Rishte Mohabat Ke by Misbah Khalid NovelR50485 Rishte Mohabat Ke Episode 1
No Download Link
Rate this Novel
Rishte Mohabat Ke Episode 1
Rishte Mohabat Ke by Misbah Khalid
”چھوڑو بچی کو تم لوگ کہاں لے جارہے ہواسے چھوڑ دو ورنہ اچھا نہیں ہوگا“
”یہ لڑکے کہاں سے آگۓ باس انھوں نے تو ہمیں دیکھ لیا ہے اب کیا کریں“
”ابے چھوڑ اس آفت کو گاڑی میں آکر بیٹھ نکلتے ہیں “
”اوکے باس چھوڑ دیا چلو “
سعد ذایان انیک تینوں بھاٸی دوپہر کے وقت اسکول سے واپس آرہے تھے شدید گرمی کی وجہ سے سڑک پر سنناٹے کا راج تھا
ایک معصوم بچی کی چیخوں پکار نے دوپہر کے سناٹے کو توڑا
کچھ لوگ ایک معصوم گڑیا کو اغوا کرکے لے نجارہے تھے وہ ننھی گڑیا خود کو چھڑوانے کے لیے ہاتھ پاٶں مار رہی تھی شور مچا رہی تھی
پندرہ سالہ سعد نے یہ منظر دیکھا تو اس ننی گڑیا کو بچانے کے لیے دوڑ لگا دی تیرہ سالہ ذایان اور گیارہ سالہ انیک نے بھی سعد کی پیروی کی چھوٹی عمر میں تینوں بھاٸیوں کا قد قامت اچھا تھا سعد تو اپنی عمر سے بڑا معلوم ہوتا تھا پندرہ سال کا ہوتے ہوۓ وہ اٹھارہ سالہ جوان لڑکا لگتا تھا
اغوا کارو نے ان تینوں کو آتا دیکھا تو بچی چھوڑکر دم دبا کر بھاگ نکلے
”گڑیا ٹھیک ہونا چوٹ تو نہیں لگی نہ“
سعد نے اس ننھی گڑیا سے پیار سے پوچھا
”بھیا وہ گندے انکل مجھے زبردستی لے جارہے تھے“
ننھی گڑیا نے روتے روتے جواب دیا
”نہیں نہیں گڑیا ایسے روتے نہیں وہ گۓ اب نہیں آٸیں گے اگر آۓ تو ہم تینوں بھاٸی مل کر بہت مارے گے چلو اب رونا بند کرواور یہ بتاٶ آپ اتنی دوپہر میں یہاں اکیلی کیا کررہی ہو آپ کے ساتھ کوٸی بڑا کیوں نہیں ہے“
سعد نے ننی گڑیا کے آنسو صاف کرتے ہوۓ کہا
”بھیا مجھے چیز لینی تھی اسی لیے میں ماما سے چھپ کے چیز لینے آگٸ “
ننھی گڑیا نے جواب دیا
”دیکھ لیا ماما سے چھپ کے گھر سے نکلنے کا انجام “
ذایان نے مسکراتے ہوۓ کہا
”مجھے نہیں پتا کچھ مجھے چیز لینی ہے “
ننھی گڑیا نے ضد کی
”اچھا گڑیا رونا بند کرو ہم دلا دیں گے چیز“ انیک نے جواب دیا
”بھیا کتنی کیوٹ گڑیا ہے نہ یہ“
ذایان نے ننھی گڑیا کا گال پکڑتے ہوۓ کہا
”ہاں بہت پیاری ہے چلو چیز دلاٸے اس کو پہلے“
سعد نے ننھی گڑیا کو گود میں لیتے ہوۓ کہا
”بھیا وہ گڑیا کے بال چاہیے مجھے“
ننھی گڑیا نے فرماٸش کی
”گڑیا کے بال وہ کہاں ملیں گے “
ذایان نے سر کھچاتے ہوۓ کہا
”بھیا وہ جو سامنے انکل کھڑے ہیں ٹھیلے والے ان سے“
ننھی گڑیا نے سامنے کھڑے ٹھیلے کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا
”اوہ کوٹن کینڈی کہو نہ “
انیک نے ٹھیلا دیکھتے ہوۓ جواب دیا
سعد نے ننھی گڑیا کو خوب ساری چیزیں دلادی
” اب بتاٶ آپ کا گھر کہاں ہے “
”وہ اس گلی میں“ ننھی گڑیا نے ایک گلی کی طرف اشارہ کیا
گلی میں پہنچ کر سعد نے گھر پوچھا
”وہ والا ہے بھیا“
ننھی گڑیا نے ایک گھر کی طرف اشارہ کیا
”ارے واہ یہ برابر والا گھر ہمارا ہے“
ذایان نے خوشی سے کہا
انیک نے بیل بجاٸی
”آرہی ہوں “
اندر سے ایک خاتون کی آواز آٸی
”میری بچی“
خاتون نے دروازہ کھولا اپنی بچی غیر لڑکوں کے ہاتھ میں دیکھی تو بے تابی سےاس لڑکے کے ہاتھ سے اپنی بچی واپس لے لی
”انٹی گھبراۓ نہیں ہم اسے گھر لاۓ ہیں کچھ لوگ اس ننھی گڑیا کو اغوا کر کے لے جارہے تھے“ سعد نے خاتون کا ڈر ختم کیا
”بچوں مجھے معاف کردو میں نے منا بھی کیا تھا اس کو باہر جانے سے یہ نظر بچاکر نکل گٸ“ رکشی بیگم (بچی کی امی ) شرمندہ شرمندہ سی بولیں
”کوٸی بات نہیں آنٹی آپ اس ننھی گڑیا کو ہمارے گھر بھیج دیا کریں یہ برابر والا گھر ہمارا ہے “ذایان نے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا
”اوہ بچوں آپ لوگ سنبھال لو گے اسے بہت ضدی ہے یہ“
رکشی بیگم نے مسکراتے ہوۓ کہا
”انٹی ویسے اس ننھی پری کا نام کیا ہے اور یہ کتنے سال کی ہے “
چپ کھڑے انیک نے بھی گڑیا کے متعلق جانکاری میں اضافہ کرنا چاہا
”بیٹا اس کا نام علیزے ہے اور یہ صرف چھ سال کی ہے “
رکشی بیگم نے انیک کی جانکاری میں اضافہ کیا
”اوکے انٹی اب ہم چلتے ہیں ماما انتظار کر رہی ہونگی خدا حافظ“
سعد کو ماں کی یاد آٸی جو گھر پر ان تینوں کا کھانے پر انتظار کررہیں تھیں
”اوکے بچوں خدا حافظ “رکشی بیگم نے تینوں بھاٸیوں کو رخصت کیا
”بھیا میں آج شام کو آپ کے گھر کھیلنےآجاٶں علیزے نے کورٹن کینڈی کھاتے ہوۓ پوچھا
”جی گڑیا ضرور آنا ہم خوب مستی کریں گے“ ذایان نے ننھی علیزے کو جوش دلایا
”اوکے بھیا خدا حافظ“
”خدا حافظ گڑیا“ .
چھوٹے ہیں ہم بڑے بھی ہوں گے
پھر ایک دن ایک دوسرے کے بھی ہونگے ![]()
”اَلسَلامُ عَلَيْكُم میری پیاری مما “سعد دروازہ کھولتے ہی ماں سے لپٹ گیا
یہ طریقہ تھا سعد کا مما کی ناراضگی سے بچنے کا
”سعد بھاٸی اتنا زیادہ مکھن کہاں سے لاتے ہو “ ذایان نے سعد کے کندھے پر ہاتھ رکھا
”جہاں سے تم اتنی ساری شرارتے لاتے ہو ذایان“
انیک نے بھی سعد کے دوسرے کندھے پر ہاتھ رکھا
”جتنے بڑے ہورہے ہونہ تم تینوں اتنے ہی شرارتی ہوتے جارہے ہو چلو سیدھا اندر .فریش ہوکر آٶ میں کھانا لگا رہی ہوں پھر مجھے دیر سے گھر آنے کی وجہ بھی بتانا “
کوثر بیگم نے (لڑکوں کی ماں) تینوں کو الگ کیا
اوکے مما تینوں نے اپنے اپنے کمرے کی راہ لی
اس گھر میں چار کمرے تھے افراد بھی چار ہی تھے تین بھاٸی ایک ان کی ماں والد وفات پاچکے تھے کوثر بیگم پڑھی لکھی تھیں شوہر کی وفات کے بعد انھوں نے گھر چلانے کے لیے گورنمنٹ کالج میں ٹیچر کا شعبہ اختیار کرلیا اور ساتھ تینوں لڑکوں کی مثالی تعلیم و تربیت کی تینوں لڑکے بہت لاٸق تھے سعد اپنے چھوٹے بھاٸیوں پر جان چھڑکتا تھا ذایان اور انیک بھاٸی کا سایا بن کے رہتے تھے محبت اخلاق عزت وقار سے گندے یہ لڑکے اپنی ماں کے لاڈلے تھے
”اَلسَلامُ عَلَيْكُم بہن “
”وَعَلَيْكُم السَّلَام معاف کیجیے میں آپ کو پہچانی نہیں “کوثر بیگم نے مسکراتے ہوۓ کہا
”ارے ہم آپ کے پڑوسی ابھی کچھ دن پہلے شفٹ ہوۓ ہیں آج آپ کے بچوں نے میری بیٹی کو بچایا تھا “
رکشی بیگم نے پہلو میں کھڑی علیزے کو سامنے کیا
”اچھا اچھا آپ بچوں نے مجھے بتایا تھا آٸیں آپ اندر “کوثر بیگم نے خوشدلی سے کہا
”جی آٶ علیزے“ رکشی بیگم علیزے کا ہاتھ پکڑے اندر آگٸیں
”ماشاءاللہ آپ کی بیٹی کتنی پیاری ہے بلکل کانچ کی گڑیا جیسی “کوثر بیگم نے علیزے کے کوٹن کینڈی جیسے رخسار باری باری چومے
”جی بس اوپر والے نے میری بچی کو بنایا ہی ایسا ہے ہر کوٸی اس کا دیوانہ ہوجاتا ہے“ رکشی بیگم نے اپنی کانچ کی سی دیکھنے والی بیٹی کو دیکھا
”جی بلکل سہی کہہ رہی ہیں مجھے بھی بیٹی کی بڑی خواہش تھی مگر اللہ نے مجھے تین بیٹوں سے نوازہ میں شکر گزار ہوں اس رب کی اس نے میری گود خالی نہیں رکھی“
کوثر بیگم نے عاجزی سے کہا
”جی مجھے بھی یہ رحمت ہماری شادی کے دس سال بعد عطا ہوٸی ہے میرے شوہر بڑے صبر والے ہیں کبھی امید نہیں چھوڑی انھوں نے اس رب سے آخر کار ہمیں اپنے صبر کا اجر ہماری بیٹی کے روپ میں مل گیا“
رکشی بیگم نے اپنی آپبیتی سنائی
” تینوں بھیا کہاں ہیں“ علیزے ان کی باتوں سے بور ہوگٸ تھی
”بیٹا وہ کمرے میں پڑھاٸی کررہے ہیں چلو آپ کو لے چلوں “کوثر بیگم نے پیار سے کہا
”وہ آپ مجھے کوٸی مدرسہ اور اچھا ٹیوشن بتادیں علیزے کے لیے میں یہاں کسی کو جانتی نہیں اسکول تو میں نے لگا دیا ہے بس ٹیوشن مدرسے کا مسلٸہ ہے “
رکشی بیگم نے اپنا مسلٸہ کوثر بیگم کے گوشگزار کیا
”تو آپ پریشان کیوں ہوتی ہیں اس ننھی گڑیا کو تو میرا سعد پڑھا دےگا ذایان انیک کو بھی وہ ہی پڑھاتا ہے یہاں یہ کھیل بھی لیا کرے گی اور پڑھ بھی لیا کرے گی“
کوثر بیگم نے رکشی بیگم کا فوراً مسلٸہ حل کیا
”چلیں ٹھیک ہیں بہن پھر سنبھالیں آپ اس کو میں چلتی ہوں خدا حافظ “
رکشی بیگم نے واپسی کی راہ لی
”ٹھیک ہے بہن پھر آٸیے گا“ کوثر بیگم نے خوشدلی سے کہا
”جی ضرور علیزے گڑیا تنگ نہیں کرنا کسی کو“ رکشی بیگم ننی گڑیا کو تنبیہ کرنا نہیں بھولیں
”جی مما نہیں کروں گی کسی کو تنگ “
علیزے مسکراٸی
”بھیا میں آگٸ “علیزے نے سعد کے کمرے میں داخل ہوتے ہی اپنے آنے کی اطلاع دی
تینوں بھاٸی پڑھنے میں مصروف تھے ننھی گڑیا کو دیکھ کر کھل اٹھیں
”بھاٸی آج تو چھٹی دے دیں مجھے ننھی گڑیا کے ساتھ کھیلنا ہے“ ذایان نے پہلی فرصت پڑھاٸی سے جان چھڑانی چاہی
”جی بھاٸی آج دے دیں نہ چھٹی پلیز انیک نے بھی چھٹی کی درخواست دی“
بیٹا آج دے دو چھٹی کل سے گڑیا اور ان دونوں کو ساتھ پڑھانا گڑیا کی مما سے میں نے بات کر لی ہے یہ بھی کل سے یہی پڑھے گی“ کوثر بیگم کا بھی ووٹ مل گیا اب تو چھٹی لازمی ہے
”چلیں ٹھیک ہے سب کی یہی مرضی ہے تو میں کیا بول سکتا ہوں”
سعد نے چھٹی کی درخواست قبول کرلی
”بھیا کی چھثی ہوگٸ اب ہم کھلیں گے”
علیزے نے کھلکھلا کر تالیوں کی سر بجاٸی
اس دن وہ تینوں بھاٸی ننھی علیزے کے ساتھ بچپن میں پہنچ گۓ تھے پورے دن خوب ہلا گلا کرنے کے بعد ننھی علیزے تھک کر سوگٸ تھی
سعد کو ہی اسے گود میں اٹھا کر اس کے گھر چھوڑ کے آنا پڑا .
کچھ ہی دنوں میں ننھی گڑیا تینوں بھاٸیوں سے گھل مل گٸ تھی لگتا ہی نہیں تھا علیزے رکشی بیگم کی بیٹی ہے یا کوثر بیگم کی
کوثر بیگم کی تین لاڈلوں کی لسٹ میں بھی ایک لاڈلی کا اضافہ ہوگیا تھا۔
دونوں گھر ایک ہی لگتے تھے آپس کی محبتوں میں دن بہ دن اضافہ ہوتا چلا جارہا تھا علیزے کی آدھی تربیت رکشی بیگم کے گھر ہورہی تھی تو آدھی کوثر بیگم کے گھر۔
سعد نے بھی علیزے کو پڑھانے کی ذمہ داری سنبھال لی تھی ہر کلاس میں علیزے پوزیشن لیتی تھی علیزے کے سونے کے بعد اسے گود میں اٹھا کر گھر چھوڑنے کی ذمہ داری بھی سعد کی تھی
ذایان ننھی گڑیا کے لیے کسی سے بھی لڑنے کو تیار رہتا ہفتے مہینے میں کوٸی نہ کوٸی عورت اپنے لعل کا لال منہ لے کر لال کرنے والے کے گھر پر کھڑی ہوتی یعنی ذایان کے گھر
ذایان سے وجہ پوچھی جاتی تو ایک ہی ہوتی تھی گڑیا کو تنگ کررہا تھا یہ بچہ اس لیے میں نے مارا پھر سعد سے پٹاٸی بھی لگتی تھی ذایان ننھی علیزے کے لیے وہ بھی خوشی خوشی کھالیا کرتا تھا
انیک گڑیا کا سینٹاکلوز تھا وہ جو مانگتی بھاگا بھاگا لے آتا چاہے خود کی ساری پاکٹ منی کی قربانی دینی پڑے
علیزے سب کی جان تھی وہ ننھی گڑیا آہستہ آہستہ بڑی ہورہی تھی ننھی گڑیا کو لوگوں کا دیکھنے کا نظریہ بدل رہا تھا کیونکہ وہ ہر وقت سعد ذایان انیک تینوں میں سے کسی نہ کسی کے ساتھ پاٸی جاتی تھی گلی کی عورتیں علیزے کو ان کے ساتھ دیکھ کر طوبہ طوبہ کرتی آگے بڑھ جاتیں علیزے یہ سب دیکھ کر بھاٸیوں کا منہ تکتی وہ مسکرا کر اسے بہلادیتے وہ معصوم سی گڑیا بہل بھی جاتی تھی
”ہاۓ ہماری چھیپکلی آگٸ کیا “
”انیک بھاٸی میں کہاں سے چھپکلی نظر آ رہی ہوں آپ کو“
”ارے چھوٹے یہ چھپکلی نہیں بندریا ہے“ دونوں بھاٸیوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارا
”چپ کرو تم دونوں یہ نہ چھپکلی ہے نہ بندریا ہے “سعد نے علیزے کے کندھے پر بازوں پھیلایا
”یس میرے سعد بھاٸی آگۓ اب پتا چلے گا دونوں کو “علیزے خوش ہوٸی
”یہ تو چڑیل ہے“ سعد نے اپنی بات پوری کی تینوں بھاٸیوں نے ایک ساتھ قہقہ لگایا
علیزے منہ کھلے حیرت کے سمندر میں غوطے کھارہی تھی سعد نے بھی اسے چڑیل کہہ دیا جو ہمیشہ ان کی شراتوں سے علیزے کو بچاتا تھا
”جایٸے میں آپ تینوں سے بات ہی نہیں کرتی جارہی ہوں میں گھر“
علیزے کو تینوں بھاٸیوں کے قہقے ہضم نہیں ہوۓ
علیزے رخ موڑ کر منہ بناۓ راہ داری کی طرف چلدی
”ارے اچھا سوری سوری سوری“
تینوں بھاٸی کان پکڑے علیزے کے سامنے کھڑے تھے تینوں کو کان پکڑے دیکھ کر علیزے کا قہقہ ہوا میں بلند ہوا
” ٹھیک ہے ٹھیک ہے معاف کیا“ علیزے نے اپنی ہنسی کو بریک لگایا
تینوں بھاٸی بہن کے خوش ہونے پر خوش تھے لیکن یہ منظر دیکھ کر سامنے کھڑی صاٸمہ جل کر خاک ہوگٸ تھی
”چلو گڑیا جاکر مما کے ساتھ میلاد میں بیٹھوں ہم کھانے کا انتظام دیکھ لیں“ سعد کو کھانے کے انتظام کی فکر ہوٸی
”جی بھیا“ علیزے نے میلاد کی طرف رخ کیا جہاں نعت خواں اپنی آواز کا سحر سب پر پھونک رہی تھی
آج کوثر بیگم کے شوہر کی برسی تھی تو تینوں بیٹوں نے میلاد کا اہتمام کیا تھا رشتے دار تو تھے نہیں کوٸی سب محلے والوں کو بلایا تھا جس میں ایک صاٸمہ بھی تھی جو ہمیشہ سے علیزے سے جلتی آٸی تھی وجہ یہ تھی سعد صاٸمہ کو منہ نہیں لگاتا تھا لیکن علیزے سے بہت محبت کرتا تھا اور صاٸمہ کے بقول صاٸمہ سعد سے بہت محبت کرتی ہے
وہ تینوں تو چلے گۓ صاٸمہ نے علیزے پر اپنے طعنوں کے تیر چلانے شروع کر دیٸے
”ہیلو علیزے کیسی ہو “
”جی صاٸمہ آپی میں ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں“
”تمھارے ہوتے ہوۓ میں کیسے ٹھیک ہو سکتی ہوں آخر تم چاہتی کیا ہو سعد کا پیچھا چھوڑ کیوں نہیں دیتی ذایان اور انیک ہیں نہ تمھارے لیے ان کے ساتھ افٸیرز چلاٶں نہ میرے سعد کو تو بخش دو “
صاٸمہ نے سولہ سالہ معصوم سی علیزے پر اپنا غصہ نکال دیا
”آپی یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ وہ تینوں بھاٸی ہیں میرے میں نے ایسا کبھی نہیں سوچا“ علیزے کی ہرنی جیسی آنکھوں میں آنسوں چمک رہے تھے
”تم مجھے بیوقوف سمجھتی ہو جو تمھاری باتوں میں آجاٶں گی تمھیں تو میں ۔۔۔
”صاٸمہ خبردار میری گڑیا کے بارے میں ایک لفظ بھی اور غلط نکالا تو اچھا نہیں ہوگا تمھارے لیے ورنہ میری گڑیا کی آنکھوں میں آنسو لانے والے کو میں بخشتا نہیں ہوں جس کے لیے تمھیں بلایا ہے نا جاکر وہی کرو “
سعد نے منٹوں میں علیزے کا بدلہ لیا اور صاٸمہ کی خوب عزت افزاٸی کی
سعد کسی کام سے گھر میں آیا تھا صاٸمہ کی
باتیں سن کر سعد سے برداشت نہیں ہوا اور صاٸمہ کا غصہ صاٸمہ پر ہی اتارا
صاٸمہ نے وہاں سے نکلنے میں ہی آفیت جانی وہ منہ کے زاویے بگاڑتی وہاں سے چلی گٸ
”گڑیا “
” جی بھیا “
”میں نے کیا سکھایا ہے ہمیشہ برے لوگوں کی غلط باتوں پر اپنے یہ قیمتی موتی زایعہ نہیں کیا کرو اور ویسے بھی یہ موتی تمھاری رخصتی کے وقت کام آٸیں گے “
سعد نے علیزے کو بہلایا ہمیشہ کی طرح وہ بہل بھی گٸ
”بھیا مجھے نہیں جانا رخصت ہوکر میں تو آپ کے ساتھ رہوں گی ہمیشہ“ علیزے نے سعد کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالا
”اچھا بھٸ تم ہمیشہ میرے ساتھ رہنا چلو اب جاٶ مما کے پاس“ سعد نے ہار مان لی
” اوکے بھیا“ علیزے میلاد سننے چلی گٸ سعد اپنے کام سے چلا گیا .
”ساتھ تو لکھا قسمت میں ہمارا
لیکن کچھ مشکلوں کے بعد.“
”یہ یہاں کب آکر سوٸی میں تو سمجھ رہا تھا یہ گھر پر چلی گٸ اپنے “
ہرے رنگ کی پٹیالہ شلوار پر لال کرتی گلے میں نیٹ کا ڈوپٹا ہونٹوں پر گلابی لپیسٹک وہ اپنے چہرے پر سارے جہاں کی معصومیت سجاۓ بے خبر سعد کے کمرے میں سورہی تھی
محفل میلاد ختم ہوچکی تھی لوگ اپنے گھروں کو لوٹ گۓ تھے پر علیزے نے اپنے گھر جانے کی زحمت نہیں کی تھی وہ تھک گٸ تھی نیند بھی بہت تیز آرہی تھی جس کا کمرا ملا وہی جاکر سوگٸ سب سمجھ رہے تھے وہ گھر چلی گٸ پر وہ علیزے ہی کیا جو سعد کے بازوں میں گھر نہ جاۓ
سعد علیزے کو اٹھانے کے ارادے سے آگے بڑھا 26جھبیس سالہ سعد سولہ سالہ علیزے کے حسن کے سحر میں کھوگیا بےخودی میں سعد نے علیزے کے چہرے پر آۓ بال کان کے پیچھے کیے علیزے کسمساٸی
سعد علیزے کے سحر سے واپس آیا اور اپنا ہاتھ کھینچ لیا
”یہ میں کیا کر رہا تھا یہ لڑکی پٹواۓ گی مجھے مما سے علیزے اٹھو چلو تمھیں گھر چھوڑ کر آٶں“ سعد نے بازوں ہلایا علیزے کا
”سونے دیں نہ سعد بھاٸ“ی علیزے نیند میں ہی بڑبڑاٸی
”مجھے بھی سونا ہے نہ اٹھو اپنے گھر جاؤ یار“ سعد نے تھکے تھکے لہجے میں کہا
علیزے پر کوٸی اثر نہیں ہوا وہ بے سود سوتی رہی
سعد سے مزید برداشت نہ ہوا اس نے علیزے کے دونوں بازوں سے پکڑ کر اٹھا کر بٹھادیا
علیزے نے مندی مندی آنکھیں کھولیں
”چلو اٹھو گھر چھوڑ کر آٶں“
سعد نے علیزے کو بازوں سے پکڑ کر کھڑا کر دیا ایک ہاتھ اس کی گردن سے گزار کر کندھے پر رکھا ایک ہاتھ سے اس کا بازوں پکڑا اور علیزے کو خود سے لگاۓ کمرے سے باہر نکل گیا
علیزے کا سر سعد کے کندھے پر تھا
”یار علیزے بہت تنگ کرتی ہو تم مجھے مار کھاٶ گی کسی دن میرے ہاتھوں “
سعد نے خفگی دیکھاٸی
”آپ اپنی گڑیا کو مارے گے “علیزے نے ہلکی ہلکی آنکھیں کھول کر کہا
”تم سیدھی ہوجاٶ نہیں تو نالی میں پھینک دونگا تمھیں “
سعد نے مصنوعی غصے سے کہا
علیزے کے لیے یہ ہی غصہ کافی تھا وہ فوراً سیدھی ہوگٸ سعد کبھی بھی اس پر غصہ نہیں کرتا تھا سعد کو غصہ نہیں آتا تھا جب آتا تو بہت تیز آتا تھا وہ علیزے کو ڈرا کر خود سے دور نہیں کرنا چاہتا تھا اسی لیے سعد علیزے پر مصنوعی غصہ کرتا تھا وہ چڑیا سے دل کی مالک سعد کے اتنے سے غصے سے بھی ڈر جاتی تھی
”آنٹی دروازہ کھولیں آپ کا سامان آیا ہے “سعد نے ڈور بیل بچاتے ہوۓ کہا
علیزے ہلکی سی مسکاٸی
”سعد بیٹا کونسا سامان“ رکشی بیگم نے دروازہ کھولتے ہی پوچھا
”آنٹی یہ سامان“ سعد نے برابر میں کھڑی علیزے کی طرف اشارہ کیا
”علیزے تم میں تو سمجھ رہی تھی تم سو رہی ہو اپنے کمرے میں“ رکشی بیگم نے علیزے کو ڈانٹا
”آنٹی یہ سو ہی رہی تھی مگر میرے کمرے میں آپ اندر لے جاٸیں اسے کہی گلی میں نہ سوجاۓ “سعد نے اونگھتی ہوٸی علیزے کو دیکھتے ہوۓ کہا
”جی بیٹا چلو علیزے آجاٶ“ رکشی بیگم نے بیٹی کو گھر میں لیا دروازہ بند کردیا
سعد نے بھی گھر کی راہ لی سعد اپنے بیڈ پر لیٹا اسے اپنے بیڈ سے علیزے کی خوشبوں آٸی اور وہ مسکراتا ہوا آنکھیں موند گیا
محبت کی ابتدا ہوٸی ہے
عشق کا ملن باقی ہے ابھی.
سعد مردانہ وجاہت کا بھر پور مرد تھا براٶن آنکھیں براٶن بال کھڑی ناک چوڑا سینا گندمی رنگت لمبا قد بلاشبہ وہ ایک حسین مرد تھا یہی وجہ تھی کے صاٸمہ اس کے پیچھے دیوانی تھی
ذایان بھی کچھ کم نہیں تھا تینوں بھاٸیوں میں ایک بات مشترکہ تھی تینوں کی آنکھیں براٶن تھیں جو ان کی خوبصورتی میں اور اضافہ کرتی تھیں
ذایان بھی سعد سے کچھ مختلف نہیں تھا لمبا قد چوڑا سینا گندمی رنگت کالے بال ذایان بھی حسن میں کسی سے کم نہیں تھا
انیک اپنے دونوں بھاٸیوں سے چھوٹا تھا پر خوبصورت وہ بھی تھا کسرتی جسم براٶن بال بڑی بڑی پلکے کھڑے نین نقش کم تو وہ بھی نہیں تھا کسی سے
علیزے چڑیا کے سے دل کی مالک ہرنی جیسی خوبصورت آنکھیں دودھیا رنگت لمبے گھنے سنیرے بال درمیانہ قد روٸی جیسے گلابی گال پتلے پتلے ہونٹ علیزے کو اگر باربی ڈول سے ملایا جاۓ تو غلط نہ ہوگا .
”سعد بھاٸی چلیں نہ میرے ساتھ پلیز چلیں نہ“
”گڑیا میں آفس کے لیے لیٹ ہوجاٶں گا تم ذایان یا انیک کے ساتھ چلی جاؤ “
”نہیں میں ان کے سا تھ نہیں جاؤں گی یہ لوگوں کو چھیڑتے ہیں وہاں جاکر مزاق بناتے ہیں لوگوں کا آپ چلیں نہ پلیز مجھے ڈاکیومنٹس میں یا فوم میں کوٸی مسلٸہ ہوا تو آپ مدد تو کردیں گے نا یہ دونوں نہیں کرتے پلیز چلیں میرے ساتھ کالج “
”جھوٹی کب چھیڑا ہم نے“ انیک کو اپنے اوپر الزام برداشت نہیں ہوا
ذایان کی تو جان بستی تھی علیزے میں خاموش کھڑا مسکراتا رہا
”جب میں میٹرک کی مارک شیڈ لینے گٸ تھی آپ کے ساتھ میرے ساتھ جو لڑکی کھڑی تھی اس کو کیا بولا تھا آپ نے“ علیزے نے انیک کو اس کا جرم یاد دلایا
”کیا بولا تھا بتانا ذرا “انیک نے بھی آگے بڑھ کر کہا
”آپ نے کہا تھا تیار تو ایسے ہوکر آٸی ہے جیسے مارک شیڈ لینے نہیں اپنے باپ کے ولیمے میں آٸی ہے اور پیچھے کھڑا اس کا باپ سب سن چکا تھا جو پولیس والا بھی تھا میں سوری نہ کہتی تو اٹھا کر جیل میں ڈال دیتا آپ کو وہ“ علیزے نے پورا واقعہ بیان کیا
”ہاں تو تیاری دیکھی اس کی پہلے تو مجھے شبہ ہوا تھا اس پرکہی خواجہ سراح تو نہیں پر غور کرنے پر معلوم ہوا وہ بہت سارا میکاپ تھوپی ہوٸی ایک لڑکی ہے“ انیک نے بھی اپنی کہی بات کی تشریح کردی
انیک اور علیزے کی لڑائی کو سعد اور ذایان خوب انجواۓ کررہے تھے
کوثر بیگم بہت دیر سے یہ صبح صبح کا شور برداشت کر رہیں تھیں کچن سے باہر نکل آٸیں
”کیا شور مچا رکھا ہے تم لوگوں نے صبح صبح سعد چلو علیزے کو لے جاٶ کالج کہی ایڈمیشن کی ڈیٹ نہ نکل جاۓ ذایان چلو آفس جاؤ انیک چلو یونیورسٹی کے لیے نکلو“
کوثر بیگم نے سب کو روانہ ہونے کا حکم دیا
”چلو گڑیا“ سعد نے علیزے کو چلنے کا اشارہ کیا
”چلیں “علیزے نے بھی سعد کے پیچھے پیچھے قدم بڑھاۓ
علیزے جیسے ہی کار میں بیٹھی سعد نے اس کو اوپر سے نیچے تک دیکھا
”عبایا کب لوگی تمھیں کتنی دافع کہا ہے بڑی ہوگٸ ہو عبایا پہنا کرو“ سعد کو علیزے پر لوگوں کی ہوس بھری نظریں چبھتی تھی اسی لیے ہمیشہ اس کو عباۓ کا کہتا رہتا تھا
”جی بھاٸی لے لوں گی آپ چلیں نہ دیر ہورہی ہے “علیزے منمناٸی
سعد نے سن گلاسس آنکھوں پر سجاۓ گاڑی اسٹارٹ کی اور اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگیا
انیک اور ذایان بھی اپنی اپنی باٸکس پر نکل گۓ تھے
سعد اور علیزے ابھی کالج سے واپس آۓ تھے سامنے کا منظر دیکھ کر سعد تو سانس لینا بھول گیا علیزے اپنے جلتے ہوۓ گھر کو دیکھ کر دھاڑے مار مار کر رو دی
علیزے کی آواز سعد کے کان میں پڑی تو اسے ہوش آیا اس نے فوراً علیزے کو سنبھالا جو اپنے جلتے ہوۓ گھر کی طرف جارہی تھی
”بھیا میرے مما بابا کے پاس جانا ہے چھوڑے مجھے بھیا جانے دیں مجھے“
علیزے ہاتھوں سے نکلی جارہی تھی سعد کو اسے سنبھالنا مشکل ہورہا تھا
سعد نے روتی بلکتی علیزے کو اپنے سینے سے لگا لیا
”بس گڑیا بس “
”بھیا میں اکیلی ہوگٸ میرا کوٸی نہیں رہا بھیا مجھے بھی مار دو میں کیا کروں گی جی کر“ علیزے سعد کی بانہوں میں قید تھی
سعد اس کو دلاسے دے رہا تھا
فاٸر بریگیٹ نے وقت پر پہنچ کر آگ پر قابوں پالیا تھا
سعد اور علیزے کا گھر تو برابر تھا پر درمیان میں موٹی دیوار ہونے کی وجہ سے سعد کا گھر محفوظ رہا
ذایان اور انیک علیزے کو گھر میں لے گۓ تھے وہ رو رو کے نڈھال ہوگٸ تھی آنکھیں سرخ ہوگٸ تھی لیکن آنسوں رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے اس معصوم کو صبر بھی آتا تو کیسے آتا اس کے دو ہی رشتے تھے پوری دنیا میں وہی سہارا تھے اس کا وہ یتیم ہوگٸ تھی ماں کا سایہ سر پر سے اٹھ گیا تھا
کوثر بیگم نے ایک ماں کی طرح اپنی لاڈلی کو سنبھالا اسے اپنے مامتا بھرے آغوش میں لیا
سعد ذایان انیک اپنی ننھی گڑیا کو روتے بلکتے دیکھتے تو ان کی آنکھوں میں بھی نمکین پانی جما ہوجاتا
ذایان تو علیزے کی حالت دیکھ دیکھ کے نڈہال ہوگیا اور سعد کے گلے لگ کے پھوٹ پھوٹ کے رودیا
” بھاٸی میرے گڑیا ٹوٹ گٸ بھاٸی میری گڑیا میری گڑیا مجھ سے نہیں دیکھی جاتی اس کی یہ حالت “
”خود کو سنبھالو جوان مرد ہوکر رو رہے ہو تم تو کہتے تھے گڑیا کے ہر مشکل وقت میں اس کی ڈھال بن کر رھوں گا کبھی اکیلا نہیں چھوڑوں گا اب وہ مشکل میں ہے تو اس کے پاس جاؤ سہارا دو اسے چپ کرواٶ اسے احساس دلاٶ اس دنیا میں وہ اکیلی نہیں ہے ہم ہیں نہ اس کے اپنے“
سعد نے چھوٹے بھاٸی کو دلاسادیا
علیزے کے والدین کی وفات کو دو دن گزرگۓ تھے آگ دولوگوں کی جان لے کر خاموش ہوچکی تھی پولیس بھی اپنا کام کرکے چلی گٸ تھی گھر میں آگ لگنے کی وجہ گیس سلینڈر تھا علیزے کے ماں باپ کے جھلسے ہوۓ جسموں کو دفنا دیا گیا تھا علیزے کو کوثر بیگم نے اپنے پاس ہی رکھ لیا تھا وہ معصوم جاتی بھی کہاں اس کا کوٸی نہیں تھا
رکشی بیگم اپنی ماں کی اکلوتی بیٹی تھی ان کی ماں کی بھی وفات ہوچکی تھی علیزے کے والد کا بھی کوٸی نہیں تھا .
کوثر بیگم اور ان کے تینوں بیٹوں نے علیزے کو سنبھالا اس برے وقت میں ان لوگوں نے اس کو اکیلا نہیں چھوڑا علیزے کے والدین کی وفات کو ایک مہینہ گزر گیا تھا اب وہ کافی سنبھل چکی تھی بس ہنستی بولتی کم تھی ذایان اس کو ہنساتا بھی تو کبھی ہنس دیتی کبھی رونے لگ جاتی تھی وہ کبھی کسی بھاٸی کے ساتھ باہر بھی نکلتی تو عورتیں ایک دوسرے کے کانوں میں گھس جاتی یا اس معصوم بے سہارا پر طعنے کستی سعد غصے سے دیکھتا تو خاموشی سے نکل جاتی تھی
کوثر بیگم کے علم میں بھی لوگوں کی ساری باتیں تھیں ان کے گھر کے بارے میں لوگ کیسی کیسی باتیں کرتے ہیں تین جوان لڑکے ایک جوان لڑکی اندر ہی اندر کیا کچھ ہوتا ہے ہمیں کیا معلوم لوگوں کی باتیں سن سن کر کوثر بیگم پریشان ہوگٸ تھیں آج وہ ایک مولوی صاحب کے گھر آٸیں تھیں اس معاملے کا حل نکالنے وہ اپنے چاروں بچوں سے بہت محبت کرتی تھیں ان کی یوں بدنامی برداشت نہیں کرسکتی تھیں
”اَلسَلامُ عَلَيْكُم مولوی صاحب“
”وَعَلَيْكُم السَّلَام بہن بتائيں کیسے آنا ہوا “
”مولوی صاحب میں آپ سے ایک اہم مسٸلہ دریافت کرنے آٸی ہوں مجھے اس کا حل بتائيں
”ہاں بہن بولو کیا مسلٸہ ہے “مولوی صاحب نے فکر مندی سے پوچھا
”مولوی صاحب ایک مہینہ پہلے جو حادثہ ہوا اس سے تو آپ واقف ہی ہیں ان کی جو بیٹی تھی وہ ہم سے بہت زیادہ مانوس تھی ہمارے علاوہ اس دنیا میں اس کا کوٸی ہے بھی نہیں تو میں نے اس کو بیٹی بنا کر اپنے پاس رکھا ہوا ہے میرے تینوں بیٹے بھی بہن مانتے ہیں اسے مگر لوگ ان کی باتیں اس بچی کو سکون سے جینے نہیں دیتیں میں کیا کروں میرے سمجھ نہیں آرہا“
کوثر بیگم نے ساری بات مولوی صاحب کے غوش گزار کی
”بہن یہ تو اچھی بات ہے آپ نے ایک بے سہارا بچی کو سہارا دیا مگر اس دنیا کے قانون کے مطابق آپ اس کو ایسے نہیں رکھ سکتیں کل کو کسی نے آپ پر الزام لگا دیا آپ نے ایک لڑکی کو قید کیا ہوا ہے تو آپ کیا کریں گی آپ کا تو کوٸی رشتہ نہیں اس سے آپ کو اس کو قانونی طور پر اپنی بیٹی بنانے کے لیے کاغذی کارواٸی کا سامنا کرنا ہوگا مگر ان کاموں میں کافی پیچیدگیاں پیش آتی ہیں اور دوسرا حل یہ ہے کوٸی اچھا لڑکا دیکھ کر اس کی شادی کروادیں“
مولوی صاحب نے دو حل رکھے کوثر بیگم کے سامنے
”مولوی صاحب وہ تو بہت چھوٹی ہے سولہ سال کی تو ہے بس وہ اس کو تو اتنی عقل بھی نہیں ہے سیدھی سادھی سی ہے “کوثر بیگم نے اپنا خدشہ بیان کیا
”بہن بچی میں نے دیکھی ہے معصوم سی ہے لیکن بہن سولہ سال کم عمر نہیں ہوتی آپ اللہ کا نام لے کر کردو شادی ان شاء اللہ سب اچھا ہوگا“ مولوی صاحب نے جواب دیا
”ٹھیک ہے مولوی صاحب آپ ہی کوٸی لڑکا بتا دیں میری نظر میں تو کوٸی نہیں ہے “کوثر بیگم نے راضی ہوتے ہوۓ کہا
”بہن میرا تو ایک ہی لڑکا ہے وہ بھی شادی شدہ ہے اور لڑکا ڈھونڈ کیوں رہی ہوآپ کے گھر میں ہی ماشاءاللہ تین تین لاٸق فاٸق لڑکے موجود ہیں ان میں سے کسی ایک سے کر دو بچی بھی آپ کے پاس ہی رہے گی اور پھر اتنی جلدی میں کوٸی اچھا لڑکا ملنا مشکل ہے“ مولوی صاحب نے کوثر بیگم کی پریشانی کا حل پیش کیا
”لیکن مولوی صاحب وہ تینوں تو اس کو بہن مانتے ہیں میں کیسے راضی کروں گی ان کو“ کوثر بیگم پریشان ہوگٸیں
”بہن آپ کے لڑکوں کا اس بچی سے خون کا رشتہ نہیں ہے منہ بولی بہن ہے اس سے تو شادی ہوسکتی ہے اور جہاں تک ان کے راضی ہونے کی بات ہے تو وہ بچے میرے سامنے ہی جوان ہوۓ ہیں اور آج تک میں نے ان کو آپ کی کوٸی بات ٹالتے ہوۓ نہیں دیکھا آپ کے تینوں لڑکے بہت فرمانبردار ہیں آپ کہے گی تو مان جاٸیں گے“ مولوی صاحب نے کوثر بیگم کو پریشانی سے نکالا
”ٹھیک ہے مولوی صاحب آپ کا بہت بہت شکریہ آپ نے مجھے اتنا وقت دیا اور میرے مسٸلے کا حل بھی بتایا ”
کوثر بیگم آخر کار مولوی صاحب کی ساری بات سمجھ ہی گٸ
”نہیں بہن شکریہ کی کوٸی بات نہیں“
”اب میں چلتی ہوں مولوی صاحب “کوثر بیگم گھر کے لیے روانہ ہوگٸیں.
”مما کہاں گٸی تھیں آپ میں کب سے آپ کا ویٹ کررہا ہوں“ سعد نے ماں کو خود سے لگاتے ہوۓ کہا
”ارے بیٹا کام سے گٸ تھی یہ بتاٶ تم نے کھانا کھایا“ کوثر بیگم نے پیار سے کہا
”آپ کے بغیر کھا سکتے ہوں کیا کھانا“
ذایان انیک نے یک زبان ہوکر کہا
”اچھا چلو میں لگاتی ہوں کھانا علیزے کہاں ہے“ کوثر بیگم کو علیزے کی فکر ہوٸی
”مما اسے سلادیا میں نے اس کے سر میں درد تھا تو میں نے دودھ سے ٹیبلیٹ کھلا کر اسے سلا دیا “سعد نے جواب دیا
”اچھا چلو اچھی بات ہے مجھے بھی تم تینوں سے ضروری بات کرنی تھی جو اس کے سامنے نہیں ہوسکتی تھی“ کوثر بیگم نے تینوں کو حیران کردیا
”ایسی کیا بات ہے مما جو علیزے کی غیر موجودگی میں کرنی ہے آپ کو“ ذایان نے سوال کیا
”پہلے کھانا کھا لو پھر کریں گے بات “کوثر بیگم کچن میں چلی گٸیں
”بھاٸی آپ کو معلوم ہے اس بارے میں کچھ“ انیک نے دل میں آیا سوال پوچھا
”نہیں چھوٹے مجھے نہیں معلوم کچھ “سعد نے لاعلمی کا اظہار کیا
تینوں سر جھٹک کر کھانا کھانے چلے گۓ
کھانا بھی تینوں سے ٹھیک سے کھایا نہیں گیا جلدی جلدی کھانا کھا کر تینوں ماں کا انتظار کرنے لگ گۓ کچھ دیر میں کوثر بیگم بھی برتن دھو کر آگٸیں
تینوں بھاٸی پوری طرح اپنی ماں کی طرف متوجہ ہوۓ
”مما کیا بات ہے بتائيں“ سعد نے بات کا آغاز کیا
”سعد ذایان انیک تم تینوں کو اچھی طرح معلوم ہے علیزے جب سے ہمارے گھر آٸی ہے لوگ الٹی سیدھی باتیں کررہے ہیں غلط الزام لگا رہے ہیں “
”مما ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ میں نے بھی بہت باتیں سنی ہیں“ سعد نے بھی ماں کی بات کو سمجھ کر جواب دیا
”اسی سلسلے میں ٰ میں مولوی صاحب کے پاس گٸ تھی انہوں نے مجھے اس کا حل علیزے کی شادی بتایا ہے عزت سے وہ بچی اپنے گھر کی ہوجاۓ گی اور ہمارے گھر پر الزام لگانے والے لوگوں کے منہ بند ہوجاٸیں گے“
کوثر بیگم نے بات مکمل کرکے تینوں بیٹوں کو دیکھا
تینوں سکتے کی حالت میں بیٹھے ماں کو دیکھ رہے تھے
”بچوں ایسے مت دیکھوں میں جو کہہ رہی ہوں علیزے کی بھلاٸی کے لیے کہہ رہی ہوں اور میں چاہتی ہوں تم تینوں میں سے کوٸی ایک اس سے شادی کرلو گھر کی بچی گھر میں رہے گی “کوثر بیگم نے اپنے لاڈلوں پر ایک اور بم پھوڑا
”مما یہ سب کیا کہہ رہیں ہیں آپ وہ ابھی چھوٹی ہے بہت اور ہم میں سے کوٸی شادی کرلے آپ تو اچھی طرح جانتی ہیں ہم اس کو اپنی چھوٹی بہن مانتے ہیں“ ذایان کو غصہ آگیا تھا
”ہاں مما ذایان صحیح کہہ رہا ہے بلکل آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہیں“ انیک نے بھی ذایان کی بات کی تاٸید کی
سعد زبان پر قفل لگاۓ ماں کو دیکھ رہا تھا اس کے دماغ نے تو جیسے کام کرنا چھوڑ دیا تھا
”بس کرو تم لوگ دیکھو میں ایک جوان لڑکی کو بنا رشتے کے گھر میں نہیں رکھ سکتی تم تینوں بھی جوان ہو شیطان کو جوان لڑکے لڑکیوں پر حاوی ہونے میں دیر نہیں لگتی اور میں اپنے گھر کی مزیدبدنامی برداشت نہیں کرسکتی تم تینوں کو میرا یہ فیصلہ ماننا ہوگا“ کوثر بیگم نے اپنے لاڈلوں کو غصہ دیکھایا
”ٹھیک ہے مما انیک سے کردیں علیزے کی شادی انیک سب سے چھوٹا ہے علیزے کے ساتھ صحیح رہے گا“ سعد نے قفل توڑا پر خوش اب بھی نہیں تھا
انیک ذایان منہ کھولے سعد کو تک رہے تھے.
سعد نے اتنی بڑی بات کس ضبط سے کہی تھی یہ وہ ہی جانتا تھا
”نہیں سعد میں نے سوچ لیا ہے علیزے کی شادی مجھے کس سے کرنی ہے “
”آہ شکر“ انیک کا روکا ہوا سانس بحال ہوا
”تو کیا آپ مجھ سے شادی کروانے کا سوچ رہی ہیں نو مما میں تو اسے دل سے بہن مانتا ہوں میں ایسا بلکل بھی نہیں کروں گا “ذایان نے بھی شادی سے انکار کردیا
”انیک کے پاس کوٸی جاب نہیں یہ خود پڑھ رہا ہے یہ شادی کی ذمہ داریاں کیسے اٹھاۓ گا ذایان بڑا تو ہوگیا ہے پر اس کی شرارتے ابھی تک ختم نہیں ہوٸی ہیں سمجھداری کا تو اس سے دور دور تک کوٸی تعلق نہیں سعد تم سمجھدار بھی ہو بڑے بھی ہو سب سے زندگی کی اونچ نیچ سمجھتے ہو اور علیزے کی جو حالت ہے اس وقت اسے مضبوط سہارے کی ضرورت ہے جو صرف تم بن سکتے ہو اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے اس کی شادی تم سے کروں گی“
کوثر بیگم نے آخر کار اپنا فیصلہ سنا ہی دیا
ذایان اور انیک سعد کی شکل دیکھ کر ہنسی دبا کر بیٹھے تھے
”بھاٸی شادی مبارک ہو“ ذایان نے سعد کو چھیڑا
”چب کرو تم “ سعد نے ذایان کو گھورا
”میں نہیں کروں گا یہ شادی مما یہ ظلم ہے اس کے ساتھ چھوٹی ہے وہ بہت مجھ سے میں چھبیس سال کا ہوں اور وہ صرف سولہ کی ہے“ سعد نے ماں کو اپنے اور علیزے کے بیچ کا فرق بتایا
”کوٸی بات نہیں بیٹا عمر سے کچھ نہیں ہوتا لڑکا عمر میں بڑا ہو تو چل جاتا ہے اور ظلم کیسا اس پر تم کوٸی بوڑھے تو نہیں ماشاءاللہ سے جوان ہو خوبصورت ہو کوٸی بری عادت نہیں تم میں جاب بھی اچھی ہے“ کوثر بیگم نے سعد کو سمجھایا
”مما پلیز میرے دل میں ایسا کچھ نہیں وہ بچی ہے میں نے اس کو اپنے انھیں ہاتھوں سے پالا ہے کھلایا ہے گھومایا ہے میں کیسے کرلوں اس سے شادی“
سعد ماں کے سامنے بے بس ہوا
انیک ذایان اپنی ہنسی دبا کر بیٹھے تھے کیونکہ وہ دونوں تو اپنی بہن کے بھاٸی بن گۓ تھے لیکن سعد پھنس گیا تھا جس کے بچنے کےکوٸی چانسس نہیں تھے ان کی ماں سعد کی شادی کروا کر ہی دم لے گیں
”بیٹا مجھے معلوم ہے تم نے پالا اسے کھلایا گھومایا ان ہاتھوں سے اور تو اور اس کی تربیت بھی تم نے کی ہے اس کو اپنے جیسا صابر وفادار سمجھدار بنایا ہے اور اب تم ہی اس کے جیون ساتھی بن جاؤ گے اس سے اچھی بات اور کیا ہوسکتی ہے اگر تم ابھی بھی رضامند نہیں ہوتو کوٸی لڑکا ڈھونڈ لو علیزے کے لیے میں اس بچی کو عزت سے رخصت کردوں گی اب شادی کے بعد اس کے ساتھ جو بھی ہو اس کے ذمے دار تم ہوگے ساس اس سے سارے گھر کا کام کرواۓ نندیں چاہیں اچھی ہو یا بری شوہر بھی پیار کریں نہ کریں جو بھی ہو اس معصوم کے ساتھ اس کے ذمے دار تم ہوگے“ سعد کوثر بیگم نے سعد کو ایموشنل بلیک میل کیا
”ٹھیک ہے مما میں راضی ہوں“
سعد نےجواب دیا اور اٹھ کر خاموشی سے اپنے کمرے میں چلا گیا
”واہ مما کیا بلیک میل کیا ہے آپ نے بھاٸی کو فوراً مان گۓ “ذایان نے ماں کو داد دی
”ہمم دلہا کو تو میں نے منا لیا لیکن دولہن کو تم دونوں مناٶ گے “
کوثر بیگم نے علیزے کو منانے کی ذمے داری انیک ذایان پر ڈالدی
”مما ہم کیسے مناۓ گے اس کو“ انیک نے حیرانگی سے ماں کو دیکھا
”مجھے نہیں معلوم مناٶ کیسے بھی کر کے کل کا دن ہے تم دونوں کے پاس بس“ کوثر بیگم نے جواب دیا اور اپنے کمرے کی طرف چلدی
”یار بھاٸی کیسے مناٸیں گے اسے“ انیک نے ذایان سے پوچھا
”چھوٹے توں اتنی فکر کیوں کر رہا ہے میری گڑیا کو منانا نہیں بہلانا پڑتا ہے“ ذایان نے آنکھ دباتے ہوۓ کہا
”کیا مطلب میں سمجھا نہیں “انیک کے سر سے گزر گٸ ذایان کی بات
”ارے چھوٹے ابھی سوجاتے ہیں کل بات کریں گے چل گڈ ناٸٹ “
ذایان اپنی بات کہہ کر انیک کا جواب سنے بنا اپنے کمرے میں چلا گیا
انیک بھی سر جھٹک کر کمرے میں چلا گیا .
”یہ کیا فیصلہ سنا دیا مما نے میں اس چھوٹی سی بچی کو اپنی بیوی کا درجہ دے پاٶں گا کیسے وہ معصوم مجھے شوہر کے روپ میں قبول کرے گی میری کانچ کی گڑیا کا سامنا کیسے کروں گا میں اے اوپر والے میری مدد فرما بس مجھے ہمت دے میں اس معصوم کی تکلیف کی وجہ نہ بنوں بلکہ اس کا مرہم بنوں جس کی اسے ضرورت ہے ابھی “
سعد جب سے کمرے میں آیا تھا انھیں سوچوں میں غلطہ تھا وہ اپنی گڑیا کا مرہم بننا چاہتا تھا اس کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی سعد نے ساری رات علیزے اور اپنی بدلتی زندگی کے بارے میں سوچتے ہوۓ کاٹ دی
جہاں سعد شادی کو لےکر فکر مند تھا وہاں علیزے بے فکر ہوکر اپنی نیند پوری کررہی تھی اپنی آنے والی زندگی میں ہونے والے بدلاٶں سے بے خبر سورہی تھی
