گی سوائے اس گفتگو کے جو اس نے نیکی کا حکم دینے، برائی سے روکنے اور ذکر الہی میں کی ہو۔”(ابن ماجہ:3974)
وردہ نے موسی کو خاموشی سے سنا اور پھر دھیمے لہجے میں بولی “کر لوں گی” ۔ وردہ بولتے ساتھ واش روم میں بھاگ گئی ۔۔۔
موسی تو بیہوش ہوتے ہوتے بچا ۔۔۔ اس ایک رات کی تبدیلی پر حیران تھا ۔۔۔ یقینا انکل کی باتوں کا اثر ہے ورنہ وردہ کی نفرت کے سامنے کوئی چیز نہیں ٹھر سکتی ۔۔۔
موسی میٹھا مسکراتے ہوئے مسرور انداز میں زینے اتر کر آفس کے لئے روانہ ہو گیا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آنسوؤں سے تر چہرہ لیئے لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ قریبی پارک کا رخ کیا ۔ایک ویران کونے میں لگے سنگی بینچ پر بیٹھ کر اپنے زخمی دل کے زخموں کو نمکین پانی سے دھونا شروع کر دیا ۔
ایسے لگ رہا تھا جیسے زندگی اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے ۔۔ شدید حزن وملال کی کیفیت سے سینے میں جکڑن محسوس ہو رہی تھی ۔ چند لمحے کےلئے سانس اٹکتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔ موسی سکندر خان میں کبھی بھی تمھیں معاف نہیں کروں گی ۔۔
مسلسل ایک گھنٹے کی نمکین برکھا سے فراغت پر دماغ نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بحال کرنے میں مدد کی ۔۔۔ دل پہ چھایا ہوا غبار کسی حد تک کم ہوا ۔۔ ڈیڈ کو فون کر کے بتا دوں یا پھر گھر واپسی پر بتاوں؟ ایسا کرتی ہوں میں پھپھو کو بتا دیتی ہوں وہ خود ہی ڈیڈ سے بات کر لیں گی ۔
دل و دماغ میں طرح طرح کے وسوسے اور عجیب قسم کے خیالات آ رہے تھے ۔ بیگ میں پڑا فون نکالا تو 50 کے قریب “My Hero”کے نام کی مسڈ کالز تھیں ۔۔ موسی سکندر خان آج سے تم “My Zero”ہو اور میری بلاک لسٹ میں جا رہے ہو ۔آج سے میری زندگی کے تمام راستے تمھارے لیے بند ہیں ۔ وردہ نے حقارت بھرے انداز میں موسی کا نمبر اپنے فون سمیت باقی تمام ایپس سے بھی بلاک کر دیا ۔۔
بھیا میں نے آپ سے کبھی بھی جھوٹ نہیں بولا ۔ بھیا میں بالکل سچ بول رہا ہوں، مجھے نہیں خبر وہ لڑکی کیسے میرے کمرے میں میری آمد سے پہلے ہی آن پہنچی ؟؟! مجھے تو یہ علم نہیں ہے کہ کیسے وہ میری بلڈنگ کے اندر داخل ہوئی ؟! مجھے کچھ خبر نہیں ہے ۔۔۔ میرے بارے میں ساری معلومات اس نے کدھر سے لی ہیں مجھے بالکل بھی خبر نہیں بھیا ؟!
میں نے اسکو اپنے ڈیپارٹمنٹ میں ضرور دیکھا ہے مگر کبھی بھی تفصیلی بات چیت نہیں ہوئی ۔۔
اس لڑکی سے پہلے ایک اور لڑکی نے چند روز قبل میرے ساتھ رابطہ کیا تھا ۔
کیا کہہ رہی تھی وہ والی لڑکی ؟ اور موسی تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا ۔۔۔
بھیا میں اپنے امتحانات کی تیاری میں نہایت مشغول تھا ،میرے دماغ سے ہی نکل گیا ۔۔
دوسری لڑکی کیا کہہ رہی تھی جو یونی میں ملی تھی؟
بھیا اس نے بولا تھا کہ میں وردہ کو چھوڑ دوں اور اسکی چھوٹی بہن سے شادی کر لوں ۔
کیا ؟ سرمد کا لہجہ ناچاہتے ہوئے بھی تلخ ہو گیا ۔۔
اتنی بڑی بات ہوئی اور تم نے مجھے بتایا تک نہیں ہے اور اس بات کو بھولے بیٹھے ہو ۔۔
موسی یار بڑے ہو جاوء ! دنیا بہت مصائب میں مبتلا کرتی ہے ۔۔
یار اپنی آنکھیں اور کان کھول کر زندگی کے اصولوں پر کاربند ہونا پڑتا ہے ۔
بھیا ادھر یونی میں اکثر لڑکیاں ایسے ہی مختلف لڑکوں کو ایسی تجویزیں پیش کرتی رہتیں ہیں ۔ اس لئیے میں نے اس کا منہ ادھر ہی بند کروا دیا تھا ۔
یار تم نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ وہ وردہ کو کیسے جانتی ہے؟وردہ کے بارے میں کیا تم نے یونی فرینڈز یا کلاس میٹس کو بتایا ہوا ہے ؟؟
نہیں بھیا ! بس چند ایک قریبی دوست ہیں جو میرے نکاح سے باخبر ہیں ۔۔۔ میں نے تو اس بات پر غور ہی نہیں کیا ۔۔۔ بھیا میرے ساتھ تو آئے روز لڑکیاں ایسی حرکتیں کرتی رہتی تھیں ۔۔۔ اور پھر میرے خشک اور غیر مرعوب رویئے سے بیزار ہو کر خود ہی پیچھے ہٹ جاتیں تھیں ۔۔۔
میں نے باقی لڑکیوں کی طرح اس بات کو بھی ہلکا لیا تھا ۔ بھیا مجھ سے بہت بڑی کوتاہی ہو گئی ہے ۔
بھیا وردہ مجھے سرپرائز کرنے کے لئے پہلی دفعہ میرے ہوسٹل آئی تھی ۔۔
بھیا میں نے اسکو ہر طرح کی تسلی دینے کی کوشش کی مگر وہ میری کسی بھی بات کو سننے کے لیئے تیار نہیں تھی ۔ بس طلاق کی تکرار کیئے جا رہی تھی ۔۔۔
کیا تم ایسا کرو گے موسی ؟
نہیں بھیا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے ۔۔ تو پھر یہ مکروہ لفظ اپنے منہ سے نا ہی نکالو تو بہتر ہے ۔۔
بھیا مجھے لگتا ہے وردہ نے مجھے اپنے فون سے بلاک کر دیا ہے ۔۔
مجھے نہیں پتا میرے ہوسٹل سے نکل کر وہ کہاں گئی ۔۔ میں نے صرف 2 منٹ میں اپنا کمرہ لاک کیا اور اس کے پیچھے بھاگ کھڑا ہوا تھا ۔۔ مگر وردہ کا کہیں بھی کوئی نام و نشان نہیں تھا ۔۔۔
چلو یار تم پریشان نا ہو مجھے خود انکل کو اپنے اعتماد میں لینا ہو گا اور پھر بعد میں تم خود بھی بات کر کے ساری صورتحال بتا دینا ۔۔۔
اور ہاں تمھاری بھابھی بتا رہی تھی کہ وردہ تمھارے لیے بہت خاص قسم کے تحائف خرید کر لائی تھی ۔۔۔ اس نے خریداری کے بعد تمھاری بھابھی کو تمام اشیاء کی تصویریں بھیجیں تھیں ۔۔ سنتے ساتھ ہی موسی کے دل میں ٹھیس اٹھی ۔۔۔
بھیا میرے لیئے تو اس کا میرے ہوسٹل آنا ہی کافی تھا ۔۔۔
بھیا پلیز کچھ کریں ۔۔ آپ تو جانتے ہیں میں وردہ کے علاوہ کسی اور عورت کا تصور بھی نہیں کر سکتا ہوں ۔
چل یار پریشان نہ ہو ۔ اپنا سارا سامان باندھ اور گھر واپسی کی تیاری کر ! باقی میں خود سنبھال لوں گا ۔
بھیا پلیز یاد سے ابھی انکل کو کال کریں اور ساری صورتحال سے آگاہ کر دیں ۔پلیز ۔۔۔
مجھے ایسے لگتا ہے وردہ اب کبھی بھی مجھ سے راضی نہیں ہوگی ۔ بھیا وہ بہت رو رہی تھی اور اسکی آنکھوں میں میرے لیئے شدید نفرت کے سوا کچھ بھی نہیں تھا ۔
مایوسی کی باتیں نہ کر یار ! مجھ سے تیرا یہ غم برداشت نہیں ہو پا رہا ہے ۔ بس گھر واپس آنے کی پوری کوشش کر ۔۔۔ جی بھیا میں دو دنوں تک سب سمیٹ لوں گا ۔
جمال مرزا ساری صورتحال سننے کے بعد کافی پریشان دکھائی دے رہے تھے ۔۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد گویا ہوئے ۔۔۔
یار سرمد وردہ نے ابھی تک میرے ساتھ اس معاملے پر کسی قسم کی کوئی بات نہیں کی ہے ۔۔وہ سیدھی موسی کے ہوسٹل سے اپنی پھپھو کے چلی گئی تھی ۔ میری اکیلی بہن نے ہو سکتا ہے اسے اپنے پرانے قصے کہانیوں میں لگا لیا ہو اور وہ وقتی طور پر بہل گئی ہو ۔۔۔ اور بہتری اسی میں ہے کہ میں بھی اس بات کو نہ اچھالوں ۔ کیونکہ اگر میں نے اسے کریدنے کی کوشش کی تو شاید وہ اپنے اس جذباتی فیصلے پر عمل پیرا ہونے کی ضد کرے ۔۔
موسی سے بھی میری اس مسئلے پر تفصیلی بات چیت ہو چکی ہے ۔۔ مجھے موسی پر پورا اعتماد ہے وہ ایسی گری ہوئی حرکت نہیں کر سکتا ہے ۔ موسی نے مجھے ہر قسم کی تسلی دے دی ہے ۔۔۔
تو پھر انکل اب آگے کیا کرنا چاہئے؟ وردہ نے تو موسی سے طلاق کا مطالبہ کیا تھا ، جبکہ موسی آخری سانس تک یہ مکروہ فعل نہیں کرنا چاہتا ہے ۔ انکل موسی آپکی بیٹی وردہ کو سچے دل سے چاہتا ہے ۔ وہ بازاری ذہن رکھنے والا لڑکا نہیں ہے ۔ وہ میرے ہاتھوں میں پل کر جوان ہوا ہے ۔ موسی کی گارنٹی میں دینے کو تیار ہوں ۔ انکل جو مرضی ہو جائے موسی میرے ساتھ کبھی بھی جھوٹ نہیں بولتا ہے ۔۔
میرے خیال میں وردہ کو وقت دیتے ہیں، جب اس کا غصہ اترے گا اور وہ ٹھنڈے دماغ سے سوچے گی تو پھر بہتر طریقے سے فیصلہ کر پائے گی ۔
موسی کو بھی بول دو اس سے رابطہ نہ کرے فی الحال وہ اپنی پھپھو کے گھر ٹھری ہوئی ہے ابھی کل ہی مجھے بتایا ہے پھپھو کے گھر کے قریب ہی ایک فٹنس سینٹر کھلا ہے اور وہ گرمیوں کی چھٹیوں میں کراٹے کی مذید ٹریننگ لینا چاہتی ہے ۔۔ سرمد تم تو جانتے ہو شروع سے ہی اسے کھیلوں اور فٹنس کا کتنا شوق ہے ۔ میرے خیال میں بہتر ہے کہ وہ اس طرف بہل جائے ۔ اگر اس نے مجھے اپنا فیصلہ سنا دیا تو پھر میں مجبور ہو جاوءں گا ۔ میں کبھی بھی وردہ کے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتا ۔۔۔
اس معاملے کو ہوا دینے کے بجائے دبا دیتے ہیں ۔ اور جب دونوں ایک دوسرے سے کچھ عرصہ دور ہوں گے تو شاید وردہ موسی سے خود ہی رابطہ کر لے ۔ کیا خیال ہے سرمد؟ موسی جو پچھلے ایک گھنٹے سے دونوں کی باتیں پوری توجہ اور خاموشی سے سن رہا تھا ۔
انکل کے اس فیصلے پر تڑپ اٹھا کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ وردہ سے لمبا عرصہ بات کیئے بنا اس کا دل بےچین رہے گا ۔ بہرحال بڑوں کے فیصلے کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے ۔
موسی بیٹا ! جی انکل ! بیٹا گھبرانے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے وردہ آپکی ہے اور رہے گی ۔ میرا یہ آپ سے وعدہ ہے ۔ جب تک میں زندہ ہوں اس رشتے پر آنچ نہیں آنے دوں گا ۔ موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجھے یہ فیصلہ کرنا پڑ رہا ہے وگرنہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں وردہ کو رخصت کر کے آپکے ساتھ ہی پاکستان بھیجتا ۔۔۔
موسی نے ۔۔۔۔۔۔۔۔
