Rishte Mohabat Ke by Misbah Khalid NovelR50485 Rishte Mohabat Ke Episode 3
No Download Link
Rate this Novel
Rishte Mohabat Ke Episode 3
Rishte Mohabat Ke by Misbah Khalid
”بھاٸی پلیز مجھے گھبراہٹ ہورہی ہے یہاں اتنے سارے لوگ ہیں “
سچ بات تو یہ تھی علیزے سعد کے برابر میں بیٹھنے سے گھبرارہی تھی
”گڑیا بھاٸی سے اتنا ڈروگی تو شادی کے بات ان کو اپنی انگلیوں پر کیسے نچاٶ گی ہم دونوں بیچارو کو بھاٸی کی ڈانٹ سے کیسے بچاٶ گی اپنے اور ہمارے نخرے کیسے اٹھواٶ گی“
انیک نے ایک لمبی تقریر جھاڑی
ذایان نے اپنا قہقہ بامشکل روکا
علیزے تو انیک کی باتیں ہی سمجھنے کی کوشش کررہی تھی
”تم لوگ یہاں کیوں کھڑے ہو چلو رسم کے لیے دیر ہورہی ہے “
کوثر بیگم کی آواز پر تینوں خاموشی سے اسٹیج کی طرف چل دیے علیزے اپنی گھبراہٹ پر قابوں پاتی ان کے ساتھ چلدی
مایوں کے لیے گھر کے باہر ہی ایک چھوٹا سا شامیانہ لگایا گیا تھا پورے محلے کو سعد کی شادی کی دعوت دی گٸ تھی کیونکہ ان کا کوٸی رشتےدار نہیں تھا سب ہی لوگ آۓ تھے مایوں میں کوٸی خوش تھا علیزے کی شادی سے تو کوٸی جل رہا تھا جیسے صاٸمہ.
صاٸمہ کو سعد علیزے کی شادی کا معلوم ہوا تو اس کو بہت غصہ آیا
اپنے کمرے کی ہر چیز برباد کرکے اس کا غصہ کچھ حد تک کم ہوا لیکن ختم نہیں ہوا صاٸمہ نے علیزے کو سعد سے دور کرنے کے لٸے اپنے دماغ کو کام پر لگا دیا تھا .
علیزے کو سعد کے پہلوں میں بیٹھا کر ذایان انیک بھی اسٹیج پر ساٸیڈ پر کھڑے ہوگۓ
کوثر بیگم نے رسم شروع کر دی علیزے بہت گھبرا رہی تھی ایک تو سعد کے پہلو میں بیٹھی تھی اوپر سے جو لڑکی رسم کرنے بیٹھتی تو اس کو چھیڑنے کے لیے اس کے کان میں کوٸی نہ کوٸی سرگوشی کرتی ان کی باتیں سن کر علیزے کا چہرا سرخ ہوجاتا وہ بچاری گردن جھکاۓ معصوم بچوں کی طرح زبان کو قفل لگاۓ بیٹھی رہی۔
کوثر بیگم نے کتنی بار کہا
”بیٹا گردن دکھ جاۓ گی سیدھی ہوجاٶ پر وہ ٹس سے مس نہ ہوٸی “
سعد چہرے پر زبردستی کی مسکراہٹ سجاۓ بیٹھا تھا وہ بےزار آگیا تھا ان رسموں سے اور علیزے کا اتنا زیادہ گھبرانہ اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا وہ کوٸی غیر تو نہیں تھا اس کا اپنا تھا جس کے ساتھ اس نے اپنا پورا بچپن گزارا اور اب جوانی بڑھاپہ بھی اسی کے ساتھ ہی گزارنا تھا ۔
سعد نہیں سمجھ سکا بے شک سعد اس کے لیے غیر نہیں تھا لیکن علیزے تھی تو ایک لڑکی ہی نہ اس کی شرم لاج اس سے یہ سب کروا رہی تھی۔
سعد نے آخر کار ذایان کو آواز دی ذایان فوراً آگیا
”جی بھاٸی بولیں “
”یار جلدی جاؤ مما کو بلاٶ“
سعد نے بے زاری سے ذایان کے کان میں سرگوشی کی
”اتنی جلدی تھک گۓ بھاٸی “
ذایان نے سعد کو چڑایا
”ذایان مجھے تنگ مت کرو مما کو بلاٶ “
سعد نے دانت پیس کر کہا
”اوکے اوکے بلاتا ہوں“
ذایان فوراً لاٸن پر آیا
”کیا ہوا سعد بیٹا “
کوثر بیگم نے پیار سے پوچھا سعد سے
”مما پلیز یہ سب ختم کریں میں تھک گیا ہوں“ سعد نے بے زاری سے کہا
”میرا بچہ بس تھوڑی دیر کی بات ہے مہمان کھانا کھا لیں بس پھر فری ہوجاٶ گے تم “
”اوکے مما“ سعد نے سر جھٹکا
”مما “علیزے منمناٸی
علیزے کی آواز صرف پہلو میں بیٹھے سعد نے ہی سنی تھی
کوثر بیگم تو اسٹیج سے نیچے اترنے والی تھی
”مما “سعد نے آواز دی
کوثر بیگم دوبارہ پلٹی
” کیا ہوا بیٹا “
علیزے کچھ کہہ رہی ہے“
سعد نے علیزے کی طرف اشارہ کرکے کہا
”کیا ہوا میری بیٹی کو“
کوثر بیگم نے پیار سے علیزے کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا
”وہ مما پیاس لگ رہی ہے مجھے“
علیزے نے آہستہ سے کہا
”ابھی منگواتی ہوں میں اپنی بیٹی کے لیے پانی “
”انیک جاؤ بہن کے لیے پانی لاٶ “
”جی مما ابھی لاتا ہوں “
انیک جلدی سے جاکر پانی لے آیا
علیزے نے ایک ہی سانس میں پورا پانی کا گلاس خالی کردیا
”اتنی تیز پیاس لگی تھی میری گڑیا کو سوری گڑیا میں مہمانوں کے چکر میں بھول ہی گیا تھا میری گڑیا کو بھی کسی چیز کی ضروت ہو سکتی ہے“
ذایان سچ میں شرمندہ تھا اس کی گڑیا اتنی دیر سے پیاسی بیٹھی تھی
”کوٸی بات نہیں بھاٸی “علیزے منمناٸی
”چھوٹے مجھے بھی پانی پلاٶ“
سعد نے انیک کو کہا
”واہ بھٸ ابھی سے اتنی انڈراسٹینڈینگ پیاس بھی ایک ساتھی لگی دونوں کو“
انیک سعد کو تنگ کرنے کا کوٸی موقع نہیں چھوڑتا تھا
”تم جاؤ گے یا دلاھاٸی کردوں میں تمھاری سب کے سامنے“
سعد نے انیک کو آنکھیں دیکھاٸیں
”اوکے جارہا ہوں بھاٸی “
انیک ہنستا ہوا چلا گیا
رات کافی ہوگٸ تھی مایوں کا فنگشن ختم ہوچکا تھا سب کھانا کھا کر اپنے اپنے کمروں میں میٹھی نیند سورہے تھے لیکن سعد اور علیزے کی نیند ابھی ان کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔
”ارے سعد بیٹا اتنی رات تک کیوں جاگ رہے ہو“ کوثر بیگم رات کو پانی پینے اٹھی تھیں سعد کو ٹی وی دیکھتے دیکھا تو اس کے پاس آکر پوچھا
سعد نے اپنی ماں کے دونوں ہاتھ پیار سے تھامے اور انھیں اپنے پاس صوفے پر بیٹھا کر خود ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا
”سعد بیٹا کیا بات ہے تم مجھے پریشان نظر آ رہے ہو کچھ دن سے کیا تم خوش نہیں“
کوثر بیگم نے فکر مندی سے پوچھا
”مما کیا ہم علیزے کے ساتھ ٹھیک کر رہے ہیں وہ چھوٹی سی گڑیا کل میری ہمسفر بن جاۓ گی اتنی چھوٹی سی لڑکی پر اتنی کم عمر میں اتنی ذمہ داریاں ڈالنا ٹھیک ہے کیا
مما مجھے ڈر لگتا ہے وہ ابھی سے اتنا گھبراتی ہے مجھ سے میری قربت میری محبت کیسے برداشت کرے گی میں نے انجانے میں اس کو کوٸی نقصان پہنچا دیا تو میں کیا کروں گا“
سعد اپنا دل ہلکا کرکے خاموش ہوچکا تھا
کوثر بیگم سعد کا اس قدر ڈر دیکھ کر فکر مند ہوگٸیں تھیں لیکن انھوں نے خود کو سنبھالا سعد کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے
”بیٹا کیا تم نے اس کو تکلیف دینے کا سوچا ہے کبھی “
”نو مما کبھی بھی نہیں میں ایسا کبھی نہیں سوچ سکتا “
سعد نے فوراً جواب دیا
”تو بیٹا جب تم نے ایسا سوچا نہیں تو کیسے کرو گے پھر اور جہاں تک اس کے نازک کندھوں پر ذمہ داریاں ڈالنے کی بات ہے تو وہ تو میری بیٹی ہے میں کبھی اس کے نازک کندھوں پر ذمہ داریوں کا بوج نہیں ڈالوں گی اور باقی تم پر ہے کے تم اسے کیسے خوش رکھتے ہو کیسے اس چھوٹی سی لڑکی کو اپنا پابند بناتے ہو تم اپنی محبت کی بارش سے اس کے دکھ کیسے دھوتے ہو “
کوثر بیگم نے سعد کو نرمی سے سمجھایا
”مما تھنکیو سو مچ آپ نے میری مشکل آسان کردی “
سعد نے خوش ہوکر کہا
”چلو اب اٹھو سو جاکر“
”اوکے مما آپ بھی سوجاٸیں “
کوثر بیگم اپنے اور سعد اپنے کمرے میں چلے گۓ۔
آج بارات تھی ہر کوٸی اپنی ذمہ داریاں خوشدلی سے نبھارہا تھا ذایان انیک باہر کے اور کوثر بیگم سعد گھر کے کام دیکھ رہے تھے ۔
علیزے کو پارلر بھیجوا دیا تھا اس کے ساتھ محلے کی ایک لڑکی کو بھیج دیا تھا۔
آہستہ آہستہ سب شادی ہال میں پہنچ رہے تھے علیزے اور سعد کو باری باری ہال میں لایا گیا تھا دونوں نے ہی ایک دوسرے کو نہیں دیکھا تھا
نکاح کا وقت ہوگیا تھا علیزے کے ہاتھ پاٶں پھول گۓ تھے اس نے مضبوطی سے پاس بیٹھی کوثر بیگم کا ہاتھ پکڑ لیا تھا
”نہیں میری بچی کچھ نہیں ہوگا گھبراٶ نہیں “
”مما پلیز آپ کہی مت جاٸیے گا “
علیزے نے دھمی آواز میں کہا
”میری بچی میں یہی ہوں گھبراٶ نہیں “
کوثر بیگم نے علیزے کو خود سے لگایا
” کیا آپ کو نکاح قبول ہے“ ؟
”قبول ہے“
علیزے کی کانپتی ہوٸی آواز نکلی
تین بار قبول ہے کہنے بعد علیزے کوثر بیگم کے گلے لگے روۓ جارہی تھی اس کو آج پھر اپنے ماں باپ شدت سے یاد آۓ تھے ۔
کوثر بیگم نے بھی اسے رونے دیا تھا کیونکہ اب اس کے بعد وہ ایک نٸ زندگی شروع کرنے والی تھی جس میں صرف خوشیاں اس کی منتظر تھیں
”مبارک ہو بھاٸی آپ نے بھی شادی کا لڈو کھا ہی لیا“
ذایان نے سعد کے نکاح کے بعد اس کے گلے لگتے ہوۓ کہا
”تم باز نہ آنا اپنی حرکتوں سے“
سعد نے ذایان کو شرم دلاٸی
”بھٸ جب چاچو بن جاؤں گا تو اپنی حرکتیں آپ کے بچے میں منتقل کردوں گا بس پھر میں سدھر جاؤں گا“
ذایان نے بڑے مزے سے کہا
سعد نے اسٹیج پر کھڑے کھڑے ہی ذایان کا کان مروڑ دیا
” ہر وقت بکواس نہیں کیا کرو “
سعد نے دانت پیس کر کہا
”اچھا سوری بھاٸی کان چھوڑے سب دیکھ رہے ہیں”
ذایان نے کان چھڑوانے کی کوشش کی
”دفع ہو “سعد نے کان چھوڑتے ہوۓ کہا
”مبارک ہو بھاٸی“
انیک نے ذایان کی درگت بنتے دیکھی تو سعد کو بنا چھیڑے مبارک باد دی
”تھینک یو چھوٹے“ سعد نے مسکرا کر کہا
” یہ دلہن کی جگہ پر کون بیٹھا ہے“
سعد کو نکاح کے بعد علیزے کے ساتھ بیٹھانے کے لیے لایا گیا تو سعد دلہن کی جگہ بیٹھی لڑکی کو دیکھ کر حیران رہ گیا
”بھاٸی علیزے تو ہے کیا ہوگیا آپ کو“
ذایان نے سعد کے کان میں سرگوشی کی
”پاگل ہوگۓ ہو کیا کس کو اٹھا لاۓ تم لوگ یہ علیزے تو نہیں وہ اتنا زیادہ تیار تو کبھی نہیں ہوتی “
سعد کو جیسے صدمہ ہی ہوگیا تھا
”او میرے بھولے بھاٸی وہ دلہن ہے وہ تیار نہیں تو کیا وہ صاٸمہ تیار ہوگی“
”ہاں بھاٸی آپ بتا دو کیا چاہتے ہو صاٸمہ کو بیٹھادے کیا اسٹیج پر دلہن کی جگہ“
ذایان اور انیک کو معلوم تھا سعد چڑتا ہے صاٸمہ کے نام سے اسی لیے دونوں سعد کے پیچھے ہی لگ گۓ تھے
”بے غیرتوں اتنے لوگوں کے درمیان یہ کیا بکواس کررہے ہو صاٸمہ سے شادی کرنے سے اچھا ہے میں زہر کھا لوں“
سعد نے دونوں کو گھورا
”ارے تم لوگ یہاں کھڑے کیا باتیں کررہے ہو چلو “
کوثر بیگم نے تینوں کو ڈانٹا جو اسٹیج پر جانے کے بجاۓ لڑائی میں مصروف ہوگۓ تھے
سعد تو یقین ہی نہیں کر پارہا تھا سامنے مہرون لہنگے میں زیور سے اوور لوڈ دس کلو پلستر چہرے پر کرواۓ علیزے بیٹھی ہے۔ علیزے بہت پیاری لگ رہی تھی پر میکپ سے وہ اپنی عمر سے بڑی معلوم ہورہی تھی
سعد کو شاید علیزے سادی معصوم سی ہی اچھی لگتی ہے اسی لیے سعد کو علیزے کا یہ روپ ہضم نہیں ہورہا تھا.
سعد نے بھی مہرون رنگ کی شیروانی پہنی تھی شیروانی کی دونوں آستینوں پر کولڈن رنگ کے بنچ تھے اور ایک سامنے تھا سعد کی حسن و وجاحت میں اور اضافہ ہوگیا تھا
ذایان انیک نے کالے رنگ کی شیروانی پہنی تھی ان دونوں کی شیروانی پر سامنے کولڈن بنچ تھا دونوں کے گندمی رنگت پر کالی شیروانی نے چار چاند لگا دیے تھے “
سعد کو علیزے کے برابر میں بیٹھا دیا گیا تھا تصویروں کا دور شروع ہوگیا تھا پھر کھانے کا دور چلا ۔
کوثر بیگم نے زبردستی کرکے علیزے کو بھی کھانا کھلا دیا تھا
علیزے کے ذہن میں بہت سے سوال گردش کر رہے تھے اب اس کی پوری زندگی سعد کے نام ہوگٸ تھی جس کو کل تک بھاٸی کہہ کر مخاطب کرتی تھی اب شوہر کے روپ میں اسے کیسے مخاطب کرے گی کیسے اس سے نظریں ملاۓ گی
سعد بہت مطمٸن تھا کوثر بیگم نے اس کے ڈر جو ختم کردیے تھے
رخصتی کا وقت ہوگیا تھا ذایان نے بھاٸی ہونے کا حق ادا کرتے ہوۓ اپنی پیاری گڑیا کو قرآن کے ساۓ میں رخصت کیا تھا
گھر پہنچتے ہی علیزے کو سعد کے کمرے میں لے جایا گیا تھا سعد باہر صوفے پر بیٹھا آرام فرما رہا تھا
ذایان انیک سعد کو دیکھ دیکھ کر ایک دوسرے کے کان میں سرگوشیاں کررہے تھے اور ہنس بھی رہے تھے سعد گھورتا تو دونوں جلدی سے اچھے بچے بن جاتے
علیزے کے پاس کوثر بیگم تھیں
”مما پلیز مجھے اکیلا نہیں چھوڑیں“
علیزے بہت گھبرا رہی کوثر بیگم کو چھوڑنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی
”میری بچی ایسا نہیں ہوتا اب مجھ سے زیادہ سعد کا حق ہے تم پر اس طرح گھبراٶ نہیں سعد کو تو تم بچپن سے جانتی ہو وہ کتنی محبت کرتا ہے تم سے تو پھر ڈر کیسا تم گھبراٶ نہیں سعد تمھیں بہت خوش رکھے گا بس تم اس کی ہر بات ماننا جو وہ کہے جیسا کہے ویسا ہی کرنا اب تم بیٹھو یہی میں سعد کو بھیچتی ہوں“
کوثر بیگم نے علیزے کو سمجھایا اور اٹھ کر باہر چلی گٸیں
علیزے سعد کا نام سن کر ہی کپکپا گٸ تھی
”سعد بیٹا جاؤ روم میں یہاں کیوں بیٹھے ہو “
”جاؤ جاؤ بھاٸی روم میں یہاں کیوں بیٹھے ہو“
ذایان انیک نے سعد کو چھیڑا اور زور زور سے ہنسنے لگے
”مما ان دونوں کے دانت تو آج میں توڑوں گا“ سعد نے دانت پیسے اور ہاتھ کا مکا بنا کر ان دونوں کی طرف بڑھ گیا
دونوں سعد کو اپنی طرف آتا دیکھ کر اپنے اپنے کمرے کی طرف بھاگے
”گڈ لک بھاٸی“
ذایان نے اپنے کمرے کے دروازے سے جھانک کر زور سے کہا اور جلدی سے دروازہ بند کرلیا
سعد ان دونوں کی حرکتیں دیکھ کر ان کو گھورتا رہ گیا
”ارے چھوڑوں ان دونوں کو بدمعاش ہیں دونوں کے دونوں تمھیں چھیڑتے ہیں وہ اور تم چھیڑ بھی جاتے ہو اِگنور کیا کرو ان دونوں کی باتوں کو“
کوثر بیگم نے سعد کو ٹھنڈا کیا
”چلو اب جاؤ علیزے انتظار کررہی ہے تمھارا “
”جی مما جارہا ہوں“ سعد مسکرایا
”سعد “
”جی مما “
”دیکھو تم میری بچی کو زیادہ تنگ مت کرنا خیال رکھنا اس کا“
”میری پیاری مما آپ فکر نہیں کریں سارے حساب چکتے کروں گا اس سے اتنے دن مجھ سے پردہ کرنے کے لیے“
سعد نے کوثر بیگم کے گال پکڑ کر لاڈ سے کہا
تم بھی کم نہیں ہو سعد ہو تو آخر ذایان انیک کے بڑے بھاٸی نہ“
کوثر بیگم نے سعد کا کان پکڑا
”ارے مما مذاق کررہا تھا کان تو چھوڑے “
”چلو چھوڑ دیا جاٶ اب “
کوثر بیگم نے سعد کے روم کی طرف اشارہ کیا
”اوکے میری پیاری مما آپ بھی سوجاٸیں“
سعد کوثر بیگم کا ہاتھ چوم کر اپنے کمرے چلا گیا .
کمرے کا دروازہ کھولنے کی آواز سے علیزے سمجھ گٸ سعد آگیا ہے علیزے کا دل زور زور سے دھڑک رہا وہ لمبی لمبی سانسیں لے کر خود کو نارمل رکھنے کی کو شش کررہی تھی بیڈ پر بیٹھے بیٹھے گرمی کے موسم میں بھی وہ کپکپا رہی تھی
سعد سینے پر ہاتھ باندھ کر علیزے کی غیر ہوتی حالت دیکھ رہا تھا
علیزے کا چہرہ گھنوگٹ میں چھپا ہوا تھا سعد اس کا چہرہ تو نہیں دیکھ سکا پر جان گیا تھا ابھی علیزے کے قریب جانا ٹھیک نہیں اور ویسے بھی اس نۓ رشتے کو سمجھنے کے لیے علیزے کو وقت دینا چاہتا تھا
سعد نے خاموشی سے الماری سے اپنا ٹاٶزر اور شرٹ نکالی اور واشروم میں گھس گیا کچھ دیر بعد واشروم سے نکلا ایک نظر ساکت بیٹھی علیزے پر ڈالی پھر بیڈ کی دوسری طرف جاکر لیٹ گیا
علیزے نے ڈرتے ڈرتے گھنوگٹ اٹھایا سعد دوسری طرف رخ کیے لیٹا تھا
علیزے نے اپنی روکی ہوٸی سانس بھال کی پھر اٹھ کر اس نے بھی کپڑے تبدیل کیے اور بیڈ کے دوسری طرف سمٹ کے لیٹ گٸ
دونوں ہی بہت دن سے سوۓ نہیں تھے شادی کے بھی تھکے تھے دونوں کو لیٹتے ہی نیند آگٸ
صبح علیزے کی آنکھ کھولیں تو دس بج رہے تھے علیزے آنکھ مسلتی اٹھ بیٹھی اور بھر پور انگڑاٸی لی اس کی نظر سعد پر پڑی تو جلدی سے سیدھی ہوگٸ سعد اب بھی بے خبر سو رہا تھا
علیزے فریش ہوکر روم سے باہر نکل گٸ
” اٹھ گٸ میری بچی “
کوثر بیگم پہلے ہی اٹھ چکی تھیں علیزے کو لاٶنج میں آتے دیکھا تو اٹھ کر علیزے کو پیار سے گلے لگایا اور اس کا ماتھا چوما
”سعد نے زیادہ تنگ تو نہیں کیا تمھیں“
کوثر بیگم نے ذایان انیک کی جگہ لے لی یعنی علیزے کو زج کیا
”مما کیسی باتیں کررہی ہیں آپ“
علیزے شرماتے ہوۓ بولی
”اچھا اچھا کچھ نہیں بولتی تم ایسا کرو سعد کو اٹھاٶ میں ان شیطانوں کو اٹھاتی ہوں پھر ساتھ بیٹھ کر ناشتا کریں گے“
کوثر بیگم نے مسکراتے ہوۓ کہا
”مما مے میں کیسے اٹھاٶں ان کو“
علیزے گھبرا رہی تھی سعد کے سامنے جانے سے
”بیٹا جیسے اٹھاتی تھیں تم ہمیشہ ویسے اٹھاٶ چلو جلدی جاؤ “
کوثر بیگم علیزے کا گال تھپتھپا کر ذایان کے کمرے کی طرف چلی گٸ
علیزے کچھ دیر کھڑی راہ فرار کا سوچتی رہی پھر کچھ نہ بن سکا تو منہ اٹھا کر کمرے کی طرف چلدی
”سنیں اٹھیں سنیں اٹھیں سنیں اٹھ جاٸیں“
”افف یہ تو اٹھی ہی نہیں رہے “
علیزے سعد کے سر پر کھڑے منمنا رہی تھی جو سعد کے کانوں تک نہیں پوچھ رہی تھی
علیزے ہمیشہ سعد کے کمرے میں بے دھڑک گھس جاتی تھی اور اسے خوب جھنجوڑتی جب تک وہ اٹھ نہیں جاتا تھا
آج وہ ہی علیزے سعد کو ڈر ڈر کے اٹھا رہی تھی
”سنیں اٹھ جاٸیں“
علیزے نے گھبراتے گھبراتے اپنی کانپتی ہوٸی شہادت کی انگلی سعد کے کاندھے پر رکھی
سعد کسمسایا علیزے نے فوراً انگلی پیچھے کرلی
”کیا ہوا میرے سر پر کیوں کھڑی ہو “
سعد نے سخت لہجے میں کہا
”ووو وہ مہ مما نا ناشتے کے لیے بو بولا رہی ہیں “
علیزے نے دوپٹے کے پلو کو انگلی میں لپیٹتے ہوۓ کہا
”آرہا ہوں“
سعد نے آنکھیں پھر موند لیں تھیں
علیزے بھاگنے کے انداز میں روم سے نکلی تھی
”اففف علیزے نارمل ہوجاٶ یار مجھے اچھا نہیں لگتا تمھیں ایسے دیکھنا“
سعد بڑبڑاتے ہوۓ اٹھا اور واشروم میں گھوم ہوگیا
”گڈ مارنیگ بھابھی جان“
انیک نے علیزے کو نیا لقب دیا
”انیک بھاٸی یہ کیا کہہ رہے ہیں میں نہیں ہوں کوٸی آپ کی بھابھی وابی “
”گڈ مارنیگ گڑیا“
ذایان نے روم سے نکلتے ہی کہا
”یار بھاٸی یہ ہماری بھابھی بن گٸ ہے“
انیک نے ذایان کے گڑیا بولنے پر گلا کیا
”ذایان بھاٸی دیکھیں نہ انیک بھاٸی صبح صبح تنگ کررہے ہیں مجھے “
”اوۓ انیک کے بچے میری گڑیا کو تنگ نہیں کر میری گڑیا کو تنگ کرنے کا حق اب صرف سعد بھاٸی کا ہے“
ذایان نے شرارت سے کہا
”علیزے منہ کھولے کھڑی تھی “
جبکہ ذایان انیک ڈاٸینیگ ٹیبل پر بیٹھے ہنس رہے تھے
”آپ دونوں بہت برے ہیں میں آپ دونوں سے بات ہی نہیں کروں گی“
علیزے نے غصے سے منہ موڑ لیا
”ہاں ہاں اب ہم کہاں نظر آۓ گے تمھیں بھاٸی ہی نظر آۓ گے بس ان سے ہی بات کرو گی “ انیک پر علیزے کے غصے کا کوٸی فرق نہیں پڑا
ان سے کون بات کرے گا جن جیسے ہوگۓ ہیں وہ تو “
علیزے نے ذایان انیک کی طرف دیکھ کر منہ بنایا
”کیا کیسے ہوگۓ ہیں بھاٸی گڑیا ذرا دوبارہ بتانا“
ذایان نے سعد کو کمرے سے نکلتے دیکھا تو دوبارہ پوچھا
”وہ جن جیسے ہوگۓ ہیں “
سعد نے گلا کھنگارا علیزے وہی جم گٸ پیچھے مڑنے کی اس میں ہمت نہیں تھی
”وہ میں مما کو دیکھ کر آتی ہوں“
علیزے کچن میں بھاگ گٸ
علیزے سعد کو نہیں دیکھ پاٸی تھی کیونکہ وہ ذایان انیک کی طرف منہ کرکے کھڑی تھی سعد اس کے پیچھے تھا
سعد نے ساری باتیں سن لیں تھیں پر بولا کچھ نہیں تھا
”بھاٸی کیا کر دیا میری گڑیا کے ساتھ جو وہ آپ کو جن کہہ رہی ہے “
ذایان نے ہنستے ہوۓ سعد سے کہا
”وہ کہہ رہی تھی یا تم کہلوا رہے تھے“
سعد نے آٸی برو اچکاٸی
”وہ بھاٸی میں تو مذاق کر رہا تھا “
ذایان نے مسکراتے ہوۓ کہا
”کیا ہوگیا ہے صبح صبح کس بات پر بحث ہورہی ہے“
کوثر بیگم نے ناشتہ رکھتے ہوۓ کہا
”کچھ نہیں مما بس مذاق ہورہا تھا“
انیک نے جواب دیا
”سب ناشتہ کرو اب خاموشی سے علیزے جاٶ بیٹا سعد کی برابر والی چٸیر پر بیٹھ جاؤ“
کوثر بیگم نے علیزے کے ہاتھ سے گلاس لیتے ہوۓ کہا
علیزے نے سعد کی طرف دیکھا جو اسے ہی گھور رہا تھا علیزے نے نظریں پھیر لیں
سعد اب بھی اسے دیکھ رہا تھا
ذایان انیک ان کی یہ آنکھ مچولی انجوۓ کررہے تھے کوثر بیگم ناشتہ لگانے میں مصروف تھیں
”ارے کیا ہوا کھڑی کیوں ہو ناشتہ نہیں کرنا کیا“
کوثر بیگم نے علیزے کو کھڑا دیکھ کر پوچھا
”کچھ نہیں مما بیٹھ رہی ہوں“
وہ خاموشی سعد کے برابر میں بیٹھ گٸ
گردن جھکا کر
سعد بھی اپنی پلیٹ پر جھک گیا تھا
ذایان انیک بھی خاموشی سے ناشتہ کررہے تھے
”اوکے مما میں آفس جارہا ھوں “
”سعد دماغ ٹھیک ہے تمھارا کل شادی ہوٸی ہے آج آفس جارہے ہو“
کوثر بیگم نے سعد کو روکنا چاہا
”مما شادی کی وجہ سے ویسے ہی بہت چھٹیاں ہوگٸیں ہیں میری اور افورڈ نہیں کرسکتا پلیز سمجھے نہ مما “
سعد نے بے چارگی سے کہا
”اچھا ٹھیک ہے جاؤ “
کوثر بیگم نے اجازت دی
”تم دونوں کو نہیں جانا کیا “
سعد نے ناشتہ کرتے ہوۓ ذایان انیک کو دیکھا
”جی نہیں ہم تو چھٹی پر ہیں آج آپ جاٸیں آفس ہم اپنی گڑیا کو کمپنی دیں گے“
ذایان نے لاپرواٸی سے جواب دیا
”ہم مرضی تم دونوں کی“
سعد کندھے اچکا کرچلا گیا
”ذایان بھاٸی آپ آج سچ میں آفس نہیں جاٸیں گے “
علیزے کو لگا شاید ذایان نے سعد کو تنگ کرنے کے لیے جھوٹ کہا اسی لیے دوبارہ پوچھا
”جی میری گڑیا میں چھٹی پر ہوں آج“
ذایان نے مسکرا کر جواب دیا
”اور آپ“
اب علیزے انیک سے مخاطب ہوٸی
”میں بھی چھٹی پر ہوں“ انیک بھی مسکرایا
”جس کی شادی ہوٸی ہے اس نے تو چھٹی کی نہیں ان دونوں نے پتا نہیں کس خوشی میں چھٹی کی ہے “
کوثر بیگم نے دونوں کو شرم دلاٸی
”مما یہ دونوں مجھے باہر لے کر جاٸیں گے نہ کیوں ذایان بھاٸی انیک بھاٸی لے کر جاٸیں گے نہ “
علیزے نے سوالیہ نظروں سے دونوں کو دیکھا
”ہاں ہاں گڑیا کیوں نہیں“
ذایان نے خوشی خوشی ہامی بھری
”میری گڑیا کچھ کہے اور میں نہ کروں ایسا کبھی ہوسکتا ہے کیا“
انیک نے خوشی خوشی ہامی بھری
”چلو اچھی بات ہے ہو آٶ تم باہر دل بہل جاۓ گا تمھارا“
کوثر بیگم نے علیزے کے سر پر ہاتھ رکھا
”گڑیا بتاٶ کہاں چلو گی“
ذایان نے پیار سے پوچھا
”مجھے قبرستان جانا ہے ماما بابا کی قبر پر“
”بیٹا لڑکیاں قبرستان نہیں جاتی ہیں “
”مما پلیز ایک بار جانے دیں میرا بہت دل ہے پلیز ویسے بھی ان کا کوٸی بیٹا نہیں جو ان کی قبر پر فاتحہ پڑھنے جاۓ پلیز مما صرف ایک بار جانے دیں دوبارہ کبھی نہیں کہوں گی وہاں جانے کا “
علیزے کی آنکھوں میں آنسو جما ہونے لگے تھے
”اچھا ٹھیک ہے صرف ایک بار دوبارہ کبھی نہیں بولوگی جانے کا“
کوثر بیگم سنجیدہ تھیں
”جی مما میں کبھی نہیں بولوں گی جانے کا“ علیزے نے آنکھوں میں آٸی نمی صاف کرتے ہوۓ کہا
”جاٶ بچوں لے جاٶ بہن کو اور کوٸی شرارت نہیں کرنا پتا چلیں مردیں بھی تمھاری شرارت سے پریشان ہوکر قبرستان چھوڑ جاٸیں“
کوثر بیگم نے ذایان انیک کو تنبیہ کی
”اوکے مما “
”چلیں گڑیا“
ذایان نے علیزے کے کندھے پر ہاتھ پہلایا
”جی بھاٸی“
ذایان انیک نے اپنی اپنی باٸیکس کی چابیاں لی اور باہر نکل گۓ
ذایان کے ساتھ علیزے بیٹھی تھی
تینوں قبرستان پہنچ کر علیزے کے والدین کی قبر پر آگۓ سب نے خاموشی سے فاتحہ پڑھی علیزے کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے
”ارے میری گڑیا بس بس ایسے نہیں روتے مردے برا مان جاتے ہیں“
ذایان نے علیزے کا سر اپنے سینے سے لگایا
”آپ کو ہر بات مذاق لگتی ہے آپ کا کوٸی اپنا آپ سے دور جاۓ گا تب آپ سے پوچھوں گی“
علیزے نے ذایان کے سینے میں منہ چھپاۓ سسکتے ہوۓ کہا
”گڑیا تم بھول رہی ہو میں نے بھی تو اپنے بابا کو کھویا ہے“
ذایان ایک پل کو سنجیدہ ہوا
”اور اپنا باپ جیسا بھاٸی تمھیں دے دیا ہم نے اور کیا چاہیے تمھیں بھاٸی میں ہی اپنے بابا کو تلاش کرو کہی نہ کہی انکل نکل آٸیں گے“
ذایان نے زوردار قہقہ لگایا
علیزے نے ذایان کو خود سے دور کرتے ہوۓ دھکا دیا
ذایان اب بھی ہنس رہا تھا
”یار بھاٸی مردوں کو سچ میں بھگانے کا ارادہ ہے کیا “
انیک نے ذایان کے قہقوں کو روکا
”اوکے اوکے میں چپ ہوگیا سوری“
ذایان نے کان پکڑے
”گڑیا چھوڑوں اس مسخرے کو آٶ میرے پاس آجاٶ“
انیک نے علیزے کو دلاسا دیا
علیزے نے انیک کے سینے پر سر رکھ کر اس کی شرٹ بھیگونی شروع کردی
انیک ذایان کی طرف دیکھا
ذایان بھی اداس ہوگیا تھا وہ دونوں بس علیزے کو ہنسانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن وہ روۓ جارہی تھی
انیک کو شرارت سوجھی
”گڑیا چپ ہوجاٶ مت رو دیکھوں ہم ہیں نہ اور بھاٸی بھی تو ہیں بھاٸی نے ہمیں کبھی بابا کی کمی محسوس نہیں ہونے دی تمھیں بھی محسوس نہیں ہونے دیں گے تم بس اب انھیں اپنے بابا سمجھو شوہر نہیں ویسے بھی وہ جن جیسے شوہر ثابت ہوۓ ہیں تم اب ان کو بابا سمجھنا اوکے“
انیک خاموش ہوگیا
”آپ دونوں بہت برے ہیں شکایت کروں گی میں آپ دونوں کی“
علیزے اپنا رونا بھول کر ان پر غصہ کرنے لگی
”کس سے شکایت کرو گی اپنے سعد بابا سے“ ذایان نے ہنستے ہوۓ کہا
”ہاں بولو اپنے سعد بابا سے شکایت کرو گی“ انیک نے بھی علیزے کو چھیڑا
”تم لوگ یہاں کیا کر رہے ہو “
علیزے نے کچھ بولنے کے لیے لب کھولے ہی تھے پیچھے سے کسی کی آواز آنے پر گھبرا کر ذایان کے پہلو میں جا کھڑی ہوٸی
آنے والی شخصیت پر تینوں کی نظر پڑھی تو تینوں ہی سر جھکا کر کھڑے ہوگۓ
”کیا کررہے ہو تم لوگ یہاں جواب دو مجھے اور تم کیوں آٸی ہو یہاں قبرستان میں لڑکیاں نہیں آتیں تمھیں نہیں معلوم کیا “
سعد کی نظر اب علیزے پر ٹیکی ہوٸیں تھیں
علیزے ذایان انیک کے درمیان سر جھکاۓ کھڑی تھی
”وہ وہ یہ دونوں لاٸیں ہیں مجھے زبردستی میں تو منا کررہی تھی “
علیزے نے معصوم سی شکل بنا کر جواب دیا
ذایان انیک پھٹی پھٹی آنکھوں سے علیزے کو دیکھ رہے تھے
”بھاٸی یہ…..“
”چپ بس مجھے اور کچھ نہیں سننا تم دونوں کا دماغ خراب ہے جو اس کو قبرستان لے آۓ چلو دونوں ابھی اسی وقت گھر لے کر جاؤ اس کو“
سعد نے دونوں کو غصے سے ڈرایا
”جی بھاٸی “
وہ تینوں خاموشی سے باہر نکل گۓ
سعد نے فاتح پڑھنےکے لیے ہاتھ اٹھا لیے
”جھوٹی کتنا بڑا جھوٹ بولا ہے تم نے جھوٹ بولنے سے پہلے جگہ کا تو خیال کر لیتیں مردوں نے بھی سنا ہے تمھارا جھوٹ“
انیک باہر نکلتے ہی علیزے پر برس پڑا
”آپ لوگ مجھے تنگ کررہے تھے تو میں نے اپنا بدلہ لے لیا “
علیزے نے لاپرواٸی سے کہا
”واہ گڑیا تم نے ثابت کردیا تم میری بہن ہو“ ذایان نے علیزے کے کندھے پر بازوں پھیلاتے ہوۓ کہا
”یار بھاٸی اس نے اپنے بابا سے ڈانٹ پڑواٸی ہے ہماری اور تم ہنس رہے ہو“
اب ہنسنے کی باری انیک کی تھی
علیزے منہ پھلاۓ انیک کو دیکھ رہی تھی ذایان بھی ہنسی دباۓ کھڑا تھا
”تم لوگ ابھی تک یہی کھڑے ہو ایک بات سمجھ نہیں آتی تم لوگوں کو گھر جاؤ سیدھے“ سعد نے غصے میں کہا
”جی بھاٸی جارہے ہیں“
ذایان نے جلدی سے باٸیک کا ہینڈیل سنبھالا
انیک نے بھی اپنی باٸیک اسٹارٹ کی
علیزے بھی سر جھکاۓ باٸیک پر بیٹھ گٸ
وہ تینوں گھر جانے کے ارادے سے نکل گۓ تھے
سعد بھی اپنی کار اسٹارٹ کرکے آفس کے لیے نکل گیا تھا
”بھاٸی آٸسکریم کھاٸیں وہ دیکھو آٸسکریم پارلر “
انیک نے سڑک کے ایک طرف گاڑی روکی
”نہیں نہیں ذایان بھاٸی وہ غصہ کرے گے آپ پلیز گھر چلیں“
علیزے کو سعد کا غصے والا روپ یاد آیا
”گڑیا بھاٸی تو گۓ آفس ان کو کچھ نہیں پتا چلے گا آجاٶ آٸسکریم کھاتے ہیں“
ذایان نے علیزے کا ڈر کم کیا
”بھاٸی پلیز “
علیزے نے التجا کی
”ارے گڑیا سعد بھاٸی سچ کے جن نہیں ہیں جو تم اتنا ڈر رہی ہو کچھ نہیں ہوگا آجاٶ“
انیک علیزے کا ہاتھ پکڑ کر آٸسکریم پارلر کی طرف بڑھ گیا
ذایان بھی ان کے پیچھے پیچھے تھا
تینوں نے اپنے پسند کی آٸسکریم آرڈر کی دیوار گیر شیشے کے پاس والی ٹیبل پر بیٹھ گۓ
اس دیوار گیر شیشے سے اندر باہر کا سارا منظر نظر آرہا تھا علیزے کی پشت اس شیشے کے دیوار کی طرف تھی
انیک علیزے کی سامنے والی کرسی پر بیٹھا تھا ذایان علیزے کے سیدھے ہاتھ والی کرسی پر بیٹھا تھا
”گڑیا ویسے تم بھاٸی سے اتنا ڈرتی کیوں ہو“
انیک نے ڈری سہمی بیٹھی علیزے سے پوچھا
”جب سے ہمارا رشتہ بدلہ ہے وہ جن جیسے ہوگۓ ہیں مجھ سے سیدھی طرح بات بھی نہیں کرتے وہ ایسا لگتا ہے ان کو مجھ سے نفرت ہوگٸ ہے“
علیزے روہانسی ہوگٸ تھی
”نہیں میری گڑیا ایسی بات نہیں ہے“
ذایان نے علیزے کا ہاتھ پکڑ پیار سے کہا
”گڑیا دیکھو جیسے تم اس رشتے کو قبول نہیں کر پارہی ایسے بھاٸی نہیں کر پارہے وہ تم سے نفرت کبھی بھی نہیں کرسکتے میری جان تم دیکھنا بھاٸی کو تم سے آہستہ آہستہ پیار ہوگا پر ہوگا ضرور “
”ہاں اور جب پیار ہوجاۓ گا وہ پیار نہیں عشق ہوگا“
یہ آخری بات انیک نے کہی تھی جس پر وہ خود ہی ہنس دیا تھا
”انیک بھاٸی بس بھی کریں کوٸی موقع نہیں چھوڑتے آپ مجھے تنگ کرنے کا “
علیزے نے منہ بنایا
ذایان بھی مسکرارہا تھا اپنی پیاری گڑیا کو منہ بناۓ دیکھ کر
انیک ابھی بھی ہنس رہا تھا
انیک کی دلکش مسکراہٹ کا کوٸی مرید ہوا تھا اس نے اپنی کار میں بیٹھے ہی دیوار گیر شیشے کی طرف بیٹھے انیک کی کٸ تصویریں اپنے آٸی فون میں قید کی تھیں
ٹریفیک کی وجہ سے وہ گاڑی کچھ دیر کے لیے آٸسکریم پالر کے پاس روکی تھی اس میں بیٹھی شخصیت نے اندر بیٹھے انیک کو مسکراتے دیکھ کر دل سے اس کے مسکراتے رہنے کی دعا مانگی تھی اور اس کا ساتھ پانے کی خواہش جاگی تھی
ٹریفیک کم ہونے پر وہ گاڑی زن سے آگے بڑھ گٸ تھی ان نظروں نے انیک سے دور جاتے ہوۓ بھی انیک پر ہی نظر جما کر رکھی تھی
ٹریفیک میں کھڑے سعد کی نظر جب آٸسکریم پارلر پر پڑی تو علیزے ذایان انیک کو مزے سے آٸسکریم کھاتا دیکھ کر سعد کوحیرت کا جھٹکا لگا
”اففف کیا کروں میں ان لوگوں کا کہا بھی تھا سیدھے گھر جانا پھر بھی نہیں گۓ“
سعد بڑبڑاتے ہوۓ کار پارک کرکے کار سے نیچے اتر چکا تھا ۔۔
