Rishte Mohabat Ke by Misbah Khalid NovelR50485 Rishte Mohabat Ke Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Rishte Mohabat Ke Episode 14
Rishte Mohabat Ke by Misbah Khalid
سعد نے پیچھے مڑ کر علیزے کو دیکھا تو علیزے کو وہ سعد نہ لگا جو اس کا شوہر تھا اس کے سعد کی آنکھوں میں ہمیشہ محبت نظر آتی تھی لیکن اس سعد کی آنکھوں میں تو سواۓ نفرت کے کچھ نہیں وہ کوٸی وحشی لگ رہا تھا آنکھیں ضرورت سے زیادہ لال تھیں جیسے اس کا سارا خون آنکھوں میں جما ہوگیا ہو
علیزے سعد کو دیکھ کر خوف سے کپکپانے لگی
”س س سعد آ آپ کو کیا ہوا ہے“
علیزے نے لرزتے ہوۓ کہا
سعد نے ایک جھٹکے سے علیزے کو کھڑا کیا پھر سے اپنے ساتھ کھنیچنے لگا
””سعد کیا کررہے ہیں مجھے درد ہورہا ہے “
سعد پلیز روک جاٸیں
”آٶچ آہ “
علیزے کے جسم میں خاردار پتے اپنے نشان چھوڑ رہے تھے لیکن
سعد کو کوٸی اثر نہیں ہورہا تھا
آخر ایک گہری کھاٸی پر جنگل ختم ہوا سعد نے وہ کھاٸی دیکھی پھر روتی بلکتی علیزے کو اس کے چہرے پر پُراسرا سی مسکراہٹ پھیلی اور اگلے ہی لمحے سعد نے علیزے کو اس کھاٸی میں پھینک دیا تھا علیزے کی چیخوں کے ساتھ سعد کی خوفناک سی ہنسی جنگل میں گونجی تھی
ایک چیخ کے ساتھ علیزے کی آنکھیں کھولیں تھی
سعد بال بنا رہا تھا علیزے کی چیخ کی آواز سن کر بھاگتا ہوا علیزے کے پاس آیا
”کیا ہوا میری جان “
”دور رہیں مجھ سے آپ میرے سعد نہیں ہیں دور رہیں“
علیزے پاگلوں کی طرح چیخ رہی تھی
”علیزے میں سعد ہوں تمھارا “
”نہیں نہیں دور رہو مجھ سے تم میرے سعد نہیں ہو شیطان ہوتم شیطان مما ااااااا ذایان بھاااااااٸی بچاٸیں مجھے “
کوثر بیگم ذایان علیزے کی چیخیں سن کر کمرے کی طرف ہی آرہے تھے وہ دونوں روم میں داخل ہوۓ تو علیزے کو چیخوپکار کرتے پایا
سعد علیزے کو سنبھالنےکی کوشش کررہا تھا لیکن علیزے سعد سے ہی ڈر کر بھاگ رہی تھی
”مما مما یہ سعد نہیں ہیں یہ شیطان ہیں جانور ہیں یہ مجھے مارنے آیا ہے یہ مجھے ماردے گا مجھے بچاٸیں مما “
”بیٹا یہ سعد ہے کیا ہوگیا ہے“
کوثر بیگم نے نرمی سے کہا
”آپ سمجھ کیوں نہیں رہیں مما یہ شیطان ہے“ سعد کا روپ لے کر آیا ہے
”ذایان بھاٸی مما کو سمجھاٸیں یہ شیطان ہے یہ مجھے لے جاۓ گا مجھے کھاٸی میں پھینک دے گا “
اب وہ ذایان کے سامنے کھڑی رورہی تھی
”اچھا اچھا گڑیا میں سمجھ گیا “
ذایان نرمی سے علیزے کو سر سے پکڑ اپنے سینے ے لگا لیا
وہ اس کے سینے میں منہ چھپاۓ پھوٹ پھوٹ کے رو دی
”ذایان میں اس کو ایسی حالت میں چھوڑ کر کیسے چلا جاؤں“
سعد نے افسوس سے کہا
”بھاٸی پلیز میں ہوں اس کے پاس یہ بہت ڈری ہوٸی ہے اس نے شاید آپ کے متعلق کوٸی برا خواب دیکھ لیا ہے اس لیے یہ آپ سے ڈر رہی ہے آپ ابھی چلیں جاٸیں پلیز “
”ہاں بیٹا ذایان ٹھیک کہہ رہا ہے تم کمرے سے باہر چلے جاؤ“
کوثر بیگم نے بھی سعد کو جانے کا کہا
سعد دل میں دکھ آنکھوں میں نمی لیے روم سے باہر نکل گیا
ذایان علیزے کو لیے بیڈ پر بیٹھ گیا
”میری گڑیا میری طرف دیکھو سب ٹھیک ہے“ ذایان نے محبت سے علیزے کا چہرا اپنے ہاتھوں میں لیا
”بھاٸی آپ کہی نہیں جایے گا وہ شیطان پھر آجاۓ گا “
علیزے نے ذایان کے سینے پر سر رکھ کر کہا
”نہیں میری جان ابھی تمھارا بھاٸی زندہ ہے میں کسی شیطان کو نہیں آنے دوں گا اپنی گڑیا کے پاس“
ذایان نے علیزے کو بچوں کی طرح پچکارتے ہوۓ کہا
کوثر بیگم سعد کے پاس باہر چلیں گٸ تھیں
”سعد بیٹا سب ٹھیک ہوجاۓ گا تم پریشان نہیں ہو “
کوثر بیگم نے سعد کو دلاسا دیا
”مما وہ میری بیوی ہے محبت کرتا ہوں میں اس سے اس کو نقصان پہںچانے کا تو سوچ بھی نہیں سکتا وہ کیسے مجھ پر اتنا بڑا الزام لگا سکتی ہے “
سعد کو سچ میں بہت دکھ ہوا تھا
”بیٹا وہ اپنے ہوش میں نہیں ہے تم جانتے تو ہو اس پر کالا علم ہوا ہے بیٹا ایسا نہیں سوچو وہ بھی تم سے بہت محبت کرتی ہے بیٹا آج عامل صاحب آجاٸیں گے سب ٹھیک کردے گے وہ تم سنبھالو خود کو تم ایسا کرو ناشتا کرو آفس چلے جاؤ تم اس کے سامنے رہو گے تو وہ اور ڈرے گی میں ذایان سے کہوں گی وہ روک جاۓ گا اس کے پاس“
کوثر بیگم نے پیار سے سعد کو سمجھایا
”مما میں اس کو چھوڑوں گا نہیں جس نے میری جان کے ساتھ یہ سب کیا ہے بس پتا چل جاۓ مجھے ایک بار اس کا “
سعد نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہا اور آفس کے لیے نکل گیا
انیک پیپر دے کر گھر جارہا تھا جب اسے ردا اپنی کار سے نکل کر بیوٹی سیلون میں داخل ہوتی نظر آٸی
”ہممم چڑیل اپنی خوبصورتی میں اضافہ کروانے کے لیے سیلون آٸی ہے “
انیک نے مسکراتے ہوۓ اپنے شیطانی دماغ کو کام پر لگایا
”میں بد تمیز ہوں نہ ابھی بتاتا ہوں چڑیل کو“ انیک بڑبڑایا
پھر ایک پیپر لے کر اس پر کچھ لکھا اور ڈراٸیور سے بج کر اس نےوہ پیپر علیزے کی کار کے پیچھے چپکا دیا اور خود ایک کونے میں کھڑا ہوکر ردا کا انتظار کرنے لگا
ردا سیلون سے آٸی تو اس کا ہٸر اسٹاٸل چینج تھا مطلب وہ ہٸر سیٹ کروانے آٸی تھی
”چڑیل اپنی خوبصورتی بڑھانے کے لیے سیلون آٸی ہے آج کیا کوٸی چڑیلوں کا فیشن شو ہے جس میں تمھیں ڈاین کے ایوارڈ سے نوازہ جاۓ گا میری دعاٸیں تمھارے ساتھ ہیں تم ہی یہ شو جیتو گی “
اپنی گاڑی پر لگے پیپر پر لکھی تحریر پڑھ کر ردا کے ماتھے پر بل پڑ گۓ لیکن جب ردا کو یاد آیا چڑیل تو اسے انیک کہتا ہے کسی اور میں تو اتنی ہمت نہیں تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گٸ
اس نے جلدی سے آس پاس نظریں گھماٸی لیکن اسے کوٸی نظر نہ آیا
اس نے وہ پیپر گاڑی سے ہٹایا اور اسے چوم کر اپنے پرس میں رکھ لیا
انیک ردا کا ردِعمل دیکھ کر شوکٹ ہوگیا اسے لگا تھا وہ غصے میں پیپر پھاڑ دے گی لیکن یہاں تو الٹا ہی ہوگیا تھا انیک جو ردا کو تنگ کرنے کے ارادے سے وہاں کھڑا تھا اب خود غصے میں جلا بھونا گھر کی طرف روانہ ہوگیا تھا
دعا نے ذایان کا میسیج پڑھا تو وہ اور پریشان ہوگٸ
”کہیں میری وجہ سے تو ان کے گھر میں کوٸی پرابلم نہیں ہوٸی ہوسکتا ہے ذایان کی مما راضی نہ ہو ذایان ان کو منارہے ہو کہی میری وجہ سے ان کے گھر لڑائی جھگڑا نہیں ہوجاۓ نہیں نہیں میں اب ذایان کو تنگ نہیں کروں گی ان سے بات نہیں کروں گی میں اپنا فیصلہ رب پر چھوڑتی ہوں“
دعا ہاتھوں میں منہ چھپاۓ پھوٹ پھوٹ کے رودی
علیزے پورے دن ذایان سے چپکی رہی وہ روم سے باہر نکلنے تک کو راضی نہیں تھی اور نہ ہی ذایان کو اپنے پاس سے اٹھنے دے رہی تھی ذایان نے اسے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا اپنے ہاتھوں سے ہی ناشتہ کروایا ڈر کی وجہ سے علیزے کو تھوڑا بخار بھی ہوگیا تھا سارا دن وہ اس کے لاڈ اٹھاتا رہا اس کی تیمار داری میں لگا رہا نہ وہ آفس جا سکا نہ دعا سے بات کرسکا
انیک گھر آیا تو کھانا کھا کر وہ بھی روم میں بند ہوگیا اسے بار بار ردا کی اس حرکت کا خیال آرہا تھا آخر ردا نے غصہ کیوں نہیں کیا اس پیپر کو پھاڑا کیوں نہیں انیک یہ ہی سوچتا سوچتا نیند کی وادیوں میں کھو گیا تھا
شام کا وقت ہوگیا تھا سعد گھر آیا تو اس کا دل علیزے کو دیکھنے کو چاہا وہ کوثر بیگم سے مل کر علیزے کے پاس گیا علیزے ذایان کا ایک ہاتھ پکڑے سورہی تھی ذایان علیزے سے کچھ دور بیڈ پر آنکھیں موندیں نیم دراز تھا
دروازے کی آواز پر اس نے آنکھیں کھولیں تو سعد سامنے کھڑا تھا
”مجھے ایسا لگ رہا ہے میرے بےبی کی پیداٸش ہوٸی ہے جس کو میں صبح سے سنبھال رہا ہوں“
ذایان نے سیدھے ہوتے ہوۓ کہا سعد کو بیٹھنے کی جگہ دی
سعد ہلکا سا مسکرادیا
”اب کیسی طبیعت ہے اس کی ٹھیک ہے پر ڈر رہی ہے بہت اٹھنے بھی نہیں دے رہی مجھے اس کو بخار بھی ہوگیا تھا دوائی کھلا کر سولایا ہے میں نے“
ذایان نے علیزے کی طبیعت سے سعد کو آگاہ کیا
”مولوی صاحب نہیں آۓ عالم کو لے کر “
”نہیں مما گٸیں تھیں مولوی صاحب کے پاس وہ عالم کل آۓ گے آج کسی وجہ سے آنہیں سکے “
”ٹھیک ہے تم جاؤ آرام کرلو میں ہوں یہاں“
”ٹھیک ہے بھاٸی“
ذایان نے علیزے کے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ نکالنا چاہا تو وہ اٹھ گٸ
”آپ کہاں جارہے ہیں مجھے چھوڑ کر ذایان بھاٸی “
علیزے نے ذایان کا ہاتھ اور مضبوطی سے پکڑ لیا
”گڑیا بھاٸی ہیں یہاں میں آرام کر آٶں تھوڑا سا “ذایان نے نرمی سے اپنا ہاتھ چھڑوایا
سعد کی طرف دیکھتے ہی علیزے کی آنکھوں میں نمکین پانی جما ہوگیا اس کو اب بھی سعد میں وہ خواب والا سعد نظر آرہا تھا
”نہیں نہیں یہ میرے سعد نہیں ہیں یہ شیطان ہیں “
سعد علیزے کو دیکھ کر مسکرا رہا علیزے کے ردعمل پر سعد کی مسکراہٹ معدوم پڑھ گٸ
”میں تمھارا ہی سعد ہوں تم مجھ سے ڈر کیوں رہی ہو“ سعد نے نرمی سے کہا
”نہیں ذایان بھاٸی یہ شیطان ہے اس کو بھگاٸیں“
علیزے چیختی چلاتی ذایان کے پیچھے چھپ گٸ
کوثر بیگم اور انیک بھی روم میں آگۓ کیا ہورہا ہے
انیک کو صبح والے واقع کے بارے میں کچھ نہیں معلوم تھا اس لیے اس نے ناسمجھی سے سب کو دیکھ کر پوچھا
سعد بنا کچھ کہے روم سے نکل گیا کوثر ییگم بھی سعد کے پیچھے نکل گٸیں
انیک ذایان علیزے کے پاس بیٹھ گیا کیا ہوا ہے مجھے کوٸی کچھ بتائے گا
ذایان نے صبح والا اور ابھی والا سارا قصہ انیک کے گوش گزار کیا
علیزے ڈری سہمی ذایان سے چپکی بیٹھی تھی
”سعد بیٹا تم ٹھیک ہو“
کوثر بیگم نے سعد کے کندھے پر ہاتھ رکہتے ہوۓ پوچھا
”میں کیسے ٹھیک ہوسکتا ہوں مما علیزے کی ایسی حالت دیکھ کر وہ کتنا ڈر رہی ہے مجھ سے کتنا برداشت کروں میں اس کے پاس جانا چاہتا ہوں اس کے ساتھ اس کا دکھ بانٹنا چاہتا ہوں اسے سینے سے لگانا چاہتا ہوں لیکن وہ تو مجھے دیکھتے ہی ڈر جاتی ہے مما “
”بیٹا ہمت رکھو میری جان بس آج کی بات اور ہے کل مولوی صاحب عالم کو لے آۓ گے سب ٹھیک ہوجاۓ گا “
کوثر بیگم نے پیار سے سعد کا ماتھا چوما
ہمممم سعد خاموشی سےاپنے روم میں چلا گیا
” فیض تجھے سمجھ کیوں نہیں آرہی وہ لڑکا اچھا نہیں ہماری دعا اس کے ساتھ کبھی خوش نہیں رہ پاۓ گی بیٹا دماغ سے نہیں دل سے سوچ“
رفعت بیگم اپنی بیٹی کے لیے اپنے بیٹے سے الجھ رہیں تھیں
”امی کیا ہوگیا ہے اچھا لڑکا ہے دیکھا بھالا ہے پھر قریب میں ہے وہ جہیز کا بھی خواہش مند نہیں اور قریب بھی رہتا ہے جب تمھارا دل چاہے ملنے چلی جانا اور کیا چاہیے تمھیں “فیض نے بے زاری سے کہا
”توں جانتا نہیں اس کو عیاش کو چہرے پر اچھاٸی کا موکھوٹ سجاۓ گھومتا ہے وہ اس کے نظروں میں دعا کے لیے حوس کے سوا اور کچھ نظر نہیں آتا تجھے کہاں سے اچھا لگتا ہے وہ“
رفعت بیگم نے سختی سے کہا
”امی کیا کہا آپ نے میرا بھاٸی عیاش خدا کا خوف کریں امی میرا بھاٸی باکردار انسان ہے دعا سے محبت کرتا ہے بہت خوش رکھے گا اسے ارے آپ کو تو میرے بھاٸی کے پاٶں دھو دھو کر پینے چاہیے جو بنا جہیز بنا کسی شرط کے دوجوڑوں میں آپ کی بیٹی کو بیاہ لے جارہا ہے “
سمرین سے اپنے بھاٸی کی برائی سنی نہ گٸ
دعا اپنے کمرے میں بیٹھی سب کی آوازیں سن رہی تھی اور آنسوں بہا رہی تھی
”آۓ تیرا بھاٸی ہے وہ توں تو پردہ ہی ڈالے گی نہ اپنے بھاٸی کی براٸیوں پر“
رفعت بیگم نے بھی سمرین کو نہیں بخشا
”امی بس کریں بس میں نے فیصلہ کردیا ہے کل سادگی سے دعا کا نکاح ہوگا عاسم سے بس اور بحث نہیں سننی مجھے“
فیض اپنی کہتا گھر سے باہر نکل گیا
دعا کا انتظام ہوجاۓ پھر کرواتی ہوں میں آپ کا بھی کوٸی انتظام “
سمرین بدتمیزے سے کہتی اپنے کمرے میں چلی گٸ
رفعت بیگم منہ لٹکاۓ اپنے کمرے میں آگٸیں
”نہ رو میری بچی میں ہوں نہ میں تیری شادی کبھی اس خبیث سے نہیں ہونے دوں گی “
رفعت بیگم ابھی بھی اپنے فیصلے پر آڑی تھیں
”امی آپ کیا کریں گی“
دعا نے روتے ہوۓ پوچھا
”میری بچی تو رو نہیں تیری ماں ہے نہ وہ تیری زندگی برباد ہونے نہیں دے گی“
رفعت بیگم نے پیار سے کہا
دعا اپنی ماں کے گلے لگ گٸ
”انیک کے ہاتھ کا لکھا پیپر میرے ہاتھ میں ہے واٶ ان کی ہینڈ راٸیٹینگ کتنی اچھی ہے“
ردا جب سے گھر آٸی تھی پاگلوں کی طرح اس پیپر کو چومے جارہی تھی
”بس وہ دن جلدی سے آجاۓ انیک جب آپ کی یہ چھڑ چھاڑ محبت میں بدل جاۓ کی“
ردا نے پیپر کو اپنے سینے سے لگاۓ دعاۓ محبت مانگی
میں دیوانی ہوں تیری
تجھے دیوانہ بناناباقی ہے ![]()
![]()
”علیزے گڑیا کھالو ضد نہیں کرتے میری جان “ ذایان علیزے کو دلیہ کھلا رہا تھا لیکن علیزے کا دلیہ کھانے کا کوٸی موڈ نہیں تھا
”کیا ہورہا ہے“
انیک نے روم میں داخل ہوتے ہی پوچھا
”یار دیکھ گڑیا کو بخار ہے میں کب سے دلیہ کھلانے کی کوشش کررہا ہوں کھا نہیں رہی کہہ رہی ہے چاول کھانے ہیں“
ذایان نے بے زاری سے کہا
”اوہ تو یہ بات ہے“
انیک کو وہ دن یاد آگیا جب وہ بیمار تھا اور علیزے نے زبردستی اسے کھیچڑی کھلاٸی تھی
”اتنی سی بات لاٶ میں کھلاٶں “
انیک نے ذایان کے ہاتھ سے دلیہ کی پلیٹ لے لی
اور خود علیزے کے سامنے بیٹھ گیا
”کھلا میں بھی دیکھوں ذرا“
ذایان بھی ٹھوڈی ہاتھ پر ٹکاۓ بیٹھ گیا
”گڑیا تمھیں پاگل پن کے دورے پڑنے کب ختم ہونگے”
” کیا آ،،،،،،،، “
”یہ لگا نشانے پر تیر “
علیزے نے کچھ بولنے کے لیے منہ کھلا ہی تھا انیک نے علیزے کا منہ کھلاتا دیکھا تو جلدی سے دلیہ سے بھرا چمچہ علیزے کے منہ میں ڈال دیا
ذایان نے قہقہ لگایا تھا
علیزے برا سا منہ بنا کر دلیہ ہلک سے اتار رہی تھی
”اب مزا آیا اس دن کیسے کھلاٸی تھی مجھے کھیچڑی اب سارے بدلے لوں گا میں “
انیک نے علیزے کا تمسخر اڑایا
اب وہ اسی طرح بہانے بہانے سے علیزے کو دلیہ کھلا رہا تھا
سعد ذایان کے روم میں لیٹا علیزے کی یادوں میں کھویا تھا اس کا وہ ہنسنا وہ بولنا سعد
”گندے ہیں آپ چھیچورے کہی کے“
سعد کے چہرے پر زخمی سے مسکراہٹ آٸی تھی آج رات نیند سعد کی آنکھوں سے روٹھ گٸ تھی
علیزے نے ساری رات ذایان کو جگایا تھا
”سر دبادو درد ہورہا ہے نیند نہیں آرہی مجھے سعد کہاں ہیں میرے“
”یار گڑیا سوجاٶ مجھے نیند آرہی ہے“
ذایان نے اونگتے ہوۓ کہا
ذایان کی حالت بلکل ایسی تھی جیسی اس ماں کی ہوتی ہے جو نٸ نٸ ماں بنی ہو رات کو بچہ نہ سونے دیتا نہ دن کو آرام کرنے دیتا ہے
”بھاٸی سعد کو بلاٸیں نہ“
”گڑیا بھاٸی ضروری کام سے گۓ ہوۓ ہیں“
وہ جانتا تھا سعد کو دیکھے گی تو پھر ڈر جاۓ اس لیے اس نے جھوٹ بولا
ساری رات ایسے ہی گزر گٸ
صبح انیک یونیورسٹی کے لیے نکل ہی رہا تھا کہ ڈور بیل بجی وہ اپنی باٸیک کی چابی اور ایکزیم فاٸل اٹھاتا دروازے کی طرف بڑھ گیا
انیک نے دروازہ کھولا تو ردا کا مسکراتا چہرا نظر آیا
” اَلسَلامُ عَلَيْكُم “ردا نے سلام کیا
”ہٹو سامنے سے دیر ہورہی ہے مجھے“ انیک نے ماتھے پر بل لاتے ہوۓ کہا
”ہو ہی کھڑوس بد تمیز“
ردا بڑبڑاتی ہوٸی آگے بڑھ گٸ
انیک ردا کی بڑبڑاھٹ سن چکا تھا
ردا کے آگے بڑھنے سے پہلے ہی انیک نے ردا کی کلاٸی پکڑ کر دوبارہ اپنے سامنے کھڑا کیا تھا
”آٶچ جنگلی چھوڑو میرا ہاتھ“
ردا نے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی ناکام سی کوشش کی
”میں کھڑوس بدتمیز جنگلی میری بات نہ تم اپنے چھوٹے سے دماغ میں فٹ کرلو“ انیک نے ردا کی کلاٸی چھوڑ کر اپنی ایک انگلی ردا کی کے ماتھے پر رکھی
1. ”تم جو میرے متعلق خواب دیکھ رہی ہو نہ وہ کبھی پورے نہیں ہونگے سمجھی تم میں تم جیسی بد زبان بدتمیز لڑکی کو منہ لگانا بھی پسند نہیں کرتا اس لیے تمھارے لیے اچھا یہ ہی ہوگا تم میرے سامنے نہ ہی آیا کرو“
انیک ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہتا دروازے سے باہر نکل گیا تھا
ردا کو اپنے دل پر زخم سا محسوس ہوا تھا وہ آنسوں پونچتی اندر کی طرف بڑھ گٸ تھی
ذایان نے ردا کو بلایا تھا تاکہ وہ علیزے کے ساتھ رہے اور علیزے کا دھیان بٹے اسی لیے ردا صبح صبح ہی چلی آٸی علیزے کی کنڈیشن ذایان ردا کو فون پر بتا چکا تھا
”اَلسَلامُ عَلَيْكُم آنٹی “
ردا نے خود کو نارمل کرکے مسکراتے ہوۓ کہا
”وَعَلَيْكُم السَّلَام میری بیٹی “
کوثر بیگم نے پیار سے ردا کا ماتھا چوما
”آج کالج نہیں گٸ تم “
”نہیں آنٹی علیزے کے بغیر بور ہوتی ہوں میں تو بس میں نے سوچا میں خود جا کر علیزے کی تیمار داری کروں تاکہ وہ جلدی ٹھیک ہوجاۓ“
”اچھا ہوا آگٸں بیٹا تم وہ ذایان کو چھوڑ ہی نہیں رہی پتا نہیں کیا ہوگیا ہے اسے سعد کو دیکھتے ہی شور مچانے لگ جاتی ہے تم آگٸ ہوتو اب ذرا دل بہل جاۓ گا اس کا“
ّاوکے آنٹی میں دیکھتی ہوں اس کو “
ردا کمرے میں گٸ تو ذایان اونگھتا ہوا علیزے کا سر دبارہا تھا علیزے آنکھیں موندے لیٹی تھی
”ذایان بھاٸی“ ردا نے ذایان کا کندھا ہلایا
ہممم ذایان نے چونک کر آنکھیں کھولیں
”پرنسیس تم آگٸیں چلو سنبھالو اپنی سہیلی کو مجھے تو بڑی زور کی نیند آٸی ہے “
ذایان بیڈ سے اٹھا اور جہاں خود بیٹھا تھا وہا ردا کو بیٹھا دیا
علیزے غونودگی میں تھی ردا اس کے پاس بیٹھ گٸ ذایان اپنے کمرے میں سونے چلا گیا
ذایان روم میں آیا تو سعد آنکھیں میچے لیٹا تھا
”بھاٸی آپ آفس نہیں گۓ“
””نہیں یار “
سعد نے اپنی نیند سے بھری سرخ آنکھیں کھولی
”علیزے کیسی ہے“ سعد اٹھ کر بیٹھ گیا
”بھاٸی اسے بخار ہے لیکن ابھی سورہی ہے آپ چاہے تو دیکھ لیں اسے جاکے “
ذایان کو سعد کی حالت پر ترس آیا
”ہممم ٹھیک ہے“ سعد ہلکا سا مسکرایا
سعد نے علیزے کے کمرے کا دروازہ کھولا تو ردا کو دیکھ کر حیران ہوگیا
”ردا تم صبح صبح یہاں کیا کررہی ہو“
”وہ بھاٸی ذایان بھاٸی نے بلایا تھا مجھے علیزے کی وجہ سے“
ردا نے جواب دیا
”تم برا نہ مانو تو میں تھوڑی دیر کے لیے روک جاؤں علیزے کے پاس“
سعد نے دلی خواہش ظاہر کی
”جی بھاٸی لیکن یہ اٹھ گٸ تو آپ سے ڈر جاۓ گی ذایان بھاٸی نے مجھے بتایا تھا یہ ڈر رہی ہے آپ سے“
ردا نے ٹھیر ٹھیر کے کہا کہی برا ہی نہ لگ جاۓ سعد کو
”میں جانتا ہوں یہ ڈر جاۓ گی مجھے یہاں دیکھ کر لیکن یہ جیسی اٹھے گی میں روم سے باہر آجاٶں گا “
سعد نے نرمی سے کہا
”ٹھیک ہے بھاٸی آپ بیٹھیں میں باہر ہوں“
ردا روم سے باہر آگٸ
ردا کے جاتے ہی سعد نے علیزے کے پورے چہرے پر محبت کی مہر لگاٸیں پھر علیزے کو خود میں سمیٹ کر آنکھیں موند لیں دونوں ہی رات بھر کے جاگے ہوۓ تھے اس لیے ایک دوسرے کی پناہ میں پرسکون ہوکر سوگۓ
ردا باہر کوثر بیگم سے باتوں میں مصروف ہوگٸ
دعا کا آج نکاح تھا دعا کا رو رو کر برا حال تھا
”امی میں نہیں کروں گی شادی کچھ کریں پلیز “
دعا اپنی ماں کے قدموں میں بیٹھی تھی
”میری بچی توں کیوں رو رو کے ہلکان ہورہی ہے میں نے کہا نہ تیری شادی نہیں ہوگی اس سے توں رو مت بس جیسا تیرے بھاٸی بھابی کہہ رہے ہیں ویسا کرتی جا “
رفعت بیگم نے دعا کو دلاسا دیا
”امی آپ کیا سوچ کر بیٹھی ہیں آخر مجھے بھی بتائيں“
رفعت بیگم کے چہرے پر اطمینان دیکھ کر دعا کو تشویش ہوٸی
”وقت آنے پر بتا دوں گی ابھی جا توں مہندی لگوا لے نہیں تو وہ تیری جلاد بھابی پھر آجاۓ گی “
رفعت بیگم نے مسکراتے ہوۓ کہا
”جی امی ”
دعا سر جھٹک کر مہندی لگوانے چلی گٸ
ذایان علیزے سعد ابھی تک اپنی نیند پوری کررہے تھے 1 بجے قریب انیک گھر آیا تو گھر میں صرف ردا کی آواز آرہی تھی جو کچن میں کوثر بیگم کے ساتھ کھانا بھی پکوا رہی تھی
”اففف یہ چڑیل کتنا بولتی ہے گھر کیوں نہیں گٸ یہ ابھی تک“
انیک جلتا کڑھتا اپنے روم میں چلا گیا
”کیا پک رہا ہے مما “
انیک فریش ہوکر کچن میں ہی آگیا
”بیٹا فراٸی چکن بناٸی ہے“
”اوہ ویسے یہ میڈم ابھی تک یہاں کیوں ہیں آج بھی کھانا کھا کر ہی جاٸیں گی کیا “
انیک نے بڑے مہذب انداذ میں ردا کو طعنہ مارا
”انیک بری بات ایسے نہیں بولتے چلو جاؤ میں کھانا لے کر آتی ہوں“
ردا انیک کو نظر انداز کرتی سالن میں چمچہ جلاتی رہی لیکن چور نظروں سے انیک کو دیکھ بھی رہی تھی جو بلیک شلوار قمیض میں نکھرا نکھرا سا بلا کا حسین لگ رہا تھا
”نہیں مما میں سب کے ساتھ کھانا کھاٶں گا“ انیک کہہ کر ردا پر ایک سخت نظر ڈالتا روم میں چلا گیا
”آنٹی اب میں بھی چلتی ہوں صبح سے آٸی ہوٸی ہوں “
ردا بھی گھر جانے کو تیار تھی اس کا دل تو نہیں تھا جانے کا لیکن وہ انیک کے سامنے نہیں جانا چاہتی تھی اس کی صبح والی باتیں ابھی بھی ردا کے دماغ میں گردش کررہیں تھیں
”ایسے کیسے بیٹا کھانا تو کھاٶ“
”نہیں نہیں مما آپ کا بہت شکریہ میں گھر پر کھانا کھاٶں گی آج موم ڈیڈ کے ساتھ وہ میرا ویٹ کررہے ہوں گے“
ردا نے جھوٹ بولا کیوں کہ کوثر بیگم ایسے تو اس کو جانے نہیں دیتیں
”اچھا چلو ٹھیک ہے بیٹا“
کوثر بیگم نے پیار سے کہا
ردا نے کال کرکے اپنے ڈراٸیور کو بلایا اور گھر آگٸ
گھر آتے ہی اسے سرپراٸز ملا اس پیرینڈ سچ میں اس کا کھانے پر انتظار کررہے تھے
”بیٹا تم آگٸیں ہم تمھارا ہی ویٹ کررہے تھے آجاٶں سب ساتھ کھانا کھاتے ہیں آچ میں نے ساری تمھاری فیوریٹ ڈشیز بنواٸی ہیں “
ردا کی والدہ نے محبت بھرے لہجے میں کہا
ردا تو خوشی سے جھوم اٹھی
”سچی موم ہم ساتھ کھانا کھاٸیں گے “
ردا نے اپنی موم کے دونوں ہاتھ پکڑ کر بے یقینی سے پوچھا
”ہاں بھٸ تمھاری موم سچ کہہ رہی ہیں آج ہم اپنی سویٹ اینجل کے ساتھ کھانا کھاٸیں گے“ یوسف صاحب( ردا کے والد) نے ردا کو خود سے لگاتے ہوۓ کہا
”ہممم ٹھیک ہے موم ڈیڈ چلیں پھر جلدی سے کھانا لگواٸیں مجھے بڑے زوروں کی بھوک لگی ہے “
ردا نے پیٹ پکڑتے ہوۓ کہا
پھر سب نے خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا اور خوب باتیں بھی کیں
ردا آج دل سے خوش تھی بہت خوش
”اپنوں کا ساتھ پاکر خوش ہوں
تیری ہونے کے لیے بے قرار ہوں“
علیزے سعد کی بانہوں میں ذرا سی کسماٸی تھی وہ شاید اٹھنا چاہ رہی تھی
سعد نے فوراً آنکھیں کھولیں تھی علیزے نے بھی پوری آنکھیں کھول کر اپنے پہلو میں نظر ڈالی تو آنکھوں میں ڈر خوف پھیل گیا
سعد جلدی سے اٹھ بیٹھا
”ڈرو نہیں میں جارہا ہوں“
سعد نے ہارے ہوۓ مرد کے انداز میں کہاں اور روم سے باہر آگیا
ذایان کوثر بیگم کے کندھے سے چپکا ٹی وی دیکھ رہا تھا
”اہم اہم جاؤ امی تمھاری بیٹی اٹھ گٸ ہے “ سعد نے براسا منہ بنا کر ذایان کو کہا
”یار بھاٸی ایسے تو نہیں بولیں آپ جانتے ہیں اس کی حالت اب وہ ایسے میں مجھے نہیں چھوڑ رہی تو میں کیا کروں“
ذایان نے آٸینہ دیکھایا سعد کو
”اچھا بھٸ کچھ نہیں کہتا جاؤ “
سعد چڑ ہی گیا تھا
”جی “ذایان کمرے میں چلا گیا تھا
”ذایان بھاٸی آپ کہاں چلیں گۓ تھے وہ شیطان پھر آگیا تھا“
علیزے روہانسی ہوٸی
”میرا بچہ میں یہی تھا اب تم فریش ہوجاٶ پھر ہم کھانا کھاٸیں گے تمھارا بخار بھی اتر گیا ہے اب تمھیں دلیہ نہیں کھانا پڑے گا “
ذایان نے پیار سے علیزے کا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے ہوۓ کہا
”ٹھیک ہے بھاٸی“
علیزے واشروم میں چلی گٸ
ذایان علیزے نے روم میں کھانا کھایا باقی سب نے کھانے کی میز پر ہی کھایا کھانا
شام کا وقت تھا دروازے پر دستک ہوٸی تھی
سعد نے دروازہ کھولا تھا سامنے مولوی صاحب تھے اور کے ہری قمیض اور سفید شلوار میں مولوی صاحب جیسی عمر کے بزرگ موجود تھے
سعد کے چہرے پر خوشی کی مسکراہٹ پھیلی
”اَلسَلامُ عَلَيْكُم“ سعد نے آدب سے سلام کیا
”وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ “
ان بزرگ نے جواب دیا
سعد تھوڑا شرمندہ سا ہوگیا کیوں کہ اس نے پورا سلام نہیں کیا تھا
”آٸیں اندر
سعد نے شرمندگی چھپاتے ہوۓ کہا
”آٶ ابراہیم“
مولوی صاحب نے اپنے دوست کو اپنے ساتھ اندر آنے کی دعوت دی
وہ دونوں اندر گۓ مولوی صاحب اور ان کے ساتھ آۓ بزرگ کو دیکھ کر سب کی کھوٸی ہوٸی مسکراہٹ ان کے چہروں کی چمک بن کر واپس آگٸ
کوثر بیگم نے آدب سے دوپٹہ اڑا اور دونوں بزرگ کو سلام کیا
سلام دعا کے بعد سعد علیزے کے سعد ہوۓ سارے واقعات مولانا ابراہیم کے غوش گزار کیے
”مجھے بچی سے ملواٶ“
مولانا ابرہیم نے نرمی سے کہا
”جی ذایان جاؤ علیزے کو لے کر آٶ “
”جی بھاٸی“
ذایان کمرے میں گیا اور آدب سے علیزے کو دوپٹہ اڑایا اور روم سے باہر لے آیا
سعد کو دیکھ کر علیزے سب کچھ بھول گٸ
”ذایان بھاٸی اس شیطان کو بھگاٶ مجھے مار دے گا یہ بھاٸی اس کو بھگاٶ “
علیزے سعد کو دیکھ کر ذایان کے پیچھے چھپ گٸ تھی
مولانا ابرہیم نے سعد کو اپنے پاس بلایا اور سعد کے سر پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں بند کیں اور کچھ پڑھنا شروع کردیا پھر ایک پھونک سعد کے پورے جسم پر ماری سعد کو اپنا وجود ہلکا ہوتا ہوا محسوس ہوا جیسے اس کے کندھوں پر سے بہت سارا وزن اتارا گیا ہو
”تم پر جادوں ہوا تھا تمھیں تمھاری بیوی سے دور رکھنے کے لیے“
مولانا ابراہیم نے سب کا جھٹکا دیا
”کیا اس وجہ سے میری بیوی مجھ سے ڈر رہی تھی“
سعد نے تصدیق چاہی
”بلکل بیٹا تمھارے اندر تمھاری بیوی کو تم نہیں ایک شیطان نظر آرہا تھا “
مولانا ابراہیم نے سب کو تفصیل بتائی
”کیا تمھیں اپنے اندر بدلاٶ محسوس نہیں ہورہا “
”جی ہورہا ہے ایسا لگ رہا میرے اوپر سے منو بوج اترا ہو “
سعد نے مسکراتے ہوۓ کہا
”اب جاؤ اپنی بیوی کے پاس “
مولانا ابراہیم نے سعد کو حکم دیا
علیزے ابھی بھی ڈری سہمی سی ذایان کے لمبے چوڑے وجود کے پیچھے چھپی تھی
سعد آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ذایان کے پاس گیا اور محبت بھرے لہجے میں گوایا ہوا
”علیزے باہر آٶ میں آگیا “
علیزے نے پہلے ڈرتے ڈرتے ذایان کے پیچھے سے تھوڑا جھانکا اور سعد کو سامنے کھڑا دیکھ کر بنا کسی کی پروا کیے سعد کے چوڑے سینے سے جالگی
”سعد آپ کہاں چلے گۓ تھے“
علیزے سعد کے سینے میں چھپی روۓ جارہی تھی
”اچھا بس میں آگیا ہوں رونا تو بند کرو اب“ سعد نے نرمی سے علیزے کو خود سے دور کیا اور اس کے آنسو پونچے
”وہ دیکھوں سامنے کون آیا ہے “
سعد نے ابراہیم صاحب کی طرف اشارہ کیا
”کون ہے یہ“
علیزے نے ابراہیم صاحب کا جاٸزہ لیتے ہوۓ پوچھا
”یہ مولانا ابراہیم ہیں یہ تمھارا علاج کرنے آٸیں ہیں “
سعد نے نرمی سے جواب دیا
”میرے پاس آٶ“
مولانا ابرہیم نے علیزے کو اپنے پاس بلایا
سعد علیزے کا ہاتھ پکڑ کر مولانا ابراہیم کے پاس لے آیا
مولانا ابراہیم نے علیزے کے سر پر ہاتھ رکھا اور آنکھیں بند کرکے کچھ پڑھنے لگ گۓ کافی دیر پڑھنے کے بعد مولانا ابراہیم نے علیزے پر دم کیا
”سعد بیٹا مجھے اس بچی کے تھوڑے سے بال کاٹ کے دو“
مولانا ابرہیم کی بات سن کر سعد پہلے تو حیران ہوا پھر علیزے کی چوٹی میں سے تھوڑے سے بال کاٹ کے مولانا ابرہیم کو دیے تھے
مولانا ابراہیم نے کچھ پڑھ کر بالوں پر پھونکا اور بال زمین پر رکھ دیے
دیکھتے ہی دیکھتے بالوں میں آگ بڑھک اٹھی اور جل کر خاک ہوگۓ
یہ منظر دیکھنے والے سب نفوس اپنی اپنی جگہ جامد ہوگۓ
ہر سوں خاموشی پھیل گٸ تھی اس خاموشی میں مولانا ابرہیم کی آواز نے توڑا
”سعد مجھے اپنا کمرا دیکھاٶ“
”جی آٸیں“
مولانا صاحب سعد مولانا ابرہیم کو کمرے میں لے گیا
انھوں نے وہاں بھی دم درود کیا اور باہر آگۓ
”بیٹا اب تمھیں تمھاری بیوی کو کوٸی خطرہ نہیں میں نے ہر بلا اس مالک کے حکم سے اس گھر سے دور کردیں ہیں“
”کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں یہ سب کس نے کیا “سعد نے ضبط سے پوچھا
”بیٹا میں صرف اتنا بتاٶں گا وہ دشمن ہے تمھاری بیوی کی اس نے یہ سب تمھیں حاصل کرنے کے لیے کیا تھا جتنا ہوسکے اس معصوم بچی کو اس سے دور رکھو اس نے اس کے بالوں پر کالا علم کروایا تھا اسی وجہ سے اس کو برے خواب آتے تھے اب کوشش کرنا اس کی کوٸی بھی شے اس کے ہاتھ نہ لگے “
مولانا ابرہیم کی باٹ سنتے ہی سعد کو صرف علیزے کی ایک ہی دشمن نظر آٸی
”صاٸمہ “سعد کی زبان سے ادا ہوا
”مولانا صاحب صاٸمہ ہے نہ وہ مجھے بتائيں صاٸمہ ہے نہ “
سعد نے آگے بڑھ کر پوچھا
”ہاں بیٹا لیکن تمھیں کیسے معلوم ہوا“
”اس پوری دنیا میں میری بیوی کی ایک ہی دشمن ہے صاٸمہ “
سعد ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہا
”بیٹا غصہ نہیں کرو غصہ حرام ہے تحمل سے کام لو “
مولانا صاحب نے سعد کا غصہ ٹھنڈا کرنا چاہا
سعد مولانا صاحب کے احترام میں چپ ہوگیا لیکن اس کے دل میں آگ لگی تھی
کچھ دیر میں مولانا ابراہیم اور مولوی صاحب رخصت ہوگۓ تھے
”میری پیاری گڑیا تم ٹھیک ہوگٸیں کتنا مس کیا میں نے تمھارا یہ ہنستا مسکراتا چہرا “ انیک نے علیزے کے دونوں رخسار بچوں کی طرح کھینچتےہوۓ کہا
”آہ انیک بھاٸی کیا کررہے ہیں اتنی زور سے پکڑتا ہے کیا کوٸی گال “
علیزے نے اپنے سرخ ہوۓ رخسار سہلاتے ہوۓ کہا
”آج سب باہر کھانا کھاٸیں گے علیزے کے ٹھیک ہونےکی خوشی میں میری طرف سے ٹریٹ“ سعد نے سب کو خوش دیکھا تو سب کی خوشی میں اضافہ کیا
سب نے شام کو خوب انجواۓ کیا
سعد اور علیزے پھر سے ایک دوسرے کا ساتھ پاکر خوش تھے کوثر بیگم اپنے گھر کی خوشیاں لوٹتے دیکھ خدا کے حضور دعاگو تھیں
سعد اور علیزے کا امتحان تو پورا ہوچکا تھا لیکن محبت کا رشتہ صرف سعد اور علیزے کا نہیں تھا ذایان اور دعا کا بھی تھا ان کو بھی ہجر کی راتیں گزارنی تھیں اپنی سچی محبت کا امتحان دینا تھا
رات دس بجے کے قریب سب گھر لوٹے تھے ذایان کو دعا کا خیال آیا اس نے بنا سوچے سمجھے دعا کو کال کردی
دوسری طرف سے کال اٹھالی گٸ تھا
” زندگی کیسی ہو “
ذایان نے محبت سے پوچھا
”میں ٹھیک ہوں آپ بتائيں گھر میں سب ٹھیک ہے “
”ہاں زندگی وہ بھابی بیمار تھی بس اسی وجہ سے تم سے بات نہیں کرپاتا تھا وہ بھابی ہونے کے ساتھ ساتھ میری بہن بھی تو ہے بس اسی وجہ سے تم سے بات نہیں کرسکا سوری زندگی مجھے معاف کردو میں کل ہی رشتہ لے کر آجاٶں گا “
دعا بیوٹی پارلر میں بیٹھی خود کو رونے سے روک رہی تھی اس کا دل چاہ رہا تھا وہ پھوٹ پھوٹ کے روۓ چیخے چلاۓ سب کو بتاۓ ”دیکھو محبت کرنے والے ایسے بھی بجھڑتے ہیں “
لیکن وہ سسکیوں کا گلا گھوٹتی صرف اتنا ہی کہہ پاٸی
”ذایان آپ نے بہت دیر کردی آج شادی ہے میری پلیز آٸندہ مجھے کال نہیں کریے گا “
دعا نے کال کاٹ دی ذایان صدمے کی حالت میں بیٹھا موبائل کو تکتا رہا
ذایان نے خود کو سنبھالا اور دوبارہ کال کی ایک بار دو بار تین بار لیکن کال نہیں اٹھاٸی گٸ
دعا بار بار آتی کال کو دیکھتی اور اپنے بہتے آنسو کو صاف کرتی لیکن اب اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کال اٹھا کر ذایان کا درد سنتی وہ بے آواز رو رہی تھی اتنے میں رفعت بیگم آگٸیں
” بیٹا چل تیار ہوگٸ“
رفعت بیگم نے دعا کا سجا سنوارہ روپ کالی چادر میں چھپایا اور اپنے ساتھ لے گٸیں
”نہیں نہیں دعا تم ایسا نہیں کر سکتی میری ساتھ فون اٹھاٶ پلیز فون اٹھاٶ“
ذایان بار بار کال کررہا تھا لیکن دوسری طرف سے کوٸی جواب نہیں مل رہا تھا
اگلے ہی پل ذایان کا موبائل زمین کی زینت بن گیا تھا ذایان نے پوری قوت سے موبائل زمین پر مارا تھا اور موبائل ذایان کے دل کی طرح کٸ ٹکڑوں میں تقسیم ہوچکا تھا
”نہیں دعا نہیں واپس آجاٶ میرے پاس“
کمرے کے دروں دیوار ذایان کی چیخوں سے لرز اٹھے تھے
” دعا میری زندگی واپس آجاٶ پلیز دعا میں مر جاؤں گا“
ذایان کی چیخوپکار سن کر سب گھر والے ذایان کے کمرے میں آگۓ تھے سعد نے زمین پر بیٹھے روتے بلکتے ذایان کو سنبھالا
”کیا ہوا میری جان یہ کیا حالت کرلی تم نے کیا ہوا ہے “
سعد بوکھلایا ہوا سا گویا ہوا
”بھاٸی وہ چھوڑ کر چلی گٸ مجھے بھاٸی دعا چلی گٸ“
ذایان نے ہارے ہوۓ لہجے میں کہا
”کہاں چلی گٸ وہ “
سعد نے ذایان کا چہرا اٹھا کر پوچھا
”وہ کسی اور کی ہوگٸ بھاٸی اس کی شادی ہے آج “
ذایان نے ٹوٹے بکھرے لہجے میں کہا
”تم فون کرو اسے ہم ابھی چلتے ہیں اس کے پاس میں روکوادوں گا اس کی شادی “
سعد سے اپنے شرارتی بھاٸی کی ایسی حالت نہیں دیکھی جارہی تھی
کوثر بیگم تو اپنی جگہ ساکت ہوگٸیں تھیں انکا ذایان جو محبت جیسے جذبوں سے دور بھاگتا تھا ہنسنا کھیلنا کھانا پینا اور عیش کرنا جس کی زندگی کا مقصد تھا وہ ایک لڑکی سے اتنی محبت کر بیٹھا تھا
علیزے بھی ذایان کی حالت دیکھ کر اپنے آنسوں نہیں روک پاٸی تھی کچھ ہی پل میں اس کا چہرا آنسوٶں سے بھیگ چکا تھا
”بھاٸی وہ فون نہیں اٹھارہی کیا کروں میں کیسے رابطہ کروں اس سے“
ذایان نے سعد کے دونوں بازوں پکڑ کر کر ہلاۓ
”ذایان سنبھالو خود کو بیٹا“
کوثر بیگم نے آگے بڑھ کر ذایان کو کندھوں سے تھاما تھا
”بھاٸی ہمت رکھو ایسے تو نہیں کرو میں بھی رو دوں گا“
انیک نے بھی آگے بڑھ کر ذایان کو ہمت دلاٸی انیک کی آنکھوں میں نمی اتر آٸی تھی
”یار انیک میں نے تجھے بتایا تھا نہ میں کتنا پیار کرتا ہوں اس سے میں نہیں رہ سکتا اس کے بناہ پھر کیوں ہوا میرے ساتھ ایسا “
ذایان نے دیوانوں کی طرح کہا
”ذایان بھاٸی میں دعا کرو نگی کہتے ہیں دعاٶں سے قسمتیں بدل جاتی ہیں میں بہت دعا کرونگی آپ کے لیے دعا بھابی واپس آجاٸیں گی “
علیزے نے ذایان کو دعا کی واپسی کا راستہ دیکھایا
”اور میں دعا کرونگا تمھاری یہ دعا جلد سے جلد پوری ہو“
انیک نے بھی علیزے کا ساتھ دیا
وہ رات سعد اور اس کے گھر والوں کی سب سے درد ناک رات تھی ساری رات کوٸی نہیں سوپایا تھا سب ہی ذایان کو اپنی اپنی طرف سے ہمت دلا رہے تھے
”حجر کی راتیں گزارنی ہے ابھی ہمیں
جب تک الوداع کہتا ہوں تجھ کو میں “
ذایان کی زندگی سے زندگی کو گۓ ایک ہفتہ ہوچکا تھا آہستہ آہستہ سب ہی اپنی زندگی کی طرف لوٹ آۓ تھے سواۓ ذایان کے ذایان نے آفس جانا ہنسنا بولنا شرارتیں کرنا سب چھوڑ دیا تھا سارا دن روم میں بیٹھا رہتا اور دعا کو یاد کرتا رہتا کھانا بھی سہی سے نہیں کھاتا سب کے کہنے پر زبردستی تھوڑا بہت کھالیتا بس ذایان کچھ ہی دنوں میں بیمار نظر آنے لگا تھا دعا کی یادیں راتوں کو اس کو سونے نہیں دیتی تھیں اس کے آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکے پیدا ہوگۓ تھے
اس کے کسرتی جسم میں کافی کمی آٸی تھی اس کے چہرے کی چمک شرارت سے بھر پور آنکھیں اس سے روٹھ گٸں تھی
علیزے نے بھی کالج جانا شروع کردیا تھا ردا علیزے کو دیکھ کر بہت خوش ہوٸی تھی لیکن جب اسے ذایان کے بارے میں معلوم ہوا تو اس کی آنکھیں بھی نمکین پانی سے بھر گٸیں تھی ردا بھی اس سے ملنے آٸی تھی لیکن اس میں پہلے جیسی زندگی کی رمتک نہ دیکھ کر ردا کی ہمت نہیں ہوٸی کہ وہ اس کو دلاسہ بھی دے سکے
گھر کا ہر فرد ذایان کی خوشیاں اور گھر کی رونق واپس لانے کے لیے دعاگو تھا
”ذایان بھاٸی“
علیزے ذایان کے بیڈ پر بیٹھی اس سے باتیں کر رہی تھی لیکن وہ ہر بات کا جواب ہوں ہاں میں دیتا اور خاموش ہوجاتا
”ذایان بھاٸی “
”ہمم“
”یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے نہ نہ میں بیمار پڑتی نہ سب میرے لیے پریشان ہوتے نہ دعا بھابی آپ سے دور ہوتیں مجھے معاف کردیں ذایان بھاٸی پلیز “
علیزے روتے ہوۓ ذایان کے آگے ہاتھ جوڑ گٸ تھی
”نہیں نہیں میری جان ایسا نہیں بولو تم تمھاری وجہ سے کچھ نہیں ہوا“
”یہ سب ایسا ہی ھونا لکھا تھا دعا کو ایسے ہی جانا تھا میری زندگی سے تو وہ چلی گٸ تمھارا کوٸی قصور نہیں“
ذایان نے اپنی گڑیا کے چوڑے ہاتھ پکڑ کر نیچے کر دیے
”بھاٸی پھر آپ پہلے جیسے ہوجاٸیں نہ نہیں تو مجھے ایسا لگتا رہے گا کہ آپ کی اس حالت کی ذمہ دار میں ہوں بھاٸی پلیز زندگی کی طرف لوٹ آٸیں پلیز میرے پہلے والے ذایان بھاٸی بن جاٸیں“
علیزے نے ذایان سے التجا کی
”گڑیا جیسا تم کہو گی میں ویسا کروں گا بس جو میرے ساتھ ہوا اس کا قصوروار تم خود کو نہیں ٹھراٶ گی“
ذایان نے علیزے نے وارن کرنے والے انداز میں کہا
”ٹھیک ہے پھرآپ جلدی سے اٹھیں اور کھانا کھاٸیں سب کے ساتھ “
”ٹھیک ہے چلو کھانا کھاتے ہیں “
ذایان زبردستی مسکرایا
سب ذایان کو دیکھ کر بہت خوش ہوۓ لیکن ذایان کی پہلے والی شرارتیں باتیں ذایان کے دل کے کسی کونے میں چھپ گٸیں تھیں
