No One Wheeling (Season 2) by Umme Hani NovelR50410 No One Wheeling Episode 2
Rate this Novel
No One Wheeling Episode 2
No One Wheeling by Umme Hani
” سنئیں ۔۔۔۔ یہ سب سامان واپس لے جائیے ” شاہزیب کی بات پر رحمت بی بی نے متحیر سا ہو کر نیناں کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔ حیران تو نیناں بھی تھی لیکن شاہزیب۔ کی عادت سے واقف تھی ۔۔۔ اس لئے چپ ہی رہی ۔۔۔۔
” لیکن یہ سب صاحب جی نے نیناں کے لئے بھیجا ہے پھر رسم بھی ہے ” رحمت بی بی نے دھیرے سے کہا
” نیناں اب ان کی زمہ داری نہیں ہے ۔۔۔ اور رسم ورواج کی پاسداری کا تکلف رانا صاحب کو ویسے بھی پسند نہیں تو ۔۔۔ بہتر ہے کہ اب بھی نا نبھائیں ۔۔۔۔ یہ لے جائیے واپس ” شاہزیب ناشتہ کر چکا تھا ۔۔۔۔ عاتقہ بیگم بھی کچھ نہیں بولیں نا ہی نیناں نے کچھ کہا شاہزیب اب نیناں کی طرف دیکھنے لگا
” نیناں جو زیورات تم نے رات کو پہنے تھے وہ سارے انہیں واپس کر دو ۔۔۔ یہ رانا صاحب کو دیدیں گئیں ۔۔۔ ” اس بار نیناں بول پڑی
” شاہزیب وہ سب میری موم کے ہیں ۔۔۔ اور پوپس نے مجھے دیے ہیں ۔۔۔۔ میری بہت ہاڑٹلی اٹچمنٹ ہے ان چیزوں کے ساتھ ۔۔۔۔ “
” ہارٹلی اٹچمنٹ انسانوں سے ہونی چاہیے نیناں چیزوں سے نہیں ۔۔۔۔ آج کے بعد تم امی کو اپنی موم سمجھ لینا ۔۔۔۔ بہت لونگ اور کیرنگ ہے میری امی ۔۔۔۔ تمہیں ماں کی کمی ہر گز محسوس نہیں ہو گی۔۔۔۔ لیکن یہ میری خواہش ہے کہ تم یہ زیوزات واپس کر دو مجھے بلکل پسند نہیں ہیں ” بہت پیار اور نرمی سے شاہزیب نے کہا تھا ۔۔۔ نیناں اٹھ کر ۔کمرے میں چلی گئ کچھ دیر بعد ہی زیور کے سارے ڈبے اٹھا لائی ۔۔۔۔ اور ٹیبل پر رکھ دیے ۔۔۔۔
” رحمت بی بی یہ سب بھی لے جائیں ” نا چاہتے ہوئے بھی نیناں نے یہ فیصلہ کیا تھا ۔۔۔۔۔
رحمت بی بی چپ سی ہو گئیں ۔۔۔۔۔ سب سامان رانا ہاؤس واپس پہنچ چکا تھا
نیناں ناشتہ چھوڑ کر اپنے کمرے میں چلی ت
گئ۔۔۔ عاتقہ بیگم نے بیٹے کی سرزش ضرور کی تھی
” شاہزیب تم بھی نا جانے کب باز آؤں گئے ۔۔۔ ہم نے بھی تو ناشتہ بھیجا ہے نا شازی کو پھر اگر نیناں کے والد نے بھیج ہی دیا تھا تو کیا ضرورت تھی واپس کرنے کی ۔۔۔ اوپر زیورات بھی دے دیے ۔۔۔۔ اسکی والدہ کے تھے ۔۔۔ رہنے دیتے اس کے پاس ” عاتقہ بیگم نے سخت لہجے میں سمجھانے کی کوشش کی
” امی ناشتہ یوں نہیں بھیجا جاتا جیسے رانا صاحب نے بھیجا ہے انہوں یہ سب مجھے نیچا دیکھانے کے لئے کیا ہے تا کہ لوگوں پر اپنا آپ جتا سکیں ۔۔۔۔ اور نیناں کو محبت اور اپنایت کی ضرورت ہے ۔۔۔۔ آپ پیار دیں گی تو بھول جائے گی سب “
“اچھا ابھی تو اندر جا کر دیکھوں کہیں رو تو نہیں رہی۔۔۔۔ تم بھی شاہزیب۔ جانے کب سدھرو گئے ” عاتقہ بیگم کے کہنے پر وہ کمرے ۔یں چلا گیا
*******……..
شام میں جب باسم آفس سے واپس آ کر رابعہ بیگم کے پاس بیٹھا ۔۔۔۔ نیلوفر اسے کہیں بھی نظر نہیں آئی تھی ورنہ تو روز اسکے آنے پر وہ تیار ہو کر اس کاانتظار کر رہی ہوتی تھی باسم کے اندر داخل ہوتے ہی ایک دلفریب مسکراہٹ سے نیلو اسکااستقبال کرتی تھی ۔۔۔۔۔ اس کا لیپ ٹاپ کا بیگ پکڑ کر کمرے میں رکھتی تھی ۔۔۔۔ لیکن آج تو صحن سونا سونا لگ رہا تھا ۔۔۔۔ وہ کچھ دیر رابعہ بیگم کے پاس بیٹھ کر کمرے میں چلا گیا لیکن وہ کمرے میں بھی نہیں تھی ۔۔۔۔ اپنا لباس تبدیل کر کے جب وہ باہر آیا تو اسکی چائے تخت پر رکھی ہوئی تھی اور رابعہ بیگم اپنی چائے پی رہیں تھیں
کچن میں کھٹ پٹ کی آواز سے باسم نے اندازہ لگا لیا کہ نیلوفر کچن میں ہے ۔۔۔۔ اس لئے وہیں چلا آیا وہ کھانا بنا رہی تھی ۔۔۔ اور اپنی چائے کا کپ بھی شلف پر رکھا تھا ۔۔۔۔ ویسے تو شام کی چائے وہ باسم۔ اور رابعہ بیگم کے ساتھ صحن میں ہی بیٹھ کر پیتی تھی ۔۔۔ لیکن آج موڈ اچھا خاصا خراب تھا ۔۔۔ اس لئے باہر نہیں آئی تھی ۔۔۔
“فری اسٹو بند کریں ۔۔۔ اور پہلے باہر آ کر چائے پیے میرے ساتھ ” باسم نے اس کا کپ اٹھایا اور باہر آ گیا ۔۔۔۔ نیلو فر خاموشی سے باہر آ گئ ۔۔۔۔ چائے تو اس نے پی لی لیکن بلکل چپ تھی ۔۔۔۔
رابعہ بیگم چائے پی کر اندر کمرے میں چلیں گئیں ۔۔۔۔ نیلو بھی خالی کپ اٹھا کر کچن میں جانے لگی ۔۔۔ لیکن باسم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر وہیں بیٹھنے کو کہنے لگا
” مجھے کچن میں کام ہے ” نیلو نروٹھے لہجے میں بولی ۔۔۔۔ ” باسم نے اس کا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا
” فری کیا بات ہے ۔۔۔۔۔ آج بڑا روکھا روکھا ویلکم کیا ہے آپ نے ” باسم نے اس کے روٹھے روٹھے انداز کو دیکھ کر کہا
” نہیں تو ۔۔۔۔ بس چپ رہنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔ آپ کو میرا ذیادہ بولنا پسند جو نہیں ” آنکھوں میں موٹے موٹے آنسوں بھرے تھے جو اب چھلک رہے تھے ۔۔۔۔ باسم کا شک ٹھیک نکلا تھا جو بات صبح سے دل میں کھٹک رہی تھی وہی ہوئی تھی ۔۔۔۔ وہ اسی بات پر خفا تھی ۔۔۔
” فری ” باسم نے اپنے انگوٹھے سے اسکے آنسوں صاف کیے
” میں نے تو بس یونہی کہا تھا ۔۔۔۔ آپ بولتی ہیں تو مجھے گھر گھر لگتا ہے ” باسم اب اسے منانے کی کوشش کر رہاتھا
” نہیں آپ نے ٹھیک کہا تھا مجھے ذیادہ نہیں بولنا چاہیے ۔۔۔۔ لیکن میں کیا کرتی ۔۔۔۔ امی کی وفات کے بعد تو میری کوئی سننے والا تھا نہیں ۔۔۔ بابا صبح کے گئے رات کو آتے تھے ۔۔۔۔ اور پھپو ۔۔۔۔ وہ صرف اپنی ہی کہتی تھیں ۔۔۔۔ میں بس دل کی دل میں ہی رکھنے لگی تھی لیکن جب آپ ملے ۔۔۔ رائمہ ملی ۔۔۔ رائمہ نے جیسے مجھ سے میرا اور اپنا ہر غم بانٹ لیا ۔۔۔ اپنی ہر بات مجھ سے کہتی تھی اور مجھ سے بھی زبردستی پوچھتی تھی ۔۔۔۔ پھر پہلے تو آپ کو بھی میرا بولنا پسند تھا ۔۔۔۔ لیکن ٹھیک ہے ۔۔۔ اب نہیں بولوں گی ۔۔۔۔ ” موٹی موٹی آنکھوں سے بہنے والے آنسوں وقت باسم کو اپنے دل پر گرتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے ۔۔۔۔
” فری ۔۔۔ ایم سوری ۔۔۔۔ میں نے سچ میں بس یونہی کہہ دیا تھا ایسا کوئی مقصد نہیں تھا میرا ۔۔۔۔ ” باسم نادم سا ہو رہا تھا ۔۔۔ سمجھ نہیں پا رہا تھا اسے منائے کیسے
” کوئی بات نہیں آپ کیوں سوری کر رہے ہیں ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ کچن میں چلی گئ ۔۔۔۔ ڈنر کے بعد باسم اسے باہر لے گیا ۔تھا ۔۔ آئسکریم بھی کھلائی اور کانچ کی ڈیر ساری چوڑیاں بھی لے دیں ۔۔۔ رباب کے لئے بھی دو تین ڈٹ پانچ کی چوڑیوں کے لئے تھے ۔۔۔۔ بس یہی کافی تھا ۔۔۔۔ نیلو فر کے خوش ہونے کے لئے ۔۔۔ باسم بھی کچھ پر سکون ہو تھا ۔۔۔۔
رات کو چوڑیاں اتارنے سے پہلے وہ چوڑیاں سے بھرے ہاتھ دیکھ کر مسکرا رہی تھی ۔۔۔
باسم نے اسکی آنکھوں کی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔ وہ ڈرسنگ کے سامنے کھڑی تھی ۔۔۔ چوڑیاں اتارنے سے پہلے اپنی کلائیاں دیکھ رہی تھی جو پر رنگ برنگی چوڑیوں سے بھری ہوئیں۔ تھیں ۔۔ لیکن باسم کے پاس آ کر کھڑے ہونے سے اور یوں اسکی آنکھوں میں دیکھنے سے وہ کچھ متذبذب ہوئی تھی ۔۔۔ اپنی نظریں چرا رہی تھی شرم حیا کے رنگ چہرے کو ایک نیا رنگ دے رہے تھے
” ایسے کیا دیکھ رہے ہیں ” وہ دھیرے سے بولی
” تمہاری آنکھوں میں آنے والی خوشی کو دیکھ رہا ہوں ۔۔۔۔ میں نے انجانے میں بہت رلا دیا تھا شاید ؟ ” نیلو کو ساتھ لگائے کہنے لگا ۔۔۔۔ باسم کو یہ بات پریشان کیے ہوئی تھی کہ وہ اسکی وجہ سے روئی ہے ۔۔۔ یہ بھی سچ تھا کہ وہ اکیلی ہی رہی تھی کہاں کسی سے بات کرتی تھی ۔۔۔ جیسا نیلوفر نے مشکل وقت گزارا تھا ۔۔۔۔ اب اچانک سے خوشیاں دیکھ کر
اگر وہ خوشی سے بولنے لگی تھی۔۔۔ باتیں کرنے لگی تھی تو باسم کو روکنا نہیں چاہیے تھا ۔۔۔۔
“فری ۔۔۔ آپ آج کے بعد مجھ سے ہر بات شیر کیا کریں گی جیسے رائمہ سے کرتی تھیں ۔۔۔ میاں بیوی سب سے بہترین دوست ہوتے ہیں ۔۔۔ کیونکہ انہوں نے عمر بھر ساتھ رہنا ہوتا ہے کہیں جانا نہیں ہوتا ۔۔۔ ” اب وہ اس سے الگ ہو کر اسے دیکھتے ہوئے بولا لیکن فری اب بھی چپ تھی
” فری ۔۔۔۔ اب تو بات کریں مجھ سے ۔۔۔ قسم سے بہت خالی خالی لگ رہا ہے ۔۔۔ ” فری کو کہاں پتہ تھا کہ اس بات پر باسم یوں پریشان ہو جائے گا ۔۔۔ اتنا منائے گا ۔۔۔ اتنی فکر کرے گا ۔۔۔۔ کب کسی نے
اسکی ناراضگی کی کبھی فکر کی تھی ۔۔۔ کب پروا تھی کہ نیلو رات بھر ماں کو یاد کرتے ہوئے روتی رہی ہے ۔۔۔ کب کسی کو اپنی کڑوی باتوں کااحساس ہوا تھا ۔۔۔ کہ انکی باتوں کو سہنے والی بن ماں کی بچی پر گزر کیا رہی ہے ۔۔۔۔
” آپ مجھ سے یوں بار بار ایکسکیوز مت کریں ” نیلو اب متذبذب ہوئی تھی ۔۔۔
” کیوں نا کروں دل دکھایا ہے آپ کا ۔۔۔۔ چین تو تب ہی آئے گا جب آپ میری طرف سے دل صاف کر لیں گی ” باسم کی فکرمندی وہ دیکھ رہی تھی ۔۔۔ اپنے نصیب پر ناز نا کرتی تو اور کیا کیا کرتی ۔۔۔
******…….
رانا بختیار کی دوسری سگریٹ بھی ختم ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔ سارے زیورات سامنے لاونج کے ٹیبل پر موجود تھے ۔۔۔ اور ناشتے کے ٹوکرے لانج کے فرش پر پڑے تھے ۔۔۔۔
غصے سے وہ سلگ ہی تو گئے تھے ۔۔۔ سب سے پہلے تو نیناں پر جی بھر کے غصہ آیا تھا ۔۔۔۔ شاہزیب تو خیر تھا ہی انکے رقیبوں کی لسٹ میں سر فہرست پر ۔۔۔۔ لیکن نیناں تو سگی اولاد تھی منع کیوں نہیں کیا
انہوں نے تو سوچا تھا وہ لوگ ناشتہ خوشی خوشی رکھیں گئے ۔۔۔ پورا اپاٹمنٹ دیکھے گا کہ رانا بختیار کی بیٹی کا ناشتہ آیا ہے ۔۔۔۔ اپنی برتری وہ ہمیشہ زمان صاحب کے اوپر دیکھنا چاہتے تھے ۔۔۔ تا کہ انکی گردن اور نظریں رانا بختیار کے سامنے جھکی رہیں ۔۔۔ لیکن شاہزیب بھی انہی کا داماد تھا ۔۔۔۔
جس طرح سے سب نے ناشتہ زمان صاحب کے گھر آتے ہوئے دیکھا تھاویسے ہی واپس جاتے ہوئے بھی دیکھا تھا وہ بھی زیورات سمیت ۔۔۔
نیناں کچھ دل برداشتہ سی ہو کر اٹھ کر کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔ ناشتہ بھی ٹھیک سے نہیں کر پائی تھی ۔۔۔۔ زیور اسکی ماں کا تھا جس پر حق ہونے کے ساتھ ساتھ دلی وابستگی تھی
شاہزیب بھی کچھ دیر بعد کمرے میں آ گیا نیناں کے چہرے کے تاثرات سے اسکے دل کی کیفت کا اندازہ لگانا اس کے لئے مشکل نہیں تھا جانتا تھا کہ اسے کیا برا لگا ہے ۔۔۔ اسے دیکھ کر نیناں کچھ سنبھلی تھی
۔۔۔ شاہزیب نا جانے کیا اس کے چہرے پر ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔ اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا اسے دیکھ رہا تھا نیناں کو لگا کہیں دل کی بات نا سمجھ جائے ۔۔۔ اس لئے مسکرانے لگی شاہزیب نے اس ہاتھ تھام لیا ۔۔۔
” میری مینا کیا بات ہے چپ چپ کیوں ہو ۔۔۔۔ دیکھوں مجھے تمہاری امی کی جیوری سے کوئی ایشو نہیں ہے ۔۔ اگر ایک آدھی چین یا انگوٹھی ہوتی تو کبھی اعتراض نا کرتا لیکن لاکھوں کا زیور میں نہیں رکھ سکتا ۔۔۔۔۔ تم جانتی ہو کہ اس وقت میں خالی ہاتھ ہوں اور تمہارے لئے بہت کچھ کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔ پھر انسان ہی ہوں نا یار فرشتہ تو پر گز نہیں ہوں ۔۔۔۔ میرے سامنے لاکھوں کی چیز ہونے کا مطلب تو سیدھا سا یہ کہ بھوکی بلی کو دودھ کی رکھوالی پر بیٹھا دیا جائے ۔۔۔۔۔ میں نہیں چاہتا کہ کبھی کسی مشکل وقت سے نکلنے کے لئے میری نظر تمہارے زیور پر جائے ۔۔۔ یا پہلا خیال تمہاری چیزوں کا آئے ۔۔۔۔اس لئے بھجوا دیے تھے واپس ” شاہزیب نے واضاحت دی
” میں نے اعتراض تو نہیں کیا آپ سے ” نیناں کے چہرے پر اب بھی خفگی تھی
” نیناں ایک بات کہو تم سے بلکل سچ سچ ” شاہزیب کی بات پر نیناں گھبرائی تھی ۔۔۔
” کیا شاہزیب “
” نیناں میری محبت میں تمہیں کبھی کمی نہیں ملے گی ۔۔۔۔ یہ میرا وعدہ ہے ۔۔۔ دوسری بات۔۔۔ میں برابری پر یقین رکھتا ہوں نیناں۔۔۔۔۔ اس لئے اتنی محبت تم سے بھی چاہوں گا جتنی تم سے کرتا ہوں ۔۔۔۔ جانتی ہو نا کہاں رہتی ہو تم میرے ۔۔۔ یہاں ادھر میرے دل میں ۔۔۔۔ ” نیناں کا ہاتھ پکڑے اس نے دل کے مقام پر رکھا تھا ۔۔۔
” جانتی ہوں شاہزیب ” نیناں نے مسکرانے کی کوشش کی تھی یہ تو وہ جانتی تھی کہ وہ کتنی محبت کرتا ہے ۔۔۔ اس میں شک کر ہی نہیں سکتی تھی شاہزیب نے اس کے چہرے کی۔ جانب دیکھ کر کہنا شروع کیا
” میں چاہتا ہوں کہ تم کبھی بھی میرے اور رانا صاحب کے بیچ میں آنے کی کوشش مت کرنا ۔۔۔ میرا وعدہ ہے تم سے ۔۔۔ تم پر کبھی کوئی پابندی نہیں لگاؤں گا ۔۔۔ تم جب چاہوں ان سے مل سکتی ہو ان کے ساتھ رہ سکتی ہو ۔۔۔۔ لیکن پلیز مجھے ان سے کوئی تعلق نہیں رکھنا۔۔۔ نیناں ۔۔۔۔ اس لئے مجھے کبھی فورس بھی مت کرنا ۔۔۔۔ اسی طرح جیسے رانا صاحب اپنے گھر کے بادشاہ ہیں تو میں بھی اپنے گھر کا راجا مہاراجا ہوں یہاں اپنے باپ کے علاؤہ کسی کی اور کی چلتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔۔ کیوں نیناں ۔۔۔ میں ٹھیک کہہ رہا ہوں نا ” اس ہاتھ ہونٹوں پر لگاتے ہوئے وہ پوچھ رہا تھا ۔۔۔ نیناں نے اثبات میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔
چلو اب باہر امی کے پاس بیٹھتے ہیں نمی آ کر تمہیں پارلر لے جائے گی ۔۔۔۔ ” شاہزیب کے ساتھ ہی وہ دوبارہ باہر گئ تھی ۔۔۔ عاتقہ بیگم ناشتہ ٹیبل سے اٹھا رہیں تھیں ۔۔۔ نیناں کو دیکھ کر مسکرانے لگیں ۔۔۔
*****……..
رات کو رائمہ نے کھانے میں رامس کی پسند کی ڈش بنائی تھی لیکن پھر بھی اس نے کھانا ٹھیک سے نہیں کھایا تھا ۔۔۔۔
رائمہ نے بھی کھانا ذرا سا کھا کر چھوڑ دیا ۔۔۔۔
رات کو کمرے میں بھی رامس بہت دیر سے آیا تھا۔۔۔۔ اور آتے ہی بیڈ پر مخالف سمت کروٹ لے کر لیٹ ۔۔۔ رائمہ لب سے اس کاروکھا سا رویہ برداشت کر رہی تھی
” رامس میرا قصور کیا ہے ۔۔۔۔ رقیہ آپاں رونے لگیں تھی۔ میں کیا کر سکتی تھی ۔۔۔ مجھ سے کیوں ناراض ہیں ” رائمہ کی آواز میں نمی تھی رامس نے کروٹ بدل کر اسے خفگی سے دیکھا
” میں نے کب کہا تمہارا قصور ہے ۔۔۔۔ کوئی شکایت کی میں نے تم سے ؟”یکن لہجہ شکوہ کناں تھا
“بات بھی تو ٹھیک سے نہیں کر رہے ہیں ۔۔۔ پھر کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھایا ” رائمہ گلوگیر لہجے سے گویا ہوئی رامس اٹھ کر بیٹھ گیا اس سے پہلے کے وہ رونے بیٹھ جاتی
” دیکھوں یہ رو کر مجھے بلیک میل مت کرنا تمہیں پتہ ہے کہ ۔۔۔۔۔ ” یہ کہہ وہ نظریں چرا گیا چہرے پر اب ناراضگی اور خفگی نہیں تھی ۔۔۔
” میں تمہیں روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا ” دھیمے لہجے میں بولا
رامس کی بات اور متوازن ہوتے لہجے پر رائمہ کی آنکھوں میں ٹہرے آنسوں رکے تھے ۔۔۔
” رائمہ بے شک تم میری بہنوں کی عزت کرو مہمان نوازی کرو ۔۔۔۔ لیکن یار میری جیب کا بھی تو خیال رکھو نا۔۔۔ میں اتناافورڈ نہیں کر سکتا ہر دو تین دن بعد کی عیاشیاں ۔۔۔ مہینے میں ایک آدھی بار کی دعوت افورڈ ہو جاتی ہے لیکن ہر تیسرے دن کی انکی غیر متوقع آمد پر وہی۔ پکایا کرو جو عام گھر میں پکتا ہے ۔۔۔۔۔ جب چار دن گھر کا عام کھانا کھائیں گی تو سوچ کر آیا کریں گئیں ۔۔۔۔
اور میں تھکا ماندہ رات کو گھر پہنچتا ہوں آ کر
مجھے اپنا کمرہ چاہیے رائمہ صحن کی چارپائی نہیں ۔۔۔۔ آج کے بعد ایسی کوئی حامی مت بھرنا ۔۔۔ میں صاف انکار کر دو گا۔۔۔۔ اس بار بھی تمہاری وجہ سے چپ ہو گیا تھا ” رامس کی بات بھی اپنی جگہ ٹھیک تھی ۔۔۔۔
بہنیں اپنے گھروں میں خوشحال تھیں لیکن عادت سے مجبور تھیں میکے کا چسکا سا لگ گیا تھا ۔۔۔ خاص کر کے رقیہ کو ۔۔۔۔
رائمہ نے رامس جواب تو کوئی نہیں دیا لیکن پھر واقع رامس کی سیلری کے حساب سے گھر لیکر چلنے لگی تھی ساس نے تو آتے ہی گھر رائمہ کے حوالے کر دیا تھا سسر بھی بہت اچھے تھے ۔۔۔۔ خدمت کی قدر کرنے والے بس بڑی نند کو اپنے گھر میں چین نہیں تھا ۔۔۔۔۔
******……
صبح آٹھ بجے ہی زمرد بیگم نے بیٹے کے کمرے کا دروازہ بجانا شروع کر دیا تھا ۔۔۔ شازمہ اور شازل دونوں بیک وقت اٹھ کر بیٹھے تھے ۔۔۔۔
پہلے تو ہواسوں میں آنے میں وقت لگا تھا یک دم گہری نیند سے جاگے تھے ۔۔۔۔
شازمہ نے کوفت سے شازل کو دیکھا تھا ۔۔۔۔
شازل نے اٹھ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔
” تم کھولو دروازہ ۔۔۔ “یہ کہہ کر واش روم میں گھس گیا تھا ۔۔۔۔۔ شازمہ نے غصے سے تیکھی نظر اس پر ڈالی تھی ۔۔۔ پھر اٹھ کر بیڈ کی چادر درست کرنے لگی
شازمہ نے بھی دروازے کی دستک پر کان نہیں دھرے اٹھ کر بال بنائے اور اپنے کپڑے نکالنے لگی ۔۔۔ باہر سے زمرد بیگم کی آواز آئی
” شازل ۔۔۔۔ ارے فون کرو اپنے چچا کو ناشتہ نہیں آیا ابھی تک ۔۔۔۔ بھوک کے مارے میرا کلیجہ منہ کو آ رہا ہے ۔۔۔۔ ” زمرد بیگم کے منہ سے صبح صبح نہار منہ یہ سب سن کر شازمہ کاپارہںہائی ہوا تھا صبح آٹھ بجے ہی اگر انہیں بھول لگ گئ ہے تو کیا گھر میں کچھ نہیں رکھا ۔۔۔۔ میرے گھر کے ناشتے کا انتظار ہے ۔۔۔۔ شازمہ نے کپڑے نکال کر بیڈ پر رکھے اور دروازہ کھول دیا ۔۔۔۔ زمرد بیگم غصے سے بھپری کھڑی تھیں ۔۔۔۔
” ارے اتنی دیر سے دروازہ پیٹ رہی ہوں دروازہ کیوں نہیں کھول رہیں تھیں ۔۔۔۔ اور یہ شازل کہاں ہے ۔۔۔ ” زمرد بیگم کمرے میں داخل ہو گئیں پورے کمرے کا جائزہ لینے لگیں ۔۔۔۔۔
“واش روم میں ہیں شازل ۔۔۔۔ ” شازمہ نے بھی دبنے کے بجائے کڑک دار لہجہ اپنایا تھا ۔۔۔۔
” اچھا اچھا ٹھیک ہے جلدی سے تیار ہو کر باہر آؤں اور چائے چڑھاؤں اور فون کر کے پوچھو عاتقہ سے کے ناشتہ کب پہنچے گا ۔۔۔ سورج سر پر چڑھ آیا ہے اور یہاں کسی کو یہ تک ہوش نہیں کہ بیٹی کے گھر ناشتہ بھی لیکر جانا ہے ۔۔۔ “
” تائی اماں اتنی صبح کہاں ناشتے کا رواج رہ گیا ہے ۔۔۔۔ آپ تو ڈیفنس میں رہتی ہیں ۔۔۔۔ یہاں کے لوگ کہاں اتنی جلدی ناشتہ ساختہ کرتے ہیں ۔۔۔ اتنے سالوں سے آپ یہاں رہ رہی ہیں کچھ تو طور طریقے بھی یہاں کے اپنا لینے چاہیے تھے ۔۔۔۔ یا پھر پورے محلے کی عادت ابھی تک مزاج میں باقی ہے ” شازمہ کون سی کم تھی ۔۔۔۔ اسی خاندان سےتھی ۔۔۔۔۔ شادی سے پہلے تو زمرد بیگم کے رویے کو کڑوا گھونٹ سمجھ کر پی جاتی تھی لیکن سب تو خیر سے گھر پہنچ چکی تھی اب اپنے رنگ دیکھانے شروع کیے تھے ۔۔۔۔ زمرد بیگم کا پارہ ہائی ہوا تھا شازمہ کا جواب سن کر ۔۔۔۔
اسی اثنا میں شازل سر رگڑتا ہوا واش سے نکلا تھا
ماں کو سامنے دیکھ کر تھوڑی جھجک بھی محسوس ہوئی تھی اور تھوڑی کوفت بھی ۔۔۔ بھلا شادی کی پہلی صبح ماں کا یوں بے دھڑک کمرے میں آنے کی کیا تک تھی غیر مناسب سی بات تھی ۔۔۔۔ لیکن کہہ نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔ شازل کو دیکھ کر زمرد بیگم کمرے سے نکل گئیں ۔۔۔۔ شازمہ تیار ہو کر ساڈھے نو بجے ہی باہر آئی تھی ۔۔۔۔۔ جاوید صاحب بھی اٹھ چکے تھے اور اخبار پڑھ رہے تھے ۔۔۔۔ ساتھ ساتھ بیوی لعن ترانیاں بھی سن رہے تھے ۔۔۔۔
” یہ ارشد کو آپ نے بلاوا بھیجا تھا ۔۔۔ ” زمرد بیگم کو بارات پر آنے والے مہمان ایک ایک کر کے یاد آ رہے تھے
” ہاں شاید یاد نہیں ” جاوید صاحب نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا پھر اخبار کا صفحہ پلٹ کر پڑھنے لگے
” پوری پلٹن ساتھ لایا تھاوہ اپنے بچوں کی اپنے ساتھ ۔۔۔۔اور دے کر کیا گیا ہے بس پانچ۔ سوروپیہ”زمرد بیگم کو یہ افسس لگا ہوا تھا
” چلو خیر کے اسکے پہلے بیٹے کی شادی پر تم آس پڑوس کے بچے ساتھ لے جانا حساب پورا کر لینا ۔۔۔۔ ” جاوید صاحب نے جلنکر جواب دیا تھا
” جیدی ویسے کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو۔۔۔۔۔ پہلی بار کوئی عقل کی کہی ہے تم نے ۔۔۔۔۔ ” زمرد بیگم کو میاں کا مشورہ پسند آیا تھا ۔۔۔۔ جیدی صاحب نے اخبار غصے سے لپیٹ کر ایک طرف پٹخا
” یعنی کے حد ہی گئ ہے ” اپنا تکیہ کلام عادت دہرایا اس پہلے کے زمرد بیگم کو چار چھ ایسے رشتے دار اور یاد آتے شازمہ کے سلام کرنے پر دونوں کی توجہ شازمہ طرف گئ ۔۔۔۔ شازمہ کو دیکھ کر زمرد بیگم کی بھوک پھر سے چمک اٹھی تھی
” شکر ہے جو تم نے کاہے سنے کی بھی زحمت کر لی ۔۔۔ اب ذرا کچن کا رخ کر رو ۔۔۔۔ فی الحال چائےبسے ہی معدے کو تسلی دوں ۔۔۔۔ ناشتہ تو لگتا ہے دوپہر دو بجے ہی نصیب ہو گا ۔۔۔۔ ” زمرد بیگم کی بات جیدی صاحب کو ناگوار سی لگی تھی ایک دن کی بہو کو کچن میں لگا دیا جائے وہ بھی انکی سگی بھتجی کو
” ارے بیٹا تم یہاں بیٹھو ۔۔۔۔ ابھی چند دن کوئی ضرورت نہیں ہے چکن میں کام کرنے کی ۔۔۔۔ چائے میں بنا دیتا ہوں ویسے بھی روز میں ہی بناتا ہوں ۔۔۔ تم پیو گی ” جاوید صاحب نے بڑے پیار سے شا،مپ سے پوچھا
” نہیں تایا جان آپ کیوں بنانے لگے ۔۔۔ میں بنا دیتی ہوں ۔۔۔ میں کون سا غیر ہوں جو تکلف برتو ۔۔۔ آپ بیٹھیں ” سسر کے سامنے شازمہ بلکل میٹھی زبان اپنائے بولی تھی ۔۔۔۔۔ اور کچن میں چلی گئ ۔۔۔۔ پتہ تو تھا کہ چائے اسے ہی بنانی پڑے گی
” کیسی اچھی تربیت کی ہے زمان اور عاتقہ نے بچوں کی ۔۔۔ کیا ادب لحاظ سیکھایا ہے۔۔۔۔۔ کوئی غیر آتی تو کہاں کچن کارخ کرتی “
” غیر آتی تو جہیز بھی ٹرک بھر کے لاتی ۔۔۔ منہ اٹھا کہ کمرے کی چار چیزیں نا لاتی ۔۔۔۔ کیا تھا جو سونے کے بندے ہی ساس سمجھ کر مجھے ڈال دیتے۔۔۔۔ ایک ہی ایک توبیٹا تھا میرا ۔۔۔۔ میرا بھی مان رہ جاتا ۔۔۔ ” زمرد بیگم کے ٹسوئے آنکھوں سے جاری ہوئے تھے جاوید صاحب نے ناک منہ چڑھایا تھا
” یعنی کے حد ہی ہوگئی ہے ۔۔۔۔ کم سونا رکھا ہے تمہارے پاس ۔۔۔۔ تم نے کون سا میری بھتجی کو اپنے زیور میں سے کچھ دیا ہے ۔۔۔ ہنہ ” جاوید صاحب نے الٹا ہاتھ جھٹکا تھا ۔۔۔۔ دروازے پر دستک ہوئی ساتھ ہی نمیرہ کی آواز سنائی دی
” تائی اماں دروازہ کھولیں ” زمرد بیگم کی تو بانچھیں کھل گئیں تھیں ۔۔۔۔۔
“چلو شکر ہے ناشتہ تو آیا ۔۔۔۔ ” زمرد بیگم اٹھ کر تیزی سے دروازہ کھولنے گئیں تھیں ۔۔۔ باہر نمیرہ کے ساتھ خرم کو دیکھ کر اندر آنے کاراستہ دیا تھا ۔۔۔۔
” ناشتہ ٹیبل پر رکھ کر وہ سب سے پہلے زمرد کے گلے لگی تھی جاوید صاحب سے سر پر پیار کیا ۔۔۔
” شازی آپی کہاں ہے ۔۔۔۔ ” نمرہ کو لگاوہ کمرے میں ہو گی
” کچن میں چائے بنا رہی ہے جاؤں یہ ناشتہ بھی کچن میں لے جاؤں ۔۔۔ اسے کہو جلدی سے ناشتہ لگائے ۔۔۔ اور یہ شازل کہاں ہے ۔۔۔۔ ” زمرد بیگم کو اب بیٹے کا خیال آیا تھا ۔۔۔۔
” یہیں کہیں ہو گا ۔۔۔ شاید فون پر بات کرتے ہوئے گیلری میں گیا تھا۔۔۔ بلاؤں اسے کہوں کہ خ آیا ہے ۔۔۔ باہر آئے ” خرم جاوید صاحب کے ساتھ ہاتھ ملا کر وہیں بیٹھ گیا تھا ۔۔۔۔ شازل خود ہی لاونج کی گیلری سے اندر آ گیا تھا ۔۔۔ خرم سے بھی وہ ویسے ہی خار کھاتا تھا جیسے کے شاہزیب سے ۔۔۔ پھر خرم کی ویلیو اس گھر میں شاہزیب کے دوست ہونے کے ناطے کچھ زیادہ ہی تھی ۔۔۔۔ وہ کسی گھر کے فرد کی طرح ہی وہاں اٹھتا بیٹھتا تھا ۔۔۔۔ اور شازل روائتی دامادوں والا انداز اپنانے کا عادی ہو چکا تھا ۔۔۔۔ پھر ماں کی تربیت کااثر بھی تھا ۔۔۔۔
خرم سے اس نے ہاتھ ملائے بغیر بس دور سے سلام کیا تھا ۔۔۔۔۔
نمیرہ کچن میں گئ تو بہن کے گلے لگ کر بینچ کر ملی “
“شازی آپی یہ کیا آج ہی تائی اماں نے آپ کو کام پر بھی لگا دیا ” نمیرہ کو اس بات کادکھ ہو رہا تھا
“اور کیا ۔۔۔۔ نمی ذراجو میرا نخرہ اٹھایا ہو ۔۔۔۔ رات کو بھی دو بجے شازل کو کمرے میں انے کی اجازت ملی تھی اپنی اماں سے ۔۔۔ مت پوچھو ۔۔۔۔ شادی کے نام پر لگتا سزا ملی ہو ” شازی نے بھی آنسو۔ ٹپکائے تھے ۔۔۔ اور نرم دل نمیرہ کا بہن کے آنسوں دیکھ کر دل پسیج گیا تھا
خود بھی اس کے ساتھ آنسوں بہانے لگی تھی
” خرم کی امی نے تو پورے پندرہ دن مجھے کسی کام کو ہاتھ تک نہیں لگانے دیا تھا شازی آپی حالانکہ وہ سچ میں بیمار تھیں ۔۔۔ تائی اماں تو ہیں ہی ایسی آپ دل چھوٹا نا کریں آپ باہر جا کر بیٹھیں چائے میں بنا کر لے آتی ہوں اور ناشتہ بھی لگا دیتی ہوں ” نمیرہ نے فورا سے اسکے ہاتھ سے کپ چھینے تھے ۔۔۔۔ شازمہ بھی آنسوں پونچ کر فورا سے باہر چلی گئ ۔۔۔۔ چائے بنانے اس کا موڈ بھی نہیں تھا پھر ۔۔۔ بہن دل کی بہت نرم اور محبت کرنے والی تھی ۔۔۔۔ اس لئے سوچا کہ کیا حرج ہے پہلا ناشتہ وہی پیش کر دے ۔۔۔۔ ناشتے سے فارغ ہوتے ہی ۔۔۔نمیرہ خرم کے ساتھ واپس آ گئ ۔۔۔۔ شاہزیب نیناں کو عاتقہ بیگم کے پاس بیٹھا کر خود سیفی اور جمی کے پاس چلا گیا تھا ۔۔۔ خرم بھی انکے پاس پہنچ گیا تھا ۔۔۔۔ نمیرہ کے واپس آتے ہی عاتقہ بیگم نے اس سے زمرد بیگم کے رویے کی ایک ایک بات کرید کے پوچھی تھی
” کیا بتاؤں امی ذرا روپ نہیں تھا شازی آپی کے چہرے پر ۔۔۔۔ تائی اماں تو منہ پھیلائے ناشتہ کرتی رہیں ۔۔۔۔ پوری چار پوریاں کھانے بعد کہتیں۔۔۔ یہ کوئی ناشتہ بھیجا ہے تمہاری ماں نے ۔۔۔ ذرا اچھا نہیں ہے مجھ سے تو کھایا ہی نہیں گیا ” نمیرہ نے منہ کے زاویے بگاڑتے ہوئے کہا
” تمہاری تائی کو تو اللہ ہی سمجھے بھلا ایسا رویہ رکھتے ہیں پہلے دن کی بہو پر ۔۔۔۔ اور شازی ۔۔۔۔ مت ماری گئ تھی اس کی کتنا سمجھا کر بھیجا تھا اسے میں نے ۔۔۔۔ کے تائی کی باتوں پر کان دھرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔ پر یہ لڑکی میری سنتی کب ہے ۔۔۔۔ ” عاتقہ بیگم کو بیٹی کی عقل پر افسوس ہوا تھا ۔۔۔۔ نیناں بس انکی باتیں ہی خاموش سامعی کی طرح سنتی رہی ۔۔۔۔۔
بولتی بھی کیا ۔۔۔۔۔ ایسی باتیں اس کی کلاس میں اگر ہوتی بھی تھیں تو اس کا ایسی گیدرنگ میں بیٹھنا کبھی نہیں ہوا تھا والدہ تھیں نہیں اس لئے اسکی بیٹھک بھی اپنی کلاس فیلو تک ہی محدود رہی تھی ۔۔۔۔ سن کر افسوس نیناں کو بھی ہوا تھا ۔۔۔ پھر اپنے زیور واپس کرنے کا قلق بھی تھا ۔۔۔۔۔ کچھ دیر میں وہ نمیرہ کے ساتھ پارلر چلی گئ ۔۔۔۔ ایک مناسب کام کی فینسی میکسی تھی ۔۔۔۔
ٹی پنک کلر کی ۔۔۔۔ پارلر بھی مناسب سا تھا ۔۔۔۔ تیار ہو کر بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔۔ رات کا ہال بھی مناسب تھا ۔۔۔ رانا صاحب بھی بگڑے ہوئے موڈ سے پہنچے تھے وہی اکڑ تھی جو ان کے مزاج کا حصہ تھی ۔۔۔۔
لیکن بیٹی کے گلے لگ کر بہت دیر اسے پیار کرتے رہے ۔۔۔۔ نیناں نے با مشکل آنسوں ضبط کیے تھے ۔۔۔۔
یہ نہیں تھا کہ وہ خوش نہیں تھی ۔۔۔۔ خوش تھی من چاہی سنگت ملی تھی ۔۔۔۔ شاہزیب کی محبت میں اسکے گھر والوں کی چاہت میں کہیں کوئی کمی نہیں تھی ۔۔۔ لیکن باپ سے محبت اپنی جگہ تھی جو انکے غلط ہونے کے باوجود اپنی جگہ قائم تھی خون کا رشتے کی کشش ہی ایسی ہوتی ہے کہ ذرا سی دوری تڑپ کو بڑھا دیتی ہے ۔۔۔ روئی اس لئے نہیں کہ بختیار صاحب کچھ غلط نا سمجھ بیٹھیں وہ انکی محبت میں چار آنسوں بہائے اور باپ سمجھے بیٹی کے ساتھ سسرال والوں کارویہ غیر مناسب تھا ۔۔۔ کیونکہ پہلے دن کی دلہن پر سب نظریں ہوتی ہیں ۔۔۔۔ تا کہ جانچ سکیں کہ سسرال والوں کارویہ اسکے ساتھ کیسا رہا ۔۔۔ شروعات کے چند ماہ میکے کے رشتے داروں کے یہیں سوال ہوتے ہیں کہ ۔۔۔۔ کیسے لوگ ہیں تمہارے ساتھ انکارویہ کیسا ہے ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔ شاہزیب اول تو نیناں کے ساتھ ذیادہ دیر بیٹھا نہیں تھا ۔۔۔ دوسرا رانا بختیار نے بھی اسے ملنے اور گلے لگانے کی زحمت نہیں کی تھی ۔۔۔۔۔ جتنی اکڑ اور ضد ان میں تھی اس سے کہیں زیادہ شاہزیب میں بھی تھی ۔۔۔ پھر خوداری باپ کے خون سے ملی تھی ۔۔۔۔ محبت کی تھی جرم نہیں جو نظریں جھکا کر ملتا ۔۔۔ یا ان کی دولت سے مرعوب ہو کر آگے پیچھے گھومتا ۔۔۔۔ نیناں کے زیورات واپس کرنے کا بھی اصل مقصد یہ تھا کہ رانا صاحب کو کہیں یہ نا لگے ۔۔۔ اسکی نظر نیناں نے زیورات پر ہو گی ۔۔۔۔ وہ جو تھا جیسا تھا اپنے بل بوتے پر ہی نیناں کو خوش رکھنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔ پھر نیناں سے شادی ایک چیلنج بھی تھی اسکے لئے ۔۔۔۔ لوگ کی یہ سوچ کہ امیر لڑکی سے شادی کرکے لڑکی کی دولت کو شارٹ کٹ میں حاصل کرنے اور سسر کے پیسے پر عیش کرنے کے لئے کرتے ہیں شاہزیب کو اس بات کو جھٹلانا تھا ۔۔۔۔
پھر رانا بختیار اور ن جیسے کئ بزنس مین بیٹی کی محبت سے مجبور ہو کر جب مڈل کلاس داماد قبول کرتے ہیں تو انہیں داماد کم اور دم ہلانے والا جانور زیادہ سمجھتے ہیں جو انکے چند ٹکڑے کھا کر وہی کرے گا جو وہ چاہتے ہیں ۔۔۔ اور یہ چیز شاہزیب کے مزاج میں نہیں تھی ۔۔۔۔ یہ بات وہ نیناں کو تب ہی بتا چکا تھا جب پہلی بار اسے ریسٹورنٹ لیکر گیا تھا ۔۔۔۔ اسے کہا تھا کہ وہ شاہزیب کی طرف قدم بڑھانے سے پہلے سوچ لے ۔۔۔ وہ گھر داماد کبھی نہیں بنےگا کیونکہ یہ اسکے مزاج کے بر خلاف ہے پھر رانا بختیار کی وجہ سے جو کچھ سہہ چکا تھا اتنی جلدی تو ہر بات کا نقش دل سے اترنا مشکل تھا پھر بختیار صاحب بھی اپنا رویہ بدلنے کو تیار نہیں تھے ۔۔۔۔ ویسے ہی تھے مغرور اور گھمنڈی ۔۔۔۔۔ فی الحال تو نیناں تھی جو بری طرح پھنسی ہوئی تھی ۔۔۔۔ ایک طرف شوہر دوسری طرف باپ ۔۔۔۔
ولیمے کے اگلے روز صبح ہی شاہزیب نیناں کو اپنے ساتھ سی ویو لے گیا تھا ۔۔۔۔
سمندر پر چہل قدمی کرتے ہوئے گزشتہ لمحات کو یاد کر رہے تھے جو ساتھ گزرے تھے ۔۔۔۔
” نیناں پھر سے وہی۔ ایڈونچر کرتے ہیں ۔۔۔ بہت مزہ آئے گا ۔۔۔۔ ” شاہزیب کی آنکھوں میں ویسی ہی چمک تھی ۔۔۔ نیناں کچھ گھبرائی تھی
” نہیں شاہزیب مجھے ہاتھ نہیں چھوڑنا ۔۔۔ ” وہ شاہزیب کا ہاتھ اور بھی مضبوطی سے پکڑ کر بولی تھی ۔۔۔ وہ ہسنے لگا تھا ۔۔۔
“۔ نہیں چھوڑو گا ۔۔۔۔ گھبرا کیوں رہی ہوں ۔۔۔ جب ہم ہیں تو کیا غم ہے ۔۔۔ چلو میرے ساتھ ” اس بار واقع شاہزیب نے اس ہاتھ نہیں چھوڑا تھا ۔۔۔۔ پانی میں بہت دور تک ساتھ گئے تھے ۔۔۔۔۔ کئ گھنٹے ساتھ گزارنے کا پتہ ہی نہیں چلا تھا ۔۔۔۔ واپسی پر کنارے پر ایک سپیرا نظر آ گیا جو اپنی پٹاری سے سانپ نکال کر لوگوں کو دیکھا رہا تھا اپنی واضع سے وہ سندھی لگ رہا تھا
” ہاتھ میں پکڑو نا سائیں زہر نہیں ہے اس میں ۔۔۔ کچھ نہیں کہتا اچھا خاصا موٹا سیاہ رنگ کا سانپ تھا جسے وہ سپیرہ پکڑنے کا کہہ رہا تھا ۔۔۔ نیناں اور شاہزیب بھی وہیں جا کر کھڑے ہو گئے ۔۔۔۔ نیناں تو دور سے دیکھ رہی تھی لوگ اس موٹے تازے سانپ کو پکڑتے ہوئے گھبرا رہے تھے ۔۔۔ شاہزیب کچھ دیر اسے غور سے دیکھتا رہا ۔۔۔ دل میں پھر سے ایک نئ امنگ جاتی تھی ۔۔۔۔ جو شاید اسکے مزاج میں تھی ۔۔۔۔ اس کے بس سے باہر بھی تھی شاہزیب کو وہ کام کرنے کی جستجو تھی جو بہت کم لوگ ہی کر پاتے ہیں یا کسی نے پہلے کیا نا ہو وہ چین سے بیٹھ جائے ایسا ہو نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔۔ اس لئے چند قدم بڑھا کر وہ اس سپیرے کے پاس پنجوں کے بل بیٹھ گیا
” یہ سانپ ہے یا ناگن ؟” شاہزیب نے اسکے ہاتھ میں پکڑے سانپ کو دیکھ کر سوال کیا ۔۔۔
” یہ ناگن ہے سائیں ۔۔۔۔ سانپ تو دوسری پٹاری میں ہے اور اس سے ذیادہ طاقت ور ہے ۔۔۔۔۔ “
” اچھا وہ دیکھاؤ “
” اسے دیکھانے کے دو سو روپے لوں گا ۔۔۔۔ ” سپیرے نے قیمت بتائی
“اور ہاتھ میں پکڑنے کے کتنے لو گئے ؟
” چار سو “
“اور اگر میں اسے اپنے گلے میں ڈال لوں تو ؟ “شاہزیب کی اس بات پر نیناں کی جان پر بنی تھی
” چھ سو لیکن سائیں سب ڈرتے ہیں “
“شاہزیب اٹھیں یہاں سے کیا کر رہے ہیں آپ ” نیناں کو کچھ خوف محسوس ہوا تھا “
” رکو تو صحیح نیناں بات کرنے دو ” شاہزیب نے نیناں کو پیار سے روکنے کے بعد پھر سے اس سپیرے کی جانب متوجہ ہوا
” یہ بتاؤں اگر میں اس سانپ کے منہ پر کس کروں تو کتنے پیسے لو گئے ” یہ بات سن کر سپیرے سمیت وہاں موجود سب لوگوں کو جیسے بنا سانپ پکڑے ہی سانپ سونگھ گیا تھا لیکن جان نیناں کی نکلی تھی ۔۔۔ وہ سپیرا ہسنے لگا
” سائیں یہ نہیں کر پاؤں گئے ۔۔۔ اگر تم یہ کر لو تو پانچ سو میں تمہیں دونگا ۔۔۔ اور اگر تم ڈر گئے تو ہزار لوں گا تم سے سائیں ” اس سپیرے نے اپنی شرط بتائی
” منظور ہے ” شاہزیب کی آنکھوں میں الگ سی چمک تھی ۔۔۔ نیناں کی سن کر جان لبوں پر آئی تھی
” شازیب آپ ایسا کچھ نہیں کریں گئے” نیناں برجستہ بولی تھی
وہ کھڑے سب لوگوں کی نظروں میں شاہزیب کی بات سن کر اشتیاق بڑھا تھا ۔۔۔۔
اگلے ہی لمحے سپیرے نے اپنی ناگن کو پٹاری میں ڈالا اور دوسری پٹاری سے ایک ناگ کو نکالا جو کتھئ رنگت کا تھا ۔۔۔۔ اور پہلے سانپ کی نسبت موٹا اور بڑا بھی تھی ۔۔۔۔
” لو پکڑو سائیں پانچ منٹ سے پہلے گلے سے مت اتارنا اگر تم ڈر گئے تو ۔۔۔۔” سیپرے شاہزیب کو یاد دہانی کرائی شاہزیب نے سانپ کو ہاتھوں میں لیا اور کھڑا ہو گیا ۔۔۔ پل بھر میں ہی اس نے سانپ کو مفلر کی طرح گلے میں ڈالا تھا نیناں سمیت سب نے منہ سے چیخیں برآمد ہوئیں تھیں ۔۔۔۔ نیناں بے اختیار کئ خوف سے قدم پیچھے ہٹی تھی
