Rishte Mohabat Ke by Misbah Khalid NovelR50485 Rishte Mohabat Ke Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Rishte Mohabat Ke Episode 13
Rishte Mohabat Ke by Misbah Khalid
”اچھا چل اداس نہ ہو میرے بھاٸی ٹھیک ہوجاۓ گی وہ “
ذایان نے دلاسہ دیا انیک دیا
اتنے میں ڈور بیل بجی
میں دیکھتا ہوں انیک اٹھ کر کھڑا ہوگیا
دروازہ کھولتے ہی سامنے کھڑے وجود کو دیکھ کر انیک کی آنکھوں میں غصہ اتر آیا
جبکہ سامنے والی شخصیت کی آنکھوں میں چمک تھی یہ چمک انیک کو اور زیادہ غصہ دلا گٸ تھی
”آپ کو اپنے گھر میں چین نہیں ہے جب دیکھو منہ اٹھاۓ چلیں آتی ہیں ہمارے گھر کوٸی تمیز ہے بھی یا نہیں بس منہ اٹھاتی ہیں اور چلی جاتی ہیں کوٸی بندہ پریشان ہے کوٸی مسلٸہ ہے بس آپ کو کیا“
انیک کے الفاظ ردا کے دل کو چھلنی کر گۓ تھے اور ردا کی برداشت یہی ختم ہوٸی تھی
”آپ سمجھتے کیا ہیں اپنے آپ کو ہاں میں یہاں آپ سے ملنے نہیں اپنی دوست سے ملنے آٸی ہوں جو اس وقت بیمار ہے سمجھے آپ“
ردا نے سختی سے کہا
”بیمار دوست سے ملنے آٸی ہو بہانہ ملنا چاہیے بس تمھیں ہمارے گھر آنے کا ہم آتے ہیں تمھارے گھر جو منہ اٹھاکے آجاتی ہو ہمارے گھر“ انیک نے تپ کر کہا
”یہ آپ میرے منہ کے پیچھے کیوں لگ گۓ ہیں آپ منہ گھر چھوڑ کر دھڑ ساتھ لے کر جاتے ہیں کیا “ردا غصے میں پھنکاری
”یہ تم کیوں ہنس رہے ہو اور شور کیسا ہے یہ“ ذایان انیک اور ردا کی لڑائی کے مزے لے رہا تھا سعد نے آکر اس کے مزے میں خلل ڈالا
”وہ بھاٸی دروازے پر پتا نہیں کون آیا ہے انیک اس سے لڑ رہا ہے“
ذایان نے مسکراہٹ چھپاتے ہوۓ کہا
”تو تم سے یہ نہیں ہورہا اٹھ کر دیکھ لو یہاں بیٹھے مزے لے رہے ہو “
سعد نے ذایان کو آنکھیں دیکھاتے ہوۓ کہا
”یار بھاٸی اتنے دنوں بعد تو لڑائی سنی ہےکسی کی یقین کریں کانوں کو سکون مل رہا ہے بہت“ ذایان نے آہ بھرتے ہوۓ کہا
”ذایان تم کب بڑے ہوگے “
سعد ذایان کو صلواتیں سناتا دروازے کی طرف چل دیا
”انیک تم نے کس کے خلاف موہاز کھڑا کیا ہوا ہے “
سعد کی آواز سنتے ہی ردا انیک کو دھکا دیتی آگے آگٸ
”بھاٸی اچھا ہوا آپ آگۓ یہ مجھے اندر نہیں آنے دے رہے تھے کب سے لڑرہے ہیںمجھ سے“
ردا نے آنکھوں سے آنسو جھلکاتے ہوۓ اپنی بات پوری کی
انیک یہ کیا بدتمیزی مہمانوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں“
سعد نے انیک کو ڈانٹا
”مہمان روز روز آٸیں تو وہ زحمت بن جاتے ہیں“ انیک بول نہ سکا سوچ کے رہ گیا
سعد ردا کو اپنے ساتھ اندر لے گیا
”ارے پرنسس آٸی ہے ہماری لیکن یہ تمھاری آنکھیں دریا کیوں بنی ہوٸی ہیں “
ردا کے رونے پر ذایان نے چوٹ کی
”وہ آپ کے کھڑوس بھاٸی مجھے اندر نہیں آنے دے رہے تھے“
ردا نے سوں سوں کرتے ہوۓ کہا
اور تمھارے یہ مسخرے بھاٸی تمھاری مدد کرنے کے بجائے تمھاری اور انیک کی لڑائی کے مزے لے رہے تھے “
سعد نے ذایان کو بھی شرمندہ کرنا چاہا
”سوری پرنسس مجھے نہیں معلوم تھا تم ہو گیٹ پر ورنہ میں آجاتا “
ذایان نے دانت دیکھاتے ہوۓ کہا
”ذایان تم کب بڑے ہوگے“
سعد نے بےزاری سے کہا
”جب میں چاچو بن جاؤں گا “
ذایان نے بڑے مزے سے انگڑاٸی لیتے ہوۓ کہا
ذایان کی بات پر ردا روتے روتے ہنس دی
”ذایان بھاٸی آپ کتنے فنی ہیں“
ردا نے قہقہ لگایا
”یس آٸی ایم “
ذایان نے کالر پکڑ کر اترا کر کہا
سعد نے داٸیں باٸیں گردن ہلاٸی اور علیزے کو اٹھانے روم میں چلا گیا
اس بیچ انیک اپنے کمرے میں چلا گیا تھا
”تم اٹھ گٸیں میں تمھیں ہی اٹھانے آرہا تھا تمھاری دوست آٸی ہوٸی ہے“
سعد نے بیڈ کے قریب کھڑے ہوۓ ہی کہا
” علیزے اپنے دونوں ہاتھ سعد کے گلے میں ڈالے اور سعد کے ماتھے پر بوسہ دیا تھینک یو میرا اتنا خیال رکھنے کے لیے “
”میری جان یہ میرا فرض ہے تمھارا بھی شکریہ میری زندگی میں آنے کے لیے“
سعد نے بھی علیزے کے ماتھے پر بوسہ دیا
جستجو تھی تجھے پانے کی
اب تمنا ہے تو صرف
تیرے ساتھ جینے کی ![]()
”مما آج کھانا زیادہ پکایا ہے نہ بھوکی آٸی ہوٸی ہے ہمارے گھر ایک“
سعد نے ردا چھڑا
اس وقت سب کھانا کھانے کے لیے بیٹھے تھے اور سعد نے ردا کی ٹانگ کھنیچنی شروع کی تھی
”آہ میں بھوکی نظر آتی ہوں آپ کو سعد بھاٸی
”نہیں تنگ کرو تم میری بیٹی کو سعد “کوثر بیگم نے ردا کا ساتھ دیا
”میں کہاں تنگ کررہا ہوں یہ تو خود ہی چڑ گٸ میں نے تو سچ کہا تھا“
سعد اب بھی باز نہ آیا
”علیزے سمجھا لو اپنے شوہر کو“
ردا نے علیزے کا سہارا لیا
”نہیں تنگ کریں نہ سعد “
علیزے نے اپنی دوست کا ساتھ دیا
”یار میں کہاں تنگ کررہا ہوں جاؤ میں بولتا ہی نہیں“ سعد مصنوعی ناراضگی دیکھاٸی
سب مسکراکر کھانے میں لگ گے
انیک برا سا منہ بنا کر رہ گیا
ّ”پرنسس تمھاری ایج کیا ہے“
ذایان کو سب کا خاموش بیٹھنا اچھا نہیں لگا
”میں 17 سال کی ہوں بھاٸی“
ردا نے جواب دیا
”ہمم ہمارا انیک22 کا ہے کچھ تو ہو ہی جاۓ گا“ ذایان نے پرسوچ انداز میں کہا
”کیا ہوجاۓ گا کیا چل رہا ہے تمھارے دماغ میں“ انیک نے غصے سے کہا
”کچھ نہیں یار تمھاری دوستی کے بارے میں کہہ رہا ہوں دوستی ہوسکتی ہے تم دونوں کی“ ذایان نے بڑے آرام سے جواب دیا
ذایان کی بات پر تو ردا کھل اٹھی لیکن انیک کی بات سن کر منہ بنا گٸ
”میں اور اس چڑیل سے دوستی کروں ایسا ہو ہی نہیں سکتا “
”ہاں تو مجھے کوٸی شوق نہیں آپ جیسے کھڑوس اور بدتمیز سے دوستی کرنے کا “
ذایان ان دونوں کی لڑائی کروا کر اب بڑے مزے سے صوفے پر ٹانگے پھیلا کر ان کی لڑائی انجواۓ کررہا تھا
کوثر بیگم کا دل چاہا ایک تھپڑ لگاۓ ذایان کو
سعد خشمگین نگاہوں سے ذایان کو گھور رہا تھا
علیزے مسکراہٹ دباۓ بیٹھی تھی
”میں بدتمیز اپنے بارے میں کیا خیال ہے تمھارا زبان دراز لڑکی “
انیک نےلڑاکا عورتوں کی طرح کہا
”میں نے کس سے زبان درازی کی“
ردا نے جل کر کہا
”مجھ سے مجھ سے زبان درازی کی تم نے “
”اوہو آپ بڑے میرے ابو لگے ہیں جو آپ کی بدتمیزیوں کا جواب نہ دوں میں “
ردا انیک پر بھاری پڑ رہی تھی
”افففف بھاڑ میں جاؤ تم“
انیک نے اپنی مٹھیاں بھینچی اور کمرے میں چلا گیا
”ہنہہ“ ردا بھی منہ بنا کر بیٹھ گٸ
”ذایان دل چاہتا ہے تمھارا سر پھوڑ دوں میں جس میں خرافاتی منصوبے بنتے ہیں “
سعد نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہا
”ردا گڑیا چلو گھر چھوڑ دوں تمھیں کافی دیر ہوگٸ ہے “
سعد نے اٹھتے ہوۓ کہا
”اوکے بھاٸی چلیں“
ردا ذایان کی ڈانٹ پڑنے پر مسکراتی ہوٸی سب سے مل کر چلی گٸ
”سعد بھاٸی ذایان بھاٸی سچ میں آپ کے گھر کی رونق ہیں وہ نہ ہو تو گھر میں ہنسے بھی نہیں کوٸی“
ردا نے ڈراٸیو کرتے سعد سے کہا
”ہاں سہی کہہ رہی ہو رونق ہے وہ ہمارے گھر کی بس شرارتی بہت ہے “
سعد نے مسکراتے ہوۓ کہا
”دعا بھابی آٸیں گی نہ سیدھا کردے گی ان کو “
”ارے وہ بیچاری تو بہت سیدھی سادھی لڑکی ہے اس پہاڑ کو قابو کرنا اس معصوم کے بس میں نہیں اس کے بچے سدھاریں گے اس کو“ سعد نے ذایان کے بچوں کا بھی سوچ لیا
ردا کھلکھلا کر ہنس دی
”کہاں گٸیں تھیں بیٹا تم ہم کب سے ویٹ کررہے ہیں تمھارا“
آٸلہ بیگم (ردا کی والدہ) نے ردا کو گھر داخل ہوتے دیکھا تو پوچھا
”میں اپنی فرینڈ کے گھر گٸ تھی موم“
ردا نے صوفے پر بیٹھتے ہوۓ کہا
”ایسی کونسی فرینڈ بنالی تم نے جو اس کے گھر جاکر تم اپنے گھر کو بھول جاتی ہو“
آٸلہ بیگم نے ردا کے پاس بیٹھتے ہوۓ کہا
”اپنے گھر یاد رکھوں کیوں میں یہاں پروا کس کو ہے میری“
ردا نے طنز کیا
”میری جان ایسی باتیں کیوں کرتی ہو تم ہم تمھارے ساتھ ہو یا نہیں لیکن ہم کبھی تمھیں بھولتے نہیں ہم تم سے بہت پیار کرتے ہیں بیٹا بس کام کی وجہ سے تمھیں ٹاٸم نہیں دے پاتے“
آٸلہ بیگم نے ردا کو خود سے لگاتے ہوۓ کہا
”تو چھوڑ دیں نہ ایسا کام جو اپنوں کو دور کردیں مجھے کچھ نہیں چاہیے موم مجھے بس آپ کی اور ڈیڈ کی ضرورت ہے بس“
ردا روہانسی ہوگٸ تھی
”بس بیٹا کچھ دن اور انتظار کرلو لاسٹ پروجیکٹ ہے کچھ مہینوں میں کمپلیٹ ہوجاۓ گا وہ ہوجاۓ پھر ہمارا سارا ٹاٸم تمھارا“
آٸلہ بیگم نے ردا کو خوشی کی نوید سناٸی
”سچی موم“
ردا خوشی کے مارے آٸلہ بیگم کے گلے لگ گٸ
”میری پیاری بیٹی“
آٸلہ بیگم نے ردا کو اپنی ممتا کے آغوش میں لے لیا
”اب مجھے اپنی فرینڈ کے بارے میں بتاٶ کون ہے وہ اس کے گھر والے برا تو نہیں مانتے تم جاتی ہو تو“
آٸلہ بیگم نے ردا کے مطلب کی بات کی
اب ردا شروع ہوچکی تھی اپنی دوست اور اس کے گھر والوں کے بارے میں بتانا
آٸلہ بیگم اپنی لاڈلی بیٹی کو خوش دیکھ کر بہت خوش تھی اور علیزے اور اس کی فیملی کے بارے میں جان کر مطمعن بھی تھیں کہ انکی بیٹی کو اچھے لوگوں کی صحبت ملی ہے
ذایان بہت تھکا ہوا تھا اس کی نیند بھی پوری نہیں ہوٸی تھی کل رات کو وہ روم میں آتے ہی سوگیا تھا دعا سے بات کرنا بھی یاد نہیں رہا اس کو
دعا بیچاری میسیچ کرتی رہی لیکن جب ذایان کا رپلاۓ نہیں آیا تو وہ بھی سوگٸ
سعد علیزے آج بھی کوثر بیگم کے کمرے میں سورہے تھے اور کوثر بیگم ذایان کے کمرے میں
انیک ردا کو چڑیل بندریا جنگلی بلی جیسے لقب سے نوازتا اپنے پیپر کی تیاری کرکے سوگیا تھا
”مجھے علیزے کو سعد سے دور کرنا ہے لیکن میں نے آج ہی دیکھا وہ تو بڑے مزے سے اس کے ساتھ شوپینگ کررہی تھی وہ بھی سہی سلامت مجھے تو یقین نہیں ہورہا چڑیا سی دل رکھنے والی لڑکی کے ساتھ اتنا سب کچھ ہوگیا اس ہارٹ اٹیک کیوں نہیں آیا “
”ٹھیک ہے میں اس لڑکی کو اس لڑکے سے دور کردوں گا تم مجھے اس لڑکے کی کوٸی تصویر دو“
”ہاں بابا کیوں نہیں میں کل لادوں گی میرے موبائل میں ہے اس کی تصویر کل پرینٹ کروا کر لادوں گی لیکن میرے سعد کو کچھ نہیں ہونا چاہیے“
”بے فکر رہ لڑکے کو کچھ نہیں ہوگا اب توں جا یہاں سے کام کرنے دے مجھے “
”مجھے کونسا شوق ہے یہاں روکنے کا جا ہی رہی ہوں“
صبح ہوتے ہی کوثر بیگم کے گھر کی رونقیں اپنے اپنے کام پر نکل گٸیں تھی لیکن علیزے ابھی گھر میں ہی تھی اس کے ساتھ وقفے وقفے سے جو واقعات پیش آرہے تھے سعد نے فلحال اسے گھر رکھنا ہی بہتر سمجھا
”علیزے بیٹا تم تھوڑی دیر گھر میں رہ لو گی میں بس آٹا لے کر آرہی ہوں ختم ہوگیا ہے لڑکوں سے منگوانا بھول گٸ میں“
کوثر بیگم نے علیزے سے کہا جو کچن میں برتن دھو رہی تھی
”نہیں نہیں مما پلیز مجھے اکیلا چھوڑ کر مت جایے گا مجھے ڈر لگتا ہے “
علیزے رونے کو تیار تھی
”اچھا اچھا تم رونا نہیں میں نہیں جارہی کہیں تمھارے پاس ہوں میں “
کوثر بیگم نے علیزے کو پیار سے خود کے ساتھ لگایا
” ذایان کو کیا ہوگیا ہے بات کیوں نہیں کررہے مجھ سے کہی ناراض تو نہیں لیکن وہ تو مجھ سے کبھی ناراض نہیں ہوتے مصروف ہونگے ضرور“
دعا خود سے ہی سوال جواب کررہی تھی
انیک کے پیپر چل رہے تھے وہ جلدی گھر آگیا تھا
”ہیلو گڑیا آج تو دورہ نہیں پڑا تمھیں “
انیک فریش ہوکر روم سے نکلا تھا
علیزے کو صوفے پر بیٹھے دیکھا تو چھیڑے بنا نہ رہ سکا
”مجھے کوٸی دورے نہیں پڑتے سمجھے آپ“ علیزے نے معصوم سا جوابدیا
”اوہو دورے نہیں پڑتے تو کیا پاگل پن کے جھٹکے لگتے ہیں“
انیک علیزے کے سر پر آکر کھڑا ہوا
”آپ مجھے پاگل کہہ رہے ہیں“
علیزے نے صوفے پر کھڑے ہوتے انیک کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا
”ہاں تو پاگل کو پاگل نہیں تو سمجھدار کہوں گا“
انیک نے دل چلا دینے والی مسکراہٹ کے ساتھ کہا اور علیزے سے دوقدم پیچھے ہوا
”انیک بھااااٸی میں آپ کو چھوڑوں گی نہیں“ علیزے چلاتے ہوۓ انیک کی طرف بھاگی اس سے پہلے انیک آگے بھاگ لیا
”روکیں میں آپ کو چھوڑوں گی نہیں آپ نے مجھے پاگل کہا“
علیزے انیک کے پیچھے تھی دونوں کی آوازیں پوریں گھر میں سنائی دیں رہیں تھیں
کوثر بیگم تو خاموشی سے اپنے کام میں لگی رہیں گھر کے اس شور کو وہ بھی بہت مس کررہی تھیں
”لو میں لے آٸی سعد کی تصویر لیکن خبر دار اس کو کوٸی نقصان پہنچایا تو“
” نہیں پہنچے گا اس کو نقصان تم میری رقم تیار رکھو بس“
”ہاں یہ لو آدھی رقم ابھی لو آدھی کام ہونے کے بعد “
اس لڑکی نے پیسے اس بابا کے ہاتھ میں تھماۓ
”ہمم ٹھیک ہے لڑکی ہوجاۓ گا تیرا کام “
”ہممم ٹھیک ہے“
وہ اپنا پرس سنبھالتی وہاں سے نکل آٸی
”سب آجاٶ کھانا تیار ہے“
کوثر بیگم نے سب کو آواز لگاٸی
”آرہے ہیں“
سب نے ایک ساتھ آواز لگاٸی
سب نے خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا
انیک تھوڑی باتوں کے بعد اپنی پیپر کی تیاری کرنے چلا گیا تھا
”ذایان “
”جی بھاٸی“
ذایان اپنی گڑیا کے ساتھ لوٹو کھیلنے میں مصروف تھا
”مولوی صاحب کے پاس جاؤ ان سے پوچھ کر آٶ ان کے دوست کب تک آۓ گے “
”بھاٸی گیم ختم ہوجاۓ پھر جاتا ہوں“
ذایان نے گوٹے چلاتے ہوۓ کہا
”ذایااااان ابھی اسی وقت جاؤ“
سعد نے سختی سے کہا
”افغف جارہا ہوں آپ میرے بدلے کھیلیں“
ذایان نے سعد کو کندھوں سے پکڑ کر اپنی جگہ پر بیٹھایا
”یار کیا ہے تمھیں پتا ہے نہ میں نہیں کھیلتا یہ بکواس کھیل “
سعد نے منہ بنایا
”آپ ڈرتے ہیں کیا مجھ سےہارنے سے “
علیزے نے سعد کو کھیلنے پر مجبور کردیا
”اوہ تو بیگم صاحبہ یہ بات ہے چلیں آٸیں دیکھاتا ہوں آپ کو میں کتنا ڈرتا ہوں“
سعد نے دلچسپی سے اپنی چھوٹی سی بیوی کو نظروں کے حصار میں لیتے ہوۓ کہا
علیزے شرم سے نظریں جھکا گٸ
”اب شرماتی رہو گی کھیلو گی نہیں “
سعد نے علیزے کا ہاتھ پکڑ کے کہا
”آپ اپنی چھچور پاٸی بند کریں“
علیزے نے سعد کے ہاتھ پکڑنے کو چھیچور پاٸی کا نام دے دیا
”ابھی چھیچور پاٸی کی کہاں ہے میں نے“
سعد نے علیزے کو ایک ہی جھٹکا دیا وہ سعد کے سینے سے آگے لگی
ان دونوں کے بیچ میں رکھے لوڈو کی کمر ٹوٹ گٸی تھی علیزے آدھی لوڈو پر تھی تو آدھی سعد کی گود میں دونوں کی نظریں ملیں تھیں اور پھر وہی ٹھیر گٸیں تھی دونوں ایک دوسرے میں کھو گۓ تھے
چاۓ پینے کے ارادے سے کمرے سے نکلنے والے انیک نے چپکے سے یہ منظراپنے موبائل میں قید کیا تھا اب وہ ان دونوں کی درگت بنوانے کے ارادے سے کوثر بیگم کے پاس آیا تھا اور ان کو کھینچ کے کمرے سے باہر لے آیا تھا
کوثر بیگم کی آنکھیں اور منہ ان دونوں کو دیکھ کر کھلا کا کھلا رہ گیا تھا
”تم دونوں کو کوٸی شرم حیا ہے کہ نہیں“
کوثر بیگم کی غصے سے بھری آواز دونوں کی سماعتوں سے ٹکراٸی تو دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوۓ
”میں آٸی“
علیزے تو اٹھ کر اپنے کمرے میں بھاگ آٸی
”وہ بچی ہے تم تو شرم کرلو اس گھر میں تمھارے دو جوان بھاٸی بھی ہیں ان پر کیا اثر پڑے گا“
”ان شیطانوں پر کوٸی اثر نہیں پڑھنے والا مجھ سے دوہاتھ آگے نکلے گے یہ“
سعد بھی آخر ذایان انیک کا بڑا بھاٸی تھا شرمندہ کیسے ہوجاتا
”کیا کروں میں تم تینوں کا ایک سے بڑھ کر ایک ہو تم“
کوثر بیگم صلواتیں سناتی ذایان کے کمرے میں چلیں گٸیں
جو علیزے کے ٹھیک ہونے تک ان کا ٹھکانا تھا
”یہ سب تم نے کیا نا “
سعد نے انیک کی طرف قدم بڑھاتے ہوۓ کہا
”ہاں تو اپنے کمرے کے بجائے لاٶنج میں بیٹھ کر یہ سب کرو گے تو یہ ہی ہوگا نہ“
انیک لاپرواٸی سے کہتا آگے بڑھا
”اکلے ہی پل انیک کی گدی سعد کے ہاتھ میں تھی کیا کہہ رہے تھے تم“
سعد نے انیک کو گدی سے پکڑے پکڑے ہی اپنی طرف موڑا
”نہیں نہیں بھاٸی میں تو بس یہ کہہ رہا تھا اچھی بات نہیں ہوتی نہ ایسے نظر بھی لگ جاتی ہے محبت کو“
انیک نے جلدی سے بیان بدلہ
”اوہ اچھا چلو چھوڑ دیتا ہوں کیا یاد کرو گے تم “
سعد نے احسان کرنے والے انداز میں کہا
انیک چھٹتے ہی اپنے روم میں بھاگا
”بھاٸی مولوی صاحب کہہ رہے ہیں کل آجاٸیں گے ان کے دوست ذایان خوشی کی خبر سنائی“
”شکر خدا کا اب میری علیزے ٹھیک ہوجاۓ گی “
سعد نے شکر کیا
”جی بھاٸی میری گڑیا ٹھیک ہوجاۓ گی “
دونوں بھاٸی بگلگیر ہوۓ
”بھاٸی لوڈو کون جیتا“
ذایان نے سعد سے الگ ہوتے ہوۓ پوچھا
”یار تم اپنے لوڈو کو ڈاکٹر کے پاس لے جاؤ“ سعد کہہ کر روم میں چلا گیا
”ذایان نے جب صوفے پر پڑے لوڈو کو دیکھا تو اس کا منہ اتر گیا ہاۓ ظالموں نے میرے لوڈو کا کیاہکیا ہے“
ذایان نے لوڈو کی لاش اٹھا کر دکھی دل کے ساتھ ڈسٹبین میں ڈال دی خود سونے چلا گیا
کوثر بیگم کی موجودگی کی وجہ سے ذایان دعا سے بات نہیں کرسکا اور وہاں دعا پر قیامت ٹوٹ پڑی تھی دعا کے بھاٸی نے اپنی بیوی کی باتوں میں آکر دو دن بعد دعا کا سادگی سے نکاح کرنے کا فیصلہ کردیا تھا
”نہ رو میری بچی اوپر والا سب ٹھیک کرے گا“ رفعت بیگم دعا کو تسلیاں دے رہی تھیں
”امی کچھ کریں بھاٸی کو سمجھاٸیں میں اس عیاش آدمی سے شادی نہیں کروں گی“
دعا اپنی ماں کی گود میں سر رکھے رو رو کر ہلکان ہورہی تھی
”بیٹا توں ذایان سے بات کر “
رفعت بیگم نے دعا کا سر تھپتپاتے ہوۓ کہا
”امی وہ پتا نہیں کہاں مصروف ہیں میرے میسیج کالز کا رپلاۓ بھی نہیں دے رہے“
دعا نے روتے روتے کہا
”ہاۓ میری بچی توں رو نہیں میں کروں گی دوبارہ بات تیرے بھاٸی سے میں آج تک تیرے لیے کچھ نہ کرسکی لیکن اب چاہے کچھ بھی ہوجاۓ میں تیری زندگی خراب نہیں ہونے دوں گی“
رفعت بیگم نے ایک عزم سے کہا
”امی آپ کیا کریں گی“
”میری بچی توں پریشان نہیں ہو جو بھی کروں گی تیرے حق میں بہتر ہی کروں گی چل اب سوجا رات بہت ہوگٸ ہے “
دونوں ماں بیٹیاں اپنے اپنے دکھ سے پیچھا چھڑاتی سوگٸیں
ذایان صبح اٹھا تو دعا کے کافی سارے میسیج آۓ ہوۓ تھے
سب میں یہ ہی تھا
” ذایان آپ ٹھیک ہیں مجھے آپ کی فکر ہورہی ہے پلیز مجھے جواب دیں“
ذایان کے چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ آٸی تھی
”میری زندگی لو یوں “
”زندگی تم پریشان نہیں ہو میں بلکل ٹھیک ہوں بس گھر میں تھوڑی پرابلم ہے اسی لیے تم سے بات نہیں کر پارہا جیسے ہی موقع ملے گا میں خود میسیج کردوں گا اور سوری میں نے تمھیں پریشان کردیا“
ذایان نے میسیج سینڈ کردیا
اٹھ کر واشروم میں چلا گیا
”سعد کہاں لے جارہے ہیں مجھے “
سعد علیزے کا ہاتھ پکڑ کر ایک گھنے جنگل میں چلیں جارہا تھا اور اس کے ساتھ علیزے بھی کھیچتی چلی جارہی تھی
”سعد بتائيں نہ ہم کہاں جارہے ہیں“
علیزے نے دوبارہ پوچھا
لیکن سعد نے ابھی بھی کوٸی جواب نہیں دیا
”سعد مجھے درد ہورہا ہے پلیز میرا ہاتھ چھوڑیں“
”سعد آہستہ چلیں میں گر چاٶں گی“
علیزے کی آواز تو سعد کو سناٸی ہی نہیں دے رہی تھی
وہ بس پاگلوں کی طرح خاردارے پتھریلے جنگل سے علیزے کو کھینچتا ہوا لے جارہا تھاآہ علیزے کے پاٶں پر نوکیلا پتھر لگا اور خون علیزے کے پیر کو بھیگونے لگا
علیزے وہی بیٹھ کر رونے لگی
