Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rishte Mohabat Ke Episode 6

Rishte Mohabat Ke by Misbah Khalid

سعد صاٸمہ کے سامنے کھڑا سینے پر ہاتھ باندھے صاٸمہ کو اچھا خاصا ذلیل کرچکا تھا

صاٸمہ سعد کی علیزے کے لیے اس قدر محبت دیکھ کر اندر تک سے جل گٸ تھی اس کا دل کررہا تھا ابھی اسی وقت علیزے کو جان سے ماردے جس کی وجہ سے سعد نے اس کو اتنی باتیں سناٸی وہ آنکھوں میں غصہ لیے پیر پٹختی وہاں سے چلی گٸ تھی

”علیزے“ سعد نے پیار سے علیزے کو مخاطب کیا جو سعد کا غصہ دیکھ کر ڈری سہمی کھڑی تھی

علیزے نے نظریں اٹھا کر سعد کو دیکھا

”کیا ہوا تم کیوں ڈر رہی ہو تمھیں تھوڑی کچھ کہوں گا میں چلو گھر چلتے ہیں ہم “

سعد نے پیار سے علیزے کا ہاتھ پکڑا اور آٸسکریم پارلر سے باہر آگیا

علیزے سعد نے خاموش بیٹھی علیزے کو مخاطب کیا

”جی “علیزے نے آہستہ سے کہا

” کل ذایان نے انیک کو کیا کہا تھا جو وہ ذایان کے پیچھے لگا تھا اور پھر میرے پوچھنے پر اس نے کچھ بتایا بھی نہیں“

سعد نے گاڑی ڈراٸیو کرتے ہوۓ پوچھا

علیزے کے چہرے پر ہلکی سے مسکراہٹ آگٸ سعد یہ ہی تو چاہ رہا تھا

”اکیلے اکیلے مسکرا رہی ہو مجھے بھی بتاٶ میں بھی مسکراٶں گا تمھارے ساتھ“

سعد نے مسکراتے ہوۓ کہا

”انیک بھاٸی ذایان بھاٸی سے کچھ پوچھ رہے تھے تو ذایان بھاٸی نے انیک بھاٸی کو کہا لو اس کو بتاٶ لڑاکا عورت کو“

علیزے نے اپنی ہنسی کنڑرول کرتے ہوۓ اپنی بات مکمل کی

”کیا ذایان بھی نہ توبہ عورت ہی بنا دیا اس نے انیک کو “

سعد نے ہنستے ہوۓ جواب دیا

”جی جب ہی انیک بھاٸی ان کو مارنے بھاگے تھے “

دونوں ایسے ہی باتیں کرتے کرتے گھر پہنچ گۓ تھے

گھر پہنچ کے معلوم ہوا گھر کے دونوں شیطان ابھی تک جاگ رہے ہیں

کوثر بیگم بھی اپنے بچوں کی فکر میں ابھی تک نہیں سوٸیں تھیں

”ارے یہ کیا سوۓ نہیں ابھی تک“

سعد نے صوفے پر سامان رکھتے ہوۓ کہا

”اَلسَلامُ عَلَيْكُم “

علیزے بھی سب کو سلام کرتی صوفے پر بیٹھ گٸ

”بھٸ بھاٸی ہمیں دیکھنا تھا آپ ہمارے لیے کیا لاۓ صبح تک ہم سے انتظار نہیں ہوتا نہ“

ذایان نے بچوں کی طرح کہا

سعد ابھی کچھ بولتا انیک ذایان کو پیچھے کرتا آگے آگیا

”لاۓ بھاٸی میرے لیے کیا لاۓ “

”نہیں بھاٸی پہلے مجھے دیں کیا لاۓ میرے لیے “ذایان انیک کو پیچھا کرتا آگے آگیا

سعد تھکا ہارا صوفے پر بیٹھ گیا

علیزے ذایان انیک کی حرکتوں سے خوب محفوظ ہورہی تھی

کوثر بیگم سر پکڑ کر بیٹھی تھی اپنے جوان بیٹوں کو بچوں کی طرح لڑتے دیکھ کر

”میری پیاری مما ان دو شیطانوں کو کیوں نہیں سلایا آپ نے“

سعد نے تھکے تھکے انداز میں

”بیٹا یہ بچے تھوڑی ہیں جو ان کو گود میں لے کر لوری سنا کر سلا دوں پہاڑ جیسے جوان لڑکے ہیں ہاں وہ الگ بات ہے ان دونوں کا اس بات کا احساس نہیں ہے“

کوثر بیگم نے ان کی حرکتوں سے پریشان ہوکر کہا

”ذایان بھاٸی انیک بھاٸی ہم دونوں آپ کے لیے کچھ نہیں لاۓ “

علیزے نے آخر کار سعد کی مشکل ہل کردی

”کیا کچھ نہیں لاۓ“ انیک کو صدمہ لگا

”کوٸی بات نہیں بھول گۓ ہوں گے اتوار آنے والا ہے پھر بھاٸی ہمیں شوپینگ کراکر لاۓ گے کیوں بھاٸی“

ذایان نے آج قسم کھالی تھی سعد کو تنگ کرنے کی

”او معاف کرو تم دونوں مجھے سکون لینے دوں ذرا سا پانی بھی پلادو تمھارا بچپنہ ختم ہوگیا ہوتو“ سعد نے بے ذاری سے کہا

”جاؤ تم دونوں ان دونوں کے لیے پانے لاٶ“

کوثر بیگم نے دونوں کو آنکھیں دکھاٸیں

دونوں فرمانبردار بچوں کی طرح پانی لینے چلے گۓ

”شکر جان چھوٹی “سعد نے شکر کا کلمہ پڑھا

”مما آٸیں میں آپ کو شوپینگ دیکھاتی ہوں“ علیزے نے مسکراتے ہوۓ کپڑوں کی ایک شوپر اٹھاٸی

”ہاں دیکھاٶں کیا کیا دلایا سعد نے تمھیں “

”یہ دیکھیں مما یہ سوٹ آپ کے لیے لاۓ ہیں ہم“ اس نے ایک خوبصورت سا سوٹ نکال کر کوثر بیگم کو دیا

”ارے بیٹا کیا ضرورت تھی میرے لیے لانے کی ابھی تمھارے دن ہیں سجنے سنورنے کے“

کوثر بیگم نے پیار سے کہا

”مما میں اتنے پیار سے لاٸی ہوں آپ کے لیے “

”اچھا اچھا میں رکھ لیتی ہوں بہت اچھا ہے سوٹ“ کوثر بیگم کو پیار سے کہا

”بھاٸی پانی“ انیک نے سعد کو پانی دیا

سعد نے پانی کا گلاس تھاما اور لبوں سے لگا لیا

” گڑیا پانی“ ذایان نے علیزے کو پانی دیا اور وہی بیٹھ گیا شوپینگ دیکھنے

”اس میں کیا ہے بیٹا “کوثر بیگم اپنے ہاتھ میں ایک کالی شوپر لیے جو بند تھی علزے سے پوچھ رہیں تھیں

علیزے سوچ میں پڑھ گٸ اس میں کیا تھا

”مما یہ مجھے دے دیں “

سعد کی نظر شوپر پر پڑی تو فوراٗ بولا

”یہ لو“ کوثر بیگم نے شوپر سعد کی طرف بڑھاٸی

”میں بھی دیکھوں اس میں کیا ہے “

سعد شوپر پکڑتا اس سے پہلے ذایان شوپر لے کر بھاگ کھڑا ہوا

”ذایان مجھے دو شوپر“

سعد بھی ذایان کے پیچھے تھا

” مجھے بھی دیکھاٶ اس میں کیا ہے“

انیک نے بھی اس کھیل میں حصہ لینا ضروری سمجھا

”ارے کیا ہوگیا ہے تم لوگوں کو “

کوثر بیگم کی آواز کا تینوں پر کوٸی اتر نہیں ہوا

”ذایان شوپر دو مجھے بہت مار کھاٶ گے تم “

”پکڑ تو لو پہلے بھاٸی مجھے بھی دیکھانا اس میں کیا ہے“

علیزے بیٹھی سوچ رہی تھی آخر اس شوپر میں کیا ہوسکتا ہے پھر اس کے دماغ میں بےہودہ لباس آیا مطلب ناٸٹی یہ سوچ آتے ہی علیزے بھی ان تین پہاڑوں کے بیچ میں گھس گٸ

”ذایان بھاٸی یہ شوپر مجھ دے دیں“

پر ذایان پر کوٸی اثر نہیں ہوا چاروں نے پورے گھر میں شور مچایا ہوا تھا

کوثر بیگم اپنا سر پکڑ کر بیٹھی تھیں

آخر کار ذایان سعد کے ہاتھ میں آہی گیا

”دو مجھے شوپر “

سعد نے ذایان کے ہاتھ سے وہ شوپر چھین لی

اب چاروں اپنی اپنی جگہ کھڑے ہانپ رہے تھے پھر ایک دوسرے کی شکل دیکھ کر زور زور سے ہنسنے لگے

کوثر بیگم نے بھی مسکراتے ہوۓ اپنے چاروں بچوں کی بلاٸیں لیں اور دل میں ان کے ہمیشہ ہنستے کھیلتے رہنے کی دعا کی

”چلو دیکھ لی بہت شوپینگ سب اپنے اپنے کمرے میں جاکر سو رات بہت ہوگٸ ہے “

کوثر بیگم نے حکم دیا

”اوکے مما “

چاروں ایک ایک کرکے اپنے روم میں چلے گۓ

علیزے کا ارادہ سعد کی خبر لینے کا تھا

روم میں جاتے ہی علیزے نے شوپر کھول کر دیکھی تو اس میں وہی بے ہودہ لباس تھا

”میں نے آپ کو منا کیا تھا پھر کیوں لیا یہ بےہودہ لباس“

علیزے سعد کے سر پر کھڑی غصے میں پوچھ رہی تھی

سعد بیڈ پر بیٹھا اپنی گھڑی اتار کر ساٸیڈ ٹیبل پر رکھ رہا تھا

علیزے کا غصہ دیکھ کر مسکرایا

”ارے میری ننھی سی جان کو بھی غصہ آتا ہے“ سعد نے علیزے کی ناک پکڑتے ہوۓ کہا

”بدتمیزی نہیں کریں بتائيں یہ کیوں لیا “

علیزے نے سعد کا ہاتھ جھٹکتے ہوۓ کہا

”ارے تو تمھارے لیے تھوڑی لیا دوسری بیوی کے لیے لیا ہے“

سعد نے بیڈ پر نیم دراذ ہوتے ہوۓ کہا

علیزے کی تو آنکھیں باہر آنے کو تھیں

” آپ دوسری شادی کریں گے “

علیزے نے کمر پر دونوں ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا

”ہاں تو تم سے تو مما کی مرضی سے شادی کی تھی اب اپنی مرضی سے کروں گا شادی اور اس سے کروں گا جو میری بات مانیں اور میری پسند کے کپڑے پہنے“

سعد نے بڑے مزے سے بیڈ پر لیٹتے ہوۓ کہا

”تو کرلے شادی میری بلا سے مجھے کیا “

علیزے غصے میں بولتی اپنی جگہ پر جاکر لیٹ گٸ

سعد نے بھی مسکراتے ہوۓ آنکھیں مند لیں

ایک نۓ دن کا آغاز ہوچکا تھا پرندے رب کی ثنا۶ پڑھ رہے تھے اور ایک چڑیا اپنے چڑے کو اٹھانے میں مصروف تھی جو آج اٹھنے کا نام نہیں لے رہا تھا

”اٹھ جاٸیں کیا ہوگیا ہے آپ کو آج آفس نہیں جانا کیا “

”تمھیں کب سے کہہ رہا ہوں میرا نام لے کر اٹھاٶ تم لے ہی نہیں رہی ہو“

سعد نے بیڈ پر لیٹے لیٹے ہی کہا

”بھٸ کیا ہوگیا ہے مجھ سے نہیں لیا جاتا نام“ علیزے نے بے زاری سے کہا

”ٹھیک ہے مت لو نام بات بھی مت کرنا اب مجھ سے “

سعد غصے میں بیڈ سے اٹھ کر واشروم میں چلا گیا

”ہاۓ یہ تو جن بن گۓ “

علیزے سر پکڑ کر وہی بیڈ پر بیٹھ گٸ

پھر تھوڑی دیر بعد خود ہی اٹھ کر روم سے باہر نکل گٸ

”سنے مکھن دیجیے گا “

علیزے نے سعد کو کہا

سعد بے نیازی سے کھانا کھاتا رہا

”سنیں مکھن دے دیں“

علیزے نے دوبارہ کہا

”سعد بیٹا سن نہیں رہے ہو وہ بچی کب سے تم سے مکھن مانگ رہی ہے“

کوثر بیگم نے بھی سعد کو ڈانٹا

”مجھے آواز نہیں آرہی مما “

سعد نے ناشتے میں مصروف ہوتے کہا

”ذایان تم دے دو بیٹا سعد کو تو ایسا لگ رہا ہے اس نے ناشتا چھوڑا تو ناشتا بھاگ جاۓ گا “

کوثر بیگم کی بات پر سب ہنس دیے

سعد منہ بنا کر بیٹھا رہا

”اوکے مما میں جارہا ہوں خدا حافظ“

سعد راہداری کی طرف چل دیا

”سنیں بات تو سنیں میری “

علیزے پیچھے سے آوازیں دیتی رہ گٸ پر سعد نے ایک نہیں سنی

”کیا ہوا ہے یہ بھاٸی کو صبح صبح کیوں منہ پھلاۓ گھوم رہے ہیں “

ذایان نے پریشان سی کھڑی علیزے سے سوال کیا

”چھوڑے بھاٸی آپ پین لادیں گے کل میں لینا بھول گٸ “

”ہاں کیوں نہیں گڑیا لادوں گا“

ذایان نے پیار سے کہا

”اوکے مما خدا حافظ “

ذایان بھی چلا گیا انیک بھی جلا گیا تھا

”علیزے “

”جی مما “

”بیٹا یہ سعد کو کیا ہوا ہے کیوں ناراض ہے تم سے “

”مما وہ مجھ سے کہہ رہے تھے میں ان کا نام لوں مجھ سے نہیں لیا جاتا میں کیا کروں“ علیزے نے کوثر بیگم کو ساری بات بتادی

”بیٹا وہ تمھارا شوہر ہے اگر وہ تمھاری زبان سے اپنا نام سننا چاہتا ہے تو لے لو نام“

کوثر بیگم نے پیار سے علیزے کو سمجھایا

”مما وہ مجھ سے اتنے بڑے ہیں میں کیسے لوں نام ان کا“

علیزے نے دوپٹے کا کونہ انگلی پر لپیٹتے ہوۓ کہا

”ارے پاگل لڑکی بڑا ہے تو کیا ہوا شوہر ہے تمھارا کوٸی بات نہیں تم لے سکتی ہو اس کا نام اور پھر سعد خود چاہتا ہے کہ تم اس کا نام لو اور پھر جو بیویاں شوہر کی فرمانبردار ہوتی ہیں وہی ان کے دلوں پر چڑھتی ہیں“

کوثر بیگم نے پیار سے علیزے کا گال تھپتھپایا

”اچھا مما میں کوشش کروں گی“

علیزے نے سر جھکا لیا

پورے دن اس نے اپنا کالج کا بیگ سیٹ کیا کپڑے پریس کیے

اپنا سارا سامان تیار کیا

شام ہوگٸ تھی کوثر بیگم کے گھر کی رونقیں ایک ایک کرکے گھر آگٸ تھیں

سعد کے آتے ہی علیزے نے فرمانبردار بیوی کی طرح سعد کے کپڑے نکالنے کے لیے اپنے قدم روم کی طرف بڑھا دیے

”ارے یہ کیا کر رہے ہیں میں نکال دیتی ہوں کپڑے“

سعد کو کپڑے نکالتے دیکھ علیزے جلدی سے سعد کے پاس آگٸ

”پیچھے رہو مجھے نہیں چاہیے تمھاری خدمتیں“

سعد نے غصے میں کہا اور پھر سے اپنے کام میں مصروف ہوگیا

علیزے خاموش کھڑی سعد کو دیکھتی رہی

” کیا کروں کیسے لوں ان کا نام کیسی مصیبت میں پھنس گٸ ہوں میں “

دھڑام کی آواز سے علیزے اپنی سوچوں کی دنیا سے باہر نکلی

سعد نے واشروم کا دروازہ اتنی زور سے بندھ کیا کہ علیزے کانپ گٸ

علیزے سر جھٹک کر روم سے باہر نکل گٸ

سب نے کھانا کھایا باتیں کی مووی دیکھی مزے سے پھر اپنے اپنے کمروں میں چلے گۓ

”کہاں ہو تم کہاں ڈھونڈو تمھیں روز اس آٸسکریم پارلر جاتی ہوں شاید تم مل جاٶ پر ملتے نہیں کہاں ملو گے میں بھی تمھارے ساتھ ہنسنا بولنا چاہتی ہوں تمھاری ہنسی سے عشق ہوگیا ہے مجھے پلیز کہی تو مل جاؤ اب اس کی آنکھوں میں آنسو آگۓ تھے “

وہ موباٸل میں موجود انیک کی تصویر دیکھ کر اس سے باتیں کر رہی تھی جیسے وہ تصویر ابھی اس کو انیک کا پتا دے گی ۔

وہ اپنے موبائل کو اپنے سینے سے لگاۓ لیٹ گٸ اس کی آنکھوں سے نکلتے آنسو اس کے تکیے میں جذب ہورہے تھے انیک کو یاد کرتے کرتے وہ کب سوٸی اسے پتا نہیں چلا ۔

سعد بھی روم میں آکر اپنی جگہ پر لیٹ گیا

”کیسے بات کروں یہ تو میری طرف پشت کرکے لیٹ گۓ ہیں “

علیزے کو سعد سے کچھ بات کرنی تھی اور وہ علیزے کی طرف پشت کرکے لیٹ گیا تھا

”سنیں مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے“ علیزے نے ہمت کرکے سعد کو مخاطب کیا

سعد ہنوز منہ پھلاۓ لیٹا رہا

”پلیز میری بات تو سن لیں“

علیزے نے التجا کی

سعد پر کوٸی اثر نہیں ہوا

”سع سعد“ علیزے منمناٸی

سعد نے سن لیا تھا لیکن جواب دینا ضروری نہیں سمجھا

”سعد پلیز میری بات سنیں“

علیزے اس دفع تھوڑی اونچی آواز میں گویا ہوٸی

سعد ابھی بھی خاموشی سے لیٹا تھا

علیزے کو تو اب غصہ ہی آگیا تھا

”سعد میری بات سنیں“

علیزے نے سعد کا بازو پکڑ کر زور سے کھنچا

اور سعد کا رخ اپنی طرف کیا

”جی بولیں بیگم“ سعد نے مسکراتے ہوۓ کہا

”بھٸ ایسے نہیں بولیں“ علیزے نے چڑ کر کہا

”تو کیسے بولوں“ سعد نے بھی علیزے کی نکل اتاری

”بھٸ کیا ہے میرے بات سن لیں نہ “

”جی بولیں نہ “

سعد نے تو آج علیزے کو زچ کرنے کا کوٸی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا

”پلیز “علیزے نے التجا کی

”اچھا بولو کیا بولنا ہے “

سعد نے لیٹے لیٹے ہی پاس بیٹھی علیزے کو کمر سے پکڑ کر اپنے اور قریب کیا

علیزے کی ہاتھ میں پسینے آگۓ تھے نظریں شرم سے جھک گٸ تھی چہرا سرخ ہوگیا تھا

علیزے میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ سعد کا ہاتھ پکڑ کر ہٹا دیں

”بولو کیا بولنا ہے “

سعد نے خاموش بیٹھی علیزے سے کہا

”ای ایسے کا کریں گے ت تو کے کیسے بولوں گی“

علیزے نے نظروں کے ساتھ گردن بھی جھکا لی الفاظ ایسے ادا کیے جیسے کوٸی چھوٹا بچہ بولنا سیکھ رہا ہو

”میں تو ایسے ہی کروں گا تمھیں جو بات کرنی ہے وہ کرو “

سعد ابھی بھی ڈھیٹ بنا رہا اور علیزے کی غیر ہوتی حالت کے مزے لیتا رہا

سعد کو ڈھیٹ بنا دیکھ علیزے نے ہار مان لی اور اپنی بات کہنا شروع کی

”وہ صبح میں کالج کیسے جاٶں گی “

نظریں اب بھی جھکی تھیں

”میری جان میں کس مرض کی دوا ہوں میں لے کر جاٶں گا اپنی جان کو “

سعد نے علیزے کا چہرا ٹھوڈی سے پکڑ کر اوپر کرتے ہوۓ کہا

”آپ تو آفس جاٸیں گے نہ “

علیزے نے دوبارہ نظریں جھکا لیں

”جاٶں گا لیکن صبح تمھیں کالج چھوڑتے ہوۓ جاٶں گا اور دوپہرکو جب تمھاری چھٹی ہوگی تب ہمارا لنچ ٹاٸم ہوتا ہے تو میں تمھیں لینے آجاٶں گا “

سعد نے علیزے کو پورا پلین بتایا

”ہممم ٹھیک ہے اب میں سوجاٶں “

”ہممم سوجاٶ“

سعد نے علیزے کو اپنے اوپر گرایا اور اس کا سر اپنے سینے پر رکھ کر اسے اپنی بانہوں کے حصار میں لے لیا

سعد کے اس عمل سے علیزے بوکھلا کر رہ گٸ

”س سعد یہ یہ کیا کررہے ہیں چھوڑے مجھے “

علیزے نے سعد کی گرفت میں پھڑپھڑاتے ہوۓ کہا

”سوجاٶ خاموشی سے اور عادت ڈال لو ایسے سونے کی اب ہم روزانہ ایسے ہی سوۓ گے “

سعد نے علیزے کو مزید خود میں بھینچا

علیزے کوشش کے باوجود خود کو نہ چھڑا پاٸی تو سعد کے سینے پر ہی سر رکھ کر سو گٸ