Rishte Mohabat Ke by Misbah Khalid NovelR50485 Rishte Mohabat Ke Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Rishte Mohabat Ke Episode 12
Rishte Mohabat Ke by Misbah Khalid
”ہم کہاں جارے ہیں“
علیزے کتنی بار پوچھ چکی تھی لیکن سعد کچھ بتا ہی نہیں رہا تھا بس خاموشی سے ڈراٸیو کررہا تھا
”سععععععععععععععد“
علیزے سعد کے کان کے پاس زور سے چیخی
”اففففف میرے کان علیزے پاگل ہوگٸ ہو کیا بھیرا کرو گی مجھے “
”اوہ تو سنائی دیتا ہے آپ کو کب سے پوچھ رہی ہوں کہاں جارہے ہیں آپ بتا ہی نہیں رہے “
”میری جان تھوڑا صبر کرو بس پہنچنے والے ہیں “
سعد نے پیار سے کہا تو علیزے خاموش ہوکر بیٹھ گٸ
”کاش انیک آپ بھی مجھ سے اتنی محبت کرتے جتنی سعد بھاٸی علیزے سے اور ذایان بھاٸی دعا سے کرتے ہیں کیا میں ایسے ہی تڑپتی رہوں گی آپ کے پیار کے لیے میرے نصیب میں آپ کا پیار نہیں کیا “
ردا کے دماغ میں روز اسی قسم کے سوچیں آتی تھیں وہ روز اپنے کمرے میں بیٹھ کر محبت ہوجانے کا سوگ مناتی تھی اس کی محبت کی گواہی اس کا آنسوٶں سے بھیگا تکیہ دیتا تھا
ان سب سے انجان انیک ردا کے لیے اپنے دل میں ایک غلط فہمی کی دیوار کھڑی کر چکا تھا
”واٶ سعد آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا آپ مجھے ساحل پر لانے والے تھے میں بہت خوش ہوں میرا کتنا دل تھا یہاں آنے کا سعد میں آج بہت بہت خوش ہوں“
علیزے خوشی سے چھومتی ہوٸی سعد کے سینے سے لگ گٸ
سعد پہلے تو حیران ہوا کیوں کہ علیزے کبھی بھی اس طرح اس کے قریب نہیں آٸی تھی پھر مسکرا کر علیزے کو اپنی پناہوں میں لے لیا
”اب تو ناراض نہیں ہونا مجھ سے “
”نہیں میں بہت خوش ہوں “
”تو پھر مجھے بھی خوش کردو “
”کیا مطلب آپ خوش نہیں ہو کیا “
علیزے نے سعد کے سینے سے سر اٹھا کر پوچھا
”خوش ہوں لیکن تمھاری طرح بہت زیادہ خوش ہونا چاہتا ہوں“
”وہ کیسے ہونگے“
وہ دونوں ساحل کے کنارے کھڑے ایک دوسرے میں کھو گۓ تھے
سورج کی روشنی اور دھوپ کی تپش سے بھی ان پر کوٸی اثر نہیں ہورہا تھا سمندر کی لہریں ان کے پاٶں کو چوم رہی تھیں دونوں کے پاٶں جوتوں سے آزاد تھے
سعد علیزے کو ساحل کے اس ساٸیڈ لایا تھا جہاں کوٸی نہیں تھا اسی لیے وہ دونوں لاپرواہ تھے ہر چیز سے
علیزے کی سوالیہ نظریں اب بھی سعد کے چہرے پر ٹکی تھیں
ذایان گھر پہنچ چکا تھا اس نے کوثر بیگم کو بتا دیا علیزے سعد کے ساتھ ہے کوثر بیگم کو بھی اطمینان ہوگیا تھا سعد علیزے کو منا لے گا
اب انیک بیٹھا ذایان کا سر کھا رہا تھا
”یار بھاٸی بتاٶ نہ کیسی ہے وہ اس کو تم پسند آۓ یا نہیں “
”وہ بلکل موم کی گڑیا جیسی ہے دودھ جیسی سفید کانچ سی آنکھیں مخملی گال پتلے پتلے ہونٹ میرے کندھے پر آتی ہے وہ بات کرنے کا مہذب طریقہ جب وہ مسکراتی ہے تو اور خوبصورت لگتی ہے مجھے ایسا لگتا ہے مجھے اس دنیا میں ہی حور مل گٸ ہو“
ذایان دعا کو اپنی سوچو میں مسکراتا دیکھ رہا تھا خود بھی مسکرا رہا تھا
”بھاٸی دعا گنجی ہے کیا “انیک کی بات پر ذایان کو جھٹکا لگا
”کیا بکواس کررہا ہے یہ“
”تو تم نے سب کچھ بتایا یہ نہیں بتایا اس کے بال کیسے تھے “
”ہاں تووہ سر پر چادر اوڑھی تھی کیسے دیکھتا اس کے بال “
ذایان نے انیک کو گھورتے ہوۓ کہا
”اوہ اچھا “انیک مسکرا دیا
”مجھے میٹھا کھانا ہے پھر میں بھی تمھاری طرح خوش ہوجاٶں گا “
سعد نے علیزے کے ہونٹوں پر انگلی پھیرتے ہوۓ کہا
سعد کی بات کا مطلب سمجھ کر علیزے کی نظریں شرم سے جھک گٸ
سعد نے علیزے ٹھوڈی انگلی سے اوپر کی علیزے کی آنکھیں ابھی بند تھیں مگر اس نے کوٸی مزاحمت نہیں کی تھی نہ ہی وہ پیچھے ہٹی تھی
سعد کو اجازت مل گٸ تھی اور سعد آہستہ آہستہ اس کے لبوں پر جھک رہا تھا علیزے کے ہاتھ سعد کے کندھوں پر تھے سعد کا لمس اپنے ہونٹوں پر محسوس کرکے اس نے سعد کی شرٹ اپنی مٹھی میں قید کرلی تھی
سعد نے اپنا منہ میٹھا کرکے علیزے کو ذور سے اپنی بانہوں میں بھیچ لیا تھا
وہ بھی شرماٸی شرماٸی سی سعد کے سینے میں منہ چھپا گٸ وہ دونوں کچھ وقت وہاں گزار کر سمندر کو اپنی محبت کا گواہ بنا کر گھر آگۓ تھے سعد علیزے کو گھر چھوڑ کر واپس آفس چلا گیا تھا
”کہاں لے کر گۓ تھے بھاٸی تمھیں“
انیک نے اس طرح پوچھا جیسے علیزے کی کوٸی پکی سہیلی ہو
”انیک بھاٸی پوچھیں نہیں بس آج تو وہ مجھے میری فیوریٹ جگہ لے کر گۓ تھے ساحل پر“
علیزے نے چہکتے ہوۓ کہا
”واہ بھٸ میری گڑیا کے تو مزے آگۓ“
ذایان نے بھی ان کی باتوں میں حصہ لیا
”مزے تو آپ کے بھی آۓ ہیں بھابی سے جو ملاقات ہوٸی ہے “
علیزے نے ذایان کو چھیڑا
”ارے چپ پگلی مما نے سن لیا تو ابھی جھاڑو سے ستاٸی کردیں گی میری“
ذایان نے علیزے کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا
انیک نے قہقہ لگایا علیزے نے بھی ذایان کا ہاتھ ہٹایا اور ہسنے لگی ذایان بھی ان دونوں کو دیکھ کر ہنسنے لگا
”ارے سعد کہا رہ گیا ہے میرا بچہ ابھی تک نہیں آیا“
کوثر بیگم پریشان سی ادھر اُوھر چکر لگا رہیں تھیں
”آج علیزے بیگم کو منانے کے چکر میں بھاٸی نے جو ٹاٸم خراب کیا ہے اس کی بھرپاٸی کررہے ہونگے وہ“
انیک نے کہا
”چپ کرو تم خبردار جو تم نے نظر رکھی ان کی محبت پر میرے بچوں کی محبت ہمیشہ قاٸم رہے “
کوثر بیگم نے انیک کو جھاڑا
”آمییییین میری پیاری مما میری گڑیا اور میرا بھاٸی ہمیشہ خوش رہیں “
ذایان نے ماں خود سے لگاتے ہوۓ کہا
”آمین مجھے بھی گلے لکا لیں مما“
انیک کو بھی ماں سے لاڈ اٹھوانے کا خیال آیا
”آجاٶ تم تمھیں کس نے منا کیا ہے “
کوثر بیگم نے بانہیں پھیلاٸی
انیک بھی مسکراتا ہوا کوثر بیگم کے کندھے سے لگ گیا
”مما یہ آپ کی بیٹی کہاں غاٸب ہے اس نے میرے کپڑے بھی نہیں نکالے کہاں چھپی بیٹھی ہے یہ“
سعد ابھی گھر آیا تھا لیکن اپنی پیاری بیوی کو دیکھنے کے لیے تڑپ رہا تھا جو ناجانے کہاں چھپی بیٹھی تھی
”بیٹا میں نے اسے چھت پر کپڑے لینے بھیجا تھا ابھی تک نہیں آٸی میں تو سمجھ رہی تھی آگٸ ہوگی“
کوثر بیگم نے جواب دیا
”اچھا میں دیکھ کر آتا ہوں “
سعد چھت پر چلدیا
چھت پر اندھیرا تھا کپڑے ویسے ہی ٹنگے تھے ”علیزے کہاں گٸ“ سعد بڑبڑایا
”علیزے میری جان کہاں ہوتم “
”سعد “
علیزے سعد کی آواز سن کر کسی کونے سے نکل کر آٸی اور سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
سعد کا تو دل باہر آنے کو تھا
”کیا ہوا میری جان تمھیں ایسے کیوں رو رہی ہو “
علیزے بس روۓ جارہی تھی
”پلیز بتاٶ کیا ہوا ہے کیوں جان نکال رہی ہو میری بتاٶ نہ کیا ہوا “
سعد نے علیزے کا آنسوٶں سے بھیگا چہرا ہاتھوں میں لے کر پوچھا
”وہ سعد وہ وہ کالی بلی وہ وہاں وہ مجھے گھور رہی تھی اس کے پاس پتا نہیں کیا تھا وہ کھا رہی تھی اس نے میرا راستہ روک لیا تھا میں بہت ڈر گٸ تھی“
علیزے دوبارہ رونے لگی
”نہیں نہیں میری جان ایسے نہیں روتے بلی تو ہے بس کہاں ہے مجھے بتاٶ کہاں ہے ابھی بتاتا ہوں میں اس کو اس نے میری جان کو رولایا“ سعد نے پیار سے علیزے کو خود سے لگایا
”وہ وہاں ہے پہلے یہی بیٹھی تھی سیڑھیوں کے پاس آپ آۓ تو وہاں بھاگ گٸ“
علیزے نے ڈرتے ڈرتے بتایا
”اچھا ابھی دیکھتا ہوں میں“
سعد نے ٹاٶزر کی جیب سے موبائل نکالا اور ٹارچ اس طرف کی جہاں بلی تھی وہ سچ میں بہت ڈراٶنی بلی لگ رہی تھی اس کی آنکھیں اندھیرے میں چمک رہیں تھیں وہ کہی سے چوہا مار کر لاٸی تھی اور کھانے میں مصروف تھی
”سعد پلیز نیچے چلیں مجھے ڈر لگ رہا ہے “
”ٹھیک ہے چلتے ہیں “
”ذایان انیک جلدی چھت پر آٶ “
سعد کی آواز سنتے ہی ذایان انیک بھاگے بھاگے چھت پر آۓ
”جی بھاٸی “
”وہ دیکھوں بلی اس کو بھگاٶ اور یہ کپڑے اتار کر لے آٶ “
”جی بھاٸی “
سعد علیزے کو خود سے لگاۓ نیچے لے گیا
”بھاٸی یہ بلی ہے یا بلی کے روپ میں چڑیل“ انیک نے بلی کا معاٸنہ کرتے ہوۓ کہا
”آبے یار انیک کیوں ڈرا رہا ہے جاوہ ڈنڈی اٹھا بھاگا اس کو میں کپڑے اتارتا ہوں“
”ہممم ٹھیک ہے بھاٸی “
انیک ایک چھوٹی ڈنڈی اٹھا کر بلی کو ماری تو بلی بھاگنے کے بچاۓ غرانے لگی
”بھاٸی یہ تو سچ میں چڑیل ہے جا ہی نہیں رہی “انیک نے ڈرتے ہوۓ کہا
”وہ اٹھاٶ “
ذایان نے ایک ڈنڈے کی طرف اشارہ کیا
”اٹھا لیا اب کیا کروں“
” اب لگاؤ اس کے ایک“
ذایان کے حکم دیا
انیک نے ڈنڈا مارنے کے لیے اٹھایا ہی تھا
بلی اپنا کھانا اٹھا کر بھاگ لی
”آہ بلا ٹلی اب چلیں نیچے بھاٸی “
”یہ کپڑے وہ بلی نہیں اتارے گی ہمیں اتارنے ہیں اترواٶ اب “
انیک منہ بناتا کپڑے اتارنے میں مصروف ہوگیا
”کیا ہوا میری بچی کو کیوں رو رہی ہے “
کوثر بیگم علیزے کی آواز کر کچن سے نکل آٸیں
”مما بلی سے ڈر گٸ یہ بلی بھی سچ میں بہت خطرناک تھی“
سعد نے علیزے کے آنسو صاف کرتے ہوۓ کہا
”تم ابھی تک رو رہی ہو اب تو تمھارا کام ہم نے کردیا اب کیوں رہ رہی ہو ہم سے کام کروانا تھا تو ایسے ہی بول دیتی“
انیک نے آتے ہی علیزے پر چڑھاٸی کردی
”دیکھیں نہ سعد یہ کیا بول رہے ہیں میں سچ میں ڈر گٸ تھی “
علیزے نے روتے روتے سعد سے شکایت کی
”اوۓ میری جان کو کچھ نہیں بولو“
سعد نے مصنوعی غصہ دیکھایا
انیک مسکرانے لگا
”ارے میری پیاری گڑیا رونا تو بند کرو ہم یہ کپڑے طے کرکے الماری میں بھی رکھ دیں گے“ ذایان نے پیار سے کہا
”ہاں ذایان اور سعد بھاٸی کرے گے یہ کام میں تو پیپر کی تیاری کرونگا کل پیپر ہے میرا “
انیک نے ذایان کو گھورتے ہوۓ دانت پیس کر کہا
”چلو تم لوگ یہ بحث ختم کرو کھانا کھالو “ کوثر بیگم نے سب چپ کروایا
سب نے ہنستے کھیلتے کھانا کھایا پھر سب اپنے کاموں پر لگ گۓ
انیک پڑھاٸی کرنے چلا گیا روم میں
سعد ذایان علیزے ٹی وی دیکھ رہے تھے کوثر بیگم اپنے کمرے میں سونے چلی گٸیں تھیں
”اہم اہم کیا بات ہے بڑا چپک چپک کر بیٹھا جارہا ہے“
ذایان نے علیزے کو سعد کے کندھے پر سر رکھے بیٹھا دیکھا تو بولے بغیر نہ رہ سکا
”کیوں میرے شوہر ہیں میں نہیں بیٹھ سکتی کیا ان کے ساتھ “
علیزے خالص بیوی والے انداز میں بولی
”بھاٸی کیا جادوں کردیا آپ نے اس پر آپ کو چھوڑ ہی نہیں رہی آج“
ذایان نے اب سعد کو نشانہ بنایا
”توں نہیں سمجھے گا یہ میاں بیوی کی محبت ہے “
سعد نے علیزے کو پیار سے دیکھتے ہوۓ کہا
”واہ بھٸ میں بھی جلد بیوی والا ہوجاٶں گا پھر مجھے بھی پتا چلے گا میاں بیوی کا پیار کیا ہوتا ہے ہاۓ دعا جلدی سے آجاٶ میرے پاس“
ذایان نے دل پر ہاتھ رکھ آہ بھری
”پہلے رشتہ تو لے کر جانے دو بیوقوف دعا سے بات کی تم نے اس نے بات کی اپنی امی سے“ سعد نے ذایان سے ہی سوال جواب شروع کردیے
”میسیج تو کیا تھا میں نےاسے اس نے جواب نہیں دیا اس جلاد بھابی نے اس کو کام میں لگا رکھا ہوگا “
ذایان نے برا سا منہ بناتے ہوۓ کہا
”ہممم چلو پھر تم انتظار کرو ہم روم میں جارہے ہیں “
سعد نے علیزے کا ہاتھ پکڑ کر کہا
”ہممم ٹھیک ہے گڈ ناٸیٹ“
”یہ آپ لیپ ٹاپ کس خوشی میں لے کر بیٹھ رہے ہیں“
سعد نے لیپ ٹاپ کو ہاتھ ہی لگایا تھا علیزے کے ماتھے پر بل پڑ گۓ
علیزے سے برداشت نہیں ہوا جو ٹاٸم اس کا تھا وہ لیپ ٹاپ کو دینے کے چکر میں تھا
”اب تم کس وس تو دیتی نہیں باتوں پر ٹرکاتی ہو اس سے اچھا میں لیپ ٹاپ لے کر نا بیٹھ جاؤں جو میری انگلیوں پر چلتا ہے “
سعد نے بیڈ پر نیم دراذ ہوکر کہا لیپ ٹاپ اس نے پیٹ پر رکھا تھا اور اس میں کچھ ٹاٸپ کرنے میں مصروف ہوگیا تھا
علیزے سعد کو چھوٹی آنکھیں کرکے گھور رہی تھی
ماتھے بر بکھرے بال شہزادوں جیسا نین نقش کٹاٶ دار ہونٹ اس کی آستینوں سے جھانکتے اس کے کسرتی بازوں سہی معنوں میں علیزے نے اپنے ہینڈسم شوہر پر نظرِ کرم فرمایا تھا علیزے کو آچ اپنے اوپر رشک ہوا تھا
”اتنا خوبصورت شخص اس کو ملا ہے بنا مانگے اس کو ایک بہترین جیون ساتھی مل گیا تھا “
سعد علیزے کی نظریں خود پر محسوس کررہا تھا لیکن خود ہی لاپروا بنا بیٹھا رہا
علیزے بے خود سی اس کے پاس گٸ اور لیپ ٹاپ اس کے ہاتھ سے لے کر ساٸیڈ ٹیبل پر رکھا سعد خاموشی سے اسکا بدلہ بدلہ روپ دیکھ رہا تھا
علیزے نے آگے بڑھ کر سعد کا چہرا اپنے ہاتھوں میں لیا جو بامشکل اس کے ہاتھوں میں آیا اور پھر باری باری سعد کے دونوں گالوں پر اپنے لب رکھے پھر شرما کر سعد کی سینے میں منہ چھپا لیا
”میری جان کو شرم آگٸ “
سعد نے محبت سے علیزے کو خود میں بھیچ لیا
”زندگی کہاں ہو پلیز جواب تو دو جب سے مل کر گٸ ہو بات ہی نہیں کی تم نے مجھ سے“ ذایان نے دکھی دل کے ساتھ دعا کو میسیج کیا
”آٸی ایم سوری ذایان میں بزی تھی آج کپڑے دھوۓ تھے تو اسی میں پورا دن ہوگیا امی سے بھی بات نہیں کرپاٸی“
ذایان کو دعا کا میسیج موصول ہوا
” میسیج دیکھ کر ذایان کا دل جھوم اٹھا
”میری جان تو بتا دیتی تم جانتی ہو میں کتنا ڈر گیا تھا مجھے لگا تمھیں میں اچھا نہیں لگا “
”سوری ذایان مجھے یاد نہیں رہا آپ پریشان نہیں ہوا کریں میں آپ کی محبت کی عزت کرتی ہوں میں نے آپ کے چہرے سے نہیں آپ کے دل سے پیار کیا ہے آپ کی شرارتوں سے پیار کیا ہے آپ کے مذاق سے پیار کیا ہے “
”ارے واہ میری تو لاٹری لگ گٸ تم نے آج بتا ہی دیا کہ تم مجھ سے پیار کرتی ہو “
”آہ یہ میں نے کیا کیا“
دعا نے ماتھے پر ہاتھ مارا اور خود کلامی کی
”جی زبان سلپ ہوگٸ“
دعا نے بے چارگی سے کیا
”کوٸی بات نہیں مجھے بہت اچھا لگا “
ذایان خوش ہوا
”اچھا آپ مجھے اپنے بھاٸی بھابی کے بارے میں بتائيں آپ کی بھابی اتنی چھوٹی اور بھاٸی اتنے بڑے پھر بھی دونوں میں اتنی محبت ہے “
دعا کو بہت تجسس تھا آخر کیسے ذایان کے بڑے بھاٸی نے اتنی چھوٹی لڑکی سے شادی کی ان کی زندگی میں سب کچھ اتنا اچھا کیسے ہے
”ہاں کیوں نہیں تو سنو“
ذایان نے شروع سے لے کر آخر تک ساری کہانی دعا کے گوش گزار کی
”واٶ بلکل مووی جیسا ہوا ہے ان کے ساتھ تو ذایان آپ کتنے لکی ہیں آپ کے آس پاس کتنے پیار کرنے والے لوگ رہتے ہیں“
دعا دل سے خوش ہوٸی تھی
”زندگی تم بھی بہت جلد ان پیار کرنے والے لوگوں کے بیچ آنے والی ہو “
ذایان نے دعا کو چھیڑا
”اچھا میں سورہی ہوں تھک گٸ ہوں “
بہت دعا سچ میں بہت تھک گٸ تھی
”اچھا ٹھیک ہے سوجاٶ خواب میں آکر تنگ کروں گا “
”ٹھیک ہے اللہ حافظ “
”اللہ حافظ زندگی “
اور پھر دونوں اپنی آگے کی زندگی کے خواب بنتے نیندوں کی وادیوں میں کھو گۓ
”چھوڑو مجھے کہاں لے جارہے ہو سعد آپ کہاں ہیں دیکھیں نہ یہ مجھے اپنے ساتھ لے جارہا ہے سعد پلیز مجھے بچا لیں ذایان بھاٸی مما انیک بھاٸی کوٸی کیوں نہیں سن رہا میری آواز پلیز میری مدد کریں چھوڑو مجھے “
ہر طرف اندھیرا تھا علیزے کو کچھ نہیں نظر آرہا تھا سامنے کون ہے بس اس اتنا محسوس ہورہا تھا کوٸی اس کی کلاٸی پکڑے اسے کھینچ رہا ہے
”چھوڑو مجھے سععععد پلیز آجاٸیں“
علیزے کی چیخو پکار جاری تھی کہ اتنے میں علیزے کے خوبصورت چہرے پر کسی نے زور دار تھپڑ مارا علیزے زمین پر کرگٸ اور پھر کوٸی اس کی کلاٸی پکڑ اسے پھر کھینچ رہا تھا
”چھوڑو مجھے سعد بچاؤ ذایان بھاٸی بچاؤ“ علیزے نیند میں بڑبڑا رہی تھی
سعد علیزے کے برابر میں بیٹھا تھا وہ علیزے کو سولا کر اپنے کام میں لگ گیا تھا
علیزے کو بڑبڑاتے دیکھا تو اس کے قریب آکر اس کو ہلایا
”علیزے علیزے اٹھو کیا ہوا ہےعلیزے ہوش میں آٶ “
سعد نے علیزے کے دونوں کندھے پکڑ کر زور سے جھنجوڑا
علیزے ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی
”کیا ہوا میری جان“
سعد نے فکر مندی سے پوچھا
”سعد“
علیزے سعد کے گلے لگ گٸ
”سعد وہ مجھے لے جارہا تھا اس نے مجھے مارا میں نے آپ کو کتنا بلایا آپ نہیں آۓ“
”کس نے مارا تمھیں“
سعد نے علیزے کو خود سے دور کرکے اپنے سامنے کیا
”وہ وہ مجھے نہیں پتا آپ نہیں آۓ “
”میری جان سنبھالو خود کو کیا ہوگیا ہے “
سعد نے پیار سے علیزے کے چہرے پر بکھرے بال پیچھے کیے سعد کو ایک دم سے جھٹکا لگا
علیزے کے داٸیں رخسار پر انگلیوں کے نشان چھپے ہوۓ تھے
سعد نے علیزے کے گال پر ہاتھ پھیرا تو علیزے کی زبان سی کی آواز نکلی یعنی اس کو درد ہورہا تھا
”درد ہو رہا ہیں یہاں “
سعد نے اپنی پھول سی بیوی کی حالت دیکھ کر کرب سے پوچھا
”ہاں اور یہاں بھی ہورہا ہے“
علیزے نے اپنی کلاٸی آگے کلاٸی دیکھ کر وہ خود بھی حیران رہ گٸ کلاٸی پر بھی انگلیوں کے نشان تھے
”خواب میں کیا دیکھا تم نے “
سعد نے بے تاثر لیجے میں پوچھا
علیزے نے روتے روتے پورا خواب سعد کو سنا دیا
”اٹھو مما کے پاس چلتے ہیں “
سعد نے نرمی سے کہا اور علیزے کو کسی قیمتی شے کی طرح سنبھال کر روم سے باہر لے گیا
”یہاں بیٹھو تم “
سعد نے علیزے کو صوفے پر بیٹھایا خود کوثر بیگم کے روم کے پاس جاکر انھیں آواز دینے لگا تاکہ وہ اٹھ جاٸیں
”کیا ہوا بیٹا اتنی رات کو کیا کام پڑ گیا تمھیں“ کوثر بیگم نے بالوں کا جوڑا بناتے ہوۓ دروازہ کھولا
”مما وہ علیزے دیکھیں اسے آکر “
سعد کی آنکھوں میں دکھ صاف نظر آرہا تھا
”کیاہوا میری بچی کو “
کوثر بیگم نے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا اور صوفے پر بیٹھی علیزے کی طرف بھاگیں
لیکن علیزے کے چہرے پر نشان دیکھ کر وہ ٹھٹکی
”سعد تم جانور ہوگۓ ہو یہ کیا کیا تم نے شرم نہیں آٸی تمھیں یہ سب کرتے ہوۓ میری بچی کا کیا حال کردیا ہے تم نے “
کوثر بیگم کی آواز اور غصہ ساتویں آسمان کو چھو رہا تھا
شور سن کر ذایان انیک بھی کمرے سے نکل آۓ
”مما میں نے کچھ نہیں کیایہ تو“۔۔
سعد نے صفائی پیش کرنی چاہی
”بس کردو تم سعد اسکی حالت دیکھو کیا کردی تم نے ذرا ترس نہیں آیا تمھیں اس معصوم پر“
کوثر بیگم بولتی بولتی علیزے ساتھ ہی بیٹھ گٸیں
”مما سعد نے کچھ نہیں کیا سعد کو کچھ نہیں کہیں پلیز “
”علیزے تم اس کی غلطی پر پردہ مت ڈالو اس کا زیادہ دماغ خراب ہوگیا ہے“
ذایان انیک نے آگے بڑھ کر علیزے کا حال دیکھا تو ان کا بھی پارہ ہاٸی ہوگیا
”بھاٸی یہ کیا کیا آپ نے میری بہن کے ساتھ کیوں کیا آپ نے ایسا“
ذایان نے غصے میں کہا
”بھاٸی آپ نے بہت غلط کیا مجھے آپ سے یہ امید نہیں تھی“
انیک بھی آج پیچھے نہ رہا
سعد مجرموں کی طرح سب کی باتیں سن رہا تھا کوٸی اس کی بات سننے کو تیار نہیں تھا
”بس کریں آپ لوگ میرے سعد نے کچھ نہیں کیا “
علیزے صوفے سے کھڑے ہوکر سب کو چپ کروایا
سب ایکدم چپ ہوگۓ
علیزے سعد کے پاس گٸ اور پیار سےاسکا ہاتھ میں تھاما
”سعد نے کچھ نہیں کیاآپ سب کو غلط فہمی ہوٸی ہے “
اس کے بعد علیزے نے خواب والا سارا واقع سب کو بتا دیا
سب اپنی اپنی جگہ پر شرمندہ سے ہوگۓ
”بیٹا خواب میں ایسا کیسے ہو سکتا ہے میرے تو سمجھ نہیں آرہا “
کوثر بیگم نے حیرانگی سے کہا
”میں کب سے سب کو یہ ہی سمجھانے کی کوشش کررہا تھا لیکن کوٸی میری سن ہی نہیں رہا تھا “
سعد نے بھی غصہ نکالا
”بیٹا معاف کردو ہمیں غلطی ہوگٸ “
کوثر بیگم نے آگے بڑھ کر سعد چہرا اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا
”کوٸی بات نہیں مما آپ پلیز علیزے کو دیکھیں کیا ہوا ہے کچھ کریں“
پلیز سعد نے بے چارگی سے کہا
”ذایان بیٹا تم جاؤ مولوی صاحب کو بلا کر لاٶ مجھے کوٸی اثرات لگ رہے ہیں چھت پر یہ ڈر گٸ تھی نہ کالی بلی سے “
کوثر بیگم نے ذایان کو حکم دیا
ذایان نے فوراً حکم کی تعمیل کی اور نکل گیا گھر سے
”علیزے یہاں آٶ بیٹھو تم“
سعد نے علیزے کو کندھے سے پکڑ کر صوفے پر بیٹھایا خود بھی اس کے ساتھ بیٹھ گیا
”سوری بھاٸی “
انیک سعد کے قدموں میں بیٹھ گیا سعد کے کھٹنے پر ہاتھ رکھ کر شرمندہ ہوا
”کوٸی بات نیہں چھوٹے“
سعد نے پیار سے انیک کا گال تھپتھپایا
”بھاٸی گڑیا ٹھیک ہوجاۓ گی آپ ایسے اداس نہ ہو“
انیک نے اپنے بھاٸی کو دیکھا جس کے چہرے پر اداسی اپنا ڈیرا جماۓ بیٹھی تھی
”ہمم ٹھیک ہوجاۓ گی“
سعد بامشکل مسکرایہ
کوثر بیگم بھی پریشان سی صوفے پر بیٹھی تھیں
کچھ دیر میں ذایان مولوی کو لے آیا جو ایک گلی چھوڑ کر ہی رہتے تھے
مولوی صاحب سے سلام دعا کے بعد سعد نے علیزے کے بارے میں بتایا
مولوی صاحب نے تھوڑی پڑھاٸی کی اور علیزے پر دم کیا
”آپ اس بچی کو کمرے میں لے جاٸیں آرام کرواٸیں “
”سعد بیٹا تم مجھے اپنا کمرہ دیکھاٶ “
سعد مولوی صاحب کو کمرے میں لے گیا
مولوی صاحب نے کمرے کا اچھی طرح جاٸزہ لیا پھر کچھ پڑھ کر کمرے پر پھونک دیا
”بیٹا سعد علیزے بٹیاں پر کسی نے کالا علم کروایا ہے اور اس کمرے میں بھی اب تم اس کو اس کمرے میں نہیں لانا تم بس اپنا اور اپنی بیوی کا ضرورت کا سامان لے لو پھر اس کمرے کو دم کرکے بند کردوں گا “
”جی مولوی صاحب“
سعد نے اپنا ضروری سامان جمع کرنا شروع کردیا لیکن جیسے ہی سعد نے علیزے کی الماری کھولی تو سعد کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گٸیں
علیزے کے کپڑوں پر خون کے دھبے تھے جگہ جگہ سعد نے مولوی صاحب بتایا تو انھوں نے سعد کو ہدایت کی کہ علیزے کا سامان چھوڑ کر صرف اپنا لو اور یہاں سے نکلو
سعد نے اپنا سامان لیا اور باہر آگیا
مولوی صاحب نے دم کر کے دروازہ بند کردیا اور ایک ڈوری پڑھ کر دروازے پر باندھ دی
”سعد بیٹا یہ کمرا نہیں کھولنا نہ اپنی بیوی کو یہاں آنے دینا یہ کام میرے بس کا نہیں میں اسے روک سکتا ہوں ختم نہیں کرسکتا میرے ایک دوست ہیں وہ عامل ہیں وہ شہر سے باہر گۓ ہوۓ ہیں وہ جیسے ہی آۓ گے میں ان کو لے کر آٶں گا تب تک تم اس بچی کو یٰس کا پانی پلاٶ “
مولوی صاحب نے سعد کو آگاہ کیا
”ٹھیک ہے مولوی صاحب شکریہ آپ کا بہت بہت “
مولوی صاحب واپس چلے گۓ سعد کوثر بیگم کے کمرے میں چلا گیا جہاں علیزے تھی
”اب کیسی ہو تم “
سعد نے علیزے کے پاس بیٹھتے ہوۓ پوچھا
”ٹھیک ہوں لیکن درد اب بھی ہورہا ہے “
”کوٸی بات نہیں ٹھیک ہوجاۓ گا تم آرام کرو“ سعد نے علیزے کو لیٹا دیا
”مما میں ذایان کے روم میں ہوں آپ اس کا خیال رکھیے گا “
”ٹھیک ہے بیٹا تم جاٶ“
سعد ذایان کے روم میں آگیا
”علیزے بیٹا سوجاٶ کب سے کرواٹیں بدل رہی ہو “
کوثر بیگم کب سے دیکھ رہی تھیں علیزے سو نہیں پارہی تھی
”وہ مما وہ سعد کو بلادیں مجھے نیند نہیں آتی ان کے بغیر“
علیزے نے ہیچکچاتے ہوۓ کہا
کوثر بیگم کو بہت خوشی ہوٸی وہ ایسا ہی تو چاہتی تھی اس رشتے کو قبول کرلیں اور ان کے درمیان محبت کی ایک مضبوط ڈور بندھ جاۓ
”اچھا میں بلاتی ہوں اس کو“
کوثر بیگم اٹھ کر روم سے باہر چلی گٸیں
”سعد بیٹا “
کوثر بیگم نے ذایان کے روم میں داخل ہوتے ہی سعد کو آواز دی
”جی مما “سعد ایکدم اٹھ گیا
”وہ بیٹا تم علیزے کے پاس سوجاٶ میں سوجاٶں گی ذایان کے پاس اس کو نیند نہیں آرہی تمھارے بنا “
”ہاں تو ان کو کونسی نیند آرہی ہے اتنی دیر ہوگٸ نہ خود سورہے ہیں نہ مجھے سونے دے رہے ہیں“
ذایان کب سے سعد کی حرکتیں برداشت کررہا تھا
سعد کبھی اٹھ کر بیٹھ جاتا کبھی کمبل اوڑتا کبھی اتار دیتا کبھی اٹھ کر ٹہلنے لگ جاتا
”ہاں ہاں جارہا ہوں مرو تم یہاں“
سعد ذایان کو جھاڑتا روم سے نکل گیا
”علیزے“
سعد نے روم میں قدم رکھتے ہی علیزے کو پکارا جو بیڈ پر اس کے انتظار میں بیٹھی تھی
”آپ آگۓ میں آپ کا انتظار کررہی تھی“
علیزے کو مسکراتا دیکھ کر سعد کے بے چین دل کو قرار آیا
وہ مسکراتا ہوا اس کے پاس جاکر بیٹھ گیا
”ٹھیک ہو نہ تم “
سعد نے علیزے کی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ پوچھا
”میں ٹھیک ہوں آپ پریشان نہیں ہو“
علیزے نے مسکراتے ہوۓ کہا
”سوجاٶ اب رات بہت ہوگٸ ہے “
سعد نے علیزے کا ماتھا چوما اور علیزے کو اپنی بانہوں میں بھر کر لیٹ گیا
علیزے سعد کے سینے پر سر رکھے آنکھیں موند گٸ
”ایک نۓ دن کی شرواعات ہوٸی تھی اور علیزے کے لیے ایک نٸ مصیبت بھی آگٸ تھی “
علیزے نے آنکھ کھولی تو خود کو کوثر بیگم کے روم میں پایا
”میں یہاں کیا کررہی ہوں یہ تو مما کا روم ہے مما کہاں ہیں “
علیزے نے سوچا
پھر وہ اپنے روم میں جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوٸی
اپنے روم کے پاس پہنچی تو اسے دروازے پر آیک ڈوری بندھی نظر آٸی
”افففف یہ ذایان بھاٸی انیک بھاٸی تو کوٸی موقع ہاتھ سے نہیں چھوڑتے دروازے پر ڈوری ہی باندھ دی اور کچھ نہیں تو “
علیزے نے خود کلامی کرتے ہوۓ دروازہ کھولا اور روم میں داخل ہوگٸ
علیزے نے کپڑوں کی الماری کھولی تو اپنے کپڑوں کا حال دیکھ کر گھبرا گٸ وہ کمرے کے دروازے تک بھاگی لیکن روم کا دروازھ دھڑام سے بند ہوا علیزے نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی لیکن نہیں کھولا علیزے کے اوسان خطا ہونے لگے
”سععععد سععععععد ذایان بھاٸی انیک بھاٸی مما دروازہ کھولیں“
علیزے کمرے سے آوازیں لگا رہی تھی لیکن کوٸی آواز نہیں سن رہا تھا
” سععععد دروازہ کھولیں “
کمرے میں لاٸٹ ایکدم سے بندھ ہوگٸیں تھی ”سععععد مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے پلیز آجاٸیں سععععد “
علیزے بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہی تھی دروازہ پیٹ رہی تھی
سعد کی آنکھ کھولی تو علیزے نیند کی حالت میں سر کو داٸیں باٸیں گھوما رہی اپنے ہاتھ بیڈ پر مار رہی تھی سعد مجھے بچالیں مجھے بچالیں سعد سعد
سعد علیزے کی طرف لپکا
”علیزے اٹھو میری جان علیزے اٹھو کیا ہوا تمھیں اٹھو آنکھیں کھولو “
لیکن علیزے اٹھ ہی نہیں رہی تھی
سعد نے جگ میں سے پانی لیا اور علیزے کے چہرے پر پانی چھڑکا
علیزے ہڑبڑا کر اٹھ گٸ
”کیا ہوا “سعد نے پوچھا
”سعد وہ “
علیزے سے کچھ بولا ہی نہیں گیا اور روتے سعد کے گلے لگ گٸ
علیزے کی حالت دیکھ کر سعد کا دل چاہا علیزے کو اپنے دل کے کسی کونے میں چھپا لے
”علیزے بس میری جان سب ٹھیک ہوجاۓ گا ایسے نہیں روتے “
سعد علیزے کی پشت سہلا رہا تھا
”سعد مجھے ڈر لگ رہا ہے بہت پلیز آپ کہی نہیں جایے گا مجھے چھوڑ کر“
علیزے نے سعد کے سینے میں منہ چھپاۓ روتے روتے کہا
”نہیں جارہا میں کہی یہی ہوں تم رونا بند کرو اٹھو فریش ہو پھر ساتھ ناشتہ کرتے ہیں“
سعد نے پیار سے کہا اور علیزے کو نرمی سے خود سے دور کیا
”ہمم ٹھیک ہے“
علیزے بیڈ سے اٹھ گٸ فریش ہونے واشروم گٸ
علیزے نے نلکا کھولا اور منہ دھونے لگی لیکن جب اس نے شیشے میں دیکھا تو اس کے چہرے پر خون لگا تھا
”سعد خون سعد خون “
علیزے بھاگی بھاگی واشروم سے باہر آگٸ
”کیا ہوا “
سعد نے علیزے کے دونوں بازوں پکڑ کر پوچھا
”سعد خون میرے چہرے پر خون لگا ہے “علیزے نے چہرا ہاتھوں سے رگڑتے ہوۓ کہا
”پاگل ہوگٸ ہو کیا کچھ بھی نہیں ہے “
”سعد لگا ہے میں نے ابھی دیکھا “
”اچھا ادھر آٶ “
سعد نے علیزے کو لے جا کر شیشے کے سامنے کھڑا کردیا
”دیکھو کہاں ہے خون صاف ہے تمھارا چہرا “
”ابھی نہیں ہے پہلے تھا “
علیزے نے سر جھکا کر کہا
”اچھا آجاٶ پہلے ناشتہ کرو“
سعد علیزے کو خود سے لگاۓ روم سے باہر نکلا
آج یہ لوگ لیٹ اٹھے تھے انیک اور ذایان اپنے اپنے کاموں پر جاچکے تھے
”بچوں تم اٹھ گۓ آجاٶ ناشتہ کرو “
کوثر بیگم نے مسکراتے ہوۓ کہا
”مما آپ رہنے دیں آج میں اپنی جان کو باہر سے ناشتہ کرواٶں گا اور شوپینگ بھی“
سعد نے پیار سے علیزے کو دیکھتے ہوۓ کہا
”چلو اچھی بات ہے تم لے جاؤ اس باہر ذرا ذہن فریش ہوگا اس کا “
سعد علیزے کو لےکر باہر نکل گیا
باہر اس نے ناشتہ کروایا علیزے کو شوپینگ کرواٸی علیزے پرسکون تھی اسے اب ڈر نہیں لگ رہا تھا
لیکن کسی کی نظروں نے ان دونوں کو ساتھ خوش دیکھ کر اپنے شیطانی دماغ میں نیا پلین بنایا تھا
”امی مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے “
دعا ظہر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوٸی تھی اپنے دل کی بات بتانے رفعت بیگم کے پاس آکر بیٹھ گٸ تھی
”وہ امی وہ مجھے وہ “
”اری بول کیا ہوگیا ہے اتنا گھبرا کیوں رہی ہے“ رفعت بیگم نے گھبراٸی ہوٸی دعا کو دیکھا
”وہ امی وہ“
دعا مسلسل اپنی انگلیاں مروڈ رہی تھی
”اری کیا بات کرنی ہے انگلیاں مرورڑنا تو بند کر اپنی توڑے گی کیا “
”امی کیسے بتاٶ سمجھ نہیں آرہا آپ غصہ تو نہیں کریں گی نہ“
دعا نے ہچکچاتے ہوۓ کہا
”کہی کوٸی لڑکا وڑکا تو پسند نہیں کرلیا توں نے “
رفعت بیگم نے پرسوچ انداز میں کہا
”جی امی“
دعا کی زبان سے صرف یہ ہی نکلا
”آۓ میری بچی شکر ہے توں نے کوٸی لڑکیوں والا کام تو کیا ہر وقت تو مردوں والے کام کرتی تھی میری دواٸیاں لانا روزی کمانا آج تجھے یاد آہی گیا توں لڑکی ہے “
رفعت بیگم کا ایسا ردِ عمل دیکھ کر تو دعا حیران رہ گٸ
”ایسے کیا دیکھ رہی ہے مجھے جیسے ہمارے حالات ہیں کوٸی اچھا رشتہ آتا نہیں آیا تو اس منحوس عاسم کا جو کہی سے بھی تیرے لاٸق نہیں ہے اور پھر مجھے اپنی بچی پر پورا بھروسہ ہے میری بچی کبھی کوٸی غلط فیصلہ نہیں کرسکتی اور پھر اسلام میں بھی تو حکم ہے لڑکی کی پسند جاننے کا“
رفعت بیگم نے سرعت سے سمجھایا
”امی شکریہ مجھ پر اتنا بھروسہ کرنے کے لیے“ دعا نے آگے بڑھ کر رفعت بیگم کے ہاتھ چومے
”چل اب بتا مجھے لڑکے کے بارے میں کیا نام ہے کیا کرتا ہے“
رفعت بیگم نے لڑکے کے مطالق پوچھا
”امی ان کا نام ذایان ہے آفس میں جاب کرتے ہیں اچھی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں“
”ملی کہاں توں اس سے “
”ملی تو کبھی نہیں موبائل پر دوستی ہوٸی تھی میری“
”کیا موبائل پر دوستی کرنے والے لڑکے کوٸی اچھے تھوڑی ہوتے ہیں وہ وقت گزاری کرتے ہیں بس“
رفعت بیگم نے تھوڑا سختی سے جواب دیا
”نہیں امی وہ ایسے نہیں ہیں آپ کو یاد ہے میں اس عاسم سے کتنا ڈرتی تھی “
”ہاں یاد ہے لیکن اب تو نہیں ڈرتی توں توں نے تو اس کو تھپڑ تک مارا تھا“
”آپ کو پتا ہے اتنا حوصلہ مجھ میں کہاں سے آیا ذایان سے ذایان ہیں میری ہمت امی وہ دوسروں جیسے نہیں ہیں جو لڑکی کو بس کام کرنے کی مشین سمجھیں وہ بہت الگ ہیں وہ کہتے ہیں لڑکیوں کو بہادر ہونا چاہیے ڈرپوک نہیں انھوں نے ہی مجھے بہادر بنایا ہے“
دعا نے ذایان کی تعریف کی جو لوگ مشکل سے ہی کرتے ہیں
”اچھا چل یہ بتا دیکھا ہے توں نے اس کو کیسا ہے وہ“
رفعت بیگم نے پیار سے بیٹی کا چہرا ہاتھ میں لیا
”امی وہ بلکل شہزادے جیسے ہیں جیسے آپ نے اس دن کہا تھا شہزادہ آۓ گا مجھے بیاہنے“ دعا نے مسکراتے ہوۓ کہا
رفعت بیگم نے اپنی جان سے پیاری بیٹی کو کبھی اتنا خوش نہیں دیکھا تھا وہ بیٹی کو اسطرح خوش دیکھ کر نہال ہوگٸیں تھیں
”اچھا یہ بتاٶ توں اس سے ملی کب اور مجھے بھی نہیں بتایا“
رفعت بیگم نے خفگی سے کہا
امی وہ میں نے سوچا پہلے میں مل لوں اگر وہ سچ میں اچھے ہوۓ تو میں آپ کو بتادوں گی ان کے بارے میں اور میں ان سے اکیلے میں نہیں ملی پبلک پلیس میں ملی تھی ایک آٸسکریم پالر میں انھوں نے مجھے ان کے بھاٸی بھابی سے بھی ملوایا تھا “
”کیا پہلی ملاقات میں اس نے تجھے بھاٸی بھابی سے ملوادیا “
رفعت بیگم کو حیرانگی ہوٸی
”جی امی میں اسی شرط پر تو ان سے ملنے کے لیے راضی ہوٸی تھی کہ وہ اپنی بھابی سے ملواٸیں گے مجھے امی ان کی بھابی اتنی پیاری کیوٹ سی ہیں“
دعا نے چہکتے ہوۓ کہا
”اری توں اس کی بھابی کا بتارہی ہے یا اس کے بھاٸی کی بچی کا بتارہی ہے“
”امی ان کی بھابی بچی تو ہے کیوٹ سی کم عمر ہے وہ 16 سال کی ہے بس اور ان کے بھاٸی 26 سال کے ہیں“
”کیا اس کے بھاٸی کو شرم نہ آٸی اتنی چھوٹی بچی سے شادی کرتے ہوۓ“
رفعت بیگم کے دل میں ہمدردی جاگی
”امی ان کی شادی کی ایک الگ کہانی ہے مگر امی آپ ان دونوں کو دیکھو گی نہ لگے گا ہی نہیں شادی شدہ جوڑا ہے سعد کے بھاٸی بھابی سے انھیں کے انداز میں بات کرتے ہیں مطلب وہ ایسے نہیں کرتے کہ شادی ہوگٸ ہے بڑی ہوجاٶ بچپنہ چھوڑ دو وہ بھابی کو ایسے ٹریٹ کرتے ہیں جیسے ان کے سامنے ان کی بیوی نہیں کوٸی بچی بیٹھی ہے وہ دونوں بہت خوش ہیں اپنی زندگی میں“
دعا نے اپنی ماں کو مطمعن کیا
”چل اچھی بات ہے اللہ انھیں خوش اور آباد رکھے آمین“
رفعت بیگم نے دل سے دعا کی
”اچھا اب توں ایسا کر اس لڑکے سے بول پہلے اپنی ماں سے بات کرواۓ میری پھر میں تیرے بھاٸی سے بات کروں گی “
”اچھا امی ٹھیک ہے وہ ابھی تو آفس میں بزی ہوں گے رات کو بات کروں گی“
ان سے دعا نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا
”چل ٹھیک ہے اب آرام کرنے دے مجھے اور توں بھی کرلے“
رفعت بیگم نے لیٹتے ہوۓ کہا
جی امی دعا بھی لیٹ گٸ
”یہ کہاں ہیں آپ کی بیگم “
فون سے ردا کی سخت آواز آٸی
”وہ نیند کے مزے لیں رہی ہیں آپ اتنی کیوں تپی ہوٸی ہیں میڈم “
سعد نے ہنستے ہوۓ کہا
”سعد بھاٸی آپ کو ہنسی آرہی ہے مجھے اتنا غصہ آرہا ہے اس کی وجہ سے آج اتنی ڈانٹ پڑی ہے میری ٹیچر سے“
ردا نے تپ کر کہا
”کیا میری بیگم کی وجہ سے کیوں“
سعد نے ہنسی ضبط کرتے ہوۓ کہا
”آپ کی وہ بیگم ہیں نہ کل ان کے بیگ میں نہ غلطی سے میرا پریکٹیکل چلا گیا تھا میں نے سوچا آج آۓ گی تو لے لوں گی لیکن وہ نہیں آٸی اور آج پریکٹیکل کا پریڈ تھا مس نے مجھے اتنا ڈانٹا اور کلاس سے باہر نکال دیا“
ردا روہانسی ہوگٸ تھی
”اس کی طرف سے میں سوری کہتا ہوں علیزے کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس کی وجہ سے آج میں نے آفس کی بھی چھٹی کی ہے “
سعد نے ردا کو چھٹی کی وجہ بتاٸی
” کیاااااا کیا ہوا میری پیاری دوست کو “
ردا سب کچھ بھول کر علیزے کی طبیعت کا پوچھنے لگی
”خود آکر دیکھ لو پریکٹیکل بھی لے جانا اپنا“ سعد نے ردا کو گھر آنے کی دعوت دی
ردا تو ویسے ہی تیار بیٹھی رہتی تھی ان کے گھر جانے کے لیے اس نے فوراً ہاں کردی
”اوکے بھاٸی آتی ہوں میں کھانا آپ کے ساتھ کھاٶں گی “
”ہاں کھا لینا میں مما سے دس روٹیاں ایکسڑرا پکوالوں گا “
سعد نے شرارت سے کہا
”بھاٸی میں اتنا تو نہیں کھاتی جو آپ ایسے کہہ رہے ہیں“
ردا نے صدمےسے کہا
”رہنے دو بھوکی ہو پوری تم دیکھا میں نے تمھیں کھاتے ہوۓ کھانا کھاتی کم ہو ٹھوستی زیادہ ہو“
سعد نے ردا کو تنگ کرنا شروع کردیا
”آآآ بھاٸی آپ میرے کھانے پر نظر رکھتے ہیں آپ کتنے برے ہیں جاٸیں میں نہیں آتی آپ کے گھر“
ردا نے نروٹھے پن سے کہا
”ارے ارے میری گڑیا ناراض ہوگٸ میں مزاق کررہا تھا تم تو میری پیاری بہن ہو چلو جلدی سے گھر آٶ میں انتظار کررہا ہوں “
سعد نے مان سے کہا
”اب آۓ نہ لاٸن پر آتی ہوں ابھی“
ردا نے ہنستے ہوۓ کہا
”اوکے خدا حافظ“
”خدا حافظ“
ردا موبائل رکھ کر تیار ہونے چلی گٸ
”یار بھاٸی یہ کتنا سوۓ گی اٹھاٸیں نہ اسے“ انیک کو علیزے کا ایسا سونا برا لگ رہا تھا کیونکہ وہ اپنی گڑیا کو آج ذرا بھی تنگ نہیں کرسکا تھا نہ ہی اس سے باتیں کی نہ ہنسی مزاق کیا
”چھوٹے سونے دیں یار تھک گٸ ہے رات کو بھی سہی سے سو نہیں پاتی برے برے خواب آتے ہیں اس کو“
سعد نے انیک کو پیار سے سمجھایا
”اچھا بھٸ“
انیک منہ لٹکاتا روم سے باہر نکل گیا
”کیا ہوا چھوٹے منہ کیوں لٹکایا ہوا ہے “
ذایان صوفے پر بیٹھا تھا انیک کا لٹکا منہ اس کی نظروں سے چھپ نہیں سکا
”یار بھاٸی گڑیا کب ٹھیک ہوگی دل نہیں لگ رہا اس کے بنا “
”آج بڑی فکر ہو رہی ہے اسکی ویسے اس کو تنگ کرتے رہتے ہو“
ذایان نے انیک کو چھیڑا
”ہاں کرتا ہوں لیکن پیار بھی بہت کرتا ہوں اس سے وہ ایسی سوتی ہوٸی ڈرتی ہوٸی اچھی نہیں لگتی خوش خوش کھیلتی ہوٸی اچھی لگتی ہے“
انیک نے اداسی سے کہا
