No One Wheeling (Season 2) by Umme Hani NovelR50410

No One Wheeling (Season 2) by Umme Hani NovelR50410 No One Wheeling Episode 14 (Last Episode)

267.9K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

No One Wheeling Episode 14 (Last Episode)

No One Wheeling by Umme Hani

” نیناں بیٹا تم باہر جاؤں مجھے شاہزیب سے بات کرنی ہے ” زمان صاحب نے تیوری چڑھائے شاہزیب کی طرف دیکھا ۔۔۔

” مجھے بھی آپ سے بات کرنی ہے ابو ۔۔۔ ابھی اسی وقت” نیناں زمان صاحب کے پاس آ کر انکے پاس بیٹھ گئ تھی ۔۔۔۔

” کیا بات کرنی ہے بیٹا کچھ کہا ہے اس نے تمہیں ” زمان صاحب نے شاہزیب کی طرف دیکھ کر پوچھا

” ابو مجھے انہوں نے کچھ نہیں کہا ۔۔۔ مجھے آپ سے بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔

آپ انہیں ویلنگ کی اجازت دیدیں کیونکہ اس بار ان کا مقصد غلط نہیں ہے ۔۔۔۔ “

” لیکن یہ عمل جان لیوا ہے میں ایسی کوئی اجازت نہیں دے سکتا ۔۔۔۔”

” ابو میں میری بات کو ٹال دیں گئے ؟ نیناں نے بڑی رسانیت سے پوچھا

” نیناں مجھے یوں مت آزماؤ ۔۔۔۔ یہ غلط فعل ہے ۔۔۔ ” زمان صاحب نے نظریں بدلیں تھیں

” بس آخری بار ” نیناں نے ملتجی لہجے میں کہا

” ٹھیک ہے لیکن اگر یہ کسی مصیبت میں پھنس گیا تو میں برداشت نہیں کر پاؤں گا “

” ابو اس کی زمیداری میں لیتی ہوں ۔۔۔ ” نیناں نے

زمان صاحب کو منا ہی لیا تھا ۔۔۔۔ شاہزیب بہت خوش تھا ۔۔۔۔۔ اگر ہمسفر نیناں جیسا ہو تو ہر قدم آسان ہو جاتا ہے ۔۔۔۔

کمرے میں آکر شاہزیب نے نیناں کے ہاتھ فرحت محبت سے چومے تھے

” تھنک یو سو مچ میری مینا ۔۔۔ “

” تھنکس کس لئے شاہزیب ۔۔۔۔ آپ کی اور میری راہیں الگ تو نہیں ہیں ۔۔۔ “

” پتہ ہے نیناں میں بہت لکی ہوں ۔۔۔ جو مجھے تم جیسی بیوی ملی ہے ۔۔۔۔ اپنی قسمت پر رشک آتا ہےمجھے ۔۔۔۔۔ کمال کی لڑکی ہو یار تم ۔۔۔۔ ابو کو راضی کر لیا تم نے ۔۔۔ جو دنیا کا مشکل ترین کام تھا ۔۔۔ ” شاہزیب کے چمکتے چہرے کو دیکھ نیناں مسکرائی تھی

” شاہزیب میں سب کچھ آپ کے لئے کر سکتی ہوں بس میرے ساتھ بیوفائی مت کیجیے گا وہ برداشت نہیں کر سکوں گی “

” یہ کیوں کہا نیناں “

” بس یونہی ۔۔” نیناں چہرہ جھکا گئ تھی ۔۔ شاہزیب نے اسکی تھوڑی پکڑ کر چہرہ اوپر کیا تھا اسکی آنکھوں کو غور سے دیکھنے لگا

” مرحا میرے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتی نیناں سوائے ایک انسانیت کے رشتے کے ۔۔۔۔ بیمار ہے ذہنی مریض ہے ۔۔۔۔ جیسے ہی ٹھیک ہو جائے گی سچائی سے آگاہ کر دو گا اسے ۔۔۔۔ تم جان ہو شاہو کی ۔۔۔ تمہارے بغیر تو میں جینے کا سوچ بھی نہیں سکتا ہوں ۔۔۔۔۔

” بہت خوبصورت ہے وہ مجھ سے بھی کئ ذیادہ ” نیناں نے دل میں آنے والا خدشہ بتایا تھا

” پر نیناں نہیں ہے ۔۔۔۔ یہ دل صرف نیناں کے نام کی مالا جپتا ہے ۔۔۔۔ تمہیں ڈر کس بات کا ہے ۔۔۔ جب میرا دل تمہارے پاس ہے ۔۔۔ میں تمہارے پاس ہوں “

” مرد ذات اعتبار کے قابل نہیں ہوتی شاہزیب ۔۔۔۔ جب کوئی لڑکی ہنس کر دیکھ لے بس مر مٹتے ہیں اس پر ” نیناں کے نیناں میں موٹے موٹے آنسوں دیکھ وہ ہسنے لگا تھا

” یہ امی نے تم سے کہا ہو گا ؟ پھر ابو کی ایسی محبت کی داستاں سنائی ہو گی ۔۔۔ جو ابو نے کبھی کی ہی نہیں تھی۔۔۔ دو سال کا رکھا خط ۔۔ جو ایک کتاب میں انکی کسی شاگردہ نے رکھ دیا تھا ۔۔۔ اور ابو کو خبر تک نہیں تھی بس امی کے ہاتھ لگ گیا تھا ۔۔۔۔ “

” ہاں آپ کو کیسے پتہ “

” امی ابو کی جب لڑائی ہو امی رو رو کر یہی سب دہراتے ہوئے ابو پر جتاتی ہیں اور وہ ہر بار وضاحتیں دیتے ہیں کہ وہ جانتے تک نہیں ہیں ایسی کسی شاگردہ کو ۔۔۔۔ لیکن امی آنسوں کے ساتھ خط کاایک ایک لفظ یوں سناتی ہیں جیسے ازبر کیا ہو ۔۔۔۔ تم بھی نا نیناں ۔۔۔۔ “, شاہزیب نے اسکی گال تھپتھپائیں تھی ۔۔

******……

قیوم صابر سے اپنی ہار ہی نہیں برداشت ہو رہی تھیں۔۔۔ کڑروں روپے جو اسکی جیب میں آنے تھے وہ شاہزیب کی جیب میں جا چکے تھے ۔۔۔ یہی صدمہ وہ سہہ نہیں پایا تھا کہ اگلے روز ذولفقار نے میڈیا کے سامنے قیوم صابر کا پول کھول کے رکھ دیا تھا کیسے وہ لڑکوں کی مجبوریوں سے کھیلتا تھا ۔۔۔۔ کیسے انہیں آگ کے کھیل کھیلنے کے لئے مجبور کرتا ہے ۔۔۔۔

ذولفقار کے بیان نے قیوم صابر کو منہ چھپانے پر مجبور کر دیا تھا ۔۔۔۔

بہنوں کی شادی کے پیسوں کے علاؤہ اسے ایک معقول رقم کاروبار کے لئے بھی مل چکی تھی ۔۔۔۔

وہ یہ جان لیوا کھیل مجبوری کی بنا پر کھیل رہا تھا ۔۔۔۔ جو کہ مجبوری کے بعد خیر باد کر چکا تھا

*********……

“شاہزیب تم چاہتے کیا ہو کیوں تم میرے پیچھے پڑ گئے ہو ” قیوم صابر بے قابو سا ہو گیا تھا ۔۔۔۔اسکے آفس میں پہنچ کر اسے دھمکانے لگا

” ابھی تو شروعات ہے قیوم صاحب دیکھوں تو صحیح کیا کرتا ہوں میں تمہارے ساتھ ۔۔۔ غریب لڑکوں کی مجبوریوں سے بہت جیبیں بھر لیں تم نے ۔۔۔۔ اب بھر کے دیکھاوں مجھے “

” تم شاید میری طاقت سے واقف نہیں ہو ۔۔۔ ہو کیا ہو تم ایک چونٹی کے برابر بھی نہیں ہو مسل کے رکھ دونگا تمہیں ۔۔۔۔ ” قیوم صابر نے یوں دانت کچکچا کر کہا جیسے شاہزیب کو کچا چبا جائے گا

” اچھا تو دیکھاوں نا اپنی طاقت سیٹھ ۔۔۔۔میں بھی دیکھوں تمہاری طاقت کو ۔۔۔۔ اس کا فیصلہ بعد میں کریں گئے کہ کون کسے مسلتا ہے ” شاہزیب

اپنی کرسی سے کھڑا ہو گیا تھا۔قیوم صابر پیج وتاب کھاتا ہوا وہاں سے چلا گیا

” اگلے دن اسکی یہ ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی ۔۔۔۔ کیونکہ شاہزیب کے آفس میں کیمرہ لگا تھا شاہزیب نے ویڈیو دیکھانے کے بعد لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا

“یہ دیکھ رہے ہیں آپ لوگ۔۔۔ یہ ہے ان لوگوں کی حقیقت ۔۔۔ یہ لوگ سچ سامنے آنے پر دھمکیاں دیتے ہیں بد معاشی دیکھاتے ہیں ۔۔۔ اپنے پیسے اور رتبے کا دھونس دیتے ہیں میں کھلے عام سب کے سامنے یہ کہتا ہوں کہ اگر میرے ساتھ کوئی حادثہ ہوا جس میں مجھے کسی جھوٹے کیس میں پھنسایا گیا تواس کا ذمہ دار قیوم صابر بی ہو گا ۔۔۔ ” شاہزیب نے قیوم صابر کو لوہے چنے چبوا کے رکھ دیے تھے ۔۔۔۔ اب چاہ کر بھی وہ ایسی کوئی حرکت نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔ بے بسی ایسی تھی کہ خود کو کاٹ کھانے پر مجبور ہوا تھا

شاہزیب مرحا سے ملنے کافی دن بعد میں گیا تھا وہ موبائل پر اسی کی ویڈیو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

شاہزیب کو دیکھ کر خوش ہو گئ

” آپ تو سچ مچ ہیرو بن گئے ہیں ” مرحا نے موبائل اسکی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔۔۔

” نہیں میں اکیلا نہیں ہوں میرے پوری ٹیم ہے ان کے بغیر یہ سب ممکن نہیں ہے ۔۔۔ “

” ایک خوش خبری میں بھی آپ کو سنانا چاہتی ہوں ” مرحا نے موبائل بند کر کے کہا

” اچھاوہ کیا “

” میں پاپا کے ساتھ امریکہ جانے کے لئے تیار ہوں اپنا علاج کرواں گی ۔۔۔ ” شاہزیب بے یقینی سے اسے دیکھنے لگا

” سچ مرحا ۔۔۔ یہ تو نے بہت بڑی خبر مجھے سنائی ہے تم نے ۔۔۔ میں بہت خوش ہوں ۔۔۔ “

” میں ٹھیک ہو کر آؤں گی تو کیا میراانتظار کریں گئے “؟ مرحا نے مسکرا کر معنی خیز انداز سے پوچھا تھا

” ہاں تمہیں ائیرپورٹ پر ریسو کرنے آؤں گا ۔۔۔ اور اس وقت میں بھی تمہیں ایک بہت بڑی خوشخبری سناؤں گا مرحا ۔۔۔ ” شاہزیب نے بھی مسکراتے ہوئے کہا

” میں جانتی ہوں وہ خوشخبری ؟

” وہ شرماتے ہوئے بولی

” اچھا وہ کیا”

‘” آپ مجھ شادی کر لیں گئے ہے نا ” مرحا نے شرماتے ہوئے کہا تھا

” نہیں یہ بات نہیں ہے ۔۔۔ وہ ابھی نہیں بتاؤں گا واپس آؤں گی تب بتاؤں گا ۔۔۔ ” شاہزیب نے اسے اس لئے انجان رکھنا چاہا تا کہ وہ اپنا علاج کروا لے

” ٹھیک ہے ۔۔۔ بس ایک بات یاد رکھیے گا ۔۔۔۔ مجھے زندگی سے کچھ نہیں چاہیے تھا اس لئے علاج بھی نہیں کروانا چاہتی تھی لیکن اب مجھے آپ کے ساتھ رہنا ہے ۔۔۔۔ بہت سارے دن۔۔۔ سال ۔۔۔مہینے اس لئے جا رہی ہوں آپ مجھ سے فون پر بات تو کریں گئے نا ؟

” ہاں کروں گا ۔۔۔۔ خدا کرے تم ٹھیک ہو کر واپس آؤں ۔۔۔۔ اپنے پاپا کے لئے ۔۔۔ آؤں گی تو تمہیں بتاؤں گا کہ میری زندگی میں کون خاص ہے ۔۔۔۔ “

“اور وہ میں ہوں ” مرحا کی باتیں شاہزیب اچھی تو نہیں لگ رہیں تھیں لیکن اس وقت اسے مایوس نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔

چاہتا تھا کہ وہ علاج ضرور کروائے ۔۔۔۔

کچھ دنوں میں وہ جا چکی تھی ۔۔۔۔ جانے سے پہلے خوب روئی تھی ۔۔۔۔ اتنا پتہ تھا کہ کسی خطرناک بیماری میں مبتلہ ہے مر بھی سکتی ہے ۔۔۔

اس لئے شاہزیب کو ائیرپورٹ کے اندر جاتے ہوئے بھی بار بار پلٹ کر دیکھ رہی تھی

********……

“نیناں آپی رباب میرے ہی کالج میں پڑھتی ہے ۔۔۔ بہت ذہین ہے بھئ “

” یہ رباب کون ہے ” نیناں سلاد کاٹتے ہوئے پوچھنے لگی

” سر باسم کی بہن اور کون ؟”

” اچھا رباب ہممم “

” یہ ہممم کیا مطلب ہے میرا اس سے چکر وچکر نہیں ہے ۔۔۔۔ ” عاصم نے پلیٹ سے کھیرا اٹھا ۔۔ کر منہ ڈالنے ہی لگا تھا جب نیناں نے اسے آنکھیں دیکھائیں تھیں عاصم نے کھیرا واپس رکھ

“میں نے کب کہا کہ تمہارا چکر ہے میں نے یونہی کہا ہے ہمممم ” نیناں نے مسکراتے ہوئے کہا روم کسیا کر مسکراتے ہوئے کچن سے نکل گیا ۔۔۔۔ شازمہ کے گھر بیٹا ہوا تھا ۔۔۔ زمرد بیگم کے تو پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے ۔۔۔۔ بہت خوش تھیں اور شازل بھی شازمہ کے نخرے اٹھاتا نظر آ رہا تھا

******…….

۔۔۔ باسم کی شادی کو تین سال گزر چکے تھے ایم سے کرنے کے بعد وہ محلے کے قریبی اسکول میں پڑھانے لگی تھی ۔۔۔ چھوٹے بچوں کو پڑھاتے ہوئے بہت بار بے اختیار ہو کر انہیں چومنے اور پیار کرنے لگی تھی ۔۔۔۔نیلوفر کی طعبیت کچھ نا ساز تھی

باسم اسے ڈاکٹر کے لے گیا ۔۔۔۔ خود سے وہ نا امید ہو چکی تھی ۔۔۔ جب ڈاکٹر نے اسے ماں بننے کی خوشخبری سنائی تھی ۔۔۔۔ نیلوفر کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا یہی حالت باسم کی بھی تھی ۔۔۔

گھر پہنچ کر جب یہ خبر رابعہ بیگم کو معلوم ہوئی تو انکے تو پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔۔ نیلو کو گلے لگائے اللہ کا شکر کر رہیں تھیں ۔۔۔ رباب بھی بہت خوش تھی ۔۔۔۔ نیلو کا بہت خیال بھی رکھنے لگی تھی

******…….

قیوم صابر کے ساتھ ساتھ شاہزیب اور بھی اس جیسے بہت سے لوگوں کا پول کھول چکا تھا ۔۔۔۔

بالآخر شاہزیب بھی شو منعقد کر چکا تھا جس میں پوراشہر ٹوٹ کر پہنچا ہوا تھا ۔۔۔۔

شاہزیب کے لئے آج کا کھیل اسکی زندگی کا اہم ترین کھیل تھا ۔۔۔ ٹریک بھی کافی خطرناک سیٹ گیا گیا تھا سیفی خرم باسم جمی سب ہی کے رنگ اڑے ہوئے تھے ۔۔۔ عاصم اپنے سب دوستوں کو لیکر پہنچا وہاں پہنچا ہوا تھا ۔۔۔۔

بائیک کا ٹریک بہت چھوٹا تھا اور ٹریک کے اطراف

آگ لگائی گئی تھی ۔۔۔۔۔ گول رنگ کے چاروں طرف آگ لگائی گئی تھی جس کے بیچ سے بائیک لیکر گزرنا تھا ۔۔۔۔ شو کا ٹائم دن کے بجائے رات کارکھا گیا تھا ہال کی لائٹس جلانے کے بجائے بجھا دی گئ تھی ۔۔۔۔

گپ اندھیراساپورے ہال میں کیا گیا تھا اگر لائٹس تھیں تو صرف شاہزیب پر فوکس تھیں جیسے ہی وہ ہال میں داخل ہوا تھا تالیوں کی گونج تھی ۔۔۔

جو دس منٹ تک مسلسل بجتی رہیں تھیں وہی بے نیازی تھی اسکی چال میں ۔۔۔۔ اپنی پوری تیاری کے ساتھ وہ یہ آخری کھیل کھیلنے جا رہا تھا ۔۔۔ جس طرح سے وہ بہت سے لوگوں کو بے نقاب کر چکا تھا ۔۔۔ ٹی وی پر یہ شو بھی براہ راست دیکھایا جا رہا تھا ۔۔۔۔

سب لوگ ٹی کے سامنے بیٹھے تھے ۔۔۔۔ اس بار سٹے کے نام پر ایک روپیہ بھی نہیں لگایا گیا تھا ۔۔۔ اتفاق یہ تھا کہ زمان صاحب عاتقہ بیگم بھی وہ شو دیکھنے ہال میں موجود تھے ۔۔۔۔ وہیں ایک سیٹ پر بختیار صاحب بھی بیٹھے تھے بے شک داماد دولت مند نہیں تھا ۔۔۔ لیکن جو کام وہ کر رہاتھا بختیار صاحب اس کا تعارف بڑے فخر سے سب کے سامنے کرنے لگے تھے

نیناں یہ کھیل دیکھنے نہیں گئ تھی۔۔۔ شاہزیب نے اسے منع کیا تھا کہ نیناں کی ایک پکار اسے کسی نئ مشکل میں ڈال سکتی تھی ۔۔۔

اس بار نیناں نے ٹی وی نہیں کھولا تھا ۔۔۔۔ بس جائے نماز پر بیٹھی اس کے لئے دعا گو تھی ۔۔۔۔

ایک نیک مقصد کے لئے وہ یہ سب کھیل کھیل رہا تھا اسکی سلامتی اور دراز عمر کے لئے وہ رب کے حضور ہی بیٹھنا چاہتی تھی ۔۔۔۔

بائیک پر بیٹھ کر شاہزیب نے پہلی بار حفاظت کی دعائیں پڑھیں تھیں اللہ سے اپنے مقصد کی کامیابی کی دعا مانگی تھی ۔۔۔۔

بائیک چلاتے ہوئے چند سکینڈ میں وہ بائیک کی اسپیڈ آخری حد تک لے جا چکا تھا ۔۔۔۔ ون ویلنگ پر بائیک چلاتے ہوئے ۔۔۔۔ وہ خطرناک ٹریک پر گامزن ہو چکا تھا ۔۔۔۔ اس بار اسے جیتنا نہیں تھا ہارنا تھا ۔۔۔۔

رخموں کو ہنس کر نہیں سہنا تھا ۔۔۔ بلکہ اس پر تڑپنا اور بلبلانا تھا ۔۔۔۔ جمی باسم سیفی خرم سب کے حلق تک خشک تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کے شاہزیب کیا کرنے والا ہے ذرا سی بھول چوک اسکی جان لے سکتی تھی ۔۔۔۔ چاروں کے رنگ اڑے ہوئے تھے آہستہ آہستہ وہ ٹریٹ بلندی کی طرف بڑھ رہا تھا اور راستہ بھی اتنا ہی تنگ ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔ بائیک کو آگ لگ چکی تھی ۔۔۔ پورے ہال میں اس وقت موت کے سناٹے جیسی خاموشی تھی آواز تھی تو صرف شاہزیب کی بائیک کی ۔۔۔۔ بائیک کے ٹائر کو آگ اس وقت لگی جب شازیب ٹری کی بلندی کی پیک پر تھا جیسے ہی بائیک گہری کی طرف آئی ایک زوردار دھماکے کی آواز آئی تھی ۔۔۔۔

لوگوں کی چیخیں بلند ہوئیں تھیں ۔۔۔۔ ہال کی فوکس لائٹ بھی بند ہو چکی تھی پوری بائیک جل چکی تھی ۔۔۔ زمان صاحب اور عاتقہ بیگم کا ہاتھ سینے پر گیا تھا ۔۔۔۔ ایک چیخ و پکار شروع ہو چکی تھی ۔۔۔ اس سے پہلے افراتفری پھیل جاتی سامنے اسکرین پر ایک فلم چلنے لگی تھی ۔۔۔۔ بائیک جلنے سے ایک فلم شروع ہوئی تھی سامنے بڑی سے کالی دیوار ایک سینما کی سکرین کا کام دے رہی

تھی ۔۔۔۔

لوگوں کو بیٹھنے کا کہا جا رہا تھا مائیک پر آنے والی آواز خرم کی تھی ۔۔۔۔۔

سب لوگ پھر سے اپنی کرسیوں پر بیٹھ چکے تھے ۔۔۔۔

بائیک کو جلتے ہوئے دیکھایا گیا تھااور اسکے بعد ایک لڑکے کو تڑپتے اور بلکتے ہوئے ۔۔۔ کبھی وہ اپنی ماں کو پکار رہا تھا تو کبھی باپ کو ۔۔۔ لیکن چند لمحوں میں وہ بے جان وجود ہو چکا تھا ۔۔۔۔ اسکے بعد ساری وہ کہانی چلائی گئ جو شاہزیب اپنے خواب میں دیکھ چکا تھا ۔۔۔ اس لڑکے کا چہرہ اس قدر مسخ کر کے دیکھایا گیا کہ لوگوں نے آنکھیں میچ لیں تھیں ماں کا تڑپنا محبوبہ کا رونا بےہوش ہو جانا ۔۔۔ باپ کا بنا کفن ہٹائے بیٹے کو دفنانا ۔۔۔ ماں کا انکی قبر پر جانا کمبل اڑھانا ۔۔۔ لوگوں کا باتیں سنانا گو کہ وہ سب حشر سامانی دیکھائی گئ جو ون ویلنگ یا تیز بائیک چلانے کی وجہ سے ہونے والے حادثے میں اس کے گھر والے برداشت کرتے ہیں ۔۔۔ ایک خاتون بار بار روتی ہوئی دیکھائی گئ

” بیٹا بس ایک بار تو واپس آ جا ۔۔۔ میں تجھے دوبارہ سے کبھی یوں موٹر سائیکل نہیں چلانے دوں گی ایک بار آ کر دیکھ میرے بچے میں کس طرح سے روز مرتی ہوں ۔۔۔۔ کاش کے وقت کا پہیہ پیچھے مڑ جائے ۔۔۔۔ کاش کے میں تجھے گھر سے نکلنے ہی نا دیتی ۔۔۔۔ کیسے جیوں تیرے بغیر ۔۔۔ ” ایک ماں کاتڑپنادیکھ کر سسکیوں کی گونج ہال میں گونجی تھی ۔۔۔۔

پھر باپ کی تکلیف کو دیکھایا گیا

” جانتے ہو بیٹا ۔۔۔ باپ اولاد کی ہر مشکل کو ہنس کر سہہ جاتا ہے ۔۔۔ اسے گود میں اٹھائے ہے ۔۔۔ انگلی پکڑ کر چلنا سیکھاتا ہے ۔۔۔ اسے کبھی اپنے بچے کی فرمائشیں بوجھ نہیں لگتی اگر کوئی چیز بوجھ لگتی ہے تو وہ ہے جوان بیٹے کا جنازہ جو بوڑھے کاندھوں سے اٹھایا نہیں جاتا “

ہال میں بیٹھی ہر آنکھ آشکبار تھی ۔۔۔ بہن اپنے بھائی کے کمرے میں بیٹھی روتی ہوئی دیکھائی گئ تھی جو اس کے کپڑوں کو کبھی چومتی کبھی اسکے بستر پر ہاتھ پھیرتی ۔۔۔ روتی بلکتی “

” تم نے تو مجھے چند دن بعد گھر سے رخصت کرنا تھا بھیا پندرہ دن بعد میری شادی تھی ۔۔۔ خود کیوں مجھ سے پہلے رخصت ہو گئے کون مجھے گجرے لا کر دے گا ۔۔۔ بھیا کون مجھے ساتھ لگائے سسرال رخصت کرے گا میرے بارے

میں کیوں نہیں سوچا تم نے ۔۔۔ کیا ملا تمہیں تمہاری ون ویلنگ سے ۔۔۔۔ کیا ملا ۔۔۔ کاش کے تم ایک بار دیکھ سکتے کے مر جانےوالے کے گھر والوں پر کیسی قیامت ٹوٹتی ہے ۔۔۔۔ کاش ایک بار تم دیکھ سکتے اپنی آنکھوں سے ۔۔۔۔ ” لوگ بے تحاشہ رو رہے تھے کئ لوگوں کو اپنے بچھڑے یاد آئے تھے کئ دل تڑپے تھے کئ لڑکے جو ہیلمنٹ بوائے بننے کے خواب آنکھوں میں سجا رہے تھے ۔۔۔۔ دل سے کانپ کے رہ گئے تھے ۔۔۔۔ ٹی وی کے سامنے بیٹھی ہر آنکھ آبدیدہ تھی ۔۔۔ نا بختیار صاحب کو اپنے آنسوں پر اختیار تھا نا زمان صاحب کو رمیز ہچکیوں سے رو رہی تھا ۔۔۔ پندرہ دن بعد اسکی بڑی بہن کی بھی شادی تھی ۔۔۔۔ اور اس اتوار بھی وہ بائیک ریس کی شرط لگا چکا تھا لیکن یہ سب دیکھ کر ارادہ ملتوی کر چکا تھا اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا ان کا واحد سہارا جو کچھ سامنے اسکرین پر دیکھ رہا تھا وہ سب اپنے گھر پر بھرپا نہیں کر سکتی تھا

صابر قیوم جیسا ایک شخص دونوں ہاتھوں سے پیسہ لوٹ رہا تھا فون پر کسی سے یہ کہہ رہا تھا

” اچھا ہوا مر گیاسالہ اسکے مرنے پر لوگوں نے ڈبل پیسہ لگایا ہے ۔۔۔۔ میرے تو وارے نیارے ہو گئے چند دن لوگ اسے یاد رکھیں گئے پھر بھول جائیں گئے

۔۔۔۔اس جیسے گلی کے کتوں کو ڈھونڈنا کون سا مشکل ہے ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں جو خود کو فلم کا ہیرو سمجھتے ہیں ۔۔۔ ہم بس چند لاکھ کی ہڈی انہیں دیکھا کر ان پر کروڑوں کماتے ہیں اور یہ بیوقوف نوجوان نسل خود کو موت کے لئے پیش کر دیتی ہے ۔۔۔۔ انکا خون گندے نالوں میں بہہ کر اپنااصل رنگ تک کھو بیٹھتا ہے ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔ فلم ختم ہو چکی تھی ۔۔۔ خرم سیفی باسم نے بھی اپنے آنسوں پونچے تھے

ہال کی لاٹیں جل چکی تھیں۔۔۔

شاہزیب سب کے سامنے زندہ سلامت کھڑا تھا ہاتھ میں مائیک لئے

” یہ میرا آخری شو تھا ۔۔۔۔ اس کے بعد آپ کو ہیلمنٹ بوائے کبھی کوئی ویلنگ کرتا نظر نہیں آئے گا ۔۔۔۔

کیونکہ ہمارا خون اتنا سستا تو نہیں ۔۔۔جو یوں بہایا جائے ۔۔۔۔ نا ہمارے ماں باپ کی محبت اتنی معمولی کہ ہم انہیں عم بھر کے آنسوں دے جائیں ۔۔۔

اس فلم کو دیکھانے کا مقصد صرف یہ تھا کہ ہم دیکھ سکیں کہ ذراسی خواہش کی خاطر ہم اپنوں کو عمر بھر کس اذیت میں مبتلہ کر جاتے ہیں ۔۔۔

مجھے امید ہے اسے دیکھنے والا ہر نوجوان یہاں سے یہ عہد لیکر نکلیں گا کہ وہ ون ویلنگ کی خاطر اپنوں کو تکلیف نہیں دے گا ۔۔۔

کون کون دے گا اس مشن میں ۔میرا ساتھ ون ویلنگ کے خلاف ؟ میرے ساتھ قدم بڑھائیے

سب سے پہلے بختیار صاحب کھڑے ہوئے تھے ۔۔۔

” میں ہوں اپنے بیٹے کے ساتھ ۔۔۔ ” بڑے فخر سے شاہزیب کو بیٹا کہا تھا ۔۔۔ آہستہ آہستہ پورا مجمع کھڑا ہو چکا تھا ۔۔۔۔

شاہزیب کی آنکھوں میں خوشی کے آنسوں تھے ۔۔۔ باسم جمی سب اسکے گلے لگ گئے تھے ۔۔۔۔ آج انکا مقصد پورا ہوا تھا ۔۔۔۔ کتنے ہی نوجوانوں نے عہد کیا تھا ۔۔۔ کتنی ہی ماؤں کے د کل سب سے دعائیں نکلیں تھیں

ایک شور اٹھا تھا ۔۔۔۔ لوگوں کو آگاہی کی ضرورت تھی جو شاہزیب نے آج اپنی جان پر کھیل کر دی تھی دیکھانے جانے والی کہانی کو حقیقت کارنگ دیا تھا ۔۔۔۔پہلی بار کسی نے ون ویلنگ کے خلاف

چند لڑکوں نے یہ مہم چلائی تھی جس نے نئ نسل کی آنکھیں کھول کے رکھ دیں تھیں ۔۔۔

وہاں سے اٹھنے والے لڑکے نیا عزم لیکر اٹھے تھے ۔۔۔۔

کہ بائیک کے کھیل میں خود کو موت کے حوالے نہیں کرینگے

******…..

مرحا کو دو دن بعد ہوش آیا تھا آپریشن کامیاب ہوا تھا۔۔۔۔

اب وہ خطرے سے باہر تھی ۔۔۔۔

شاہزیب کا شو اس نے موبائل پر دیکھا تھا ۔۔۔۔ اسکے والد نے اس کے دماغ کا بھی علاج کرونا شروع کر دیا تھا چھ ماہ کا عرصہ لگ گیا تھا لیکن وہ بہت بہتر ہو چکی تھی ۔۔۔۔ بہت سی باتوں سے واقف بھی ہو چکی تھی ۔۔۔ شاہزیب کی بیوی اور بچوں کی تصویریں دیکھ چکی تھی ۔۔۔۔

جسم چکی تھی کہ جو کچھ وہ کر رہی وہ اسکی بیوقوفی تھی ۔۔۔۔ چھ ماہ تک شاہزیب نے مجتبیٰ صاحب کا بزنس سنبھالا تھا ۔۔۔۔ بلکہ اسے بہت آگے تک لے جا چکا تھا ۔۔۔ بختیار صاحب اس سے بہت خوش تھے ۔۔۔۔

چھ ماہ بعد وعدے کے مطابق شاہزیب مرحا کو رسیوں کرنے گیا تھا مگر اکیلا نہیں ۔۔۔۔

نی ان اور بچوں کے ساتھ ۔۔۔ مرحا کو ہر حقیقت سے آگاہ کرنا چاہتا تھا ۔۔۔

اسے اندازہ تھا کہ وہ کچھ وقت اس سے ناراض رہے گی لیکن یہی بہتر تھا کہ سچ جان جائے لیکن مرحا اسے مسکرا کر ملی تھی ۔۔۔ شاہزیب سے صرف ہائے ہیلو ہی کیا تھا البتہ نیناں سے گلے ملی تھی ۔۔۔۔ شاہزیب کے لئے یہ ایک خوشگوار حیرت تھی ۔۔۔

” یہ نیناں ہے “

” جانتی ہوں آپکی وائف ہے ۔۔۔۔ ” بات مرحا نے مسکراتے ہوئے مکمل کی تھی ۔۔۔

” آپ بہت لکی ہیں جو آپ کو فیری ڈول ملی ہے ۔۔۔ ” یہ کہہ کر مجتبیٰ صاحب کے گلے لگ گئ ۔۔۔

” پاپا گھر چلیں ؟ ” اسے ذیادہ ضبط دیکھانے کا شاید مرحا میں حوصلہ نہیں تھا۔۔۔۔ اس لئے وہاں سے جانا چاہتی تھی ۔۔۔ نا شاہزیب کے سامنے کمزور پڑنا چاہتی تھی نا اپنے باپ کے سامنے جس نے اولاد کے نام پر صرف مرحا کی تکلیفیں ہی دیکھیں تھیں

اس لئے اب وہ انہیں خوشیاں دینا چاہتی تھی ۔۔۔

محبت کا مطلب چھین لینا نہیں ہوتا ۔۔۔ پھر وہ یک طرفہ محبت کرتی تھی ۔۔۔ شاہزیب جیسا بھی تھا اس کا محسن تھا اسے زندگی کی طرف لایا تھا ۔۔۔۔ مرحا بھی اسکی ہنستی بستی زندگی کو اجاڑنے کا وہ کوئی حق نہیں رکھتی تھی ۔۔۔۔

******……..

چند سال بعد

رباب کے لئے عاصم کے رشتے کی بات نیناں اور شاہزیب نے سارے گھر والوں کے سامنے رکھی تھی

نیناں عاصم کی پسندیدگی جانتی تھی ۔۔۔ اور باسم کی بہن کے لئے زمان صاحب اور شاہزیب دل و جان سے راضی تھے بس اگر کسی کو اختلاف تھا تو وہ تھا نمیرہ کو

” مجھے یہ رشتہ عاصم کے لئے بلکل پسند نہیں ہے ابو ۔۔۔۔ بس آپ کو ضرورت نہیں وہاں رشتے کی بات کرنے کی “

” لیکن نمی انکار کی وجہ بھی تو ہو ” زمان صاحب سے پہلے شاہزیب بول اٹھا تھا عاصم کا نمی کی بات پر موڈ آف ہوا تھا

” بس مجھے وہ لڑکی نہیں پسند ۔۔۔ ” نمیرہ غصے سے بولی تھی

” زندگی عاصم نے گزارنی ہے تم نے نہیں ” اس بار خرم نے نمیرہ سے کہا تھا

” ٹھیک ہے پھر شوق سے کریں شادی لیکن سمجھ لیں کے نمی کا اس گھر سے کوئی تعلق نہیں رہا ۔۔۔ ” یہ کہہ وہ گھر سے باہر نکل گئ تھی

” اسے کیا ہوا ہے ۔۔۔ رباب سے اسکی کیا ان بن ہے ۔۔۔ مجھے تو نہیں لگتا کہ اسکی شرمیلی سی بچی نے کبھی کسی کو کچھ کہا ہو گا ” عاتقہ بیگم نمی کے اختلاف پر حیران تھیں

” انٹی آپ پریشان نا ہوں نا ہی نمی کی بات کو اتنا سیریس لیں میں بات کرتا ہوں نمی سے ” سب کو تسلی دے کر خرم نمیرہ کے پیچھے گیا تھا

دوسری طرف باسم کے گھر میں شاہزیب اپنی پیشگی آمد کی وجہ بتا چکا تھا کہ وہ کس مقصد کے تحت آنا چاہتے ہیں ۔۔۔ وہ لوگ دل وجان سے راضی تھے ۔۔۔۔

نمیرہ اپنے کمرے میں جا کر منہ پھلائے بیٹھی تھی

” یہ بیٹھے بیٹھائے تمہیں رباب میں کون سے نقص نظر آ گئے ہیں ۔۔۔ عاصم پسند کرتا ہے اسے ۔۔۔ اور رباب بھی اسے بہت چاہتی ہے ۔۔۔ کالج سے دونوں ساتھ ہیں ۔۔۔۔

” مجھے وضاحت نہیں دینی خرم مجھے نہیں پسند وہ لڑکی تو بس نہیں پسند ۔۔۔ یہ میرے گھر کا معاملہ ہے ۔۔۔ بہتر ہو گا کہ تم بیچ میں نا بولو ” نمیرہ کو آگ اس بات پر لگی تھی کہ باسم نے اسکی محبت کو ٹھکرایا تھا اور آج رباب بھی اسی مقام پر کھڑی تھی جہاں کبھی نمی تھی شاید قسمت نے نمیرہ کو باسم سے بدلہ لینے کا موقع دیا تھا پھر وہ کیوں نا اپنا بدلہ پورا کرتی اسے بھی پتہ چلے جب بہن کے لئے اس کے گھر سے کوئی سوالی بنکر نا آئے ۔۔۔۔تو کیس لگے گارباب کو

” اچھا تو میں اب غیر ہو گیا ہوں تمہارا گھر تمہارا معاملہ ہو گیا ہے ۔۔۔۔ ٹھیک ہے نمیرہ بیگم یوں تو پھر یونہی صحیح ۔۔۔ تم میری بیوی ہو ۔۔۔ اس لئے میرا گھر کا معاملہ تمہارا معاملہ ہے ۔۔۔ تمہارا میکہ ثانوی حثیت رکھتا ہے اس لئے تم بھی وہاں اختلاف نہیں رکھتی ” خرم کے منہ یہ سب سن کر وہ مزید سلگ کر رہ گئ تھی

” میں عاصم کے شادی پر نہیں جاؤں گی ۔۔۔ اور نا ہی آج کے بعد امی کے گھر قدم رکھوں گی ” یہ کہہ کر وہ لیٹ گئ

” نمی کم ان ہو کیا گیا ہے تمہیں کیوں اپنے بھائی کی خوشیوں کی دشمن بنی ہوئی ہو ۔۔ اچھا بتاؤں کیا کہا ہے رباب نے تمہیں کیا بات ہوئی ہے ” خرم نے نرمی سے اسے سمجھانا چاہا

” مجھے اس موضوع پر بات ہی کرنی ” یہ کہہ کرخوہ آنکھیں بند کر سونے کے لئے لیٹ گئ ۔۔۔

خرم بھی لیٹ چکا تھا رات کو جب خرم کی آنکھ کھلی تو نمیرہ بیڈ سے غائب تھی کمرے کی گیلری سے بات کرنے کی آوازیں آ رہیں تھیں جسے نمیرہ دھیرے دھیرے کسی سے بات کر رہی ہو ۔۔۔ خرم اٹھ کر گیلری میں آ گیا ۔۔۔۔

” اپنی بہن پر بات آئی تو آپ کو محبت یاد آگئ باسم صاحب کہاں گئ آپ کی تربیت ۔۔۔ جس کا کبھی مجھے طعنہ دیا تھا ۔۔۔ میں نے بھی رباب کی طرح صرف محبت ہی تو کی آپ سے کیسے بے دردی سے آپ نے انکار کیا تھا مجھے میرے باپ کی تربیت پر بہت بڑا لیکچر دیا گیا تھا۔۔۔ اب میں آپ سے پوچھتی ہوں اپنی بہن کو یہ سیکھایا کہ دوسروں کے لڑکوں کو پیار کے جال میں پھنساتی پھرے ۔۔۔ لیکن میں یہ ہونے نہیں دوں گی ۔۔۔ آپ کی بہن کبھی بھی عاصم کی دلہن نہیں بنے گی ۔۔۔ ” نمیرہ ابھی باسم سے بات کر ہی رہی تھی جب موبائل خرم نے اس کے ہاتھ سے چھین کر اپنے کان پر لگایا تھا خرم کو اپنے سر پر کھڑے دیکھ کر نمیرہ ایک رنگ آ کر گزرا تھا دل تو جیسے سینے میں تھم گیا تھا ۔۔۔۔

” نمیرہ باخدا میں نے کبھی آپ کے بارے میں ایسا نہیں سوچا

آپکی محبت یک طرفہ تھی اگر میری بہن کی محبت بھی اسی تک محدود ہوتی میں روبی کی بات سنتا بھی نہیں۔۔۔۔ لیکن ٹھیک کے آپ کو یہ سب ٹھیک نہیں لگتا تواپ بے فکر رہیں ۔۔۔ میں انکار کر دوں گا ۔۔۔ چاہے اس کی وجہ سے روبی کی زندگی برباد ہو یا عاصم کی ۔۔۔۔ لیکن میں آپ کو تکلیف نہیں دونگا ” یہ کہہ کر باسم نے فون رکھ دیا تھا ۔۔۔ نمیرہ بری طرح سے گھبرا گئ تھی ۔۔۔ خرم نے کوئی سوال نمیرہ سے نہیں کیا تھا ۔۔۔ بس فون اسے پکڑا کر کمرے سے باہر چلا گیا ۔۔۔۔۔

دوبارہ سو تو نمیرہ بھی نہیں پائی تھی ۔۔۔ صبح بھی وہ چپ چاپ دوکان چلا گیا تھا ۔۔۔ واپسی پر نمیرہ کا ہاتھ پکڑا اور شاہزیب کے پاس لے گیا ۔۔۔ کمرے میں اس وقت نیناں اور شاہزیب ہی تھے

” نیناں بھابھی آپ کچھ دیر کے لئے باہر جائیے گا مجھے شاہو سے کچھ بات کرنی ہے ۔۔۔ ” خرم کے کہنے پر نیناں اٹھ کر کمرے سے نکل گئ تھی ۔۔۔

” خرم پہلے میری بات سنو ” نمیرہ کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے تھے خرم نے نمیرہ کو شاہزیب کے پاس لا کر اس کا ہاتھ چھوڑا تھا

“میں نے۔ تم سے کہا تھا شاہو کہ اپنی بہن کی مجھ سے شادی کروانے سے پہلے اسکی رضامندی لے لینا ۔۔۔ ” خرم چلا کر شاہزیب چسے بولا تھاوہ ہر بات سے انجان ان دونوں کو حیرت سے دیکھ رہا تھا

” کیا ہو ہے خرم ۔۔ نمی کیا بات ہوئی ہے ” نمیرہ بے تحاشہ رونےلگی تھی

” شاہو بھائی کچھ نہیں ہوا ۔۔ خرم پلیز چلو یہاں سے ۔۔۔ جو تم سمجھ رہے ہو ویسا کچھ نہیں ہے ” نمیرہ نہیں چاہتی تھی یہ بات شاہزیب کو پتہ چلے

” اچھا تو پھر مجھے کیا سمجھنا چاہیے نمی ۔۔ آج تک تو ایک میں ہی بیوقوف بنتا رہا ہوں آج تک یہ سمجھتا رہا کہ نمی ایک سیدھی سادی سی معصوم سی لڑکی ہے جس کی زندگی میں ناول کے تحریری کردار ہی اس لئے سب کچھ ہیں ۔۔۔ اب تک چپ اس لئے رہا کہ ان کرداروں کا حقیقی کوئی وجود نہیں تھا ورنہ کہاں کوئی مرد یہ برداشت کرتا ہے کہ اسکی بیوی کسی اور کے خواب دیکھے ۔۔۔۔ لیکن تم تو کسی اور کے خیالوں کو اب تک اپنی آنکھوں میں سجائے بیٹھی ہو ۔۔۔۔ ” خرم کی بات پر شاہزیب ضرور اشتعال میں کھڑا ہو گیا تھا

” کیا بک رہے ہو تم خرم ۔۔۔ “

” اپنی بہن سے پوچھو ۔۔۔۔ اور رکھو اسے اپنے پاس ” غصے سے یہ کہہ کر خرم کمرے سے باہر نکل گیا تھا نمیرہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی تھی شاہزیب دوبارہ بیڈ پر بیٹھ گیا

” کیا بکواس کر کے گیا ہے یہ نمی ۔۔۔ ” شاہزیب جو اب بھی خرم پر غصہ تھا لیکن نمیرہ کے آنسوں نہیں ت رہے تھے ۔۔۔ دوسرے کمرے میں عاصم آنکھیں سجائے بیٹھا تھا ۔۔۔ رباب نے روتے ہوئے اسے کہا تھا کہ وہ رشتہ نا بھیجے باسم بھائی نہیں مانے گئے

نیناں عاصم کے کمرے میں آ گئ تھی ۔۔۔ نیناں کو دیکھ کر وہ اٹھ کر بیٹھ گیا ۔۔ بکھرے سے حلیے میں اسے دیکھ کر نیناں کو بھی دکھ سا ہو رہا تھا

” کیوں پریشان ہو رہے یوعاصم ابو امی شاہزیب میں شازی آپی سب کی تو راضی ہیں نمی بھی مان جائے گی “

” نہیں وہ نہیں مانے گیں نا جانے کیا کہا انہوں نے سر باسم سے ۔۔۔ وہ رباب کو صاف کہہ چکے ہیں کہ وہ انکار کر دیں گئے حالانکہ کل تک تو راضی تھے وہ ۔۔۔ ” عاصم نے رنجیدگی سے کہا

” او ہو ۔۔۔۔ یہ تو غلط ہوا ۔۔۔ پھر بھی تم ٹینشن مت لو شاہزیب کی باسم بھائی سے اچھی دوستی ہے وہ خود بات کر لیں گئے ۔۔۔ کل رات سے کچھ نہیں کھایا تم نے چلو شاباش کچھ کھا لو “

” مجھے بھوک نہیں نیناں آپی ۔۔۔ کل سے تو روبی نے بھی کچھ نہیں کھایا رو رو کے بے حال ہے ۔۔۔ پتہ نہیں مسلہ کیا ہے نمی آپی کے ساتھ ” عاصم اپنی جگہ دل جلائے بیٹھا تھا ۔۔۔

*****….

” نمی رونا بند کرو اپنا ۔۔۔ اور بتاؤں کیا ہوا ہے خرم کو ” شاہزیب نے سخت لہجے سے نمیرہ سے پوچھا تھا

” شاہو بھائی سے لگتا ہے میں کہ باسم کو پسند کرتی ہوں ” نمیرہ یہ سمجھ نہیں پارہی کہ بات کو سنبھالے کیسے ‘

” کیا دماغ خراب ہے خرم کا ۔۔۔ اس نے یہ سوچا بھی کیسے ابھی جا کر منہ توڑتا ہوں اس کا ” شاہزیب جذبات میں کھڑا ہوا تھا

” شاہو بھائی ۔۔۔ اس نے فون پر میری اور باسم باتیں سنی ہیں ” اس سے پہلے کے بات اور بگڑتی نمیرہ نے سچ بتانے کی فیصلہ کر لیا تھا شاہزیب اب اسے گھور کر دیکھ رہا تھا

“” کیا مطلب ہے اس بات کا ۔۔۔ تم باسم سے کیا بات کر رہی تھی ۔۔۔ تمہارا اس سے کیا تعلق ہے نمی ” نمیرہ نے دھیرے دھیرے ساری بات شاہزیب کو روتے ہوئے بتائی تھی کچھ پل تو نمیرہ کو قہر بھری نظروں سے دیکھتا رہا

” تم جانتی بھی ہو کیا کر رہی تھی تم نمی ۔۔۔۔ ایک ذرا سی بات کو تم نے اس قدر بڑھا کے رکھ دیا کہ عاصم کی زندگی تو جو برباد ہوگی وہ ہو گئ لیکن تمہاری زندگی بھی سوالیہ نشان بنکر رہ کر آئے گی

” قسم لے لیں شاہوں بھائی میرے دل میں خرم کے علاؤہ اور کوئی نہیں ہے ۔۔۔ اسے کہیں مجھے معاف کر دے ۔۔۔

” اس کے پاس ۔میں اسوقت جاتا جب وہ غلط ہوتا

قصور تمہارا ہے نمی ۔۔ جاؤں جا کر ہاتھ جوڑو اسکے یا پاوں میں گر کر معافی مانگوں ۔۔۔لیکن غلط تم ہو ۔۔۔۔۔ میرادوست ایک نایاب ہیرا تھا اس لئے تمہارے لئے اسے پسند کیا تھا افسوس ہے نمی تم ۔ نے اسکی ذرا قدر نہیں کی ہمیشہ اسکے رنگ کو چوٹ کرتی رہی ہو اور وہ ہنس کر ٹالتا رہا ہے ۔۔۔ “شاہزیب نے تاسف سے نمیرہ کی طرف دیکھ کر کہا تھا نمیرہ آنسوں پونچتے ہوئی واپس اپنے گھر پر گئ تھی ۔۔۔ خ اپنے کمرے میں پی بیٹھا تھا ۔۔۔ نمیرہ کو دیکھ کو رخ بدل گیا نمیرہ سیدھا اسکے پاؤں میں جا کر بیٹھی تھی اسکے پیر پکڑ کر رونے لگی تھی ۔۔

” خرم مجھے معاف کر دو ۔۔۔۔ میرے دل میں کسی کے لئے ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔ میں صرف تم سے محبت کرتی ہوں ” خرم نے کوئی جواب نہیں دیا تھا

” خرم پلیز مجھے معاف کر دو “

” میں کیسے مان لو کہ پچھلی ہر بات تمہارے لئے بے معنی ہو چکی ہے ۔۔۔ جو کچھ میں نے فون پر سنا ہے ۔۔۔ وہ کل ہی بات ہے نمی ” خرم نے غصے سے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا

” میں صرف بدلہ لینا چاہتی تھی ” نمیرہ دھیرے سے بولی

” نہیں نمی تم باسم کو دوبارہ سب کچھ یاد دلانا چاہتی تھی ۔۔۔ اسے یہ باروا کرونا چاہتی تھی ۔۔۔ تم اب وہیں کھڑی ہو ۔۔۔ ” نمیرہ نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑے تھے

” تم بتاؤں کیسے یقین دلاؤں تمہیں ۔۔۔ ” نمیرہ نے خرم سے روتے ہوئے پوچھا

” ” رباب کا رشتہ مانگنے تم جاؤں گی انکے گھر ۔۔۔ کوئی رکاوٹ نہیں ڈالو گی بیچ میں ۔۔۔۔ جو کچھ ہو چکا اسے دل سے ختم کرو نمی صرف لفظوں سے نہیں “

” تم جو کہوں گئے میں وہی کروں گی ۔۔ بس تم مجھے معاف کر دو “نمیرہ نے روتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔ اگلے روز خود زمان صاحب اور عاتقہ بیگم کے ساتھ وہ بھی خرم کے ساتھ گئ تھی ۔۔۔ رباب کو اپنے ہاتھ میں پہنی انگوٹھی پہنا کر آئی تھی ۔۔۔۔

دل سے سب اختلافات دور کر چکی تھی ۔۔۔ کیونکہ وہ سب باتیں بے معنی ہی ہو چکیں تھیں ۔۔۔ بس نمی کو احساس دیر سے ہوا تھا

چند ماہ بعد

رباب دلہن بنی عاصم کے برابر میں بیٹھی تھی۔۔۔۔

سب ہی انکے ساتھ بیٹھے تصاویر بنا رہے تھے ۔۔۔ دونوں بھتجے اب سات سال کے ہو چکے تھے ۔۔۔ اور چچا چچی کے بیچ میں ایسے جم کر بیٹھے تھے کہ چچا اپنی نئ نویلی دلہن کو آنکھ بھر کے دیکھ بھی نہیں پا رہا تھا ۔۔۔

“تم دونوں کیا سماج کی دیوار بنے بیچ میں بیٹھے ہو ۔۔ وہ رہے تمہارے امی ابا انکے پاس جا کر کھڑے ہو ” روم نے گھورتے ہوئے سعدی سے کہا تھا

” جی نہیں پاپا نے کہا تھا خبردار جو آج چچا کو اکیلے چھوڑا تو ۔۔۔۔ تمہارے چچا نے مجھ سے دو ہزار لئے تھے ۔۔۔ تم لوگ دس ہزار سے کم لیکر مت اٹھنا ۔۔۔کیوںی ہادی ؟ سعدی نے باپ کی طرح آنکھ ونک کر کے ہادی سے کہا تھا رباب کی مسکراہٹ ہنسی میں بدلی تھی ۔۔۔

” بلکل ” ہادی نے تائید کی تھی

شاہزیب اسٹیج کے سامنے نیناں کے برابر میں کھڑا تھا ۔۔۔

” کم بخت کسی کی شادی دیکھ کر اپنی شادی یاد آنے لگتی ہے ۔۔۔۔ وہ بھی کیا حسین رات تھی ہے نا نیناں ۔۔۔ ” نیناں کے کان کے قریب وہ شوخ ہوتے ہوئے بولا تھا نینان نے پلٹ کر اسے گھور کر دیکھا تھا

” جیٹھ بن چکے ہیں آپ ۔۔۔ اب تو کچھ شرم کر لیں ۔۔۔ ” نیناں کی بات پر وہ لاپروائی سے کندھے اچکا کر بولا

” ہاں تو جیٹھ بننے کا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ بیوی سے پیار کا اظہار کرنے پر ٹیکس لگ چکا ہے ۔۔۔ میں۔ تو ہادی اور سعدی کی شادی پر بھی یونہیں ٹھنڈی آہیں بھرتے ہوئے تمہیں یہی کہوں گا ۔۔۔ کہ وہ بھی کیا حسین رات تھی نیناں ۔۔۔ ” نیناں کے ساتھ کھڑے بازو اسکے دوسرے کندھے پر رکھ کر اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے اسکی آنکھوں میں محبت کے چمکتے دئیے دیکھتے ہوئے بولا

” آپ کبھی بھی باز نہیں آ سکتے” نیناں کو اپنے ڈھیٹ شوہر کی عادت کا با خوبی پتہ تھا

” بلکل بھی باز نہیں آ سکتا ۔۔۔۔۔کیا خیال ہے نیناں ۔۔ ہادی اور سعدی کافی بڑے ہو چکے ہیں ۔۔۔ ایک چھوٹی سی پیاری سی بیٹی ہوئی چاہیے ہماری۔ بلکل تمہاری طرح خوبصورت نینوں والی ” شاہزیب کی اگلی فرمائش پر وہ صرف اسے گھور ہی سکتی تھی