Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rishte Mohabat Ke Episode 17

Rishte Mohabat Ke by Misbah Khalid

”مما پلیز آپ میری شادی کا خیال دل سے نکال دیں مجھے نہیں کرنی شادی“

ذایان غصے سے کہتا سیدھا گھر سے نکل گیا

کوثر بیگم دکھ سے اپنے بیٹے کو جاتے دیکھتی رہ گٸیں

ذایان نے پہلی بار ابنی ماں سے اس طرح بات کی تھی

”مما پریشان نہ ہو ٹھیک ہوجاۓ گا“

سعد نےکوثر بیگم کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا

”بیٹا ایسا کیا تھا اس لڑکی میں جو یہ اسے بھولتا نہیں “

کوثر بیگم نے پوچھا

مما وہ بہت اچھی لڑکی تھی بلکل مومی گڑیا جیسی اس کو اس دنیا کی ہوا نہیں لگی ہوٸی تھی خود کو سنبھال کر رکھنا غیر مردوں کی نظروں سے خود کو بچانا جانتی تھی نیک سیرت تھی اخلاق کی بھی اچھی تھی خودار بھی بہت تھی وہ ہمارے شرارتی ذایان کے لیے ہر لحاظ سے اچھی تھی “

سعد نے دعا کے بارے میں کوثر بیگم کو بتایا تو وہ حیران رہ گٸیں ان کے ٹیڑھے بیٹے کو اتنی سیدھی سادھی لڑکی پسند آٸی

کوثر بیگم خاموش ہوچکی تھیں

ذایان گھر سے نکل کر پیدل ہی رستوں کی خاک چھاننے لگا اپنی جینس کی پینٹ میں ہاتھ ڈالے وہ لاپروہ سا سنسان سڑک پر چل رہا تھا

کچھ دور پہنچنے کے بعد اسے ایک نسوانی آواز آٸی

”چھوڑو مجھے جانے دو کیا بدتمیزی ہے ہاتھ مت لگاؤ مجھے “

ذایان نے چاروں طرف نظریں گھماٸی تو اسے سڑک پر موجود ایک چھوٹی اندھیری گلی میں تین لڑکے دیکھے جو ایک لڑکی کو گھیرے میں لیے کھڑے تھے اندھیرے کی وجہ سے اسے ان میں سے کسی کا چہرا نہیں نظر آیا

ایک لڑکے نے اس لڑکی کی چادر کا کونہ پکڑا

لڑکی نے چادر مضبوطی سے پکڑی

” نہیں پلیز جانے دو مجھے“

ذایان تیر کی تیزی سے ان کے پاس پہنچا اور ان میں سے دو لڑکوں کی پیچھے سے گردن دبوچ لیا گلی سے باہر نکال کر ان دونوں کو سڑک پر پھینکا تیسرے کی طرف بڑھا ہی تھا وہ ڈر کے مارے بھاگ گیا وہ دونوں بھی موقع دیکھ کر بھاگ گۓ وہ گلی کے آوارہ لڑکے تھے جو ذایان جیسے لمبے چوڑے مرد کو دیکھتے ہی ڈر گۓ اور بھاگ کھڑے ہوۓ

ذایان نے نہ اس لڑکی کا حال پوچھا نہ اس کو دیکھا وہ اپنی جیب میں ہاتھ پھنساۓ گھر کی طرف جانے کے لیے چل پڑا تھا

”ذایان “

پیچھے سے لڑکی نے آواز دی

ذایان چونکا لڑکی کو اس کا نام کیسے معلوم

وہ پیچھے مڑا

لڑکی سڑک پر تھی جہاں ایک بلب روشن تھا جس کی روشنی میں وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر ساکت ہوگۓ تھے اس لڑکی کی آنکھوں سے آنسوں لڑی کی صورت میں نکل رہے تھے وہ خوشی اور غم کی ملی جلی کیفیت میں اپنے سامنے کھڑی اپنی زندگی کو دیکھ رہا تھا

”زندگی “

ذایان کی لبوں نے حرکت کی

”ذایان“ دعا نے روتے ہوۓ کہا

”زندگی “

ذایان بھاگتا ہوا اس کے پاس گیا وہ اسے اپنی بانہوں میں بھرنا چاہتا لیکن وہ کچھ سوچ کر روک گیا چہرے پر سرد مہری چھا گٸ

”شوہر کہاں ہے تمھارا اتنی رات میں اکیلی کیا کررہی ہو یہاں“

ذایان سڑک پر نظریں جماٸیں دعا سے سوال کیا

”نہیں ہے میرا شوہر نہیں کی میں نے شادی“

دعا کی سسکی نکلی

”کیا مطلب ہاں تم نے اس دن مجھ سے کہا تھا تمھاری شادی ہورہی ہے اور آج کہہ رہی ہو نہیں کی تم نے شادی بند کرو مجھے بیوقوف بنانا“ ذایان دھاڑا

دعا کپکپا گٸ

یہ وہ ذایان نہیں تھا جس نے اس سے محبت کی تھی وہ تو بہت شرارتی تھا باتونا تھا غصہ کرنا تو اسے آتا ہی نہیں تھا دعا بے یقینی سے نم آنکھوں سے ذایان کو دیکھ رہی تھی

”کیا دیکھ رھی ہو ہاں تم مجھے ایسے“

ذایان نے دعا کی کلاٸی اپنی مٹھی میں دبوچی

”ذایان آپ ایسے تو نہیں تھے کیا ہوگیا ہے آپ کو “

دعا نے ذایان کی سرخ ہوتی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ کہا

”ہاں میں نہیں تھا ایسا تم نے بنایا مجھے ایسا میں ہنستا تھا ہنساتا تھا شرارتیں کرتا تھا باتیں کرتا تھا غصہ کبھی نہیں کرتا تھا تمھاری جداٸی نے مجھے ایسا بنا دیا زندگی “

ذایان بولتے بولتے وہی زمین پر بیٹھ گیا اس کی آنکھوں سے دو آنسوں اس کے رخساروں پر آگۓ

دعا بھی وہی زمین پر بیٹھ گٸ ذایان کا ہاتھ پیار سے اپنے ہاتھ میں لیا

” ذایان میری زندگی میں آپ کے علاوہ کبھی کوٸی نہیں آیا نہ میں آنے کی اجازت دوں گی اس دن میری شادی ہی تھی میں اس وقت بیوٹی پالر میں تھی“

””ایک سال پہلے““

”دعا بیٹا تیار ہوگٸ چل تیری بھابی تیار ہوکر جاچکی ہے“

رفعت بیگم نے دکھ سے کہا

دعا اپنے آنسوں پونچتی اٹھ کھڑی ہوٸی

”آجا میری بچی “

رفعت بیگم نے رکشہ روکا دعا کو خیال سے بٹھایا اور رکشے والے کو ریلوے اسٹیشن چلنے کو کہا

رکشے والا ریلوے اسٹیشن کیطرف چل پڑا

”امی ہم ریلوے اسٹیشن کیوں جارہے ہیں“

دعا نے پہلو میں بیٹھی ماں سے سوال کیا

”چپ کرکے بیٹھ پتا چل جاۓ گا تجھے “

رفعت بیگم نے دعا کو ڈنپٹا

”امی کیا کررہی ہیں آپ “

”نہیں سنتی توں کہہ رہی ہوں نہ چپ کرکے بیٹھ میں تیری زندگی برباد ہوتے نہیں دیکھ سکتی پہلے تیری بھابی نے تیری زندگی اجیرن کر رکھی تھی اور اب اس کا بھاٸی زندگی بھر تجھے ستاۓ گا میری ایک ہی بیٹی ہے اسے میں ایسے برباد ہوتے نہیں دیکھ سکتی “

رفعت بیگم نے دعا کو پیار سے خود سے لگایا اپنے دوپٹے سے آنسو پونچے

دعا خاموشی کی مورت بنی رہی خود بھی آنسوں بہاتی رہی اپنی ماں کو بھی آنسوں بہاتے دیکھتی رہی

ریلوے اسٹیشن آتے ہی دونوں ماں بیٹی رکشے سے اتر گٸیں رفعت بیگم نے لاہور کا ٹکٹ لیا اور ٹرین آنے کا انتظار کرنے لگیں

”امی آپ مجھے لاہور بھیج رہی ہیں “

”ہاں وہاں میری ایک پرانی سہیلی رہتی ہے میں نے اس سے بات کرلی ہے تم وہاں پہنچ کر اسے فون کردینا وہ تمھیں اپنے گھر لے جاۓ گی جب تک سب ٹھیک نہیں ہوجاتا توں وہی رہنا“

”امی ایسا نہیں کریں بہت بدنامی ہوگی واپس چلیں“

دعا نے اپنی ماں کے آگے ہاتھ جوڑے

”مجھےکوٸی پروا نہیں مجھے بس اتنا معلوم ہے میں اپنی بیٹی کو برباد ہوتے ہوۓ نہیں دیکھ سکتی سمجھی توں اور آٶ یہ کپڑے بدلو تم اٹھو “

رفعت بیگم دعا کو اسٹیشن میں بنے باتھ روم میں لے گٸیں

دعا باتھ روم میں جا کر کپڑے بدل آٸی

اتنے میں ٹرین آگٸ

”جا بیٹا ٹرین آگٸ خیال رکھنا اپنا اور پہںچتے ہی مجھے اطلاع کردینا“

رفعت بیگم نے بیٹی کو خود سے لگایا ان کی آنکھوں میں آنسو تھے

”امی سوچ لیں ایک اور دفع لوگ جینا حرام کردیں گے آپ کا اور بھاٸی کا“

دعا کی آنکھوں سے برسات جاری تھی

”جب وہ عاسم تجھ سے شادی کرکے تیرا جینا حرام کرے گا کیا تب دیں گے یہ لوگ ساتھ تیرا“ رفعت بیگم نے سوالیہ نظروں سے بیٹی کو دیکھا

”نہیں امی“ دعا سر جھکا گٸ

”پھر توں میری بات مان چلی جا یہاں سے دور سب ٹھیک ہوجاۓ گا میں خود بلا لوں گی تجھے اور سب کو سچ بتا دوں گی میری بچی“ رفعت بیگم نے اپنی مامتا بھری مہر دعا کی آنکھوں رخساروں اور پیشانی پر ثبت کی

”امی اپنا خیال رکھیے گا“

دعا نے روتے روتے کہا

”چل اب ٹرین میں جاکر بیٹھ اپنی جگہ پر ٹرین نکل جاۓ گی نہیں تو “

”جی امی“

دعا آخری بار اپنی ماں سے گلے لگ کر روٸی اور پھر ٹرین میں بیٹھ گٸ ٹرین اپنی منزل کی طرف بڑھنے لگی

رفعت بیگم نم آنکھوں سے اپنی بیٹی کو خود سے دور ہوتا دیکھتی رہیں

ریلوے اسٹیشن سے باہر آکر رفعت بیگم نے اپنے بیٹے کو کال کی

” ہیلو “

”امی کہاں ہیں جلدی آٸیں یہاں سب مہمان آگۓ ہیں “

فیض نے پریشانی کے عالم میں کہا

”آۓ بیٹا میں اس لیے تو فون کیا ہے دعا گھر پہنچ گٸ ہے کیا یہ پالر والی تو کہہ رہی ہے دعا کب کی چلی گٸ “

رفعت بیگم نے جھوٹ بولا

”کیا امی یہ کیا کہہ رہی ہیں دعا تو نہیں آٸی اسے تو آپ لے کر آنے والی تھیں نہ“

فیض کو اب فکر لاحق ہوٸی

”بیٹا پالر میں تو نہیں ہے جانے کہاں چلی گٸ“ رفعت بیگم انجان بنی

”امی آپ گھر آٸیں پھر بات کرتے ہیں “

فیض نے اپنی کہہ کر کال کاٹ دی

رفعت بیگم گھر پہنچی تو فیض بہت غصے میں تھا

”کہا گٸ ہے آپ کی آوارہ بیٹی میں نے کہا تھا آپ کو اتنی چھوٹ نہیں دیں اس کو دیکھے کتنا بڑا قدم اٹھا لیا اس نے بہت غلط کیا اس نے“

فیض غصے میں پھنکارا

”سہی تو توں بھی نہیں کررہا تھا اس کے ساتھ ایک اوباش لڑکے سے اس کی شادی کروا رہا تھا“ رفعت بیگم بھی پھنکاری

”آپ میرے بھاٸی کو اوباش کہہ رہی ہیں وہ کتنا چاہتا ہے آپ کی بیٹی کو اور آپ کی بیٹی کے نخرے ہی نہیں مل رہے “

سمرین بھی میدان میں آگٸ

لوگوں میں چہ مگوٸیاں شروع ہو گٸیں تھی

”بی بی تم تو میرے منہ ہی نہ لگو تمھارا ہی تو کیا دھرا ہے یہ سب جب سے ہماری زندگی میں آٸی ہو ہماری زندگی اجیرن کررکھی ہے“ رفعت بیگم نے اچانک اپنے دل پر ہاتھ رکھا اور بے ہوش ہونے کا ڈرامہ کیا

فیض جیسا بھی تھا اپنی ماں کو مرتے نہیں دیکھ سکتا تھا

”امی امی کیا ہوا امی آنکھیں کھولیں“

فیض ماں کے سرہانے بیٹھ گیا

”ہوگۓ ان کے ڈرامے شروع “

سمرین نے منہ کے زاویے بگاڑ کر کہا

”سمرین بکواس بند کرو اپنی پانی لاٶ امی کے لیے “

فیض نے اپنی ماں کو اٹھایا اور کمرے میں لے گیا

سمرین منہ بگاڑے پانی لے کر آگٸ تھی

فیض نے رفعت بیگم کے چہرے پر پانی چھپنٹے مارے تو انھوں نے ہلکی ہلکی آنکھیں کھولیں

”دعا دعا میری بچی کہاں ہے“

پھر انھوں نے پوری آنکھیں کھولیں اور فیض سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی فیض نے بھی اپنی ماں کو سہارا دیا ساری رات فیض ماں کے پاس بیٹھا رہا ان کی خدمت کرتا رہا اس دن کے بعد فیض رفعت بیگم کا بہت خیال رکھنے لگا تھا

سمرین اپنے کمرے میں بیٹھی جلتی کڑتی رہی

عاسم نے بہت ڈھونڈا دعا کو لیکن وہ شہر میں ہوتی تو ملتی نہ اس نے بھی ہار مان لی

لوگوں کی باتوں کی وجہ سے فیض نے وہ محلہ چھوڑ دیا اور دوسری جگہ گھر لے لیا

دعا اسٹیشن پر اتری تو اسے آنٹی نظر آگٸ انھیں وہ جانتی تھی لیکن گھر دور اور زندگی کی مصروفیات کی وجہ سے ان کا ملنا جلنا نہ ہونے کے برابر ہوگیا تھا

دعا آنٹی کے ساتھ گھر چلی گٸ اس کی آنٹی ایک اسکول میں ٹیچر تھی دعا کے کہنے پر انھوں نے اس کو بھی وہی جاب دلوادی

رفعت بیگم سے دعا ہمیشہ رابطے میں رہتی تھی

لیکن آج اس نے آنے کا تو بتا دیا تھا بس یہ نہیں بتایا تھا کب تک پہنچے گی کیوں کہ اس کو خود نہیں معلوم تھا رات کو وہ اتنی دیر میں پہنچی کہ رفعت بیگم سو چکی تھیں اب وہ اکیلی گھر جارہی تھی تو گلی کے آوارہ لڑکے اس کے پیچھے لگ گۓ تھے

”بس ذایان یہ ہی وجہ ہے کہ میں آپ سے دور ہوٸی میں نے آپ کو بہت دفع کال کی لیکن آپکا نمبر ہمیشہ بند جاتا تھا اور کوٸی ذریعہ نہیں تھا میرے پاس آپ سے رابطہ کرنے کا پلیز مجھے معاف کردیں “

”نہیں زندگی تم معافی نہیں مانگو غلطی میری ہے میں اپنی پرابلمز میں تمھیں بھول گیا اور اس دن جب تم نے کال نہیں اٹھاٸی تو غصے میں میں نے موبائل توڑ دیا تھا بس اسی وجہ سے نمبر نہیں لگ رہا تھا میرا“

ذایان نے دعا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوۓ کہا

”کوٸی بات نہیں ذایان مجھے کوٸی گلہ نہیں آپ سے“

دعا نے مسکراتے ہوۓ کہا

””زندگی “

ذایان نے محبت بھری سدا لگاٸی

”جی “

دعا نے آہستہ سے اپنی آنکھیں سے پلکوں کا پردہ اٹھایا

”مجھ سے شادی کرو گی“

ذایان نے دعا کے دونوں ہاتھ نرمی سے اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا

”آپ کے گھر والے مان جاٸیں گے “

دعا نے نظریں جھکا کر کہا

”وہ تو کب سے مانے ہوۓ ہیں میری جان“

ذایان نے اپنے اصلی روپ میں آتے ہوۓ کہا

”ذایان آپ ایسے ہی اچھے لگتے ہیں ہنستے بولتے اب نہیں بدلیے گا آپ مجھے ایسے ہی اچھے لگتے ہیں “

دعا نے کھلکھلا کر کہا

”تم ہمیشہ میرے پاس رہنا میں نہیں بدلوں گا“ ذایان نے محبت پاش لہجے میں کہا

”میں نہیں جاٶںگی آپ کو کبھی چھوڑ کر“

دعا نے بھی محبت بھری نظروں سے ذایان کو دیکھا

”ٹھیک ہے پھر ابھی چلو میرے گھر قریب ہے میرا گھر یہاں سے“

ذایان نے کھڑے ہوتے ہوۓ کہا اور دعا کی طرف ہاتھ بڑھایا

”ذایان ابھی کیسے آپ کے گھر والے کیا سوچے گے آپ مجھے میرے گھر چھوڑدیں پلیز“

دعا نے اٹھتے ہوۓ کہا

”کچھ نہیں کہے گے گھر چلو میرے پاس باٸیک بھی نہیں ہے ابھی گھر سے باٸیک لے کر چھوڑ دوںگا تمھیں گھر“

ذایان نے نرمی سے کہا

”نہیں آپ مجھے پیدل چھوڑ دیں باٸیک پر نہیں بیٹھوں گی آپ کے ساتھ“

دعا نے سختی سے کہا

”کیوں بھٸ کیوں نہیں بیٹھو گی“

ذایان نے آنکھیں چھوٹی کرکے دعا کو دیکھا

”ذایان ایسے اچھا نہیں لگتا ابھی مجھے ایسا کوٸی حق حاصل نہیں کہ میں آپ کے ساتھ باٸیک پر بیٹھوں “

دعا نے نرمی سے کہا

”جب ہی تو اتنی محبت کرتا ہوں میں تم سے چلو اب میرے گھر چلو “

ذایان نے دعا کا ہاتھ پکڑا اور چلنے لگا

”ذایان کیا ہوگیا ہے مجھے میرے گھر جانا ہے“ دعا نے زبردستی ذایان کو روکا

”تم نہیں چلو گی نہ میں تمھیں اٹھا کر لے جاؤں گا “

ذایان نے دعا کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا

دعا خاموش ہوگٸ ذایان کا کچھ پتا نہیں

”آگیا میرا گھر “

ذایان نے گھر کے گیٹ کے سامنے آتے ہی کہا

”ذایان مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے پلیز مجھے میرے گھر چھوڑ آٸیں“

دعا نے التجا کی

”زندگی تمھیں مجھ پر بھروسا نہیں“

ذایان نے نرمی سے پوچھا

”خود سے زیادہ ہے “

دعا نے جواب دیا

”پھر چپ چاب اندر چلو میں تمھیں تمھارے گھر پہنچادوں گا “

”ٹھیک ہے“ دعا نے سر جھکا لیا

ذایان نے ڈور بیل بجائی تو پہلی بیل پر انیک دروازہ کھولنے آگیا

”بھاٸی تمھیں شرم آتی ہے کہاں تھے تم ہم سب کتنا پریشان ہورہے تھے“

انیک نے دروازہ کھولتے ہے ذایان کو سنانا شروع کردیا یہ دیکھے بغیر کے ذایان کے ساتھ کوٸی اور بھی آیا ہے

”لڑاکا عورت ہم اندر آجاٸیں پھر لڑ لینا مجھ سے“

ذایان نے انیک کو اچھا خاصا تپا دیا

”کیا تم نے مجھے لڑاکا عورت کہا ذایان تمھیں تو میں “

انیک نے اپنے دونوں ہاتھ ذایان کے گلے کی طرف بڑھاۓ ذایان تھوڑا پیچے ہوا اور دعا کو اپنی ڈھال بنا لیا

انیک نے سامنے لڑکی کو دیکھ کر جلدی سے اپنے ہاتھ اپنے پہلو میں گرا لیے

”یہ کون ہے“

انیک نے سنجیدگی سے کہا

”گھر میں چلو بیٹھ کر بات کرے گے “

ذایان نے بھی سنجیدگی سے جواب دیا

وہ تینوں گھر میں آگۓ سب لاٶنج میں بیٹھے ذایان کے آنے کا ہی انتظار کررہے تھے

ذایان کے پہلو میں کھڑی لڑکی کو دیکھ کر

کوثر بیگم پہلے تو حیران ہوٸیں پھر اٹھ کر دعا کو گلے لگا لیا

دعا سمیت سب ہی حیرت کا مجسمہ بنے ہوۓ تھے

”تم دعا ہو نا“

کوثر بیگم نے دعا سے الگ ہوتے ہوۓ کہا

”جی آنٹی “دعا نے جھیجکتے ہوۓ کہا

”تم بلکل ویسی ہی ہو جیسے سعد نے مجھے بتایا تھا مومی گڑیا نیک سیرت بیٹا میرے بیٹے کو اب چھوڑ کر نہیں جانا میرا بیٹا بہت تڑپا ہے تمھارے لیے اس کی آنکھوں کی چمک چہرے کی رونق اس کی شرارتیں سب تمھارے ساتھ ہی چلیں گٸیں تھیں “

کوثر بیگم نے دعا کا چہرا ہاتھ میں بھرتے ہوۓ کہا

”مما ابھی آٸی ہے وہ بیٹھنے تو دیں “

سعد نے کوثر بیگم کے کندھوں پر دباؤ ڈال کر کہا

”ارے ہاں میں تو بھول ہی گٸ“

کوثر بیگم نے سر پر ہاتھ مارتے ہوۓکہا

”آٶ میری بچی یہاں بیٹھو“

کوثر بیگم نے دعا کو اپنے ساتھ صوفے پر بٹھالیا

”چلو سب بیٹھ جاؤ اور ذایان تم بتاٶ دعا تمھیں کہاں ملی “

سعد نے سب کو حکم دیا سب کے بیٹھنے کے بعد ذایان نے ساری بات سب کو بتا دی سب بہت خوش ہوۓ

”واہ مطلب اب ذایان بھاٸی کی بھی شادی ہوگی خوب انجواۓ کروں گی“

علیزے نے خوشی سے جھومتے ہوۓ کہا

”بیٹھ جاؤ ابھی مزے کرنے دے رہا ہوں میں تمھیں بڑی ہوگٸ ہو اب تم مما کے ساتھ شادی کی تیاریاں کروانا“

سعد نے علیزے کا ہاتھ کھینچ کر اپنے پہلو میں بٹھایا

”مما دیکھیں ان کو کیا کہہ رہے ہیں یہ“

علیزے نے کوثر بیگم سے شکایت کی

”سعد تم مت کچھ کہو میری گڑیا کو اس کو معلوم ہیں اس کی ذمہ داریاں کیوں میری جان“ اب کوثر بیگم علیزے سے سوال کر رہی تھیں

”جی مما “

دعا سرخ چہرا لیے خاموش بیٹھی تھی اور سب کی باتیں انجواۓ کررہی تھی

”آپ لوگ برا نہ مانے تو میں گھر جانا چاہتی ہوں“

دعا کو یہاں مزا تو بہت آرہا تھا لیکن اسے گھر بھی جانا تھا اسے اپنی ماں کی فکر تھی

”اوہ مما میں تو بھول ہی گیا دعا کو گھر بھی چھوڑنا ہے “

ذایان نے اپنے سر پر ہاتھ مارا

”ابھی فجر کی اذانیں ہورہی ہیں ایسا کرو پہلے سب نماز پڑھو پھر میں خود جاؤں گی دعا کو چھوڑنے اور دعا کا ہاتھ بھی مانگ لوں گی“ کوثر بیگم نے علان کیا

دعا کا دل زور سے دھڑکا اس کو ڈر تھا کہی اس کا بھاٸی ان لوگوں سے کوٸی بدتمیزی نہ کردے

”نہیں آنٹی پلیز پہلے مجھے جانے دیں میں اپنے گھر والوں سے بات کرلوں پہلے میرے بھاٸی بھابی پتا نہیں کیا کیا سوچیں گے پتا نہیں مجھے قبول کرے گے بھی یا نہیں آپ پلیز پہلے مجھے اکیلے جانے دیں “

دعا روہانسی ہوگٸ

”اچھا اچھا تم رو نہیں نماز پڑھ لو پھر ذایان چھوڑ آۓ گا تمھیں ٹھیک ہے “

کوثر بیگم نے محبت سے دعا کے سر پر ہاتھ پھیرا

سب نے مل کر نماز پڑھی پھر ذایان سعد کی کار میں دعا کو گھر چھوڑنے نکل گیا کیوں کہ دعا باٸیک پر بیٹھنے کو بلکل راضی نہیں البتہ پیدل جانے کو تیار تھی

دعا نے جو پتا بتایا تھا وہاں سے کچھ دور ذایان نے کار روکی وہاں سے وہ پیدل گۓ ذایان نہیں چاہتا تھا لوگ اسے کار سے اترتادیکھیں اور اس کے لیے الٹی سیدھی باتیں کریں گھر سے کچھ دور ذایان روک گیا تھا دعا اکیلی ہی گٸ تھی فجر کا وقت تھا لوگ نہ ہونے کے برابر تھے ذایان گلی کے کونے پر ہی کھڑا ہوگیا اگر کوٸی مسلٸہ ہوا تو وہ دعا کو اپنے ساتھ لے جاۓ گا

دعا کے دل میں بہت ڈر تھا اس کو ڈر تھا اس کا بھاٸی اس کو گھر میں داخل ہونے نہیں دیگا گھر میں داخل بھی ہونے دیا تو مارے گا یا سزا دے گا تھر تھر کانپتے ہاتھوں سے دعا نے گھر کے دروازے پر دستک دی لیکن دروازہ نہیں کھولا دوبارہ دستک دی پھر بھی دروازہ نہیں کھولا

”سنو کون ہو تم “

دعا کو اپنے پیچھے سے جانی پہچانی آواز سنائی دی

فیض نماز پڑھ کر آیا تھا اپنے گھر کے دروازےپر کسی کو کھڑے دیکھا تو اس وجہ پوچھی

دعا خوف سے کپکپا رہی تھی اس کی اتنی ہمت بھی نہیں ہورہی تھی پیچھے مڑ کر جواب دے

”جواب دو کون ہو کس سے ملنا ہے“

فیض نے دوبارہ پوچھا

دعا اوپر سے نیچے تک چادر میں چھپی ہوٸی تھی اسی لیے فیض اسے پہچان نہیں سکا

جواب نہ پاکر فیض آہستہ آہستہ آگے بڑھا اور دعا کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا

”دعا “فیض نے بے یقینی سے دعا کو پکارا جیسے وہ کوٸی خواب دیکھ رہا ہو

”بھاٸی معاف کردیں“

دعا نے دونوں ہاتھ جوڑے آنکھوں سے آنسوں لڑی کی صورت میں بہہ رہے تھے

” میری بچی“

فیض نے آگے بڑھ کر دعا کو سینے سے لگا لیا

ذایان دور سے کھڑا سب کچھ دیکھ رہا تھا اس کے دل میں مچی ہلچل اب ختم ہوگٸ تھی وہ اپنے گھر کی طرف نکل گیا تھا

”بھاٸی مجھے معاف کردیں میں نے بہت غلط کیا “

دعا فیض کے سینے میں منہ چھپاۓ فیض سے معافیاں مانگ رہی تھی

”نہیں نہیں میری جان تم مجھے معاف کردو میں نے سمرین کی باتوں میں آکر تم سے بہت نا انصافی کی ہے میں جانتا ہوں تمھیں اتنا بڑا قدم اٹھانے پر میرے غلط فیصلے نے مجبور کیا تھا لیکن اب نہیں تم جیسا چاہو گی ویسا ہوگا“

فیض شرمندہ تھا

”بھاٸی مجھے گھر سے تو نہیں نکالیں گے نہ“ دعا کو ابھی بھی یقین نہیں ہورہا تھا فیض اتنا بدل گیا ہے

”نہیں میری جان میں کیوں نکالوں گا تم نے جو بھی کیا سہی کیا اچھا ہوا تم چلیں گٸ نہیں تو تمھارا یہ گناہ گار بھاٸی تمھاری زندگی اپنے ہاتھوں سے تباہ کردیتا“

فیض نے اپنی غلطی تسلیم کی

”یہ بتاٶ تم ساری باتیں یہی کرلو گی چلو اندر چلتے ہیں“

فیض نے بات کا رخ بدلہ

”جی بھاٸی چلیں “

دعا نے آنسوں پونچتے ہوۓ کہا

فیض نے چابی سے گھر کا لاک کھولا اور دعا کو لے کر گھر میں داخل ہوگیا

”یہاں بیٹھو میں امی کو بلا کر لاتا ہوں“

فیض دعا کو صحن میں رکھی چارپاٸی پر بیٹھا کر رفعت بیگم کو اطلاع دینے چلا گیا

دعا پورے گھر کا جاٸزہ لے رہی تھی یہ گھر پہلے گھر سے بڑا اور ہوادار تھا اچھا خاصا صحن تھا بڑے کشادہ کمرے تھے دعا کو یہ گھر بہت پسند آیا

”تم تم یہاں کیا کرنے آٸی ہو دعا “

سمرین فیض کی تلاش میں کمرے سے باہر آٸی تھی دعا کو صحن میں بیٹھا دیکھ کر بھپری ہوٸی دعا کے سر پر آکھڑی ہوٸی

دعا ڈر کے مارے کھڑی ہوگٸ

”بھابی معاف کردیں“

دعا کی دبی دبی آواز نکلی

”معاف کردوں تم جیسی بھگوڑی کو کبھی نہیں“

سمیرین نے اپنا ہاتھ دعا کے اوپر اٹھانا چاہا لیکن اس سے پہلے ہی فیض نے سمرین کا ہاتھ پکڑ لیا

”خبر دار جو تم نے میری بہن پر ہاتھ اٹھایا ہو تو ہاتھ توڑ دوں گا تمھارا“

فیض غصے سے دھاڑا اور سمرین کا ہاتھ اتنی ذور سے جھٹکا کہ وہ دو قدم پیچھے چلی گٸ

”امی “

دعا رفعت بیگم کے گلے لگ گٸ

”میری بچی اب میں تجھے کبھی خود سے دور نہیں کروں گی“

”تم اپنی اس بھگوڑی بہن کے لیے اب مجھ پر ہاتھ اٹھاٶ گے“

سمرین بھی دھاڑی

”میری بہن کو کچھ کہنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکو سمرین تم اچھا ہوا میری بہن چلی گٸ تھی نہیں تو تمھارا اوباش بھاٸی میری بہن کی زندگی برباد کردیتا تم جانتی ہو اس وقت تمھارا اوباش بھاٸی کہاں ہے “

فیض نے سوالیہ نظروں سے سمرین کو دیکھا

”گھر ہوگا اور کہاں ہونا ہے اس کو “

سمرین نے کڑے تیور دیکھاتے ہوۓ جواب دیا

”تمھارا بھاٸی جیل کی ہوا کھا رہا ہے گھر پر نہیں ہے شراب کے نشے میں اس نے ایک لڑکے کو مارا اور اس کی بہن کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی اس کے علاوہ تمھارا بھاٸی چوری چکاری ڈرگس اسمگلینگ میں ملوس تھا“

فیض نے عاسم کی حقیقت سب کو بتاٸی

”تم جھوٹ بول رہے ہو ایسا نہیں ہو سکتا“ سمرین نے بے یقینی سے کہا

”سچ کہہ رہا ہوں اپنی ان دو گنہگار آنکھوں سے دیکھ کر آیا ہوں میں اس کو جیل میں“ فیض نے سختی سےکہا

”بیٹا تم پولیس اسٹیشن کیا کرنے گۓ تھے“ رفعت بیگم نے فکر سے پوچھا

”امی میرے دوست کی باٸیک چوری ہوگٸ تھی اس کی رپوٹ درج کروانے گیا تھا اپنے دوست کے ساتھ جب وہاں میری نظر عاسم پر پڑی

تو میں نے اسپیکٹڑ سے پوچھا اس کے بارے میں تو انھوں نے بتایا سب“

فیض نے نرمی سے جواب دیا

سمرین سکتے کی حالت میں وہی کھڑی رہی

”اب کیا کھڑی کھڑی منہ تک رہی ہو چلو جاؤ ناشتہ بناٶ سب کے لیے “

فیض نے سختی سے کہا

”بھاٸی میں تھکی ہوٸی ہوں سونا چاہتی ہوں ناشتہ اٹھ کر کرلوں گی“

دعا نے تھکے تھکے انداز میں کہا

”ٹھیک ہے تم جاؤ آرام کرو“

فیض نے محبت سے دعا کے بالوں میں ہاتھ پھیرا

دعا روم میں چلی گٸ سونے

”بیٹا میں بھی کمرے میں جارہی ہوں نماز پڑھ لوں زرا فجر کی “

رفعت بیگم بھی کمرے میں چلی گٸیں

”تم چلو میرے ساتھ“

سب کے جانے کے بعد فیض نے شرمندہ کھڑی سمرین کا بازوں دبوچا اور اسے کھینچتا ہوا روم میں لایا

”میری بات تم غور سے سنو اگر اب تم نے میری بہن یا میری ماں کو کسی قسم کا بھی دکھ دیا تو اچھا نہیں ہوگا سمجھی تم“

فیض نے جھٹکے سے سمرین کو چھوڑا تو وہ بیڈ پر جاگری

”مجھ سے کیوں خفا ہورہے ہو میرا بھاٸی خراب ہے تو اس میں میری کیا غلطی مجھے کس بات کی سزا دے رہے ہو“

سمرین نے روتے روتے کہا

”اوہ تو تمھیں پتا نہیں تھا تمھارا بھاٸی اوباش ہے وہ جو تمھیں قیمتی لباس دے کر جاتا تھا تم نے کبھی پوچھا نہیں اس سے کہاں سے لاتا ہے وہ تم جھوٹ بولتی ہو سمرین تمھیں سب پتا ہے تم پر میں نے آنکھیں بند کرکے بھروسہ کیا تھا تمھارے کہنے میں آکر اپنی جنت کو ناراض کیا اپنی پھول جیسی بہن کو کانٹوں کے راستوں پر چلنے پر مجبور کردیا لیکن اب نہیں سمرین تم سدھر جاؤ نہیں تو تمھیں چھوڑنے میں ایک پل نہیں لگاٶں گا میں“ سمرین فیض کا یہ روپ پہلی بار دیکھ رہی تھی

”نہیں نہیں فیض میں مرجاٶں گی میں نے جو کیا تمھاری محبت میں کیا میں ڈرتی تھی تمھاری ماں بہن تمھیں مجھ سے چھین نہ لیں مجھے معاف کردو فیض میں اب کچھ غلط نہیں کروں گی جیسا تم کہو گے ویسا ہی کروں گی فیض پلیز مجھے معاف کردو “

سمرین فیض کے پاٶں میں بیٹھی رو رو کر اس سے معافیاں مانگ رہی تھی

”چھوڑو میرا پاٶں“

فیض نے سمرین کو دور ہٹانے کی کوشش کی

سمرین جیسی بھی تھی فیض سے بے انتہا محبت کرتی تھی فیض اس کو ہتیلی کا چھالا بنا کر رکھتا تھا تو کیوں نہ کرتی وہ اس اتنی محبت

”فیض مجھے معاف کردو تم معاف نہیں کرو گے میں نہیں ہٹوں گی“

”اچھا اٹھو“

فیض نے نرمی سے سمرین کے دونوں بازوں پکڑے اور اسے اپنے پاٶں سے اٹھا کر بیڈ پر بٹھایا

”چب بلکل رونا بند کرو“

فیض نے نرمی سے اپنے ہاتھ سے سمرین کا آنسوٶں سے بھیگا چہرا صاف کیا

”میں بھی تم سے بہت محبت کرتا ہوں سمرین میں جانتا ہوں تم نے بہت جھوٹ بولے ہیں لیکن مجھ سے محبت سچی کی ہے میں بس تمھیں احساس دلانا چاہتا تھا تم بھٹک گٸ تھی میں راستہ دیکھا رہا تھا میں تمھیں کبھی نہیں چھوڑ سکتا میں نے یہ سب تمھیں سدھارنے کے لیے کہا تھا تم مجھ سے وعدہ کرو مجھ سمیت میری ماں بہن سے بھی محبت کرو گی اور مجھے یقین ہے اس کے بدلے میں وہ بھی تم سے محبت کرے گی عزت دیں گی“

فیض نے اپنی ہتھیلی سمرین کے آگے کی

”میں نے اتنا برا برتاٶ کیا ان کے ساتھ انھیں تم سے دور کردیا وہ کیوں مجھے عزت دے گی“ سمرین نے روتے ہوۓ کہا

”تم کوشش کرو ان کے دل میں جگہ بنانے کی تم دیکھنا ان کے دل میں لگی ساری گرد ہٹ جاۓ گی“

فیض نے پیار سے سمجھایا

”میں تمھارے لیے کچھ بھی کرسکتی ہوں فیض میں کوشش کروں گی “

سمرین نے مسکراتے ہوۓ فیض کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا

”اور مجھے یقین ہے تم اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاٶ گی“

فیض نے محبت سے سمرین کے ہاتھ پر اپنے لب رکھ دیے

”چلو اب تم ناشتا بناٶ میں فریش ہوکر آتا ہوں“

فیض نے اپنی محبت کی مہر سمرین کے گلابی رخسار پر ثبت کی اور مسکراتا ہوا واشروم میں گھس گیا

ڈایان گھر آیا تو سب اپنے کمرے میں نیند کے مزے لے رہے تھے وہ خود بھی اس مزے میں شامل ہوگیا

دعا گھر آکر سب اپنوں کا پیار پاکر بہت خوش تھی

رفعت بیگم نے فیض کو سب سچ بتا دیا تھا دعا کہاں تھی اور کیسے گٸ تھی لیکن فیض نے کسی کو کچھ نہیں کہا کیوں کہ وہ جانتا تھا اس وقت وہ غلطی پر تھا

سمرین کا اچھا رویہ دیکھ کر رفعت بیگم اور دعا نے بھی اپنا دل صاف کرلیا تھا اب وہ تینوں فیض کے کام پر جانے کے بعد ساتھ بیٹھ کر ہنسی مذاق کرتی ڈرامے دیکھتی فیض بھی سب کچھ ٹھیک ہوتا دیکھ بہت خوش تھا سمرین نے گھر میں ننے مہمان کے آنے کی خوشی دے کر فیض کی اور گھر کی خوشیوں میں اضافہ کردیا

موقع اچھا پاکر دعا نے ذایان سے ملاقات والی ساری بات اپنی ماں کو بتا دی

رفعت بیگم نے بھی موقع کا فاٸدہ اٹھایا فیض سے ذایان اور دعا کے رشتے کی بات چھیڑ دی ذایان کے بارے میں انھوں نے فیض کو بتایا کہ وہ دعا سے محبت کرتا ہے اور رشتہ لانا چاہتا ہے

فیض نے بھی فیصلہ دعا پر چھوڑتے ہوۓ کہا ”اگر دعا کی مرضی اس رشتے میں ہے تو ٹھیک ورنہ آپ ان لوگوں کو منا کردیں “

دعا نے نظریں جھکا کر رضا مندی ظاہر کی تو فیض بھی خوش ہوگیا

ذایان تو بے صبری سے اس پل کا انتظار کررہا تھا دعا کا اشارہ ملتے ہی اس نے پہلی فرصت کوثر بیگم علیزے سعد کو رشتہ لے کر بھیج دیا

دونوں گھر والوں کی رضا مندی سے ایک ماہ بعد شادی کا فیصلہ ہوا اور ساتھ میں انیک اور ردا کے نکاح کا بھی فیصلہ ہوا دونوں ہی اس خبر پر بہت خوش تھے دونوں نے سب سے چھپ کر ایک ڈیڈ بھی ماری تھی

تینوں گھر میں زورو شور سے شادی کی تیاریاں شروع ہو گٸیں تھیں

”علیزے چلو بیٹا پالر دیر ہورہی ہے“

کوثر بیگم علیزے کے کمرے میں اسے بلانے آٸی تھیں آج ذایان کی بارات تھی

علیزے اپنا سامان جما کر رہی تھی پالر جانے کے لیے

”کہاں جانے کی تیاری ہورہی ہے“

سعد ٹاول سے بال خشک کرتا واشروم سے نکلا

”ہم پالر جارہے ہیں انیک کے ساتھ تم ہمیں پک اپ کرلینا“

کوثر بیگم نے سعد کو عجلت میں جواب دیا اور علیزے کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا

”مما علیزے نہیں جاۓ گی پالر ”

سعد نے سنجیدگی سے کہا

”کیوں نہیں جاۓ گی “

کوثر بیگم نے آنکھیں چھوٹی کرکے پوچھا

”کیوں کہ پالر والی اس کے چہرے کی معصومیت اور خوبصورتی دونوں چھپا دیتی ہے اسی لیے یہ گھر بر تیار ہوگی آپ پالر جاٸیں“

”پاگل تو نہیں ہوگۓ ہو تم لوگ کیا کہے گے بڑی بہو کو تیار کروانے کے پیسے نہیں تھے ان کے پاس جو ایسے ہی اٹھا کر لے آۓ ہیں اس کو “

کوثر بیگم نے اپنے بیٹے کی عقل پر ماتھا پیٹا

”مجھے کچھ نہیں پتا یہ نہیں جاۓ گی پالر لوگوں سے میں نپٹ لوں گا ویسے بھی بیویاں اپنے شوہر کے لیے تیار ہوتی ہیں اور میں نہیں چاہتا میری بیوی پالر سے تیار ہو ہماری شادی پر جو اس کا چہرا بگاڑا تھا نا پالر والی نے میں وہ بھولا نہیں ہوں “

سعد نے سمجیدگی سے کہا

”بیٹا پر “

”مما رہنے دیں یہ تیار کریں گے مجھے جب ہی تو نہیں جانے دے رہے“

علیزے نے خفگی سے کہا

”ہاں ہاں مما آپ جاٸیں میں خود تیار کردوں گا اس کو“

سعد نے مسکراتے ہوۓ کہا

”مما آجاٸیں کب سے ویٹ کررہا ہوں میں آپ کا“ انیک نے دروازے پر کھڑے آواز لگاٸی

”اچھا بھٸ مرضی تمھاری“

کوثر بیگم انیک کے ساتھ پالر کے لیے نکل گٸیں

”تھینک یو سو مچ سعد مجھے بچا لیا آپ نے میں خود بھی نہیں جان چاہتی تھی پالر“ علیزے نے خوش ہوتے ہوۓ کہا

”ارے واہ یہ تو بہت اچھی بات ہے ویسے تم کیوں نہیں جانا چاہتی تھیں“

”وہ اتنا سارا میک اپ تھوپ دیتی ہیں پھر گھنٹوں بیٹھے رہو ان کے پاس جب جاکر میک اپ ہوتا ہے پھر گھنٹا اسے صاف کرنے میں لگتا ہے بس اسی لیے مجھے نہیں اچھا لگتا پالر جانا“

علیزے نے برا سا منہ بنا کر کہا

”ہممم ٹھیک میں نے تمھیں بچایا اب مجھے انعام دو“

سعد نے علیزے کی کمر میں دونوں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے قریب کیا

”اففففف سعد اتنے کام پڑے ہیں آپ کو رومینس سوج رہا ہے چھوڑے مجھے“

علیزے نے سعد کے سینے پرہاتھ رکھ کر اسے خود سے دور کرنا چاہا

”میرا رومینس دیکھا کہاں ہے تم نے چھوٹے موٹے کسس دیکھیں ہیں بس اصل رومینس تو آج رات دیکھوں گی تم“

آخری بات سعد نے دل میں کہی تھی

اور علیزے کے لبوں پر جھکا خود کو سکون بخشتا رہا

علیزے سانس روکے اپنا سکون دھرم بھرم ہوتا دیکھ رہی تھی

”چلو اب میں تمھیں تیار کرتا ہوں“

علیزے سے الگ ہوتے ہی سعد نے علیزے کی کلاٸی تھامی اور علیزے کو ڈریسینگ کے سامنے بیٹھا دیا

”سعد کیا کر رہے ہیں مجھے چڑیل نہیں بننا میں خود تیار ہوجاٶں گی“

”نہیں میں تیار کردوں گا تمھیں“

سعد نے علیزے کے خوبصورت بال کیچر سے آزاد کرتے ہوۓ کہا

” سعد پلیز مجھے اپنا مذاق نہیں بنوانا “

علیزے نے سعد حرکت کرتے دونوں ہاتھ پکڑے

”یار میری جان پری لگو گی تم بلکل “

سعد نے پیچھے سے علیزے کے کان میں سرگوشی کی اور علیزے کا کان چوم لیا