No One Wheeling (Season 2) by Umme Hani NovelR50410 No One Wheeling Episode 10
Rate this Novel
No One Wheeling Episode 10
No One Wheeling by Umme Hani
پورے راستے دونوں ہی خاموش رہے ۔۔۔۔ گھر پہنچ کر دروازہ عاتقہ بیگم نے کھولا تھا ۔۔۔۔ نیناں کو شاہزیب کے ساتھ دیکھ خوش ہوئیں تھیں
” تم نے شاہزیب کو بلا لیا تھا مارکیٹ۔۔۔۔ یہ تو اچھا کیا نیناں مجھے تو فکر لگی ہوئی تمہاری کہ اکیلی کہیں رستہ ہی نا بھول گئ ہو ۔۔۔۔ ” عاتقہ بیگم کی بات وہ سن ہی کب رہی تھی بس غائب دماغی سے
اندر داخل ہوئی تھی اور سیدھا کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔ کمرے کادروازہ بھی بند کر دیا ۔۔۔۔
” اسے کیا ہوا ہے شاہزیب ” نیناں کو گم صم دیکھ کر وہ کچھ پریشان ہوئیں تھیں ۔۔۔ ورنہ تو وہ خود اسے ساری شاپنگ دیکھاتی تھی بچوں کا پوچھتی کہ تنگ تو نہیں کیا ۔۔۔ لیکن چپ چاپ سے کمرے میں چلی گئ تھی شاہزیب بھی بے حد سنجیدہ تھا
” کچھ نہیں امی شاید تھک گئ ہے ۔۔۔ ہادی اور سعدی کہاں ہیں ؟” لہجہ تو شاہزیب کا بھی سنجیدہ تھا لگ رہا تھا کچھ ہوا ہے شاید دونوں کے بیچ ۔۔۔ ورنہ تو جب بھی دونوں باہر سے اکٹھے لوٹتے تھے خوش ہی نظر آتے تھے عروہ بیگم کو کچھ شک سا ہوا تھا
” وہ دونوں تو سو گئے ہیں ۔۔۔ لیکن شاہزیب کوئی بات ہوئی ہے کیا ؟”
” نہیں امی کچھ نہیں ہوا ۔۔۔ “
یہ کہہ کر وہ لاونج میں بیٹھ گیا ٹی وی کھول کر چینل سرچ کرنے لگا ۔۔ اندر لگی آگ اب بھی سلگ رہی تھی ۔۔۔ اگر کمرے میں جاتا تو نا جانے کس انداز سے نیناں سے پیش آتا اس لئے خود کو نارمل کرنے لگا ۔۔۔۔
******……
نیناں کو پہلے بھی حیدری کی وارئٹی اتنی پسند نہیں تھی ۔۔۔ اور کچھ وہ وہاں کی مارکیٹ سے انجان بھی تھی ۔۔۔ ہمیشہ طارق روڈ سے ہی شاپنگ کرتی آئی تھی اس لئے وہیں کارخ کیا جانتی تھی کہ شاہزیب طارق روڈ جانے کی اکیلےاجازت اسے نہیں دے گا اس لئے نیناں نے اسے حیدری کا ہی کہا تھا ۔۔۔ لیکن یہ نہیں معلوم تھا کہ وہاں حیدر سے ملاقات ہو جائے گی وہ چند دن پہلے ہی پاکستان آیا تھا ۔۔۔۔
ملاقات بھی اتفاقیہ تھی ۔۔۔۔ جہاں سے وہ شاپنگ کر رہی تھی وہاں جنٹس اور بچوں کے گارمنٹس بھی تھے ۔۔۔ اس لئے حیدر شرٹس خرید رہا تھا۔۔۔ نیناں کو بھی شاہزیب کے لئے ایک شرٹ پسند آ گئ ۔۔۔وہی قریب سے دیکھنے کے لئے وہ ریک کے پاس آئی تھی جہاں حیدر سے ملاقات ہو گئ ۔۔۔
“نین تم یہاں ” شرٹ دیکھتے ہوئے جب حیدر کی برابر میں کھڑی خاتوں پر نظر پڑی تو نیناں کے دیکھ وہ حیران ہوا تھا ۔۔۔ سادے سے لباس میں بڑی چادر اوڑھے وہ نیناں لگ ہی نہیں رہی تھی ۔۔۔
” حیدر تم پاکستان !” حیران تو نیناں بھی ہوئی تھی
” ہاں چند دن پہلے ہی آیا تھا “
” اچھا پوپس نے بتایا ہی نہیں کہ تم آئے ہو “
” ہاں انکل کومعلوم بھی نہیں ہے میں وہاں جانا نہیں چاہتا تھا اس لئے بتایا نہیں ۔۔۔ میں ہوٹل میں ٹہرا ہوں بس میٹنگ کے سلسلے میں آنا پڑا چند دن میں ہی واپسی ہے ۔۔۔۔ ” حیدر نے جب میں دونوں ہاتھ ڈالے کہا
” پوپس کو پتہ چلے گا تو ناراض ہوں گئے تم سے تمہیں جانا چاہیے تھا “
” انہیں کون بتائے گا ۔۔۔۔ تم اگر نا بتاؤں تو اچھا ہی ہو گا پلیز نین انہیں مت بتانا۔۔۔ “
” یہاں کیسے آئے تھے ” نیناں نے موضوع بدلہ
” بس یونہی وقت گزاری کے لئے ۔۔۔ تم خوش ہو نین؟ “
” ہاں بہت خوش ہوں ” نیناں نے مسکرا کر کہا
” ہاں جبھی پہلے سے ذیادہ خوبصورت ہو گئ ہو ۔۔۔ بچے ساتھ نہیں آئے ” نیناں کے چہرے کی بڑھتی دلکشی دیکھ کر بولا
” نہیں دادی کے پاس ہیں ۔۔۔ اچھا حیدر مجھے ذرا جلدی ہے پھر کبھی بات کرو گی ” نیناں خود بھی اس کے ساتھ وقت نہیں گزارنا چاہتی تھی ۔۔۔ کیونکہ آج بھی حیدر کی نظروں میں کچھ ایسا تھا کہ وہ متذبذب سی ہوئی تھی
” چلی جانا ایک کپ چائے تو مل کر پی سکتے ہیں ہم نین ۔۔۔۔ ” حیدر کی بات پر وہ برجستہ بولی
” ضرور پی لیتی لیکن اس وقت جلدی میں ہوں یہ کہتے ہوئے نیناں شاپ سے باہر نکلی تھی ۔۔۔
“او کے کوئی بات نہیں میں سمجھ سکتا ہوں کہ تمہیں شاید شاہزیب کی طرف سے سختی سے منع کیا گیا ہے “
“نہیں شاہزیب ایسے نہیں ہیں ۔۔۔ بہت محبت کرتے ہیں۔ مجھ سے اور اعتبار بھی کرتے ہیں ۔۔۔۔ شک کرنے کی عادت نہیں ہے انہیں ” مسکراتے ہوئے نیناں اسے یہ بتا رہی تھی جب دو بچے تیزی سے بھاگتے ہوئے نیناں سے ٹکراتے ہوئے گزرے وہ بہت زور سے گر جاتی لیکن حیدر نے اسے تھام لیا ۔۔۔ سب کچھ اتنا اچانک سے ہوا تھا کہ نیناں سنبھل نہیں پائی تھی ۔۔۔ پوری حیدر کے بازو پر جھول سی گئ تھی ۔۔۔۔ لیکن چند لمحوں میں سنبھل کر فورا سے کھڑی ہو گئ ۔۔۔ لیکن یہ چند لمحے اس کی زندگی کی ایسی تلخ حقیقت اس کے سامنے رکھیں گئے یہ نہیں جانتی تھی ۔۔۔۔ شاہزیب کا جو روپ اس نے دیکھا تھا۔۔۔ کچھ پل لگا کہ حیدر کو جان سے مارے بنا رکے گا نہیں ۔۔۔۔ آنکھیں آنسوں سے ڈبڈبا گئیں تھیں ۔۔۔۔ رات کا کھانا کھائے بنا وہ لیٹ گئ تھی ۔۔۔۔ بچے جب اٹھے تو شاہزیب نے انہیں اپنے پاس ہی بیٹھا لیا ۔۔۔
” شاہزیب نیناں کھانا نہیں کھائے گی ؟ ” عاتقہ بیگم کو تو ایک پل چین نہیں آرہا تھا ۔۔۔۔ بہو کمرے میں تھی پورا گھر خالی لگ رہا تھا ان صاحب بھی کسی دوست کے گھر مدعو تھے
” مال سے بہت کچھ کھا کر آئی ہے امی بھوک نہیں ہو گی ۔۔۔ ” دونوں بیٹے سال کے ہو چکے تھے پاؤں پاؤں چلنے لگے تھے ۔۔۔۔ ٹوٹے پھوٹے لفظ بولنے لگے تھے ۔۔۔۔ شاہزیب کو بھی اتنا سنجیدہ عاتقہ بیگم نے پہلے نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔ وہ روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکرے سعدی کے منہ ڈال رہا تھا ۔۔۔ عاصم شاہزیب کے برابر بیٹھا تھا اور سعدی شاہزیب کی گود میں تھا اور ہادی دادی کی گود میں ۔۔۔۔۔ عاصم ساتھ ساتھ کھانا کھارہا تھا ساتھ ساتھ موبائل پر رمیز کی منتیں کر رہا تھا جس نے صبح پہلے پیپر میں اس کے دائیں جانب والی سیٹ پر بیٹھنا تھا ۔۔۔۔ کہ عاصم کی تھوڑی ہیلپ کر دے جب سعدی نے اسکی پلیٹ سے لیگ پیس اٹھا اپنے منہ ڈالا تھا ۔۔۔۔ عاصم کی نظریں موبائل پر تھی لیکن روٹی سے وہ پلیٹ میں بوٹی ٹٹول رہا تھا جو کہ بھتجا اٹھا چکا تھا ۔۔۔۔ عاتقہ بیگم سامنے بیٹھی تھیں یہ نظارہ دیکھ کر ہسنے لگیں ۔۔۔
” عاصم تمہارے حق پر ڈاکہ ڈالنے والے آ گیا ہے اب ” عاتقہ بیگم نے محبت سے پوتے کو دیکھا تھا جو لیگ پیس کھانے کی سعی کرنے میں لگا ہوا تھا عاصم نے سعدی کو دیکھا
” واہ چھوٹے میاں حملے شروع کر دیے تم نے۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔ لیکن بیٹا اپنا لیگ پیس تو میں نے کبھی تمہارے ابا کو بھی کھانے نہیں دیا تم کیا چیز ہو ” بڑے پیار سے عاصم نے سعدی سے لیگ پیس لیا تھا ۔۔۔ شاہزیب بس ذرا سا مسکرا ہی پایا تھا ۔۔۔۔۔ کوئی اور موقع ہوتا تو شاید عاصم کی کلاس بھی لے لیتا لیکن اسوقت چپ ہی رہا
رات تک نیناں بتدریج روتی ہی رہی تھی ۔۔۔۔ شاہزیب جب دونوں بچوں سمیت اندر آیا تو نیناں کی سسکیوں نے استقبال کی تھا سینے میں سلگتی
آگ نیناں کے آنسوں سے اور بھڑکی تھی ۔۔۔۔
اسے لگا شاید حیدر کی پٹائی نے نیناں کو رلایا ہے ۔۔۔ دونوں بچے ماں کو دیکھ کر مچلے تھے۔۔۔ نیناں کروٹ بدلے لیٹی ہوئی تھی شاہزیب نے بھی جان بوجھ کر دونوں بچوں کو نیناں کے پاس جا بیٹھا تھا دونوں مما مما کرتے اسے ہلانے لگے تھے لیکن وہ بدستور ویسے لیٹی رہی ۔۔۔ کوئی جواب نہیں دیا
” نیناں انہیں بھوک لگ رہی ہے اٹھ کر فیڈر بنا کر لاؤ ۔۔۔۔ ” شاہزیب نے جب اسے یونہی بے نیاز بنے دیکھا تو سختی سے بولا ۔۔۔۔
نیناں پہلے دل جلائے بیٹھی تھی ۔۔۔ کہ شاید شاہزیب کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے تو وہ اسے منانے کی کوشش کرے گا لیکن نہیں اسے تو پروا تک نہیں تھی کہ اس نے نیناں سے کہا کیا ہے ۔۔۔۔ اس لئے اسکی بات کا جواب تک نہیں دیا یونہی لیٹی رہی
” نیناں اٹھوں اور بچوں کو فیڈر دو یہ رونا دھونا بن کرو اپنا کس بات کا سوگ منا رہی ہو تم ۔۔۔ ” لہجہ تلخ اور سخت تھا کہ وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھی تھی ۔۔۔۔ شاہزیب کے چہرے پر اتنی سختی تھی کہ ۔۔۔ ایک نظر ڈال کر ہٹا گئ ۔۔۔ آنسوں صاف کر کے کمرے سے نکل گئ ۔۔۔۔ سب ہی لیٹ چکے تھے ۔۔ نیناں نے بچوں کے فیڈر بنائے اور کمرے میں آ گئ خاموشی سے انہیں فیڈر پلا کر سلا دیا ۔۔۔۔ شاہزیب کی نظروں کی تپش وہ اپنے چہرے پر محسوس کر رہی تھی بہت غصے سے اسکے روئے روئے چہرے کو دیکھ رہا تھا بہت دیر سے ضبط بھی کر رہا تھا گئ ہی کیوں تھی وہ حیدر سے ملنے ۔۔۔ حیدری کا کہہ حیدر سے ملنے طارق روڈ پہنچ گئ ۔۔۔۔ لیکن نیناں نے ایک بار بھی اسکی طرف نہیں دیکھا ۔۔۔
” بجائے اپنی غلطی ماننے کے مجھ سے سوری کرنے کے ۔۔ اکٹر تو یوں دیکھا رہی ہے جیسے ۔۔۔ میرا قصور ہو ۔۔۔۔ ہنہ ” شاہزیب اپنی جگہ بھپرا بیٹھا تھا ۔۔۔۔ دونوں بچے سو گئے تھے ۔۔۔۔ شاہزیب بھی لیٹ گیا ۔۔۔۔ صبح الارم کی آواز پر شاہزیب ہڑبڑا کر اٹھا تھا ورنہ روز نیناں اسے جگاتی تھی ۔۔۔۔۔ لیکن اس بار اس نے الارم رکھ دیا تھا ۔۔۔۔ شاہزیب کے کپڑے نکال کر وہ باہر جاچکی تھی ۔۔۔۔
شاہزیب تیار ہو کر بھی باہر نہیں گیا تھاناشتے کا بھی بلکل موڈ نہیں تھا ۔۔۔ نیناں خاموشی سے اندر داخل ہوئی تھی ۔۔۔
” ناشتہ بنا کر باہر رکھ دیا ہے ” یہ کہہ کر نیناں اپنا کںڈ کھولنے لگی
” اس احسان کی ضرورت نہیں تھی ۔۔۔۔مجھے بھوک نہیں ہے ورنہ میں خود بھی بنا سکتا ہوں ” شاہزب نے اسی تلخ لہجے میں جواب دیا
جس لہجے میں نیناں بات کر رہی تھی وہ بھی ویسے ہی جواب دے رہا تھا
” ادھر آ کر ٹائی باندھو میری ” شازہزیب نے بارعب لہجے میں کہا
” اس احسان کی بھی آپ کو ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ یہ کام بھی آپ خود کر سکتے ہیں ” نیناں کا یوں ترکی با ترکی جواب دینا اسے مزید بڑھکانے کے لئے کافی تھا لیکن وہ چپ ہی رہا۔۔۔ لیکن جب نیناں نے ایک چھوٹا سا بیگ بیڈ پر رکھا اور اپنے اور بچوں کے کپڑے اس میں رکھنے لگی تو شاہزیب کی برداشت جواب دے گئ تھی
نیناں کو بازو سے پکڑ کر اپنے مقابل کھڑا کیا تھا
” کیا ہے یہ سب ۔۔۔ کہاں جانے تیاریاں کر رہی ہو تم ” آنکھوں میں یک دم قہر سااترا تھا۔۔۔ لہجے میں صرف استحقاق تھا
” میں پوپس کے پاس جا رہی ہوں بہت ماہ سے نہیں گئ ۔۔۔۔ اس لئے اس بار ذیادہ دن رہ کر آؤں گی ” نیناں نے شاہزیب کی جانب دانستہ دیکھنے سے گریز کیا تھا ۔۔۔ لیکن وہ بڑے غور اور غصے سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
” کہیں نہیں جاؤں گی تم ۔۔۔۔ آرام سے گھر بیٹھو ۔۔”
” ۔۔۔ مجھے جانا شاہزیب ۔۔۔ میں نہیں رکو گی ” نیناں اسکی گرفت سے اپنا بازو چھڑواتے ہوئے بولی
” کچھ کہا ہے میں نے تم سے نیناں۔۔۔۔ تم نہیں جاؤں گی ۔۔۔ اس کا مطلب نہیں جاؤں گی ۔۔۔۔۔ سمجھ آ رہا ہے تمہیں یا دوسرے طریقے سے سمجھاؤں تمہیں ” غصے سے دبے دبے لہجے میں بول رہا تھا
” کیا کریں گئے آپ ہاتھ اٹھائیں گئے مجھ پر بھی ۔۔۔۔ یا طلاق کی دھمکی دیں گئے ۔۔۔۔ ” آنکھوں میں بھرے ہوئے آنسوں سے اب وہ اسے دیکھ کر پوچھ رہی تھی
” بکو مت سمجھی ۔۔۔۔ رات سے اسی بات کی تو تکلیف ہو رہی ہے تمہیں کہ میں نے اس پر ہاتھ کیوں اٹھایا ہے ۔۔۔۔۔ شکر کرو جان سے مار نہیں دیا اسے ۔۔۔۔میں نے آئندہ تمہارے آس پاس بھی حیدر کو دیکھا تو سمجھ لینا حیدر کا آخری دن ہے ۔۔۔۔۔ واپس رکھو یہ سب کچھ آ کر بات کی دوں گا تم سے ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر نیناں کا بازو چھوڑ کر وہ کمرے سے نکل گیا ۔۔۔ لیکن رکی نیناں بھی نہیں تھی رانا بختیار سے کہہ کر ڈرائیور بلوا کر چلی گئ ۔۔۔۔ عاتقہ بیگم سے یہی کہا کہ بہت دن سے گئ نہیں تھی شاہزیب کے پاس وقت نہیں ہوتا اس لئے وہ ڈرائیور کے ساتھ جارہی ہے ۔۔۔۔
نہیں بھلا کیا اعتراض ہونا تھاوہ کافی ماہ سے نہیں گی تھی اس لئے اسے گلے لگا کر دعا دیکر بھیجا تھا ۔۔۔۔
******……
عاصم کی پیپر کے دوران رباب نے کوئی مدد نہیں کی تھی ۔۔۔۔۔ ایم سی کیوز بھی غلط ہی بتائے تھے ۔۔۔
پیپر ختم ہونے کے بعد رمیز نے جب عاصم کو بتایا کہ رباب کے برائے ہوئے سرے ایم سی کیوز غلط ہیں تو پہلے تواسے یقین نہیں آیا ۔۔۔ کہ وہ ایسا بھی کر سکتی ہے ۔۔۔۔ پھر اس کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔
” روبی اگر تمہیں میری مدد نہیں کرنی تھی توانکار کر دیتی غلط بتانے کی کیا ضرورت تھی ” وہ تپ کر بولا تھا
” میں نے تو تمہیں کچھ بتایا ہی نہیں ۔۔۔ ” رباب انجان بن گی
” سارے ایم سی کیوز تم نے غلط بتائے ہیں ۔۔۔ سارے اشارے تم نے غلط کیے تھے مجھے “
” میں پاگل ہوں جو تمہیں اشارے بازیاں۔ کرتی رہوں گی ۔۔۔ “
“تو تم نےجو اشارے مجھے پاس کیے تھے اسی کو فالو کرتے ہوئے ہی میرا پیپر غلط ہوا ہے
” میں نے غیر دانستہ ہی ایسا کیا ہو گا ۔۔۔ مجھے یاد بھی نہیں کہ تم کہا کیا تھا مجھ سے ۔۔۔ لیکن ایک بات تمہیں کلیر کر دوں عاصم زمان آئندہ مجھ سے چیٹنگ کروانے کی توقع مت رکھنا خود محنت کرو ۔۔۔۔ ” رباب کے صاف جواب پر عاصم کو برا ضرور لگا تھا یہی بات وہ پہلے ہی بتا دیتی ۔۔۔۔
رات تک شاہزیب کاغصہ کافی حد تک کم ہو چکا تھا ۔۔۔۔
رات کو نیناں کے چاٹ بھی پیک کروا کے لایا تھا ۔۔۔۔ بات کو بڑھانا تو وہ بھی نہیں چاہتا تھا ۔۔۔ لیکن گھر داخل ہوتے ہی یہ خبر سننے کو ملی تھی کہ وہ جا چکی ہے ۔۔۔۔
مطلب میری بات کی یہ اہمیت ہے تمہاری نظر میں میں پورا دن خوامخواہ یہ سوچتا رہا کہ میرے منع کرنے پر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ نیناں چلی جائے میری بات کی بہت اہمیت ہے میری نیناں کی نظر میں ۔۔۔۔۔ بھاڑ میں جاؤ میری طرف تم ۔۔۔ بیٹھی رہو باپ کے گھر ۔۔۔ جب تمہیں میری کوئی پروا نہیں ۔۔۔ تو شاہو بھی مرا نہیں جا رہا تم پر ۔۔۔۔ لینے تو میں بھی تمہیں نہیں آؤں گا ” چاٹ ٹیبل پر رکھ کر اس نے متنفر سے سوچا ۔۔۔ اور صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔ عاصم پورے دن سے کمرا بند کیے رٹے لگا رہا تھا چیٹنگ کی کوئی امید تھی نہیں اس لئے یاد کرنے میں ہی عافیت سمجھی تھی کچھ کھانے پینے باہر آیا تھا ۔۔۔ ٹیبل پر چاٹ دیکھ کر چہک اٹھا ۔۔
“شاہو بھائی یہ چاٹ کس کے لئے لائے ہیں “
” تمہارے لئے موٹے بلے کھا لے ” شاہزیب نے ٹی وی دیکھتے ہوئے کہا
” واہ میرے لئے ” عاصم خوش ہو گیا چاٹ پلیٹ میں ڈالی پہلا چمچ لیتے ہی سمجھ گیا تھا کہ چاٹ کس کے لئے آئی تھی
” مرچ بہت کم ہے ۔۔۔ نیناں آپی کے لئے لائے تھے ۔۔۔؟ ” کچن سے چاٹ مصالحہ باہر لاتے ہوئے عاصم نے قیاس لگانے کی کوشش کی
” تمہارے لئے ہی لی ہے ۔۔۔ کھانی ہے تو کھاؤ ورنہ باہر پھنک دو ” شاہزیب کے بگڑے موڈ کو دیکھ عاصم خاموشی سے کھانے لگا ۔۔۔۔
******……
نیناں نے آج بختیار صاحب کی پسند کی ڈشز خود بنائی تھیں ۔۔۔۔ ڈائنگ ٹیبل پر خود انکے پاس بیٹھ کر انکی پلیٹ میں پلاؤ ڈالنے لگی
” پوپس کھا کر بتائیں کیسا بنا ہے ۔۔۔ آج میں نے آپ کے لئے آپ ے ہاتھوں سے سب کچھ بنایا ہے ۔۔۔ ” نیناں نے چمچ میں چاول ڈال کر بختیار صاحب کے منہ کے قریب کی ۔۔۔۔ انہوں نے منہ ڈالے ۔۔۔
” ڈیلشیس میری جان ۔۔۔ بہت مزے کے بنے ہیں لیکن یہ سب بنانے کی ضرورت کیا تھی بامشکل ایک دن کے لئے تو تم آتی ہو ۔۔۔۔ اس میں خود کو کچن میں مت کھپایا کرو ۔۔۔ ” نیناں کے ہاتھ سے چمچ لیکر نیناں کو کھانا کھلانے لگے
” اس بار میں خوب سارے دن رہو کی پوپس ۔۔۔ بے فکر رہیں آپ “
” رہ ہی لو اتنے دن ۔۔۔۔ ایک دن گزرتا نہیں ہے کہ وہ اپنی پھٹپھٹیاں لیکر یہاں پہنچ جاتا ہے ۔ آندھی طوفان کی طرح کی طرح پہنچ جاتا ہے ۔۔۔ باہر ہی ہارن ہے ہارن دے کر پورے ایرے جوسر پر اٹھا لیتا ہے ۔۔۔۔
تم بھی ہوا کے گھوڑے سوار ہو جاتی ہو ۔۔۔۔ ” بختیار صاحب کے شکوے شروع ہو گئے تھے
” اس بار آپ کی ساری شکایتیں دور کر دوں گی پوپس اجازت لیکر آئی ہوں ” یہ جھوٹ تھا جو نیناں نے بولا تھا ۔۔۔۔
” چلو دیکھ لیتے ہیں ۔۔۔ یہ میرے شہزادے کہاں ہیں نظر نہیں آ رہے ” بختیار صاحب کو نواسے نظر نہیں آئے تو پوچھنے لگے ۔۔۔
وہ رحمت بی بی انہیں لاونج میں لیکر بیٹھی ہیں ۔۔۔۔ اپنے کھیلونوں سے کھیل رہے ہیں ۔۔۔
” نیناں تم نے شاہزیب سے بات کی تھی ۔۔۔۔ “
” کون سی بات پوپس ” بختیار صاحب کے ہاتھ سے کھانا کھاتے ہوئے اس نے پوچھا
” میرے آفس میں جاب کرنے کے بارے میں “
” نہیں ۔۔۔ پوپس ۔۔۔۔ “
” کیوں ؟ “
” پوپس وہ نہیں مانے گئے “
” کیوں نہیں مانے گا ۔۔۔۔ تم کب تک اس کی ہر بات پرست جھکائے رکھو گی نیناں ۔۔۔۔ اپنی بات بھی منوانے کاڈھنگ سیکھو ۔۔۔۔۔ بچے بڑے ہو رہے ہیں ۔۔۔۔
انہیں اچھے ماحول کی ضرورت ہے ۔۔۔۔ ورنہ بات کی طرح آوارہ عاشق ہی بنے گئے اور کچھ نہیں ” بختیار صاحب ترش لہجے میں بولے
” پوپس ایسی بھی بات نہیں ہے ۔۔۔۔۔ دو دو جاب کر رہے ہیں میرے پاس اگر آسائشوں کی فراوانی نہیں ہے تو شاہزیب نے تنگی بھی کبھی نہیں دی ۔۔۔۔ میں خوش ہوں ۔۔۔۔ پانی گلاس میں ڈالتے ہوئے نیناں نے جیسے باپ کے ساتھ خود کو بھی تسلی دی تھی ۔۔۔۔۔ بختیار صاحب کی نظر نیناں کی ہتھیلی پر پڑی تھی جس پر جلے کے نشانات تھے ورنہ سے چمچ پلیٹ میں پٹخ کر انہوں نے نیناں کا ہاٹھ پکڑا تھا ۔۔۔۔۔
” نیناں یہ کیا ہوا ہے ۔۔۔۔ ہاتھ کیسے جل گیا ۔۔۔۔ ” زخم تو ٹھیک ہو چکا تھا لیکن نشان ابھی بھی باقی تھے
“پوپس میری ہی غلطی کی وجہ سے جل گیا تھا “
” یہ تم خواہمخواہ کے پردے مت ڈالا کرو اپنے ظالم سسرال والوں کے میرے سامنے ۔۔۔ بلاتا ہوں اس زمان کے بچے کو ۔۔۔میری بیٹی اس کے گھر کی کک بن کر نہیں گئ تھی ۔۔۔۔۔ دیکھوں تو کس قدر بری طرح جلے کا نشان ہے ۔۔۔۔ نا جانے کتنا جل گیا تھا ہاتھ کتنی تکلیف ہوئی ہو گی اور تم نیناں ۔۔۔۔ بتانے کی زحمت بھی نہیں کی ۔۔۔” بختیار صاحب کو بیٹی کی چپ پر افسوس تھا
” پوپس بتانے والی بات نہیں تھی ۔۔۔ امی ابو نے بہت خیال رکھا ہے میرا ابو خود مجھے فوراسے ڈاکٹر پر لیکر گئے تھے ۔۔۔ امی اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتی رہی ہیں ۔۔۔
مجھے ڈانٹا بھی کہ میں کچن میں گئ ہی کیوں ۔۔۔۔ سب میرا بہت خیال رکھتے ہیں پوپس پھر آپ کو کیوں پریشان کرتی ۔۔۔۔۔ ” نیناں نے اپنا ہاتھ بختیار صاحب کے ہاتھ سے کھنچ لیا ۔۔۔۔
تین دن گزر گئے تھے ایک کال تک نہیں آئی تھی شاہزیب کی ۔۔۔ نا نیناں نے کوئی فون کیا تھا ۔۔۔۔
آٹھ دن گزر گئے تھے ۔۔۔۔ نیناں سوچ چکی تھی رات کو شاہزیب سے کہہ دے گی اسے لینے آ جائے ۔۔۔۔ اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہوئی تھی کہ وہ باپ کے گھر آ کر بیٹھی رہے ۔۔۔۔۔ مجھ سے محبت کرتا ہے اس لئے حیدر کو دیکھ کر برداشت نہیں ہوا ہو گا ۔۔۔۔ اس لئے یوں ریایکٹ کر دیا ہو گا ۔۔۔۔ مجھے خود ہی بات کلیر کرنی چاہیے تھی ۔۔۔۔ ناراضگی مسلے کا حل تو نہیں ہے ” نیناں کا دل خود ہی شاہزیب کی وکالت کر رہا تھا ۔۔۔۔۔
بختار صاحب کی کال یہ تھی کہ نیناں تیار رہے شام کو اسکن اسپشلسٹ سے چیک کروانے کے لئے ٹائم بختیار صاحب لے چکے ہیں ۔۔۔ نیناں مقررہ وقت پر وہاں پہنچ گئ تھی ۔۔۔ ہاتھ چیک کرو کر ڈسکرپشن سلپ لیکر وہ باہر نکلی سامنے سے شاہزیب کو آتے دیکھ کر وہی ٹھٹک کر رک گئ تھی اس کے ساتھ کوئی بڑی عمر کا شخص بھی تھا جس سے باتوں میں مصروف تھا ۔۔۔۔ نیناں کی طرف اسکی نظر نہیں پڑی تھی وہ اس کے پاس سے گزر کے جا چکا تھا ۔۔۔۔
” کیا ہوا ہے اسے ۔۔۔۔ طعبت تو ٹھیک ہے نا اب اسکی ” نا جانے کس کے بارے اتنا پریشان تھا تیز قدم بڑھاتے ہوئے وہ پراویٹ روم کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔ نیناں بھی کچھ فاصلہ رکھ کر اس کے پیچھے چلنے لگی ۔۔۔۔۔ کوریڈور سے مڑتے ہی وہ ایک کمرے میں جا چکا تھا ۔۔۔۔۔
نیناں اس دروازے کے پاس جا کھڑی ہو گی ۔۔۔۔
” کیا کوئی بیمار ہے؟ ۔۔۔۔ کون ؟ نیناں سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ دروازہ کھول کر اندر جائے یا نہیں پھر دھیرے سے میں گھمایا ۔۔۔۔ لیکن جو کچھ سامنے دیکھا اس کے بعد کچھ بھی دیکھنے کی تاب نہیں تھی جو کچھ سنا اسکے بعد تو شاید سننے کے لئے کچھ بچا ہی نہیں تھا ۔۔۔۔۔
ایک خوبصورت سی لڑکی فولڈنگ بیڈ پر بیٹھی تھی ۔۔۔۔ شاہزیب اسکے سامنے اسی بیڈ پر بیٹھا تھا اور وہ اسکے گلے لگی رو رہی تھی ۔۔۔
” پہلے آپ باتیں مجھ سے شادی کریں گئے نا ۔۔۔۔ بولیں “
” ہاں ضرور کروں گا ۔۔۔۔۔ تم سے شادی ۔۔۔ لیکن پہلے تم میری بات مانو گی ۔۔۔۔ ” شاہزیب اس لڑکی کے بازوں کو دھیرے سے پیچھے کر کے خود کو اس سے جدا کیا تھا ۔۔۔۔۔۔ اب وہ اس کے آنسوں اپنے ہتھیلیوں سے صاف کر رہا تھا ۔۔۔۔۔ نیناں کو لگا زمین آسمان اوپر نیچے کو گھوم کے رہ گئے ہیں ۔۔۔۔
یہ کون سا روپ تھا جو وہ اپنے شوہر کا دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
مجھے حادثاتی طور پر حیدر کا سہارا لینا پڑا تھا جس پر شاہزیب نے طوفان بھرپا کر کے رکھ دیا اور۔ خود ۔۔۔۔۔ ایک لڑکی کے گلے لگے اسے شادی کرنے وعدہ کر رہے ہیں ۔۔۔۔ نیناں وہیں سے پلٹ گئ تھی ۔۔۔۔۔ تیزی سے ہاسپٹل سے باہر نکلی تھی ۔۔۔۔
گاڑی کا پورا،سفر رو کر گزرا تھا ۔۔۔۔۔
کون تھی لڑکی کب آئی تھی شاہزیب کی زندگی میں ۔۔۔۔۔ وہ اس قدر قریب کے بات شادی تک پہنچ گئ تھی ۔۔۔۔۔۔ کیا یہ تھی وہ محبت جس کی خاطر میں اب تک صرف قربانیاں دیتی آ رہی ہوں ۔۔۔۔
اور وہ ۔۔۔۔ اس کا کیا گیا ۔۔۔۔۔ پھر اس سےایک نئ سے دل بہلانے کے لئے تیار ہے اور چاہتا ہے کہ میں صرف اسکے بچوں کو پالتی سنبھالتی رہوں ۔۔۔۔ بیوی بنکر اسکے گھر اور اسکے گھر والوں کو دیکھتی رہو اور وہ خود دوستی لڑکیوں کے ساتھ رنگ رلیاں مناتا پھرے ۔۔۔۔۔۔
نیناں کے آنسوں نہیں تھمے رہے تھے ۔۔۔۔
” بے بی کیاڈاکٹر نے انجکشن لگایا ہے ” ڈرائیور کافی دیر سے اسے روتے دیکھ رہا تھا اس لئے اسے لگ شاید ڈاکٹر کے ٹرٹمنٹ کی وجہ سے رو رہی ہے
” چپ چاپ گاڑی چلاؤں زیادہ سوال جواب مت کرو مجھ سے ” نیناں کے تلملانے پر وہ چپ ہو گیا ۔۔۔۔
*******……
باسم شاہزیب سے ملنے اسکے گھر کیا تھا لیکن س سے پہلے کے دور بیل دیتا سامنے کے فلیٹ سے خرم کسی کام سے باہر نکلا تھا باسم کو دیکھ کر اسے سلام کرنے لگا
” شاہو تو گھر پر نہیں ہے ایک ڈیر گھنٹے تک لوٹے گا انکل آنٹی بھی کسی دوست کے گھر گئے ہیں گھر پر کوئی ہیں ہے ۔۔۔ “
” اچھا مجھے بہت ضروری کام تھااس سے خیر میں نیچے ویٹ کر لیتا ہوں “
” نیچے کیوں یار آؤں اندر آؤں میرے گھر بیٹھ کر انتظار کر لو ۔۔۔۔ ” خرم نے خوش دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا لیکن باسم ہچکچا کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔
” ن۔۔نن۔نہیں ۔۔۔ خرم میں گھر ا جاتا ہوں ایک گھنٹے تک آ جاؤں گا جب شاہزیب آ جائے گا ” باسم وہاں نمیرہ کی وجہ سے جانا نہیں چاہتا تھا اس لئے کترا رہ تھا لیکن خرم کہاں کسی کی ایک بھی سنتا تھا ۔۔۔۔ اس لئے زبردستی اسے اندر لے گیا ۔۔۔۔ نمیرہ اور اسکی ساس کچن میں مصروف تھیں وقت بھی ڈنر کا تھا ۔۔۔۔ بریرہ کارٹون دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
” آؤں نا باسم بیٹھوں ادھر ۔۔۔۔ ” خرم نے اسے بریرہ کے پاس بیٹھا دیا ۔۔۔۔
” تم اس سے باتیں کروں بہت مزے کی باتیں کرتی ہے یہ ” خرم یہ کہہ کر کچن میں چلا گیا ۔۔۔۔
باسم اسکی پیاری سی گھنگرالے بالوں والی گڑیا جیسی بیٹی کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔ پھر اسے ہاتھ ملانے کے لئے آگے بڑھایا ۔۔۔
وہ بھی مسکرا کر ہاتھ ملانے لگی ۔۔۔۔
کبھی ہی دیر میں خرم کی والدہ باہر آ گئیں ۔۔۔
” اسلام علیکم کیسے ہو بیٹا ۔۔۔۔ “
“واعلیکم السلام جی میں ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں ” باسم انکے احترام میں کھڑا ہو گیا
” ارے بیٹھوں بیٹا کھڑے کیوں ہو گئے ۔۔۔۔ خرم تو تمہاری بہت تعریف کرتا ہے میں نے تو کئ بار کہا کہ اسے گھر لیکر آؤں ۔۔۔ لیکن کہتا تھا کہ تم شاہزیب کے گھر کے علاؤہ کہیں جاتے نہیں ہو ۔۔۔۔ آیا جایا کروں بیٹا ۔۔۔ میل جول سے دل بہلا رہتا ہے ۔۔۔۔ “
” جی ضرور لیکن وقت بہت کم ہی ملتا ہے ۔۔۔
باسم نا جانے کیوں وہاں نروس سا بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔۔
کہ کہیں پھر سے نمیرہ اسے کوئی نیا الزام نا دیدے ۔۔۔
وہ تو حد الامکان کوشش کرتا تھا کہ خرم سے دور ہی رہے ۔۔۔۔
کچن میں نمیرہ روٹی بنا رہی تھی
” نمی دو تین روٹیاں ذیادہ بنا لو باسم بھی کھانا کھائے گا ۔۔۔۔ ” باسم کی آمد سے تو واقف ہو چکی تھی اس لئے ماتھے پر کئ بل پڑے تھے ۔۔۔ لیکن بولی کچھ نہیں ۔۔۔۔ کھانا ٹیبل پر رکھ کر وہ کمرے میں جانے لگی تقتیباسب ہی ٹی ل پر بیٹھ چکے تھے پھر باسم سے ایسا کوئی پردہ بھی نہیں تھا کہ نمیرہ وہاں سب کے ساتھ کھانا نا کھاسکے
” نمی تم کہاں جا رہی ہو کھانا کھاؤں آکر “
” مجھے بھوک نہیں ہے خرم ۔۔۔ بعد میں کھا لوں۔ گی “
” ارے نمی ادھر آ میری بچی بھوک کیوں نہیں ابھی تو مجھ سے کہہ رہی تھی بہت بھوک لگی ہے خرم اگر اور دیر اور نہیں آیا تو میں تواس کاانتظار کیے بنا ہی کھانا کھا لوں گی ۔۔۔۔ ” خرم کی والدہ نے بڑے پیار سے سے بلانا چاہا
” تب لگی تھی امی ۔۔۔ اب بھوک مر چکی ہے ۔۔۔ آپ لوگ کھا لیں ” یہ کہہ نمیرہ اپنے کمرے
میں چلی گئ
باسم کو لگا کہ جیسے نمیرہ کے بھوکے رہ ے کی وجہ نا چاہتے ہوئے وہ بن گیا ہے
” ہو سکتا ہے امی کچن میں کب سے لگی ہوئی تھی اس لئے دل نہیں چاہ رہا ہو گا ۔۔۔ بعد میں کھالے گی ۔۔۔خرم نے معدافعانہ انداز سے کہا
باسم خالی پلیٹ رکھے بیٹھا تھا جی تو چاہا رہا تھا اٹھ گھر سے ہی باہر نکل جائے
” ارے یار تم یونہی بیٹھے ہو کھانا تو ڈالو ” خرم نے باسم کی خالی پلیٹ دیکھ باول اسکی طرف بڑھایا تھا ۔۔۔۔ نا چاہتے ہوئے بھی تھوڑا سا کھانا کھا کر اٹھنے لگا تھا ۔۔۔۔ تب تک شاہزیب بھی ا چکا تھا ۔۔۔ وہ بھی وہیں کھانے کے لئے بیٹھ گیا ۔۔۔
“ارے واہ قورمہ بنا ہے ۔۔۔۔ ” پلیٹ میں بے تکلفی سے سالن ڈالتے ہوئے شاہزیب نے کہا ۔۔ کھانے کے بعد شاہزیب باسم کو اپنے گھر لے گیا ۔۔۔
چائے خود بنا کر رکھی ۔۔۔
” کیا بات ہے بھابھی گھر پر نہیں ہے ” چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے باسم نے پوچھا ۔۔۔
” نہیں ناراض ہو کر میکے گئ ہے ” شاہزیب نے لاپروائی ظاہر کرنے کوشش کی حالانکہ دس دن تو اس نے بھی بڑی مشکل سے کاٹے تھے
” ناراض کیوں “
” اس دن دلائی جو کر دی میں نے اسکے کزن کی شاید میڈیم کو برا لگ گیا تھا ” شاہزیب نے طنزیہ جواب دیا
” یہ تو تم نے ویسے غلط ہی کیا تھا شاہزیب ۔۔۔۔ جو کچھ ہوا تھا سو فیصد اتفاقیہ ہی ہوا ہو گا ۔۔۔ تمہیں یوں ریایکٹ نہیں کرنا چاہیے تھا ۔۔۔۔ “
” اگر کوئی اور ہوتا تب بھی شاید میں چپ نہیں بیٹھتا وہ تو پھر حیدر تھا ۔۔۔۔ مجھے کوئی افسوس نہیں ہے ۔۔۔۔ تم جانتے ہو حیدر کون ہے ” چائے پیتے ہوئے شاہزیب نے کہا
” ہاں جانتا ہوں لیکن یہ مسلے کا حل نہیں ہے ۔۔۔ خود سوچوں دس دن سے وہ میکے میں ہے تو حیدر بھی وہیں ہو گا ۔۔۔۔ خواہمخواہ بات بڑھانے سے بہتر ہے کہ بات کرو بھابی سے گھر واپس لاؤں انہیں ۔۔۔۔ ” باسم کی بات سے شاہزیب کے چودہ طبق روشن ہوئے تھے یہ تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا ۔۔۔۔ کہ حیدر کا کون سا یہاں اپنا گھر تھا پہلے بھی وہ نیناں کے گھر پر ہی رہتا تھا ۔۔۔۔ نیناں کا مزید وہاں رہنے کا مطلب ۔۔۔۔ وہ تو نا جانے کتنا وقت نیناں اور اسکے بچوں کے ساتھ گزارتا ہو گا
