Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rishte Mohabat Ke Episode 9

Rishte Mohabat Ke by Misbah Khalid

”چار مہینے ہوگۓ ہیں مجھے اس سے بات کرتے ہوۓ میں جانتا ہوں کسی کو جاننے کے لیے یہ وقت کم ہے لیکن میں اس کو جتنا جان چکا ہوں میرے لیے وہی بہت ہے“

ذایان نے سنجیدگی سے کہا

ماحول میں خاموشی چھا گٸ تھی انیک شرمندہ ہوا تھا کہ شاید اس نے کچھ غلط کہہ دیا

ذایان خاموشی سے نظریں جھکاۓ بیٹھا تھا

”سوری ذایان مجھے نہیں معلوم تھا تم اتنے سیریس ہو اس کے لیے سوری “

انیک نے شرمندگی سے کہا

”کوٸی بات نہیں بس دعا کے بارے میں کچھ غ….“

”اوووووہ تو دعا نام ہے بھابی کا “

انیک نے ذایان کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی کاٹ دی

”ہممم دعا نام ہے وہ میری دعا ہے سیدھی سادھی سی مجھ سے بلکل الٹ وہ زیادہ بولتی بھی نہیں اور مزاق کرنا تو اس کو آتا ہی نہیں میرا مذاق بھی بڑی مشکل سے سمجھ پاتی ہے اسی کا فاٸدہ اٹھا کر میں کتنی بار اسے ڈرا چکا ہوں میں اس کو کہتا ہوں تم مجھے نہ ملی میں اٹھا کر لے جاؤں گا تمھیں اور وہ ڈر جاتی ہے پھر کہتی ہے آپ ایسے کریں گے میں آپ سے بات نہیں کروں گی جب میں اسے بتاتا ہوں مزاق کررہا ہوں تو ناراض ہونے کے بجائے خود بھی ہنسنے لگ جاتی ہے “

ذایان نے انیک کی طرف دیکھ کر آخری بات کہی تو ایک دم سے چپ ہوگیا

انیک ہاتھ پر ٹھوڈی رکھ کر ذایان کی محبت کی داستان سن رہا تھا

ذایان اپنے ہی خیال میں بناروکے انیک کو محبت کی داستان سنا رہا تھا

”اور بتاٶ چپ کیوں ہوگۓ ہو“

انیک کے دل میں اپنے دیوانے بھاٸی کا

حالِ دل جاننے کی خواہش جاگی

”توں میرا مذاق اڑا رہا ہے“

ذایان نے انیک کو آنکھیں دیکھاتے ہوۓ کہا

”نہیں بھاٸی میں سچ میں جاننا چاہتا ہوں اس لڑکی میں کیا ہے جو میرا بھاٸی اس کے لیے یوں دیوانہ ہوگیا ہے“

انیک نے مسکراتے ہوۓ سنجیدگی سے کہا

”ٹھیک تو سنو وہ دوسری لڑکیوں کی طرح نہیں ہے جو ہر وقت اپنی تعریف سننا پسند کرتی ہیں میں کبھی اس کی تعریف کرتا ہوں تو بس تھینکیو کہتی ہے اپنے آپ کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرتی وہ ہمیشہ یہ ہی کہتی ہے میں عام سی لڑکی ہو کچھ خاص نہیں مجھ میں اور میں کبھی اس کو دیکھنے کا کہتا ہوں تو صاف منا کردیتی ہے اتنے ماڈرن دور میں بھی اس نے عام سا موبائل رکھا ہوا میں کہتا ہوں اچھا والا لے لو تو کہتی ہے میری ضرورت اسی موبائل سے پوری ہوجاتی ہے مجھے کسی کو دیکھانا تھوڑی ہے ضرورت پوری کرنی ہے کبھی میں اس کو بلینس ڈالوانے کی کہتا ہوں تو صاف منا کردیتی ہے کہتی ہے آپ پر اور آپ کے پیسوں پر میرا کوٸی حق نہیں کبھی میں ڈلوا بھی دیتا ہوں تو دو دن تک مجھ سے بات نہیں کرتی اور بیلنس بھی واپس کردیتی ہے آج تک اس نے مجھ سے محبت کا اظہار نہیں کیا مجھ سے کہتی ہے جب میں آپ کے ساتھ کسی مضبوط رشتے میں بندھ جاؤں گی تو ہی محبت کا اظہار کروں گی اور اب میں اس کے پیچھے لگا ہوں مجھے گھر کا ایڑریس دو میں رشتہ بھیجوں گا تو بتا نہیں رہی ایڈریس بس اس کو ڈر ہے کہ کہی کسی کو پتا چل گیا تو کیا ہوگا میں کہہ رہا ہوں میں کسی کو کچھ پتا چلنے نہیں دوںگا ہم پہلے سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں یہ بھی نہیں بتاٶں گا کسی کو بٹ وہ بہت ڈر رہی ہے اب میں کیا کروں سمجھ نہیں آرہا“

ذایان نے لمبی سانس بھری

”ذایان تم ایسا کیوں نہیں کرتے تم اس کو ایک دفع گڑیا سے ملوادو اور اس کو کہو تم میری بھابی سے مل لو ایک بار تمھیں میری بات پر یقین نہیں تو وہ ہمارے گھر کی کسی لڑکی سے ملے گی تو شاید اس کو تمھاری محبت پر یقین آجاۓ“

انیک نے ذایان کو مشورہ دیا جو ذایان کو پسند بھی آیا

”ٹھیک ہے میں اس کو مناٶں پہلے پھر گڑیا سے بات کروں گا“

ذایان نے خوش ہوتے ہوۓ کہا

”ویسے ذایان تم نے دعا بھابی کو دیکھا نہیں ہے اگر وہ کالی سی موٹی سی بھینس جیسی ہوٸی تو “

انیک نے ذایان کو چھیڑا

”چپ ہوجا کمینے میں جانتا ہوں میری دعا بہت خوبصورت ہوگی اور اگر وہ خوبصورت نہ بھی ہو تو میں اتنا جانتا ہوں کہ وہ خوب سیرت ضرور ہے“

ذایان نے دعا کی دل سے تعریف کی

”اوکے اب میں سونے جارہا ہوں گڈ ناٸٹ“

انیک نے جماٸی لیتے ہوۓ کہا

”اوکے میں بھی روم میں جارہا ہوں گڈناٸٹ“ ذایان بھی روم میں چلا گیا

” علیزے اٹھو تمھیں کالج نہیں جانا کیا “

آج الٹا ہوگیا تھا آج چڑا اپنی چڑیا کو اٹھا رہا تھا جو رات کو دیر سے سونے کی وجہ سے اٹھنے کا نام نہیں لے رہی تھی

”ہمم سونے دیں نہ “

علیزے نے کسمساتے ہوۓ کہا

”اوکے سو تم چھوڑ کر چلا جاؤں گا بیٹھی رہنا پھر پورے دن گھر میں“

سعد نے خفگی سے کہا اور روم سے باہر نکل گیا

”جن کہی کے “علیزے بڑبڑاتی ہوٸی اٹھ گٸ

سب ناشتے پر آچکے تھے سواۓ علیزے کے

”بیٹا سعد علیزے کہاں ہے “

کوثر بیگم کو علیزے کی غیر موجودگی کا احساس ہوا

” وہ ……… “

”سععععععععد سعععععععد“

سعد نے کچھ بولنے کے لیے لب کھولے تھے کہ علیزے کی کان کے پردے پھاڑ دینے والی آوازیں آنے لگی

”اسے کیا ہوا“

ذایان نے کمرے کے دروازے کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا

”میں دیکھتا ہوں“

سعد جلدی سے کمرے کی طرف بھاگا ذایان انیک کوثر بیگم بھی اس کے پیچھے بھاگے

لیکن کمرے میں کوٸی موجود نہیں تھا

”سعععععد سععععد مما پلیز میری مدد کریں“ چیخوں کی آواز واشروم سے آرہی تھی

”علیزے کیا ہوا ہے کیوں شور کررہی ہو “

سعد واشروم کے گیٹ کے باہر کھڑے ہوکر پوچھا

”یہاں وہ ہے سعد“

علیزے نے ڈری ڈری سی آواز میں کہا

”کون ہے اندر مجھے بتاٶ “

سعد نے پریشانی سے پوچھا

”یہاں کیا کھڑے ہو تم اندر جا کر دیکھو کون ہے ساری معلومات یہی سے لے لو گے میری بچی ہلکان ہورہی ہے چیخ چیخ کر“

کوثر بیگم نے علیزے کی فکر میں گلتے ہوۓ کہا

”مما آپ چلیں جاٸیں“

سعد نے واشروم کے دروازے سے ہٹتے ہوۓ کہا

ذایان انیک کے دبے دبے قہقے نکلے

سعد کے ماتھے پر پل پڑگۓ

”بے غیرتوں نکلوں میرے روم سے“

سعد نے دانت پیس کر کہا

دونوں اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوۓ کمرے سے نکل گۓ

”اب تم کیا لڑکیوں کی طرح شرما رہے ہو جاکر دیکھو اندر کوٸی جانور ہوا تو اس سے تو تم ہی نیپٹ سکتے ہو میں تھوڑی “

کوثر بیگم نے سعد کو لتاڑا

سعد نے سر جھٹکا اور واشروم کے دروازے کا لاک کھولا تو وہ کھل گیا

وہ اندر گیا علیزے واش بیسن کی دیوار کے ساتھ چپکی چلا رہی تھی گھیلے بال اس کی پشت پر جھول رہے

وہ خود کو ٹاول سے چھپاٸی ہوٸی تھی وہ ٹاول کافی بڑا تھا علیزے کے گھٹنوں سے تھوڑا نیچے تک آرہا تھا

سعد اوپر سے نیچے تک علیزے کا معاٸنہ کررہا تھا

علیزے سعد کی موجودگی سے لاعلم تھی وہ ابھی بھی دیوار سے چپکی کھڑی سعد کو پکار رہی تھی

”علیزے “سعد نے نرمی سے کہا

علیزے نے ہلکی سی گردن موڑ کے دیکھا سعد کو اپنے پیچھے کھڑے دیکھ کر علیزے کی جان میں جان آٸی علیزے سعد کی طرف لپکی

”سعد وہ وہ چھیپکلی میرے کپڑوں پر “

علیزے آگے کچھ بولتی لیکن سعد کی نظروں کو خود کا معاٸنہ کرتا دیکھ کر علیزے کو شرم نے آگھیرا وہ دوبارہ روخ موڑ کر ٹاول کو مضبوطی سے اپنے ہاتھوں کی مٹھیوں میں بھینچ کر کھڑی ہوگٸ

”ویسے تمھارے اتنے شور سے وہ چھیپکلی بھی ڈر کر بھاگ گٸ ہوگی “

سعد نے علیزے کندھے پر ٹھوڈی ٹکاتے ہوۓ کہا

”سعد بیٹا کیا ہوا کیوں چیخ رہی تھی میری بچی “

کوثر بیگم نے باہر سے ہی آواز لگاٸی

”کچھ نہیں مما چھپکلی تھی میں نے بھاگا دیا آپ جاٸیں“

سعد نے وہی سے ہانک لگاٸی

کوثر بیگم شکر کرتی روم سے باہر نکل گٸیں

”آ آپ بھ بھی جا جاٸیں آ آپ کیوں کھ کھڑے ہیں “

علیزے نے اپنی روکی ہوٸی سانس بہال کرتے ہوۓ ہکلاتے ہوہۓ کہا

”دل نہیں کررہا میرا “سعد نے اپنے دونوں ہاتھ دیوار پر داٸیں باٸیں رکھے

”پلیز“ علیزے نے التجا کی

سعد نے نرمی سے علیزے کا رخ اپنی طرف کیا

علیزے سر جھکاۓ کھڑی تھی اس کے گھیلے بالوں کی لٹیں اس کا چہرا چھپاٸی ہوٸیں تھیں

سعد نے شہادت کی انگلی علیزے کی ٹھوڈی پر رکھ کر اس کا چہرا اوپر کیا علیزے کے سارے بال سمیٹ کر پیچھے کیے علیزے کی نظریں ابھی بھی جھکی ہوٸیں تھیں

سعد کو اس کا نکھرا نکھرا گلابی چہرا شرارت کرنے پر اکسا رہا تھا

”پلیز جاٸیں“ علیزے نے ہمت کرکے اپنے کپکپاتے لبوں سے الفاظ ادا کیے

”تمھاری وجہ سے میں آج لیٹ ہوگیا آفس کے لیے اب سزا تو بنتی ہے نہ“

سعد نے علیزے پر بم پھوڑا

سزا کا سن کر علیزے کو رات والی سزا یاد آگٸ علیزے نے نظریں اٹھا کر دیکھا سعد کی نظریں اسی کا طواف کررہی تھیں علیزے نے واپس نظریں جھکا لیں

سعد اس پر آہستہ آہستہ جھک رہا تھا علیزے پیچھے ہوتی جارہی تھی لیکن پیچھے دیوار تھی وہ اسی سے چپک گٸ

”کیوں شور کیا میں نے اتنا یہ تو جان ہی نہیں چھوڑ رہے ڈھیٹ بن گۓ ہیں کیا کروں اب میں“ علیزے اپنی سوچوں میں گھم تھی تب ہی اسے اپنے ہونٹوں پر سعد کے نرم لمس کا احساس ہوا اور وہ آنکھیں میچ گٸ

”کیا ہوا مما میری گڑیا کو “ذایان نے پوچھا

”کچھ نھیں چھپکلی سے ڈر گٸ “

کوثر بیگم نے جواب دیا

”اوہ اچھا“

”تم دونوں کو جانا نہیں ہے جاؤ کتنی دیر ہوگٸ ہے آج تم دونوں کو“

کوثر بیگم نے دونوں کو دیکھتے ہوۓ خفگی سے کہا

”جی مما جارہے ہیں بس “دونوں نے ساتھ کہا

”ہممم “کوثر بیگم کچن میں چلی گٸ

”بھاٸی آٶ لیلہ مجنوں کی خبر لیں“

انیک نے ذایان کے کان میں سرگوشی کی

”ہمم چلو“ دونوں دبے پاٶں سعد کے کمرے میں داخل ہوگۓ

پورے کمرے میں نظر دوڑاٸی نہ سعد نظر آیا نہ علیزے دونوں نے شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ ایک دوسرے کو دیکھا

ذور سے آواز لگاٸی

”سارا رومینس واشروم میں ہی کرلوگے کیا“ دونوں کہتے ہی زور زور سے ہنستے ہوۓ روم سے بھاگ گۓ

”روکو تم دونوں ابھی بتاتی ہوں بے شرموں شرم نہیں آتی تم دونوں کو“

ان کی آواز اور قہقے سن کر کوثر بیگم کچن سے آگٸیں تھیں

سعد بھی اپنے ہوش میں آیا تھا اور ایک دم سیدھا ہوا تھا

”یہ بے غیرت کبھی نھیں سدھریں گے “

سعد بڑبڑاتا ہوا ان کی خبر لینے کے ارادے سے واشروم سے باہر آیا تھا لیکن وہ دونوں بھاگ چکے تھے کوثر ییگم کی صلوتوں نے ان دونوں کا دور تک پیچھا کیا تھا

سعد کے واشروم سے نکلتے ہی علیزے نے جلدی سے دروازہ بند کردیا وہی دروازے سے ٹک کر لمبی لمبی سانسیں لینے لگی

”ارے یار آج تو کچھ زیادہ ہی لیٹ ہوگیا “

سعد نے دیوار گیر گھڑی کی طرف دیکھ کر کہا جو دس بجارہی تھی

”علیزے میں آفس جارہا ہوں دس بج رہے ہیں تم چھٹی کرلو آج کالج کی “

سعد کمرے سے باہر نکلا کوثر بیگم کو خدا حافظ کیا اور گھر سے نکل گیا

”ارے یار آج علیزے کیوں نہیں آٸی میں تو اکیلے بور ہوجاٶں گی ردا آج کالج آکر پشتا رہی تھیں بدتمیز کہی کی نہیں آنا تھا تو مجھے بتا دیتی سعد بھاٸی کے نمبر سے کال کرکے اب چھٹی میں جاؤں گی اس کے گھر بتاٶں گی پھر میں اسے“

ردا خود سے ہی باتیں کررہی تھی کینٹین میں بیٹھی

علیزے نے واشروم کے دروازے سے باہر جھانکا تو کمرا خالی تھا علیزے جلدی سے باہر آٸی وہ ابھی بھی ٹاول میں ہی تھی اس نے الماری سے کپڑے نکالے اور واشروم میں گھس گٸ

”دعا بےبی آج جلدی چھٹی ہوگٸ تمھاری“ اسکول سے عاسم آج بھی راستے میں کھڑا دعا کے ضبط کا امتحان لے رہا تھا

”دیکھو پلیز میرا راستہ چھوڑ دو میرے سر میں شدید درد ہے میں اسی لیے آج جلدی چھٹی لے کر آٸی ہوں “

دعا نے تھکے تھکے سے انداز میں کہا

”اوہ میری بےبی کی طبیعت ٹھیک نہیں آٶ دوائی دلا کر لاٶں تمھیں“

عاسم مصنوعی محبت دیکھاٸی

”پلیز مجھے تنگ مت کرو جانے دو “

دعا اس کو جھڑکا اور ایک ساٸیڈ سے نکل گٸ

”بھاگ لو جتنا بھاگنا ہے تمھیں آنا تو میرے پاس ہی ہے نہ ایک دن “

شیطانی مسکراہٹ نے عاسم کے چہرے کا احاطہ کیا

دعا جاچکی تھی گھر پہنچ کر وہ اپنے روم میں جاکر کر لیٹ گٸ ساری رات وہ ذایان کے بارے میں سوچتی رہی تھی

کیا سچ میں ذایان اس سے سچی محبت کرتا ہے یا وہ عاسم جیسا ہی ہے دعا ایک لڑکی تھی ذایان نے چاہے کتنے ہی محبت کے دعوے کیے ہو پر دعا کا ڈر نہیں نکلتا تھا اس کی بھابی ویسے بھی اس کی خبر گیری کرتی رہتی تھی کہ دعا کوٸی غلطی کرے اور وہ اس کو اپنے نکمے اوباش بھاٸی کے ساتھ رخصت کردے فیض کو تواس نے ویسے بھی ماں بہن کے خلاف کردیا تھا

دعا کی ماں بس اپنی بیٹی کے اچھے نصیب کی دعا ہی کرتی رہتی تھیں

”علیزے کی بچی تم کتنی بدتمیز ہو میں بچاری آج پورا دن کالج میں اکیلی خوار ہوتی رہی تمھیں نہیں آنا تھا تو مجھے بتا دیتی آج پورا دن اتنا برا گزرا میرا “

ردا علیزے سے خوب حساب لے رہی تھی

”اچھا نہ یار سوری آج آنکھ دیر سے کھلی تھی میری تو اس لیے نہیں آسکی“

علیزے نے معزرت کرتے ہوۓ کہا

”کیوں سعد بھاٸی نے تمھیں ساری رات سونے نہیں دیا کیا“

ردا نے علیزے کو معنی خیزی سے دیکھا

کل رات اور آج صبح والا سعد کا روپ سوچ کر علیزے کے گالوں پر لالی در آٸی

”ارے تم تو بلش کررہی ہو مطلب کچھ بات ضرور ہے “ردا نے اندازہ لگایا

”کوٸی بات نہیں تم اپنی بکواس بند کرو رات ہم سب مل کر کر مووی دیکھ رہے تھے تو لیٹ سوۓ تھےبس اسی لیے صبح نہیں اٹھ پاٸی“ علیزے نے وضاحت دی

”ویسے یہ وضاحت مجھے ہضم نہیں ہورہی “ردا نے علیزے کو گھورتے ہوۓ کہا

”تو ہاجمولا کھا لو ہضم ہوجاۓ گی“

علیزے نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا

”بچیوں آجاٶ کھانا کھالو“

کوثر بیگم کی آواز پر دونوں ہی کھانا کھانے کے لیے آگٸیں

ابھی وہ تینوں کھانا کھانے بیٹھی تھی کہ ڈور بیل بجی

”کون آگیا اس وقت“ کوثر بیگم بڑبڑاٸی

”مما میں دیکھتی ہوں“

علیزے کرسی پیچھے کرتی کھڑی ہوگٸ

دروازہ کھولا تو سامنے انیک کھڑا تھا

”اَلسَلامُ عَلَيْكُم انیک بھاٸی“

”وَعَلَيْكُم السَّلَام میری گڑیا مما کہاں ہیں “

”وہ وہاں کھانا کھا رہی ہیں آپ بھی آجاٸیں ہم ابھی بیٹھے تھے کھانا کھانے“

علیزے نے انیک کے ہمقدم چلتے ہوۓ کہا

”ہمممم فریش ہوکر آ …… “

انیک سامنے کھانے کی میز پر بیٹھی لڑکی کو دیکھ کر چونک گیا یہ لڑکی کون ہے انیک نے حیرانگی سے پوچھا

”یہ میری دوست ہے ردا میں کالج نہیں گٸ تھی آج تو وہ مجھ سے ملنے گھر ہی آگٸ“ علیزے نے خوش ہوتے ہوۓ کہا

”ہممم“ انیک اتنا ہی کہہ سکا

”اَلسَلامُ عَلَيْكُم مما“

”وَعَلَيْكُم السَّلَام بیٹا تم آج جلدی آگۓ “

کوثر بیگم نے فکر سے پوچھا

”جی مما ایکزیم ہونے والے ہیں تو کلاسس اوف ہوگٸ ہیں“

انیک نے ردا کو بلکل ہی نظرانداز کر دیا تھا

لیکن ردا کے چہرے کی خوشی اور آنکھوں کی چمک انیک نظر انداز نہیں کرسکا انیک کا سخت قسم کا موڈ خراب ہوا تھا

ردا دل سے خوش ہوٸی تھی انیک کو دیکھ کر اس کا بس چلتا تو وہ انیک کو اپنے سامنے بیٹھا کر خوب باتیں کرتی پر انیک اس کی طرف دیکھتا بھی نیں تھا

”مما میں روم جاکر سوٶں گا پلیز مجھے ڈسٹرب نہیں کریے گا“

انیک کہہ کر اپنے کمرے میں چلا گیا

”میں نے اس لڑکے کو کہا بھی تھا ابھی بیماری سے اٹھے ہو تھوڑے دن بعد جانا یونیورسٹی پر سنی نہیں میری اب دیکھوں کچھ گھنٹوں میں ہی نڈھال ہوگیا“

کوثر بیگم نے افسوس سے کہا

”آنٹی آپ پریشان نہیں ہو ٹھیک ہوجاٸیں گے وہ“ ردا نے کوثر بیگم کو حوصلہ دیا

”ہممم کھانا کھاٶ“

اب سب ہی کھانا کھانے میں مصروف ہوگۓ تھے

”آخر اس لڑکی کا مسٸلہ کیا ہے کیوں مجھے دیکھتی رہتی ہے امیر ذادی ہے نہ آخر تو اس کو تو ہونا ہی ہے ایسا ان کو تو شوق ہوتا لڑکوں کو اپنےآگے پیچھے گھومانے کا لیکن یہ کیا سوچتی ہے میں اس کی خوبصورتی اور دولت پر فدا ہوکر اس کے آکے پیچھے گھوموں گا ناممکن“

انیک ٹھنڈے شاور کے نیچے کھڑا اپنی سوچوں میں ردا کی محبت کو بے شرمی کا نام دے رہا تھا

”تم ایسے کیوں ہو اتنی محبت کرتی ہوں میں تم سے تم ایک نظر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے میری طرف انیک پلیز میں تھک گٸ ہوں اکیلے رہ رہ کر مجھے آپ کا ساتھ چاہیے آپ کا پیار چاہیے “

ردا اپنے بڑے سے بیڈ پر لیٹی انیک کی بے رخی کا ماتم منا رہی تھی

”جانِ من ناراض ہو مجھ سے “

سعد جب سے آفس سے آیا تھا علیزے سیدھے منہ بات نہیں کررہی تھی اس سے اب وہ دونوں رات کو روم میں تھے تو سعد کو موقع ملا تھا اسے منانے کا

”آپ بہت برے ہیں مجھے آپ سے بات نہیں کرنی “

سمجھے علیزے نے انگلی اٹھا کر سعد کو وارن کیا

”ہاۓ تمھارے یہ روٸی جیسے گال مجھے بہت پسند ہیں غصے میں اور پھول جاتے ہیں یہ“ سعد نے علیزے کے پھولے ہوۓ گالوں کو ہاتھ کی چٹکیوں میں لیتے ہوۓ کہا

”ہٹیں پیچھے چھیچورے کہی کے“

علیزے نے سعد کے دونوں ہاتھ جھٹکتے ہوۓ کہا

”ارے میری جان تم پھر سے مجھے مجبور کررہی ہو کوٸی شرارت کرنے پر“

سعد نے معنی خیزی سے کہا

”آپ نے کچھ کیا نہ میں روم سے باہر چلی جاؤں گی“

”اور میں جانے دوں گا تمھیں جانِ من “

سعد آج پھر علیزے کو زج کرنے پر تھا

”مجھے نیند آرہی ہے سورہی ہوں میں “

علیزے کو کچھ سمجھ نہ آیا تو نیند کا بہانا بنا لیا اور بیڈ پر سعد کی طرف پشت کرکے لیٹ گٸ

”ہممم سوتے ہیں“

سعد نے ساٸیڈ لیمپ اوف کیا پھر علیزے سے چپک کر لیٹ گیا

”سعد پیچھے ہو کیا کررہے ہیں “

علیزے نے سعد کو پیچھے کرنا چاہا پر اس پہاڑ کو نہ اپنی جگہ سے ہلنا تھا نہ ہلا

”سعد آپ کبھی کبھی ضدی بچوں کی طرح کرتے ہیں “

علیزےنے ہار مانتے ہوۓ کہا

”تو کیا کروں میں سیدھی طرح بات نہیں مانتی تم“

سعد نے سیدھے لیٹتے ہوۓ کہا اس کا ہاتھ ابھی بھی علیزے کے سر کے نیچے تھا

”بتائيں کونسی بات نہیں مانی آپ کی“

علیزے نے سعد کی طرف کروٹ لیتے ہوۓ کہا

”ابھی یاد نہیں آرہی پھر کسی دن بتاٶں گا“ سعد نے سر کھجاتے ہوۓ کہا

”ہاں تو کوٸی بات ہوگی تو یاد آۓ گی نہ“ علیزے نے سعد کا مذاق اڑایا

دونوں ایسے ہی ایک دوسرے کا مذاق اڑاتے سوگۓ

”زہے نصیب آج دعا میڈم کو اس ناچیز پر کیسے رحم آگیا جو کال پر بات کرنے کا خیال آگیا“

ذایان نے خوش دلی سے کہا

”ذایان آپ جانتے تو ہیں جب بھاٸی بھابی نہیں ہوتے گھر میں تب بات کرتی ہوں میں آپ سے کال پر “

دعا نے صفائی پیش کی اپنی

”اچھا چھوڑو یہ بتاٶ تمھاری امی کی طبیعت کیسی ہے“

ذایان نے بات بدل دی

”جی وہ ٹھیک ہیں ابھی دوائی کھلا کر سولایا ہے آپ کے بھاٸی کیسے ہیں جن کی طبیعت

ٹھیک نہیں تھی“

دعا نے انیک کے بارے میں پوچھا

”وہ شیطان بلکل ٹھیک ہے“ ذایان نے جواب دیا

”آپ اپنے چھوٹے بھاٸی کو شیطان کیوں کہتے ہیں “دعا نے ہنستے ہوۓ کہا

لیکن ذایان نے کوٸی جواب نہیں دیا کیوں وہ دعا کے قہقوں کے سر میں کھو گیا تھا دعا بہت کم ہی ہنستی تھی اس کے گھر میں پرابلمز ہی اتنی تھی کے وہ ہنسنا بھول گٸ تھی

”ذایان کیا ہوا جواب دیں“

دعا نے جواب نہ پاکر دوبارہ کہا

ذایان ہوش میں آیا پھر خود کو سنبھالتے ہوۓ کہا

”بھٸ میں اس کو شیطان کیوں کہتا ہوں جب تم اس سے ملو گی تو سمجھ جاؤ گی “

”میں کیوں ملوں گی آپ کے بھاٸی سے “

دعا نے حیرانگی سےکہا

”تم جب میری دلہن بن کر گھر میں آٶ گی تب نہیں ملو گی کیا اپنے چھوٹے دیور سے“

ذایان نے دعا سے سوال کیا

”ذایان میں نے کہا ہے نہ مجھ سے اس طرح کی باتیں نہیں کرا کریں مجھے پسند نہیں “

دعا نے خفگی سے کہا

”دعا پلیز یار تمھاری صرف ایک ہاں کا منتظر ہوں میں جانتا ہوں تم بھی مجھسے محبت کرتی ہو لیکن بولتی نہیں ہو اس دنیا میں قدم قدم پر دھوکے ہیں تم ڈرتی ہو کہ میں دھوکا دیں دوںگا لیکن میری جان میرا یقین کرو تم سے سچی محبت کی ہے میں نے ایک موقع تو دو مجھے ایک بار مجھ پر یقین کرکے تو دیکھو زندگی “

شرارتی سا ذایان دعا کے سامنے جذباتی بنا ہوا تھا

دعا کا دل بھی دھڑکا تھا اس کی آنکھوں سے ایک آنسو بے مول ہوا تھا

”ذایان آپ کیا چاہتے ہیں کیا کروں میں “

دعا کے گلے آنسوٶں کا پھندا اٹکا تھا

”تمھیں مجھ پر یقین نہیں نہ تم مجھ سے نہیں ملنا چاہتی نہ ملو اپنے گھر کا ایڈریس نہیں بتانا چاہتی نہ بتاٶ تم میری بھابی سے مل لو ایک بار تاکہ تمھیں یقین ہوجاۓ میں سچ میں تمھارے ساتھ ایک پاک رشتہ بنانے کا خواہش مند ہوں“

ذایان نے التجا کی

”بھابی کیا آپ کی بھابی مجھ سے ملیں گی وہ کچھ غلط نہیں سوچیں گی میرے بارے میں“ دعا کو سچ میں حیرت کا جھٹکا لگا تھا کیوں کہ اس کی نظر میں ہر بھابی اس کی بھابی جیسی ہوتی ہے

”نہیں وہ ایسا کچھ نہیں سوچیں گی میرے بھابی تمھاری بھابی کی طرح کوٸی جلادنی نہیں ہے میری بھابی دنیا کی بیسٹ بھابی ہے“ ذایان نے علیزے کی تعریف شروع کردی

”کیا سچ کہہ رہے ہیں آپ آپ کی بھابی میری بھابی کی طرح نہیں ہیں “

دعا ابھی بھی حیرت کا شکار تھی

”نہیں نہ وہ بہت اچھی ہے انیک اور میں تو خوب گپے لگاتے ہیں بیٹھ کر ان کے ساتھ وہ سارا دن مما کے ساتھ ہوتی ہے شام کو ہم لوگ کام سے آتے ہیں تو خوشی خوشی ہمارا استقبال کرتی ہے“

”کیا آپ کی بھابی آپ کی مما سے لڑتی نہیں“ دعا نے حیرانگی سے پوچھا

”نہیں وہ تو مما کو بلکل اپنی سگی مما سمجھتی ہے اور مما نے بھی اس کو بیٹی بنا کر رکھا ہوا ہے“

ذایان نے خوشی خوشی بتایا

”اگرآپ کی بھابی سچ میں اتنی اچھی ہیں تو میں ضرور ملوں گی “

ان سے دعا نے آخر کار ہامی بھر ہی دی

”کیااااا سچ میں دعا دعا تم نے مجھے کتنا خوش کیا ہے میں بتا بھی نہیں سکتا آٸی لو یو سو مچ زندگی “

ذایان نے محبت سے چور لیجے میں کہا

”اچھا اب میں سو رہی ہوں“

دعا نے شرماتے ہوۓ کہا

”ٹھیک ہے سو جاؤ میں بھابی سے بات کرکے ایک دو دن میں تمھیں بتاتا ہوں کہاں ملنا ہے اوکے “

”ٹھیک ہے خدا حافظ “

”خدا حافظ“

ایک نٸ صبح سب کی منتظر تھی سب اپنے اپنے کاموں پر نکل گۓ تھے انیک اور کوثر بیگم گھر میں تھے انیک پیپر کی تیاری کررہا تھا

”لو بھٸ جانِ من آگیا تمھارا کالج “

سعد نے کالج کے سامنے گاڑی روکتے ہوۓ کہا

”ہم ٹھیک ہے خدا حافظ “

”علیزے گاڑی سے اترنے والی تھی سعد کی آواز پر روک گٸ

”تمھارے پاس پیسے ہیں “

سعد علیزے کو ہفتے میں پاکٹ منی دیتا تھا سعد کو لگا شاید اس کے پاس پیسے ختم ہوگۓ ہو خود تو وہ کبھی مانگتی نہیں پیسے اسی لیے سعد نے خود ہی پوچھ لیا

”آپ کو چاہیے کیا “

علیزے نے سنجیدگی سے پوچھا

”ہاں دو کتنے ہیں سب نکالو “

سعد سچ میں چڑ گیا تھا

”میں کیوں دوں میرے پیسے ہیں“

علیزے نے ہنستے ہوۓ کہا

”لگتا ہے سزا بھول گٸ ہو ابھی بتاتا ہوں تمھیں“ سعد اس کی طرف جھکا ہی تھا علیزے کار کا دروازہ کھول کر باہر بھاگ گٸ

”ارے لڑکی کیا ہوگیا ہے دیکھ کر تو چلو“ علیزے بھاگی بھاگی کار سے نکلی تو بے دھیانی میں سامنے سے آتی ردا سے ٹکرا گٸ جو اس کی طرف آرہی تھی

”سوری سوری ردا “

علیزے ہنستے ہنستے روکی

”کیا بات ہے بڑے قہقے لگاۓ جارہے ہیں“

ردا نے علیزے کو ہنستے ہوۓ دیکھا تو پوچھ بیٹھی

”کچھ نہیں یار “

”ایک منٹ تم میرے بھاٸی کو تنگ کرکے آٸی ہو جب ہی وہ ابھی تک تمھیں گھور رہے ہیں“

ردا نے سامنے گاڑی میں بیٹھے سعد کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا اور اسی طرف چلدی

”اَلسَلامُ عَلَيْكُم بھاٸی کیسے ہیں آپ“

ردا نے خوشدلی سے پوچھا

”وَعَلَيْكُم السَّلَام گڑیا میں ٹھیک ہوں تم سناٶ کیسی ہو “

سعد نے بھی ردا کو بھاٸیوں والا مان دیا

”ٹھیک ہوں میں بھی “

ردا نے مسکراتے ہوۓ کہا

”گڈ اب چلتا ہوں آفس کے لیے لیٹ ہوجاٶں گا “ سعد نے رخصت لی

وہ دونوں بھی باتیں کرتیں کالج چلی گٸیں

انیک اپنی پڑھاٸی میں مصروف تھا جب اسے اپنی چڑیا کی چہچانے کی آواز آٸی علیزے انیک کے کمرے میں کچھ بڑابڑاتی ہوٸی داخل ہوٸی تھی

”کیا بڑابڑارہی ہو تم “

انیک نے مسکراتے ہوۓ کتاب بند کرکے ساٸیڈ میں رکھ دی

”بھیا مما کو سمجھاٸیں نہ وہ مجھے زبردستی صاٸمہ آپی کے گھر میلاد میں لے جارہی ہیں“ علیزے نے منہ بسورتے ہوۓ کہا

”ارے میری گڑیا صاٸمہ کے گھر والے ہر کسی کو اپنے گھر عزت سے نہیں بولاتے تمھیں بولایا ہے تو جاؤ پھر عزت کماٶ“

انیک نے مذاق کے انداذ میں کہا

”آپ کو مذاق سوج رہا ہے میں اتنی ٹینشن میں ہوں صاٸمہ آپی پسند نہیں کرتیں مجھے وہ جب بھی ملتی ہیں مجھ الٹی سیدھی باتیں سناتی ہیں مجھے کہتی میں نے سعد کو چھین لیا ان سے علیزے نے صاف گوٸی سے کام لیا “

”اچھا میری گڑیا میری بات سنو ابھی اس نے تمیں اپنے گھر بلایا ہے تو وہ کچھ نہیں کہے گی اور تم مما کے ساتھ ہی رہنا اکیلے کہی مت جانا تو کچھ نہیں ہوگا “

انیک نے پیار سے اپنی چے چے کرتی چڑیا کو سمجھایا

”میرا جانا ضروری ہے کیا “علیزے نے اداسی سے کہا

”بلکل ضروری ہے تمھارا جانا “

جواب انیک کے بجاۓ کوثر بیگم نے دیا تھا وہ ان دونوں کو کھانے کے لیے بلانے آٸی تھیں تو ان کی باتیں سن لیں تھیں

”مما رہنے دیں نہ اس کا دل نہیں تو “

انیک نے علیزے کا ساتھ دیا

”بیٹا تم دونوں سمجھ کیوں نہیں رہے لوگوں کی نظروں میں یہ ہمارے گھر کی بڑی بہو ہے اگر اس کو نہیں لے کر گٸ تو لوگ سمجھیں گے کہ ہم تمھیں جانے کیسا رکھتے ہیں گھر میں بند رکھتے ہیں تمھیں کسی سے ملنے بھی نہیں دیتے وہاں سب سے ملو گی سب کے ساتھ بیٹھو گی تو کوٸی یہ نہیں سوچے گا کہ بِن ماں باپ کی بچی کو ہم اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں نہ کہ بوج“

کوثر بیگم نے تحمل سے سمجھایا

”اچھا آپ سعد سے تو پوچھ لیں“

علیزے نے آہستہ سے کہا

”نہیں کہے گا وہ کچھ محلے میں تو جارہے ہیں کہی دور تھوڑی جارہے آجاٶ اب دونوں کھانا کھاٶ “

کوثر بیگم نے نرمی سے کہا اور روم سے چلیں گٸیں

”گڑیا پریشان نہیں ہو بس کچھ گھنٹوں کی تو بات ہے پھر تمھیں یہی واپس آجانا ہے اپنے جن جیسے شوہر اور دو شیطان بھاٸیوں کے پاس“ انیک نے علیزے کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا

علیزے ہنس دی انیک بھی اس کے ساتھ مسکرا دیا