Rishte Mohabat Ke by Misbah Khalid NovelR50485 Rishte Mohabat Ke Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Rishte Mohabat Ke Episode 11
Rishte Mohabat Ke by Misbah Khalid
”خوش ہوں میں بہت سعد بہت محبت کرتے ہیں مجھ سے خیال بھی بہت رکھتے ہیں مجھے اور کیا چاہیے ہاں کبھی غصہ ذیادہ کرلیتے ہیں لیکن دل سے بہت چاہتے ہیں مجھے“
علیزے نے سعد کی تعریفوں کے پل باندھ دیے
”اچھا ابھی تو نام بھی سننا پسند نہیں تھا اب پل بند گۓ تعریفوں کے“
انیک نے تمسخر اڑایا
”آپ چپ رہیں انیک بھاٸی
ذایان بھاٸی آپ کو جواب مل گیا اب بتائيں آگے کیا چاہتے ہیں آپ “
علیزے نے ایک کو چپ کروایا اور ذایان کی طرف متوجہ ہوٸی
”گڑیا میں یہ چاہتا ہوں تم میری بھابی کے رشتے سے ایک بار دعا سے مل لو تاکہ وہ میری طرف سے مطمٸن ہوجاۓ پھر ہم اس کے گھر رشتہ لے کر جاٸیں گے “
ذایان نے دل کی بات کہی
”اچھا ٹھیک ہے میں سعد سے پوچھ کر آپ کے ساتھ چلوں گی “
”ارے نہیں نہیں پاگل لڑکی بھاٸی کو نہیں بتانا پتا نہیں وہ کیسا ری ایکٹ کریں گے پہلے تم مل لو پھر ہم بھاٸی کو بتائيں گے“
”لیکن ذایان بھاٸی ان کو بتاۓ بنا تو میں کہی نہیں جاسکتی آج جو ہوا وہ دیکھ چکے ہیں آپ سعد جان سے ہی مار دیں گے مجھے “
علیزے نے معصوم سے انداز میں کہا
”میری گڑیا تھوڑی دیر کی بات ہے میں آفس سے جلدی چھٹی لے لوں گا اور پھر تمھیں چھٹی کے وقت کالج سے پک کرلوں گا پھر دعا سے ملواتے ہوۓ گھر لے آٶں گا “
ذایان نے پلین بتایا
”سعد اجازت دیں گے آپ کے ساتھ گھر آنے کی “
”ہاں میری جان کیوں نہیں میں خود لے لوں گا اجازت“
ذایان نے مسکراتے ہوۓ کہا
”اچھا ٹھیک ہے“
علیزے راضی ہوگٸ دعا کو وہ پہلے ہی بتا چکا تھا ملنے کے بارے میں
سعد کو اکیلے نیند نہیں آرہی تھی اسے علیزے کی کمی محسوس ہورہی تھی
” علیزے آجاٶ یار اور کتنا انتظار کرواٶ گی“ سعد نے خود کلامی کی کچھ دیر کے بعد سعد اٹھ کر کھڑا ہوگیا
”بس اب اور برداشت نہیں ہورہا علیزے تمھیں آنا ہوگا روم چاہے مجھے زبردستی ہی کیوں نہ کرنی پڑے “
سعد بڑبڑاتے ہوۓ روم سے نکل گیا
سعد کوثر بیگم کے کمرے میں گیا
”کیا ہوا بیٹا سوۓ نہیں ابھی تک“
کوثر بیگم نے سامنے گھڑے سعد سے پوچھا
”آپ کی بہو کے بنا نیند کہاں آتی ہے مجھے ہیں کہاں ہے وہ میڈم “
سعد نے کمرے میں طاہرانہ نظر ڈالتے ہوۓ کہا
”اس کو کونسی آتی ہے تمھارے بنا نیند ذایان کے کمرے ہے وہ“
کوثر بیگم نے مسکراتے ہوۓ کہا
”اوکے مما آپ سوجاٸیں “
سعد روم سے نکل گیا
کوثر بیگم دوبارہ لیٹ گٸیں
ذایان انیک علیزے باتوں میں لگے تھے جب ہی دروازہ کھلا اور سعد اندر داخل ہوا
ایکدم سب کی زبانوں کو بریک لگا
”علیزے روم میں چلو “
سعد علیزے سے مخاطب ہوا
”مجھے نہیں جانا میں میکے آٸی وی ہوں“ علیزے نے بالکل ناراض بیویوں کی طرح کہا
انیک نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیے تھے اپنی ہنسی چھپانے کے لیے
ذایان گردن جھکاۓ مسکرا رہا تھا
سعد علیزے کے پاس آیا اور جھک کر اس کے کان میں کہا
“اگر تم پانچ منٹ میں روم میں نہ آٸیں تو میں تمھیں سب کے سامنے سزا دوں گا اور تم جانتی ہو تمھاری سزا کیا ہوگی“
سعد سیدھا ہوا اور اپنے روم میں چلا گیا
ذایان انیک کی نظریں علیزے پر تھیں وہ اس کے چہرے کے تاثرات سے سمجھنے کی کوشش کررہے تھے سعد نے کہا کیا ہے
”جارہی ہوں میں اپنے روم میں “
علیزے نے بیڈ سے اٹھتے ہوۓ کہا
”کیا کہا ہے تمھیں بھاٸی نے“
انیک نے مسکراتے ہوۓ پوچھا
”کچھ نہیں کہا“
علیزے روم سے نکل گٸ
”تم کیوں مسکراۓ جارہے ہو انیک “
علیزے کے جانے کے بعد مسکراۓ جارہا تھا
”میں نے سن لیا تھا بھاٸی نے کیا کہا اس کو “
”کیا بتاٶ مجھے بھی کیا کہا “
ذایان نے آنکھیں بڑی کرکے کہا
”بھاٸی نے کہا اگر تم پانچ منٹ میں روم میں نہیں آٸیں تو میں تمھیں سب کے سامنے سزا دوں گا اور سزا تم جانتی ہو “
انیک نے مزے سے بتایا
”واٹ بھاٸی اس کو سزا دیتے ہیں “
ذایان نے حیرت سے کہا
”ارے بھاٸی تھوڑے رومنٹک ہوجاٶ بھاٸی اس کو کوٸی رومنٹک سزا دیتے ہونگے جب ہی تو وہ چپ چاپ اٹھ کر چلی گٸ “
انیک کو تو جیسے سب ہی معلوم تھا
”ہممم ٹھیک ہے چلو اب تم روم میں جاٶ نیند آرہی ہے مجھے “
”اوکے بھاٸی گڈ ناٸٹ “
”گڈناٸٹ چھوٹے “
انیک اپنے روم میں چلا گیا
علیزے روم میں آٸی تو سعد پہلے سے بیڈ پر لیٹا تھا وہ بھی بیڈ کے دوسرے ساٸیڈ پر جاکر لیٹ گٸ علیزے کو لیٹے ہوۓ کچھ ہی منٹ گزرے تھے سعد نے علیزے کا بازوں پکڑا اور اپنی طرف کھینچ لیا
”آہ کیا کررہے ہیں چھوڑے مجھے دور ہٹے مجھ سے “
علیزے سعد کی بانہوں میں تڑپ رہی تھی لیکن سعد نے علیزے کو نہیں چھوڑا
”میری بات سنو اگر تم نے میری اجازت کے بغیر ایک قدم بھی گھر سے باہر نکالا تو ٹانگیں توڑ دوں گا تمھاری اب سوجاٶ خاموشی سے “
سعد نے علیزے کو مزید خود کے قریب کیا اور آنکھیں موند گیا
سعد کی پکڑ اتنی مضبوط تھی کہ علیزے ہل بھی نہیں پارہی تھی اسی لیے خاموشی سےسوگٸ ویسے بھی سعد کی بانہوں میں چھپے بنا علیزے کو نیند بھی نہیں آنی تھی
”دعا میں نے بھابی کو منا لیا اب بتاٶ کہاں ملاقات کرو گی“
ذایان نے خوشی خوشی دعا کو میسیج کیا
”آپ جہاں بولیں وہاں مل لیں گے“
دعا نے جواب دیا
”نہیں زندگی تم بتاٶ جیسے تمھیں آسانی ہوگی وہی ملیں گے “
”ذایان مجھے جگہوں کے بارے میں نہیں معلوم آپ جانتے تو ہیں میں کہاں کہی جاتی ہوں “
”اچھا آٸسکریم پارلر میں مل سکتی ہو “
”جی کونسا آٸسکریم پارلر “دعا نے پوچھا
ذایان نے آٸسکریم پارلر کا بتایا تو دعا نے ہامی بھر لی وہ اس کے اسکول سے کچھ دور تھا
”اوکے پھر کل ملتے ہیں زندگی “
”جی ٹھیک ہے خدا حافظ“
”خدا حافظ زندگی“
علیزے کی آنکھ کھولی تو سعد بیڈ پر نہیں تھا وہ پہلے ہی اٹھ چکا تھا واشروم سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی مطلب سعد نہا رہا
علیزے آنکھیں بند کرکے دوبارہ لیٹ گٸ
سعد نہا کر آیا تو علیزے کو سوتا پاکر اس کے سرپر آکھڑا ہوا
اپنے گیلے بال اس نے علیزے کے چہرے کے قریب لے جا کر زور زور سے ہلاۓ تو علیزے کے چہرے پر بالوں سے جھڑتی بوندیں کرنے لگی
علیزے نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھولیں سعد کو خود پر جھکا دیکھ کر علیزے کی آنکھوں سے نیند فوراً بھاگی
”کیا کررہے ہیں ہٹیں“
علیزے نے ہمت کرکے سخت لیجے میں کہا
”نہ ہٹوں تو“ سعد نے علیزے پر اور جھکتے ہوۓ کہا
”پہ پہ پلیز ہا ہٹیں “
علیزے سعد کے اتنے قریب آنے سے گھبرا گٸ تھی
سعد کو علیزے پر ترس آیا اور وہ ہٹ گیا ڈریسینگ ٹیبل کے سامنے کھڑا ہوکر بال بنانے میں مصروف ہوگیا تھا علیزے واشروم میں گھس گٸ تھی
سب ہی ناشتے کی ٹیبل پر موجود تھے آج ضرورت سے زیادہ خاموشی تھی اس خاموشی میں علیزے کی آواز نے خلل ڈالا
”ذایان بھاٸی آج آپ مجھے کالج چھوڑ دیں گے “
”ذایان کیوں چھوڑے گا تمھیں کالج میں چھوڑتا ہوں نہ روز “
سعد نے خفگی سے کہا
”مجھے نہیں جانا آپ کے ساتھ میں ذایان بھاٸی کے ساتھ ہی جاؤں گی ورنہ کالج ہی نہیں جاؤں گی“
علیزے بھی اپنی بات پر اڑی رہی
”بیٹا کیا ہوا روز سعد کے ساتھ تو جاتی ہو آج کیا ہوگیا “
کوثر بیگم نے پیار سے کہا
”مما یہ اکیلے میں مجھے دھمکیاں دیتے ہیں دوسری شادی کرنے کی اور مجھے کہتے ہیں مجھ سے پوچھے بغیر گھر سے باہر نکلو گی تو ٹانگے توڑ دوں گا “
علیزے نے روتے روتے کہا
سعد کا منہ کھلا رہ گیا سعد کو اندازہ نہیں تھا وہ اس کے دوسری شادی والے مذاق کو اتنا سیریس لیتی ہے
”سعد کیا سن رہی ہوں یہ میں تم میری بیٹی کو دھمکیاں دیتے ہو“
کوثر بیگم نے آنکھیں دیکھاتے ہوۓ کہا
”مما میں تو مذاق کرتا ہوں اس سے اس نے تو سیریس ہی لے لیا میرا مذاق “
سعد نے شرمندہ ہوتے ہوۓ کہا
”جھوٹے کہی کے“ علیزے بڑبڑاٸی
”کیا مجھے جھوٹا کہا تم نے“
برابر میں بیٹھے سعد نے علیزے کی بڑبڑاہٹ سن لی تھی اس کو صدمہ ہوا
”میں ذایان بھاٸی کے ساتھ جاؤں گی کالج بس ذایان بھاٸی آپ چھوڑ دیں گا نہ “
علیزے ذایان سے مخاطب ہوٸی
”کیوں نہیں گڑیا چھوڑ دوں گا“
ذایان نے ہامی بھر لی
”اچھا بھٸ میں تو جارہا ہوں یونیورسٹی دعا کرنا میرا پیپر اچھا ہو “
”گڈلگ چھوٹے“ سعد نے کہا
”تھینک یو بھاٸی“
”انیک بھاٸی میں دعا کرونگی آپ کے لیے آپ کے سارے پیپر اچھے ہو“
علیزے نے مسکراتے ہوۓ کہا
”تھینکس گڑیا“
انیک نے علیزے کے سر بر ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا
”میں دعا کرونگا پیپر میں وہ ہی آۓ جو انیک نے یاد نہ کیا ہوا ہو“
یہ ذایان تھا کسی بات کو سیریس لینا تو ذایان کو آتا نہیں تھا
”کبھی اچھا نہ بولنا تم “
انیک نے جل کر کہا
”انیک چھوڑو یہ نہیں سدھرے گا تم جاؤ اچھے سے پیپر دے کر آنا “
کوثر بیگم نے کہا
”اوکے خدا حافظ “
”چلو گڑیا چلیں“
”جی بھاٸی چلیں علیزے اور ذایان بھی چلیں گۓ “
سعد ان دونوں کی پشت دیکھتا رہ گیا
”سعد تمھیں آفس نہیں جانا “
کوثر بیگم نے سعد کو بیٹھا دیکھا تو پوچھا
”مما دیکھیں نہ اپنی بیٹی کو کیسے نخرے دیکھا رہی ہے مجھے “
سعد نے بچوں کی طرح شکایت کی
”تو بیٹا کل جو تم نے اس کے ساتھ کیا اتنے نخرے دیکھانے کا حق تو بنتا ہے اس کا “
کوثر بیگم نے مسکراہٹ دبا کر کہا
”ہممم ٹھیک ہے منا لوں گا میں اس کو ہاتھ تو لگے وہ میرے “
سعد نےمسکراتے ہوۓ کہا
”اور مجھے یقین ہے وہ مان جاۓ گی “
کوثر بیگم نے بھی سعد کی مسکراہٹ کا ساتھ دیا
”ہاۓ “ردا نے پیچھے سے علیزے کے کندھے پر ہاتھ رکھا
علیزے ابھی ذایان کی باٸیک سے اتری ہی تھی ردا نے گھیر لیا اس کو
” یہ ذایان بھاٸی ہیں کیا “
ردا نے ذایان کو آج پہلی بار دیکھا تھا
ہاں یہ ذایان بھاٸی ہیں علیزے نے کہا
”اَلسَلامُ عَلَيْكُم بھاٸی کیسے ہیں آپ “
”وَعَلَيْكُم السَّلَام میں ٹھیک ہوں “
ذایان نے علیزے کو آنکھوں سے اشارہ کیا یہ کون ہے
”ارے یہ میری دوست اور سعد کی منہ بولی بہن ہے “
علیزے نے ذایان کو تفصیل بتائی
”اوہ تو یہ ہے وہ جس کی باتیں کرکے تم سارا دن ہمارا سر کھاتی ہو “
ذایان نے مذاق کے انداز میں کہا
”جی بھاٸی میں ہی وہ اسپیشل بندی ہوں جس کی یہ تعریفیں کرتی ہے “
جواب علیزے کے بجائے ردا نے دیا تھا
”اوہ گڈ چلو آج سے تم میری بھی بہن جیسے علیزے میرے لیے ہے ویسے ہی تم ہو آج سے“ ذایان نے مسکراتے ہوۓ ردا کے سر پر ہاتھ رکھا
”واہ علیزے میرے بھی دو بھاٸی ہوگۓ “
ردا چہکی
”دو کیوں تین ہوۓ انیک بھاٸی بھی تو ہیں“ علیزے نے اضافہ کیا انیک کا
”نہیں وہ میرے بھاٸی نہیں وہ بہت کھڑوس ہیں سیدھے منہ مجھ سے بات بھی نہیں کرتے“ ردا کو کل والا واقعہ یاد آیا
”ہاں وہ ذرا لڑکیوں سے دور ہی رہتا ہے شاید اسی لیے تمھیں کھڑوس لگا وہ گڑیا کے علاوہ اس کی زندگی میں کبھی کوٸی لڑکی نہیں آٸی “
ذایان انیک کے لیے ہمدردی دیکھاٸی
”ہممم ٹھیک ہے بھاٸی آپ کہہ رہے ہیں تو مان لیتی ہوں“
ردا نے جواب دیا
”میں چلتا ہوں اب چھٹی میں لینے آجاٶں گا “
”اوکے بھاٸی خدا حافظ “
”خدا حافظ ماۓ سویٹ سسٹرس“
ذایان بھی چلا گیا
”آج سعد بھاٸی کیوں نہیں آۓ“
ردا نے ذایان کے جاتے ہی پوچھا
”ان سے ناراض ہوں میں“
علیزے نے صاف گوٸی کا مظاہرہ کیا
”کیوں کیا ہوا“
ردا بےچین ہوٸی
پھر علیزے اپنے اوپر ہوا ظلم ردا کا سنانے لگی اور دونوں باتیں کرتی کرتی کالج میں داخل ہوگٸیں
سعد کے موبائل پر کال آرہی تھی اس نے دیکھا تو ذایان کی کال تھی
سعد نے مسکراتے ہوۓکال پک کی
”جی بولیں کیسے یاد آٸی بھاٸی کی“
سعد نے روکھے انداز میں کہا
”ابھی تک ناراض ہیں آپ مجھ سے آٸی ایم سوری بھاٸی میں نے بس کل علیزے کا ساتھ اسی لیے دیا تھا اس کو یہ نہ لگے وہ اکیلی ہے
آپ کو کل کچھ زیادہ ہی غصہ آگیا تھا مجھے ڈر تھا وہ آپ سے بدظن نہ ہوجاۓ پھر اس کو احساس بھی ہوتا کہ اس کے ماں باپ نہیں تو آپ اس کے ساتھ ایسا کررہے ہو“
ذایان ضرورت سے زیادہ سنجیدہ ہوگیا
”ذایان تمھیں پتا ہے تم سنجیدہ بلکل اچھے نہیں لگتے “
سعد نے ہنستے ہوۓ کہا
”کیا بھاٸی آپ بھی نہ مجھے لگا آپ مجھ سے ناراض ہیں “
ذایان نے خفگی سے کہا
”ارے پاگل میں اپنے شیطان بھاٸی سے کبھی ناراض ہوسکتا ہوں کیا“
سعد نے مذاقیہ کہا
”جی کبھی نہیں اچھا وہ آج آفس سے میں جلدی فری ہوگیا ہوں علیزے کو میں پک کرلوں کالج سے “
ذایان نے مطلب کی بات کی
”ہاں تم کرلو پک میرے ساتھ تو شاید وہ جاۓ گی بھی نہیں نخرے کرنے جو سیکھ گٸ ہے “ سعد نے مسکراتے ہوۓ کہا
”اوکے بھاٸی مجھے یقین ہے آپ اسے منا لیں گے “
ذایان نے ہنستے ہوۓ کہا
”ہاں بلکل خدا حافظ “
”خدا حافظ “
ذایان علیزے کی کالج کے راستے پر چلدیا تھا
ذایان نے علیزے اور ردا کو کالج کے دروازے سے باہر آتے دیکھا تو ہاتھ ہلا کر اپنی طرف متوجہ کیا
ذایان کو دیکھ کر ردا اور علیزے اس کے پاس آگٸیں
”میری گاڑی بھی آگٸ“
ردا نے سامنے روڈ پر آتی اپنی کار کو دیکھ کر کہا
”خدا حافظ علیزے ذایان بھاٸی گڈ لک “
”تھینک یو سویٹ سسٹر لیکن یہ گڈ لک کہا کس لیے ہے “
”مجھے علیزے نے سب بتادیا ہے آپ لوگ کہاں جارہے ہیں“
ردا نے آنکھیں گھماتے ہوۓ کہا
”اوہ اچھا میں سمجھ گیا دعا کرنا وہ میری ہوجاۓ“
ذایان نے محبت سے دعا کو سوچتے ہوۓ کہا
”جی بھاٸی میں ضرور کروں گی اب میں چلتی خداحافظ“
”اوکے خدا حافظ “
”تمھارے پیٹ میں کوٸی بات نہیں ٹکتی ہے“
ذایان نے ردا کے جاتے ہی علیزے کو گھیر لیا
”بھاٸی وہ میری بیسٹ فرینڈ ہے نہ میں اس سے کچھ نہیں چھپاتی وہ نہیں بتائے گی کسی کو کچھ “
”ہممم ٹھیک ہے چلو دیر ہورہی ہے“
ذایان نے باٸیک پر بیٹھتے ہوۓ کہا
”اوکے بھاٸی“
علیزے بھی باٸیک پر بیٹھ گٸ
ردا کے موبائل پر سعد کی کال آرہی تھی
”یہ سعد بھاٸی مجھے کیوں کال کررہے ہیں “ردا نے سوچتے ہوۓ کال اٹھاٸی
”اَلسَلامُ عَلَيْكُم بھاٸی “
”وَعَلَيْكُم السَّلَام کیسی ہو “
”جی میں ٹھیک آپ بتائيں اس وقت کیسے کال کی آپ نے مجھے “
”ذایان اور علیزے کہاں گۓ ہیں“
سعد سیدھی کام کی بات کی
”وہ تو گھر گۓ ہیں “
ردا نے گھبراتے ہوۓ کہا
”ردا گڑیا بری بات بڑے بھاٸی سے جھوٹ نہیں بولتے چلو جلدی سے بتاٶ کہاں مل رہے ہیں وہ اس لڑکی سے“
سعد نے پوری بات بتائی
”بھاٸی آپ کو کیسے معلوم“
ردا کو جھٹکا لگا تھا
”میں ان سے پہلے آیا ہوں اس دنیا میں مجھے ہر چیز کی خبر ہوتی ہے چلو جلدی سے بتاٶ کہاں مل رہے ہیں وہ “
سعد نے اس دفع تھوڑی سختی سے کہا
”وہ لوگ اسی آٸسکریم پارلر میں گۓ ہیں جہاں سے آپ آٸسکریم کھاتے ہو“
ردا نے بتا ہی دیا
ا
”وکے گڑیا پھر بات ہوگی خدا حافظ“
سعد نے کال کاٹ دی
”سعد بھاٸی کو تو سب پتا ہے پہلے سے اب تو خیر نہیں ذایان بھاٸی اور علیزے کی“
ردا بڑبڑاٸی
”گڑیا تم یہاں بیٹھو میں دیکھ کر آتا ہوں دعا کو “
ذایان نے آٸسکریم پارلر میں علیزے کو ایک کرسی پر بیٹھایا اور خود دعا کی راہ دیکھنے کھڑا ہوگیا
دعا نے آج اسکول سے جلدی چھٹی لے لی تھی ویسے تو دو بجے تک چھٹی ہوتی تھی اس کی آج وہ بچوں کی چھٹی ہونے کے ساتھ ہی ایک بجے اسکول سے نکل گٸ تھی وہ بہت ڈر بھی رہی تھی وہ پہلی دفع ایسے کسی لڑکےسے ملاقات کررہی تھی وہ بار بار اپنے سر کی چادر درست کرتی جلدی جلدی قدم بڑھا رہی تھی اس کو آج ایسا لگ رہا تھا جیسے ہر شخص کی نظر اس پر ہے جیسے سب کو پتا ہو وہ کسی لڑکے سے ملنے جارہی ہے دعا اٸسکریم پارلر کے سامنے والے روڈ پر تھی جب ہی اس کی نظر آٸسکریم پارلر کے باہر کھڑے ایک خوبرو نوجوان پر پڑی وہ پریشان سا کبھی داٸیں طرف دیکھتا تو کبھی باٸیں طرف کبھی ادھر اُدھر چکر کانٹنے لگتا پھر اس نے اپنی جیب سے موبائل نکالا اور کال ملانے لگا
دعا اس خوبرو نوجوان کو دیکھنے میں محو تھی جب ہی اس کے موباٸل پر آتی کال نے اسے ہوش دلایا
اس نے موبائل دیکھا تو ذایان کی کال تھی اس نے جلدی سے کال اٹھاٸی
”کہاں ہو یار زندگی کب سے ویٹ کررہا ہوں“ ذایان نے سوال کیا
”جی میں آٸسکریم پارلر کے سامنے والے روڈ پر ہوں “
دعا نے اسی خوبرو نوجوان کو دیکھتے ہوۓ کہا جو کال پر بات کررہا تھا
ذایان نے دعا کی بات سن کر سامنے والے روڈ پر نظر ڈالی تو ایک مومی گڑیا کالی چادر میں خود کو چھپاۓ فون کان سے لگاۓ اسے ہی دیکھ رہی تھی ذایان مسکرایا
”زندگی بلیک چادر میں تم ہو“
ذایان نے محبت سے پوچھا
”جی میں ہی ہوں“
دعا نے شرماتے ہوۓ کہا کیونکہ ذایان کے نظریں ابھی بھی دعا پر تھیں
”واہ میری جان کسی حسین پری سے کم نہیں تم “ذایان نے مسکراتے ہوۓ کہا
دعا نے شرماتے ہوۓ چادر دانتوں تلے دبا لی اور کال کاٹ دی
ذایان نے جلدی جلدی روڈ کراس کیا اور دعا کے پاس پہنچ گیا
دعا نظریں جھکاۓ کھڑی تھی
”زندگی یہی کھڑی شرماتی رہو گی میری بھابی سے نہیں ملو گی“
ذایان نے دھیمے لہجے میں کہا
”جی چلیں“ دعا نے شرماتے ہوۓ کہا
ذایان اس کو اپنے ساتھ روڈ کراس کروا کر لے آیا
”آپ کی بھابی کہاں ہیں“
دعا نے آٸسکریم پارلر کے قریب پہنچ کر پوچھا
”وہ دیکھوں وہ بیٹھی اندر“
ذایان نے دروازے کے اندر داخل ہوتے ہوۓ ایک کونے میں بیٹھی علیزے کی طرف اشارہ کیا جو آٸسکریم کھانے میں مصروف تھی
”وہ لڑکی آپ کی بھابی ہے“
دعا نے بے یقینی سے پوچھا
”آپ مذاق کررہے ہیں نہ“
دعا نے مسکراتے ہوۓ کہا
”نہیں آٸی ایم سیریس“
ذایان سنجیدہ تھا
”ذایان دیکھیں مزاق بند کریں وہ تو کوٸی اسکول گرل لگ رہی ہے “
دعا بھی سنجیدہ ہوگٸ
”ہاں میں اس کو کالج سے تو لایا ہوں“
”ذایان پلیز بہت ہوگیا مزاق بند کریں مجھے گھر بھی واپس جانا ہے مجھے دیرہو جاۓ گی“ دعا چڑ ہی گٸ تھی
”زندگی تمھیں یقین کیوں نہیں ہورہا وہی ہے میری بھابی تم چلو تو سہی میں ملواتا ہوں اس سے “
”نہیں مجھے نہیں ملنا کسی سے آپ میرا وقت ذایعہ کررہے ہیں میں پاگل تھی جو آپ کی باتوں میں آگٸ جارہی ہوں میں“
دعا دروازے سے باہر نکل گٸ دعا کو غصہ آگیا تھا
ذایان کی تو جان ہی نکل گٸ تھی
”نہیں نہیں پلیز دعا اندر چلو میں مزاق نہیں کررہا سچ میں وہ میری بھابی ہے پلیز پلیز دعا ایک بار میری بات مان لو“
ذایان نے التجا کی
”آپ کسی بھی کالج گرل کو لاکر کہیں گے کہ وہ آپ کی بھابی ہے اور میں مان لوں گی آپ نے مجھے اتنا بے وقوف سمجھا ہوا ہے میں…….“
”یہاں کیا ہو رہا ہے “
دعا آگے بھی کچھ بولتی کہ کسی نے آکر ان کی باتوں میں ٹانگ اڑاٸی
ذایان کی نظر سامنے کھڑے شخص پر بڑی تو صدمے سے کچھ قدم پیچھے ہوا کہی تھپڑ ہی نہ پڑ جاۓ
دعا بھی سامنے کھڑے شخص کو دیکھ رہی تھی جو کچھ کچھ ذایان سے مشاہبت رکھتا تھا پھر اس نے ذایان کو دیکھا جس کی آنکھوں میں حیرانگی اور ڈر کے ملے چلے تاثرات تھے
”بھا بھاٸی آپ“ ذایان نے گھبراتے ہوۓ کہا
ذایان کی زبان سے لفظ بھاٸی سن کر دعا سمجھ گٸ کہ وہ ذایان کا بڑا بھاٸی ہے
”ہاں میں تمھیں کیا لگتا ہے تم اور تمھاری وہ چھوٹی سی بھابی مجھے کچھ بتاٶ گے نہیں تو مجھے کچھ پتا نہیں چلے گا“
سعد نے دعا اور ذایان کی باتیں سن لیں تھیں اس لیے اپنے آپ سے اس نے علیزے کو بھابی کہا
دعا سمجھ گٸ ذایان سچ کہہ رہا تھا
”وہ وہ بھاٸی ہم تو بس “
ذایان نے اتنا ہی کہا تھا کہ سعد نے اس کی بات کاٹ دی
”بس باقی باتیں اندر چل کر ہونگی چلو اب اندر دعا آپ بھی اندر چلیں گھبراٸیں نہیں میرا بھاٸی شرارتی ضرور ہے لیکن آپ سے بے لوث محبت کرتا ہے“
سعد نے ذایان کا کیس مضبوط کرنا چاہا
دعا خاموشی سے ان کے ساتھ اندر چلی گٸ
”گڑیا“
علیزے جو آٸسکریم کھانے میں مصروف تھی ذایان کی آواز پر نظر اٹھا کر دیکھا
”یہ ہے دعا“
ذایان نے برابر میں دعا کی طرف اشارہ کیا
”اَلسَلامُ عَلَيْكُم دعا آپی“
علیزے نے مسکراتے ہوۓ ہاتھ ملایا
”وَعَلَيْكُم السَّلَام “
دعا نے مسکراتے ہوۓ باربی ڈول جیسی دیکھتی علیزے سے ہاتھ ملایا
”آٸیں آپی بیٹھیں“
علیزے نے دعا کو اپنے ساتھ والی کرسی پر بیٹھنے کی آفر کی
دعا مسکراتے ہوۓ بیٹھ گٸ
جب اس کی نظر سامنے سے آتے سعد پر پڑی سعد کی کوٸی کال آگٸ تھی وہ بات کرنے روک گیا تھا
سعد کو دیکھ کر علیزے کی آنکھیں باہر آگٸیں اوپر کا
اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا
”ذایان بھاٸی یہ یہاں کیا کررہے ہیں“
علیزے نے سکتے کی حالت میں پوچھا
”ہیلو ماۓ سویٹ واٸف“
سعد نے علیزے کا کھلا منہ بند کرتے ہوۓ کہا
” چلو بیٹھو ایسے کیا کھڑی ہو “
سعد علیزے کو بیٹھنے کا کہہ کر خود بھی ذایان کے ساتھ بیٹھ گیا
علیزے دعا کو ڈری ڈری لگی علیزے کو سعد کا کل والا غصہ یاد آگیا تھا
علیزے نظریں نیچے کرے اپنی آٸسکریم پر جھک گٸ تھی اپنا ڈر چھپانے کی کوشش کررہی تھی
”چلو ذایان آٸسکریم منگواٶ “
”تم یہ مجھے دو “
سعد ذایان کو حکم دے کر علیزے کی آٸسکریم چھین چکا تھا
”میری آٸسکریم “
علیزے کا ڈر غاٸب ہوا تھا
”دو باٸٹ کی آٸسکریم تھی لے کر بیٹھی تھیں تم دیکھوں میں نے صاف کردی “
سعد نے خالی کب علیزے کو دیکھایا
”آپ کا بس نہ چلیں آپ مجھے بھی کھاجاٸیں“ علیزے نے چڑ کر کہا
”کہا ہی جاؤں گا کسی دن تمھیں بہت میٹھی ہو تم “
سعد نے معنی خیزی سے کہا
علیزے کو کوٸی جواب نہیں ملا تو منہ پھلا کر بیٹھ گٸ
دعا کو ان دونوں کی نوک جھوک اچھی لگ رہی تھی
ذایان مسکراتی دعا کو مبہوس سا دیکھ رہا تھا
دعا کو اپنے چہرے پر ذایان کی نظروں کی تپش کا احساس ہوا تو وہ شرما کر نیچی نظریں کرکے اپنے گود میں رکھے ہاتھوں کو دیکھنے لگی
ذایان نے آٸسکریم کا آرڈر دیا
سعد کو دعا کا انٹرویوں لینا یادآ گیا
”ہاں تو دعا آپ کے فادر کیا کرتے ہیں“
سعد نے دعا کی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا
”جی وفات پا چکے ہیں“
دعا نے دھیمے لہجے میں کہا
”اوہ سوری“ سعد شرمندہ ہوا
”ایٹس اوکے “دعا آہستہ سے کہا
”اچھا آپ کتنے بہن بھاٸی ہیں “
”جی میں ہوں میرے ایک بھاٸی ہیں ان کی شادی ہوچکی ہے“
دعا نے سوچا سعد شاید پوچھے اس لیے اس نے خود ہی بتا دیا
”گڈ اور آپ کیا کرتی ہو “
سعد نے اب دعا کے بارے میں پوچھا
”جی میں اسکول ٹیچر ہوں “
دعا نظرے جھکا کر ادب سے سعد کے ہر سوال کا جواب دے رہی تھی
ذایان اس مومی گڑیا کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا
اتنے میں ویٹر آٸسکریم لے کر آگیا
ویٹر آٸسکریم لے کر آیا تو تین آٸسکریم دیکھ کر علیزے کو صدمہ ہوا
”میری آٸسکریم کہا ہے“
سب اپنی اپنی آٸسکریم لے چکے تھے علیزے رہ گٸ تھی
”ابھی تو کھا کر بیٹھی ہو تم آٸسکریم “
ذایان نے کہا
”تھوڑی سی کھاٸی تھی سعد نے کھالی تھی میری آٸسکریم تو “
علیزے نے جلدی سے کہا
”جھوٹی دو باٸٹ کی آٸسکریم تھی اس میں اور میں کھا گیا تمھاری آٸسکریم “
سعد نے علیزے کو گھورتے ہوۓ کہا
”مجھے نہیں پتا میں ایک اور آٸسکریم کھاٶں گی “
”موٹی ہورہی ہو دن بہ دن تم مجھے موٹی لڑکیاں نہیں پسند نہیں ملے گی تمھیں اب آٸسکریم “
سعد بڑے مزے سے آٸسکریم کھاتے ہوۓ بولا
”دعا آپی دیکھیں میں موٹی ہورہی ہوں کیا“ علیزے نے دعا کی طرف رخ کرکے پوچھا
”نہیں تم تو بلکل موٹی نہیں ہو “
دعا نے مسکراتے ہوۓ کہا
”سعد مجھے بھی کھانی ہے نہ آٸسکریم“
علیزے نے اب سعد کو تنگ کرنا شروع کیا
”اچھا بابا یہ لو کھاٶ میں اپنی جان کو چھوڑ کر کھا سکتا ہوں کیا آٸسکریم“
سعد نے محبت سے اپنے ہاتھ سے علیزے کو آٸسکریم کھلاٸی
علیزے سعد کی اتنی محبت پر خوش ہوگٸ
تھی اور سعد کے ہاتھ سے بڑے مزے سے آٸسکریم کھارہی تھی
دعا حیرت سے ان کو دیکھ رہی تھی انھیں آس پاس کے لوگوں کی کوٸی پروا نہیں تھی
”دعا ان کو چھوڑو یہ ایسے ہی ہیں تم آٸسکریم کھاٶ“
ذایان نے دعا کا دھیان آٸسکریم کی طرف کیا
جی دعا نظریں جھکا کر آٸسکریم کھانے لگی
”تو دعا ہماری طرف سے آپ رشتہ پکا سمجھیں آپ جب کہو گی ہم رشتہ لے کر آجاٸیں گے “
سعد آٸسکریم کھا چکا تھا اب اس کو یاد آیا تھا وہ اپنے بھاٸی کے لیے یہاں آیا تھا دعا نے شرما کر سر جھکا لیا تھا
”واٶ مطلب میں اب ان کو بھابی کہہ سکتی ہوں “دعا نے خوشی سے کہا
”یہ تم دعا سے پوچھو کیا وہ راضی ہے میری زندگی میں شامل ہونے کے لیے “
ذایان نے جواب علیزے کو دیا لیکن نظریں اس کی دعا پر تھی
”میں امی سے بات کرکے جواب دوں گی“
دعا نے آہستہ سے کہا
”دعا جیسے آپ کی مرضی لیکن میرے بھاٸی کا دل نہیں توڑنا بس “
سعد کو اپنے شیطان بھاٸی کا خیال آیا
”جی اب میں چلتی ہوں“
دعا نے کھڑے ہوتے ہوۓ کہا
”چلو میں چھوڑ دوں باٸیک پر“
ذایان نے آفر کی
”نہیں میں چلی جاؤں گی شکریہ “
”اچھا دروازے تک چھوڑ آتا ہوں“
ذایان کو پتا تھا دعا کبھی اس کے ساتھ نہیں جاۓ گی اس لیے اس نے دوبارہ نہیں
جی دعا سب کو خدا حافظ کہتی ذایان کے ساتھ چلدی
”اہم اہم“
سعد نے علیزے کا دھیان اپنی طرف کیا
”کیا ہے“
علیزے کو اب یاد آیا تھا کہ وہ تو سعد سے ناراض تھی
”دن ہے تمھیں نظر نہیں آ رہا“
سعد نے مسکراہٹ دبا کر جواب دیا
”سب نظر آرہا ہے مجھے آپ کو نظر نہیں آرہا میں آپ سے ناراض ہوں“
علیزے نے منہ پھلا کر کہا
”زبان کچھ زیادہ نہیں چل رہی ہے تمھاری“ سعد نے سنجیدہ لہجے میں کہا
اتنے میں ذایان آگیا
”بھاٸی آپ مجھے بتائيں گے آپ کو کیسےپتا چلا ہماری اس ملاقات کا“
ذایان نے کرسی پر بیٹھتے ہوۓ کہا
”کل رات کو میں علیزے کو لینے مما کے روم میں گیا تو معلوم ہوا وہ تمھارے روم میں ہے تو میں روم کے قریب پہنچا ہی تھا کہ تمھاری آواز آٸی تم اپنی لوسٹوری سنا رہے تھے تو میں نے بھی سن لی “
ذایان سمجھ رہا تھا سعد کو صرف ملنے کا معلوم ہے لیکن سعد کو تو پوری کہانی معلوم تھی
”بھاٸی پلیز مما کو کچھ نہیں بتانا“
ذایان نے التجا کی
”نہیں بتا رہا یار پریشان نہیں ہو تم بس آج کے بعد مجھ سے کچھ نہیں چھپانا “
سعد نے تنبیہ کی
”اوکے بھاٸی نہیں چھپاٶں گا “
”اب تم گھر جاؤ مما پریشان ہورہی ہوں گی اپنی بھابی بیگم کو یہی چھوڑ دو میں لے آٶں گا “
سعد نے مسکراتے ہوۓ کہا
”نہیں ذایان بھاٸی میں آپ کے ساتھ ہی گھر جاؤں گی یہ مجھے ڈانٹے گے میں ان سے پوچھے بغیر آپ کے ساتھ جو آگٸ“
علیزے نے ڈرتے ذرتے کہا
”تم نے مجھے سچ کا جن سمجھا ہوا ہے کیا نہیں ڈانٹ رہا میں تمھیں اب چلو میرے ساتھ“ سعد نے علیزے کی کلاٸی اپنے ہاتھ میں لی اور دروازے کی طرف چلدیا ذایان بھی پیچھے پیچھے تھا
باہر آ کر ذایان گھر کی طرف نکل گیا سعد علیزے کو لے کر دوسرے راستے پر نکل گیا
