No One Wheeling (Season 2) by Umme Hani NovelR50410 No One Wheeling Episode 5
Rate this Novel
No One Wheeling Episode 5
No One Wheeling by Umme Hani
باسم اب اکثر شاہزیب کے ساتھ باہر ہی ملاقات کرتا تھا ۔۔۔۔ ویسے تو سیفی جمی اور خرم سے بھی اسکی بات چیت رہتی تھی لیکن خرم سے وہ کچھ کھنچا کھنچا ہی رہتا تھا ۔۔۔ حالانکہ وہ عادت واطوار میں سب سے اچھااور خوش مزاج صلہ جو قسم کا انسان تھا ۔۔۔۔۔ اسی طرح وقت آگے بڑھنے لگا
سب کی زندگیاں آگے۔ بڑھنے لگیں تھیں ۔۔۔۔۔ نمیرہ کے بیٹی ہوئی تھی ۔۔۔۔ خرم نے اسے میکے بھجنے کے بجائے اپنے گھر ہی رکھنے کا فیصلہ کیا تھا پھر اسکی ساس بھی بہت خیال رکھنے والی تھی ۔۔۔۔ خرم کے تو خوشی کے مارے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے ۔۔۔۔ اپنی اولاد کی خوشی ہی الگ ہوتی ہے ۔۔۔۔ شاہزیب جب نمیرہ سے ہاسپٹل ملنے گیا خرم نے اس کے گلے لگ کر اس نے مبارک باد دی تھی
” مبارک ہو ۔۔۔ سب تو ماموں جان بن گئے ہو شاہو جی ” خرم کا وہی انداز تھا ۔۔۔ اپنایت بھرا
” چلو میں تو ماموں ہوں تم تو اب دسدھر جاؤں ماشاءاللہ سے ابھی سے ابا ابا لگنے لگے ہو ” شاہزیب نے مسکرا کر جواب دیا
” چند ماہ رک جاؤں تم بھی ۔۔ تمہیں ابا کہنے والے دو دو ہوں گئے ۔۔۔۔ جب بال کھنچا کریں گئے تمہارے تو اور بھی عقل ٹھکانے آئے گی تمہاری ” خرم بھی ادھار رکھنے کا قائل نہیں تھا یہ بھی شاہزیب سے پتہ چلا تھا کہ شاہزیب جڑواں بچوں کا باپ بننے والا ہے
” ہاں تو میں کون سا انکاری ہوں ۔۔۔ اب ہٹو مجھے میری پیاری سی بہن سے ملنے دو تم کیا سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹ کے کھڑے ہو جاتے ہو ۔۔۔ ” شاہزیب نے خرم کو پیچھے کیا اور نمیرہ جو ہاسپٹل کے روم میں فولڈنگ بیڈ پر لیٹی تھی ۔۔۔ اسکے پاس جا کر اسے مسکراکر دیکھتے ہوئے اس کا ہاتھ چومنے لگا
” بہت مبارک ہو نمی ۔۔۔۔ ” نمیرہ سے شاہزیب کا جھکاؤ ہمیشہ سے ذیادہ ہی رہا تھا ۔۔۔۔ وہ بھی ہلکا سا مسکرائی تھی شاہزیب نے نمیرہ کے برابر لیٹی پیاری ننھی منی برریرہ کو گود میں لیا تھا ۔۔۔ شکل وصورت میں وہ بلکل نمیرہ ہی تھی ۔۔۔۔ بس رنگت خرم جیسی تھی ۔۔۔
” شکر ہے نمی یہ بلکل تم پر ہے ۔۔۔ ” شاہزیب نے جان بوجھ کر خرم پر چوٹ کی تھی ۔۔۔ دونوں آپس میں بہت بے تکلف تھے ۔۔۔ اس لئے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے
” جی نہیں میری بیٹی بلکل مجھ پر ہے ۔۔۔ خوبصورت اور حسین ۔۔۔۔ بلکل باپ کی طرح بس ۔۔۔ بال ۔۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر خرم نے پہلے اپنی بیٹی کے گھنگرالے بال دیکھے پھر جتاتی ہوئی نظریں نمیرہ پر ڈالی جو نقاہت کے باوجود خرم کو گھور رہی تھی ۔۔۔ شاہزیب دونوں دیکھ کر ہسنے لگا ۔۔۔۔
” شاہو بھائی ۔۔۔۔ دیکھ رہے ہیں ۔۔۔ کیسے کیسے طعنے دیتا ہے یہ مجھے ” نمیرہ نے بھائی موجودگی کا پورا پورا فایدہ اٹھاتے ہوئے شکوہ کیا تھا
” ارے یہ سب اسکی محبت ہے ۔۔۔۔ تم کیوں دل جلاتی ہو ۔۔۔۔ بچپن سے عادت ہے اسے ۔۔۔ ” شاہزیب نے دوبارہ بچی کو نمیرہ کے پاس لیٹا دیا ۔۔۔۔ اور جیب سے دو ہزار نکال کر نمیرہ کے ہاتھ میں رکھ دیے ۔۔۔
” یہ رکھ لو ۔۔۔ جو چاہے خرید لینا ۔۔۔ ” ۔نمیرہ نے بھی پیسے پکڑ لئے تھے
” شاہو بھائی نیناں مجھ سے ملنے نہیں آئے گی ” نمیرہ کو نیناں کا خیال آیا تھا
” نہیں طعبت ٹھیک نہیں ہے اسکی ۔۔۔۔ تم گھر شفٹ ہو جاوں تو ا جائے گی ملنے ۔۔۔” شاہزیب کچھ دیر نمیرہ اور خرم کے پاس بیٹھ کر واپس چلا گیا ۔۔۔۔۔ شازمہ بھی گھڑی دو گھڑی ہی ملنے آئے تھی ۔۔۔۔
نیناں کے پاؤں میں سوجن اس قدر بڑھ چکی تھی کہ وہ بہت کم ہی کہیں آتی جاتی تھی ۔۔۔ عاصم کی البتہ نیناں سے اچھی دوستی لگ گئ تھی جب بھی باہر سے اپنے کچھ کھانے کو لاتا نیناں کے ساتھ ملکر ہی کھاتا تھا ۔۔۔۔ میٹرک اس نے بی گریٹ میں پاس کیا تھا ۔۔۔۔ جس پر زمان صاحب سے اچھی جھاڑ سنی تھی ۔۔۔۔
پرائیویٹ کو ایجوکشن کالج میں داخلہ لیا تھا اتفاق تھا کہ رباب بھی اسی کالج میں تھی ۔۔۔ دونوں ہم جماعت ہی تھے ۔۔۔۔ لیکن رباب کا عاصم سے رویہ لیا دیا ہی رہتا تھا ۔۔۔۔
آج بھی عاصم برف کا گولا نیناں کے لئے لایا تھا ۔۔۔۔
نیناں لاونج کے صوفے پر بیٹھی ۔۔۔۔ وہ بھی اسکے برابر میں بیٹھ گیا ۔۔۔ پھر برف کے گولے کا کپ اسکی طرف بڑھا دیا
یہ کھانے بھی نیناں کا پہلا اتفاق تھا ۔۔۔ برف کے اوپر رنگ برنگے مشروبات اور پسا ہوا ناریل چوکلیٹ چپ دیکھ کر اس نے عاصم کی طرف دیکھا تھا
” یہ کیا ہے “
” اسے برف کا گولا کہتے ہیں ۔۔۔ بڑے مزے کا ہوتا ہے کھا کر دیکھیں ۔۔۔ ” عاصم کے کہنے پر نیناں نے ایک چمچ منہ ڈالا ۔۔۔۔ کھانے میں اسے اچھا ہی لگا تھا ۔۔۔۔
” کیسا لگا نیناں آپی “
” مزے کا ہے ۔۔۔۔۔ عاصم “
” کل آپ کوایک اور نئ چیز کھلاؤں گا ” عاصم نے رازدانہ انداز سے کہا
” وہ کیا ” نیناں نے بھی دھیرے سے پوچھا تھا ۔۔
” وہ سر پرائز ہے ۔۔۔۔ ” عاصم نے آنکھ دباتے ہوئے کہا
” ٹھیک ہے ۔۔۔ لیکر آنا ” نیناں نے عاصم کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اسکی تائید کی تھی ۔۔۔۔ جب سے وہ یہاں آئی تھی ۔۔۔ کچی کیریاں ۔۔۔ کھوئے والی کلفی ۔۔۔ گول کپے ۔۔۔۔ اور نا جانے کیا کیا عاصم اسے لا کر دیتا رہتا تھا خود بھی ایسی چٹ پٹی چیزوں کا شوقین تھا ۔۔۔اور نیناں بھی پہلے تو یہ سب کھاتے ہوئے ہچکچاتی تھی لیکن دھیرے دھیرے عادی سی ہونے لگی تھی ۔۔۔۔ اب گھر میں سب سے بے تکلف سی ہو گئ تھی ۔۔۔۔
وقت کچھ اور آگے بڑھا ۔۔۔ نیناں نے دو بیٹوں کو جنم دیا تھا اس وقت رانا بختار کی خوشی کی انتہا نا تھی ۔۔۔۔ نیناں کے بعد اب انہوں نے کسی چھوٹے بچوں کو پکڑا تھا ۔۔۔۔ اتنے خوش تھے کہ شاید بیان کرنا مشکل تھا ۔۔۔ یہی حال زمان صاحب اور عاتقہ بیگم کا تھا حالانکہ پیار وہ نمیرہ کی بیٹی سے بہت کرتے تھے ۔۔۔ عاتقہ بیگم روز ہی اسے گھر لے آتی تھیں ۔۔۔ لیکن بیٹے کی اولاد پر تو نہال ہو رہیں تھیں ۔۔۔۔ اور شاہزیب کی خوشی کااندازہ لگانا مشکل تھا ۔۔۔۔ سیفی جمی خرم کے ساتھ ساتھ باسم بھی اس سے ملنے آیا تھا ۔۔۔۔ بختیار صاحب کی خواہش تھی کہ بیٹی اور نواسوں کو رانا ہاؤس لیکر جائیں ۔۔۔۔ شاہزیب کی مرضی نہیں تھی ۔۔۔۔ لیکن نیناں کے اصرار پر وہ چپ ہو گیا ۔۔۔۔
کمپوٹر کلاسز لینے کے ساتھ ساتھ بڑی بڑی کمپنیوں میں لگے کمپوٹر اور کیمرے میں اگر کوئی خرابی ہو جاتی تو وہاں کے ہیڈ سے شاہزیب کے اچھے تعلقات تھے وہ اکثر شاہزیب کو ہی ٹھیک کرنے شاہزیب کو ہی بھیج دیتا تھا ۔۔۔ اور وہاں سے ملنے والا کمیشن اسکی لاٹری ہوتی تھی ۔۔۔۔ اب بھی ایک بڑی کمپنی کے کمپوٹرز میں اپیشو کی شکایت تھیں کی وہاں لگے کیمرے کی ویڈیو ٹھیک سے شو نہیں ہو رہی۔ تھیں ۔۔۔۔اور وہاں کا کمپوٹر سوفٹ ویر انجینر چھٹی پر تھا اس لئے شاہزیب کے لئے گولڈن چانس تھا اس نے فورا سے ہامی بھر لی ۔۔۔
اس کوچنگ کے ساتھ اسے چانس بھی وہاں موجود لڑکوں کے وہاں آنر لگا دیتا تھا وہاں کے ہیڈ نے بھی شاہزیب کو بھجوانے کا ایڈوانس لے لیا تھا ۔۔۔ اور شخص آدھے پیسے خود رکھتا تھا اور آدھے شاہزیب کو دیتا تھا ۔۔۔۔
لیکن جب جانے کا ٹائم آیا تو کمپنی کا نام سن کر شاہزیب کچھ پل چپ سا ہو گیا تھا ۔۔۔۔ وہ رانا بختیار کی کمپنی تھی ۔۔۔۔
” ایسا کریں نذیر صاحب۔۔۔۔ آپ کسی اور کو بھیج دیں ” شاہزیب کے انکار پر وہ دنگ ہوئے تھے
” کیوں بھیج دوں کسی اور کو آج صبح ہی تو تم سے پوچھ کر میں نے کنفرم کیا ہے۔۔۔۔۔ اور یہ کام تم ہی کر سکتے ہو ۔۔۔۔ شاہزیب میں ایڈوانس لے چکا ہوں اور اس کمپنی میں کام کرنا تمہارے لئے بہت بڑا ایڈوانٹیج ہے ۔۔۔۔جتنے تمہیں دوسری کمپنیوں سے ملتے ہیں اس سے ۔پیسے بھی ڈبل ملیں گئے بس اب کوئی ایکسکیوز نہیں سننا مجھے تم جاؤں میں رانا بختیار کو کہہ چکا ہوں کہ میرا امپلوائے پہنچ جائے گا ۔۔۔۔ ” شاہزیب کچھ دیر تو ماتھے پر بل ڈالے چپ رہا ۔۔۔ اب ہر ایک کو کیا جواز بتاتا پھرتا اس لئے وہاں چلا گیا لیکن رانا صاحب سے ملنے کے بجائے بس ان کے سکریٹری سے ہی ملا تھا ۔۔۔ سب ہی جانتے تھے شاہزیب اور رانا صاحب کا رشتہ کیا ہے
” سر آپ آئیے ۔۔۔۔ بختیار صاحب تو میٹنگ میں بزی ہیں آپ میرے آفس میں بیٹھ جائیں جب تک وہ فری نہیں ہو جاتے آپ ٹھنڈا وغیرہ لین میں سر کو پیغام دیتا ہوں ” وہ تو اپنی سیٹ سے کھڑا ہو کر ملا تھا ۔۔۔۔
” نہیں رہنے دو اسکی ضرورت نہیں ہے مجھے نذیر صاحب نے بھیجا ہے اس کمپنی کے کیمروں اور کمپوٹر اٹچمنٹ کے ایشو کو ٹھیک کرنے کے لئے۔۔۔۔ اس لئےمجھے بس یہ بتا دیں کہ اشیو کہاں ہے ” شاہزیب۔ کے آنے کا مقصد جان کر وہ شخص چپ سا ہو گیا کچھ متذبذب سا بھی کہ مالک کے اکلوتے داماد سے یہ تھرڈ کلاس کام کروائے بھی کے نہیں کہیں مالک غصے سے نوکری سے فارغ ہی نا کر دے
اس لئے اس نے پہلے رانا بختیار کو کال کی لیکن وہ میٹنگ کے دوران تفصیل سننے کے عادی نہیں تھے
اس لئے ۔۔۔۔ بس یہی سنا نذیر نی شخص نے اپنا آدمی بھجوا دیا ہے لیکن اس سے پہلے وہ اس آدمی کا پوراتعارف کرواتا
رانا صاحب نے یہ کہہ کر” کام کروا اس سے ان چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے مجھے ڈسٹرب مت کیا کرو “۔۔۔۔
یہ کہہ کر رانا بختیار نے فون بند کر دیا فون بند کر دیا وہ شخص شاہزیب کو کمپوٹر ڈپاٹمنٹ کے ہیڈ کے پاس لے گیا ۔۔۔۔۔ چار گھنٹوں کا کام اس نے ایک گھنٹے میں کر دیا تھا ۔۔۔۔۔ ایسے ایشوز اس کے لئے معنی نہیں رکھتے تھے ۔۔۔۔ کام بھی تسلی بخش ہوا تھا ۔۔۔۔
رانا صاحب کی میٹنگ بھی ختم ہو چکی تھی ۔۔۔
اسکے بعد ہی انکے سیکٹری نے انہیں شاہزیب کے بارے میں بتایا تھا ۔۔۔۔ کچھ پل تو انہیں سخت خفت نے آن گھیرا ۔۔۔۔۔ شاہزیب کے ساتھ ساتھ نیناں پر بھی غصہ آیا تھا نا جانے اب کس کس کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے گا بیٹی کی احمکانہ محبت کی وجہ سے ۔۔۔۔ جس شخص کے ساتھ کام کرنا لوگ ایک اعزاز کی بات سمجھتے تھے اسی کا داماد یہاں معمولی سا کیمرے اور کمپوٹر کی مکینکی کرنے آیا ہے وہ بھی چند ہزار کے عوض ۔۔۔۔
بختیار صاحب کا رگوں میں خون ابلا تھا ۔۔۔۔
” مجھ سے پوچھ نہیں سکتے تھے ۔۔۔۔ “
” سر میں نے آپ کو بتانا چاہا تھا لیکن “
“او شث اپ ۔۔۔۔۔ اسے میرے روم میں بھجو ۔۔۔۔ آئندہ اگر میرے داماد کے ساتھ یہ سلوک میرے آفس میں ہوا تو نوکری سے چھٹی سمجھنا اپنی ۔۔۔۔ ” کرخت لہجے سے رانا بختیار یہ کہتے ہوئے اپنے روم میں چلے گئے سگریٹ کی ڈبیہ اٹھا کر سگریٹ منہ میں ڈالے پینے لگے ۔۔۔ کچھ دیر بعد مجبورا ہی لیکن شاہزیب کو اس کا سامنا کرنا پڑا ۔۔۔۔ بنا دستک بنا اجازت طلب کئے وہ اندر داخل ہوا تھا ۔۔۔۔ بلو چینز کی پینٹ پر بلیک ٹی شرٹ ۔۔۔۔ پہنے۔ ہلکی سی بڑھی ہوئی شیو اور شرٹ پر جگہ جگہ مٹی کے نشانات سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ وہ۔ دیواروں پر لگے خفیہ کیمروں کی مرمت بھی خود کر چکا ہے ۔۔۔
،شرم کے مارے چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا کسے کہتے ہیں یہ اس وقت کوئی رانا بختیار سے
پوچھتا ۔۔۔۔ شاہزیب کام بے شک نوکروں والا کر کے آیا تھا لیکن اندر داخل ہونے کا انداز وہی شاہانہ تھا ۔۔۔۔
کسی ملازم کی طرح نا دستک دی تھی نا آنے کی اجازت لینا ضروری سمجھا تھا نا ہی بس ادب ڈر جھکائے کھڑا ہوا تھا ۔۔۔۔ آکر ویسے ہی بنا پوچھے کرسی گھسیٹ کر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر ان کے سامنے بیٹھ گیا
” جی رانا صاحب ۔۔۔۔ فرمائیے ” وہ بے پروا سا انداز جو بختیار صاحب کی رگوں میں فشار خون کو بڑھانے کے لئے کافی تھا
” تمہیں یہاں سب میرے داماد کی حیثیت سے جانتے ہیں ۔۔۔۔ اپنی نہیں تو کم از۔ میری عزت کا تو خیال رکھ سکتے ہو “
” ۔۔۔۔ رانا صاحب میری بھی مجبوری میں زبان کر چکا تھا نذیر صاحب ۔۔۔۔ آپ تو جانتے ہیں کہ شاہزیب زمان کے لئے اسکی دی گئ زبان کی کتنی اہمیت ہے ۔۔۔۔ ایک بار وعدہ کر لے پورا کرنے کے لئے کسی بھی حد سے گزر سکتا ہے یقین نا آئے تو گھر۔ جا کر نیناں سے پوچھ لیجیے گا ۔۔۔۔ ” شاہزیب سے ہمیشہ بات کرنے کے بعد وہ خود کو ملامت کی کرتے تھے سامنے رکھی اپنی چیک بک کو پکڑے ایک چیک بنا کر سائن کیا اور شاہزیب کے سامنے رکھ دیا
” یہ تمہاری محنت کا معاوضہ ۔۔۔۔ “۔ شاہزیب نے ہاتھ نہیں لگایا تھا بس ایک نظر اس ڈالی چیک پانچ لاکھ کا تھا ۔۔۔
” میرا طے شدہ معاوضہ پینتیس ہزار تھا ۔۔۔۔ باقی چار لاکھ پینسٹھ ہزار کا شاید آپ مجھ پر احسان کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔ جو مجھے ہر گز منظور نہیں ۔۔۔ میں آپ سے اپنا معاوضہ اس وقت ضرور لیتا جب میرا آپ سے کوئی تعلق کارشتہ نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔ لیکن آپ میری بیوی کے والد ہیں رانا صاحب ۔۔۔۔۔ اتنی رشتے داری نبھانا تو میری بھی مجبوری ہے ۔۔۔۔ یہ چیک اٹھا لیں ۔۔۔ بہت شکریہ ” یہ کہہ وہ کھڑا ہو ہو گیا
” دو منٹ بیٹھوں شاہزیب مجھے تم سے بات کرنی ہے ” رانا بختیار کو اندازہ تھا کہ وہ طے شدہ معاوضے سے ایک روپیہ اوپر نہیں لے گا لیکن وہ تو معاوضہ نا لیکر اپنا احسان رانا بختیار پر کر رہا تھا ۔۔۔۔ چپ چاپ دوبارہ سے کرسی پر بیٹھ گیا
” دیکھوں جو ہو چکا بہتر ہے ہم دونوں اسے بھلا کر آگے بڑھ جائیں ۔۔۔۔ ” کچھ دیر وہ انہیں دیکھتا رہا پھر گہری سانس خارج کر کے بولا
” ٹھیک ہے بھلا دیا ۔۔ بڑھ گیا آگے ۔۔۔۔ اور کچھ “
” دیکھوں شاہزیب نیناں میری اکلوتی بیٹی ہے۔۔۔۔ میرا جو کچھ بھی ہے وہ اسی کا ہے ۔۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ تم میرا آفس جوائن کر لو ۔۔۔۔ ایک اچھی لائف گزارو جیسا گزارنے کا حق ہے “
” میں اب بھی بہت اچھی لائف گزار رہا ہوں رانا صاحب ۔۔۔۔ آپ کی آفر کا بہت بہت شکریہ ۔۔۔ لیکن مجھے یہ قبول نہیں ” یہ کہہ کر وہ کھڑا ہو گیا ۔۔۔
” مجھے پھر بھی تمہارا انتظار رہے گا شاہزیب “
” مجھے افسوس ہے رانا صاحب کہ آپ کا انتظار ہمیشہ انتظار لاحاصل ہی ثابت ہو گا ۔۔۔ ” یہ کہہ وہ کمرے سے نکل گیا ۔۔۔ رانا بختیار اس کے سامنے خود کو بے سب سا محسوس کرنے لگتے تھے ۔۔۔۔ اسکی باتیں ان کے اندر آگ سی سلگا دیتی تھیں ۔۔۔۔۔
******……..
نیناں کو سوا مہنے بعد ہی واپس لوٹ کر سسرال جانا تھا ۔۔۔۔
اور بختیار صاحب کا بچوں سے ایسا دل لگا تھا کہ واپس بھجتے ہوئے آبدیدہ سے ہو گئے تھے ۔۔۔۔
اور وہاں دادا دادی بچوں کی آمد کاسن کر بے تابی سے انتظار میں پلکیں بچھائے بیٹھے تھے ۔۔۔۔۔
بختیار صاحب کو بچوں کے لئے ڈھیر ساری شاپنگ کرنے کاارادہ کیے بیٹھے تھے لیکن نیناں نے منع کر دیا تھا ۔۔۔۔ کہ۔اسکے گھر اور کمرے میں اتنی جگہ نہیں ہے۔۔۔۔ بختیار صاحب کلس کے رہ جاتے تھے ۔۔۔ اتنی تنگ زندگی انکی اکلوتی بیٹی گزار رہی تھی اس لئے آج تو پھٹ ہی پڑے
” شاہزیب سے بات کرو نیناں۔ وہ چھوڑ دے یہ در در کی ٹھوکریں کھانی اور میرے آفس کو جوائن کر لے
پچھلی باتوں کو بھول جائے ۔۔میں۔بھی بھلانے کو تیار ہوں ۔۔۔۔ میں تمہیں ایک لگژری لائف دے سکتا ہوں ۔۔۔ بے شک تمہارے سسرال والے بھی ساتھ رہ لیں مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔ اب بچوں کا ساتھ ہے نیناں انکے بارے میں سوچو ۔۔۔۔ کیا ماحول اپنائے گئے بچے اس تھرڈ کلاس علاقے میں رہ کر جہاں بات تک کرنے کا انداز عجیب و غریب ہے ” ایک نئ سوچ کی طرف بختیار صاحب نے نیناں کی سوچ مبذول کروائی تھی
” پوپس وہ نہیں مانے گئے۔۔۔۔ ” نیناں نے افسردگی سے کہا شاہزیب۔ کے مزاج کو اچھی طرح سمجھتی تھی
” کیوں نہیں مانے گا ۔۔۔۔ محبت کیاصرف تم نے تھی جو اسکے گھر اور تنگ ماحول میں ایک سزا کی طرح زندگی گزار رہی ہو ۔۔۔ کیا وہ تم سے محبت نہیں کرتا؟ یا تمہاری محبت میں اپنی ضد نہیں چھوڑ سکتا ۔۔۔۔ اسے کہو ۔۔۔۔ بلکہ اسے مجبور کرو اس بات پر کے میرا آفس جوائن کرے ۔۔۔۔۔
میں اسے ایک تابناک مستقبل فراہم کر سکتا ہوں ۔۔۔۔ عیش وعشرت کی زندگی دے سکتا جہاں اسکی رسائی عمر بھر نہیں ہو سکتی
” پوپس وہ نہیں مانے گا ۔۔۔۔ پلیز آپ اس بات کو چھوڑ دیں ” ۔۔۔۔ اس ایک سال میں شاہزیب نے اب تک ایک پائی بھی رانا بختیار کی استعمال نہیں کی تھی ۔۔۔۔ بہت مشکل تھا کہ وہ اس بات پر ہامی بھرتا اب تو ضرورتوں کے ساتھ ساتھ اپنی ڈیوٹی بھی بڑھا لی تھی ۔۔۔۔۔ لیکن کبھی نیناں سے یہ نہیں کہا تھا کہ اپنے والد سے کچھ مانگے
نیناں اس بار ایک نئ سوچ لیکر رانابختیار کے گھر سے سسرال آئی تھی ۔۔۔۔ بے شک شاہزیب سے ذکر نہیں کر سکی تھی ۔۔۔۔ لیکن خود ضرور سوچنے لگی تھی کہ محبت کی آزمائش صرف وہی کیوں دے رہی ہے ۔۔۔۔۔۔ پھر کون یہ نہیں چاہتا کہ اس کے بچے ہر سہولت سے آراستہ ہوں ۔۔۔ اورخسیک اچھے ماحولیں پرورش پائیں اس بار معاملہ بچوں کا تھا یہ بات تو سچ تھی
کیا مستقبل تھا اسکے بچوں کا یہاں کے چھوٹے چھوٹے بند فلٹس میں ؟ ۔۔۔۔۔ ہر ضرورت کے لئے ترستے رہنا ۔۔۔۔ جیسے وہ ایک سال سے ترس رہی تھی ۔۔۔۔
ہر بار شاہزیب اسے پیار سے یہ کہہ کر ڈال دیتا تھا کہ
“نیناں اگلی بار لے دوں گا یار ۔۔۔۔ ابھی یونہی گزارا کر لو ” جس محبت اور لگاوٹ سے وہ کہتا نیناں بول ہی نہیں پاتی تھی ۔۔۔۔ اپنی ضرورتوں کو ہی کم کر دیتی تھی ۔۔۔۔۔ ایک دوفعہ پہنا جوڑا اس نے دوبارہ کبھی دہرایا نہیں تھا لیکن یہاں شادی پر بنائے گئے چند casual جوڑے اس نے پورے سال پہنے تھے ۔۔۔۔ رات بھر وہ انہیں باتوں پر غور کرتی رہی
گھر جا کر سب ہی اسے محبت سے پیش آ رہے تھے ۔۔۔۔ بچوں کے ساتھ بھی پیار محبت میں کمی نہیں تھی ۔۔۔۔ شاہزیب کے سمسٹر کے پیپر ہونے والے تھے ۔۔۔۔
دونوں بچے اب رات میں نیناں کو تنگ کرنے لگے تھے ۔۔۔۔ اکثر وہ رات میں سوتے ہی نہیں تھے ۔۔۔ نیناں ہزار جتن کرتی رہتی لیکن فجر کی اذان سے پہلے مجال تھی کہ وہ آنکھ بند بھی کر لیں شاہزیب تو رات کو ہی انکے شور سے بیزار ہوتے ہوئے تکیہ اٹھاتااور لاونج میں چلا جاتا تھا ۔۔۔ ایک تو پیپرز کی تیاری پھر آفس کی ذمہ داری
لیکن چند دن میں نیناں کی ہمت جواب دے گئ تھی ۔۔۔۔ شاہزیب اپنی چند کتابیں لینے کمرے میں آیا تھا ۔۔۔۔ نیناں نیند سے بوجھل آنکھیں لئے جاگنے کی کوشش میں نیند میں جھٹکے کھا رہی تھی وہ دونوں بچے یوں ہشاش بشاش تھے جیسے دن چڑھا ہو ۔۔۔۔ کچھ پل نیناں کو یوں بے حال دیکھ اسے ترس سا آنے لگا تھا ۔۔۔۔ کتابیں باہر رکھ وہ پھر سے کمرے میں آگیا ۔۔۔ پھر نیناں کا شانہ ہلایا تووہ چونک کر اٹھ بیٹھی
” تم سو جاؤ۔ نیناں ان دونوں کو میں باہر لے جاتا ہوں میں تو جاگ ہی رہا ہو پیپر کی تیاری کرنی ہے ۔۔۔۔ بس انکے فیڈر مجھے تیار کر کے دیدوں ۔۔۔۔ بھوک لگے گی تو پلا دونگا ” نیناں کو بھلا کیا اعتراض ہو سکتا تھا
نیناں نے جلدی سے ان کے فیڈر بنا کر شاہزیب کے حوالے کیے تھے اور لیٹ گئ ۔۔۔ کافی دیر شاہزیب ساتھ ساتھ پڑھتا رہا ساتھ ہادی اور سعدی کو بہلاتا رہا ۔۔۔۔ ۔۔۔۔
فجر سے پہلے ان دونوں کو باری باری فیڈر پلا کر سلا رہا تھا عاتقہ بیگم فجر پڑھ کر ۔۔۔ باہر آئیں تھیں ۔۔۔ شاہزیب ہادی کو سلا کر چھوٹی سی کاٹ میں ڈال چکا تھا اب گود میں سعدی کو ڈالے فیڈر پلا رہا تھا ۔۔۔ کچھ پل عاتقہ بیگم شاہزیب کو دیکھتیں رہیں پھر سوچنے لگی کہ ان کا لاپروا سا شاہزیب
اب ذمہ دار ہو چکا ہے ۔۔۔۔۔ عاصم کے ساتھ سوتے ہوئے اسے ہوش ہی کہاں نہیں ہوتی تھی کہ عاصم کے اوپر سے اترے ہوئے لحاف کو ہی دوبارہ اوڑھا دے
عاتقہ بیگم ہی بار بار آ کر عاصم کو دیکھنے آتی تھیں ۔۔۔۔ عاصم کے ساتھ ساتھ شاہزیب کو بھی لحاف اوڑھا دیتی تھیں ۔۔۔ اور آج اپنے بچے کو گود میں لئے فیڈر پلا رہا تھا ۔۔۔ کاٹ ۔میں لیٹے ہادی پر اچھے سے کمبل دیا ہوا تھا ۔۔۔۔ وہ فرحت محبت سے اس کے پاس آ کر بیٹھ گئیں ۔۔۔
” سو گیا ہے ” عاتقہ بیگم نے شاہزیب کے پاس۔ یٹھ کر دھیرے سے پوچھا لیکن شاہزیب نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر انہیں چپ رہنے کا اشارہ کیا
” ششش !چپ امی بڑی مشکل سے سویا ہے اٹھ گیا تو پھر پتہ نہیں کب سوئے گا ۔۔۔۔ ” وہ بنا آواز کے بولا بلکل دھرے سے
” پکی نیند جا چکا ہے اب نہیں اٹھے گا ۔۔۔ لاؤں دو مجھے میں کمرے میں لیٹا دوں ۔۔۔۔ ” عاتقہ بیگم نے سعدی کو شاہزیب کی گود سے لیا اور کمرے میں گہری نیند سوئی نیناں کے پاس لیٹا دیا ۔۔۔ شاہزیب نے ہادی کو بھی کاٹ سمیت کمرے کے بیڈ پر رکھا تھا اور کبڈ سے اپنے کپڑے نکال کر باہر آ گیا ۔۔۔
استری اسٹینڈ پر کھڑا شرٹ استری کرنے لگا تھا کہ جب عاتقہ بیگم اسکے پاس آ گئیں
” لاو اسے مجھے دو میں استری کر دیتی ہوں۔ ۔۔ “
” نہیں امی میں کر لو گا ۔۔۔ “
” یاد ہے تمہیں ۔۔۔۔شادی سے پہلے کبھی ایک رومال بھی تم نے استری نہیں کیا تھا ” عاتقہ بیگم نے پیار بھری تھپکی لگا کر کہا
” ہمیشہ شازی اور نمی کی شامت لاتے تھے ۔۔۔ ایک افتاد سی مچا دیتے تھے
” شازی کی بچی ابھی تک شرٹ نہیں استری ہوئی تم سے ۔۔۔ سسرال میں جا کر تائی اماں کے جوتے کھاؤں گی ” استری شاہزیب کے ہاتھ سے لیکر عاتقہ بیگم اس کی شرٹ استری کرتے ہوئے پرانی باتیں دہرانے لگیں شاہزیب کو بھی جیسے وہ وقت یاد آیا تھا کیسے دھمکا کر وہ سارے کام شازمہ سے کرواتا تھا
” ہاں یہ تو ہے امی ۔۔۔۔ شازی کو سب سے زیادہ میں نے پریشان کیا ہے “
” ہاں بس نمی کے لاڈ اٹھائیں ہیں ” عاتقہ بیگم نے شرٹ اسکے ہاتھ میں تھمائی
ذ” تم تیار ہو جاؤں اور بتاؤں ناشتہ کیا کرو گئے “
” کچھ بھی بنا دیں امی ۔۔۔۔ بس دعا کیجے گا ۔میرا پیپر اچھا ہو جائے ۔۔۔ اب واپس آ کر ہی لمبی تان کر سوں گا ” نیند سے بوجھل آنکھوں سے کہہ کر وہ کمرے میں چلا گیا ۔۔۔
عاتقہ بیگم شاہزیب کے بارے
میں سوچنے لگیں
پہلے تو دال سبزی پر منہ پھلائے پھرتا تھا ۔۔۔ اور اب جو سامنے ہوتا چپ چاپ کھا لیتا تھا ۔۔۔۔ محنت بھی انتھک کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔ زندگی کی اول حقیقت سے تو اب آشنا ہوا ہے
*****…..
عاصم رباب کو اچھی طرح سے پہچانتا تھا کہ وہ باسم کی بہن ہے ۔۔۔ اس حوالے سے وہ کلاس میں اسے اپناتعادرف بھی کروا چکا تھا
لیکن رباب نے کوئی خاص توجہ نہیں دی تھی ویسے بھی اسکی اپنی ایک گیدرنگ تھی ۔۔۔ پانچ چھ لڑکیوں کاایک گروپ تھااور پوری کلاس میں وہ سب ہی پڑھنے میں اچھی تھیں بہت جلد اساتذہ کی نظروں میں اپنا مقام بنا چکیں۔ تھیں ۔۔۔
دوست توعاصم کے بھی اچھے تھے ۔۔۔ ان کے گروپ کے دو لڑکے پڑھنے میں بہت ذہین بھی تھے لیکن باقی ذرا اوسط نمبر والے ہی تھے ۔۔۔۔ رمیز کا شمار بھی ذہین لڑکوں میں ہوتا تھا
عاصم اکثر اسی کے بنائے ہوئے نوٹس کاپی کرتا تھا ۔۔۔۔ اپنے ما ں باپ کاایک کی ایک بیٹا تھا اور دو بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا ۔۔۔۔ وہ کالج اپنی بائیک پر ہی آتا جاتا تھا ۔۔۔۔ اور بھی ذیادہ تر لڑکے بائیک پر ہی کالج آتے جاتے بس ایک عاصم ہی تھا جو شاہزیب کے ساتھ کالج پہنچتا تھا ۔۔۔۔۔ اس کے دوست اکثر اس۔ بات پر اس کا مزاق اڑاتے تھے ۔۔۔۔
٫
” کالج میں آ گئے ہو تم اب تو بھائی کا پیچھا چھوڑ دو ۔۔۔ لڑکیوں طرح بھائی کو شانے سے پکڑے یہاں پہنچتے ہو ۔۔۔۔ ایک ہمیں دیکھوں بنداس گھومتے پھرتے ہیں سڑکوں بائیک لیے ۔۔۔۔ ” شامیر نے کالر اوپر کرتے ہوئے اترا کر کہا ۔۔۔ عاصم نا جانے کیوں شرمندہ سا ہونے لگا تھا ۔۔۔۔
جب بھی۔ شاہزیب اسے کالج چھوڑتا عاصم کے دوست بھی اسی وقت اپنی بائیک کے باہر پارکنک ایریا میں بائیک کھڑی کرتے ہوئے اسے استزائیہ انداز سے ہسنتے ہوئے دیکھ رہے تھے اور وہ بیوقوفوں کی طرح انکا منہ تک رہا ہوتا ۔۔۔
” شاہو بھائی پچاس روپے اور دو ” شاہزیب نے اسے کالج اتار کر جیب سے پچاس کا نوٹ نکال کر دیا ۔۔۔۔ توعاصم نے وہ ہاتھ میں لیتے ہوئے اور پیسے مانگے
” کس خوشی میں ۔۔۔۔ پچاس کم نہیں ہوتے “
” اس سے ملتا کیا ہے ۔۔۔۔ ” عاصم نے کوفت سے منہ بنایا تھا کچھ دیر شاہزیب نے عاصم کو دیکھا ۔۔۔ وہ ہیلتھی سا تھا ۔۔۔۔ کچھ پیٹ کی تون بھی نکلی ہوئی تھی اور چلتا بھی خود کو ڈھلا ڈھالا کر کے تھا
” ہاں واقعی پچاس سے تمہارا کیا بنے گا ۔۔۔ تمہیں تو پانچ سو کا نوٹ روز دینا چاہیے ۔۔۔۔ حالت دیکھی ہے کبھی اپنی ۔۔۔۔۔ تمہاری عمر میں تم سے ادھا وزن تھا میرا ۔۔۔ اور تم دیکھوں خود کو ۔۔۔۔ تم کہیں اور تمہارا پیٹ کہیں جا رہا ہے ۔۔۔۔ موٹا بلا چشماٹو ۔۔۔۔ بس کھانے پر زور ہے ” شاہزیب نے پچس روپے تو اور نہیں دیے اچھا خاصا لیکچر ضرور دے دیا ۔۔۔
” اسلام علیکم شاہزیب بھائی ” پیچھے سے رباب کی آواز پر شاہزیب۔ کے ساتھ عاصم نے بھی اسے پلٹ کر دیکھا تھا جو اپنی ہنسی ضبط کر رہی تھی
شاید شاہزیب کی باتیں سن چکی تھی
“واعلیکم السلام۔۔۔۔ آپ کون ” شاہزیب نے رباب سے کو پہچانا نہیں تھا
” میں رباب۔۔۔ باسم بھائی کی چھوٹی بہن ” رباب نے اپنا تعارف کروایا
” اوہ ۔۔ اچھا اچھا ۔۔۔۔ یاد آ گیا ۔۔۔۔ ماشاءاللہ سے تم تو بہت بڑی بڑی سی لگنے لگی ہو ۔۔۔ میری ذہن میں تو اب بھی وہی چھوٹی سی روبی ہی تھی ۔۔۔ یہاں ۔۔۔” شاہزیب۔ اسے پہچان کر مسکرا کر بولا
پھر کالج کی طرف اشارہ کیا
” میں بھی یہی۔ پڑھتی ہوں عاصم کی کلاس میں ہی ہوں ۔۔۔ “
” اوہ گڈ ۔۔۔ اچھی بات ہے ۔۔۔۔ کبھی آنا باسم کے ساتھ گھر پر ۔۔۔ باسم تو نا بھابی کو لاتا ہے نا اپنی امی اور تمہیں ۔۔ ۔۔ “
” آپ بھی تو کبھی نہیں آئے ۔۔۔۔ بس ایک بار ہی آئے تھے ۔۔۔ نیناں آپی سے نکاح کرنے کے لئے ” رباب کے یاد دلانے پر شاہزیب ہسنے لگا
” ہاں ۔۔۔ تمہیں ابھی تک یاد ہے سب ۔۔۔ “
” جی ہاں میں اتنی بھی چھوٹی نہیں تھی “
” ہاں یہ تو ہے آؤں گا کسی دن اور نیناں اور بچوں کو بھی لاؤں گا ۔۔۔ اب چلتا ہوں آفس سے لیٹ ہو رہا ہو ” شاہزیب۔ نے
گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
” جی کیوں نہیں ” رباب یہ کہہ کر کالج کے اندر جانے لگی اسکے ساتھ اسکی ایک دو کلاس فیلو بھی تھیں
” روبی یہ تمہارے رشتے دار ہیں ” ان میں سے ایک لی نے پوچھا
” یہی سمجھ لو “
” عاصم کے بھائی تو بڑے سمارٹ اور ڈیشنگ ہیں
یہ موٹا کس پر گیا ہے ” رباب کی ایک دوست نے عاصم کی ہیت پر چوٹ کی تھی
” موٹا نہیں سمرا۔۔۔۔ موٹا ۔۔۔ بلا ۔۔۔۔ چشماٹو ” رباب نے ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہا تھا اس کے بعد کھلکھلا کر ہسنے لگی
عاصم انکے پیچھے ہی تھا یہ سب سن کر غصے سے طیش میں آ گیا لیکن اسے کچھ نہیں کہہ سکا آخر اسکے استاد کی بہن تھی ۔۔۔ پورا دن وہ غصے سے دل جلاتا رہا واپس گھر آ کر عاصم نے اپنا بیگ غصے سے صوفے
پر پھنکا اور کچن میں چلا گیا ۔۔۔ نیناں پہلی بار روٹی بنانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔
روٹی چار بار بھی بیلنے کے باوجود گول نہیں کو پا رہی تھی حالانکہ روز عاتقہ بیگم کو بڑی سبک رفتاری سے روٹیاں بیلتے اور پکاتے دیکھتی تھی ۔۔۔ اس لئے سوچا کہ آج دن میں کوشش کرے اور رات کو شاہزیب کو اپنے ہاتھ سے گول روٹی پکا کر دے ۔۔۔
لیکن چار بار کوشش کرنے کے بعد بھی روٹی گول نہیں ہوئی تواس نے ترکیب۔ لڑائی کچھ سوچنے کے بعد روٹی بیل اس پر گول پلیٹ الٹی کر کے رکھ کنارے چھڑی سے کاٹ کر بلا آخر گول روٹی بیلنے میں کامیاب ہو ہی گئ تھی پہلے اپنی کامیابی پر دل کھول کر مسکرائی
ابھی وہ توے پر ڈالنے کاسوچ ہی رہی تھی کہ عاصم دندناتا وہاں وہاں پہنچا تھا ۔۔۔
” نیناں آپی ۔۔۔ مجھے ایک بتائیں میں آپ کو کیسا لگتا ہوں ” عاصم کے تپے ہوئے لہجے پر نیناں نے روٹی پکڑنے کے بجائے عاصم کی طرف دیکھا ۔۔۔ جو غصے میں لگ رہا تھا
” اچھے لگتے ہو بھولے بھالے ہو کیوٹ سے ہو ۔۔۔ کیوں ؟ “
” تو پھر باقی سب لوگوں کو موٹا بلا کیوں لگتا ہوں کیا میں موٹا ہوں نیناں آپی ؟” عاصم کی بات سن کر نیناں نے اسے سر سے پیر تک دیکھا
” ہاں عاصم تمہارا شمار موٹو میں ہوتا ہے ۔۔۔ لیکن پھر بھی تم مجھے بڑے پیارے لگتے ہو ” اس نے لاڈ سے اسکے سر کے بال بکھیر کر کہا
” آپ اپنی بات چھوڑیں ۔۔۔ پہلے مجھے یہ بتائیں کہ شاہو بھائی اور مجھ میں کون ذیادہ پیارا لگتا ہے ‘ اس بار نیناں چپ ہوئی تھی ۔۔۔۔
” تم بھی بہت اچھے معصوم سے ہو عاصم لیکن ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر نیناں چپ ہو گی
” مطلب وہ مجھ سے ذیادہ سمارٹ ور ڈیشنگ ہیں “عاصم کے استفسار پر نیناں شرمگیں سی مسکان سجائے اثبات میں سر ہلا گئ عاصم رو دینے کو تھا
” نیناں آپی میں سمارٹ اور ڈیشنگ کیسے ہو سکتا ہوں “
” تم اپنی ڈائٹ پر توجہ دو “
” اس سے میں بلکل فٹ فاٹ ہو جاؤ گا ؟ ” عاصم نے پر امید سا ہوا تھا
” ہاں ہو جاؤں گئے ۔۔۔ اب پلیز جاؤ یہاں سے
مجھے روٹی بنانے دو ” نیناں عاصم سے باتوں لگ گئ تھی اسوجہ سے توا جل جل کر اچھا خاصا تپ چکا تھا ۔۔۔۔
جیسے ہی نیناں نے روٹی توے پر ڈالی روٹی کے ساتھ ہاتھ بھی توے پر چپکا تھا توا اسقدر تیز گرم تھا کہ روٹی کے ساتھ نینان کا ہاتھ۔ بھی جلا گیا تھا ۔۔۔ پل میں وہ چیخ کر پیچھے ہٹی تھی ۔۔۔۔ عاصم نے فورا سے چولہا بند کیا تھا عاتقہ بیگم
جو کمرے میں تھی نیناں کی چیخ سن کر بھاگ کر کچن میں آئیں تھی۔ نیناں تو تڑپ سی گئ تھی پوری ہتھیلی سرخ ہو گئ تھی روئے جا رہی تھی عاصم اس کا ہاتھ پکڑے پھونکیں مار رہا تھا
” کیا ہوا نیناں ” عاتقہ بیگم نے فوراسے اس کا ہاتھ دیکھ کر پوچھا
” امی ۔۔۔ میرا ہاتھ جل گیا ہے ” وہ روتے ہوئے بولی
” ہائے ہائے کیسے جل گیا ہاتھ ۔۔۔ “
” امی نیناں آپی روٹی پکا رہیں تھیں ” اس بار عاصم نے جواب دیا
” دیکھاوں ادھر ۔مجھے اپنا ہاتھ ۔۔۔کس نے کہا تھا کہ گرم پکتے توے پر روٹی ڈالو ۔۔۔ ” عاتقہ بیگم خود پریشان ہوگئیں تھیں ۔۔۔۔ نیناں کی پوری ہتھیلی جل گئ تھی ۔۔۔۔
” افف توبہ ہے نیناں ۔۔۔ دیکھوں تو کیساسرخ ہو گیا ہے ہاتھ ۔۔۔ عاصم جا میرا بچہ جلدی سے ٹوتھ پیسٹ لیکر آؤ واش روم سے ۔۔۔ ” عاتقہ بیگم نے نیناں کی کلائی پکڑ رکھی تھی اور وہ جلن اور
تکلیف بے حال ہو رہی تھی ۔۔۔۔ عاصم جلدی سے ٹوتھ پیسٹ لے آیا
عاتقہ بیگم نے اس کے پیسٹ لگا دی ۔۔۔
” بس تھوڑی دیر میں سکون ہو جائے گا ۔۔۔ ” لیکن نیناں کی بے کلی میں کمی نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔۔
وہ روئے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔
” مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا ہے امی ” ایسی جلن تھی کہ اس کے آنسوں نہیں رک رہے تھے ۔۔۔ درد کو برداشت کرنے سے ہونٹ سفید سے پڑ گئے تھے تو رو کر حلق بھی خشک کو گیا تھا
” جاؤں عاصم بہن کے لئے فریج سے ٹھنڈا دودھ لیکر آؤں ۔۔” عاصم ماں کی بات سن کر فورا سے دودھ کا گلاس بھر لایا
“بیٹا تمہیں کہا کس نے تھا یہ سب کرنے کو ۔۔۔۔ “
” وہ شاہزیب ۔۔۔۔۔۔” بے تحاشہ رونے کی وجہ سے وہ بے ربط سے ادھورے سے جمعلے بول پا ہی تھی ۔۔۔۔
کہنا یہ چاہتی تھی کہ شازیب کے لئے روٹی بنانا سیکھنا چاہتی تھی ۔۔۔ لیکن جلن کی شدت سے بات نہیں ہو پارہی تھی
” ایک تو لڑکا بھی نا۔۔۔۔ آنے دو اسے ” نیناں کا ہاتھ کچھ زیادہ ہی جل گیا تھا ۔۔۔ رات تک بھی جلن کم نہیں ہوئی تھی ۔۔۔ نا نیناں کارونا بند ہوا تھا ۔۔۔ شاہزیب تو دیر سے آتا تھا لیکن زمان صاحب شام کو ہی گھر پہنچ جاتے تھے اس لئے نیناں کو ڈاکٹر کے لے گئے ۔۔۔۔
انجکشن نے کچھ تکلیف کو کم کیا تھا ۔۔۔ رات کو جب شاہزیب تھکا ہارا گھر لوٹا نیناں کے ہاتھ دیکھ کر پریشان ہوا۔ تھا ۔۔۔۔
کھانے کے ٹیبل پر بھی وہ بیٹھی سسکیاں لے رہی تھی ۔۔۔ عاتقہ بیگم اسے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلا رہیں تھیں ساتھ ساتھ شاہزیب کو گھور رہیں تھیں جو ہر بات سے انجان اس وقت اپنی نازک سی بیوی کے جلے ہوئے ہاتھ کو دیکھ کر ہو رہا تھا
” تم مجھے بتاؤں شاہزیب کیا تمہیں کھانے کو روز روٹی نہیں ملتی جو تم نے بہو کو روٹی سیکھنے کا مشورہ دیا تھا ۔۔۔ ” عاتقہ بیگم بات پر وہ اچھنبے میں آیا تھا
” میں نے ۔۔۔۔ میں نے کب کہا ” اس نے حیرت سے نیناں کو دیکھا تھا ۔۔۔ پہلے تو نیناں تکلیف سے بول نہیں پا رہی تھی اور اب موقع کی نزاکت کچھ ایسی ہو گئ تھی کہ چپ رہی ورنہ جھوٹی وہی پڑتی ۔۔۔۔
” بس بھی کرو تم ۔۔۔ میں نے کب کہا ۔۔۔۔ ہر وقت تو اسکے پیچھے پڑے رہتے ہو امی سے یہ بنانا سیکھو وہ بنانا سیکھو ۔۔۔ دیکھ لیا اس کا نتجہ ” عاتقہ بیگم نوالے نیناں جو کھلا رہیں تھیں اور باتیں اسے سنا رہیں تھیں وہ بھی کچا چبا جانے والے انداز سے
” نیناں میں نے کب کہا تھا تم سے کہ روٹی بناؤ امی میں نے اسے ہر گز ۔۔۔۔۔” ابھی بات مکمل ہوئی بھی نہیں تھی کہ نیناں کی سسکیاں شروع ہو چکیں تھیں اس کے بتدریج رونے سے شاہزیب کی بات کو بریک لگی تھی ۔۔۔ اس لئے چپ ہو کر روٹی کھانے لگا پتہ تھا کہ اب شامت پکی ہے
” شاہزیب ہم جانتے ہیں کہ نیناں ان سب کاموں کی عادی نہیں ہے جب ہم نے آج تک کوئی شکایت نہیں کی تو تمہیں صبر سے کام لینا چاہیے ۔۔۔ آہستہ آہستہ وہ سیکھ جائے سب کچھ۔۔۔۔۔ حالت دیکھ رہے اسکے ہاتھ کی ۔۔۔۔ یہیں اگر رانا بختیار صاحب دیکھ لیں تو ۔۔۔۔ وہ تو یہیں سمجھیں گئے کہ ہم نے سختی سے ذمہ داری ڈال رکھی ہے نیناں پر ” زمان صاحب کو ایک نئی فکر ستائی تھی
” وہ یہ سب کیوں سمجھیں گئے ابو ۔۔۔ یہ ایک حادثہ طور ہوا ہے ۔۔۔ “
“لیکن ہوا تو ہے نا ” زمان صاحب نے اسے گھورتے ہوئے کہا
” پوپس کیوں کچھ کہیں گئے ۔۔۔ کسی کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے غلطی تو میری ہی ہے ” نیناں نے بات سنبھالی تھی ۔۔۔۔
عاتقہ نے اسے کھانا کھلانے بعد کہا دونوں بچوں کی فکر نیناں نا کرے وہ اپنے پاس سلا لیں گی ۔۔۔ رات کو سونے کے لئے جب شاہزیب کمرے میں آیا تو نیناں فورا سے اپنی صفائیاں دینے لگی
” شاہزیب ایم سوری ۔۔۔۔ میری وجہ سے آپ کو ڈانٹ پڑی۔۔۔ میں صرف پریکٹس کرنا چاہ رہی تھی کہ یہ سب ہو گیا “
” وہ سب چھوڑو نئ بات نہیں ہے میرے لئے ۔۔۔ ” بیڈ پر بیٹھتے ہی اس نے نیناں کا جلا ہوا ہاتھ پکڑا تھا اسے دیکھنے لگا ۔۔۔ اسے ڈانٹ کی پروا نہیں تھی نیناں کے ہاتھ کی تھی
” بہت زیادہ جل گیا نیناں ۔۔۔ کل تمہیں کسی سکن اسپشلسٹ کو دیکھاتا ہوں ۔۔۔۔
” کیا ضرورت ہے جس ڈاکٹر کے پاس ابو لیکر گئے تھے وہ بھی اچھا تھا ۔۔۔۔ اس کی دوا سے میری تکلیف بہت کم ہو گئ ہے جلن بھی کم ہے “
” لیکن نشان تو رہ جائے گا نیناں تمہیں کہا کس نے یہ کرنے کو “
” مجھے اچھا نہیں لگتا تھا کہ امی روز سب کے لئے اکیلی روٹی بناتی ہیں ۔۔۔۔ اس لئے سوچا روز کی ایک دو روٹیاں بنانے کی پریکٹس کروں گی تو آ ہی جائے گی ۔۔۔ لیکن۔۔۔۔ “
” اگر تمہیں یہ سب کرنا بھی تھا تو امی کی موجودگی میں کرنا چاہیے تھا ۔۔۔۔۔ خیراب لیٹو اور آرام کرو “
نیناں کا تکیہ شاہزیب نے درست کیا تھا اسے لیٹنے میں بھی مدد کی خود بھی سونے کے لئے لیٹ گیا نیناں کا بازو کلائی سے۔ پکڑ لیا کہ کہیں نیند میں ہاتھ ہی نا دکھا بیٹھے ۔۔۔۔ یہ پہلی رات تھی شاہزیب کی ۔۔۔۔کہ گہری نیند وہ سو نہیں پایا تھا ۔۔۔ نیناں کا ذرا سا ہاتھ ہلتا تو وہ فورا سے اٹھ جاتا تھا وہ نیند میں بار بار اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔ کچھ دن بچے عاتقہ بیگم کے ساتھ ہی سوتے رہے اور وہی انہیں سنبھال بھی رہیں تھیں۔۔۔ جب تک کے نیناں کا ہاتھ ٹھیک نہیں ہو گیا
