Rishte Mohabat Ke by Misbah Khalid NovelR50485 Rishte Mohabat Ke Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
Rishte Mohabat Ke Episode 2
Rishte Mohabat Ke by Misbah Khalid
سعد صبح جلدی اٹھ کر آفس چلا گیا تھا وہ علیزے کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا
انیک اور ذایان نے آج چھٹی کی تھی تاکہ اپنی پیاری گڑیا کو شادی کے لیے راضی کر سکیں
کوثر بیگم بھی خوش تھیں پر ایک ڈر بھی تھا کہی علیزے یہ نہ سمجھے کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے مگر کوثر بیگم نے سوچ لیا تھا وہ علیزے کو ہمیشہ اپنی بیٹی بنا کر رکھے گیں کبھی ساسوں والا سلوک نہیں کرے گی کوثر بیگم ویسے ہی ایک نرم دل کی خاتون تھیں تو ان کا جابر ساس بننا ناممکن تھا
”انیک بھاٸی ذایان بھاٸی آپ کیسی باتیں کررہے ہیں سعد بھاٸی کو پتا چلا نہ دماغ ٹھیکانے پر لگا دیں گے آپ دونوں کا“
”اور اگر میں کہوں کہ یہ بات سعد بھاٸی کے علم میں ہے اور وہ راضی بھی ہیں تو کیا کہو گی تم “
انیک نے علیزے کے علم میں اضافہ کیا
”ذایان بھاٸی انیک بھاٸی کیا کہہ رہے ہیں یہ علیزے نے ذایان سے تاٸید چاہی“
”گڑیا یہ ٹھیک کہہ رہا ہے سعد بھاٸی بھی راضی ہیں“ ذایان نے سنجیدگی سے جواب دیا
”آپ لوگ ایسا کیوں کررہے ہیں میرے ساتھ کیوں کروا رہے ہیں میری شادی وہ بھی سعد بھاٸی سے“
علیزے کی آنکھیں بھیگ گٸ تھی آنسوں آنکھوں سے پسل کر رخساروں کا سفر طے کرتے ہوۓ علیزے کی گود میں گر رہے تھے
”نہیں نہیں میری گڑیا ایسے نہیں روتے “
ذایان علیزے کے آنسوں دیکھ کر تڑپ گیا تھا اس نے فوراً آگے بڑھ کر اپنی گڑیا کے آنسوں صاف کیے پھر ہاتھ کا پیالہ بنا کر علیزے کا چہرا اپنے ہاتھوں میں تھاما اور پیار سے سمجھانے لگا
”تم تو ہم سب کی جان ہو ہم تمھیں ہمیشہ اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں تمھیں خود سے دور نہیں کرنا چاہتے اسی لیے ہم یہ فیصلہ لے رہے ہیں کل کو ہمیں تمھاری شادی کرکے تمھیں رخصت کرنا ہوگا نہ تو ابھی کردیتے ہیں اور تمھیں ہمیشہ کے لیے اپنے پاس رکھ لیتے ہیں تاکہ اگر کوٸی تمھیں ہم سے دور بھی کرنا چاہے تو نہ کرسکے ایک دفع تمھاری بھاٸی سے شادی ہوجاۓ پھر ہم خوب مزے کرا کریں گے خوب گھومیں گے پھریں گے سعد بھاٸی کو تو تم بچپن سے جانتی ہو ان کی طرف سے تم بے فکر رہو وہ بھی بس تمھیں خوش دیکھنا چاہتے ہیں اسی لیے راضی ہوگۓ ہیں“
ذایان نے اتنے پیار سے سمجھایا علیزے دوبارہ نہ نہیں کر پاٸی
”ٹھیک ہے بھاٸی میں راضی ہوں“
علیزے نے سر جھکا کر کہا
انیک نے علیزے کی بات سن کر ذایان کو ستاٸشی نظروں سے دیکھا انیک کو یہ مشن جتنا مشکل لگ رہا تھا ذایان نے یہ مشن اتنی آسانی سے پورا کر لیا تھا
”یہ بات ہوٸی نہ میری گڑیا“ ذایان نے علیزے کو خود سے لگایا
”میں مما کو خوشخبری سنا کر آتا ہوں“
انیک کہتے کے ساتھ ہی روم سے نکل گیا
”گڑیا پریشان نہیں ہونا ان شاء اللہ سب ٹھیک ہوگا تمھارا یہ بھاٸی ہمیشہ تمھارے ساتھ رہے گا اگر شادی کے بعد کبھی بھی کوٸی بھی مسٸلہ ہو تو مجھے بتانا چاہے بھاٸی کی شکایت ہی ہو تمھارا بڑا بھاٸی ہونے کی حثیت سے میں بھاٸی کی خبر لوں گا“
ذایان کی آخری بات پر علیزے مسکرادی
” آپ ان کی خبر لے گے “
”ہاں تو میری بہن کو تنگ کرنے والے کو ایسے ہی چھوڑ دوں ہاں پھر بعد میں بھلے وہ میری پٹاٸی لگا لیں “
ذایان نے علیزے کو ہنسانا چاہا جس میں وہ کامیاب بھی ہوگیا
علیزے زور زور سے ہنس دی
”آپ بچپن میں بھی میرے لیے مار کھاتے تھے اتنے بڑے ہوکر بھی کھاٸیں گے“
علیزے نے ہنستے ہنستے کہا
”میری گڑیا کے لیے تو میں بچپن کیا پچپن میں بھی مار کھانے کو تیار ہوں“
ذایان خود بھی ہنس دیا علیزے کی بھی ہنسی روکنے کا نام نہیں لے رہی تھی
کوثر بیگم نے علیزے کے راضی ہونے پر شکر کا کلمہ پڑھا
شام میں سعد گھر آیا تو اسے بھی خوشی کی خبر سنائی پر وہ زیادہ خوش نہیں تھا وہ ابھی تک پریشان تھا اپنے اور علیزے کے رشتے کو لے کر اس کو ڈر تھا وہ اپنی ننھی گڑیا کو تکلیف نہ پہنچا دے .
گھر میں زوروشور سے شادی کی تیاریاں چل رہی تھیں ذایان انیک شادی کے کاموں میں مصروف تھے ذایان نے تو علیزے کے سارے کاموں کی ذمے داری خود لے لی تھی شوپینگ سے لے کر پارلر تک کی ایک ہفتے بعد شادی رکھی گٸ تھی ذایان نے علیزے کا جو بھی خرچا تھا خود کیا اس کا کہنا تھا
” میری ایک ہی تو بہن ہے اس کی شادی سارا خرچا میں خود اٹھاٶں گا“
سعد نے اسے کہا بھی
”مجھ سے بھی لے لو پیسے اکیلے کیسے کرو گے
”بھاٸی آپ کی طرح میں بھی جاب کرتا ہوں اپنی بہن کی شادی کی ذمے داری لے سکتا ہوں میں اور آپ پریشان نہیں ہو اگر ضرورت پڑی تو میں کروا لوں گا آپ کی بھی جیب خالی“ ذایان نے آخری بات مزاقیہ کہی
”ٹھیک ہے بھٸ جیسے تمھاری مرضی“
سعد نے ہار مان لی
علیزے تو شرم کے مارے کمرے سے باہر ہی نہیں نکلتی وہ کوثر بیگم کے کمرے میں رہتی تھی صرف کھانا کھانے باہر آتی تھی سعد کی موجودگی میں تو وہ بھی بھول جاتی تھی
کوثر بیگم ایک ماں کی طرح اس کو سمجھاتی رہتی اس کی گھبراہٹ اس کا ڈر کم کرنے کی کوشش کرتی ۔
جب سے دونوں نے شادی کے لیے رضامندی دی تھی دونوں نے ہی نہیں دیکھا تھا ایک دوسرے کو ایک ہفتے کے بعد شادی کا سن کر سعد کی طرح علیزے کی بھی نیندیں اڑ گٸ تھیں
”علیزے وہ سعد بھاٸی کہہ رہے تھے علیزے کو دیکھنے کا دل کررہا ہے تو میں نے رات کو چھت پر بھاٸی سے تمھاری میٹینگ سیٹ کردی ہے تم جاؤ گی نا ملنے بھاٸی سے“۔
انیک نے تو علیزے کی جان ہی نکال دی
انیک علیزے کو اپنے روم میں لے آیا تھا اور اب سعد کا نام لے کر تنگ کررہا تھا
”مے میں نہ نہیں جاؤں گی مم مما نے مہ منا کیا ہے ان سےمل ملنے سے“
علیزے نے ہگلاتے ہوۓ لفظ ادا کیے تھے سعد کے سامنے جانے کا سن کر ہی علیزے کی جان خشک ہوگٸ تھی
علیزے کا جواب سن کر اور حالت دیکھ کر انیک سے اپنی ہنسی روکنی مشکل ہوگٸ لیکن پھر بھی اس نے اپنی ہنسی کا گلا کھوٹتے ہوۓ علیزے کو تنگ کرنا جاری رکھا
”اچھا اگر مما منا نہ کرتی تو تم چلی جاتی بھاٸی سے ملنے“
”نہیں میں نہیں جاتی“
علیزے کی شکل رونے والی ہوگٸ تھی
”گڑیا تم نہیں گٸیں نہ بھاٸی کو غصہ آجاۓ گا انکا غصہ بہت خطرناک ہے “
انیک نے آنکھیں بڑی کرکے کہا
”نہیں میں نہیں جاؤں گی ان سے ملنے “
علیزے نے روتے روتے جواب دیا
”یہ کیا ہورہا ہے گڑیا تم کیوں رو رہی ہو“ ذایان جو ابھی کمرے میں داخل ہوا تھا اپنی پیاری بہن کو روتے دیکھا تو اس سے رونے کی وجہ پوچھی
انیک بیٹھا ہنس رہا تھا
”ذایان بھاٸی میں ان سے ملنے نہیں جاؤں گی چھت پر “
علیزے نے ذایان کو روتے روتے بتایا
”کس سے ملنے نہیں جاؤ گی“
ذایان نے ناسمجھنے والے انداز میں پوچھا
انیک اب زور سے ہنسا تھا
” تم کتنی ڈرپوک ہو یار گڑیا “
”تم نے کچھ کہا ہے نہ اس کو“
ذایان انیک کے سر پر کھڑا اس سے پوچھ رہا تھا
”یار بھاٸی میں نے صرف اس سے اتنا کہا ہے بھاٸی اس سے چھت پر اکیلے ملنا چاہتے ہیں آج رات کو اور یہ نہیں ملنے گٸ تو ان کو غصہ آجاۓ گا بس پھر یہ رونے لگی “
انیک نے چہرے پر مسکراہٹ سجاۓ پوری بات ذایان کو بتا دی
ذایان کا پارہ ہاٸی ہوگیا
”سارے گھر والے مجھے شرارتوں کا دیوتا کہتے ہیں اور توں یہاں بیٹھ کر میری گڑیا کو اپنی شرارتوں سے رولا رہا ہے اب بچ توں مجھ سے“
ذایان انیک پر جھنپٹا
انیک ذایان کا ارادہ بھانپ کر بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا ذایان دوبارہ آگے بڑھا اسے مارنے انیک بیڈ کے دوسری طرف بھاگ گیا اسی طرح وہ دونوں پورے کمرے میں ادھر اُدھر دوڑ لگا رہے تھے پورا کمرا ان دونوں کی آوازوں سے گونج رہا تھا
علیزے بھی انیک کی پٹاٸی لگتے ہوۓ دیکھ کر اپنی ہنسی نہیں روک سکی
”سوری بھاٸی اب نہیں کروں گا یار میں مذاق کررہا تھا گڑیا سے“
انیک نے ذایان کے واروں سے بچتے ہوۓ کہا
”چھوٹے توں نے میری بہن کو رولایا ہے چھوڑوں گا نہیں میں تجھے“
ذایان کسی قیمت پر انیک کو بخشنے کو راضی نہیں تھا
یہ تینوں اپنی مستی میں مگن تھے ایک دم سے کمرے کا دروازہ کھولا
”یہ کیا دھما چوکڑی مچاٸی ہوٸی ہے تم لوگوں نے “سعد کی زور دار آواز کمرے میں گونجی
سعد ابھی آفس سے آیا تھا انیک کے کمرے سے آتی آوازوں کو سن کر انیک کے کمرے میں آگیا
کمرے میں موجود تینوں نفوس اپنی اپنی جگہ ساکت ہوگۓ تھے
سعد کی نظر علیزے پر پڑی وہ ضرورت سے زیادہ سر جھکاۓ بیٹھی تھی
”کیا ہورہا ہے یہاں کس بات کا شور ہورہا ہے“ سعد کی نظرے اب انیک اور ذایان پر تھیں
”بھاٸی یہ انیک کا بچہ میری گڑیا کو تنگ کررہا تھا تو بس میں اس کی عقل ٹھیکانے لگا رہا تھا“
ذایان نے انیک کو گھورتے ہوۓ جواب دیا
”اچھا چلو بس سب اپنے اپنے کمرے میں جاؤ اب نہ سنو میں شور کی آواز “
سعد اپنے کمرے میں چلا گیا
ذایان انیک نے علیزے کو دیکھا وہ ابھی بھی گردن جھکاۓ بیٹھی تھی
علیزے کو دیکھ کر وہ دونوں زور سے ہنسے
علیزے نے چونک کر ان دونوں کی طرف دیکھا
”گۓ بھاٸی اب تم جا سکتی ہو اپنے روم میں“ انیک نے ہنستے ہنستے کہا
علیزے نے دروازے کی طرف دیکھا وہاں اب کوٸی موجود نہیں تھا
”گڑیا اتنا گھبراتی کیوں ہو تم بھاٸی سے بھاٸی تم سے بہت محبت کریں گے یہ جو جلادوں والا منہ لے کر گھوم رہے ہیں نہ شادی کے بعد اس منہ پر مسکراہٹ سجی رہے گی لیکن ان سب میں کچھ ٹاٸم لگے گا تمھیں ہمت سے کام لینا ہوگا بس تم جانتی ہو شادی کس حالات میں ہورہی ہے ان حالات میں بھاٸی اور تمھیں ایک دوسرے کو اس نۓ رشتے میں بندھنے میں وقت لگے گا پر میرا یقین کرو میری گڑیا تم تمھارے لیے بھاٸی سے اچھا شریکٍ حیات کوٸی ہو ہی نہیں سکتا وہ بچپن سے تمھارا خیال رکھتے آۓ ہیں ان شاء اللہ آگے بھی رکھیں گے بلکہ ہمیشہ رکھے گے“
ذایان نے پیار سے گڑیا کو سمجھایا
وہ سر جھکاۓ اس کی ساری باتیں ذہن نشیں کررہی تھی
”ہاں گڑیا ذایان ٹھیک کہہ رہا ہے بھاٸی تمھیں بہت چاہے گے دیکھنا تمھیں بس ہمت سے کام لینا ہے امید کا دامن اپنے ہاتھوں سے نہیں چھوڑنا ہے کیونکہ“
انیک روکا اور ذایان کی طرف دیکھا
”کیونکہ امید پر دنیا قاٸم ہے“
ذایان انیک نے یک زبان ہوکر زور سے کہا علیزے کھلکھلا کر ہنس دی
”ذااااایان انیییییک نہیں مانو گے تم دونوں “ باہر سے سعد کی آواز آٸی
دونوں نے اپنی زبان دانتوں کے بیچ میں دبا لی
علیزے اور زور سے ہنس دی وہ دونوں بھی ہنسنے لگے پھر تینوں اپنے اپنے کمرے میں جاکر سو گۓ .
آج گھر میں علیزے اور سعد کی مشترکہ مایوں کا اہتمام رکھا گیا تھا
کوثر بیگم نہیں چاہتی تھیں علیزے کو کل کو احساس ہو اس کے ماں باپ ہوتے تو اس کی شادی بھی دھوم دھام سے ہوتی وہ ایک ماں کی حیثیت سے علیزے کا ہر ارمان پورا کر رہی تھیں
علیزے اپنے کمرے میں بیٹھی آنسوں بہا رہی تھی
” کاش مما بابا آپ ہوتے دیکھتے آپ کی بیٹی کتنی بڑی ہوگٸ اس کی شادی ہورہی ہے کاش آپ لوگ بھی ہوتے میری خوشیاں ادھوری ہیں آپ دونوں کے بنا“
علیزے اپنے گھٹنوں منہ چھپاۓ رو رہی تھی
کوثر بیگم کمرے میں آٸیں تو اس کو روتے دیکھا تو پریشان ہوگٸیں
” علیزے میری بچی کیا ہوا کیوں رورہی ہو میری جان مجھے بتاٶ“
انھوں نے پیار سے اس کا چہرا اوپر کیا
علیزے کا آنسوٶں سے تر چہرا دیکھ کر کوثر بیگم تڑپ اٹھیں اور اس کو اپنے سینے سے لگا لیا
” کیا ہوا کیوں رو رہی ہو“ کوثر بیگم نے دوبارہ سوال دہرایا
”مما بابا کی یاد آرہی ہے کاش وہ بھی ہوتے میری خوشیاں ادھوری ہیں ان کے بنا مما“ (علیزے کے ماں باپ کی وفات کے بعد علیزے کوثر بیگم کے کہنے پر ان کو مما بولتی تھی )مجھے بہت یاد آتی ہے ان کی کیسے گزاروں گی میں ان کے بنا پوری زندگی“
علیزے رورو کر کوثر بیگم سے اپنا دل ہلکا کر رہی تھی
”میری بچی ایسے نہیں روتے تم اکیلی نہیں ہو ہم سب ہیں نا ذایان انیک اور سعد سے تو تمھارا اتنا خوبصورت رشتہ جڑنے والا ہے دنیا میں ماں باپ کے رشتے کے بعد اگر کوٸی خوبصورت رشتہ ہے تو میاں بیوی کا ہے میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں تم دیکھنا ایک دن سعد کو تم سے عشق ہوجاۓ گا “
آخری بات کوثر بیگم نے شرارت سے کہی
”مما بھٸ یہ کیسی باتیں کر رہی ہیں “
علیزے نے منہ بناتے ہوۓ کہا
”یہ ماں بیٹی کی باتیں ختم نہیں ہوٸیں“
ذایان نے کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ کہا
”نہیں نہیں بھٸ میں تو گڑیا کو تیار کرنے آٸی تھی “
کوثر بیگم نے پیار سے علیزے کے سر پر ہاتھ پھیرا
”تو مما تیار کردیں دلہے میاں کب سے تیار ہوۓ اپنی ننھی سی دلہن کی راہ دیکھ رہے ہیں“ ذایان نے علیزے کو چھیڑا
”علیزے تو شرم سے لال ہوچکی تھی اور شرم سے سر کیا گردن ہی جھکا لی تھی پوری
”چل شرارتی میری بچی کو تنگ نہیں کر تم جاؤ میں تیار کرکے لاتی ہوں اپنی بیٹی کو“ کوثر بیگم نے مسکراتے ہوۓ کہا
”اوکے مما ہم بھاٸی کو مایوں بیٹھا رہے ہیں تب تک “
ٹھیک ہے بیٹا جاؤ “ کوثر بیگم علیزے کو تیار کرنے لگ گیٸں
”واہ میرے شہزادے کتنے پیارے لگ رہے ہو چھوٹے ایمبولینس کا انتظام کرلے آج تو ساری لڑکیاں گھاٸل ہوجاٸیں گی“
ذایان نے انیک کو شرارتی سی ہدایت کی
”ذایان تم اپنی حرکتوں سے باز نہیں آٶ گے“ سعد نے ذایان کو گھورتے ہوۓ کہا
”نہیں میں تو بلکل باز نہیں آنے والا ابھی گڑیا کو تنگ کرکے آیا ہوں اب آپ کو کروں گا“
ذایان نے ہنستے ہوۓ کہا
”اس کو تو بخش دیا کرو تم لوگ کم سے کم اپنے اپنے کاموں سے تو تم لوگ چھٹی لے چکے ہو سارا دن یا تو اس کو تنگ کرتے رہتے ہو یا تو مجھے شرم نہیں آتی تم دونوں کو “
سعد نے دونوں کو ڈانٹا
لیکن دونوں کو ہی کوٸی اثر نہیں ہوا دونوں ڈھیٹ بنے اپنے دانتوں کی نمائش کرتے رہے
”ہو ہی ڈھیٹ سدا کے دونوں“
سعد نے چڑتے ہوۓ کہا
تیار ہوگۓ سعد بیٹا تم “کوثر بیگم نے کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ کہا
”جی مما “سعد نے سنجیدگی سے جواب دیا
”میرا بچہ ماشاءاللہ کتنا پیارا لگ رہا ہے نظر نہ لگے میرے بچے کو“
کوثر بیگم نے پیار سے سعد کا ماتھا چوما
”مما ہم اچھے نہیں لگ رہے“ انیک نے منہ بناتے ہوۓ کہا
”تم تو بندر لگ رہے ہو میں تو شہزادہ لگ رہا ہوں کیوں مما “
ذایان نے انیک کو چھیڑا اور کوثر بیگم کے پیار سے گلے لگ گیا
”مما میں بندر لگ رہا ہوں“
انیک نے معصوم سا منہ بنایا اور کوثر بیگم کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا
”نہیں میرے تینوں بیٹے شہزادے لگ رہے ہیں“ ذایان تو کوثر بیگم کے گلے کا ہار بنا ہوا تھا انھوں نے پیار سے اپنے دونوں بیٹوں کے چہرے پر ہاتھ پھیرے
”تم دونوں کب بڑے ہوگے “سعد نے دونوں کو باری باری دیکھا
”جب ہم چاچو بن جاٸیں گے“
ذایان انیک نے ایک ساتھ کہا اور زور زور سے ہنسنے لگے
سعد تو حیران رہ گیا ان دونوں کی بات سن کر جبکہ کوثر بیگم اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی ہنسی پر قابو پانے کی کوشش کررہیں تھیں
”تم دونوں کو تو میں“
سعد ان دونوں کو مارنے آگے ہی بڑھا تھا
کوثر بیگم نے بیچ میں آکر روک لیا
”ان دونوں کی خبر بعد میں لینا پہلے مایوں کی رسم پوری کرو “
”اوکے مما “سعد خاموشی سے پیچھے ہوگیا .
ذایان انیک کے شفقت بھرے ساۓ میں سہج سہج کے آتی اپنی گڑیا کو دیکھ کر سعد کے اوسان خطا ہورہے تھے وہ سجی سنوری علیزے پہلی بار دیکھ رہا تھا
ذایان اپنی گڑیا کو سب سے منفرد مایوں کی دلہن بنانا چاہتا تھا اس لیے اس نے مایوں کا جوڑا ذرد رنگ کے بجائے جامنی رنگ کا لیا تھا بنارسی کی جامنی رنگ کی گھٹنو سے ذرا اوپر آتی قمیض اور اس کے ساتھ خوبصورت سا زمین کو چھونے والا گرارا سرپر ذرد رنگ کا دوپٹہ اور اس کے چاروں اطراف بر جامنی رنگ کے ستاروں سے کڑھاٸی ہوٸی تھی علیزے کے چاند سے مکھڑے پر چمبیلی کے پھولوں کا گہنا سجایا گیا تھا علیزے بے حد حسین لگ رہی تھی
ذایان کے اسرار پر سعد نے بھی جامنی رنگ کا کُرتا پہنا تھا کُرتے کے گلے پر ہلکی پھلکی گڑھاٸی ہوٸی تھی کُرتے کے ساتھ سفید رنگ کی شلوار اور گلے میں ذرد رنگ کی چندری ڈالی تھی
سعد کو دیکھ کر کتنی ہی لڑکیاں علیزے کی قسمت پر عش عش کررہیں تھیں
ذایان انیک نے سبز رنگ کے کُرتے پہنے تھے اس کے ساتھ سفید شلوار اور گلے میں ذرد رنگ کی چندری ڈالی تھی وہ دونوں بھی لڑکیوں پر اپنے حسن و وجاہت کا جادوں چلانے میں کامیاب ہوگۓ تھے
” واہ میری گڑیا میرے بھاٸی تو تمھیں دیکھ کر پلک جھپکنا ہی بھول گۓ ہیں“
انیک نے علیزے کے کان میں سرگوشی کی
علیزے نے سامنے اسٹیج پر بیٹھے سعد کو دیکھا جو چہرے پر مسکراہٹ سجاۓ بنا پلک جھبکاۓ سجی سنوری علیزے کو دیکھ کر اپنی ایک ہفتے کی پیاس بجھا رہا تھا
علیزے نے وہی اپنے قدم روک لیے
”کیا ہوا گڑیا چلو“ ذایان نے پیار سے کہا
”مومجھے گھ گھر جانا ہے “علیزے نے گھبراتے ہوۓ کہا
”میری گڑیا مایوں کی رسم میں دلہن کی جگہ بھاٸی کے ساتھ میں بیٹھوں گا کیا“
ذایان نے علیزے کو شرارت سے کہا
سعد علیزے کی گھبراہٹ سمجھ کر اپنی نظروں کا زاویہ بدل چکا تھا ۔
