267.9K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

No One Wheeling Episode 9

No One Wheeling by Umme Hani

شازمہ کا رو رو کے برا حال تھا دوسرے روز عاتقہ بیگم اور زمان صاحب اسکے گھر گئے تھے جیدی صاحب کے میں جب سب باتیں آئیں تو وہ زمرد بیگم کو گھورنے لگے لیکن کہا کچھ نہیں جانتے تھے کہ وہ کچھ سنے گی نہیں پھر شازل سے کہنے لگے

” شازل آج کے بعد بنا مجھ سے پوچھے اگر تم زمان کے گھر دوبارہ شکایت لیکر گئے تو پھر دیکھنا ۔۔۔۔ یعنی کے حد ہی ہو گئ ہے ذرا سی بات کا تماشہ بنا کر رکھ دیا ہے ۔۔”

شازل بھی ماتھے پر تیوری چڑھائے بیٹھا تھا

” ابو شازی بھی قصوروار ہے “

” ٹھیک ہے وہ غلط تھی بھی تو بات مجھے بتانی چاہیے تھی میں اسے خود منع کرتا اگر پھر بھی وہ باز نا آتی ۔۔۔۔ پھر بات اسکے گھر پر کی جاتی ۔۔۔ “

” طریقہ بھی یہی ہے بھائی صاحب ۔۔۔۔ اگر شازی غلط تھی تب بھی بھابی کو ماں بنکر اسے سمجھانا چاہیے تھا ۔۔۔۔ اب نیناں بڑے گھر سے آئی ہے ۔۔۔۔ عیش و عشرت کے بنا اگر میرے گھر خوش ہے تو اس میں میرا بھی برابر کا ہاتھ ہے ۔۔۔۔۔ میں نے سارے گھر کی زمیداری اسی کے سر پر ہر گز نہیں ڈال رکھی کئ بار نیناں سے بھی غلطیاں ہوئیں ہیں کئ بار وہ کھانا بناتے ہوئے خراب بھی کر جاتی تھی اپنے کم وسائل کے باوجود میں نے کبھی ماتھے پر بل نہیں ڈالے ۔۔۔ اور وجہ ہیں زمان صاحب انہوں مجھے پہلے ہی کہہ دیا تھا ۔۔۔۔ بیگم سمجھ لو تیسری بیٹی کو گھر لا رہی ہو ۔۔۔۔ بہنو نہیں۔۔۔۔ جیسے نمی اور شازی کی غلطیوں پر دل بڑا کر کے انہیں پیار سے رکھا تھا نیناں کو بھی ویسے ہی رکھنا۔۔۔۔ بس ڈانتے ہوئے یہ خیال رکھنا کہ وہ بہو ہے ۔۔۔۔ اپنے بچے کو تو انسان ایک تھپڑ مار کر بھی سمجھا دیتا ہے پر بہو سخت لہجہ سن کر پچھلی ساری عنایتوں پر پانی پھیر دیتی ہے ۔۔۔۔ بیگم تمہاری برداشت کا اصل امتحان تو سمجھوں اب شروع ہوا ہے ۔۔۔ بس یہی بات میں نے اپنے پلو سے باندھ لی کب مجھے نیناں بہو کم اور بیٹی زیادہ لگنے لگی پتہ ہی نہیں چلا ۔۔۔۔ میں نے تو اپنے پوتوں کو بھی صرف بہو کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ رکھا ۔۔۔۔۔ انہیں بھی ایسے ہی دل وجان سے لگا کر رکھتی ہوں جیسے نمی کی بیٹی کو ۔۔۔۔ ” عاتقہ بیگم ایسے موقعے سے پورافائدہ اٹھانا جانتی تھیں ۔۔۔۔ زمان صاحب کاسینہ چوڑا ہو جاتا تھا بیوی کی سمجھداری سے ۔۔۔۔ جیدی صاحب کے اندر بھی غیرت سی جاگنے لگتی تھی ۔۔۔۔

” کاش کے تھوڑی سی عقل اللہ زمرد کو بھی دیدے تو گھر میں کچھ تو سکون ہو ۔۔۔ ” خلاف توقع زمرد بیگم چپ ہی رہیں تھیں ۔۔۔ بس فہمائشی نظروں سے سب کو دیکھ رہیں تھیں

” شازی بیٹا آئندہ میں یہ کبھی نا سنو کہ تم نے گھر کی بات باہر ہسپتالوں میں جا کر بتائی ہو ۔۔۔

اور بیگم تم بھی شازی کے ساتھ ذرا کچن کا رخ کر لیا کرو ۔۔۔۔۔ ضروری نہیں صبح ہی ناشتے سے لیکر رات کے کھانے تک کی ساری ذمہ داری اسی کی ہو

” پچھے ایک مہینے سے میں ہی کر رہی ہوں۔۔۔ شازی کو میرا ذراخیال آیا کہ تائی اماں گھٹنوں کے درد کے ساتھ کیسے سب کر رہی ہیں ۔۔ معاف کرنا زمان مگر جہاں بیوی کو اتنا سمجھا کر اپنا گھر جنت بنا رہے ہو ذرا بیٹی کے پلے میں بھی چند باتیں ڈال کر رخصت کرتے کء بوڑھی ساس کا بھی ماں بنکر احساس کر لیتی تو میرا گھر بھی جنت بن جاتا ۔۔۔۔ ” زمرد بیگم کہاں باز آنے والی تھیں ۔۔۔ زمان صاحب جہاں بیوی کی وجہ سے خوش ہوئے تھے وہیں دل میں بھابھی کی بات پر بھی صادقت کا احساس ہوا تھا

” شازی مجھے اب تمہاری شکایت نہیں چاہیے ۔۔۔ ” زمان صاحب کی بات پر شازمہ نے اثبات میں سر ہلایا تھا کچھ ہی دیر میں عاتقہ بیگم اور زمان صاحب جا چکے تھے۔۔۔۔۔ دو دن سے شازل نے شازمہ سے بات نہیں کی تھی ۔۔۔۔ اور نا ہی شازمہ اس سے ہمکلام ہوئی تھی ۔۔۔۔

رات کو جیدی صاحب نے بیٹے اور بہو کے بگڑے موڈ کے ساتھ دیکھا تو ۔۔۔۔ شازل سے بولے

” شازل جاو شازی کو باہر لیکر آجاؤ اچھی سی آئسکریم کھلا کر لاو۔۔۔۔ “

” ابو میرا موڈ نہیں ہے ” شازل نے تیوری چڑھائے کہا

” تایا ابو مجھے بھی نہیں جانا ” شازمہ بھی منہ پھلائے بولی

” میں نے تم لوگوں سے مشورہ نہیں مانگا چلو اٹھو اور جاؤں ۔۔۔۔ ” شازل نے ایک تیکھی نظر شازمہ پر ڈالی تھی پھر اٹھ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔

کچھ دیر تو دونوں گاڑی میں چپ ہی بیٹھے رہے ۔۔۔دونوں ہی اس انتظار میں تھے کہ مقابل صلح میں پہل کرے ۔۔۔۔ شازل نے ہی آخر بات میں پہل کی

” اب اپنا موڈ بھی ٹھیک کر لو ۔۔۔۔ بہت ہو چکا ” ایک نظر شازمہ پر ڈال کر بولا

” آپ کو پروا ہے میرے موڈ کی؟ ” شازمہ کا لہجہ بھی مغموم تھا

” شازو ۔۔۔۔۔ ہم بات ختم بھی کر سکتے ہیں ۔۔۔۔ چلو

بتاؤں آئسکریم کہاں سے کھلاؤ۔ تمہیں “

” مجھے آئسکریم نہیں کھانی ۔۔۔۔ برنس روڈ کی چاٹ کھانی ہے ” شازمہ نے بھی بات کو ختم کرنے میں ہی عافیت سمجھی تھی ۔۔۔۔ دو دن سے رو رو کر ویسے بے حال ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔ غلطی تو اپنی بھی تھی ۔۔۔۔ اس لئے اپنی فرمائش بتا کر بات کو ختم کیا تھا اتفاق تھا کہ اسی وقت شاہزیب بھی نیناں کو وہیں چارٹ کھلانے لیکر گیا تھا وہیں رکھے ٹیبل پر بیٹھے تھے جب شازل کی گاڑی وہاں رکی تھی ۔۔۔ اتفاق تھا کہ نیناں اور شاہزیب تو انہیں دیکھ چکے تھے لیکن انکی نظر ان دونوں پر نہیں پڑی تھی ۔۔۔۔۔ شازل آپنے ہاتھ سے چمچ پکڑے شازمہ کو چارٹ کھلا رہا تھا دونوں کسی بات پر مسکرا بھی رہے تھے ۔۔۔۔ شاہزیب کچھ متذبذب بھی تھا ۔۔۔ کچھ اسے شازمہ پر غصہ بھی آیا کہ کم از کم چار دن تو اسے بھی ناراضگی دیکھانا چاہیے تھی ۔۔۔۔ تا کہ شازل کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ۔۔۔ یہ کیا کہ اگلے دن ہی وہ شازل کے ساتھ گھومنے بھی پہنچ گئ ۔۔۔۔

” چلو اچھا ہے کہ دونوں کی صلح ہو گئ ” نیناں نے یک ٹک شاہزیب کو ان دونوں کو دیکھتے ہوئے دیکھ کر کہا

“خاک اچھا ہے۔۔۔۔۔ شازی کو کچھ تو ناراضگی دیکھا نا چاہیے تھی اس کے اسکا دماغ درست ہوتا ۔۔۔ ” شاہزیب تپ کر بولا تھا نیناں کو شازمہ کی پچھلی ساری باتیں یاد آنے لگی جو مختلف موقعوں پر وہ اسے سنا چکی تھی یا میکے آ کر ماں کے سامنے کرتی تھی

” شاہزیب ایک بات کہو آپ کو بری تو نہیں لگے گی ” نیناں نے چاٹ میں چمچ چلاتے ہوئے کہا شاہزیب نے شازمہ سے نظریں ہٹا کر نیناں کی طرف دیکھا

” ہاں کہو ” شاہزیب اب چاٹ کھاتے ہوئے پوچھنے لگا

” بے شک تائی اماں سخت مزاج کی ہیں ۔۔۔ زبان کی تیز بھی ہیں ۔۔۔۔ لیکن شازل بھائی شازی آپی کا بہت خیال رکھتے ہیں ۔۔۔۔ پھر کون سے میاں بیوی ہیں جن میں نوک جھوک نا ہوتی ہو ۔۔۔۔ شازی آپی ہمیشہ امی سے صرف شازل بھائی اور تائی اماں کے شکوے ہی کرتی ہیں ۔۔۔۔ کبھی یہ نہیں بتاتیں کہ شازل بھائی انہیں ڈھیر ساری شاپنگ بھی کرواتے ہیں ۔۔۔۔ آئے دن ہوٹل پر بھی ڈنر کرواتے ہیں ۔۔۔۔ لیکن مجھ سے ضرور یہ باتیں کرتی ہیں یا شاید مجھ سے اس لئے تذکرہ کر دیتی ہیں کہ میں یہ سب اب کر نہیں سکتی اس لئے مجھ پر جتانے کی کوشش کرتی ہیں ۔۔۔۔ اس لئے بہت بڑھا چڑھا کر بتاتی ہیں ۔۔۔ کہتی ہیں یہ دیکھوں نیناں شازل نے مجھے برینڈ کی گھڑی لیکر دی ۔۔۔ شازل اسبار کونٹنٹل میں ڈنر کروانے لے گئے تھے ۔۔۔۔ کچھ نا کچھ بتاتی رہتی ہیں ۔۔۔ لیکن امی سے صرف شکوے ہی کرتی ہیں جس سے ان کا دل دل ہمیشہ شازل بھائی سے خراب ہی رہتا ہے ۔۔۔ دیکھا جائے تو شازی اپی ہم سے کئ گنا زیادہ اچھی لائف گزار رہیں ہیں شاہزیب ۔۔ جب اتنی آسائشیں اور سکون مل رہا ہے تو تائی اماں کی چھوٹی موٹی باتوں کو اگنور کر دینا چاہیے ۔۔۔۔ یہ کیا بات ہوئی کہ میاں نے ہنسایا تو اس بات کو میکے والوں سے چھپا دیا،اوراگر کچھ خفا کر دیا تو واویلا مچادیا ۔۔۔۔ ” شاہزیب نے نیناں کی بات خاموشی سے سنی تھی ۔۔۔۔ نظریں پھر سے شازمہ کے مسکراتے چہرے پر جا کر ٹک گئیں ۔۔۔۔ قیمتی لباس سونے چھوٹے سے جھمکے برینڈ کا پرس۔۔۔ مہنگا موبائل ۔۔۔۔۔ مہنگی گاڑی میں بیٹھی وہ شازل کے ہاتھ سے چاٹ کھارہی تھی ۔۔۔ خوش تھی ۔۔۔۔ پھر نظریں نیناں پر جا ٹک گئیں ۔۔۔ جو ان سے کئ ذیادہ دولت مند تھی ۔۔۔۔ لیکن اس وقت ایک سادے سے کاٹن کے لباس پہنے ۔۔ کانوں میں عاتقہ بیگم کے لائے ہوئے ارٹفیشل ٹاپس پہنے ہاتھ میں چند کانچ کی چوڑیاں اور سونے کے نام پر وہی شاہزیب کی پہنائی ہوئی رنگ تھی ۔۔۔۔ پھر بھی خوش تھی ۔۔۔۔

پہلی بار ایک الگ طرز سے سوچنے لگا تھا ۔۔۔۔ شازی واقعی بہت سیدھی سی لڑکی ہر گز نہیں تھی بہن تھی اسکی ۔۔۔۔ اتنا تووہ بھی سمجھ سکتا تھا کہ تائی اماں کی ہر بات پر سر جھکائے تو نہیں مانتی ہو گی ۔۔۔۔ جواب تو برابر کا دیتی ہو گی

” صاحب بل ” ملازم نے خالی پلٹیں اٹھتے ہوئے بولا شاہزیب کچھ چونکچسا گیا جیب سے پیسے نکال کر اس نے لڑکے کو پکڑائے نیناں بھی کھڑی ہو گئ تھی ۔۔۔۔

*****……..

ذولفقار قیوم صابر کے آفس کی بلڈنگ سے باہر نکلا تو سامنے شاہزیب کو بائیک پر بیٹھا دیکھ کر ٹھٹھک گیا ۔۔۔۔ ذولفقار بھی انہی لڑکوں میں سے تھا جو لڑکے قیوم صابر کی ٹیم میں ون ویلنگ کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔ اور اسوقت ٹیم کا کیپٹن وہی تھا ۔۔ لیکن جب شاہزیب نے ویلنگ شروع کی تھی تو

اسکی اہمیت بہت۔ ہو گئ تھی یہی وجہ تھیں کہ ذولفقار اور اسکے دوست شاہزیب سے خار کھانے لگے تھے ۔۔۔۔

شاہزیب کی نظریں ذولفقار پر ہی تھیں ۔۔۔ وہ نظریں بدل کر اپنی بائیک کے پاس جانے لگا لیکن شاہزیب نے بائیک آگے بڑھا کر اسکا رستہ روک دیا

” زلفی صاحب نا سلام نا دعا کہاں تیزی سے بھاگے جا رہے ہو ” شاہزیب نے اسکی بوکھلاہٹ بھانپ کر کہا

” نن۔۔نہیں تو بس میں نے غور نہیں کیا تھا کہ تم ہو ۔۔۔ کیسے ہو ۔۔۔ بڑی دیر بعد چکر لگایا ” ذوالفقار کا حلق خشک ہوا تھا

” میرا تو اب بھی آنے کا ارادہ نہیں تھا لیکن کیا ہے نا ۔۔۔۔ آنا پڑا ۔۔۔۔ یار کچھ باتیں کرنی تھی تم سے صابر قیوم کے بڑے خاص بندے ہو تم ۔۔۔۔ اس لئے تمہیں سب خبر ہوتی ہے ۔۔۔آجکل۔ پتہ نہیں کون کمینہ میرا نقاب پہن کر مجھے بد نام کرنے پر تلا ہو ہے ۔۔۔

کم بخت ایک گیم بھی جیت جاتا تو افسوس نا ہوتا ۔۔۔۔۔ لیکن شاہوں جیسی اڑان ہر ایک کے بس کی بات تو نہیں ہے ۔۔۔۔ اسی لئے ہر مار کھا جاتا ہے

” یہ کہتے ہوئے جن کھوجتی نظروں سے شاہزیب اسے دیکھ رہا تھا وہ بری طرح سے سٹپٹا سا گیا تھا ۔۔۔۔

” مم۔۔۔میں نہیں جانتا “

“ارے یار اتنی جلدی کہاں یاد آئے گا ۔۔۔ چلو بیٹھوں میرے ساتھ میری بائیک پر ۔۔۔۔ کہیں چلتے ہیں فرصت سے بیٹھیں گئے باتیں کریں گئے ۔۔۔ یاد بھی آ جائے گا تمہیں ۔۔۔۔ ” شاہزیب نے اپنی بائیک کے پیچھے بیٹھنے کی اسے اشارہ کیا

” م۔م۔میں جلدی میں ہوں مجھے گھر جلدی جانا ہے ” وہ منمناتے ہوئے بولا

” تم بیٹھ رہے ہو یا میں اپنے دوستوں کو بلاؤں ” شاہزیب کی یہ کہنے کی دیر تھی کے دو بائیک اور کر کھڑی ہو گئیں ایک ذلفقار کے دائیں جانب دوسری سامنے بائیں جانب شاہزیب تھا ایک بائیک پر خرم اور سیفی تھے دوسری پر باسم اور جمی ۔۔۔

٫ دیکھوں شرافت سے بیٹھ جاؤں گئے تو کچھ نہیں کہوں گا ورنہ ۔۔۔۔۔ ” شاہزیب کی معنی خیز بات پر وہ گھبراتا ہو شاہزیب کے پیچھے بیٹھ گیا ۔۔۔ سب کی

بائیکس سیدھی اس جگہ رکیں تھیں ۔۔۔ جہاں انہوں نے اپنا الگ سے آفس بنا رکھا تھا وہ علاقہ ذیادہ آباد نہیں تھا ۔۔۔۔ ذولفقار کافی گھبرایا ہوا تھا انکے ساتھ خاموشی سے اس کمرے میں چلا گیا ۔۔۔ وہاں رکھی کرسیوں پر سب بیٹھ چکے تھے ۔۔۔۔ کچھ دیر تو سب چپ چاپ ہی بیٹھے رہے پھر بات شاہزیب نے شروع کی

” دیکھوں میں اچھی طرح سے جانتا ہوں تم ہی ہیلمنٹ بوائے بنکر ٹریک پر پرفوم کر رہے ہو ۔۔۔۔

اس لئے میرے سامنے جھوٹ تو مت بولنا ۔۔۔۔ “

” دیکھوں شاہزیب تم یہ سب چھوڑ چکے ہو ۔۔ پھر میں کروں کا کوئی اور تمہیں فرق نہیں پڑنا چاہیے “۔

” تم میرے نام پر لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہو ۔۔۔۔

مل کیا رہا ہے تمہیں چند لاکھ اور وہ کمینہ سیٹھ

کروڑوں کما رہا ہے ۔۔۔ اور جان ہتھیلی پر کون لیکر چل رہا ہے تم اور مجھ سے جیسے جوان لڑکے ۔۔۔۔ ہمارے ماں باپ ہمہیں دیکھ کر جوان اور ہشاش بشاش دکھتے ہیں ۔۔۔ تم کیوں چند پیسوں کے لئے موت کو گلے لگانا چاہتے ہو ” شاہزیب نے اپنا لہجہ متوزن کیا تھا لیکن ذولفقار استزائیہ انداز میں مسکرایا تھا ۔۔۔

” ہنہ ۔۔۔۔ تم کہہ سکتے ہو کیونکہ تم یہ سب شوقیہ کرتے ہو گئے مجبوری کس چڑیا کا نام ہے کبھی میرے جگہ کھڑے ہو تو پتہ چلے ۔چار جوان بہنیں ہیں میری جن میں سے دو بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ رہی ہیں ۔۔ یہ جسے تم چند لاکھ کہہ رہے ہو یہ چند لاکھ میری تیس بتیس سالہ بہن کی شادی کروا سکتے ہیں جو جہیز نا ہونے کی وجہ سے اب تک نہیں ہوئی ۔۔۔۔ وہ جہیز خرید کر دلا سکتے ہیں جو اسے سسرال میں عزت دے سکے ۔۔۔۔۔ ضرورت انسان سے بہت کچھ کروا دیتی ہے شاہزیب جو وہ کرنا نہیں چاہتا ۔۔۔ میں بھی جانتا ہوں کہ یہ موت کا کھیل ہے ۔۔۔ لیکن میری ایک موت میری چار بہنوں کے گھر بسا سکتی ہے ۔۔۔۔ دیکھوں شاہزیب مجھے بس چند ماہ کے لئے اپنا نام استعمال کرنے دو ۔۔۔۔ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں بس اپنی بہنوں کو ایک بار رخصت کر دوں پھر مجھے کوئی پروا نہیں ۔۔۔

ویسے چند ماہ میں میرا سلیکشن ہو جائے گا بس ایک بار میں وہاں پرفوم کر لوں پھر مجھے تمہارے نام کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔۔۔ ” ذوالفقار کو وہ لوگ سمجھانے تو بہت کچھ آئے تھے لیکن اسکی بات اور آنسوں بھری التجا سن کر پانچوں چپ تھے ۔۔۔۔

********………

چند ماہ میں عاصم کافی حد تک اپنے ویٹ کو کنٹرول کر چکا تھا ۔۔۔۔

اب تو اسکے دوست بھی اسکی تعریف کرنے لگے تھے ۔۔۔۔ اپنا آپ بھی اسے اچھا سا لگنے لگا تھا ۔۔۔۔

بالوں کا اسٹائل بھی اچھا سا کٹوا لیا تھا۔۔۔

فرسٹ ائیر کے ہاف ائیرلی پیپر ہونے میں چند دن رہ گئے تھے عاصم نے اپنی توجہ پڑھائی پر نہیں دی تھی جتنی اپنی فٹنس پر دی تھی ۔۔۔۔ اس لئے نتجہ بھی سامنے تھاوہ جند ماہ میں اسمارٹ لڑکوں میں اپناشمار تو کرچکا تھا لیکن ۔۔۔۔ دماغ کا پرچہ صفا چٹ تھا ۔۔۔۔ ایگزئم کے دوران رباب کی سیٹ عاصم سے آگے تھی ۔۔۔۔ اگر وہ اسکی کچھ مدد کرنے کو تیار ہو جاتی تو یقیناً اس کا پیپر اچھا خاصا بھلا ہو سکتا تھا ۔۔۔

اس لئے عاصم چھٹی سے کچھ دیر پہلے رباب کے پاس آیا وہ اپنی دوستوں کے ہمراہ ہی کھڑی تھی۔۔۔۔

” روبی ” رباب کو روبی صرف باسم ہی کہہ کر پکارتا تھا ۔۔۔ یا پھر شاہزیب اوروہ اسوجہ سے کہ باسم کے منہ سے رباب کو روبی کہتے سنا تھاورنہ وہ تو اس کا نام بھی نہیں جانتا تھا ۔۔۔ کلاس میں رباب کے اس نام سے کوئی واقف نہیں تھا اس لئے

رباب کو عاصم کا اس نام سے اسے پکارنا براسا لگا

” رباب یہ روبی کون ہے ” رباب کی دوست نے پوچھا ۔۔۔

” کوئی نہیں ۔۔۔ ” رباب نے بات ختم کر کے عاصم کی جانب استفہامیہ نظروں سے دیکھا

” کیا میں تم سے اکیلے میں بات کر سکتا ہوں ؟ عاصم کی بے تکلف سے لہجے پر اسے تاؤ تو بہت آیا تھا لیکن بی کچھ نہیں

” ایکسکیوز می میں ابھی آئی ” اپنی دوستوں سے کہہ کر وہ ایک کونے کی طرف کھڑی ہو گئ عاصم بھی اسکے پیچھے ہی تھا ۔۔۔

” جی فرمائیے ” رباب نے کا لہجہ ذراسخت تھا

” وہ مجھے کہناتھا کہ ہم پچھلے چھ ماہ سے ساتھ پڑھ رہے ہیں اور تم سر باسم کی بہن ہو ۔۔۔ لیکن کبھی بات چیت کرنے کا موقع ہی نہیں ملا ۔۔۔۔ میں نے سوچا ہم لوگ رشتے دار بھی ہیں تو ۔۔۔۔ ” عاصم کی کوشش تھی کہ پہلے مراسم بڑھائے پھر اصل مدعے پر آئے اصل تو اسے پیپر کی فکر تھی رباب نے اسے کچھ حیرت اور غصے سے دیکھا

” کیا لگتے آپ میرے ۔۔۔۔ چچا زاد ۔۔۔ خالہ زاد ۔۔ کیا رشتہ ہے میرا آپ سے ۔۔۔ میں تو نہیں جانتی آپ کو ” رباب کے اجنبی سے لہجے پر وہ برجستہ بولا

” سر باسم کی بہن تو ہو نا ۔۔ اور وہ شاہو بھائی کے دوست ہیں “

” تو وہ دونوں دوست ہیں ۔۔۔ اس ناطے میری آپ سے کیا رشتے داری ہے “

” چلو گولی مارو رشتے داری کو دوستی تو ہو سکتی ہے ۔۔۔۔ رمیز اور شامیر سے بھی تم باتیں کر ہی لیتی ہو ۔۔۔ پھر مجھ سے کرنے سے کیوں کترارتی ہو ” عاصم شکوہ کرنا تو نہیں چاہتا تھا مگر کر گیا تھا ایسا نہیں تھا کہ رباب لڑکوں سے بات نہیں کرتی تھی ۔۔۔ نا ہی یہ تھا کہ لڑکوں سے دوستیاں کر رکھی تھیں لیکن کلاس میٹ کی حثیت سے اگر اسے نوٹس کے لئے یا کسی سبجیکٹ یاٹاپک میں کوئی مسلہ ہوتا تو بلا تکلف رمیز سے پوچھ لیتی تھی ۔۔۔ وہ پڑھنے اچھا تھا ۔۔۔

” میں ایک کلاس میٹ ہونے کے ناطے آپ سے بھی ضرور کچھ نا کچھ ڈسکس کر لیتی اگر آپ رمیز جتنے ذہین ہوتے تو ۔۔۔ بس یہی بات کرنے کے لئے مجھے بلایا تھا “

” نہیں بات تو کچھ اور کرنی تھی ۔۔۔ “

” تو پھر وہ بات کیجیے ” رباب نے ہاتھ باندھ کر کہا

” روبی وہ “

” میرا رباب عبدالرحمن ہے ۔۔۔ مجھے روبی صرف باسم بھائی اور انکے دوست کہہ سکتے ہیں ہر کوئی نہیں بہتر ہو گا کہ آپ مجھے رباب کہا کریں “

رباب کے اسپاٹ لہجے اور دو ٹاک انداز پر وہ کچھ سنبھل سا گیا تھا

“او کے آئندہ دھیان رکھو گا ۔۔۔ “

” جی اب فرمائیے “

” چند دن میں پیپر ہونے والے ہیں اور میری تیاری کم ہے ۔۔۔ باقی سب تو میں کر لوں گا لیکن اگر تم ایم سی کیوژ میں میری مدد کر دو تو ۔۔۔ میں تمہارا مشکور رہوں گا۔۔۔۔ اگلی بار تک تو میں خود ہی تیاری کر لو گا “

” اس بار کیوں نہیں کی ؟

” بس تھی ایک مجبوری ” عاصم نے بات بدلی اب کیا بتاتا کہ ربا۔ کا اسے موٹا کہنا برا لگا تھا اس لئے

ساری توجہ فٹ ہونے پر لگا دی تھی رباب نے مدافعانہ انداز سے آبرو اچکائے

” میں نے آج تک نا چیٹنگ کی ہے نا آج تک کسی کو کروائی ہے ۔۔۔ اس لئے آئی ایم سوری “

رباب کے صاف انکار پر بھی عاصم نے اپنا موقف نہیں چھوڑا تھا رباب وہاں سے جانے لگی تو عاصم بھی اس کے ساتھ چلنے لگا

” بہت آسان ہے روبی دیکھو اگر آپشن میں سے اگر جواب A ہو گا تو تم اپنے ماتھے پر انگلی رکھ لینا

اگر B ہو تو دائیں رخسار پر ۔۔ C ہو تو بائیں جانب

اور D ہو تو تھوڑی پر ۔۔۔ بہت سمپل ہے ” عاصم نے اسے نقل کروانے کا طریقہ بتایا تھا ۔۔۔۔

” او کے وقت آئے گا تو دیکھا جائے گا میں لیٹ ہو رہی ہوں ” رباب نے اس سے جان چھڑانے کے لئے کہا

اور آگے بڑھ گئ اور عاصم کو لگا مسلہ حل ہو گیا ۔۔۔ کیونکہ 70٪ پیپر ایم سی کیوز میں ہی آنا تھا ۔۔۔

******…….

ذولفقار جا چکا تھا ۔۔۔ لیکن ایک نئ سوچ سے متعارف کروا کر پانچوں چپ تھے

” میرے خیال لڑکے کی بات میں دم ہے ۔۔۔ دیکھا جائے تو تو نے بھی شوقیہ تو یہ کھیل نہیں کھیلا تھا شاہو بھابھی کے باپ کے برابر دولت کمانے کے چکر میں ہی اس کھیل کا حصہ بننے تھے ۔۔۔۔ ” جمی نے سب سے پہلے سکوت توڑا تھا

” ہمارے معاشرے میں جب پڑھے لکھے نوجوانوں کو نوکریاں نہیں ملیں گئیں تو جوان نسل کا رجحان اسی جانب بڑھے گا ۔۔۔۔

اپنی ساری انرجی وہ ایک مثبت جگہ پر سرف کرنے کے بجائے ۔۔ ایسے خطرناک کھیلوں میں لگا دیں گئے

نا ملک کا بھلا نااپنا ۔۔۔ ” باسم نے تاسف سے کہا تھا ۔۔۔

” شوقیہ لوگوں کو روکنا شاید ممکن ہو لیکن جو مجبورا یہ سب کر رہے ہیں انہی۔ رکنا ممکن نہیں ۔۔

وہ تو یہیں کہیں ٹھیک ہے لاؤں تم پیسے دیدوں ہم نہیں کرتے ۔۔۔ اور ہم تو خود کھنگلے بیٹھے ہیں ” سیفی نے اپنی تجویز آگے رکھی

” بات تو ٹھیک ہے ۔۔۔ یہ زلفی تو کبھی بھی قیوم صابر کے خلاف گواہی نہیں دے گا ۔۔۔ ” خرم نے گہری سانس بھر کر کہا بس ایک شاہزیب چپ تھا

” شاہوں کیاسوچ رہے ہو “

” جانتے ہو مجبوری ایجاد کی ماں ہے ۔۔۔۔۔ ” شاہزیب کا جواب سب سے الگ تھا

” مطلب ؟ ” سب نے یک زبان ہو کر کہا

” وہ بھی سمجھا دوں گا ۔۔۔ فی الحال تو اس قصے کو رہنے دو ۔۔۔ “

” اوہ ہاں یاد آیا مجھے شاہزیب میں نے یونیورسٹی سے اسکی لڑکی کے بارے میں انفارمیشن نکالنے بہت کوشش کی لیکن ایسی کوئی لڑکی بی کام میں نہیں پڑھتی ۔۔” باسم کو مرحا ک خیال آیا تھا شاہزیب کسی گہری سوچ سے باہر آیاتھا

” ہاں وہ یونی میں نہیں پڑھتی تم چھوڑ دو اسے ۔۔۔ اس لڑکی کو میں ہینڈل کروں گا ۔۔۔

فی الحال ہم سب کواپنے اپنے علاقوں

میں ایسے کم عمر لڑکوں سے دوستی کرنی ہے جنہیں۔ نے نئ نئ بائیک چلانی شروع کی ہے ۔۔۔ کیونکہ ذیادہ تر چودہ پندرہ سالہ لڑکے جو نئ نئ بائیک چلانا سیکھتے ہیں اندھا دھن سڑکوں پر بائیک دوڑاتے نظر آتے ہیں اور حادثات کا شکار بھی ذیادہ ہوتے ہیں پہلے انہیں سمجھانے کی ضرورت ہے “شاہزیب نے آگے کا لائحہ عمل بتا کر میٹنگ ختم کی تھی

******……

شاہزیب آفس کے لئے تیار ہو رہا تھا جب نیناں اسکی ٹائی باندھتے ہوئے مسکرا رہی تھی

” یہ صبح صبح تم اتنی میٹھی میٹھی مسکراہٹ سے نا دیکھا کرو آفس جانے کا دل ہی نہیں چاہتا ۔۔۔ ” شاہزیب نے دونوں بازو اس کے کندھے پر رکھ کر شوخ مسکراہٹ سے کہا

” بات ہی کچھ ایسی ہے ۔۔۔ ” اس کی شرمیلی مسکراہٹ جب مزید گہری ہوئی شاہزیب کے دل کھٹکا سا ہوا تھا ۔۔۔

” کیسی بات ” شاہزیب نے کچھ خوفزدہ سے لہجے میں پوچھا

” ایک خوشخبری ہے شاہزیب ” شاہزیب کا دل بڑی تیزی سے دھڑکا تھا اپنے بازو نیناں کے کندھوں سے ہٹائے تھے

” نہیں نیناں خدا کے لئے ۔۔۔۔ اب یہ مت کہنا کہ ہادی اور سعدی کا کوئی بہن بھائی آنے والا ہے ” دل کا خدشہ بڑے ڈرتے ڈرتے شازیب زبان پر لایا تھا ۔۔۔ نیناں نے ایک چت اسکے کندھے پر لگائی تھی

” یہ نہیں ہے ۔۔۔ شاہزیب ۔۔۔ ” نیناں نے گھور کر اسے کہا تھا شاہزیب نے سکون اطمینان بھری سانس لی تھی

” پھر ٹھیک ۔۔۔ “

” پوپس نے مجھے پچاس ہزار بھیجے ہیں شاپنگ کے لئے ۔۔۔۔ میں مال جا کر شاپنگ کر لو ؟ پلیز شاہزیب انکار مت کیجیے گا ۔۔۔ شادی کے بعدکئ بار میں نے انکے پیسے بہانوں سے لوٹائے ہیں اس بار انہوں نے ممی کی قسم دے کر بھیجے ہیں ” نیناں خوش تھی ۔۔ پھر رانا صاحب سے اسے کون سا ساری زندگی دشمنی نبھانی تھی

” رکھ لو ۔۔۔۔ شاپنگ بھی کر لینا ۔۔۔ امی کے ساتھ چلی جانا ” شاہزیب کے مان جانے پر نیناں چہک سی گئ تھی

” لیکن وہ تو شازی آپی سے ملنے جارہی ہیں ۔۔۔۔ میں اکیلی چلی جاؤں گی ۔۔۔ حیدری میں بھی بہت سے مال ہیں وہیں لیکر لوٹ آؤں گی “

” او کے چلی جانا ۔۔۔۔ اور اپنا خیال رکھنا ۔۔۔ اب جلدی سے ناشتہ بنا دو ۔۔۔ ” وہ چال بناتے ہوئے بولا ۔۔۔۔ ناشتہ کر کے وہ آفس چلا گیا تھا واپسی پر باسم کے ساتھ اسے زلفقار سے ملنا تھا ۔۔۔ لیکن ٹریفک کافی کام ہو چکا تھا ۔۔۔۔ آگے ایک ایکسڈنٹ ہوا تھا ۔۔۔۔ دو گاڑیاں اور ٹرک آپس میں ٹکرا گئے تھے ایک بھگڑ سی مچ گئی تھی اس لئے باسم اور وہ قریبی مال میں چلے گئے ۔۔۔۔

” کچھ دیر یہاں تک جاتے ہیں ۔۔۔۔ باہر بلکل جانے والا حال نہیں ہے ۔۔۔ ” باسم نے کہا ۔۔۔

” ہاں یاد آیا ۔۔۔ مجھے رباب کے لئے اسکاف لینا ہے ۔۔۔۔ تم چلو گئے ساتھ “

” نہیں تم جاؤں ۔۔۔ میں تمہارا یہیں انتظار کرتا ہوں ” شاہزیب نے منع کر دیا ۔۔۔۔ شاہزیب اوپر کے فلور پر یونہی وقت گزاری کے لئے دیکھنے لگا بہت سے خوبصورت سے لیڈیز سوٹ کی دوکانیں تھیں ۔۔۔ اور کچھ بچوں کے گارمنٹس کی ۔۔۔۔ وہ سرسری سی نظریں ہی گھما کر دیکھ رہا تھا ۔۔۔ جب ایک شاپ سے نیناں ہنستے ہوئے حیدر کے ساتھ باہر نکلی تھی ۔۔۔۔ جس مال پر وہ تھا وہ طارق روڈ کا علاقہ تھا ۔۔۔۔ شاہزیب کی تو نظریں پلٹنا بھول گئیں تھیں ۔۔۔۔ وہ شاید نیناں کے ہاتھ سے شاپنگ بیگ پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن وہ انکار کر رہی تھی پھر چند لڑکے ان کے سامنے کھڑے ہو گئے شاہزیب اب دیکھ نہیں پتا تھااس لئے جلدی ایسکلیٹر سے اوپر کی سیڑیاں چڑھنے لگا

لیکن جب سامنے نظر پڑی تو نیناں حیدر کی بانہوں میں تھی ۔۔۔۔۔ کیا ہوا تھا کیا نہیں ۔۔۔ یہ سب سوچنے کی قابل ہی وہ کہاں تھا رگوں میں آگ سی دوڑ گئی تھی ۔۔۔۔۔ تیز قدم اٹھاتا ہوا وہ ان دونوں کے پس پہنچا تھا جب تک نیناں کھڑی جو چکی تھی

” نین آر یو آل رائٹ ” حیدر نیناں سے پوچھ رہا تھا

لیکن اس سے پہلے نیناں کچھ بولتی شاہزیب نے حیدر کا گریبان پکڑ لیا

“ہمت کیسے ہوئی تمہاری میری بیوی کو ہاتھ لگانے کی ۔۔۔”

شاہزیب کی آنکھوں میں خون اتر ہوا تھا ۔۔۔۔ مال میں سب کے سامنے وہ حیدر کا گریبان پکڑ کر دھاڑتے ہوئے بولا تھا ۔۔۔نیناں کا رنگ اڑا تھا حیدر اس افتاد پر گھبرا گیا تھا

” ضروری نہیں کہ جو تم سمجھ رہے ہو وہی سچ ہو شاہزیب تم غلط سمجھ رہے ہو۔۔۔۔ ۔۔۔۔”حیدر نے لہجہ متوازن رکھا

“اچھا تو تم غلط کرو ۔۔۔اور میں دیکھ کر غلط سمجھوں بھی نا ۔۔۔۔ “شاہزیب نے حیدر کو جھنجھوڑ کر کہا

“ہاؤ ڈیر تو ٹچ مائے وائف “حیدر کے منہ پر غصے سے ایک مکا مارتے ہوئے شاہزیب نے کہا تھا حیدر کے ناک سے خون بہنے لگا ۔۔۔نیناں نے خوف سے منہ پر ہاتھ رکھا ۔۔۔ لیکن ہے در پے مکے اور گھونسے جب شاہزیب نے حیدر کو مارنے شروع کئے ۔۔۔مال میں ایک ہنگامہ سا مچ گیا تھا لوگ جمع ہونے لگے تھے نیناں بھاگتے ہوئے شاہزیب کے پاس آئی تھی حیدر کا چہرہ زخمی ہو چکا تھا ۔۔۔لیکن شاہزیب کی آنکھوں میں تو جیسے خون اترا ہوا تھا ۔۔۔۔نیناں حیدر اور شاہزیب کے بیچ میں کھڑی ہو گئ

“شاہزیب پلیز بس کر دیں ۔۔۔۔ کیوں مار رہیں ہیں اسے کوئی قصور نہیں ہے اسکا ۔۔۔۔ “

“شٹ اپ نیناں “شاہزیب نے قہر بھری نظروں سے اسے دیکھا ۔۔۔۔

” ایک لفظ۔ بھی تمہارے ۔منہ سے نکلا تو ابھی اسی وقت کھڑے کھڑے طلاق دیدوں گا تمہیں ۔۔۔۔۔”لفظ تھے کہ تذلیل کی آخری حد ۔۔۔۔ نیناں کی آنکھیں پتھرا گئیں تھیں ۔۔۔۔۔ لفظ جیسے ختم ہو گئے تھے ۔۔۔شاہزیب کی آنکھوں میں انگارے دھک رہے تھے ۔۔۔۔ لہجہ ایسا تھا کہ واقع کچھ کر بیٹھے گا ۔۔۔۔۔۔۔

نیناں بے جان قدموں سے پیچھے ہٹ گئ تھی ۔۔۔۔ لیکن وہاں موجود لڑکوں اور باسم نے با مشکل شاہزیب کو جکڑ رکھا تھا

” باسم چھوڑو مجھے اسے زندہ نہیں چھوڑو گا میں ۔۔۔ اسکی ہمت کیسے ہوئی نیناں کو ہاتھ لگانے کی “

” شاہزیب ہوش میں آؤں ۔۔۔ آپ پلیز جائیں یہاں سے جلدی ” باسم نے حیدر کو جانے کے لئے کہا وہ اپنے ہونٹوں اور ناک سے خون صاف کرتے ہوئے وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔۔

” پاگل ہو گئے ہو تم ۔۔۔ سب لوگ دیکھ رہے ہیں ۔۔۔ ہوش میں آؤں ” باسم اسے بری طرح سے بینچتے ہوئے کہا نیناں کو تو لگا کہ اس وقت وہ ن زمین پر ہے نا آسمان میں بس ہو معلق ہو چکی ہے ۔۔۔۔۔ دماغ سوچنے سے قاصر تھا ۔۔۔۔ شاہزیب اب بھی غصے سے لمبے لمبے سانس بھر رہا تھا ۔۔۔۔ باسم نے اسے چھوڑ دیا ۔۔۔

” آپ لوگ جائیں یہاں سے کوئی تماشہ نہیں ہو رہا یہاں پر ” باسم نے سامنے کھڑے لوگوں سے کہا ۔۔۔

سب لوگ منتشر سے ہو گئے ۔۔۔۔ شاہزیب نے پلٹ کر پیچھے نیناں کی طرف دیکھا جو نظریں زمین پر گاڑھے گم صم کھڑی تھی ۔۔۔۔

” ہو کہا گیا تھا تمہیں “؟ باسم ہر بات سےانجان شور غل سن کر وہاں پہنچا تھا ۔۔۔۔ شاہزیب کو دیکھ سمجھا کہ شاید کسی سے جھگڑ پڑا ہے ۔۔۔۔

” کچھ نہیں ۔۔۔۔ تم جاؤں میں گھر جا رہا ہوں کل بات کروں گا تم سے ” یہ کہہ کر شاہزیب نیناں کے پاس آ گیا اس کا ہاتھ سختی سے پکڑ کر کھنچتے ہوئے اپنے ساتھ لیکر نیچے اترنے لگا وہ کسی بے جان کٹ پتلی کی طرح اسکے ساتھ چل رہی تھی ۔۔۔۔

جو لفظ شاہزیب نے کہے تھے ایسے تو نیناں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچے تھے ۔۔۔۔

جتنی محبت وہ اس سے کرتا تھا ۔۔۔۔ یا جتنی نیناں نے اس سے کی تھی ۔۔۔۔ کیا وہ محبت اتنی کمزور تھی کہ ذرا سی بات پر بیچ بازار میں اسے طلاق کی دھمکی دی جاتی بنا وجہ جانے ۔۔۔۔ بائیک کے پاس جا کر وہ رکا تھا

” بیٹھوں نیناں ” شاہزیب کا لہجہ ہنوز تھا ۔۔۔ غصے سے اب بھی سانس پھول رہا تھا