Rishte Mohabat Ke by Misbah Khalid NovelR50485 Rishte Mohabat Ke Episode 18 (Last Episode)
No Download Link
Rate this Novel
Rishte Mohabat Ke Episode 18 (Last Episode)
Rishte Mohabat Ke by Misbah Khalid
”علیزے کا چہرا سرخ ہوگیا سعد محبت بھری نظروں سے علیزے کا عکس آٸنینے میں دیکھ رہا تھا
”ایکسکیوزمی کوٸی میری بھی ہیلپ کرے گا“ ذایان ہمیشہ کی طرح اجازت لیے بغیر روم میں گھس آیا تھا
”بے غیرت ہی رہو گے تم ہمیشہ “
سعد نے علیزے سے دور ہوتے ہوۓ کہا
”بھاٸی آپ کا رومینس ہر وقت چل رہا ہوتا ہے آپ کو اس وقت میرے پاس ہونا چاہیے تھا اور آپ یہاں رومینس جھاڑ رہے ہیں “
ذایان ہاتھ میں چوڑی دار پاجامہ لیے کھڑا تھا جو اسکو پہننا نہیں آرہا تھا ذایان ویسا ہی چڑا بیٹھا تھا
”تمھاری دلہن آنے دو پھر تمھیں اندازہ ہوگا میرے جذبات کا ہر وقت میرا رومینس خراب کرنے ٹپک پڑتے ہو بدتمیز انسان چلو تمھیں پاجامہ پہناٶں “
سعد نے خفگی سے کہا
”پہن میں خود لوں گا بس مجھے بتا دو اس مصیبت کو پہنوں کیسے “
ذایان نے دانت پیس کر کہا
”اچھا چلو بتاتا ہوں“
سعد نے ذایان کی حالت کا مزا لیتے ہوۓ کہا
”ہاں ہنس لو آپ میری حالت دیکھ کر آپ کے بچے ہوں گے نہ ان کو رلا کر خوب ہنسا کروں گا میں“
ذایان نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا
آپ دونوں اپنی فالتوں بکواس یہاں سے باہر جاکر کرےگے مجھے تیار ہونا ہے“
علیزے نے تپے تپے انداز میں کہا دونوں فوراً روم سے باہر نکلے تھے
ذایان چوڑی دار پاجامہ اور بلیک شیروانی میں سب لڑکیوں کے دل میں ہلچل مچا گیا تھا وہ بہت حسین لگ رہا تھا
دعا سرخ رنگ کے لہنگے میں اپنا حسن بکھیرتی ذایان کے دل میں اتر رہی تھی ذایان کا اس سے نظریں ہٹانا مشکل ہورہا تھا نکاح ہوچکا تھا اب وہ اس کے برابر میں اس کی شریکِ حیات کے طور پر بیٹھی تھی
سعد تو علیزے کو خود سے دور ہونے نہیں دے رہا تھا کتنی ہی لڑکیوں نے سعد کو مجنوں کے لقب سے نوازہ تھا لیکن سعد کو کوٸی فرق نہیں پڑھ رہا تھا
علیزے نے براٶن رنگ کی بھاری کام والی میکسی زیپ تن کی ہوٸی تھی اس کے ساتھ میچینگ کی جیولری اور تھوڑا بہت میک اپ اس نازک سرانپا اس میں ہی قیامت ڈھا رہا تھا سعد اسی وجہ سے اس کے ساتھ تھا کہ کہی پھر سے وہ سب نہ ہوجاۓ جو صاٸمہ نے اس کے ساتھ کیا تھا
سعد خود بھی نیوی بلو کرتے کے ساتھ سفید شلوار پہنے جاذب نظر لگ رہا تھا
انیک اور ردا کے تو ٹھاٹ ہی نرالے تھے ان دونوں کا ایک دن پہلے نکاح ہوچکا تھا اب وہ دونوں سب سے بے نیاز بنے ایک دوسرے سے چپکے بیٹھے باتوں میں مصروف تھے ردا نے بےبی پنک کلر کی زمین کو چھوتی کامدار فراک زیپ تم کی ہوٸی ہلکی پھولکی جیولری اور میک اپ کے ساتھ وہ حسین گڑیا لگ رہی تھی
انیک نے آسمانی رنگ کا کرتا اور سفید پاجامہ پہنا تھا وہ بھی اپنے بھاٸیوں سے کم نہیں لگ رہا تھا حسنو وجاہت اس میں بھی بہت تھی
دعا کورخصت کرکے گھر لے آۓ تھے سب رسموں کے بعد دعا کو ذایان کے روم میں بٹھا دیا گیا تھا
دعا گھبراٸی شرماٸی سی باہر سے آتا شور سن رہی تھی
”ہٹو یار اندر جانے دو مجھے میری زندگی میرا انتظار کررہی ہوگی “
ذایان علیزے انیک ردا کو دروازے سے ہٹانا چاہا رہا تھا لیکن وہ دروازہ رکاٸی کی رسم کی آڑ میں ذایان کو خوب ستا رہے تھے
کوثر بیگم اور سعد ان کا تماشا دیکھ کر خوب ہنس رہے تھے
”تم کس لیے بہن کا رول ادا کررہے ہو “
ذایان نے انیک کو گھورا
”میں تو اپنی پیاری بہنوں کا ساتھ دے رہا ہوں ان معصوموں سے تم کہاں سنبھلنے والے ہو“ انیک کو خود پتا نہیں تھا وہ جلدی جلدی میں کیا کہہ گیا
”اوہ تو ردا بھی تمھاری بہن ہے “
ذایان نے انیک کی غلطی کو بڑھاوا دیا ردا کڑے تیوروں سے انیک کو گھور رہی تھی
”آٸی ایم سوری چڑیل “
انیک نے ردا کا تپا تپا چہرا دیکھ کر کہا
”بھاڑ میں جاؤ تم ڈھونڈ لو کوٸی اور اب تم “ ردا وہاں سے جاکر سعد کے پاس صوفے پر بیٹھ گٸ انیک بھی اس کے پیچھے چلا گیا
ذایان کی راہ کے دو کانٹے تو ہٹ گۓ تھے
”میری گڑیا تو مجھے تنگ نہیں کرے گی نہ“ ذایان نے علیزے کو پانی پر چڑھانا شروع کیا
”جی بلکل بھاٸی آپ دس ہزار میرے ہاتھ پر رکھ دیں“
علیزے نے اپنی ھتیلی ذایان کے آگے کی
”لو مرو“
ذایان نے جیب سے پیسے نکال کر علیزے کے ہاتھ پر رکھے
علیزے مسکراتی ہوٸی ذایان کے سامنے سے ہٹ گٸ تھی
ذایان مسکراتا ہوا روم میں چلا گیا تھا
”ہوگٸ تمھاری ڈیل چلیں سونے “
سعد نے صوفے سے اٹھتے ہوۓ کہا
”جی چلیں ردا یہ لو پانچ ہزار اب پلیز بھاٸی سے ناراض نہیں ہو یہ تو ہماری مدد ہی کر رہےتھے“
علیزے نے انیک کی مدد کی
”ٹھیک ہے تم کہتی ہو تو مان جاتی ہوں “
ردا بھی مسکراٸی
”میری تو کوٸی اہمیت ہی نہیں ہے “
انیک نے منہ بنا کر کہا
”تم اٹھو یہ گلے شکوے بعد میں کرنا پہلے ردا کو گھر چھوڑ کر آٶ رات بہت ہوگٸ ہے“
کوثر بیگم نے انیک کو حکم دیا
”جی مما جا رہا ہوں “
کوثر بیگم اپنے روم میں چلیں گٸیں
سعد اور علیزے بھی روم میں جا چکے تھے
”انیک چلیں اٹھیں مجھے چھوڑ آٸے گھر“
ردا نے گھڑے ہوتے ہوۓ کہا
”روکو چڑیل چلتے ہیں تھوڑی دیر میں “
انیک نے ردا کا ہاتھ پکڑ کر دوبارہ اپنے پہلو میں گرا لیا
”انیک کیا بد تمیزی ہے ایک بج گیا ہے“
ردا نے ہاتھ چھڑاتے ہوۓ کہا
” ارے تو کیا ہوا اپنے شوہر کے ساتھ ہی ہو تم بیٹھی رہو خاموشی سے“
انیک نے چپ کروا دیا
ردا خاموشی سے صوفے پر سر ٹکا کر بیٹھ گٸ
” اَلسَلامُ عَلَيْكُم“
ذایان نے روم میں جاتے ہی سلام کیا
”وَعَلَيْكُم السَّلَام“
دعا کی گھبراٸی گھبراٸی سی آواز نکلی
ذایان نے اپنی پگڑی ساٸیڈ ٹیبل پر رکھ دی اور خود دعا کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا
دعا ذایان کی اس حرکت پر جی جان سے کاپی
”زندگی اتنا گھبرا کیوں رہی ہو میں شوہر ہوں تمھارا“
ذایان نے دعا کے ہاتھ اپنی سینے پر رکھتے ہوۓ کہا
”آ آپ گھنوگٹ نہیں اٹھاٸیں گے کیا “
دعا نے جھیجھکتے ہوۓ کہا
ذایان کچھ بولتا دروازے پر دستک ہوٸی
”ابے یار کون آگیا روکو آتا ہوں“
ذایان نے اٹھ کر دروازہ کھولا دروازے پر کوٸی نہیں تھا لگتا ہے میرے کان بج رہے ہونگے ذایان بڑبڑاتا ہوا دوبارہ دعا کے سامنے آکر بیٹھ گیا
اور آہستہ سے اس کا گھنوگٹ اٹھایا
”تم “…..دروازے پر دوبارہ دستک ہوٸی ذایان کو پھر بات ادھوری چھوڑ کر اٹھنا پڑا
ذایان نے دروازہ کھولا تو کوٸی نہیں تھا اس نے کمرے سے نکل کر چاروں طرف کا جاٸزہ لیا تو اسے کچن سے دبی دبی ہنسی کی آواز آٸی ذایان خاموشی سے واپس روم میں آگیا
”کیا ہوا ذایان کون تھا“
دعا نے پوچھا
”زندگی خاموش ہوجاٶ جب تک میں نہ بولوں کچھ نہیں بولنا “
دعا خاموش ہوگٸ
ذایان دروازے سے لگ کر کھڑا ہو گیا جیسے دروازے پر دستک ہوٸی ذایان نے بجلی کی سپیڈ سے دروازہ کھولا اور ردا اور انیک کے بھاگنے سےپہلے ان دونوں کو پکڑ لیا
”شرم آتی ہے تم دونوں کو ایسے ہمیں تنگ کرتے ہوۓ “
ذایان نے خفگی سے کہا
”وہ وہ بھاٸی میں تو گھر جارہی تھی یہ لے کر نہیں گۓ اور اپنے اس شرارت میں مجھے بھی شامل کرلیا زبردستی “
ردا نے آدھا جھوٹ آدھا سچ بولا
”جھوٹی میرے ایک دفع کہنے پر مان گٸیں تھی تم “
انیک نے لڑکا عورتوں کی طرح کمر پر ہاتھ رکھ کر کہا
”تم دونوں کو تو میں ابھی بتاتا ہوں“
ذایاں نے دونوں کے بازوں پکڑے اور دونوں کو انیک کے کمرے میں دھکا دے کر اندر کیا اور باہر سے گیٹ لاک کردیا
”تم لوگوں کا بھی تو نکاح ہوچکا ہے تم لوگ بھی گولڈن ناٸیٹ انجواۓ کرو“
ذایان نے دروازے پر کھڑے ہوکر کہا اور ہنسنے لگا
”انیک کھولیں دروازہ کسی کو پتا چلا تو کیا سوچے گا کوٸی ہمارے بارے میں“
ردا روہانسی ہوٸی
”یار بھاٸی دروازہ کھولو اب نہیں کرے گے تنگ“ انیک نے التجا کی
”اب یہ دروازہ تو صبح ہی کھولے گا“
ذایان نے بڑے مزے سے کہا
”انیک سب آپ کی وجہ سے ہوا ہے “
ردا نے ایک مکا انیک کے کندھے پر مارا
”آہ ظالم چڑیل صبر کرو کھول جاۓ گا دروازہ مذاق کررہا ہے وہ“
انیک نے ردا کو خاموش کروایا
سعد کے کہنے پر علیزے نے آج وہ ناٸیٹی پہنی تھی اب وہ شرماٸی گھبراٸی اس کے سامنے کھڑی تھی خود کو اپنے ہاتھوں سے چھپانے کی کوشش کر رہی تھی
سعد نے آگے بڑھ کر علیزے کو بانہوں میں بھرا اور اس بیڈ پر لیٹا کر خود اس کے لبوں پر جھک گیا
سعد کو باہر سے شور کی آواز آٸی تو وہ سیدھا ہوا
”یہ کیسا شور ہے“
سعد بڑبڑایا
”سعد دیکھیں نہ جاکر کیا ہوا ہے“
علیزے نے پریشانی سے کہا
”اچھا میں دیکھتا ہوں تم یہی رہنا “
سعد نے باہر آکر دیکھا تو ذایان انیک کے کمرے کے باہر کھڑا تھا اندر سے ردا اور انیک کی آواز آرہی تھی جو دروازہ کھولنے کی کہہ رہے تھے ذایان بے نیاز بنا کمرے کے دروازے کی چوکیداری کررہا تھا
”ذایان یہاں کیا کررہے ہو تم تمھیں اس وقت اپنے کمرے میں ہونا چاہیے“
سعد نے ذایان کو ڈانٹا
”یار بھاٸی میں بچارہ عزت سے اپنے کمرے میں چلا گیا تھا آج میں نے کسی کو تنگ بھی نہیں کیا تھا لیکن پرنسیس اور انیک کو عزت راز نہیں ہے دونوں آکر بار بار کمرے کے باہر دستک دے رہے تھے جب میں دروازہ کھولتا دونوں غاٸب ہوجاتے اس لیے میں نے ان دونوں کو کمرے میں بند کردیا “
ذایان نے کسی معصوم بچے کی طرح سعد کو ایک ایک بات بتادی
”اففف کیا کروں میں تم لوگوں کا شادیاں ہوگٸ ہیں لیکن بچپنہ نہیں گیا تم لوگوں کا“ سعد نے غصے میں کہا
”دفع ہو تم اپنے کمرے میں دیکھتا ہوں میں ان دونوں کو “
”اوکے بھاٸی“
ذایان اپنے روم میں چلا گیا
سعد نے دروازہ کھولا تو انیک اور ردا باہر آگۓ
”تم دونوں کے پاس پانچ منٹ ہیں دونوں اپنی شکل گھوم کرو ورنہ میں بھی وہ ہی کروں گا جو ذایان نے کیا “
”جی بھاٸی چلو ردا گھر چھوڑ کر آٶں تمیں“ انیک نے جلدی سے ردا کی کلاٸی پکڑی اور مینگیٹ کی طرف چلدیا
سعد نے سکون بھری سانس خارج کی اور اپنے روم کی طرف چلدیا
”آٸی ایم سوری زندگی وہ دونوں تنگ کررہے تھے اس لیے انھیں سزا دینے گیا تھا “
ذایان نے معصومیت سے کہا
”کوٸی بات نہیں“
دعا نے دھیمے سے کہا
”ویسے مجھے شبہ ہورہا ہے تم میری زندگی ہی ہو نا یا آسمان سے آٸی کوٸی پری“
ذایان نے پرسوچ انداز میں کہا
دعا نے پلکے اٹھا کر ذایان کو دیکھا ذایان کی محبت بھری نظروں کی تاب نہ لاتے ہوۓ دعا اپنی پلکے دوبارہ جھکا گٸ
ذایان نے محبت سے دعا کے ہاتھ تھامے اور چوڑیاں اتارنے لگا
”میں کرلوں گی“
دعا نے ہاتھ چھڑاتے ہوۓ کہا
”نہیں میں کروں گا“
ذایان نے دعا کا ہاتھ تھامتے ہوۓ کہا
ذایان محبت سے اس کی جیولری اتارتا رہا دعا حیا کا دامن سنبھالے خاموشی سے بیٹھی رہی
ذایان نے آخر میں دعا کا دوپٹہ پینوں سے آزاد کیا اور بیڈ پر ایک طرف رکھ دیا پھر دعا کے بال کھولے
”اجازت ہے“
ذایان نے دعا کی طرف جھکتے ہوۓ کہا
دعا نے آہستہ سے اثبات میں سر ہلا دیا
ذایان مسکراتا ہوا دعا کے لبوں پر جھک گیا ذایان کا لمس محسوس ہوتے ہی دعا نے آنکھیں بند کرلیں اور خود کو ذایان کے سپرد کردیا
ذایان دل و جان سے دعا پر اپنی محبت کی بارش کرتا رہا دعا کا پور پور ذایان کی محبت میں ڈوب چکا تھا
”کیا ہوا تھا سعد باہر “
علیزے نے سعد کو کمرے داخل ہوتے دیکھ فکر سے پوچھا تھا
”کچھ نہیں ہوا تمھارے بھاٸیوں کا بچپنہ ختم نہیں ہوتا“
سعد نے دروازہ لاک کرتے ہوۓ کہا
”آپ کے بھی بھاٸی ہیں وہ“
علیزے نے سعد کو اسی کے انداز میں جواب دیا
”ہاں معلوم ہے مجھے“
سعد علیزے کے پاس آکر بیٹھ گیا
”مجھے نیند آرہی ہے سونے دیں اب“
علیزے نے آنکھیں مسلتے ہوۓ کہا
”ابھی اڑاتا ہوں تمھاری نیند “
سعد علیزے پر جھکا اور پھر اس کے چہرے گردن پر بے شمار محبت کی مہریں ثبت کی تھیں
علیزے سعد کی پناہوں میں خود کو سعد کے سپرد کرچکی تھی سعد دیوانہ وار علیزے پر جھکا اپنے دل کی سنتا علیزے کی روح تک پر اپنی محبت کا نشان چھوڑ رہا تھا
”باۓ چڑیل “
”باۓ کھڑوس“
ردا نے بھی انیک کے انداز میں اسے باۓ کہا
”اوۓ چڑیل یہاں آٶ“
انیک نے ردا کو اپنے پاس بلایا
”ہمم بولو کیا ہوا“
ردا انیک کے مقابل کھڑی تھی
”ایک منٹ“
انیک نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک خوبصورت سا گولڈ کا بریسلیٹ نکال کر ردا کے کلاٸی پر باندھ دیا
”یہ ہماری شادی کی خوشی میں میری طرف سے تحفہ “
”واٶ انیک یہ بہت خوبصورت ہے تھینک یو سو مچ “
ردا کو بریسلیٹ بہت پسند آیا تھا
”مجھے معلوم تھا میری چڑیل کو ضرور پسند آۓ گا یہ“
انیک نے مسکراتے ہوۓ کہا
”ہمم بہت اچھا ہے چلو آپ گھر جاؤ رات بہت ہوگٸ ہے “
”ہممم جارہا ہوں “
انیک نے ردا کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود کے قریب کیا
”انیک یہ کیا بدتمیزی ہے کوٸی دیکھ لے گا“
ردا نے آنکھیں دیکھاٸیں
”کوٸی نہیں دیکھ رہا “
انیک ردا پر جھکا تھا اور سانسیں بے ترتیب کرگیا تھا
”انیک آپ بہت برے ہیں“
انیک نے ردا کو چھوڑا تو اپنی سانسیں درست کرتی منہ پھولا کر بولی
”جس کی بیوی چڑیل ہو اس کا شوہر اچھا ہوسکثا ہے کیا “
انیک نے ہنستے ہوۓ کہا اور زن سے باٸیک بھاگا لے گیا
”پاگل“
ردا مسکراتی ہوٸی اپنے گھر میں چلی گٸ تھی
دعا اپنے خوبصورت کمر تک آتے گھیلے بال آٸینے کے سامنے کھڑی سوار رہی تھی اور گزری رات کے بارے میں سوچ کر خود ہی خود مسکرا رہی تھی
ذایان نہا کر نکلا تھا شرٹ سے بے نیاز اس کا گھیلا جسم وجاہت سے بھرپور تھا
دعا اپنے خیالوں میں کھوٸی تھی اس کو اپنی کمر پر کچھ محسوس ہوا تو وہ ہوش میں آٸی ذایان اسے کے پیچھے کھڑا اپنی بانہوں میں لیا ہوا تھا اسے دعا کے کندھے پر اپنا چہرا ٹکایا ہوا تھا
”ذایان چھوڑے کیا کررہے ہیں“
دعا نے شرماتے ہوۓ اپنی میٹھی آواز میں کہا
”زندگی تمھیں پاکر مجھے ایسا لگ رہا ہے میں نے اسی زندگی میں جنت دیکھ لی ہو“
ذایان نے محبت بھرےلہجے میں کہا
”ویسے تم کیسی بیوی ہو تم نے مجھ سے منہ دیکھاٸی نہیں مانگی“
ذایان نے نروٹھے پن سے کہا
”ابھی دے دیں“
دعا نے نظریں جھکا کر کہا
”ہممم دیتا ہوں “
ذایان دعا کو وہی کھڑا چھوڑ کر الماری تک آیا اور اس میں سے کچھ نکال کر دوبارہ دعا کے پیچھے آکھڑا ہوا
اس نے دعا کے گلے میں خوبصورت سا گولڈ کا لاکٹ پہنایا لاکٹ پر بہت خوبصورتی سے دعا ذایان لکھا تھا
”کیسا لگا “
ذایان نے دعا کے کان میں سرگوشی کی
” بہت خوبصورت ہے “دعا نے لاکٹ ہاتھ سے چھوتے ہوۓ کہا
ذایان نے دعا کا رخ اپنی طرف کیا
”نہیں میری جان یہ خوبصورت نہیں ہے یہ تمھاری خوبصورت گردن میں آکر خوبصوت ہوا ہے“
ذایان محبت کی مہر دعا کے ماتھے پر ثبت کی
دعا شرم سے نظریں جھکا گٸ
”سععععععععد اٹھ جاٸیں یار کتنا سوۓ گے اٹھیں “
علیزے سعد کو کتنی دیر سے اٹھانے کی کوشش کررہی تھی لیکن آج تو سعد کے اٹھنے کا کوٸی موڈ نہیں تھا علیزے اس کے قریب جاتی اسے اٹھانے تو وہ اسے بھی اپنے پاس کھینچ لیتا
”کیا ہے یار سونے دو نہ “
سعد منہ پر تکیہ رکھا کروٹ بدل گیا
”ابھی تک صبح نہیں ہوٸی آپ لوگوں کی شادی میری ہوٸی ہے مزے آپ لوگ کررہے ہو“ ذایان نے روم کا دروازے ناک کرتے ہوۓ
علیزے نے دروازہ کھولا اور تپے تپے انداز میں گویا ہوٸی
”میں کب سے اٹھی ہوں یہ آپ کے بھاٸی سونا منا رھے ہیں اٹھالیں خود ہی اب “
علیزے ذایان کو سناتی کچن میں کوثر بیگم کی مدد کے لیے چلی گٸ
دعا لاٶنج میں بیٹھی سارا تماشہ دیکھ کر مسکرا رہی تھی
”انیک آجا بھاٸی کو اٹھاٸیں “
ذایان نے انیک کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا دونوں بھاٸی روم میں گۓ اور روم لاک کردیا
ذایان انیک سعد کے داٸیں باٸیں لیٹ گۓ
ذایان نے ایک ہاتھ سعد کے سینے پر رکھا اور ایک ٹانگ اس کے دونوں پیروں پر رکھی اور کان میں سرگوشی کی
” جانو اٹھ جاٶ صبح ہوگٸ ہے “
سعد تھوڑا کسمسایا اس نے ذایان کو دور کرنے کی کوشش کی ہی تھی انیک بھی چپک گیا
”آٶ جانو ساتھ سوتے ہیں “
سعد دونوں کو دھکا دیتا اٹھ بیٹھا
”بے شرموں بے غیرتوں کبھی زندگی میں شرم آۓ گی بھی تمھیں“
سعد زور سے چیخا
اورذایان انیک پیٹ پکڑ کر ہنسنےمیں مصروف تھے
”ہٹ پیچھے بے غیرت “
سعد نے غصے سے کہا اور اٹھ کر واشروم میں گھس گیا ذایان انیک کے قہقے ابھی بھی ماحول میں شور برپا کیے ہوۓ تھے
واشروم میں جاکر سعد بھی ہنسنے پر مجبور ہوگیا تھا
سب کو ان کے حق کی خوشیاں مل جکی تھیں ایک ہنستی کھیلتی زندگی ان کی منتظر تھی
***************
”””پانچ سال بعد “““
” عیان میں اس کے بال کھیچونگا تم دوسری طرف سے اس کی چپس کھینچ لینا “
”اوکے شایان “
دونوں اپنے کام پر لگ گۓ عیان نے اس کے بال کھینچے اس نے نظر گھما کر بال کھنچنے والے کو دیکھنا چاہا تو دوسری طرف سے شایان اس کے ہاتھ سےچپس لے اڑا
اب دو سالہ یسرا رو رو کر پورے گھر کو اپنے ساتھ ہوۓ ظلم کا بتا رہی تھی جو چار سالہ عیان شایان نے کیا تھا
”ارے کیا ہوا میری بیٹی کو“
سعد نے اپنی سرخ سفید روتی ہوٸی بیٹی کو گود میں اٹھایا
”بابا عیان تایان دندگے میلے بال تھیچے اور میری چیپ لے دۓ“
یسرا نے روتے روتے بتایا
”کیا ہوا ہے سعد یہ کیوں رورہی ہے “
علیزے بھی بیٹی کی آواز سن کر روم سے باہر آگٸ
”ارے میری جان تم کیوں آگٸ تمھیں ڈاکر نے آرام کا کہا ہے“
سعد نے علیزے کے بھرے بھرے سراپے پر نظر ڈالتے ہوۓ کہا سعد کو ایک اور خوشی ملنے والی تھی اس کی فیملی میں اضافہ ہونے والا تھا
”ماما عیان تایان دندے “
یسرا نے روتے ہوۓ عیان شایان کی تعریف کی
”نہیں میری گڑیا ایسے نہیں روتے میں ابھی خبر لیتا ہوں ان دونوں بندروں کی“
سعد نے عیان شایان کو شبیہ دی
”ذایان ذایان باہر آٶ“
سعد نے ذایان کا کمرے پر دستک دی
”بھاٸی کیا ہوگیا یار ابھی آفس سے آیا ہوں میں آرام تو کرنے دیتے “
ذایان تھکا تھکا سا روم سے نکلا
دعا بھی سعد کی آواز سن کر کچن سے باہر آگٸ تھی
”یہ اپنی بھوکی اولاد کو چیزیں نہیں دلاتے تم میری معصوم بچی کی چپس لے کر بھاگ گۓ“ سعد نے مصنوعی غصے سے ذایان کو ڈرایا
”اس گھر میں معصوموں کا کام نہیں بھاٸی“ ذایان نے انگڑاٸی لیتے ہوۓ کہا
”تم اپنے شرارتی بچوں کو کچھ نہ کہنا تمھاری تو ایک اولاد کافی تھی اس گھر کا سکون خراب کرنے کو پتہ نہیں اوپر والے نے کیا سوچ کر جڑوا اولاد دے دی تمھیں “
سعد نے خفگی سے کہا
”ارے میں بڑا لکی بندہ ہوں ایک ساتھ دو بیٹے دیے اوپر والے نے مجھے اب آپ کو اور انیک کو اپنی بیٹیوں کے لیے خوار نہیں ہونا پڑے گا گھر میں ہی رشتے مل جاٸیں گے “
ذایان نے ہنستے ہوۓ کہا
”ذایان بھاٸی توبہ کبھی تو اپنے بچوں کو ڈانٹ دیا کریں“
علیزے بھی میدان میں آگٸ
”یسرا عیان شایان گندے اور تمھارے چاچوں بھی گندے ہم ان سے بات نہیں کریں گے اب کٹی کرلیتے ہیں “
سعد نے اپنی روٸی جیسی بیٹی کو بہلایا
”نہیں بابا چاچو اچھے عیان تایان دندے “
یسرا نے سعد کی بات کی نفی کی
”یہ چاچو اچھے کیسے تمھارے “
سعد نے یسرا سے سوال کیا
”کیونکہ جب اس چاچو کے بھوکے بچے جب میری گڑیا کی چیز لے کر بھاگتے ہیں تو پھر چاچو شوپر بھر کر اپنی گڑیا کو چیز دیتے ہیں“ ذایان نے چیزوں سے بھری شوپر یسرا کو دی
”اتنی سالی چیز چاچو آپ بہت اتھے ہو“
یسرا نے خوش ہوکر کہا
”یہ میری گندی اولاد ہیں کہاں ویسے“
ذایان نے گھر میں نظر دوڑاتے ہوۓ کہا
”اب وہ چوری کرکے بھاگے ہیں تو یہاں کہاں ملے گے وہ آپ کو برابر والے پورشن میں چھپے ہونگے “
دعا نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا
سب کی فیملی بڑی ہوتی دیکھ سعد نے علیزے کی اجازت سے علیزے کے گھر کو بھی اپنے گھر کے ساتھ کر لیا بیچ کی دیوار توڑوا کر علیزے کا گھر نۓ سرے سے بنوایا تھا اب ان کے پورے گھر میں سات کمرے دوکچن تھے
”روکو تم چھوڑوں گی نہیں میں تمھیں“
ردا چیختی ہوٸی روم سے نکلی اس پہلے انیک بھاگتا ہوا کمرے سے نکلا تھا
”یار بھاٸی بچالو یہ چڑیل پاگل ہوگٸ ہے“
انیک سعد کے پیچھے چھپا تھا
”نکلو تم بتاٶں میں تمھیں سعد بھاٸی ہٹیں آپ سامنے سے “
ردا ایک ہاتھ میں پوڈر کا ڈبہ لی ہوٸی تھی تو ایک ہاتھ میں کریم اور کنگھا پکڑی ہوٸی تھی
”یار ردا معاف کردو اب نہیں کروں گا“
انیک نے سعد کے پیچھے سے جھانک کر کہا
”تم ہمیشہ ایسے ہی کرتے ہو نکلو تم تمھیں چھوڑوں گی نہیں میں آج “
”ارے ہوا کیا ہے کوٸی کچھ بتاۓ گا“
سعد نے کھینچ کر انیک کو اپنے سامنے کیا انیک کی پشت ردا کی طرف تھی
ردا نے کریم کا ڈبہ زور سے انیک کی کمر پر مارا
”آہ چڑیل“
انیک کی کراہ نکلی
وہ ابھی پاٶڈر کا ڈبہ بھی مارتی دعا اور علیزے نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے
”ردا پاگل ہوگٸ ہو شوہر پر ہاتھ نہیں اٹھاتے“ دعا نے ردا کے ہاتھ سے پاٶڈر لے کر ایک طرف پھینکا
”دونوں جنگلیوں کی طرح لڑے جارہے ہو بتاٶ کیا ہوا ہے اور یہ ندا کی رونے کی آواز نہیں آرہی ہے تم دونوں کو بے شرموں“
ذایان نے دونوں کو ڈانٹا اور ڈیڑھ سالہ ندا کو روم سے اٹھا لایا اور ردا کی گود میں دے دیا
”بھاٸی میں جب بھی ندا کو سولاتی ہوں یہ آکر اس کو اٹھا دیتے ہیں پھر یہ مجھے تنگ کرتی ہے “
ردا نے انیک کی شکایت لگاٸی سعد سے
اب سب کی نظریں انیک کی طرف تھیں
”بھاٸی قسم سے صرف ایک کس کیا تھا آفس سے آیا تھا تھکا ہارا میرا دل کیا بیٹی کو پیار کرنے کو تو کردیا اور وہ اٹھ گٸ اور رونے لگی“ انیک نے معصوم شکل بنائی
”یہ کیا تم لوگوں نے شور مچایا ہوا ہے بچوں والے ہوگۓ ہو سب لیکن مچال ہے جو بچوں کے والدین جیسی تم میں کوٸی بات ہو تو نماز پڑھنا حرام کردیا تم لوگوں نے میرا “
کوثر بیگم نے سب کو ڈانٹا
”دادی ہمیں بھی سونے نہیں دے رہے یہ سب اتنا شور کررہے ہیں ہماری نیند خراب کردی“ عیان شایان جانے کہاں سے نکل گۓ اور سب کو مزید ڈانٹ پڑوانے کے لیے آنکھیں مسلتے آگۓ جیسے سچ میں ان کی نیند خراب ہوٸی ہو
”روکو ابھی بتاتا ہوں تم دونوں کو“
ذایان عیان شایان کے پیچھے بھاگا
”روکے ماریے گا نہیں “
دعا ذایان کے پیچھے بھاگی
سعد نے ان کی بھاگ دوڑ دیکھ کر جلدی سے علیزے کو اپنے حصار میں لے کر صوفے پر بٹھایا
ردا بھی اپنی بیٹی کو لے کر صوفے پر بیٹھ گٸ
”عیان شایان چاچو کے پاس آجاٶ پھر مل کر بابا سے لڑےگے“
انیک نے بھی حصہ لینا ضروری سمجھا
کوثر بیگم نفی میں سر ہلاتی صوفے پر بیٹھ گٸیں
” نہیں بڑے ہونگے یہ دونوں“
”مما سہی کہہ رہی ہیں آپ“
سعد نے بھی مسکراتے ہوۓ کہا
اب وہ سب آپس میں فاٸیٹ کرنے لگ گۓ تھے دعا بھی تھک کر صوفے پر بیٹھ گٸ سب کسی ٹی وی شو کی طرح ان کی فاٸیٹ کا مزا لے رہے تھے
رشتے محبت کے ہی سہی لیکن بہت خوبصورت ہوتے ہیں
