Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rishte Mohabat Ke Episode 16

Rishte Mohabat Ke by Misbah Khalid

””افففف سعد میں کتنی سیریس بات کررہی ہوں اور آپ ہیں کہ ہر بات مذاق میں لے جاتے ہیں “علیزے چڑ گٸ تھی

”یار تم بات تو سہی کہہ رہی ہو لیکن ردا کو دیکھا ہے اس کی فیملی کو دیکھا ہے کتنے امیر لوگ ہیں ان کے گھر کا سارا کام نوکر کرتے ہیں جتنی ہماری تنخواہ ہیں اس سے زیادہ مہنگی تو شاپینگ ہوتی ہے ان کی ردا کے موباٸل سے ہی اندازہ لکا لو کتنا مہنگا آٸی فون ہے اس کے پاس کپڑے بھی برینڈیڈ پہنتی ہے وہ الکرم جنید جمشید کے برینڈ والے وہ ہمارے ساتھ کیسے رہے گی میرا بیچارا بھاٸی کما کما کر پورا ہوجاۓ گا“

سعد نے آخر میں افسوس سے کہا

”سععععد آپ کی سوچ پر مجھے افسوس ہورہا ہے اگر ردا پیسوں مہنگے کپڑوں کے پیچھے بھاگنے والی لڑکی ہوتی نہ تو مجھ سے کبھی دوستی نہیں کرتی بلکہ اپنے جیسی امیر لڑکی سے دوستی کرتی اور انیک بھاٸی سے بھی کبھی محبت نہ کرتی لیکن سعد اسے یہ سب نہیں محبت چاہیے محبت کے رشتے چاہیے اسے آپ کو پتا ہے وہ مجھے ہمیشہ کہتی ہے میں چاہتی ہوں میری شادی بھی ایسی جگہ ہو جہاں سب محبت کرنے والے ہو بلکل تمھاری طرح جیسے تمھاری فیملی میں رہتے ہیں مجھے تمھاری طرح دیور نہیں بھاٸی ملیں ایک محبت کرنے والا شوہر مما جیسی پیاری سی ساس جو اسے بیٹی بنا کر رکھیں “

”یار علیزے چلو ٹھیک ہے تمھاری ساری بات اتنا تو میں بھی جانتا ہوں ردا کو وہ پیسوں کے آگے رشتوں کو اہمیت دیتی ہے لیکن اس کے ماں باپ اپنی ایکلوتی لاڈلی بیٹی کا ہاتھ ایک معمولی سے آفس میں کام کرنے والے لڑکے کو کیوں دیں گے وہ اپنی بیٹی کا ہاتھ کسی اپنے جیسےخاندان میں دینا پسند نہیں کرے گے“ سعد نے علیزے کو سمجھایا

”سعد آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں پر مجھے یقین ہے ردا منا لے گی اپنے پیرینڈس کو ہم ذایان بھاٸی کے لیے تو کچھ نہیں کرسکے لیکن انیک بھاٸی کے لیے کوشش تو کر ہی سکتے ہیں نہ “

علیزے روہانسی ہوٸی کہی نہ کہی ذایان کی حالت کا ذمہ دار وہ خود کو مانتی تھی

”ٹھیک ہے میں اپنے چھوٹے کی خوشیوں کے لیے ایک کوشش ضرور کرونگا “

سعد نے مسکراتے ہوۓ علیزے کا ہاتھ تھاما

”ہمم صرف بھاٸی نہیں بہن کی خوشیوں کے لیے بھی “

علیزے نے اپنا دوسرا ہاھ سعد کے ہاتھ پر رکھا

”ہممم ردا بھی تو میری بہن ہے بھول گیا میں تو “

سعد نے سر پر ہاتھ مارتے ہوۓ کہا ”

”ہممم اب یاد رکھیے گا“ علیزے نے تنبیہ کی

”جی جی بیگم صاحبہ ضرور“

سعد نے علیزے کی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ کہا موقع ملتے ہی سعد علیزے کے لبوں پر جھونکا تھا سعد نے علیزے کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامے ہوۓ تھے

علیزے نے اپنی آنکھیں بند کرلی تھیں جیسے وہ ہمیشہ کرتی تھی

”آہ سکون آگیا یار قسم سے“

سعد نے علیزے سے الگ ہوتے ہوٸے بڑے مزے سے کہا

”آپ بہت چھیچورے ہیں سعد“

علیزے نے شرم سے سرخ پڑتا چہرا جھکاٹے ہوۓ کہا

”ابھی چھیچورا پن دیکھا کہا ہے تم نے بیگم ایک دفع یہ انیک کا مسلٸہ حل ہوجاۓ پھر تم سے اپنے سارے حق وصول کروں گا بہت وقت دیا ہے میں نے تمھیں اس رشتے کو سمجھنے کے لیے “

سعد نے معنی خیزی سے کہا

علیزے کا چہرا تو جھکا ہی تھا گردن بھی جھگ گٸ

سعد علیزے کی حالت کے مزے لیتا بیڈ پر سیدھے ہوکر لیٹ گیا

اور خاموش بیٹھی علیزے کی کلاٸی پکڑ کھینچا تو علیزے سیدھا اس کے سینے پر آ گری

سعد نے ہاتھ بڑھا کر ساٸیڈ لیمپ بند کیا اور علیزے کا خود میں سنیٹا آنکھیں موند گیا علیزے بھی اپنے مجازی خدا کی پناہوں میں جاتے ہی آنکھیں موند گٸ

صبح انیک ذایان آفس چلے گۓ تھے سعد کو وہی موقع سہی لگا کوثر بیگم سے بات کرنے کا علیزے بھی ساتھ ہی تھی کالج کی چھٹی کی تھی اس نے آج

”وہ مما آپ نے انیک کے بارے میں کچھ سوچا ہے کوٸی لڑکی نظر میں ہے کیا آپ کے انیک کے لیے “

سعد تمہید باندھ کر بات شروع کی

”نہیں بیٹا میرے تو کوٸی لڑکی نظر میں نہیں کسی رشتے والی کو کہوں ذایان انیک کے لیے رشتہ ڈھونڈے کوٸی اچھا سا “

کوثر بیگم نے مسکراتے ہوۓ کہا

”اگر میں کہوں میں نے اور علیزے نے انیک کے لیے لڑکی دیکھ لی ہے تو آپ کیا کہے گی “

سعد نے ماں کے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہوۓ کہا

”ہاں دیکھ لی ہے تو بہت اچھی بات ہے مل لیتے ہے لڑکی سے مناسب لگی تو بات آگے بھی بڑھاٸیں گے بتاٶ کون ہے لڑکی“

کوثر بیگم نے محبت سے کہا

”وہ مما اس لڑکی کو آپ بہت اچھی طرح جانتی ہیں “

سعد نے پھر سے ماں کے تاثرات دیکھے جو نارمل تھے ابھی بھی

”اچھا نام تو بتاٶ بیٹا“

”ردا علیزے کی دوست “

”بیٹا وہ بچی تو مجھے بھی بہت پسند ہے“ سعد نے تو جیسے کوثر بیگم کی دل کی بات کہہ دی ہو وہ بہت خوش ہوٸیں لیکن اگلے ہی پل ان کی خوشی معدوم پڑھ گٸ

”لیکن بیٹا اس کے گھر والے نہیں مانے گے ان میں اور ہم میں زمین آسمان کا فرق ہے اور پھر ردا انیک لڑتے رہتے ہیں ہر وقت پوری زندگی کیسے گزاریں گے“

کوثر بیگم نے بھی سعد والی بات کہی

”مما ایک دفع کوشش کرنے میں کیا حرج ہے اور کیا سعد اور میرا سوچا تھا کبھی آپ نے شادی کا دیکھیں ہوگٸ نہ ہم بھی خوش ہیں“ اس دفع جواب علیزے نے دیا تھا

”لیکن بیٹا تم دونوں لڑتے تو نہیں تھے نہ وہ تو ہر وقت ٹام اینڈ جیری بنے ہوتے ہیں ایک چڑیل بن جاتی ہے تو ایک کھڑوس“

کوثر بیگم نے بڑی ہی بے زاری سے کہا

”اچھا ٹھیک ہے میں خود انیک سے بات کروں گا اس بارے میں اگر اس نے رضا مندی دے دی تو ہم پھر بات کرے گے ردا کے گھر والوں سے“ سعد نے کوثر بیگم اور علیزے کو باری باری دیکھا

”ردا کو کون مناۓ گا “

کوثر بیگم نے پھر سوال داغا

”وہ میری بہن ہے مجھے پورا یقین ہے وہ مان جاۓ گی “سعد نے مان سے کہا

”ٹھیک ہے بھٸ جیسا تم لوگوں کو ٹھیک لگے کرو “کوثر بیگم نے مسکراتے ہوۓ کہا

سعد علیزے اتنا خوش ہوۓ کہ دونوں صوفے سے اٹھ کر کوثر بیگم سے چپک گۓ

”ارے بچوں کیا کررہے ہو“

کوثر بیگم کی گھٹی گھٹی آواز نکلی

”اوہ سوری مما“ دونوں پیچھے ہوۓ

”میں آفس جارہا ہوں اب شام کو آٶں گا تو اس کھڑوس سے بات کروں گا “

سعد مسکراتا ہوا کہتا باہر نکل گیا

”آنٹی میں نے امی سے تو بات کرلی ہے لیکن مجھے ڈر لگ رہا ہے پھر بھی میری وجہ سے میری امی کو کچھ ہوگیا تو میں کیا کروں گی “

”میری بچی تم پریشان نہ ہو تمھاری ماں بہت مضبوط خاتون ہے کچھ نہیں ہوگا انھیں تم ڈرو نہیں اس کی“

آنٹی نے اسے دلاسہ دیا اور وہ خاموش ہوگٸ

لیکن ڈر اب بھی تھا دل میں

”انیک مجھے تم سے بات کرنی ہے تم فری ہو کیا“

انیک آفس سے آکر اپنے روم فریش ہوکر بیٹھا تھا تب ہی سعد بھی اس سے بات کرنےروم میں چلا گیا

”سعد بھاٸی کیسی بات کررہے ہو آپ کے لیے تو میں اپنے سارے کام بھی چھوڑ دوں“

انیک نے بال بناتے ہوۓ کہا

”میں جانتا ہوں میرے دونوں بھاٸی بہت فرمابردار ہیں “

سعد مسکراتے ہوۓ بیڈ پر بیٹھ گیا

”ہمم میں ذایان سے زیادہ فرمابردار ہوں“

انیک نے اپنی تعریف کی

”ہاں بھٸ تم زیادہ فرمابردار ہو اب میرے پاس آکر بیٹھو “

سعد نے ہنستے ہوۓ کہا

”شادی کے بارے میں کیا سوچا ہے تم نے“

انیک کے بیٹھتے ہی سعد نے سیدھی مدعے کی بات کی

انیک نے حیرانی سے سعد کو دیکھا پھر نظریں جھکا گیا

”یہ سب سوچنے کے لیے میرے بڑے موجود ہیں میں کیوں سوچوں پھر“

انیک نے اپنے بڑے بھاٸی کو باپ کی جگہ سوچتے ہوۓ جواب دیا

”تو میں اگر کہوں میں نے تمھارے لیے ایک لڑکی دیکھی ہے اور مما بھی راضی ہیں تو تم کیا کہو گے“

سعد نے انیک کو نرم لیجے میں کہا

انیک کی نظروں کے سامنے ردا کا آنسوٶں سے تر چہرا آگیا

انیک نے خود پر قابو کیا اور دونوں آنکھوں کو سختی سے بند کرکے دوبارہ کھولا

”بھاٸی مجھے آپ کا ہر فیصلہ منظور ہے “انیک کے دل میں ٹس اٹھی تھی

”مجھے یقین تھا میرا سب سے چھوٹا بیٹا مجھے کبھی مایوس نہیں کرے گا “

سعد نے پیار سے انیک کا ماتھا چوما اور اسے خود سے لگا لیا

انیک کی آنکھوں کے سامنے ابھی بھی روتی ہوٸی ردا کھڑی تھی

”انیک آپ نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ انیک نے سختی سے آنکھیں میچ لیں تھی

کچھ دیر بعد سعد کمرے سے نکل گیا

انیک خالی خالی نظروں سے دیواروں کو تک رہا تھا اس کو ہر جگہ روتی ہوٸی ردا نظر آرہی تھی انیک ردا کی یادوں سے پیچھا چھڑوانے کے لیے کمرے سے نکل گیا

سب نے خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا انیک آرام کرنے کے بہانے سے روم میں چلا گیا

ذایان کو بھی آفس کا کام تھا وہ بھی روم میں چلا گیا

بچے کوثر بیگم علیزے سعد

”بات کی تم نے انیک سے“

کوثر بیگم نے سوال کیا

”جی مما کرلی اور آپ کا لاڈلہ راضی ہے “

سعد نے خوشی سے کہا

”کیا وہ راضی ہے مجھے تو یقین نہیں ہورہا“ کوثر بیگم نے دل کے مقام پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا

”جی میری پیاری مما یقین کرلیں راضی ہے وہ“ سعد نے کوثر بیگم کے رخسار بچوں کی طرح کھنچے

علیزے کھلکھلا کر ہنس دی

”ہٹو پیچھے یہ حرکتیں اپنی بیوی کے ساتھ ہی کیا کرو مجھے نہیں پسند یہ سب“

کوثر بیگم نے سعد کے ہاتھ جھٹکتے ہوۓ خفگی سے کہا

”آٶ علیزے تمھارے پکڑوں “

سعد نے ہاتھ علیزے کی طرف بڑھاۓ

”سعد بند کریں یہ چھیچور پاٸی ردا کو کال کریں مما اس کی مما سے بات کریں گی“

علیزے نے سعد کے دونوں ہاتھ اپنے رخساروں تک جانے سے پہلے ہی اپنے ہاتھوں میں قید کرلیے اور آنکھیں دیکھاتے ہوۓ جواب دیا

”اچھا کررہا ہوں میری جان “

سعد نے جیب سے موبائل نکالتے ہوۓ کہا

کوثر بیگم کے سامنے جان کہنے پر علیزے سعد کو گھورتی رہی

کوثر بیگم مسکرانے لگی

”اَلسَلامُ عَلَيْكُم سعد بھاٸی“

ردا نے کال اٹھاتے ہی ادب سے سلام کیا

”وَعَلَيْكُم السَّلَام میری گڑیا کیسی ہو“

”جی میں ٹھیک ہوں سعد بھاٸی “

”اوکے یہ بتاٶ تمھاری موم سے بات ہوسکتی ہے مما کو بات کرنی ہے “

ردا کو حیرانی ہوٸی

” کیا کیوں بات کریں گی میری کوٸی شکایت لگانی ہے کیا “

ردا گھبرا گٸ اس کو لگا انیک نے کل والی ساری باتیں اپنی مما کو بتا دیںی

”بیٹا تم گھبرا کیوں رہی ہو تم کرواٶ اپنی موم سے بات میری مما شکایت نہیں لگاۓ گی“ سعد نے پیار سے کہا

”جی بھاٸی کرواتی ہوں“

ردا موبائل ہاتھ میں لیے روم سے نکلی تو آٸلہ بیگم ردا کو لاٶنج میں بیٹھی نظر آگٸیں

”موم میری دوست کی مما آپ سے بات کرنا چاہتی ہیں“

ردا نے آٸلہ بیگم کی طرف موبائل بڑھایا

”مجھ سے کیوں بیٹا“

آٸلہ بیگم نے سوالیہ نظروں سے ردا کو دیکھا

”موم مجھے نہیں معلوم آپ بات کرلیں “

ردا نے موبائل موم کے ہاتھ میں دیا اور خود انھی کے پاس بیٹھ گٸ

”اَلسَلامُ عَلَيْكُم“ آٸلہ بیگم نے سلام کیا

”وَعَلَيْكُم السَّلَام بہن کیسی ہیں آپ“

کوثر بیگم نے مہذب انداز سے پوچھا

”میں الحَمْدُ ِلله ٹھیک ہوں آپ بتائيں کیسی ہیں “

”جی میں بھی ٹھیک ہوں وہ اصل میں مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے اگر آپ برا نہ مانے تو “

کوثر بیگم نے اجازت چاہی

ردا بے تاثر چہرے کے ساتھ بیٹھی تھی اسے لگا تھا سب ختم ابھی اس کی ماں کو سب پتا چل جاۓ گا پھر وہ زبردستی شادی کروادیں گے اور انیک اس کے دل کے کسی کونے میں دفن ہوجاۓ گا

”جی جی میں کیوں برا مانوں گی آپ کہیں کیا کہنا چاہتی ہیں آپ“

”وہ بہن اصل میں ردا ہمارے گھر آتی ہے سب کو اس سے بہت لگاؤ ہوگیا ہے علیزے بھی اسے بہن کی طرح سمجھتی ہے اور میرے بیٹے تو ردا کو بلکل بہن سمجھتے ہیں تو میں اپنے چھوٹے بیٹے انیک کے لیے ردا کا ہاتھ مانگنے آپ کے گھر آنا چاہتی ہوں اگر آپ مناسب سمجھے تو“

کوثر بیگم بات ختم کرکے خاموش ہوگٸیں

آٸلہ بیگم سوچ میں پڑھ گٸیں پھر کچھ دیر کے بعد گویا ہوٸیں

”جی میں اپنے ہسبینڈ سے بات کرکے آپ کو جواب دیتی ہوں “

”چلیں ٹھیک ہے بہن مجھے انتظار رہے گا “

کوثر بیگم نے جواب دیا

پھر الوداعی کلمات کے بعد کال کاٹ دی

”ردا“ آٸلہ بیگم نے گھبراٸی ہوٸی ردا کو مخاطب کیا

”جی موم“

ردا اپنے ہاتھ مسل رہی تھی گردن جھکی ہوٸی تھی

”کیا تمھیں اس بارے میں پہلے سے معلوم تھا“ آٸلہ بیگم نے ردا کو آنکھیں دیکھاتے ہوۓ سنجیدگی سے پوچھا

”کس بارے میں موم“

”رشتے کے بارے میں“

آٸلہ بیگم نے ردا کے سر بم پھوڑا

ردا نے جھٹکے سے گردن اٹھاٸی

”رشتہ کس کا رشتہ موم“

ردا کے چہرے سے صاف ظاہر تھا اسے خود کچھ نہیں معلوم اس بارے میں

”انھوں نے تمھارا رشتہ مانگا اپنے چھوٹے بیٹے انیک کے لیے“

آٸلہ بیگم نے عام سے لہجے میں کہا

”کیااا موم سچی آنٹی نے میرے اور انیک کے رشتے کی بات کی ہے مجھے تو یقین نہیں ہورہا اس کھڑوس کے لیے میرا رشتہ آیا ہے “

ردا بچوں کی طرح اجھل کھود کرنے لگی کبھی اپنی ماں کے گلے لگ جاتی کبھی خوشی سے ناچنے لگ جاتی

آٸلہ بیگم تو ردا کی خوشی دیکھ کر حیران پریشان ہوگٸ وہ آنکھیں ضرورت سے زیادہ کھولیں اپنی اٹھارہ سالہ بیٹی کو پانچ سال کے بچےکی طرح اچھل کھود کرتے ہوۓ دیکھ رہیں تھیں

”ردا کیا حرکت ہے یہ یہاں بیٹھو میرے پاس اور مجھے بتاٶ کیا ماجرا ہے یہ “

آٸلہ بیگم نے ردا کا ہاتھ پکڑ کر دوبارہ اپنے پاس بٹھایا اور تھوڑی سختی دیکھاٸی

”وہ موم اصل میں وہ مجھے بہت اچھے لگتے ہیں شروع سے ہی بہت ہینڈسم ہیں عادت کے بھی بہت اچھے ہیں اخلاق بھی اچھا ہے اور باحیا ہیں موم ان تینوں بھاٸیوں کےہوتے مجھے کبھی ایسا نہیں لگا میں غیر محفوظ ہوں ذایان بھاٸی تو مجھے پرنسیس کہتے ہیں اور سعد بھاٸی گڑیا کہتے ہیں وہ سب مجھے بہت چاہتے ہیں مجھے اپنے گھر کا فرد سمجھتے ہیں“

ردا چپ ہوٸی تو اس کے چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ تھی

”تم جانتی ہو نہ بیٹا تمھارے بابا تمھاری شادی اپنے دوست کے بیٹے فاروق سے کروانا چاہتے ہیں“

آٸلہ بیگم پیار سے بیٹی کو سمجھایا

”مجھے نہیں کرنا اس مشین سے شادی موم پلیز بابا کو سمجھاٸیں مجھے ایسے گھر میں نہیں جانا جہاں سب کو صرف پیسے کمانے کی فکر ہو رشتے ان کی نظر میں کوٸی اہمیت نہیں رکھتے ہو“

ردا نے منہ بناکر کہا

”اچھا پہلے مجھے انیک کی پک دیکھاٶ میں بھی تو دیکھوں تم کیوں اس کے پیچھے باٶلی ہوٸی جارہی ہو “

”ہاں کیوں نہیں موم“

ردا نے جلدی سے موبائل کھولا اور انیک کی پک دیکھادی اور پھر دیکھاتی گٸ

”یہ اتنی ساری پکس “

آٸلہ بیگم کو تو صدمہ ہی ہوا

”جی موم وہ میں جب بھی ان کے گھر جاتی تھی جب جب مجھے موقع ملتا تھا میں ان کی پک لے لیا کرتی تھی“

ردا نے شرماتے ہوۓ کہا

”ردا پاگل ہی ہو تم تو لڑکا تو ماشاءاللہ بہت اچھا ہے شہزادہ دیکھتا ہے “

آٸلہ بیگم کو انیک دل سے بہت اچھا لگا تھا

”تو موم سمجھاٸیں نہ ڈیڈ کو“

ردا نے ماں کا ہاتھ پکڑ کر التجا کی

”اچھا تم مجھے انیک کی تین چار تصوریریں سینڈ کرو تاکہ میں تمھارے ڈیڈ کو دیکھاٶں اور انھیں منانے کی بھی کوشش کروں“

آٸلہ بیگم نے بیٹی کا ساتھ دینے کی ٹھان لی

”اوکے موم“

ردا نے جلدی سے تین چار تصویریں سینڈ کردیں

”ردا ایک بات بتاٶ وہ ہمارے جیسے امیر نہیں ان کے گھروں میں نوکر چاکر نہیں ہر کام خود کرنا پڑتا ہے کیا تم رہ سکو گی وہاں “

”جی موم رہ لوں گی اور آپ کو تو پتا بھی نہیں آپ کی بیٹی کو کھانا بنانا بھی آگیا ہے “

”کیا تمھیں کھانا پکانا آتا ہے“

ردا آٸلہ بیگم کو جھٹکوں پر جھٹکے دے رہے تھی

”جی موم آتا ہے علیزے اور میں کوثر آنٹی سے ایک ساتھ سیکھتے تھے کھانا پکانا“

ردا مسکراٸی

”ٹھیک ہے پھر بتاٶ کل کیا کھلا رہی ہو اپنے ہاتھ کا “

”چکن بریانی“ ردا جھٹ سے بولی

ٹھیک ہے ردا اور آٸلہ بیگم باتوں میں لگ گٸیں

”کیا کہا مما انھوں نے“

سعد اور علیزے نے بے صبری سے پوچھا

”انھوں نے کہا ہے کہ وہ اپنے شوہر سے پوچھ کر جواب دینگی “

کوثر بیگم نے سمجیدگی سے کہا

”اللہ کرے انکل ہاں کردیں اللہ کرے انکل ہاں کردیں“

علیزے وہی بیٹھی دعا مانگنے

”چلا کیوں نہیں کاٹ لیتیں تم“

سعد نے علیزے کا مذاق بنایا

”سعد چلا کیا ہوتا ہے“

علیزے نے نا سمجھی سے کہا

”اففففف کچھ نہیں چلو روم میں “

سعد نے علیزے کا ہاتھ پکڑا

”اوکے مما شبہ خیر “

علیزے نے مسکراتے ہوۓ کہا

کوثر بیگم بھی اپنے روم میں جلیں گٸیں

”سنے مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے“

آٸلہ بیگم روم میں ابھی داخل ہوٸی تھیں یوسف صاحب اٹھے ہوۓ تھے انھوں نے بات کرنے کا سوچا

”جی بیگم بولیں ہم سن رہے ہیں “

یوسف صاحب سیدھا ہوکر بیٹھ گۓ

”وہ مجھے ردا کے بارے میں آپ سے بات کرنی تھی “

”جی کہیں کیا بات ہے ردا کے بارے میں“ یوسف صاحب پوری طرح آٸلہ بیگم کی طرف متوجہ ہوۓ

”جی آپ اچھی طرح اس بات سے واقف ہیں کہ ردا فاروق کو بلکل پسند نہیں کرتی “

”ہممم میں واقف ہوں اس بات سے اس لیے میں نے اپنے دوست کو صاف انکار کردیا ہےمیرےلیے میری بیٹی کی خوشیوں سے زیادہ اہم کچھ نہیں “

”وہ ردا کی دوست یاد ہے آپ کو جس کے گھر وہ اکثر جاتی ہے“

”ہممم یاد ہے مجھے بہت تعریف کرتی ہے وہ ان لوگوں کی بہت اچھے لوگ ہیں “

یوسف صاحب نے مسکراتے ہوۓ کہا

”جی ان لوگوں نے ردا کا ہاتھ مانگا ہے اپنے چھوٹے بیٹے کے لیے“

آٸلہ بیگم نے یوسف صاحب کو بتا ہی دیا

”تو آپ نے کیا کہا بیگم “

”میں نے کہہ دیا ہسبینڈ سے پوچھ کر بتاٶں گی“

”ٹھیک کیا آپ نے آپ ان کو منا کردیں“

یوسف صاحب نے کچھ سوچتے ہوۓ کہا

”جی کیا آپ کی نظر میں کوٸی لڑکا ہے “

”جی میرے آفس کا مینیجر بہت اچھا اور محنتی لڑکا ہے“

یوسف صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گٸ

”ردا بھی اس لڑکے کو پسند کرتی ہے“

آٸلہ بیگم تھوڑی دیر خاموشی کے بعد گویا ہوٸیں

”ان بچوں کو کیا پتا اپنا اچھا برا بس دیکھا اور پسند آگیا ایسے تھوڑی ہوتا پوری زندگی کا فیصلہ ہوتا ہے یہ آٸلہ بیگم سمجھاٸیں اس کو“

”دیکھیں آپ اچھی طرح سوچ لیں بیٹی کا معاملا ہے وہ لڑکا بہت اچھا ہے شہزادوں جیسا نظر آتا ہے ردا کافی وقت سے جانتی ہے ان لوگوں کو اچھے لوگ ہیں“

آٸلہ بیگم نے بیٹی کے حق میں گواہی دی

”پھر بھی وہ بچی ہے اس کو کیا عقل “

یوسف صاحب نے سنجیدگی سے کہا

آٸلہ بیگم کو اپنی ہر کوشش ناکام ہوتی نظر آرہی تھی

”انھوں نے آخری کوشش کی اچھا ایک دفع لڑکا تو دیکھ لیں“

آٸلہ بیگم نے موبائل میں موجود انیک کی تصویر یوسف صاحب کے چہرے کے سامنے کردی

”یہ لڑکا ہے“

یوسف صاحب نے آٸلہ بیگم کے ہاتھ سے موبائل لیتے ہوۓ کہا

”جی یہ ہی ہے “آٸلہ بیگم نے آہستہ سے کہا

”یہ ہی تو ہے میرے آفس کا مینجر“

یوسف صاحب نے مسکراتے ہوۓ کہا

”کیا سچ میں مطلب آپ کی اور آپ کی بیٹی کی پسند ایک ہی ہے “

آٸلہ بیگم اس پوری سین میں پہلی دفع مسکراٸی تھیں

”جی بیگم سچ میں یہ لڑکا ہیرا ہے بہت خودار نیک ہے“

یوسف صاحب نے مسکراتے ہوۓ کہا

”بیگم بس آپ ان سے کہہ دیں ہم رشتہ نہیں سیدھی منگنی کی رسم ادا کرے گے “

”سچ میں آپ کو اتنا یقین ہے اس لڑکے پر “

آٸلہ بیگم نے حیرانگی سے کہا

جی بلکل یوسف صاحب نے یقین سے کہا

”ٹھیک میں صبح کہہ دوں گی اب سوجاتے ہیں رات بہت ہوگٸ ہے“

آٸلہ بیگم نے سونے کی تیاری پکڑی اور پھر دونوں ہی سوگۓ

لیکن ردا اور انیک کی نیند حرام ہوچکی تھی

”ہاۓ چھوٹے میں نے سنا ہے تمھارے رشتے کی بات چل رہی ہے گھر میں“

ذایان ناشتے کی ٹیبل پر آتے ہی شروع ہوگیا تھا

”ہاں چل رہی ہے تو کیا کروں میں“

انیک نے سنجیدگی سے کہا

”آبے مجنوں ردا سے اتنی محبت کرتا ہے تو بتا دے سب کو اس سے کروا دیں گے شادی کیوں ہارے ہوۓ عاشق کی طرح منہ بنا کر گھوم رہا ہے“

ذایان نے انیک کے کان میں سرگوشی کی

”اپنا منہ دیکھا ہے تم بیمار عاشق جیسا “

انیک نے جل کر کہا

”ہاں میں تو ہوں عاشق سب کو پتا ہے میری زندگی مجھے چھوڑ گٸ میں کچھ نہیں کرسکا توں تو کر سکتا ہے نہ “

ذایان نے سنجیدگی سے کہا

”سوری بھاٸی میرا وہ مطلب نہیں تھا “

انیک شرمندہ ہوا

”کوٸی بات نہیں چھوٹے“

””دل کا روگ ہے عاشق ہی کہلاۓ گے

محبت روٹھی ہے ہم سے ““

بیمار ہی نظر آۓ گے “

ذایان نے آہستہ سے کہا

انیک پھر کچھ کہتا کوثر بیگم نے ٹوک دیا

”کیا تم دونوں نے کھسر پسر لگاٸی ہے سیدھی طرح ناشتہ نہیں کیا جارہا “

دونوں بھاٸی خاموشی سے ناشتہ کرنے لگے

”ارے تم کہاں بھاگ رہی ہو ماۓ فیوچر بھابی جان “

ردا اپنی کار سے اتر کر سیدھی کالج کے اندر جانے کے چکر میں تھی سعد نے اس کا راستہ روک لیا جو علیزے کو چھوڑنے آیا تھا

”بھاٸی ہٹیں نہ جانے دیں نہ“

ردا نے شرماتے ہوۓ کہا

ردا کتنی ہی بولڈ سہی لیکن اس معاملے میں ردا کو بھی حیا نے آن گھیرا

”واہ واہ میری بہن کو بھی شرم آتی ہے کیا“ سعد نے ردا کا جاٸزہ لیتے ہوۓ کہا

”اففف سعد چپ کر جاٸیں کتنا تنگ کرے گے میری دوست کو جاٸیں آپ آفس نہیں تو لیٹ ہوجاٸیں گے“

علیزے نے اپنی دوست کو بچایا

”تم کہاں سے آگٸ ہم بھاٸی بہن کے درمیان“ سعد نے منہ بناتے ہوۓ کہا

”سعد آفس جاٸیں سیدھے ردا چلو اپن اندر چلیں“

علیزے ردا کا ہاتھ پکڑ کر کالج کی طرف بڑھ گٸ

”ارے سنو تو سہی جان“

سعد نے پیچھے سے ہانک لگاٸی

علیزے نے خوخار نظروں سے سعد کو دیکھا

پر سعد کو کوٸی فرق نہیں پڑھا وہ علیزے کو دیکھ کر ہنسنے لگا

علیزے پیر پٹختی وہاں سے چلی گٸ

سعد ہنستا ہنستا آفس کے لیے نکل گیا

”گڈ مارنینگ سر

”ارے انیک آٶ میاں یہاں بیٹھو ذرا “

انیک ابھی آفس آیا ہی تھا کہ اسے یوسف صاحب کا بلاوا آگیا اب وہ یوسف صاحب کی خدمت میں حاضر تھا

”جی سر“

انیک مسکراتے ہوۓ یوسف صاحب کی سامنے والی کرسی پر بےبیٹھ گیا

”بیٹا دیکھوں میں صاف بات کرتا ہوں گھوما پھیرا کر بات کرنے کی مجھے عادت نہیں یہ بتاٶ تمھیں میری بیٹی کیسی لگتی ہے“

یوسف صاحب انیک کے دل کی بات جاننا چاہتے تھے

”سر یہ کیسی باتیں کر رہےہیں آپ میں ایسا ویسا لڑکا نہیں“

انیک کو یوسف صاحب سے اس بات کی امید نہیں تھی

” میں بھی کوٸی ایسا ویسا باپ نہیں بس اپنی بیٹی کی خوشیوں کے خاطر تم سے پوچھ رہا ہوں“

یوسف صاحب نے مسکراتے ہوۓ کہا

”سر آپ کہنا کیا چاہتے ہیں میرے سمجھ نہیں آرہا پلیز سہی سے بتائيں کیا بات ہے مجھ سے کوٸی غلطی ہوگٸ کیا“

انیک کے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا جواب دے

”ردا کوجانتے ہو “

ردا کے نام پر انیک نے جھٹکے سے سر اٹھایا اور یوسف صاحب کو دیکھا جو انیک کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے

”جی سر جانتا ہوں میری بہن کی دوست ہے“ انیک نے ذرا سنبھل کر جواب دیا

”وہ میری بیٹی ہے“

یوسف صاحب نے بڑے اطمینان سے بتایا

یہ سن کر انیک کے ماتھے پسینے کی بوندے نمودار ہوٸیں اس کو اپنی نوکری خداحافظ کہتی نظر آرہی تھی

”گھبراٶ نہیں انیک مجھے آپ کا بھیجا رشتہ منظور ہے آپ اپنے گھر والوں کو کہیے گا ہم رشتہ نہیں سیدھی منگنی ہی کریں گے اور اگر آپ کے گھر والے مناسب سمجھے تو ہم آج رات کا ڈنر آپ کے گھر کرنا پسند کریں گے “

یوسف صاحب نے انیک کا ہاتھ تھام کر کہا

انیک ابھی تک صدمے میں تھا

”س سر میرا رشتہ کب بھیجا میرے گھر والوں نے“

انیک صدمے سے باہر نکلا

”کیا آپ کو نہیں معلوم اس بارے میں “

یوسف صاحب کو تشویش ہوٸی

”سر بھاٸی نے رشتے کا ذکر تو کیا تھا لیکن یہ نہیں بتایا تھا کہ کس سے رشتہ طے کررہے ہیں“

انیک نے ٹھیر ٹھیر کے جواب دیا

”چلو کوٸی بات نہیں اب میں نے بتا دیا آپ بتائيں آپ کیا چاہتے ہیں “

یوسف صاحب نرمی سے گویا ہوۓ

”سر میں نے اس فیصلے کا حق اپنے گھر والوں کو دیا ہے جو ان کی مرضی وہ ہی میری مرضی “

انیک نے سر جھکا کر جواب دیا

”ہممم اچھی بات ہے برخوردار میں خوش ہوں میری بیٹی کا نصیب تم جیسے فرمابردار لڑکے کے ساتھ جڑنے والا ہے “

یوسف صاحب نے فخر سے کہا

”سر لیکن آپ کی اکلوتی بیٹی ہے آپ اس کی شادی ایک معمولی سے گھرانے میں کیوں کر رہے ہیں آپ کو تو کوٸی بھی اچھی فیملی مل جاۓ گی“

انیک کو شاید یہ سب غلط لگ رہا تھا

”بیٹا میری بیٹی کی خوشی آپ کے ساتھ ہے شادی میں اس کی بھلے ہی کسی امیر گھرانے میں کروا دوں لیکن میری بیٹی محبت کے رشتوں سے محروم رہے گی جیسے ہمیشہ رہی میں اور میری بیگم آفس کے کام کی وجہ سے اس کو زیادہ ٹاٸم نہیں دے سکے اور اب ویسے ہی میں اس کو اپنے جیسے خاندان میں بیاہ دوں وہاں بھی وہ اکیلی رہے گی میں نے امیر فیملیز کے بگڑے ہوۓ نوجوان لڑکا لڑکی دیکھیں ہیں لیکن میں شکر ادا کرتا ہوں میری بیٹی ان جیسی نہیں اس نے خود کو سنوارہ ہے بگاڑا نہیں مجھے پورا یقین ہے میری بیٹی کو آپ سے اچھا جیون ساتھی مل ہی نہیں سکتا “

”تھینک یو سر آپ نے مجھے اس لاٸق سمجھا “ انیک کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری تھی

”سر لیکن میری ایک شرط ہے“

انیک نے مسکراہٹ سمیٹ کر کہا

”ہمم بولو بیٹا “

”سر میں اب یہاں جاب نہیں کروں گا میری غیرت مجھے گوارا نہیں کرتی کہ میں اپنے ہونے والی بیوی کے ہی پیسوں پر اپنا آشیانہ بناٶں “

”بیٹا یہ آپ ٹھیک کہہ رہے مگر میرا کوٸی بیٹا نہیں میری ایک ہی بیٹی ہے جس کو ان سب میں کوٸی انٹرسٹ نہیں یہ سب تو آپ کو ہی سنبھالنا ہوگا اور آپ کی جگہ کوٸی بھی ہوتا تو بھی یہ ہی کہتا اور اب میں کل سے آفس نہیں آٶں گا یہ سب آپ کو ہی ہینڈیل کرنا پڑے گا“

یوسف صاحب نے انیک کو اپنا بیٹا ہی مان لیا تھا

”سر آپ کیوں نہیں آٸیں گے “

”بھٸ مجھے اپنی بیٹی کے ساتھ وقت گزارنا ہے بہت سارا پھر آپ اس کو لے جاؤ گے ہمشہ کے لیے اپنے ساتھ اسی لیے میں اب اپنا سارا وقت اپنی بیٹی کو دوں گا جو میں اتنے سالوں سے نہیں دے سکا“

یوسف صاحب نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا

”لیکن سر “

”بس برخوردار اور کچھ نہیں سنوں گا میں“ یوسف صاحب نے ہاتھ اٹھا کر انیک کو خاموش کروا دیا

”اوکے سر جو آپ ٹھیک سمجھیں“

انیک نے مسکرا کر کہا

”یہ سر سر کیا لگا رکھا ڈیڈ بولو مجھے اب“ یوسف صاحب نے خفگی سے کہا

”سر ابھی شادی تو نہیں ہوٸی“

انیک نے نظریں جھکا کر کہا

”ہاں تو کیا ہوا داماد نہیں بیٹا مانتا ہوں میں آپ کو“

یوسف صاحب نے نرمی سے کہا

۔”اوکے سر سوری ڈیڈ “

”ہمم خوش رہو “

یوسف صاحب نے کرسی سے اٹھ کر انیک کو گلے لگا لیا

”اچھا بیٹا خیال سے جانا گھر پہنچتے ہی مجھے کال کردینا رات تک پہنچ جاٶ گی تم “

”آنٹی آپ کی بہت یاد آۓ گی آپ نے میرا بہت خیال رکھا ہے بلکل میری امی جیسا“

وہ پری پیکر لڑکی اپنی آنٹی کے گلے لگ کر رو دی

”نہیں میری بچی ایسے نہیں رو میں آٶں گی تم سے ملنے تم بھی تو میری بیٹی جیسی ہو اس کی تو شادی ہوگٸ اس کے بعد تم ہی تو تھیں جس کے ساتھ میں اپنے دکھ سکھ بانٹا کرتی تھی تم خیر سے جاؤ ٹرین کا ٹاٸم ہوگیا ہے تم اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ جاؤ“

اس کی آنٹی نے محبت بھرا بوسا اس کے ماتھے پر دیا

”خدا حافظ آنٹی اپنا خیال رکھیے گا “

وہ اپنی چادر سنبھالتی ٹرین میں اپنی سیٹ پر آکر بیٹھ گٸ تھی

”جا میری بچی خدا کے امان میں“

آنٹی نے اپنے دوپٹے سے آنسو پہنچے اور گھر کی راہ لی

”موم موم کہاں ہیں آپ ردا ابھی کالج سے آٸی تھی اور پورے گھر میں اپنی موم کو ڈھونڈ رہی تھی“

” ارے کیا ہوا بیٹا کیوں شور مچا رہی ہو“

آٸلہ بیگم کچن سے نکل کر آٸیں

”موم یہاں بیٹھے “

ردا نے اپنی موم کو پکڑ صوفے پر بیٹھایا

”آپ نے ڈیڈ سے بات کی“

ردا نے اپنی ماں کے سامنے بیٹھ کر پوچھا

”بیٹا ابھی کالج سے آٸی ہو فریش ہوجاٶ کھانا کھا لو پھر بیٹھ کر بات کرتے ہیں“

”نو موم پلیز ٹیل می ڈیڈ نے کیا کہا پلیز موم ٹیل می پلیز ٹیل می“

ردا آٸلہ بیگم کو کسی قیمت پر نہیں بخشنے والی تھی

”اچھا بھٸ سنو میں نے بہت سمجھایا تمھارے ڈیڈ کو لیکن“

آٸلہ بیگم ایکدم اداس ہوگٸیں

”لیکن کیا موم “

ردا نے بے صبری سے پوچھا

”وہ نہیں مانے پھر میں نے ان کو تصویر دیکھاٸی“

آٸلہ بیگم خاموش ہوگٸیں

”موم پلیز بتائيں ڈیڈ نے کیا کہا “

ردا کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا

”تمھارے بابا نے ہاں کردی“

آٸلہ بیگم نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا

ردا سن کر پہلے حیران ہوگٸ پھر اپنی موم کے ہاتھ پکڑ کر ان کو کھڑا کیا اور ان کو لے کر زور زور سے گھومنے لگی

”موم موم میں بتا نہیں سکتی میں کتنی خوش ہوں موم میں بہت خوش ہوں“

ردا پورے لاٶنج میں اپنی موم کو لے کر گول گول گھوم رہی تھی

”ردا ردا بیٹا کیا کررہی ہو میں گرجاٶں گی “آٸلہ بیگم کا تو سر ہی چکرا گیا تھا

آٸلہ بیگم اپنا گھومتا سر لے کر صوفے پر براجمان ہوگٸیں

”موم میں کیسے اپنی خوشی بتاٶں میں بہت خوش ہوں“

ردا نے آٸلہ بیگم کو اپنی بانہوں کے حصار میں لیا

”تمھیں بتانے کی ضرورت نہیں تمھارے چہرے سے تمھاری خوشی عیاں ہے میری بچی تم ہمیشہ ایسے ہی خوش رہو“

آٸلہ بیگم نے ردا کو خود سے لگایا

”مما مما کہاں ہیں آپ “

”انیک بھاٸی کیوں شور کر رہے ہیں مما نماز پڑھ رہی ہیں کمرے میں“

علیزے کچن سے نکل کر آٸی

”تم ادھر بیٹھو ذرا“

انیک نے علیزے کی کلاٸی پکڑ کر اسے صوفے پر بٹھایا خود اس کے سامنے بیٹھ گیا

”یہ تم سب کی ملی بھگت تھی نہ مجھے بیوقوف بنایا نہ تم دونوں نے“

انیک نے سختی سے کہا

”کس بارے میں کہہ رہے ہیں آپ “

انیک بھاٸی علیزے کو سچ میں سمجھ نہیں آٸی تھی انیک کی بات

”زیادہ بھولی نہ بنو تم نے ہی ضرور سب کو کہا ہوگا ردا اور میرے رشتے کی“

انیک نے خفگی سے کہا

”اوہ تو آپ اس بارے میں بات کررہے ہیں ہاں تو میں کیا کرتی مجھ سے آپ کی مجنوں والی حالت نہیں دیکھی جارہی تھی میرے پیارے بھاٸی “

علیزے نے مسکراتے ہوۓ انیک کے دونوں گال پکڑ لیے

”بلاوجہ میں کب بنا “

مجنوں انیک نے ہاتھ جھٹکے علیزے کے

”بس رہنے دیں آپ مجھ سے کچھ چھپا نہیں ہے اس دن جب آپ دونوں میرے روم میں لڑائی کررہے تھے نہ میں واشروم میں تھی میں نے ساری باتیں سن لیں تھیں“

علیزے نے مسکراتے ہوۓ بتایا

”گڑیا کتنی بری بات ہے نہ تم نے ہماری پرسنل باتیں سنی“

انیک تھوڑا نرم پڑا

”یار بھاٸی کیا ہے سن لیں تو اچھا ہوا نہ میں آپ کو ذایان بھاٸی جیسا بنتا نہیں دیکھنا چاہتی تھی “

علیزے نے دکھ سے کہا

”ارے ہاں میں تو بھول گیا تھا میری پیاری بھابی میرے لیے کوٸی غلط فیصلہ تھوڑی کرے گی“

اب کی بار انیک نے علیزے کے دونوں گال پکڑ لیے

علیزے کھلکھلا کر ہنس دی

”انیک بھاٸی آپ کو کیسے معلوم ہوا ہم آپ کا رشتہ ردا سے کررہے ہیں“

”میرے آفس کے باس ردا کے فادر ہیں انھوں نے بتایا مجھے“

انیک نے مسکراتے ہوۓ کہا

”کیاااااا وہ آپ کے باس ہیں “

علیزے نے آنکھیں بڑی کرکے پوچھا

”ہاں بلکل وہ بہت خوش ہیں اس رشتے سے اور رضامند بھی آج رات وہ ہمارے گھر کھانے پر آٸیں گےاپنی فیملی کے ساتھ “

انیک نے خوشی سے کہا

”کون آرہا ہے کھانے پر“

کوثر بیگم نے روم سے نکلتے ہوۓ کہا

”انیک بھاٸی کے سسرال والے مما “

جواب علیزے کی طرف سے آیا تھا

”کیا مطلب ان لوگوں نے تو ابھی کوٸی جواب نہیں دیا “

کوثر بیگم نے نا سمجھی سے کہا

اس کے بعد علیزے اور انیک نے ساری بات کوثر بیگم کو بتادیں

وہ سب جان کر بہت خوش ہوٸیں تھیں

”اَلسَلامُ عَلَيْكُم“

یوسف صاحب اپنی فیملی کے ہمراہ انیک کے گھر موجود تھے

سب دعا سلام کے بعد صوفوں پر براجمان ہوگۓ تھے

انیک کی نظر تو ردا پر سے ہٹ ہی نہیں رہی تھی اس نے ردا کو ہمیشہ شارٹ قمیض ٹاٶزر پینٹ کُرتی ایسے کپڑے ہی زیب تن کیے دیکھا تھا لیکن آج وہ پرپل رنگ کی لانگ فراک کے ساتھ چوڑی دار پجاما پہنی تھی ہلکا پھلکا میک اپ کے ساتھ وہ بہت پیاری لگ رہی تھی

ردا کو انیک کا بار بار دیکھنا شرم میں مبتلا کرگیا تھا وہ کبھی اپنے چہرے پر آٸی لٹ کان کے پیچھے اڑستی تو کبھی ہاتھوں کی انگلیوں کو سزا دیتی

”انیک بس کردیں بھاٸی تیری نظروں کی تپش سے پگھل جاۓ گی میری بہن“

سعد نے انیک کے کان میں سرگوشی کی جو بہت دیر سے اس کی حرکتیں نوٹ کررہا تھا

انیک نے شرمندہ ہوتے ہوۓ نظروں کا زاویہ بدل لیا

ردا نے سکھ کا سانس لیا

یوسف صاحب آٸلہ بیگم کو سب گھر والے بہت پسند آۓ علیزے تو ان کو اپنی بیٹی جیسی پیاری ہی لگی

سب گھر والوں نے خوش گوار ماحول میں کھانا کھایا

کوثر بیگم نے اپنی خوشی سے ردا کو سونے کی انگھوٹی پہناٸی ردا خوشی سے کوثر بیگم کے گلے لگ گٸ تھی

یوسف صاحب کی فیملی بہت اچھا وقت گزار کر اپنے گھر جاچکی تھی

ان کے جانے کے بعد سب نے مل کر انیک کو بہت چہڑا پھر انیک سب سے بچنے کے لیے اپنے روم میں بھاگ گیا

وہ ابھی ٹرین سے اتری تھی رات کافی ہوگٸ تھی وہ اسٹیشن سے باہر نکلی تو اسے کوٸی سواری نظر نہ آٸی ایک دو رکشے والے نظر آۓ رات کی وجہ سے وہ لوگ پیسے زیادہ مانگ رھے تھے ان رکشے والوں کی نظریں اس کو اپنے آر پار ہوتی نظر آرہیں تھیں وہ بہت خوف ذدا ہوگٸ تھی پھر اس نے پیدل گھر جانے کا ارادا کیا اور ہاتھ میں مضبوطی سے اپنا بیگ سنبھالتی اپنی منزل کی طرف چلدی

”چڑیل تم تو میرے حواسوں پر چھا گٸ ہو آج تم کتنی پیاری لگ رہیں تھی ایک دفع تم میرے پاس آجاٶ پھر تمھیں ایسے ہی کپڑے پہنا کر اپنے سامنے بٹھاۓ گھنٹوں دیکھا کروں گا“

انیک جب سے روم میں آیا تھا بیڈ پر لیٹا ردا کے بارے میں سوچ رہا تھا

”ارے میں اس کے بارے میں سوچ کیوں رہا ہوں میں اس سے بات ہی کر لیتا ہوں آج ہی تو میں نے اس کا نمبر مما کے موبائل سے چرایا ہے“

انیک مسکراتا ہوا ردا کا نمبر ڈاٸل کرنے لگا

ردا سونے کی تیاری کر رہی تھی اسے کو کسی غیر شناسا نمبر سے کال آنے لگی ردا نے کال کاٹ دی پھر تکیہ ٹھیک کرکے اپنی جگہ پر لیٹ گٸ

اس چڑیل نے میری کال کاٹ دی اس کی اتنی ہمت اپنے فیوچر ہسبینڈ کی کال کاٹ دی انیک جل ہی گیا تھا

”اوہ میں تو بھول ہی گیا تھا اس کے پاس تو میرا نمبر ہی نہیں ہے مطلب وہ رانگ نمبر سمجھ رہی ہے اب مزا آۓ گا “

انیک کے چہرے پر شریر سی مسکراہٹ ابھری

ردا کو اب بار بار کال آرہی تھی اس کے بعد میسیجز کی قطار لگ گٸ

”میری جان بات کرو “

”جان من کال اٹھاٶ نا“

”بہت محنت سے حاصل کیا ہے نمبر میری محنت زایع نہ کرو بات کرو “

”ردا پری کال اٹھاٶ “

”افففف اس کو تو میرا نام بھی معلوم ہے اب میں کیا کروں“

ردا روہانسی ہوگٸ

ردا کے موبائل پر پھر کال آنے لگی

ردا نے ڈرتے ڈرتے کال اٹھاٸی

”ہیلو“ ردا کی کپکپاتی آواز نکلی

”اَلسَلامُ عَلَيْكُم جان“

ایسا سلام سن کر تو ردا کی آگ ہی لگ گٸ

”تم زلیل انسان تمھاری ہمت کیسے ہوٸی مجھے جان کہنے کی منہ توڑ دوں گی تمھارا ہو کون تم شرم آتی ہے اتنی رات کو ایک شریف لڑکی کو تنگ کرتے ہوۓ“

ردا نے اپنے دل کی بھڑاس نکالی

”چڑیل شرم نہیں آتی تمھیں اپنے فیوچر ہسبینڈ سے ایسے بات کرتے ہیں“

انیک نے خفگی سے کہا

”مسٹر شرم آپ کو آنی چاہیے آپ میرے کوٸی ہسبینڈ نہیں سمجھے آپ“

ردا نے سرخ چہرے کے ساتھ جواب دیا

”ہوہی بدزبان تم چڑیل کہی کی مجھے تو لگا تھا تم سدھر جاؤ گی لیکن نہیں بھٸ یہ چڑیلوں کی مالکہ ڈاین کیسے سدھر سکتی ہے“ انیک نے سرد لہجے میں کہا

”بدزبان چڑیل ڈاین یہ سب تو مجھے انیک کہتے ہیں“

ردا کی دھڑکن اور زور سے دھڑکنے لگی جس کی وجہ شرم نہیں ڈر تھا وہ جو انیک کو اتنا غصہ دلا چکی تھی اب اس سے بات کرنے میں ڈر رہی رہی تھی

”ردا کہاں گٸ بولو“

موبائل سے انیک کی آواز آٸی

”آ آٸی ایم سو سوری مو مجھے نہیں معلوم تھا آپ ہیں انیک “

ردا نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا

”ایک شرط پر معاف کروں گا “

انیک نے سنجیدہ لہجے میں کہا

”جی بولیں“ ردا نے دھمے لہجے میں کہا

”میں تمھیں ہمیشہ چڑیل کہوں گا تمھارا نام نہیں لوں گا“

انیک نے اپنی ہنسی کا گلا گھونٹا

”کیاااااا آپ ایسا کیسے کرسکتے ہیں کبھی کبھی بول لینا“

ردا نے معصوم بچوں کی طرح کہا

انیک کا زوردار قہقہ موبائل کے اسپیکر میں گونجا

”انیک بس کریں نہ کتنا تنگ کریں گے“

ردا نے شرمندہ ہوتے کہا

انیک بڑے مزے سے سینے کے بل لیٹا ردا کو تنگ کرنے میں مصروف تھا

پیچھے سے آکر کسی نے اس کے ہاتھ سے موبائل چھین لیا

انیک فوراً ہوش میں آیا میرا موبائل

پیچھے دیکھا تو ذایان کھڑا تھا

”بھابی سے بات ہورہی ہے“

ذایان نے موبائل کی اسکرین پر دیکھتے ہوۓ کہا جہاں چڑیل نام چمک رہا تھا

”بھاٸی یہ کیا بدتمیزی ہے موبائل دو مجھے“ انیک موبائل لینے کے لیے آگے بڑھا

ذایان بیڈ کے دوسری طرف بھاگ لیا

فون کان سے لگا کر بات کرنے لگا

”مبارک ہو بھابی جان آپ کو آپ کی زندگی میں ایک عدد کھڑوس کا اضافہ ہوگیا ہے “

ردا ذایان کی مبارک باد سن کے حیران ہوگٸ

”ذایان بھاٸی بہت بری بات ہے ایسے نہیں کہیں آپ “

ردا نے خفگی سے کہا

ذایان جواب دیتا کہ انیک نے موبائل چھین لیا

”ابے بات تو پوری کرنے دیں لا موبائل دے“

ذایان نے ہاتھ آگے بڑھایا

”بھاٸی یہ غلط بات ہے میں بات کررہا ہوں نہ ابھی“

انیک نے تنگ آکر کہا

”اچھا چل کرلے بات نہیں کررہا تنگ “

ذایان کو انیک پر ترس آہی گیا وہ روم سے باہر نکل گیا

”چھیڑ آۓ اس کو “

کوثر بیگم نے سنجیدگی سے کہا وہ باہر صوفے پر بیٹھی ان دونوں کی آوازیں سن رہیں تھیں علیزے سعد بھی وہی بیٹھیں ہنس رہے تھے

”جی مما قسم سے مزا آگیا اتنے ٹاٸم بعد کسی کو چھیڑ کر“ ذایان نے ہنستے ہوۓ کہا

”ٹھیرو تم کرتی ہوں تمھارا بھی انتظام ڈھونڈتی ہوں کوٸی لڑکی“

کوثر بیگم نے ذایان کو دھمکی دی