Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rishte Mohabat Ke Episode 15

Rishte Mohabat Ke by Misbah Khalid

”سعد آج میں بہت خوش ہوں“

علیزے سعد کے سینے پر سر رکھ کر اس سے اپنی خوشی کا اظہار کررہی تھی

”کیوں خوش ہے آج میری جان اتنی “

سعد نے علیزے کو خود میں سمیٹتے ہوۓ کہا

”ذایان بھاٸی کی وجہ سے انھوں نے آج ہم سب کے ساتھ کھانا کھایا باتیں کیں “

”خوش تو میں بھی ہوں لیکن وہ ابھی بھی پہلے والا ذایان نہیں بنا اس کے آنکھوں کی چمک درد میں بدل گٸ ہے اس کی مسکراہٹ کھوکلی ہے بہت اس کی مسکراہٹ اس کا دکھ چھپانے میں ساتھ نہیں دیتی وہ بہت تکلیف میں ہے علیزے اگر دعا کی شادی نہ ہوٸی ہوتی تومیں اسے کہی سے بھی ڈھونڈ نکالتا لیکن اپنے بھاٸی کی خوشی کے لیے اسے واپس لاتا لیکن افسوس میں اپنے بھاٸی کے لیے کچھ نہیں کرسکا“

”ہممم اس بات کا دکھ تو مجھے بھی ہے لیکن مجھے اتنا ضرور معلوم ہے اوپر والا جو بھی کرتا ہے نہ ہماری بہتری کے لیے کرتا ہے اب دیکھیں نہ مجھ سے میرے ماما بابا لے لیے مگر اس کے بعد کتنے ہی رشتے نواز دیے اور سب سے بڑی بات میرا جیون ساتھی اس کو بنایا جس نے میری آدھی پرورش کی ہے “

”کیا بات ہے بیگم بڑی سمجھداری کی باتیں کررہی ہو“

سعد نے کبھی علیزے سے اتنی گہری باتیں نہیں سنی تھیں

”ہاں تو کیا ہوا میں نہیں کرسکتی کیاسمجھداری کی باتیں “

علیزے نے سعد کے سینے سے سر اٹھا کر کہا

”اچھا چھوڑو بہت دن ہوگۓ میں نے میٹھا نہیں کھایا “

”ہاں چلیں آٸسکریم کھانے“

علیزے اٹھ کر بیٹھ گٸ علیزے ہمیشہ کی معصوم سعد کی بات کا مطلب نہیں سمجھہ پاٸی

سعد گہری مسکراتی آنکھوں سے علیزے کے ملاٸم ہونٹ دیکھ رہا تھا

”سعد اٹھیں نہ چلیں“

علیزے نے سعد کو ہلایا

سعد نے علیزے کا ہاتھ پکڑ کر اس کو خود پر گرا لیا

”آہ سعد کیا کررہے ہیں “

سعد نے ایک ہی کروٹ لی اور علیزے کو بیڈ پر لیٹا کر خود اوپر آگیا

علیزے کو اب علم ہوا تھا سعد کے ارادوں کا جو بلکل بھی نیک نہیں تھے

”سعد دیکھیں آ آپ نے کو کچھ بھی کیا نہ می میں آپ سے بات نہیں کروں گی “

علیزے گھبراتے ہوۓ کہا

”میں منا لوںگا تمھیں“

سعد نے علیزے کے لبوں پر اپنے لب رکھ دیے تھے سعد نے علیزے کے دونوں ہاتھ اس کے سر کے اوپر کرکے مضبوطی سے پکڑے ہوۓ تھے علیزے کی فرار کا کوٸی راستہ نہیں تھا

”سعد آپ بہت گندے ہیں جاٸیں میں آپ سے بات نہیں کرتی“

علیزے نے رونے کی ایکٹینگ کی اور رخ موڑ کر لیٹ گٸ

”ارے جان میری بیوی ہو تم رونے والی کیا بات ہے اس میں حق ہے میرا تم پر“

سعد نے بچوں کی طرح علیزے کو پچکارا

”اچھا سوری اب نہیں کروں گا دیکھوں میں نے کان پکڑ لیے“

سعد نے باقاعدہ کان پکڑ لیے تھے

”ایک شرط پر راضی ہونگی میں“

علیزے نے رخ موڑ کر کہا

”جی مجھے میری جان کی ساری شرط منظور ہیں “

علیزے کھلکھلا کر ہنس دی

”اچھا پھر آپ مجھے بتائيں آپ کو مجھ سے محبت کب ہوٸی“

”ہممم تو میڈم آپ کے اس شوہر کو آپ سے محبت اس دن ہوٸی تھی جب میلاد کے بعد آپ میرے روم میں سوگٸ تھیں اس دن جب میں تمھیں اٹھانے کے ارادے سے آگے بڑھا تو تمھاری معصومیت کا آسیر ہوگیا تمھیں پتا نہیں یاد ہے کہ نہیں لیکن میں نے تمھارے قریب آکر تمھارے چہرے کو چومتے بال اپنے ہاتھ سے کان کے پیچھے کیے تھے اس کے بعد بھی ہر رات میں اپنے بیڈ پر سونےلیٹتا تو چھن سے تمھارا یہ چاند سا چہرا میری نظروں کے سامنے آجاتا اس وقت مجھے پتا چلا میری دل میں علیزے کے نام کی کونپل پھوٹ چکی ہے

پھر میں نے تم سے دور بھاگنا شروع کردیا کیونکہ تمھیں دیکھنے کا میرا نظریہ بدل چکا تھا مجھے ڈر لگتا تھا میں اپنے جذبات پر قابو نہ کرپایا اور کوٸی غلطی ہوگٸ مجھ سے تو تم مجھ سےدور ہوجاٶ گی پھر اس دن تم میرے پیچھے ہی لگ گٸیں مجھے کالج آپ کے ساتھ ہی جانا ہے مجھے مجبوراً تمھیں لے جانا پڑھا اس کے بعد جو ہوا میرے لیے بھی وہ سب کسی شوکٹ سے کم نہیں تھا میں تمھیں اپنانا چاہتا تھا پر اسطرح نہیں جس طرح تم میری ہوٸیں خیر نکاح کے بعد میرے دل میں تمھاری محبت ایک مضبوط درخت بن چکا تھا جو میرے دل سے میرے مرنے کے بعد نکلے گا “

سعد نے لیٹی ہوٸی علیزے کو اپنی بانہوں میں بھر کے اپنے سینے سے لگا لیا

”سعد میں بھی آپ سے بہت محبت کرتی ہوں مجھے نہیں معلوم مجھے آپ سے محبت کب اور کیسے ہوٸی لیکن مجھے یہ ضرور معلوم ہے آپ کے بنا زندگی گزارنے کا تصور ہی مجھے ماردے گا “

علیزے کی آنکھیں بھیگ گٸیں تھیں

”میری جان بس اب رو نہیں تم ہم ہمیشہ ساتھ رہے گے ہمارے بچے ہوں گے بہت سارے کرکٹ ٹیم بناۓ گے ہم “

”سعد کیا ہو گیا ہے“

علیزے نے سعد کے سینے پر مکا مارا

”آہ شرم نہیں آتی اپنے شوہر کو مارتی ہو “

”ہاں نہیں آتی “

دونوں ایک دوسرے کی بانہوں میں نیند کی وادی میں کھو گۓ تھے

”دعا کہاں ہو تم کیوں چھوڑ گٸ مجھے بہت یاد آتی ہے تمھاری“

ذایان آج بھی دعا کی یادوں میں آشک بہارہا تھا

”یہ میڈم یہاں عیاشیاں کررہی ہے میری پھول سی جان کے ساتھ اتنا برا کرکے ابھی عقل ٹھکانے لگاتا ہوں “

سعد نے آفس سے آتے ہوۓ راستے میں صاٸمہ کو کسی لڑکے کے ساتھ دیکھا تو سعد کو یاد آیا اس نے علیزے کے ساتھ کیا تھا

”کیا کروں میں اس کے ساتھ جس سے اس کی عقل ٹھکانے آجاۓ ہممم آٸیڈیا “

سعد کی آنکھیں چمکیں

”ہاۓ صاٸمہ“

سعد نے صاٸمہ کے آگے کار روکی

سعد کے اتنے اچھے انداز پر صاٸمہ تو خوشی سے پھولے نہیں سماں رہی تھی

”ہیلو سعد کیسے ہو تم“

صاٸمہ اس لڑکے کو ساٸیڈ پر کرکے بھاگی چلی آٸی

”میں ٹھیک ہوں صاٸمہ کیا تم میرے ساتھ کھانا کھانا پسند کرو گی “

سعد نے بڑے میٹھے لہجے میں کہا

”ہاں کیوں نہیں سعد “

صاٸمہ کار کا دروازہ کھول کر کار میں بیٹھ گٸ

”اوکے باۓ تم جاؤ کل ملتے ہیں“

صاٸمہ نے اس لڑکے کو بھگایا

”چلو سعد “

سعد نے زن سے گاڑی دوڑا دی

کچھ دیر بعد سعد نے ایک شوپ کے سامنے کار روکی اور رسی خرید لایا

سعد کے ہاتھ میں رسی دیکھ کر صاٸمہ گھبراگٸ

”یہ رسی کا کیا کرو گے“

”تمھیں باندوں گا “سعد نے دل میں کہا

”کچھ نہیں بس وہ ذایان انیک کو تو تم جانتی ہی ہو دونوں پیچھے لگے تھے جھولا ڈالیں گے گھر میں علیزے کے لیے تو بس اسی کے لیے رسی لی ہے“ سعد نے بات بناٸی

”اوہ اچھا “

سعد کا جواب سن کر صاٸمہ مطمٸن ہوگٸ

”ویسے کہاں جارہے ہیں ہم ڈنر پر“

صاٸمہ نے سعد کی طرف رخ کرکے پوچھا

”ایک نیا ریستوران کھلا ہے یہاں سے کچھ دور ہے لیکن وہاں کا کھانا بہت اچھا ہے“

سعد نے دوبارہ جھوٹ بولا

”ہممم ٹھیک ہے ویسے بھی میں تو دس بچے تک کا کہہ کر آٸی تھی ابھی تو سات ہی بجے ہیں “

صاٸمہ نے کلاٸی میں بندھی گھڑی دیکھ کرکہا

ہممم سعد خاموشی سے ڈراٸیو کرتا رہا

ایک سنسان سڑک پر سعد نے گاڑی روک دی اس سے آگے ایک جنگل تھا

”سعد یہ کہاں لے آۓ ہو یہاں کوٸی ریستوران نہیں“ صاٸمہ نے گھبراتے ہوۓ کہا

”ہاں نہیں ہے “

سعد کے چہرے پر چٹانوں کی سی سختی آگٸ

”س سعد یہاں کی کیوں لاۓ ہو “

صاٸمہ نے گھبراتے ہوۓ کہا

”گاڑی سے تو نکلو بتاتا ہوں“

سعد نے صاٸمہ کو بازوں سے پکڑ کر کھنیچ کر نکالا

”آہ سعد یہ کیا کررہے ہو پلیز چھوڑو مجھے درد ہورہا ہے “

صاٸمہ نے کراہتے ہوۓ کہا

”چپ چپ بلکل خبر دار ایک لفظ اور بھی اپنی گھٹیا زبان سے ادا کیا ہو تو زبان کاٹ کر پھینک دوں گا“ سعد دھاڑا

صاٸمہ سہم کر چپ ہوگٸ

سعد صاٸمہ کو جنگل کے اندر لے گیا اور ایک درخت کے ساتھ باندھ دیا

”ہمم ایسے بہت اچھی لگ رہی ہو تم “

سعد نے بندھی ہوٸی صاٸمہ کا تمسخر اڑایا

”سعد تم اچھا نہیں کررہے میں ڈیڈ سے کہہ کر تمھاری درگت بنواٶں گی “

”ہاں کہہ دینا پہلے یہ بتاٶ علیزے کے ساتھ ایسا کیوں کیا “

سعد نے غصے سے کہا

”میں نے کیا کیا کچھ بھی تو نہیں کیا“

صاٸمہ نے لاعلمی ظاہر کی

چٹاخ اس گھنے جنگل میں صاٸمہ کے خوبصورت چہرے پر پڑنے والے تھپڑ کی آواز گونجی

” اب بکو جلدی“

سعد نے صاٸمہ کے بال مٹھی میں جکڑتے ہوۓ کہا

”میں میں بہت غصے میں تھی مجھے بہت برا لگتا تھا جب جب تم مجھے علیزے کی وجہ سے بے عزت کرتے تھے باتیں سناتے تھے پھر پھر تمھاری شادی بھی ہوگٸ اس سے میرا غصہ اور بڑھ گیا اس دن جب میں آٸسکریم پارلر میں ملی تب بھی تم نے بہت بے عزت کیا مجھےمیں تمھیں حاصل کرنا چاہتی تھی اسی لیے میں نے اسے پاگل کرنے کے لیے اس پر جادوں کروا دیا تاکہ تنگ آکر تم اسے چھوڑ دو لیکن تم اس سے دور نہیں ہوۓ پھر میں نے تم پر بھی جادوں کروا دیا تاکہ علیزے تم سے خود دور ہوجاۓ“

صاٸمہ ساری بات سنانے کے بعد پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

”پلیز سعد اب تو کھول دو مجھے “

”اب میری بات غور سے سنو جس شخص سے تم نے غلط کام کروایا اس کو تم خود پولیس کے حوالے کرو گی تاکہ وہ پھر سے کسی کی زندگی خراب نہ کرسکے “

سعد نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہا

”میں ایسا نہیں کروں گی تمھیں سچ جاننا تھا میں نے بتا دیا“

صاٸمہ نے سعد کی بات کی نفی کی

”ہممم ٹھیک یہ سنو “

سعد نے مسکراتے ہوۓ اپنے موبائل میں ریکارڈینگ چلاٸی صاٸمہ کی ساری باتیں وہ اپنے موبائل میں ریکارٹ کرچکا تھا

”یہ یہ کیوں کیا تم نے ڈیلیٹ کرو اس کو“ صاٸمہ چلاٸی

”چلاٶ جتنا چلانا اس جنگل میں تمھاری آواز سننے والا کوٸی نہیں تم رہو یہی میں چلتا ہوں یہ ریکاڈینگ مجھے پولیس کو بھی دینی ہے“ سعد مسکراتا ہوا آگے بڑھا

”نہیں نہیں سعد مجھے یہاں چھوڑ کر نہیں جاؤ جو تم کہو گے میں وہی کروں گی“

صاٸمہ مان ہی گٸ

”ٹھیک ہے ابھی میرا موڈ نہیں تمھیں آزاد کرنے کا جب موڈ ہوگا آجاٶ گا “

سعد نے دل جلانے والی مسکراہٹ چہرے پر سجاٸی

”نہیں سعد نہیں تم مجھے یہاں چھوڑ کر نہیں جا سکتے پلیز کھولو مجھے “

صاٸمہ نے چیخو پکار شروع کردی

”چیخو چیخو جتنا چلانا ہے یہاں بہت سے جنگلی جانور ہیں جن کو تم دعوت دے رہی ہو“ سعد کہتا ہوا وہاں سے نکل گیا

”سعد پلیز آٸی ایم سوری پلیز سعد میں اب نہیں کروں گی کچھ کبھی علیزے کو تنگ نہیں کروں گی “

صاٸمہ مسلسل رو رہی تھی

لیکن سعد گاڑی اسٹارٹ کرکے جا چکا تھا

صاٸمہ گھنے جنگل میں تنہا رہ گٸ تھی جنگلی جانوروں کی آواز سن کر صاٸمہ کی بولتی بند ہوگٸ تھی

”موم ڈیڈ پلیز آجاٸیں“

صاٸمہ رورو کر دعاٸیں مانگ رہی تھی

سعد گھر پہنچ کر بہت خوش تھا اس نے کھانا کھایا سب سے باتیں کیں پھر کام کا کہہ کر واپس اسی جنگل گیا

صاٸمہ روتے روتے نڈھال ہوچکی تھی سعد دو گھنٹے بعد واپس آیا تھا

صاٸمہ کا سر ایک طرف ڈھلک گیا تھا وہ بے ہوش ہوگٸ تھی

سعد نے پانی سے بھری بوتل صاٸمہ کے چہرے پر ڈال دی

صاٸمہ ہڑبڑا کر ہوش میں آٸی

”کو کون ہے دور ہٹو مجھ سے“

”کوٸی نہیں میں ہوں چلو گھر چھوڑ دوں تمھیں تمھاری عقل ٹھکانے آگٸ ہوگی“

سعد نے رسیاں کھولتے ہوۓ کہا

”ہاں ہاں آگٸ ہے میں اب کبھی کوٸی غلط کام نہیں کروں گی اور اور اس بابا کو بھی پکڑوا دوں گی“

صاٸمہ نے خوف سے کہا

”ہمم گڈ “سعد نے صاٸمہ کا گال تھپتھپایا

صاٸمہ کے پیروں میں شدید درد تھا وہ آہستہ چل رہی تھی

سعد نے گھر سے کچھ دور گاڑی روکی اور صاٸمہ کو اتار دیا

صاٸمہ اپنے گھر چلی گٸ صاٸمہ نے طوبہ کرلی تھی اب کبھی غلط کام نہیں کرے گی

سعد بھی سکون میں آگیا تھا صاٸمہ کو سیدھے راستے پر لاکر

(”ایک سال بعد) “

”علیزے آجاٶ یار کہاں رہ گٸ ہو “

سعد دروازے پر کھڑا علیزے کو پکار رہا تھا علیزے کا آج فرسٹ ایٸر کا رزلٹ آنا تھا وہ سب سے دعائيں وصول کررہی تھی

”ذایان بھاٸی آپ مجھے تو دعا دے گے نہ انیک بھاٸی کے جیسے یہ دعا تو نہیں کرے گے نہ میں فیل ہوجاٶں “

”ارے نہیں میری گڑیا زندگی کے ہر امتحان میں پاس ہو“

ذایان نے علیزے کے لیے دعا کی

”میری بھی دعا ہے میرے بھاٸی کی روٹھی ہوٸی خوشیاں واپس لوٹ آٸیں“

علیزے نے دل میں ہی اپنے ذایان بھاٸی کے لیے دعا مانگی

جس کے چہرے پر تو مسکراہٹ ہوتی تھی لیکن آنکھیں ویران ہوتی تھیں

ذایان ٹھیک تو ہوگیا تھا لیکن وہ پہلے کی طرح شرارتی شوخ چنچل نہیں رہا تھا وہ اب زیادہ بولتا بھی نہیں تھا سنجدہ مزاج ہوگیا تھا

انیک کی بہت اچھی جاب لگ گٸ تھی وہ اسی میں خوش تھا

ردا اور انیک کی بات چیت نہ ہونے کے برابر ہوتی تھی

لیکن ردا کے دل میں اب بھی انیک کی محبت تھی ابھی بھی اسے پانے کی چاہ تھی

ردا کے والدین بھی اب اسے ٹاٸم دیتے تھے وہ بہت خوش تھی

کوثر بیگم اپنے بچوں کی خوشی میںں خوش تھیں لیکن ذایان کو دیکھ کر ان کا دل کٹتا تھا وہ اپنے بچے کو سنجیدہ دیکھنا چاہتی تھیں لیکن اسطرح نہیں .

”چھوڑیں انکل کیا کر رہے ہیں چھوڑیں میرا ہاتھ پلیز انکل “

وہ روتی بلکتی اپنی عزت بچانے کی تقدو کررہی تھی

”رانی بہت عرصے سے موقع کی تلاش میں ہوں تیرے جیسی حسین پری کے لیکن توں ہاتھ آج لگی ہے میرے “

”آنٹی آنٹی انکل کو روکیں دیکھیں یہ کیا کررہے ہیں“

”چھوڑیں پلیز میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں “

”کیا کرہے ہو تم چھوڑو بچی کو دروازہ کھولو “

”توں جاکر سوجا آج میں اس حور پری کے ساتھ مزے کروں گا “

”انکل چھوڑے مجھے “

اس پری پیکر لڑکی نے اپنی پوری قوت سے اپنے سامنے کھڑے ابلیس کو دھکا دیا اور جلدی سے دروازے کا لاک کھول کر باہر نکل گٸ

”میری بچی“

اس کی آنٹی نے اس معصوم کو اپنے مامتا بھرے آنچل میں میں چھپا لیا

”سالی مجھے دھکا دیتی ہے بتاتا ہوں تجھے ابھی میں“

وہ نشے میں دھت آدمی دوبارہ اس معصوم کی طرف بڑھا

”خبر دار تم جو بچی کے قریب بھی آۓ تو “

وہ ڈری سہمی لڑکی اپنی آنٹی کے پیچھے چھپ گٸ تھی

”توں ہٹ سامنے سے آج اسے مجھے خوش کرنا ہوگا یہ یہاں رہتی ہے کھاتی ہے پیتی ہے ہم کرایہ مانگتے ہیں کیا اس سے“

وہ آدمی دوبارہ آگے بڑھا اور اس کا بازوں پکڑ کر زور سے کھینجا

”آنٹی بچالے پلیز مجھے “

”دور ہٹو اس بچی سے “

اس عورت نے اس آدمی کو دھکا دیا اور اس لڑکی کو اپنے پیچھے کھڑا کرلیا

”یہ جاب کرتی ہے خود کماتی ہے اپنا کھاتی ہے یہ اور تمھیں کس بات کا کی پروا تم تو خود میری کماٸی پر عیاشیاں کرتے ہو ہماری بیٹی کی عمر کی ہے یہ لڑکی اس کے بارے میں ایسا سوچنے سے پہلے ہماری بیٹی کا ہی خیال کرلیتے میں اب تم جیسے شخص کو اس گھر میں اور برداشت نہیں کروں گی نکلو میرے گھر سے“

اس عورت نے اس آدمی کو دھکے مار کے گھر سے باہر نکال کر دروازہ بند کردیا

”اے دروازہ کھول توں خود کو سمجھتی کیا ہے کھول دروازہ ابھی بتاتا ہوں میں تجھے کھول“

وہ آدمی اپنی بولتا دروازے پر کھڑا چیخ رہا تھا

”آنٹی مجھے معاف کردیں میری وجہ سے آپ لوگوں کی لڑاٸی ہوگٸ “

”میری بچی رو نہیں توں تیری وجہ سے کچھ نہیں ہوا توں دفع کر وہ واپس آجاۓ گے خود ہی جب نشا اترے گا توں اب ایسا کر اپنے گھر چلی جا تیرے گھر والوں نے تو گھر بھی بدل لیا ہے توں اپنی ماں سے بات کر اور گھر چلی جا اس آدمی کا کوٸی پتا نہیں میری بچی توں چلی جا واپس گھر تیری ماں تجھے سہارا دے گی“

”ٹھیک ہے آنٹی میں واپس گھر چلی جاؤں گی“

”ٹھیک ہے میری بچی میں بٹھا دوں گی تجھے ٹرین میں اب توں سوجا رات بہت ہوگٸ ہے “

”جی آنٹی“ اور پھر وہ سونے لیٹ گٸ

”اَلسَلامُ عَلَيْكُم “

ردا آج علیزے کے گھر سب کو مٹھاٸی کھلانے آٸی تھی کیوں کہ وہ اچھے نمبروں سے پاس ہوگٸ تھی

”وَعَلَيْكُم السَّلَام میری بیٹی تمھیں بہت بہت مبارک ہو “

”شکریہ آنٹی “

”کس بات کی مٹھاٸی کھلاٸی جارہی ہے پرنسیس“

ذایان آفس سے ابھی گھر آیا تھا

”ذایان بھاٸی آپ بھی کھاٸیں مٹھاٸی “

ردا نے ایک گلاب جامن اٹھا کر پورا ذایان کے منہ میں ٹھوس دیا تھا

”مجھے کیا حبشی سمجھ رکھا ہے گلاب جامن ہی پورا منہ میں ٹھوس دیا“

ذایان نے منہ خالی ہوتے ہی ردا کو ڈانٹا

”سوری بھاٸی وہ بس میں بہت خوش ہوں نہ اس لیے میرا رزلٹ بہت اچھا آیا ہے موم ڈیڈ سے بھی ڈانٹ نہیں پڑی اس دفع تو نہیںں تو ہر دفع تو نمبر کم آنے پر ڈانٹ پڑتی تھی “

ردا نے آپبیتی سنائی

”نمبر تو اچھے آنے تھے تمھارے تمھیں ٹیوشن جو سعد بھاٸی نے دیا تھا“

”جی بھاٸی یہ تو آپ سہی کہہ رہے ہیں اتنا سنجیدہ ہوتے تھے وہ مجھے اور علیزے کو پڑھاتے وقت جیسے سچ میں ہمارے ٹیوشن ٹیچر ہو“

”ہممم وہ ایسے ہی پڑھاتے ہیں مجھے اور انیک کو بھی ایسے ہی پڑھاتے تھے“

ذایان نے مسکراتے ہوۓ کہا ”

”ویسے یہ آپ کی بھابی جان نظر نہیں آرہی کہاں ہیں“

ردا نے چاروں طرف نظریں دوڑاٸی

”وہ خوابِ خرگوش کے مزے لیں رہی ہیں“

ذایان نے مسکراتے ہوۓ کہا

”یہ کونسے ٹاٸم کا سونا منا رہی ہے چھے بجے“ ردا نے کلاٸی پر باندھی گھڑی میں ٹاٸم دیکھتے ہوۓ کہا

”ابھی اٹھا کر لاتی ہوں میں اس کو“

ردا بڑبڑاتی ہوٸی علیزے کے روم میں چلی گٸ

”تمھیں پتا ہے میرا دل نہیں کرتا تمھیں کھانے کا کیوں کہ لوگ تمھیں خوشی میں کھاتے ہیں اور میرے پاس خوش رہنے کا کوٸی جواز نہیں میری خوشی تو روٹھ گٸ ہے مجھ سے “

ذایان ٹیبل پر رکھے گلاب جامن کے ڈبے سے مخاطب تھا جو ابھی ردا رکھ کر گٸ تھی

”علیزے علیزے اٹھو یار یہ کوٸی سونے کا وقت ہے کیا اٹھو موٹی بھینس سو سو کر وزن بڑھا لیا ہے تم نے اپنا “

”ردا کے بھینس کہنے پر علیزے کی آنکھیں پٹ سے کھل گٸیں

”تم نے مجھے بھینس کہا کہاں سے بھینس لگ رہی ہوں میں“

”یہ دیکھوں یہاں سے موٹی ہو“

ردا نے علیزے کے پیٹ پر انگلی رکھی

”یہاں سے موٹی ہو تم“

ردا نے علیزے کے ہاتھ پر انگلی رکھی پھر پیروں پر علیزے اب ردا کو کھا چانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی

”روکو تم ابھی بتاتی ہوں“

علیزے ردا کی طرف لپکی ردا علیزے کے ارادے بھانپ گٸ اس لیے جلدی سے بیڈ سے اتر گٸ

”بچو گی نہیں آج تم مجھ سے “

علیزے ردا کے پیچھے بھاگی دونوں پورے کمرے میں دوڑ لگا رہی تھیں اتنے میں کوٸی کمرے میں آیا اور ردا کا اس شخص سے زودار تصادم ہوا

”آٶچ میرا سر“ ردا نے اپنا سر پکڑ لیا

”اندھی ہوکیا دیکھ کے نہیں چل سکتی تم“ انیک کڑے تیور لیے ردا کے سامنے کھڑا تھا

”آپ ہیں ہی بد تمیز کسی کے روم میں آتے ہیں نا تو ناک کرکے آتے ہیں“

ردا کہاں چپ رہنے والی تھی

”میرا گھر ہے یہ میرا جہاں جب جانے کا دل چاہے میں جاؤں گا سمجھی ہٹو اب میرے سامنے سے “

انیک نے ردا کو جھاڑا اور کندھے سے پکڑ کر ساٸیڈ کردیا

”علیزے مما چاۓ کے لیے بولا رہی ہیں اپنی اس چڑیل دوست کو لے کر آجاٶ“

”جی بھاٸی میں فریش ہوکر آتی ہوں“

علیزے واشروم میں گھس گٸ

انیک جانے کے لیے پیچھے مڑا تو ردا نے راستہ روک لیا

”آپ کو شرم آتی ہے اتنی پیاری لڑکی کو چڑیل کہتے ہیں اپنے آپ کو دیکھا ہے آپ نے کوہِ کاف کے جن سے کم نہیں ہیں آپ بھی “

ردا نے بھی حساب برابر کیا

”تم سمجھتی کیا ہو خود کو ہاں تم اپنی ان اداٶں سے مجھ سے لڑائی جھگڑا کرکے مجھے پھنسا لو گی تم جیسی امیر ذادیوں کے پیتروں سے میں اچھی طرح واقف ہوں تم لوگ اپنے شوق کے لیے اچھے لڑکے پھنساتی ہو جب اس سے بھی اچھا لڑکا مل جاۓ تو تم پہلے والے لڑکے کو اپنی زندگی سے نکال باہر کرتی ہو شرم نہیں آتی تم لوگوں کو یہ سب کرتے ہوۓ محبت کے نام پر دھوکا دیتے ہوۓ اس دن جو تم نے میرا لیٹر پڑھ کر کس کیا تھا اس پر میں اسی دن ہی سمجھ گیا تھا تمھارا یہاں آنے کا مقصد سعد بھاٸی اور ذایان بھاٸی نے تو تمھیں بہن بنا لیا تھا وہاں تو تمھارے چانسس بنتے نہیں تھے تو تم میرے پیچھے پڑھ گٸں کیوں سہی کہہ رہا ہوں نہ میں یہی بات ہے نہ“

انیک نے اپنے جذبات چھپانے کے لیے ردا کے جذبات پیروں تلے روند دیے

انیک کچھ دنوں سے ڈسٹرب تھا کیوں کہ ردا نے انیک سے بات چیت کرنا لڑائی جھگڑا کرنا بلکل ختم کردیا تھا وہ اس کے سامنے کم ہی آتی تھی اور اس کے گھر پر آتے ہی وہ چلی جاتی تھی ردا کا ناراض ناراض سا رویہ انیک کو بلکل اچھا نہیں لگ رہا تھا وہ اپنے دل کی حالت خود نہیں سمجھ پارہا تھا

ردا کا چہرا آنسوٶں سے تر ہوگیا تھا انیک کو بہت تکلیف ہوٸی اس کے آنسو دیکھ کر لیکن وہ بولا کچھ نہیں

”ہاں کرتی ہوں میں آپ سے محبت لیکن ویسی نہیں جیسی آپ سوچتے ہیں سچی محبت کرتی ہوں میں آپ سے میری محبت کا میرا خدا گواہ ہے ہر نماز میں رو رو کر مانگتی ہوں اس خدا سے میں آپ کو اور یہ محبت مجھے آپ سے تب سے ہے جب میں آپ کو جانتی بھی نہیں تھی میں نے آپ کو ایک دن صبح کالج جاتے ہوۓ آٸسکریم پالر میں ہنستے ہوۓ دیکھا تھا میں نے اس وقت آپ کی پکز بھی لیں تھیں اس دن کے بعد اس آٸسکریم پالر کتنی دفع گٸ لیکن آپ مجھے نہیں ملے اس کے بعد میری علیزے سے دوستی ہوٸی میں اس کے ساتھ آپ کے گھر آٸی اس دن آپ بیمار تھے جب میں نے دیکھا آپ کو میں آپ سے یہ نہیں کہتی میری محبت کے بدلے آپ بھی مجھ سے محبت کریں لیکن عزت تو کر ہی سکتے ہیں نہ میری اور میری محبت کی“

ردا خاموش ہوگٸ لیکن اس کی آنکھیں

ابھی بھی اشک بہارہیں تھیں وہ روتے روتے ہوۓ وہی زمین پر بیٹھ گٸ اور گردن جھکاۓ بے آواز رو رہی تھیں آج انیک نے اس کی محبت کی بہت تذلیل کی تھی

”آٸی ایم سوری غصے میں جانے کیا کیا بول گیا تمھیں پلیز مجھے معاف کردو“

انیک ردا کی باتیں سن کر شرمندہ ہوگیا تھا اسے اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تھا

انیک بھی ردا کے ساتھ زمین پر بیٹھ گیا تھا

ردا ابھی بھی سر جھکاۓ رو رہی تھی ”

”ردا پلیز مجھے معاف کردو میں جانتا ہوں میری باتوں سے تمھارا بہت دل دکھا ہے میں بہت پہلے سمجھ گیا تھا تم مجھ سے محبت کرتی ہو اس لیے میں تمہیں خود سے دور کرتا رہا میں محبت کے ”م “سے واقف نہیں ہونا چاہتا تھا میں نے اپنے دونوں بھاٸیوں کا حال دیکھا سعد بھاٸی نے مما کی مرضی سے شادی کی وہ خوش ہیں ذایان بھاٸی نے محبت کی ان کا حال تم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہو بس میں محبت کے انجام سے ڈرتا ہوں پلیز تم مجھے بھول جاؤ میری مما جہاں کہیں گی میں وہی شادی کروں گا اور اسی سے محبت کروں گا پلیز ردا بھول جاؤ مجھے پلیز“

انیک نے ردا کے آگے ہاتھ جوڑ دیے

”یہ نا ممکن ہے اور مجھے اپنی محبت اور اس خدا پر پورا یقین ہے وہ اپنے کسی سوالی کو اپنے در سے خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا مجھے انتظار رہے گا ہمیشہ آپ کا“

ردا نے اپنے آنسو صاف کیے اور اٹھ کر کھڑی ہوگٸ

انیک بنا کوٸی جواب دیے روم سے باہر نکل گیا

علیزے واشروم سے نکلی تو ردا کو اپنا انتظار کرتا پایا

”علیزے آگٸیں تم چلو چاۓ پیتے ہیں“

ردا زبردستی مسکراٸی

ردا کی آنکھیں اور ناک لال ہورہی تھی

”کیا ہوا ردا تم ٹھیک ہو“

علیزے نے فکرمندی سے پوچھا

”ہاں میں ٹھیک ہوں بس تھوڑا سر میں درد ہے چاۓ پی کر بس گھر جاکر آرام کروں گی “

”ہمم ٹھیک ہے چلو “

وہ دونوں روم سے باہر چلی گٸیں

”اے اللہ میری مدد فرما میں تھک گٸ ہوں بھاگتے بھاگتے اپنا آپ چھپاتے چھپاتے ان وحشی درندوں سے میں آخر کب تک بھاگتی رہوں کیا کوٸی نیک مرد میرے نصیب میں نہیں ہے اگر نہیں ہے تو مجھ پر اتنا رحم کردے مجھے عزت کی موت نصیب فرمانا “

وہ جاۓ نماز پر خدا کے حضور خود کے لیے دعاگو تھی

اس کی آنٹی نے ٹرین کے ٹکٹ کروادیے تھے جو ایک دن بعد کے ملے تھے

”کیوں انیک کیوں میرا پیار تمھیں نظر نہیں آتا کیوں کرتے ہو میرے ساتھ ایسا “

ردا اپنے کمرے کی چیز تباہ کرنے کے در پے تھی

اس کی آنکھیں رو رو کے لال ہوگٸں تھیں وہ جب سے انیک سے بات کرکے آٸی تھی ایسے ہی کمرے میں بند تھی اس کی موم بھی آٸی تو اس نے کہہ دیا میں اپنا کالج کا اساٸیمنڈ بنا رہی ہوں کوٸی مجھے تنگ نہ کرے

”میں کیا کروں ردا میں نہیں چاہتا ہمارا حال بھی ذایان اور دعا جیسا ہو تمھاری محبت کو میں پہلے جان گیا تھا لیکن پھر بھی دور بھاگتا رہا لیکن جب مقابل کی محبت اتنی سچی پاک ہو کہ اسے نظر انداز کرنا مشکل ہوجاۓ تو محبت خود ہی ہوجاتی ہے اور مجھے بھی تم سے ہوگٸ تمھارے غصے تمھارے جھگڑوں سے تمھاری بیوقوں والی حرکتوں سے تمھاری ناراضگی سے “

انیک روم میں لیٹا اپنی سوچوں میں ردا سے ہمکلام تھا

”سعد “

”جی میری جان “

”مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے“

”ہمہمم کرو میں اپنی جان کی باتیں سننےکے لیے تو ہوں یہاں“

سعد نے شریر سے لیجے میں کہا

”سعد دیکھیں آپ ہر وقت مذاق نہیں کیا کریں سنجیدہ ہوجاٸیں بلکل بہت ضروری بات کرنی ہے مجھے آپ سے “

”اچھا بولو کیا ہوا “

سعد بھی سنجیدہ ہوگیا

”وہ مجھے انیک بھاٸی کے بارے میں بات کرنی ہے “

علیزے نے ہجکچاتے ہوۓ کہا

”انیک کے بارے میں اس نے پھر کوٸی شرارت کی تمھارے ساتھ بتاٶ مجھے کیا کیا اس نے“ سعد نے سختی سے پوچھا

”نہیں نہیں سعد انہوں نے کچھ نہیں کیا وہ اصل میں “

”اففف علیزے کیا ہوا اتنا سسپینس کرٸیٹ کر رہی ہو “سعد کا صبر ٹوٹا

”وہ میں سوچ رہی تھی کہ اگر ہم انیک بھاٸی اور ردا کی شادی“

”اوہ بیگم خدا کو مانو اس گھر کو مجھے جنگ کا میدان نہیں بنوانا ہر وقت لڑتے رہتے ہیں وہ دونوں“

سعد نے علیزے کی بات بھی پوری نہیں ہونے دی اور اپنی بات کہہ ڈالی

”سعد یہ لڑائی سب دیکھاوے کی ہے اصل میں تو یہ محبت ہے ان کی“

علیزے نے سنجیدگی سے جواب دیا

”ردا اور انیک محبت“

سعد پیٹ پکڑ ہنسنے لگا

”سعد آپ ہنس رہے ہیں میں سچ کہہ رہی ہوں“

”سنے نہ سعد“

”جاٸیں ہنستے رہیں آپ میں مما سے بات کرنے جارہی ہوں“

علیزے منہ پھلاۓ بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوٸی ابھی دروازے کے پاس پہنچی تھی کہ سعد سامنے آکھڑا ہوا

”تمھیں اتنا یقین کیوں ہے“

سعد سینے پر ہاتھ باندھے سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا

”کیوں کہ میں نے ان دونوں کی باتیں سنی ہیں آج شام کو جب ردا آٸی تھی وہ مجھے اٹھانے میرے روم میں آگٸ تھی پھر انیک بھاٸی بھی ہمیں چاۓ کے لیے بولانے آگۓ میں فریش ہونے واشروم میں چلی گٸ اور پھر میں نے ان دونوں کی ساری باتیں سن لیں “

”اور انھوں نے ایسی کیا باتیں کی کہ تمھیں یقین ہوگیا وہ دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہیں“

سعد ابھی بھی سنجیدہ تھا

”کیا ہم بیٹھ کر بات کرسکتے ہیں“

علیزے نے سعد سے نظریں ملاتے ہوۓ کہا

ٹھیک ہے سعد ہلکا سا مسکرایا

”چلو بولو اب کیا سنا تم نے“

سعد علیزے بیڈ پر بیٹھے تھے

علیزے نے انیک اور ردا کے بیچ ہوٸی ساری بات چیت سعد کے غوش گزار کردی

”جب ہی وہ دونوں چاۓ پیتے وقت اتنے گم صم تھے اور ردا تو چاۓ پیتے ہی چلی گٸ تھی“ سعد کو بات سمجھ آٸی تھی

”تو بھر اس بارے میں مجھے پہلے انیک سے بات کرنی چاہیے نہ کیوں کہ ان دونوں کےبیچ جو بھی بات ہوٸی اس سے تو پتا ہی نہیں چلتا کہ انیک کے دل میں کیا ہے“

”نہیں انیک بھاٸی سے نہیں مما سے بات کریں انیک بھاٸی جب ہی راضی ہوگے جب مما راضی ہونگی اور ردا تو محبت کرتی ہے نہ انیک بھاٸی سے آپ اپنی بہن کی خوشی کاہی خیال کرلے انیک بھاٸی بھی کرتے ہیں محبت ردا سے بس وہ ذایان بھاٸی کا حال دیکھ کر ڈرے ہوۓہیں کہی وہ محبت کریں اور ان کے ساتھ بھی ویسا ہی ہوا تو وہ کیاکرے گے “

”یار علیزے تم میرے ساتھ رہ کر کتنی سمجھدار ہوگٸ ہو“

سعد نے علیزے کی اتنی سمجھداری کی باتیں سنی تو حیران ہی رہ گیا

”ہاں تو نہیں ہونا چاہیے تھا کیا “

علیزے نے کڑے تیوروں سے کہا

”لیکن پھر ابھی میرے جتنی سمجھدار نہیں ہوٸی ہو تم “

سعد معنی خیزی سے کہتا علیزے کی کمر میں ہاتھ ڈال گیا تھا

”سعد چھیچور پاٸی نہیں کریں مجھے بتائيں اب ہم کیا کریں گے“

علیزے نے سعد کے رومینس کا گلا گھونٹا

”سب کی فکر ہے تھیں میری فکر نہیں ہے کتنے دن ہوگۓ میں نے میٹھا بھی نہیں کھایا “

سعد نے چھوٹے بچوں کی طرح شکایت کی

”سعد جھوٹ مت بولیں پرسوں رات کو آپ نے سزا دینے کے نام پر اپنا منہ اچھی طرح میٹھا کیا تھا“

علیزے کو عادت ہوگٸ تھی سعد کی ان حرکتوں کی اس لیے اب وہ زیادہ شرماتی نہیں تھی

”آج منہ میٹھا کروادوں گی تو کیا ہوجاۓ گا“ سعد نے فرماٸش کی

”افففف سعد میں کتنی سیریس بات کررہی ہوں اور آپ ہیں کہ ہر بات مذاق میں لے جاتے ہیں “علیزے چڑ گٸ تھی