Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rishte Mohabat Ke Episode 8

Rishte Mohabat Ke by Misbah Khalid

ردا اور علیزے کی دوستی بھی پکی ہوگٸ تھی دونوں ایک دوسرے کی بیسٹ فرینڈ بن گٸ تھیں ردا سعد کی سچ کی ہی بہن بن گٸ تھی

سعد بھی ردا کو دل سے بہن مانتا تھا ردا ایک دو دفع علیزے کے گھر بھی آٸی تھی ردا کوثر بیگم کو بھی بہت اچھی لگی تھی وہ اس کو علیزے جیسا ہی سمجھتی تھیں ردا کی ملاقات ابھی تک ذایان انیک سے نہیں ہوٸی تھی کیوں کہ ردا شام ہونے سے پہلے اپنے گھر چلی جایا کرتی تھی ردا بھی یہ محبت کے رشتے پاکر بہت خوش تھی

ایک نۓ دن کا آغاز ہوچکا کوثر بیگم جن گڑیا شیطان سب ڈانینگ ٹیبل پر آچکے تھے صرف ایک شیطان کی کمی تھی وہ تھا انیک

”مما انیک کہاں ہے ناشتہ نہیں کرنا اسے“

سعد نے انیک کے بارے میں کوثر بیگم سے پوچھا

”بیٹا اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے بخار ہورہا ہے اس کو سر میں بھی درد ہے “

”اوہ مما آپ مجھے اب بتارہی ہیں میں اس کو دوا دلا لاتا ہوں“

سعد نے اٹھتے ہوۓ کہا

”بیٹا وہ ٹھیک ہے تم پریشان نہیں ہو میں نے دوا دی ہے اس کو شام تک ٹھیک ہوجاۓ گا“ کوثر بیگم نے سعد کو ناشتہ چھوڑتے دیکھ جلدی سے کہا

”اچھا مما اگر کوٸی مسلٸہ ہو تو آپ مجھے کال کردینا “سعد نے بیٹھتے ہوۓ کہا

”ہاں بیٹا ٹھیک ہے تم ناشتہ کرو “

”ارے بھاٸی زیادہ فکر نہیں کریں اس کی بہانے کر رہا ہو گا چھٹی کے چکر میں “

ذایان نے مسکراتے ہوۓ کہا

”ذایان بھاٸی کتنی بری بات ہے انیک بھاٸی بیمار ہیں اور آپ ایسی باتیں کررہے ہیں“ علیزے نے ذایان کو غصہ دیکھایا

”میری چھوٹی سی بھابی کو بھی غصہ آتا ہے کیا میں تو مذاق کررہا تھا “

ذایان نے علیزے کی ناک پکڑتے ہوۓ کہا

”سعد دیکھیں نہ تنگ کررہے ہیں یہ “

علیزے سے کچھ نہ ہوا تو سعد کو بیچ میں گھسیٹا

”تم خود پنگے لیا کرو پھر مجھے آگے کر دیا کرو “ سعد نے سنجیدگی سے کہا علیزے کا منہ اتر گیا

”اور تم “

سعد نے اب اپنا رخ ذایان کی طرف کیا

”تمھیں میری چھوٹی سی بیوی کو تنگ کرنے کے لیے اس کی چھوٹی سی ناک ہی دیکھتی ہے اس کی کمر پر جھولتے بڑے بڑے بال نظر نہیں آتے یہ پکڑا کرو نہ“

سعد نے آخری بات ہنستے ہنستے بولی

ذایان جو خاموشی سے ڈانٹ سن رہا تھا سعد کی آخری بات پر ہنسنے لگا

” اوکے بھاٸی اب یہ ہی کروں گا میں“

ذایان نے ہنستے ہوۓ کہا

”آپ ان کو ڈانٹ رہے ہیں یا ان کو طریقے بتارہے ہیں مجھے تنگ کرنے کے “

علیزے نے کڑے تیوروں سے سعد کو دیکھا

جبکہ سعد ذایان اپنی ہنسی روکنے کی کوشش کررہے تھے

”اچھا اچھا اب بس کرو تم لوگ تم دونوں کو دیر نہیں ہورہی آفس کے لیے “

کوثر بیگم نے سعد ذایان کو گھورا

دونوں اپنی ہنسی کو بریک لگا کر ناشتہ کرنے میں مصروف ہوگۓ

علیزے بھی اپنے ناشتے پر جھک

تینوں ہنستے کھیلتے گھر سے رخصت ہوۓ اور اپنے اپنے کاموں پر چلے گۓ

”علیزے آج میں تمھارے ساتھ گھر چلوں گی“ ردا نے کالج کے دروازے سے باہر نکلتے ہوۓ کہا

”واٶ مزا آۓ گا آج مما مجھے سوجی کا حلوہ بنانا سیکھاٸیں گی تم بھی سیکھ لینا“

علیزے نے خوش ہوتےہوۓ کہا

”واہ مزا آۓ گا “

دونوں کو ہی کھانا بنانے کا بہت شوق تھا کوثر بیگم دونوں کو کچھ نہ کچھ بنانا سیکھاتی رہتی تھیں

ردا نے اپنے ڈراٸیور کو گھر بھیج دیا اور سعد کی گاڑی میں بیٹھ گٸ

”ارے آج ہماری گڑیا بھی چل رہی ہے کیا “

سعد نے ردا کو کار میں دیکھا تو پیار سے پوچھا

”جی بھاٸی آج ہمیں سوجی کا حلوہ بنانا سیکھاٸیں گی آنٹی “

ردا نے خوشی سے کہا

”اوہ واہ سوجی کا حلوہ تو میرا فیورٹ ہے آج تو علیزے مجھے اپنے ہاتھوں سے حلوہ کھلاٸیں گی اپنے ہاتھ کا “

علیزے کو دیکھتے ہوۓ سعد نے شرارت سے کہا

”ہر وقت چھیچور پاٸی مت کیا کریں گھر چلیں “

علیزے نے سعد کی نظریں بدلتی ہوٸی دیکھی تو چڑ کر جواب دیا

”ردا دیکھوں اس سے میں کتنی محبت کرتا ہوں اور یہ میری محبت کو چھیچور پاٸی کا نام دیتی ہے دوسری شادی کرنی ہی پڑے گی“ سعد نے پرسوچ انداز میں کہا

”ہاں تو کرلیں مجھے کیا“

علیزے نے گردن اکڑا کر کہا

ردا اپنی ہنسی ضبط کرتی رہی دونوں پورے راستے اسی طرح لڑ رہے تھے

”ردا وہ دیکھوں سامنے آٸسکریم پارلر ابھی دیکھنا آٸسکریم کھانے روک جاٸیں گے یہ“ علیزے نے ردا کے کان میں سرگوشی کی

ردا کچھ جواب دیتی اس سے پہلے سعد کی آواز آگٸ

”گلز آٸسکریم کھاٶ گی “

سعد کی بات پر دونوں ہنس دیں

”کیا ہوا میں نے کوٸی لطیفہ تو نہیں سنایا“ سعد نے حیرانگی سے کہا

”ہم آٸسکریم کھاٸیں نہ کھاٸیں سعد آپ تو کھاٸیں گے نہ“

علیزے نے ہنستے ہنستے کہا

”ہاں بھٸ میں تو ضرور کھاٶں گا اس لیے تم دونوں بیٹھی رہو میں تو جارہا ہوں“

سعد نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوۓ کہا

”ارے روکیں ہم بھی چل رہے ہیں “

ردا علیزے نے ایک ساتھ بولا

اب سعد کا قہقہ بلند ہوا تھا

” آجاٶ پھر “

تینوں ہنستے کھیلتے آٸسکریم پارلر میں چلے گۓ

آٸسکریم کھا کر گھر کی طرف روانہ ہوگۓ

”بچوں تم لوگ آگۓ علیزے بیٹا سعد کو بلاٶ جلدی سے انیک کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے“

کوثر بیگم کے چہرے سے ان کی پریشانی کا اندازہ ہورہا تھا

”سعد روک جاٸیں“

علیزے نے سعد کو آواز دی جو کار موڑ رہا تھا

علیزے کی آواز پر روک گیا کیا ہوا علیزے سعد نے کار میں بیٹھے بیٹھے آواز لگاٸی

”وہ مما کہہ رہی ہیں انیک بھاٸی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے آپ کو بلا رہی ہیں“

”اچھا گھر میں چلو تم میں آتا ہوں “

سعد نے علیزے کو گھر بھیجا خود گاڑی پارک کرکے گھر میں آگیا

”مما کیا ہو گیا ہے چھوٹے کو“

سعد نے پریشان ماں سے پوچھا

”بیٹا اس کو الٹیاں ہورہی ہیں کچھ بھی نہیں کھایا جارہا اس سے پورے جسم میں درد ہورہا ہے اس کے “

کوثر بیگم نے سعد کو انیک کی حالت سے آگاہ کیا

”مما آپ پریشان نہیں ہو ہم ابھی انیک کو ہاسپٹل لے کر چلتے ہیں“

سعد نے انیک کے کمرے کی طرف جاتے ہوۓ کہا

”مما آپ پریشان نہیں ہو انیک بھاٸی ٹھیک ہوجاٸیں گے“

علیزے نے کوثربیگم کو دلاسا دیا

ردا خاموش کھڑی سب کو انیک کے لیے پریشان ہوتے ہوۓ دیکھ رہی تھی کیونکہ اس ک گھر میں تو ایسا ہوتا ہی نہیں تھا

جب وہ بیمار پڑتی تھی تو اس کے موم ڈیڈ آفس جانے سے پہلے اس کی خیریت پوچھ لیا کرتے تھے اور دواٸی کھلا دیا کرتے تھے اور رات میں آتے تو ایک دفع اور یہ ہی کام کرلیتے تھے

یہاں تو سعد کو یہ بھی ہوش نہیں تھا کہ آفس کے لیے لیٹ ہورہا ہے علیزے کالج سے تھکی ہوٸی آٸی لیکن اس کو بھی اپنا ہوش نہیں تھا

”کیا ہوا میرے چھوٹے شیطان کو “

سعد نے روم میں جاتے ہی انیک سے پوچھا

”کچھ نہیں بھاٸی میں ٹھیک ہوں مما ایسے ہی پریشان ہورہی ہیں “

انیک نے مندی مندی آنکھیں کھول کر کہا

”ہاں مجھے دیکھ رہا ہے تم ٹھیک ہو چلو اٹھو ہاسپٹل لے کر چلوں“

سعد نے انیک کے اوپر سے کمبل ہٹاتے ہوۓ کہا

”بھاٸی میں ٹھیک ہوں“

انیک نے تھکے ہوۓ انداز میں کہا

”انیک میں نےکہا نا چلو تو بس چلو بحث نہیں کرو “

سعد نے انیک کو آرام سے اٹھایا اور کندھے سے تھام کر اپنے ساتھ چلانے لگا

”بھاٸی یہ کیا ہوگیا آپ کو“

علیزے نے بیماری میں جکڑے انیک کو دیکھا

جس کا چہرا پیلا ہوگیا تھا آنکھیں بھی لال ہورہی تھیں بال تو اس نے بناۓ ہی نہیں تھے آج وہ بہت بیمار معلوم ہورہا تھا

”گڑیا پریشان نہیں ہو میری جان میں ٹھیک ہوں“

انیک نے علیزے کو دلاسا دیا جو رونے کو تیار کھڑی تھی

”مما چلیں آپ میرے ساتھ اس سے بیٹھا بھی نہیں جارہا آپ پکڑ کر بیٹھیے گا“

سعد نے پریشان کھڑی کوثر بیگم کو کہا

”ہممم چلو “

”تم دونوں گیٹ لاک کر لو اور جب تک ہم نہ آٸیں دروازہ نہیں کھولنا “

سعد نے علیزے ردا کو تنبیہ کی

دونوں کا سن کر انیک نے گردن اٹھا کر دیکھا تو سامنے ہی ردا کھڑی تھی جو مسلسل انیک کو ہی دیکھ رہی تھی انیک نے اس کو دیکھا تب بھی ردا نے نظریں نہیں جھکاٸیں

انیک اس کی نظروں سے چڑ گیا

”چلیں بھاٸی“ انیک نے سعد کو کہا

”ہمم چلو “

علیزے ان کو دروازے تک چھوڑنے چلی گٸ

ردا جلدی سے صوفے پر بیٹھ گٸ بیگ سے اپنا موبائل نکالا اور موبائل میں کچھ ڈھونڈنے لگی

”یس یہ وہ ہی ہے مجھے مل گۓ تم مجھے مل گۓ “ردا نے خوش ہوتے ہوۓ کہا

”کون مل گیا تمھیں“

علیزے نے ردا کو کہتے سنا تو پوچھا

ردا نے موبائل کو دیکھا پھر سامنے کھڑی علیزے کو جو ردا کے جواب کا انتظار کررہی تھی

”وہ وہ میں سمجھی تھی میں موبائل کالج میں بھول آٸی پر یہ تو میرے بیگ میں ہی تھا“ ردا نے جھوٹ کا سہارا لیا

”اوہ اچھا تم بیٹھو میں چینج کرکے آتی ہوں“ علیزے کہہ کر اپنے روم میں چلی گٸ

”تو تمھارا نام انیک ہے مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا تم میرے اتنے قریب ہو وہ کہتے ہیں نہ بگل میں چھورا شہر میں ڈھینڈورا میرے ساتھ بھی یہ ہی ہوا“

ردا اپنے موبائل میں موجود انیک کی تصویر سے باتیں کررہی تھی یہ وہ ہی تصویرتھی جو اس نے آٸسکریم پارلر میں کھینچی تھی جب ٹریفک کی وجہ سے ڈراٸیور نے گاڑی آٸسکریم پارلر کے سامنے روک دی تھی

کچھ دیر میں علیزے بھی آگٸ ردا نے موباٸل واپس بیگ میں رکھ دیا اور علیزے سے باتوں میں لگ گٸ

تھوڑی دیر بعد سعد کوثر بیگم اور انیک کو چھوڑ کر آفس چلا گیا انیک کو ٹاٸفاٸیڈ تھا کوثر بیگم نے انیک کو دواٸی کھلا کر سلا دیا تھا

”علیزے کیا ہوا ہے تمھارے بھاٸی کو “

ردا نے علیزے سے پوچھا جو ابھی کوثر بیگم سے انیک کے متعلق پوچھ کے آٸی تھی

”ٹاٸیفاٸیڈ ہے بھاٸی کو“

علیزے نے افسردگی سے کہا

”کوٸی بات نہیں ٹھیک ہو جاٸیں گے وہ تم اداس نہیں ہو“

ردا نے علیزے کو دلاسا دیا

ردا کا تو دل چاہ رہا تھا وہ ابھی جاۓ اور انیک کی خوب خدمت کرے تاکہ وہ جلد صحت یاب ہوجاۓ اور ردا پھر سے اس کو ہنستا مسکراتا دیکھے جیسے اس نے پہلی بار دیکھا تھا اس کو لیکن وہ ایسا نہیں کرسکتی تھی

”آٶ بچیوں کھانا کھا لو“

کوثر بیگم کی آواز پر ردا اپنے خیالی پلاٶ سے نکلی

کھانا کھانے کے بعد ردا اپنے گھر چلی گٸ علیزے انیک کے روم میں آگٸ جہاں کوثر بیگم انیک کو کھیچڑی کھلانے کی کوشش کررہی تھیں

”اَلسَلامُ عَلَيْكُم“

دعا نے گھر میں آتے ہی سلام کیا

”وَعَلَيْكُم السَّلَام دعا جی آج دیر ہوگٸ آپ کو آنے میں “

عاسم نے خباثت سے دعا کے نازک سے سراپے کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا

دعا نے خود کو کالی چادر سے چھپایا ہوا تھا لیکن پھر بھی اس کو عاسم کی نظریں اپنے اندر تک محسوس ہورہیں تھیں

”میں آپ کو جواب دینے کی پابند نہیں رستہ چھوڑیں میرا “

دعا نے غصے سے کہا

”ہممم غصہ کیوں کرتی ہو اتنا دعا یہ تمھارے مستقبل میں تمھیں مشکل میں ڈال سکتا ہے“ عاسم نے مسکراتے ہوۓ دعا کو وارن کیا

”اس بکواس کا کیا مطلب “

دعا نے ناسمجھی سے پوچھا

”مطلب بھی سمجھ آجاۓ گا جلدی کیا ہے ڈیٸر“ عاسم نے خباثت سے کہا

”ہٹو میرے راستے سے “

دعا عاسم کو دھکیلتی بھاگتے ہوۓ اپنے کمرے میں آگٸ

”آری کیا ہوا اتنی بھاگی بھاگی کہاں سے آرہی ہے “

دعا سیدھی اپنی اور اپنی ماں کے مشترکہ کمرے میں گٸ تھی رفعت بیگم (دعا کی ماں) نے دعا کو دیکھا تو فوراً سوال پوچھا

”امی وہ علیظ آدمی آۓ دن ہمارے گھر کیوں چلا آتا ہے نفرت ہے مجھے اس انسان سے کوٸی کچھ کہتا کیوں نہیں اس کو“

دعا کی آنکھوں میں نمی آگٸ تھی

”اری آہستہ بول تیری بھابی نے اپنے بھاٸی کی براٸی سن لی تو ابھی لڑنے آجاۓ گی“

رفعت بیگم نے دعا کو آگاہ کیا

”امی وہ شخص اچھا نہیں ہے اس کی موجودگی میں میں خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہوں“

دعا نے رندھی ہوٸی آواز میں کہا

”نہیں میری بچی روتے نہیں بس کوٸی اچھا رشتے کی منتطر ہوں میں جیسے ہی کوٸی مناسب رشتہ ملا میں تیرے فرض سے سبکدوش ہوجاٶں گی“

رفعت بیگم نے دعا کا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں لے کر کہا

”امی اس بوسیدہ مکان میں کون سا اچھا رشتہ آۓ گا میرے لیے لوگ رشتہ کرنے سے پہلے مکان اور پیسہ دیکھتے ہیں دونوں ہی سے ہمارا دور دور تک کوٸی ناطا نہیں“

دعا نے اپنے زخمی دل کی بات کہی

”نہیں میری بچی مایوسی کفر ہے ایسے نہیں بولتے دیکھیو توں تیرے لیے شہزادہ آۓ گا گورا لمبا چوڑا حسن وجاہت سے بھرپور نوجوان آۓ گا تیری زندگی میں اور تمجھے اپنی شہزادی بنا کر لے جاۓ گا“

”ہاں یہ کوٸی حور پری ہے نہ اس کے لیے شہزادہ آۓ گا بی بی زیادہ خوش فہمی نہ پالو تمھارے نصیب میں بھی کوٸی سبزی والا یا رکشے والا ہوگا اب اٹھو کچن میں آکر روٹیاں بناٶ میں نے ٹھیکا نہیں لے رکھا سب کی خدمتیں کرنے کا “

سمرین (دعا کی بھابی) رفعت بیگم کا لحاظ کیے بنا اپنی کہہ کر تن فن کرتی چلی گٸ

”دعا جب 15 سال کی تھی تو دعا کے بابا کی ایک کار ایکسیڈینڈ میں ڈیتھ ہوگٸ تھی اس کے بعد گھر کی ساری ذمہ داری دعا کے 22 سالہ بھاٸی فیض پر آگٸ تھی فیض نے انٹر کیا ہوا تھا کوٸی اچھی جاب تو ملنےسے رہی

رفعت بیگم نے اپنی جمع کونجی لگا کر فیض کو رکشہ دلا دیا فیض رکشہ چلانے میں ہی خوش تھا فیض جو بھی کما کر لاتا ماں کے ہاتھ میں رکھتا کچھ پیسے اپنی ضرورت کے لیے رکھ لیتا فیض اپنی بہن دعا کا بہت خیال رکھتا تھا خود تو اس کو پڑھنے کا شوق نہیں تھا لیکن اپنی بہن کو پڑھانے کا بہت شوق تھا

دعا کو بھی پڑھنے کا شوق تھا جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ پڑھاٸی میں اچھے نمبر لاتی تھی ان کی زندگی بہت اچھی گزر رہی تھی جب ایک دن ان کے محلے میں سمرین اپنے والدین اور ایک بھاٸی کے ساتھ آٸی پروین بہت ہی چالاک اور چالباز لڑکی تھی لڑکوں کو پھنسانا اس کا باٸیں ہاتھ کا کھیل تھا عاسم کچھ کم نہیں تھا ایسے تو وہ بہت اچھا بنتا لیکن جہاں اکیلی خوبصورت لڑکی دیکھتا وہی اس کی نیت خراب ہوجاتی شراب جوا سیگریٹ ہر بری عادت عاسم نے اپناٸی تھی

سمرین اپنی چھت پر کپڑے سکھا رہی تھی اس کی نظر اپنی چھت سے کچھ دور والی چھت بر پڑی وہاں ایک خوبروں نوجوان کھڑا تھا

وہ بنیان اور ٹاٶذر میں ملبوس تھا پروین اوپر سے نیچے تک اس کا ایکسرے کررہی تھی بادامی رنگت سیاہ بال کسرتی بازوں سیاہ بالوں میں چھپا چوڑا سینا دراز قد پروین وہی اپنا دل ہار بیٹھی

” ہاۓ کتنا سوہنا مونڈا ہے“

سمرین اپنے دل پر ہاتھ رکھے خود کلامی کررہی تھی

جب ہی اس لڑکے کی نظر کچھ دور چھت پر کھڑی لڑکی پر پڑی گوری رنگت سیاہ بال جسے اسٹاٸل سے بنایا گیا تھا سرخ کلر کی ہاف آستین کی قمیض سے اس کے گورے ہاتھ جھانکتے خوبصورت لگ رہے تھے ناخون پر سرخ نیل پینٹ لگا تھا جو ہاتھوں کی خوبصورتی میں اضافہ کررہا تھا وہ مبہوث سا اسے دیکھتا رہا

”سمرین کہاں رہ گٸ “

اپنی ماں کی آواز سمرین ہوش میں آٸی سامنے نظر پڑی تو وہ لڑکا سمرین کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا سمرین بھی اس کی طرف مسکراہٹ اچھالتی نیچے بھاگ گٸ

فیض نیچے آیا اور اپنی ماں کو سمرین کے گھر رشتہ لے جانے کا کہنے لگا

رفعت بیگم خوشی خوشی راضی ہوگٸیں ہر ماں کا خواب ہوتا ہے اپنے بیٹے کو دلہا بنتا دیکھنا تو وہ کیوں نہ مانتیں اپنے پیارے بیٹے کی بات اسی لیے چٹ منگنی پٹ بیاہ ہوگٸ اور سمرین فیض کی زندگی میں شامل ہوگٸ

سمرین نے اپنی خوبصورتی اور اپنے شیطانی دماغ کا بھر پور استعمال کیا اور فیض کو پوری طرح اپنے قابوں میں لر لیا

فیض کے سامنے تو وہ دعا اور رفعت بیگم سے بہت اچھی طرح پیش آتی اور فیض کے جاتے ہی سارے ادب لحاظ بلاۓ طاق رکھ دیتی

دعا یا رفعت بیگم سمرین کی بدلحاظی کا کبھی فیض سے کہہ دیتی تو سمرین ایسی بات کھماتی سارا قصور دعا اور رفعت بیگم کا نظر آتا سمرین کے آنے سے رفعت بیگم اور دعا کی زندگی بہت مشکل ہوگٸ تھی

سمرین نے فیض کے دل میں اتنی بدگمانیاں بھر دی تھی کہ اب وہ اپنی ماں بہن کی ضروت تک پوری کرنا ضروری نہیں سمجھتا تھا

گھر میں جو بھی پیسے آتے سمرین کے پاس ہوتے وہ اپنی مرضی سے گھر کا نظام چلاتی جس میں رفعت بیگم اور دعا کا کوٸی حصہ نہ ہوتا

دعا نے تھک ہار کے ایک اسکول میں جاب کر لی

شام میں ٹیوشن پڑھاتی تھی وہ جس سے وہ اپنی اور ماں کی ضرورتیں پوری کرتی لیکن اتنی مشکلوں کے باوجود ایک اور ظلم یہ ہوا کہ سمرین کے عیاش بھاٸی کی نظر دعا پر پڑھ گٸ اب وہ ہر وقت دعا کے آس پاس منڈلاتا رہتا تھا دعا کو فون کر کر کے تنگ کرتا وہ اسکول جاتی راستہ روک لیتا اس کا لیکن دعا نے حالات کا سامنا کرنا سیکھ لیا تھا وہ ایک مضبوط اور پر اعتماد لڑکی تھی

”انیک بھاٸی آپ تو بچوں کی طرح کررہے ہیں“ علیزے روم میں داخل ہوٸی تو انیک کو بچوں کی طرح ضد کرتے دیکھ ہنسنے لگی

”صبح شام تمھیں یہ کھیچڑی کھانی پڑے تو پتا چلے “

انیک نے علیزے کو ہنستے دیکھ کر جل کر کہا

”لاٸیں مما میں کھلاٶں “

علیزے نے کوثر بیگم سے کھچڑی کی پلیٹ لے لی

”مجھ سے تو کھا نہیں رہا تم سے کھاۓ گا “

”مما دیکھیں نہ میں کیسے کھلاتی ہوں“

علیزے نے مسکراتے ہوۓ کہا

”کھلاٶ میں بھی دیکھوں “کوثر بیگم ایک طرف ہوکر بیٹھ گٸیں

”انیک بھاٸی دیکھیں جہاز آرہا ہے“

علیزے چمچے میں کھیچڑی بھر کر چمچ ہوا میں ادھر اُدھر لہرا رہی تھی علیزے کی بات پر انیک منہ کھول کر ہنس دیا اور جب ہی علیزے نے کھیچڑی سے بھرا چمچ انیک کے منہ میں ڈال دیا

کوثر بیگم علیزے کی اس حرکت پر حیران رہ گٸیں

انیک حیرت اور غصے کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ علیزے کو دیکھ رہاتھا

”کس بات کا بدلہ لے رہی ہو“

انیک نے کھیچڑی بامشکل ہلک سے اتارتے ہوۓ کہا

”وہ سارے بدلے لوں گی میں آپ سے جو آپ مجھے اور سعد کو تنگ کرتے ہیں“

علیزے نے پھر سے اچانک سے انیک کے منہ میں کھیچڑی سے بھرا چمچ ڈالتے ہوۓ کہا

کوثر بیگم اب باقاٸدہ ہنس رہیں تھیں

” علیزے تم اس سے بدلے لو میں ذرا آرام کرلوں تھوڑا “

”جی مما آپ آرام کریں “

علیزے نے مسکراتے ہوۓ کہا

”مما نہیں اس کے پاس مجھے چھوڑ کر مت جاٸیں مجھ میں تو اتنی ہمت بھی نہیں ہے کہ اس کے شر سے بھاگ سکوں“

انیک نے ماں سے التجا کی

”ارے بیٹا کچھ نہیں ہوگا علیزے تم ساری کھیچڑی کھیلانا اسکو“

کوثر بیگم مسکراتے ہوۓ روم سے باہر نکل گٸیں

”چلیں بھاٸی جلدی سے آآآآ کریں“

علیزے نے کھیچڑی کا چمچ دوبارہ بھرتے ہوہۓ کہا

”تاکہ تم یہ ہواٸی جہاز میرے منہ میں ڈال…… “

انیک آگے کچھ بولتا علیزے نے پھر سے چمچ انیک کے منہ میں ڈال دیا

”چھوڑوں گا نہیں میں تمھیں“

انیک نے کھچڑی ہلک سے اتارتے ہوۓ کہا

اسی طرح علیزے نے ساری کھیچڑی انیک کو کھلاکر دواٸی کھیلا کر سولا دیا

”کیا ہوا میرے پیارے بھاٸی کو“

ذایان کو انیک کی طبیعت کا معلوم ہوا تو آفس سے آتے ہی سیدھا انیک کے روم میں چلا آیا

”کچھ نہیں بھاٸی بخار ہے“

انیک نے آہستہ سے کہا

”کوٸی نہیں ٹاٸیفاٸیڈ ہے ان کو“

علیزے نے ذایان کو انیک کی بیماری بتائی

”یار بھاٸی اس چڑیل کو لے جاؤ کب سے میرے سر پر مسلط ہے یہ کھچڑی کھلا کھلا کر اس نے میرے منہ کا ذائقہ خراب کر دیا ہے“ انیک نے بچارگی سے کہا

”آہ انیک بھاٸی آپ کتنے برے ہیں میری خدمتوں کا یہ صلہ دے رہے ہیں آپ مجھے“ علیزے نے انیک کو آنکھیں دیکھاتے ہوۓ کہا

”اچھا اچھا تم دونوں لڑنا بند کرو انیک توں بتا کیا کھاۓ گا میں ابھی لے کر آتا ہوں “

ذایان نے دونوں کے جھکڑے میں ٹانگ آڑاٸی

”یار بھاٸی ہر چیز تو ڈاکٹر نے کھانے سے منا کیا ہے کیا کھاٶں میں“

انیک نے بے ذاری سے کہا

”ہمممم تو پھر ہاں کیک سے تومنا نہیں کیا ہوگا نہ چاکلیٹ کیک لاٶں تجھے پسند ہے نہ“

ذایان نے انیک کو دیکھ کر مسکراتے ہوۓ کہا

”رہنے دو تم ابھی آفس سے تھکے ہوۓ آۓ ہو“ انیک کو بھاٸی کی تھکن کا خیال آیا

”ارے نہیں یار نہیں تھکا میں ابھی لے کر آتا ہوں کیک“

ذایان نے بیڈ سے اٹھتے ہوۓ کہا

”اس چڑیل کو بھی لے جاؤ بھاٸی“

انیک نے پاس بیٹھی علیزے سے جان چھڑوانی چاہی

”چلو گڑیا آجاٶ گھما کر لاٶں “

ذایان نے علیزے سے کہا جو انیک کو گھور رہی تھی

”میں نہیں جارہی سعد غصہ کریں گے ان سے پوچھے بنا گٸ تو“

علیزے نے سنجیدگی سے کہا

اور یہ سچ تھا سعد اس کو کہتا تھا وہ جہاں بھی جاۓ اس کے علم میں ہونا چاہیںے سعد کو علیزے کی بہت فکر رہتی تھی وہ اس کو ایسی جگہ نہیں جانے دیتا جہاں اس کو لگتا تھا کہ وہ جگہ محفوظ نہیں

”اوہ کم اون یار اتنا ڈرتی ہو تم بھاٸی سے کچھ نہیں کہیں گے چلو آجاٶ“

ذایان نے علیزے کا ہاتھ پکڑ کر بیٹ سے کھڑا کردیا

”ذایان بھاٸی وہ ناراض ہوجاٸیں گے مجھ سے“ علیزے نے التجا کی

”ارے بھٸ میں ہوں نہ میں سنبھال لوں گا“

ذایان علیزے کو زبردستی کمرے سے باہر لے آیا

”اچھا میں عبایا پہن کر آتی ہوں “

علیزے نے ہار مان لی

”کیا ہوگیا ہے ابھی آجاٸیں گے ایسے ہی چلو چھوڑو عباۓ کو “

ذایان نے جھنجلاتے ہوۓ کہا

”ذایان بھاٸی فل پلین ہے آپ کا سعد اور میرے بیچ لڑاٸی کروانے کا“

علیزے نے ذایان کو جھاڑا

”ارے میری گڑیا ایسی کوٸی بات نہیں جاؤ تم عبایا پہن آٶ“

ذایان نے علیزے کا ڈر سمجھ کر اسے عبایا پہنے بھیج دیا

دونوں گاڑی پر بیٹھ کر کچھ دور ہی چلے تھے کے ان کے پاس ایک کار آکر روکی کار کا شیشا نیچے ہوا

دونوں ہی گاڑی دیکھ کر سمجھ گۓ تھے سعد کی گاڑی ہے علیزے نے تو ذایان کی کمر سے اپنا ماتھا ٹیکا لیا تھا ڈر کے مارے ذایان کی شرٹ بھی ہاتھوں میں دبوچ لی تھی

”کہاں جارہی ہے یہ سواری “

سعد نے دونوں کو گھورتے ہوۓ کہا

”وہ بھاٸی ہم لوگ کیک لینے جارہے ہیں ابھی آجاٸیں گے“

ذایان نے جلدی سے جواب دیا

”تم کس کی اجازت سے گھر سے باہر نکلی ہو“ سعد نے آنکھیں چھوٹی کرکے علیزے سے پوچھا

”بھاٸی یہ تو منا کررہی تھی میں ہی اپنے ساتھ لے آیا آپ اس کو کچھ مت کہیں “

ذایان نے فوراً صفائی دی

”ٹھیک ہے جاؤ جلدی آنا “

سعد نے اجازت دے ہی دی

”او کے بھاٸی“ ذایان باٸیک لے کر آگے نکل گیا سعد بھی گھر کی طرف چلا گی

”مما یہ لیں کیک“

ذایان نے آتے ہی کچن میں کوثر بیگم کو کیک دیے

”یہ کون لایا کیک“

کوثر بیگم نے حیرانگی سے کہا

”میری پیاری مما آپ جب کچن میں روٹیاں بنانے میں مصروف تھیں جب لینے گیا تھا میں“ ذایان نے پوری بات بتاٸی

”ویسے یہ کیک آٸیں کس خوشی میں ہیں“

کوثر بیگم نے وضاحت مانگی

”صبح سے آپ اور آپ کی بیٹی نے میرے بچارے بھاٸی کو کھچڑی کھلا کھلا کر اس کا منہ بھی کھچڑی جیسا بنا دیا ہے اب میں نے سوچا اس کے لیے کیک لے آٶں تاکہ وہ کیک کھاۓ تو اس کا منہ کیک جیسا ہوجاۓ تو تھوڑا پیار بھی آۓ گا اس پر کھچڑی جیسا منہ دیکھ کر تو الٹی ہی آتی ہے بس“

ذایان نے پوری وضاحت دی اور ہنسنے لگ گیا

”ذایان تمھارا کچھ نہیں ہوسکتا “

کوثر بیگم نے ذایان کے سر پر چپت لگاٸی

”مما آج انیک بھاٸی کے کمرے میں کھانا کھاٸیں “

علیزے بھی کچن میں آگٸ

”کیوں انیک کے کمرے میں کیوں“

کوثر بیگم نے سوالیہ نظروں سے علیزے کو دیکھا

” وہ مما انیک بھاٸی بیمار ہیں وہ روم سے باہر نہیں آسکتے نہ ان کے بنا کھانا کھانا اچھا نہیں لگے گا نا اس لیے ہم ان کے روم میں کھانا کھالیتے ہیں آج“

علیزے نے کوثر بیگم کو جواب دیا

”جی مما میں بھی آپ سے یہ ہی کہنے آیا تھا“ سعد بھی کچن میں آگیا جو علیزے کی بات سن چکا تھا

”چلو ٹھیک ہے جیسے تم لوگوں کی مرضی“ کوثر بیگم نے بات مان لی

”واہ میری چھوٹی سی بیوی بڑی سمجھدار ہوگٸ ہے“

سعد نے علیزے کے گرد بازو پہلاتے ہوۓ کہا

”آٶچ ظالم عورت “

علیزے نے سعد کے پیٹ پے کونی ماری سعد نے کراہ کے ہاتھ ہٹا لیا اپنا

کوثر بیگم اور ذایان ان کی نوک جھوک دیکھ کر ہنس دیٸے

”چلو اب لڑنا بند کرو تم دونوں سب کھانا لگواٶ میرے ساتھ“

کوثر بیگم مسکراتے ہوۓ کہا

”اوکے مما“

سب نے مل کر کھانا لگایا انیک بہت خوش ہوا کہ اسے اکیلے کھانا نہیں کھانا پڑے گا

سب نے خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا

”مما میں انیک کے کمرے میں سوٶں گا آج“ ذایان کھانا کھاتے ہی علان کیا

”کیوں تم کیوں سوگے انیک کے پاس“

کوثر بیگم آٸیبرو اچکا کر پوچھا

”مما انیک کی طبیعت ٹھیک نہیں نہ اس لیے کہہ رہا ہوں“

ذایان نے بھاٸی کے لیے فکر دیکھاٸی

”انیک تم کیا کہتے ہو سوجاۓ یہ تمھارے پاس“ کوثر بیگم نے انیک سے پوچھا

”جی مما مجھے کوٸی مسٸلہ نہیں اچھا ہے میں بور نہیں ہوگا اکیلے “

انیک نے بھی اپنا فاٸدہ سوچا

”آپ دونوں ساتھ ہوگے تو اکیلے اکیلے مستیاں کرے گے مجھے بھی سونا ہے آپ لوگوں کے ساتھ “

علیزے نے بھی ضد کی

سعد نے اپنا ماتھا پیٹا کوثر بیگم نے داٸیں باٸیں گردن ہلاٸی جبکہ ذایان اور انیک ہنس رہے تھے

”کیا ہوا آپ لوگ ایسے کیوں کررہے ہیں “

علیزے نے معصومیت سے پوچھا

”کوٸی ضرورت نہیں یہاں سونے کی چلو کمرے میں“

سعد نے علیزے کو آنکھیں دیکھاٸیں

”نہیں میں یہی سوٶں گی“

علیزے نے ضدی بچے کی طرح کہا

”یہاں ایک بیڈ ہے اس پر یہ دونوں سوۓ گے تم کیا واشروم میں سوگی“

سعد نے دانت پیس کر کہا

”میں صوفے پر سوچاٶں گی“

علیزے نے کمرے میں رکھے صوفے کی طرف اشارہ کیا

” افففف علیزے کیا پچپنہ لگا رکھا ہے تم نے چلو سیدھی کمرے میں“

سعد نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوۓ کہا

” بھٸ مما دیکھیں نہ ان کو“

علیزے نے کوثر بیگم کی طرف دیکھا

”بیٹا سعد سہی کہہ رہا ہے اپنے کمرے میں سونا تم “کوثر بیگم نے بھی سمجھایا

” سو تم یہاں اور اگر میرے بغیر نیند نہیں آۓ نہ تو میرے پاس نہیں آنا“

سعد نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہا سعد نے علیزے کو اپنے ساتھ سونے کی ایسی عادت ڈال دی تھی کہ علیزے کو نیند ہی نہیں آتی تھی سعد کے بنا

علیزے کافی رات تک ذایان انیک کے ساتھ ہنستی کھیلتی رہی پھر جب سونے کا ٹاٸم آیا تو علیزے کو سعد یاد آیا لیکن پھر سعد کے الفاظ اس کی سماعتوں میں گونجے تو وہ خاموشی سے صوفے پر لیٹ گٸ

بہت کوششوں کے بعد بھی علیزے کو نیند نہیں آٸی ذایان انیک بھی سوچکے تھے وہ ہار مانتے دبے پاٶں انیک کے کمرے سے نکل کر اپنے روم آگٸ

وہاں سعد بیڈ پر لیٹا سونے کا ڈرامہ کر رہا تھا نیند تو اس کو بھی نہیں آرہی تھی

”یہ تو سوگۓ“

علیزے سعد کو دیکھ کر بڑبڑاٸی

وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی سعد کے برابر میں جاکر بیٹھ گٸ اور آرام سے اس کا ہاتھ سینے کے اوپر سے اٹھایا

پر سعد نے علیزے کے ہاتھ جھڑک دیٸے اور دوسری طرف رخ کرکے لیٹ گیا

”سعد آٸی ایم سوری “علیزے شرمندہ ہوٸی

سعد نے کوٸی جواب نہیں دیا

”سعد پلیز سوری اب نہیں کروں گی سعد پلیز معاف کردیں“ علیزے التجا کررہی تھی

سعد نے پھر بھی کوٸی جواب نہیں دیا

علیزے اب زبردستی سعد کو سیدھا کرنے کی کوشش کر رہی تھی پر وہ ہو نہیں رہا تھا

”کتنے موٹے ہوگۓ ہیں آپ “علیزے نے چڑ کر کہا

”کیا میں موٹا ہوگیا ہوں“

سعد کو صدمہ ہی ہوگیا

علیزے نے اسی بات کا فاٸدہ اٹھایا اور جلدی سے سعد نے سینے سے ہاتھ ا ٹھایا اور جلدی سے سعد کےسینے پر سر رکھ ہاتھہ اس کے گرد پھیلا کر لیٹ گٸ کیوں کہ سعد سیدھا ہوگیا تھا

”سعد سوری اب نہیں کروں گی میں “

علیزے نے دوبارہ معافی مانگی

”چلو اس دفع بخش دیتا ہوں اگلی دفع نہیں بخشوں گا “

سعد نے بھی علیزے کو اپنے حصار میں لے کر خود سے قریب کیا پھر دونوں پر نیند کی دیوی مہربان ہوگٸ

علیزے کالج گٸ تو ردا نے باتوں باتوں میں جھیچکتے ہوۓ علیزےسے پوچھا

”وہ علیزے تمھارے بھاٸی کی طبیعت اب کیسی ہے “

”وہ اب کچھ بہتر ہیں“

علیزے نے سادہ سا جواب دیا

ردا مسکرا کر رہ گٸ

کچھ دنوں بعد انیک اب کچھ بہتر ہوگیا تھا سب نے ساتھ بیٹھ کر مووی دیکھنے کا پروگرام بنایا رات کو گڑیا جن شیطان سب مل کر مووی دیکھ رہے تھے

آدھی مووی ہوٸی تھی علیزے کو نیند آنے لگی

”بھٸ میں تو سونے جارہی ہوں مجھے نیند آرہی ہے“ علیزے نے انگڑاٸی لیتے ہوۓ کہا

”گڑیا ابھی مووی کا اینڈ نہیں ہوا بیٹھو“

ذایان نے علیزے کو بیٹھانا چاہا

”بھاٸی پلیز مجھے نیند آرہی ہے آپ سعد کو بیٹھا لیں“

سعد جو علیزے کے پیچھے جانے کے چکر میں تھا اب علیزے کی بات پر خود پر ضبط کرتا رہ گیا

علیزے روم میں چلی گٸ روم میں جاکر سعد کی بے چینی کا سوچ سوج کر ہنسنے لگی

سعد باہر بیٹھا سچ میں بے چین ہورہا وہ یہ وقت علیزے کے ساتھ کمرے میں گزارتا تھا

”مجھے بھی نیند آرہی ہے میں سونے جارہا ہوں“ سعد سے رہا نہیں گیا تو صوفے سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا

”نہیں نہیں بھاٸی آپ نہیں جاسکتے علیزے بھی چلی گٸ “

انیک نے سعد کا ہاتھ پکڑ کر دوبارہ بیٹھا دیا

”ویسے آپ نے اپنی بیٹی کو باپ کے بنا نہ سونے کی عادت نہیں ڈالی“

ذایان نے سرگوشی میں کہا

سعد نے گھور کر اپنے داٸیں باٸیں بیٹھے شیطانوں کو دیکھا

”بکواس بند کرو تم لوگ مجھے نیند آرہی ہے جانے دو “

ذایان انیک نے مضبوطی سے سعد کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے نہیں آپ نہیں جا سکتے

”کیوں بھٸ کیوں نہیں جاسکتا “

”آپ کو ہم سے پیچھا چھڑوانے کے لیے ہمیں باہر کھانا کھلانے کا وعدہ کرنا پڑے گا“

ذایان نے سعد کو چھوڑنے کا معاوضہ مانگ لیا

”باہر کھانا کس خوشی میں“

سعد نے ماتھے پر بل ڈال کر پوچھا

”آپ نے ہمیں شادی کی ٹریٹ نہیں دی نہ اس لیے“ انیک نے جواب دیا

”بھوکوں کھلا دوں گا چھوڑو اب مجھے“

سعد نے برا سا منہ بنا کر کہا

ذایان انیک نے ہنستے ہنستے سعد کو چھوڑ دیا

سعد کمرے میں آیا تو علیزے کو سوتا پایا سعد جانتا تھا ناٹک کررہی ہے سعد نے اس کو آواز دی

”علیزے “

کوٸی جواب نہیں آیا

”علیزے مجھے معلوم ہے تم جاگ رہی ہو“

سعد نے دوبارہ کہا

اب بھی کوٸی جواب نہیں آیا

سعد بیڈ پر آیا اور علیزے کے بلکل برابر میں لیٹ گیا سعد نے ایک ہاتھ علیزے کی کمر میں حماٸل کیا تو علیزے کھلکھلاتی ہوٸی سیدھی ہوگٸ سعد نے علیزے کی آنکھوں میں جھانکا دونوں کی نظریں ملیں

لیکن علیزے شرم کے مارے نظریں جھکا گٸ جبکہ سعد کی نظریں ابھی بھی علیزے کے خوبصورت مکھڑے پر تھیں

”تم مجھے ان دو شیطانوں کے پاس کیوں چھوڑ کر آٸیں تھیں“

سعد نے علیزے کے چہرے پر آٸی لٹ اپنی انگلی سے پیچھے کرتے ہوۓ پوچھا

”میں کب چھوڑ کے آٸی “

علیزے انجان بنی سعد کی آنکھوں میں ابھی بھی نہیں دیکھا تھا

نازک سی علیزے سعد کے لمبے چوڑے وجود میں چھپ چھپ سی گٸ تھی

”اچھا تو تم نے کب کیا چلو کوٸی بات نہیں تمھیں یاد نہیں تو کیا ہوا مجھے تو یاد ہے اب میں تمھیں سزا دوں گا “

سعد نے علیزے کے لبو پر انگھوٹا پھیرتے ہوۓ کہا

”کیا آپ مجھے سزا دیں گے“

علیزے نے آنکھیں بڑی کرکے پوچھا

ہممم بلکل سزا دوں گا تمھیں“

سعد نے معنی خیزی سے کہا

”آپ مجھے روم سے نکال دیں گے “

علیزے بچاری ابھی بھی سعد کی سزا نہیں سمجھی

”نہیں آج ایک نٸ سزا ہے تمھارے لیے تمھیں یہ سزا ہمیشہ یاد رہے گی “

علیزے نے کچھ بولنے کے لیے لب وا ہی کیے تھے کہ سعد اس کے لبوں پر جھک گیا

علیزے مچھلی کی طرح تڑپنے لگی سعد کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اس کو خود سے دور کرنے کی کوشش کرتی رہی لیکن سعد کو اس معصوم پر ترس نہیں آیا وہ اپنی پیاس بھوجا رہا تھا

سعد جب ہٹا تو علیزے نے ذور سے سعد کو دھکا دیا سعد بیڈ پر گر گیا علیزے اٹھ کر بیٹھ گٸ اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگی

سعد بیڈ پر لیٹا علیزے کی حالت دیکھ کر مسلسل قہقے لگا رہا تھا

”آ آپ بہ بہت گندے ہیں بے شرم چھیچورے کہی کے “

علیزے منہ بنا کر رخ موڑ کر بیٹھ گٸ

” میں تمھارا شوہر ہوں میں نے کچھ غلط تو نہیں کیا“

سعد نے معصومیت سے کہا

”مجھے بات نہیں کرنی آپ سے “

علیزے ابھی بھی سعد کی طرف پشت کرکے بیٹھی تھی

سعد نے اس کا ایک بازوں کھینچا وہ نازک سی لڑکی اس کے سینے سے آلگی

”آٶچ سعد آپ میرا ہاتھ توڑ دیں گے ایک دن اتنی زور سے کھینچتے ہیں “

علیزے نے سعد کے سینے سے سر اٹھا کر کہا

”تو تم سیدھی طرح میرے پاس آجایا کرو نہ اور ہاتھ ٹوٹ بھی گیا تو کیا ہوا میں چاٸنا کا لگوا دوں گا“

”مطلب آپ کا پورا ارادہ ہے میرا ہاتھ توڑنے کا“

”ارے نہیں میرے جان مزاق کررہا تھا چلو اب رات بہت ہوگٸ ہے سوجاتے ہیں “

سعد نے علیزے کو خود میں سمیٹتے ہوۓ کہا

”آپ کی چھیچور پاٸی ختم ہوگی تو سوۓ گے نہ “

علیزے کو سعد کی کچھ دیر والی حرکت پھر یاد آگٸ

”کیسی بیوی ہو شوہر کی محبت کو چھیچور پاٸی کا نام دیتی ہو “

سعد نے دکھ سے کہا

”آپ کی محبت معلوم ہے مجھے یہاں مت جاٶ وہاں مت جاؤ ایسے مت کرو ویسے مت کرو اور موبائل بھی نہیں دلاتے مجھے ردا بیچاری مجھ سے بات کرنے کے لیے تڑپتی رہتی ہے“

علیزے سیدھے ہوکر لیٹے گٸ اب اس کا سر سعد کے ہاتھ پر تھا

”مجھے نہیں معلوم تھا میری بیوی کو مجھ سے اتنی شکایتیں ہیں میری جان میں جو بھی کرتا ہوں تمھاری بھلاٸی کے لیے کرتا ہوں تم بہت معصوم ہو تمھیں اس دنیا کا نہیں پتا بہت بری ہے یہ دنیا میں باہر رہتا ہوں مجھے معلوم ہے “

سعد نے علیزے کی طرف کروٹ لے کر نرمی سے کہا

”مجھے کچھ نہیں ہوگا آپ کیوں سوچتے ہیں اتنا “

علیزے نے سعد کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوۓ کہا

”بس پتا نہیں کیوں مجھے ڈر لگتا ہے کہی تم مجھ سے دور نہ ہوجاٶ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں“ سعد نے محبت دیکھاٸی

”یہ بات تو میں جانتی ہوں لیکن یہ محبت کب اور کیسے ہوٸی یہ آج تک سمجھ نہیں آیا“ مجھے“ علیزے نے دلچسپی سے پوچھا

”ابھی نیند آرہی ہے مجھے پھر کسی اور دن بتاٶں گا “

سعد نے علیزے خود میں چھپاتے ہوۓ کہا

”ہمم ”علیزے بھی خاموشی سے آنکھیں موند گٸ

”وہ بھی چلیں گۓ تم بھی موبائل میں لگے ہو میں اکیلا کیا کروں“

انیک نے ذایان کو موبائل پر چیٹینگ کرتے ہوۓ دیکھا تو اداسی سے کہا

”ارے چھوٹے تیری بھابی سے بات کررہا ہوں یار اس کو بھروسہ ہی نہیں ہورہا مجھ پر اور مجھ سے رہا نہیں جارہا اس کے بغیر “

ذایان نے افسردگی سے کہا

”تو کیا تم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ تم اس لڑکی سے ہی شادی کرو گے “

انیک نے سوالیہ نظروں سے ذایان کو دیکھا

”ہاں کرلیا ہے مجھے بہت محبت ہے اس سے اتنی کے میں بتا نہیں سکتا“

ذایان نے محبت پاش لیجے میں کہا

”بھاٸی کیا وہ لڑکی سچ میں اچھی ہوگی جو اپنے گھر والوں سے چھپ کر ایک نا محرم سے موبائل پر محبت کے دعوے کرتی ہے “انیک نے کی تو سمجھداری کی بات تھی لیکن ذایان کو بہت بری لگی

”انیک خبر دار جو اس کے کردار کے بارے میں تم نے ایک لفظ بھی کہا “