Rishte Mohabat Ke by Misbah Khalid NovelR50485 Rishte Mohabat Ke Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
Rishte Mohabat Ke Episode 4
Rishte Mohabat Ke by Misbah Khalid
سعد آٸسکریم آرڈر کرکے ان تینوں کی ٹیبل پر آکر بیٹھ گیا
”میں نے گھر جانے کا کہا تھا نہ “
سعد نے تینوں کو گھورتے ہوۓ کہا
سعد کو بیٹھتا دیکھ کر ہی تینوں حیران ہوگۓ تھے
”وہ بھاٸی ہم تو گھر ہی جارہے تھے گڑیا کا آٸسکریم کھانے کا دل کررہا تھا تو ہم یہاں آگۓ“ انیک نے علیزے کو ڈھال بنایا
علیزے نے انیک کی بات سن کر اپنی جھکی گردن اٹھا کر انیک کو گھورا
”کیا تمھاری نظر میں میری بات کی کوٸی اہمیت نہیں“
سعد نے سرد لہجے میں علیزے سے سوال کیا
”بھاٸی یہ مزاق کررہا ہے ہم دونوں لاۓ ہیں اس کو یہاں یہ تو گھر جانے کی ضد کررہی تھی“
ذایان نے معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوۓ فوراً سچ اگلا
انیک اپنے جھوٹ پر شرمندہ ہوا تھا کیونکہ گڑیا کو سعد کی سرد مہری برداشت کرنی پڑی تھی
”ہم ٹھیک ہے آٸسکریم کھاٶ سیدھے گھر جاٶ“ سعد کا غصہ جھاگ ہوا تھا
”اور تم میری اجازت کے بغیر ایک قدم گھر سے باہر نہیں نکالو گی“
سعد نے علیزے کو دیکھتے ہوۓ کہا
علیزے نے زور زور سے اثبات میں سر ہلا دیا
سعد کو برا لگا تھا کہ علیزے نے اس کی بات نہیں مانی اب وہ اس کا شوہر تھا بس اسی وجہ سے سعد تھوڑا سخت ہوگیا تھا
لیکن ذایان کے سچ بتانے پر سعد کا غصہ ختم ہوگیا تھا
سعد کو علیزے پر پڑھنے والی نظریں بری لگتی تھیں ہمیشہ سے ہی وہ علیزے کو عبایا پہن کر باہر جانے کا کہتا تھا پر ابھی بھی وہ ایک دوپٹے میں گھر سے نکل آٸی تھی۔
علیزے کے ہاتھوں اور پیروں میں سعد کے نام کی مہندی لگی تھی مہندی کا رنگ سعد کی محبت کا پتا دے رہا تھا مہندی سے علیزے کے خوبصورت سراپے کی خوبصورتی اور بڑھ گٸ تھی لوگ اس چھوٹی سی لڑکی کو پلٹ پلٹ کر دیکھ رہے تھے۔
سعد سے یہ سب برداشت نہیں ہورہا تھا اسی لیے وہ چاہتا تھا کہ علیزے جلد سے جلد گھر چلی جاۓ
”یار بھاٸی آج سعد بھاٸی سچ میں جن ہوگۓ جہاں ہم جاتے ہیں وہی مسلط ہوجاتے ہیں“ انیک نے باٸیک اسٹارٹ کرتے ہوۓ کہا
”ہاں یار گڑیا صحیح کہتی ہے جن جیسے ہوگۓ ہیں بھاٸی “
ذایان نے بھی قبول کیا
علیزے بھی ان دونوں کی باتوں پر مسکرا رہی تھی
سعد بھی آفس چلا گیا تھا .
وہ سارا دن علیزے نے ذایان انیک کے ساتھ ہستے کھیلتے گزارا ۔
کوثر بیگم بھی علیزے کو خوش دیکھ کر خوش تھیں۔
شام کو سات بچے سعد گھر آیا تھا ماں سے مل کر فریش ہونے کے ارادے سے کمرے میں چلا گیا تھا ۔
”علیزے بیٹا جاؤ سعد کو کپڑے دو نکال کر“ کوثر بیگم نے خاموش بیٹھی علیزے کو شوہر کی خدمت میں لگانا چاہا
”مما میں کیسے مجھے کیا معلوم وہ کونسے کپڑے پہنے گے “
علیزے نے دوپٹے کے پلو کی جان نکالتے ہوۓ کہا
”میری بچی ایسے ہی گھبراتی رہو گی تو زندگی کی گاڑی آگے کیسے چلے گی جاؤ میری بچی جلدی سے روم میں“
کوثر بیگم علیزے کا گال تھپتھپاتی کچن میں چلی گٸیں
علیزے نے ٹی وی دیکھتے ذایان انیک کی طرف دیکھا جو سب کچھ جان کر بھی انجان بنے ہوۓ تھے ہار مان کر کمرے میں ہی چلی گٸ
سعد آنکھیں موندیں بیڈ پر نیم دراز تھا
علیزے نے ایک نظر سعد پر ڈالی پھر چپ چاپ الماری کی طرف آگٸ
الماری کھول کر ہینگر میں ٹنگے کپڑوں کو ایک ایک کر کے دیکھنے لگی
سعد کی آنکھ الماری کھلنے کی آواز سے کھل چکی تھی
علیزے کو روم میں دیکھ کر سعد کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ پھیل گٸ
سعد آہستہ آہستہ قدم چلتا علیزے سے کچھ دور کھڑا ہوگیا
”کیا کررہی ہو میری کپبرڈ میں “
سعد نے سینے پر ہاتھ باندھ کر کہا
علیزے کے چلتے ہاتھ وہی روک گۓ علیزے خود کو سنبھالتی بڑی مشکل سے پپیچھے مڑی پر سعد کو دیکھنے کی توفیق ابھی بھی نہیں کی
”وہ وہ مہ میں آپ کے کپ کپڑے نکال رہی تھی“ علیزے نے ٹوٹے پھوٹے لفظ ادا کیے
بس یہ سب سعد کو جن بنانے کے لیے کافی تھا
”تمھیں اتنا ہی شوق ہے نہ میری خدمت کرنے کا تو پتا رکھا کرو مجھے کس وقت کیا چاہیے“
سعد نے غصے سے کہا اور الماری کا دوسرا دروازہ کھول کر ٹاٶزر اور شرٹ نکال کر واشروم میں گھس گیا
”جن کہی کے “
علیزے بڑابڑاٸی اور پاٶں پٹختی روم سے باہر نکل گٸ
منہ پھلاۓ وہ ذایان انیک کے پاس بیٹھ گٸ
”کیا ہوا گڑیا بھاٸی پھر جن بن گۓ کیا“
انیک نے شرارت سے کہا
”وہ تو ہیں ہی جن ان کو بننے کی کیا ضرورت ہے “علیزے نے منہ بنا کر کہا
”ارے گڑیا ہمارے بھاٸی بہت پیارے ہیں ساری گلی کی لڑکیاں مرتی ہیں ان پر “
ذایان نے علیزے کو جلانا چاہا
”مر ہی سکتی ہیں وہ آپ کے بھاٸی پر اس کے علاوہ تو ان کے پاس کوٸی راستہ بھی نہیں یہ تو میرا ہی ظرف ہے جو ان کا جن والا روپ برداشت کرتی ہوں کوٸی اور لڑکی ہوتی تو بھاگ جاتی“
علیزے کو سعد کا یہ ذرا سا غصہ ہی بہت زیادہ لگا
ذایان انیک اس کی بات پر زور زور سے ہنسنے لگے
”گڑیا تم نے بھاٸی کا غصہ دیکھا ہی کہاں ہے ابھی دعا کرو کبھی نہ دیکھو ان کا غصہ“ ذایان نے علیزے کو مشورہ دیا
”دیکھ چکی ہوں میں ان کا جن جیسا روپ“ علیزے نے ستاٸی ہوٸی عورتوں کی طرح کہاں
”ہوشیار رہنا اب تم میں جن ہوں نا کھا نہ جاؤں کسی دن تمھیں “
علیزے کے صوفے کے پیچھے کھڑے سعد نے علیزے کی بات پر جل کر جواب دیا سعد روم سے نکل کر آیا تھا علیزے کی آخری بات سعد نے سن لی تھی
ذایان انیک دونوں زور زور سے ہنس رہے تھے ان کو دیکھ کر علیزے کے چہرے پر بھی ہلکی سے مسکرہٹ آگٸ
سعد بھی مسکراتے ہوۓ علیزے کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا
علیزے خاموشی سے اٹھ کر کچن میں چلی گٸ
”چپ کرجاٶں کمینوں“
سعد نے ذایان انیک کی بنا بریک کی ہنسی کو روکنا چاہا
”بھاٸی آپ اسے کھاجاٶں گے“
انیک نے ہنسی کو بریک لگاتے ہوۓ کہا
”کھا ہی جاؤں گا کسی دن “
سعد علیزے کے خوبصورت سراپے کو سوچتے ہوۓ بڑبڑایا
”کیا کہہ رہے ہیں بھاٸی سمجھ نہیں آرہا “
”ارے کچھ نہیں بھٸ مذاق کررہا تھا میں تم نے کیا آدم خور سمجھا ہوا ہے مجھے “
پھر تینوں بھاٸی باتںوں میں لگ گۓ
”آجاٶ بچوں کھانا کھالو“
کوثر بیگم نے پلیٹیں ٹیبل پر رکھتے ہوۓ کہا
”جلو بھاٸی کھانا کھاٸیں میرے پیٹ میں تو چوہے بے ہوش ہورہے ہیں بھوک کے مارے“
انیک نے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا
”چل شیطان“
سعد نے مسکراتے ہوۓ انیک کے سر پرچپت لگاٸی
علیزے بھی کوثر بیگم کا ہاتھ بٹا رہی تھی
سب نے ہنستے کھیلتے کھانا کھایا
” بھاٸی آجاٶ کوٸی مووی دیکھیں ٹی وی پر“ ذایان نے مووی کی پیشکش کی سعد کو
”نہیں بھٸ میں تو تھک گیا ہوں آرام کروں گا روم میں جاکر “
”ارے بھاٸی دیکھوں آپکی پسند کی مووی آرہی ہے“
انیک ہاتھ میں ریموٹ لیے سعد کو بتارہا تھا
”کونسی مووی“ سعد نے ناسمجھی سے کہا
“resident evil ”
انیک نے جوش سے کہا یہ ہالی ووڈ کی مووی تھی تینوں بھاٸیوں کو ہی پسند تھی
”ارے واہ چلو دیکھتے ہیں“
سعد نے صوفے پر بیٹھتے ہوۓ کہا
”مما گڑیا آجاٶ مووی دیکھتے ہیں“
ذایان نے صوفے پر بیٹھے بیٹھے آواز لگاٸی
”نہیں بھٸ میں تو روم میں جارہی ہوں نماز پڑھ کر سوں گی تھک گٸ ہوں“
کوثر بیگم اپنے کمرے میں چلیں گٸیں
”گڑیا تم تو آجاٶ “ذایان نے علیزے کو بلایا
”جی بھاٸی “
ذایان انیک نے دونوں سینگل صوفوں پر قبضہ کرلیا تھا تاکہ علیزے سعد کے ساتھ بیٹھے کیونکہ وہ تھری سیٹر صوفہ پر بیٹھا تھا
علیزے خاموشی سے سعد سے کچھ دور اسی صوفے پر بیٹھ گٸ جس پر سعد بیٹھا تھا
چاروں بڑے مزے سے مووی دیکھ رہے تھے لیکن مووی میں ڈراٶنا سین دیکھ کر علیزے ڈر گٸ
”میں تو سونے جا رہی ہوں آپ ہی دیکھیں یہ فلم “علیزے نے صوفے سے اٹھتے ہوۓ کہا
”ارے گڑیا اس میں ڈراٶنا کیا ہے جو تم ڈر گٸیں بس واٸرس پھیل گیا تو انسان ذومبی بن گۓ ہیں اور کھا رہے ہیں ایک دوسرے کو“
ذایان نے علیزے کو روکنا چاہا
”نہیں مجھے نہیں دیکھنی“
علیزے نے ایک قدم بڑھایا ہی تھا سعد نے علیزے کی کلاٸی اپنے مضبوط ہاتھ میں تھام لی
”اگر تم مووی دیکھے بنا گٸیں تو میں تمھیں رات کو روم سے باہر نکال دونگا “
سعد نے علیزے کو دھمکی دی
سعد کی نظریں ٹی وی پر ہی تھیں ابھی بھی
ذایان انیک مووی چھوڑ کر ان دونوں کو ڈرامہ انجوۓ کر رہے تھے
”آپ سچ میں نکال دیں گے“
علیزے نے بچوں کی طرح پوچھا
”ہاں اگر تم نے میرے ساتھ بیٹھ کر میری پسند کی مووی نہ دیکھی تو میں سچ میں نکال دوں گا “
سعد نے اپنی مسکراہٹ کا گلا کھونٹتے ہوۓ کہا
سعد نے علیزے کی کلاٸی چھوڑ دی تھی
علیزے ڈر اور گھبراہت کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ سعد کے برابر میں بیٹھ گٸ
ذایان انیک اپنی ہنسی کو ضبط کرتے پھر مووی دیکھنے میں مشغول ہوگۓ تھے
”امی…… “
علیزے پھر سے کوٸی سین دیکھ کر ڈر گٸ تھی ڈر کے مارے اسے امی یاد آگٸ تھی اس نے برابر میں بیٹھے سعد کے کندھے میں منہ چھپا لیا تھا اور اس کی شرٹ کو دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں میں دبوچ لیا تھا
ذایان انیک دبی دبی ہنسی ہنس رہے تھے
سعد بھی مسکرا رہا تھا
”چلو جاٶ روم میں“
سعد نے اپنی مسکراہٹ پر قابو پاتے ہوۓ کہا
”آپ روم سے تو نہیں نکالے گے نہ“
علیزے نے سعد کے کندھے سے تھوڑا سر اٹھا کر کہا
”نہیں نکا لوں گا“
سعد کا یہ کہنا تھا کہ علیزے بھاگتی ہوٸی روم میں جا گھسی تھی
علیزے کے روم میں جانے کے بعد تینوں کا زوردار قہقہ ٹی وی لاٶنج میں گونجا تھا
”بھاٸی آپ نے تو ہمیں پیچھے چھوڑ دیا آج شرارتوں میں “
انیک نے علیزے کے ساتھ کی گٸ سعد کی شرارت کی داد دی
”ہاں تو تمھارا بڑا بھاٸی ہوں تم سے آگے تو مجھے ہونا ہی ہے نہ“
سعد پھر سے ہنسنے لگا تھا
”ویسے بھاٸی اچھا نہیں کیا آپ نے بجاری بہت ڈر گٸ تھی“
ذایان اب علیزے کا بھاٸی بن گیا تھا سعد کی شرارت کےوقت وہ سعد کا بھاٸی بنا ہوا تھا
”سالے صاحب تمھاری بہن بھی تو مجھے تنگ کرتی ہے انجانے میں ہی صحیح پر کرتی تو ہے“ سعد نے بھی ذایان کو سالہ ہی سمجھ لیا تھا
”کیا مطلب بھاٸی سمجھا نہیں میں “
ذایان نے نا سمجھی سے کہا
”مطلب وہ مجھ سے پہلے کی طرح باتیں نہیں کرتی بیٹھتی بھی نہیں میرے پاس اور اگر مجھٰ سے کبھی کوٸی بات بھی کرتی ہے تو ایسا لگتا ہے کوٸی ہکلی ہے وہ اتنا اٹک اٹک کر بولتی ہے اب بتاٶ تم میں کیا کروں میں تو چاہتا ہوں بس وہ پہلے جیسی ہوجاۓ “
سعد اب سنجیدہ ہوگیا تھا
”بھاٸی اسے وقت دو ٹھیک ہوجاۓ گی آہستہ آہستہ“
ذایان بھی سنجیدہ ہوا تھا
”وقت تو میں نے دیا ہوا ہے اسے پر میری شرارتوں سے کوٸی نہیں بچا سکتا اس کو“
سعد نے شرارت سے آنکھ ماری تھی
”اور اس میشن میں میں آپ کے ساتھ ہوں“ انیک نے ہنستے ہوۓ کہا
”توبہ ہے میں تو علیزے کی ساٸیڈ پر ہوں“
ذایان نے بھاٸی ہونے کا حق ادا کیا
تینوں ہنس رہے تھے تب علیزے روم سے باہر آگٸ اور ڈاٸنیگ ٹیبل پر بیٹھ گٸ
گھر چھوٹا تھا ٹی وی لاٶنج سے بیٹھ کر ہر جگہ آرام سے نظر رکھی جاسکتی تھی ٹی وی لاٶنج کے سامنے ہی چار بڑے بڑے کمرے لاٸن سے بنے تھے ہر روم میں ایک واشروم تھا
ٹیوی لاٶنج کے سیدھے ہاتھ پر ڈاٸنیگ ٹیبل تھی اس سے تھوڑا آگے کچن تھا ٹیوی لاٶنج کے دوسری طرف تھوڑا آگے چل کر باہر کا دروازہ تھا
کچن کے برابر میں چھت کی سیڑھیاں تھیں
”بھاٸی یہ باہر کیوں آگٸ“
انیک نے سرگوشی کی
”اس کو اکیلے روم میں ڈر لگ رہا ہوگا اسی لیے“ سعد نے سرگوشی میں جواب دیا
”گڑیا کیا ہوا روم سے باہر کیوں آگٸیں “
ذایان نے پیار سے پوچھا
”وہ بھاٸی اکیلے میں ڈر لگ رہا ہے “
”گڑیا جھوٹ نہیں بولو یہ کہو نہ بھاٸی کے بنا دل نہیں لگ رہا روم میں“
انیک نے آنکھ دباٸی
علیزے حیرت سے انیک کو دیکھ رہی تھی وہ سعد کے سامنے اس طرح کا مزاق کیسے کرسکتا ہے
”کوٸی بات نہیں گڑیا ڈر لگ رہا ہے تو یہی بیٹھ جاٶ“
ذایان نے انیک کو گھورتے ہوۓ کہا
سعد ٹی وی دیکھتے ہوۓ وقفے وقفے سے علیزے کو بھی دیکھ رہا تھا جو خود کو جگاۓ رکھنے کی بھر پور کوشش کررہی تھی
سعد نے جب علیزے کو اونگھتے ہوۓ دیکھا تو خاموشی سے اٹھ کر روم میں چلا گیا ذایان انیک بھی سمجھ گۓ تھے سعد علیزے کی وجہ سے کمرے میں گیا ہے
علیزے بھی اٹھ کر روم میں چلی گٸ
سعد واشروم میں تھا
علیزے بیڈ پر لیٹ گٸ لیٹتے ہی علیزے نیند کی وادیوں وادیوں میں کھو گٸ
سعد واشروم سے نکلا تو علیزے کو سوتا دیکھ کر مسکرایا اور کمبل علیزے کو اوڑا کر خود بھی لاٸٹ بند کر کے لیٹ گیا
ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا علیزے اکیلی ایک اندھیرے گھر میں تھی علیزے کو اس اندھیرے میں سامنے سے کوٸی آتا نظر آیا
”سعد آپ ہیں کیا ذایان بھاٸی آپ ہیں کیا انیک بھاٸی کوٸی تو جواب دیں پلیز مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے “
علیزے نے سب کو پکارا
پر کوٸی جواب نہیں آیا علیزے دروازے کی طرف بھاگی گھر سے باہر نکل کر اس نے دیکھا انسان ایک دوسرے کو کھا رہیں سب خون میں لت پت ہیں جس گھر سے وہ نکلی تھی وہاں سے بھی بہت سے لوگ اس کی طرف بڑھ رہے تھے
” نہیں نہیں بچاؤ مجھے کوٸی بچاؤ کوٸی میری مدد کرو چھوڑو مجھے دور رہو مجھ سے بچاؤ بچاؤ بچاؤ“
سعد کی آنکھ علیزے کی آوازوں سے کھل گٸ جو نیند میں ہی چیخ رہی تھی
”علیزے اٹھو کیا ہوا ہے تمھیں علیزے علیزے اٹھو “
سعد نے علیزے کے بازوں پکڑ کر اسے زور سے جھنجوڑا
””چھوڑو چھوڑو مجھے مت کھاٶ دور رہو مجھ سے “
علیزے اٹھ تو گٸ تھی پر ابھی بھی وہ خود کو اسی جگہ محسوس کر رہی تھیں
”علیزے میری طرف دیکھو میں ہوں سعد علیزے کوٸی کچھ نہیں کررہا تمھیں میں ہوں نہ ڈرو نہیں“
”نہیں مجھے نہیں کھاٶ دور رہو مجھ سے“
علیزے ابھی بھی ہوش میں نہیں آٸی تھی
اگلے ہی پل سعد نے علیزے کو اپنی باہوں میں لے لیا تھا
”بس بس کچھ نہیں ہوا میں ہوں نہ تمھارے ساتھ “
سعد علیزے کو اپنی بانہوں میں چھپاۓ ایک ہاتھ سے اس کے بال سہلا رہا تھا
علیزے نے پہلے تو آزاد ہونے کی کوشش کی پھر سعد کے سینے سے سر ٹکا دیا
کمرے میں اب خاموشی تھی علیزے سعد کی بانہوں میں خود کو محفوظ محسوس کر رہی تھی
سعد بھی اپنی چھوٹی سی بیوی کو سینے سے لگاۓ اپنی دھڑکنے اسے سنا رہا تھا
”علیزے سب ٹھیک ہے چلو اب سوجاٶ “
سعد نے علیزے کو خود سے آرام سے دور کیا
”آپ کہی جاٸیں گے تو نہیں“
علیزے نے سعد کا ہاتھ پکڑ کے پوچھا
”نہیں میں کہی نہیں جارہا یہی ہوں تم سوجاٶ اب “
سعد نے پیار سے کہا علیزے کو لیٹا کر خود بھی اس کے ساتھ لیٹ گیا
علیزے نے ابھی بھی سعد کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا
سعد آج خود کو مکمل محسوس کررہا تھا کیوں کہ آج اس کے ساتھ اس کی بیوی اس کی محبت تھی سعد کو خود بھی نہیں معلوم وہ کب اس چھوٹی سی لڑکی سے محبت کر بیٹھا تھا
” توں جو ملی مکمل ہوگیا میں
تجھ بن ادھورا تھا میں“
ایک حسین صبح کی شرواعات ہوچکی تھی سب چرند پرند اپنے لیے رزق کی تلاش میں نکل رہے تھے کھڑکی سے آتی چڑیوں کی چہچاہٹ کی سریلی آواز علیزے کے کانوں میں پڑی تو علیزے نے اپنی ہرنی سی آنکھیں وا کیں
علیزے کو اپنے چہرے پر گرم سانسیں محسوس ہوٸیں
علیزے نے گھبراتے ہوۓ برابر میں دیکھا سعد پرسکون نیند سورہا تھا
علیزے ایسے اٹھ کر بیٹھی جیسے اس نے کوٸی بھوت دیکھ لیا ہو علیزے اپنی بے ترتیب سانسوں کو ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہی تھی اتنے میں اس کی نظر اپنے ہاتھ پر پڑی جو سعد کے ہاتھ میں تھا
علیزے نے آہستہ سے اپنا ہاتھ سعد کے ہاتھ سے نکالا اور بھاگنے کے انداز میں واشروم میں گھس گٸ
”ہاۓ یہ کیسے ہوگیا مجھے تو کچھ یاد نہیں وہ میرے اتنے قریب آۓ کب اور کیسے مجھے تو پتا نہیں چلا“
علیزے واشروم کے دروازے سے چپکی خود سے ہی باتیں کر رہی تھی
علیزے اکثر نیند میں ہوۓ ایسے واقعات کو بھول جایا کرتی تھی
علیزے کے جانے کے بعد سعد نے ایک خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ اپنی آنکھیں کھولیں
”اففف علیزے کب تک بھاگو گی مجھ سے تمھارے دل میں اپنی محبت کے نام کا درخت ضرور لگاؤں گا میں“
سعد بیڈ پر لیٹا اپنی سوچو میں گھوم تھا
”ان کو کیا ہوا لگتا ہے جن کی جگہ کسی پاگل نے لے لی ہے“
علیزے واشروم سے نکلی تو سعد اپنی سوچوں میں گھوم ہوکر خود ہی خود مسکرا رہا تھا علیزے خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گٸ
دروازہ بند ہونے کی آواز سے سعد اپنی سوچوں سے باہر آیا
”پھر بھاگ گٸ یہ“
سعد بڑبڑایا اور اٹھ کے واشروم میں چلا گیا
علیزے کچن میں کوثر بیگم کے پاس آگٸ
”اٹھ گیٸں بیٹا “کوثر بیگم نے پیار سے کہا
”جی مما “
”سعد اٹھ گیا “
”جی وہ بھی اٹھ گۓ “
”تم ایسا کرو ذایان انیک کو اٹھا آٶ ابھی تک نہیں اٹھے “
کوثر بیگم نے گھر کے دو شیطانوں کو اٹھانے کا حکم دیا
”جی مما ابھی اٹھا کر لاتی ہوں“ علیزے کچن سے نکل گٸ
”ذایان بھاٸی اٹھیں ذایان بھاٸی “
علیزے ذایان کے کمرے کا دروازہ بار بار بجا رہی تھی اور آوازیں دے رہی تھی
”کیا ہوا یہاں کھڑی کیا کر رہی ہو “
سعد کمرے سے نکلا تو علیزے کو ذایان کے کمرے کے باہر گھڑا دیکھ کر پوچھا
”وہ مما نے کہا ہے ذایان بھاٸی انیک بھاٸی کو اٹھا دوں پر میں کب سے آوازیں لگا رہی ہوں ذایان بھاٸی اٹھ نہیں رہے“
علیزے نے سر جھکاۓ انگلیاں کو مروڑتے ہوۓ جواب دیا
”ذایاااان انییییک پانچ منٹ میں تم دونوں مجھے ناشتے پر ملو“
سعد نے کڑکدار آواز لکاٸی
ذایان انیک جو اپنے کانوں کو تالا لگا کر سو رہے تھے جلدی سے اٹھ گۓ
”جی بھاٸی آرہے ہیں “
دونوں نے باری باری آواز دی
علیزے ابھی تک کھڑی حیران تھی سعد آج اس پر غصہ نہیں کررہا تھا
” کیا ہوا “
سعد نے علیزے کے سامنے چٹکی بجائی
”نہ نہیں نہیں کچھ نہیں “
علیزے نے ہوش میں آتے ہوۓ کہا
”ہمم آجاٶ آجاٸیں گے وہ دونوں تمھیں یہاں پھیرا دینے کی ضرورت نہیں“
سعد ہلکا سا مسکایہ
علیزے بھی ہلکی سی مسکاٸی اور شرماتی ہوٸی کچن میں چلی گٸ
