267.9K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

No One Wheeling Episode 1

No One Wheeling by Umme Hani

آج وہ دن بھی آن پہنچا تھا ۔۔۔جس کا انتظار نیناں اور شاہزیب نے بڑی بے صبری سے کیا تھا ۔۔۔۔ شازمہ اپنے سسرال پہنچ چکی تھی اور نیناں شاہزیب کے گھر ۔۔۔۔۔۔ پہلے شازمہ کی شادی ہوئی تھی شام کے وقت ۔۔۔ پھر وہیں سے شاہزیب۔ کی بارات لیکر گئے تھے ۔۔۔۔ بارات ایک ہی دن رکھی گئ تھی اور ولیمے کا ہال بھی ایک ہی تھا ۔۔۔ جاوید صاحب اور زمان صاحب نے کے ملنے ملانے والے ایک ہی تھے ۔۔۔۔ پھر خرچہ بھی آدھا آدھا ہو رہا تھا اس لئے دونوں کی بیویاں بھی اس بات پر متفق تھیں ۔۔۔

سرخ عروسی لباس میں نیناں اس قدر حسین لگ رہی تھی کہ شاہزیب نے بھی ایک نظر ڈالتے ہی ہٹا لی تھی ۔۔۔۔ ہال میں بھی دوبارہ نیناں کو اسنے دیکھا تک نہیں تھا دل کی بے بے تابیوں نے چٹکی بھری تھی ۔۔۔ ۔۔۔۔بس دھڑکنیں تھیں جو نیناں کو پانے پر جل ترنگ کی طرح بج رہیں تھیں ۔۔۔۔۔

اپنی قسمت پر اب بھی یقین کرنا مشکل تھا ۔۔۔۔۔ نیناں کو کمرے تک نمیرہ لیکر گئ تھی ۔۔۔۔۔ اسے بیڈ پر بیٹھا کر خود بھی وہیں اسکے پاس بیٹھ گئ ستائشی نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔ سجی سنوری نیناں غضب کی ڈھا رہی تھی ۔۔۔۔ لاکھوں کا قیمتی عروسی جوڑا دیا تھا بختیار صاحب نے اسے ۔۔۔

” ہائے نیناں کتنی پیاری لگ رہی ہو تم ۔۔۔۔۔ شاہو بھائی کی نظر تو پکی تمہیں لگنے والی ہے ۔۔۔۔ “نمیرہ کے تبصرے پر نیناں مسکرائے بنا نہیں رہ پائی تھی ۔۔۔۔۔۔ شاہزیب کے لئے ہی تو آج سجی سنوری تھی ۔۔۔۔ آج تو بختار صاحب نے بھی بیٹی کو نظر بھر کے نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔ کہ کہیں انکی ہی نظر نا لگ جائے ۔۔۔۔۔ پھر اسے رخصت کرتے ہوئے ضبط بھی کھو بیٹھے تھے ۔۔۔۔ اسے ساتھ لگائے آنکھوں سے آنسوں بہے تھے ۔۔۔۔

بیٹی کی خوشی کی خاطر دل پر بہت بھاری پتھر رکھا تھا ۔۔۔۔

دروازے کی دستک کے بعد دروازہ کھلا شاہزیب اندر داخل ہوا ۔۔۔۔ مگر نمی صاحبہ وہیں جم کر بیٹھی رہیں شاہزیب اپنی شیروانی کا کوٹ اتار کر الماری میں یونہی پھنک دیا جوتے بھی اتار دیے بار بار نمی کو چور آنکھوں سے دیکھ رہا تھا کہ کب باہر جائے ۔۔۔ مگر نمی صاحبہ کے باہر نکلنے کے کوئی تاثرات نظر نہیں آ رہے تھے ۔۔۔

شاہزیب نے بیڈ پر بیٹھ کر اپنی گھڑی اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی ۔۔۔۔ ترچھی نظر نمیرہ پر ڈالی وہ چور آنکھوں سے اسے ہی دیکھ کر مسکرا رہی تھی بھائی کے دل کی حالت جانتی تھی ۔۔۔ کیسی بیقرارہ سے گزر رہا ہے ۔۔۔۔ آج تو دل کی ہر آرزو پوری ہوئی تھی ۔۔۔۔ نیناں کے چہرے پر بھی دلفریب سے مسکان گہری ہوئی تھی کیا کچھ نہیں برداشت کیا تھاایک دوسرے کو پانے کے لئے ۔۔۔۔ شاہزیب کو لگا کہ جب وہ بیڈ بیٹھے گا تب تو نمیرہ ضرور اٹھ کر کمرے سے باہر جائے گی ۔۔۔ مگر وہ نمیرہ صاحبہ تو بڑے مزے سے بیٹھیں رہیں بلا آخر شاہزیب کو ہی اسے احساس دلانا پڑا

“نمی خرم باہر بلا رہا ہے تمہیں ‘” شاہزیب نے ہی تنگ آ کر اس سے کہا

“وہ کیوں ” نمیرہ نے نا فہم بننے کی کوشش کی شاہزیب نے گھور کر اسے دیکھا ۔۔۔نیناں مسکرانے لگی

“یہ اس سے جا کر پوچھوں ۔۔۔مجھے کیا معلوم “نمیرہ بھی اسی کی بہن تھی بھائی کے جھوٹ کو پکڑ چکی تھی

“میں نے تو بول دیا تھا اسے کہ آج تو مجھے دو گھنٹے نیناں سے باتیں کرنی ہیں ” نمیرہ کی بات پر شاہزیب نے تیکھی نظر اس پر ڈالی اور بیڈ سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا کچھ دیر میں شاہزیب اور خرم کے ساتھ عاصم بھی اندر داخل ہو گیا تھا ۔۔۔۔

عاصم کو دیکھ کر نمیرہ کی بانچھیں کھل گئیں

“آو آؤ عاصم ۔تم بھی بیٹھوں بھابی کو آج بور ہونے نہیں دینا ۔۔”نمیرہ کی کہنے کی دیر تھی ۔۔۔ عاصم بیڈ پر نیناں کے ساتھ دھڑم سے بیٹھ گیا ۔۔۔شاہزیب نے حیرت سے دونوں کو دیکھا ۔۔۔

“یک نا شد دو شد ” شاہزیب نے زیر لب کہا نمیرہ اور عاصم کے اشارے بازی سے سمجھ گیا تھا کہ مل کر اسکے خلاف کوئی پلان بنایا گیا ہے ۔۔۔پھر خرم کی طرف مدد طلب نظروں سے دیکھا

“لیکن آج تو دوست نے بھی دغا دے دی تھی

“بھئ میں اپنی بیگم کے ساتھ ہوں ۔۔۔ آج تو اس کا پرس بھرنے والا ہے ۔۔۔کیوں نمی “خرم بھی جا کر نمیرہ کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔ شاہزیب نے تعجب سے خرم کو دیکھا تھا

“بہت کمینے ہو تم ۔۔۔۔” پہلا لقب شاہزیب نے خرم کو دیا تھا

“پھر خرم کے سامنے ہی بیٹھ گیا “

“ہاں بھئ مسلہ کیا ہے نمی “شاہزیب نے آواز میں کچھ دبدبا پیدا کرنے کی کوشش کی

“مسلہ ہے رسموں کا شرافت سے پانچ ہزار دیدیں ۔۔ میں چلی جاؤں گی ورنہ مجھے تو بہت سخت نیند آ رہی ہے ۔۔۔ “نمیرہ نے جان بوجھ کر جمائی لیتے ہوئے کہا شاہزیب نے کن انکھیوں سے اسے گھورا تھا

“پانچ ہزار ۔۔۔۔کبھی شکل دیکھی ہے پانچ ہزار کے نوٹ کی ۔۔۔۔ پانچ سو روپیہ دونگا لینا ہے تو لو ورنہ نکلو یہاں سے شاباش ۔۔۔ ۔۔”شاہزیب نے چٹکی بجاتے ہوئے کہا نمیرہ کے ماتھے پر کئ بل پڑے تھے

“شاہوں بھائی ۔۔۔ مجھے نہیں پتہ ۔۔۔۔ آپ کی کون سی بار بار شادی ہونی ہے ۔۔۔۔ پانچ ہزار ہی تو ہیں دیدو نا شرافت سے ۔۔۔”وہ فورا لجاجت پر اتر آئی تھی ۔۔۔ خود بھی پنک کلر کی فینسی میکسی پہنے بہت پیاری لگ رہی تھی ۔۔۔۔ خرم نے بھی اسکی معصومیت پر فدا ہوتے ہوئے شاہزیب سے کہا

“دے دوں نا بیچاری کو دیکھوں کتنا معصوم سا چہرہ بنائے کہہ رہی ہے قسم سے مجھ سے یوں کہتی تو دس ہزار ہاتھ میں رکھ دیتا ۔۔۔”خرم نے بڑی لگاوٹ سے نمیرہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جس کے چہرے پر معصومیت ٹپک رہی تھی

“ہاں تو تم دیدو ۔۔۔۔میں تو پانچ سو سے اوپر ایک پائی نہیں دونگا ۔۔۔”شاہزیب نے جیب سے بٹوا نکالا ۔۔۔ موقع دیکھ کر نمیرہ نے فٹ سے بٹوا جھپٹ لیا تھا اور کھڑی ہو گئ

اس سے پہلے کے دوڑ لگاتی شاہزیب بیڈ کی دوسری جانب سے سے اتر کر اس کے سامنے دونوں ہاتھ پھیلائے کھڑا ہو گیا تا کہ وہ باہر نا جاسکے

“نمی کی بچی میرا بٹوا واپس کرو “شاہزیب کے چلانے پر خرم نمیرہ اور شاہزیب کے بیچ میں کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔تینوں بیڈ سے اتر چکے تھے۔۔ایسی لڑائی نیناں کے لئے انوکھی تھی وہ ٹکر ٹکر تینوں کو دیکھ رہی تھی

“تم تو پیچھے ہٹو ۔۔پکے جوروں کے غلام ہو گئے ہو تمہیں میں اندر اپنی ہیلپ کے لئے لایا تھا ۔۔۔کیا پیندرا بدلہ ہے تم نے ۔۔۔ “شاہزیب نے خرم کو پیچھے کرنے کی کوشش کی ۔۔۔مگر اس نے بھی ثابت کر دیا تھا کہ وہ بیوی کا کتناسگا ہے جب تک نمیرہ بیگم نے پورا بٹوا کنگال نہیں لیا خرم نے شاہزیب کو راستہ نہیں دیا تھا ۔۔۔اسکے پاس جانے کا

پورے بٹوے سے بس دو ہزار ہی نکلے تھے ۔۔۔ جو نمیرہ نے مٹھی میں دبائے ۔۔۔

“خرم ہو گیا کام چلو اب “نمیرہ نے بٹوا بیڈ پر پھنکا اور خرم کا ہاتھ پکڑے باہر نکل گئ جاتے ہوئے خرم بھی شاہزیب کو ٹھنگا دیکھا کر گیا تھا “شاہزیب نے کئ گالیاں زیر لب بڑبڑائیں تھیں نیناں ان بہن بھائیوں کو یوں لڑتے جھگڑتے دیکھ کر ہنس رہی تھی یہ سب اس کے لئے الگ سا تھا۔۔۔۔ساری زندگی اکیلے گزاری تھی کہاں معلوم تھا بہن بھائیوں کی نوک جھوک میں بھی پیار ہوتا ہے ۔۔۔۔شاہزیب نے

اب عاصم کو دیکھ کر خطر ناک حد تک گھورا

“اب تمہیں کیا چاہیے ۔۔۔”

“مجھے بھی دو ہزار ہی چاہیے “عاصم نے بھائی کے خطرناک تیور دیکھ کر کچھ ڈرتے ڈرتے اپنا چشمہ ناک سے اوپر کرتے ہوئے کہا

“ایک منٹ سے پہلے نکلو باہر ۔۔۔۔ ورنہ پٹ جاؤں گئے مجھ سے ۔۔۔ موٹا کہیں کا دو ہزار چاہیے اس چشماٹو کو “شاہزیب نے سخت لہجے سے کہا عاصم رونی صورت بنا کر جانے لگا

“رکو عاصم ۔۔۔”نیناں نے اپنے پرس سے دو ہزار نکال کر اسکے ہاتھ پر رکھ دیے ۔۔۔”

“نہیں نیناں آپی آپ سے نہیں چاہیے ۔۔۔”عاصم نے فورا سے ہاتھ پیچھے چھپا لئے اور شاہزیب کو دیکھنے لگا

“رکھ لو یہ بھی تمہارے بھائی کے ہی ہیں ۔۔۔ میرے اور شاہزیب کے پیسے الگ تو نہیں ہیں رکھ لو مجھے اچھا لگے گا ۔۔۔”نیناں نے نرمی اور محبت سے کہا عاصم کاچہرہ کھلا تھا فوراسے پیسے لیکر باہر نکل گیا ۔۔۔

شاہزیب نے اطمینان بھرا سانس لیا تھا

“کم بخت مجال ہے جو پیسے کے بغیر کوئی بات بھی کر لے ۔۔”

شاہزیب نے دروازہ بند کرتے ہوئے کہا ۔۔۔ اور پلٹ کر مطمئن بھرے اندر سے بیڈ پر دراز ہوا تھا ۔۔۔۔ آنکھیں بند کیں خود کو کچھ پر سکون کرنے لگا پھر بند آنکھوں سے بولا

“افف شادی کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے ۔۔۔دولہے کی شیرانی پہنے دو گھنٹے اسٹچو بن کر بیٹھا بھی ایک صبر آزما مرحلہ ہے۔”یہ کہہ کر اس نے آنکھیں کھول کر نیناں کی طرف دیکھا جو خوشی کے سارے رنگ چہرے پر لئے اسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہی تھی شاہزیب نے ایک نظر اس کے بھاری بھرکم لہنگے پر ڈالی جو بلا شبہ بہت خوبصورت تھا اور قیمتی بھی ۔۔۔۔۔لیکن مارچ کے مہینے میں کراچی جیسے شہر کے موسم کے حساب سے تو ایک لڑکی پر ظلم ہی تھا جبکہ کمرے میں اے سی بھی نا ہو

“۔۔۔ تم بھی تھک گئ ہو گی ۔۔۔جاوں چینج کرو ۔۔۔۔ اپنی جان چھڑاؤ اس بھاری بھرکم لہنگے سے “شازیب کی بات نیناں کو کچھ خاص پسند نہیں آئی تھی ۔۔۔۔ تین گھنٹے کی مسلسل تیاری اس نے اس لئے تو نہیں کی تھی وہ اسکی تعریف بھی نا کرے ۔۔۔۔ اس لیے خفگی سے منہ بنائے ویسے ہی بیٹھی رہی ۔۔۔۔ دلہن بنتے ہوئے وہ پورے تین سے چار گھنٹے رامین کی جان کھاتی رہی تھی ۔۔۔۔ بڑی لگاوٹ سے خود کو اسے کے لئے سجایا تھا اور اس نے نظر بھر کے دیکھا تک نہیں تھا بس ایک نظر ڈال کر یہ کہہ دیا کہ چینج کرو خود پھر سے آنکھیں بند کر چکا تھا

شاہزیب نے ذراسی آنکھیں کھولیں نیناں ویسے ہی اسی انداز سے بیھٹی تھی لیکن چہرے پر میٹھی سی مسکان غائب تھی

” میری مینا ۔۔۔ جاؤں بھئ ۔۔۔ ریلکس ہو جا کر ” شاہزیب نے پھر سے کہا ۔۔۔شاہزیب کو لگا کہ وہ نازک مزاج سی لڑکی کہیں ان بھاری کپڑوں میں تنگ نا آ چکی ہو

“نہیں مجھے نہیں جانا ۔۔یہ کیا بات ہے شاہزیب میں نے یہ سب تیاری آپ کے لئے کی تھی اور آپ نے میری طرف ٹھیک سے دیکھا تک نہیں نا ہال میں نا یہاں اور اب بھی ۔کہہ رہیں کہ ۔۔۔ اتنی بری لگ رہی ہوں کہ آنکھ بھر کے دیکھنا بھی گوارا نہیں ہے “نیناں کا شادی کے بعد پہلا شکوہ شروع ہو چکا تھا شاہزیب نے اب بھی ایک نظر ڈال کر ہٹا لی تھی ۔۔۔۔ وہ تو سادگی میں بھی دل کو دھڑکانے میں ماہر تھی اور اسوقت تو ویسے ہی جان لیوا حد تک حسین لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

“بہت خوبصورت لگ رہی ہو میری توقع سے بھی بہت ذیادہ ۔۔۔اسلئے تو دیکھ نہیں رہا ۔۔ڈر لگ رہا کہ کہیں میری نظر نا لگ جائے ۔۔۔۔ “شاہزیب کے جواب نے بھی نیناں کو ۔مطمئن نہیں۔ کیا تھا

“یہ کیا بات ہوئی ” نیناں اب بھی خفا سی تھی شاہزیب اٹھ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔ اسکے خفا خفا چہرے کو دیکھنے لگا ۔۔۔ جو۔ خفا ہو کر بھی اور بھی پیاری لگ رہی تھی

” تم مجھے سادگی میں بھی بہت پیاری لگتی ہو میری مینا ۔۔۔۔۔اور اس وقت تو مس والڈ کو بھی مات دے رہی ہو ۔۔۔سیریسلی ۔۔۔۔ ” شاہزیب کی تعریف کا بھی اپنا الگ انداز تھا ۔۔۔۔نیناں نے مسکرا کر تعریف وصول کی تھی ۔۔۔۔۔

“پھر شاہزیب نے نیناں کا ہاتھ تھام لیا سائیڈ ٹیبل پر رکھی مخملی ڈبیہ سے ایک رنگ نکالی اور نیناں کے کی انگلی میں پہنا دی ۔۔۔ بہت نازک سی رنگ تھی اور زیادہ قیمتی بھی نہیں تھی

“نیناں میرے کمرے میں کچھ بھی تمہارے شایان شان نہیں ہے ۔۔۔۔ یہاں تک کہ یہ رنگ بھی اٹھارہ کریڈ کی ہے ۔۔۔ جو اس وقت مجھے تمہارے ہاتھ میں بلکل اچھی نہیں لگ رہی ۔۔۔۔ “شاہزیب کی بات پر نیناں کی مسکراہٹ غائب ہوئی تھی

“ایسا کیوں کہہ رہے ہیں شاہزیب ۔۔۔۔میرے لئے یہ بہت قیمتی ہے ۔۔۔” نیناں نے برجستہ کہا شاہزیب نے ایک گہری لمبی سانس بھری

“نیناں میں نا تو تمہیں ہنی مون پر کہیں لے جاسکتا ہوں نا ہی چند مہینوں تک کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں ڈنر کرواسکتا ہوں ۔۔۔ کیونکہ جاب ابھی ابھی اسٹاٹ کی ہے ۔۔۔۔ اور پے بھی بہت ذیادہ نہیں ہے۔۔۔۔۔لیکن میں ایک اور جاب کی کوشش میں بھی ہوں شام کی ٹامنگ کے لئے

بس میں چاہتا ہو موسم گرما شروع ہونے سے پہلے کم از کم ایک اے سی تمہارے لئے ضرور لگوا دوں ۔۔۔ اس لئے کچھ ٹائم تمہیں بس برنس روڈ کی چاٹ پر ہی گزارا کرنا پڑے گا ۔۔۔” نا جانے کیوں اسے کمرے میں موجود ہر چیز نیناں کے سامنے ہیج لگ رہی تھی

“شاہزیب ۔۔۔۔ کس نے کہا مجھے اے سی چاہیے ۔۔۔۔ یا مجھے فائیو اسٹار میں کھانا کھانا ہے ۔۔۔۔ ” نیناں جو اس سے محبت بھرے لمبے چوڑے اظہار کی منتظر تھی لیکن وہ بس اپنی کم مائیگی پر افسوس ہی کر رہا تھا ۔۔۔۔

“نیناں ۔۔۔رانا بختیار کی بیٹی ہو تم ۔۔۔۔ جن آسائشوں کو میرے لئے چھوڑ کر آئی ہو ۔۔۔ وہی بہت ہے۔۔۔اب مجھے بھی کچھ کر کے دیکھانے کا موقع دو ” اندر ہی اندر وہ نیناں کی قربانیوں کا قائل تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاہزیب اسکے ہاتھ میں پہنی ہوئی رنگ کو گھماتے ہوئے بول رہا تھا ۔۔۔۔ دل میں کہیں افسوس سا تھا کہ جو انگوٹھی اسے دی تھی شاہزیب کو۔ بلکل پسند نہیں تھی

“رانا بختیار کی بیٹی میں تھی ۔۔۔۔۔اب شاہزیب زمان کی بیوی ہوں ۔۔۔۔ میری پہچان اب آپ سے ہے پوپس سے نہیں ۔۔۔۔۔ مجھے خوشی ہو گی اگر مجھے کوئی آپ کی پہچان سے جانے ۔۔۔۔۔”نیناں کی بات پر شاہزیب نے اسے مسکرا کر دیکھا ۔تھا اپنی محبت پر ناز سا ہونے لگا تھا ۔۔۔۔ نیناں اسکے لئے بہترین انتخاب تھی ۔۔۔

” شاہزیب آپ نے میری ٹھیک سے تعریف نہیں کی ” نیناں نے موضوع بدلنا چاہا تھا ۔۔۔ شاہزیب نے بڑی دلچسپی سے اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔ پھر مسکرانے لگا

” کیا تعریف کروں تم نے تو میری بولتی ہی بند کر دی ہے سمجھ نہیں آ رہا دل کو سنبھالو یا جذبات کو ” پھر اسے بڑی محبت سے دیکھتے ہوئے اسکے کان میں ہلکورے مارتے ہوئے سونے کے جھمکے کو ہلکا سا ہلایا تھا پھر اسکی بندیہ کو چھوا ۔۔ ۔۔۔ پھر بولا

“مطلب لفظ نہیں ہے میرے پاس ۔۔۔ پہلی بار دل ایسے دھڑک رہا ہے جیسے ریس کے ٹریک پر بھاگتی ہوئی ہیوی بائیک ” نیناں نے بڑی حیرت سے اسے دیکھا تھا بھلا یہ کیسا اظہار محبت تھا ۔۔۔ شاہزیب نے نیناں کا ہاتھ اپنے سینے پر دھرتے ہوئے آنکھیں بند کر دیں ۔۔۔ دل تو اس واقعی بڑی تیزی سے ڈھرک رہا تھا ۔۔۔۔ پھر آنکھیں کھول کر بولا

” ۔۔۔۔ آج تو سچ میں تم میرے ہارٹ کی ساری بیٹ مس کر چکی ہو ۔۔۔۔۔ جان لیوا حد تک ۔۔۔ دل تک میرے اختیار میں نہیں ہے ” شاہزیب نے پھر نیناں کے ہاتھ کی انگلیوں میں دھیرے دھیرے سے اپنی انگلیاں پھنسائی تھیں ۔۔۔

“جانتی ہو نیناں میں نے نکاح تم سے خوف میں کیا تھا ۔۔۔۔ورنہ اتنی جلدی میرا نکاح کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔ لیکن تم نے انگوٹھی اتار کر جب مرے سامنے کی تھی ۔۔۔۔ اندر سے جان ہی تو نکل گئ تھی میری ۔۔۔۔

ڈر گیا میناں کہ کہیں تمہیں کھو ہی نا دوں ۔۔۔ بائے گاڈ نکاح کے بعد بھی یہی سوچا تھا کہ رخصتی ایم بی اے کے بعد ہی کروں گا ۔۔۔۔ ایک اچھی جاب حاصل کر کے ” شاہزیب کی نظروں سے وہ پہلی بار نروس ہو رہی تھی ۔۔۔۔ اس کے لہجہ دھیرے دھیرے مخمود سا ہونے لگا تھا ۔۔۔

“۔۔۔۔ لیکن نکاح کے بعد کی پہلی ملاقات پر تم بیوی ہونے حق جماتے ہوئے میرے ساتھ لگ گئ تھی ۔۔۔۔ افف مت پوچھوں کیا کچھ اندر ہی اندر سے دھرم بھرم سا ہو گیا تھا ۔۔۔ پل بھر میں ایک بجلی سی دوڑ گئی تھی میرے وجود میں ۔۔۔۔ پہلی بار پتہ چلا کہ چار سو چالیس واڈ کا جھٹکا کیسے لگتا ہے ۔۔۔۔ پہلی بار لگا کہ ۔۔۔ واقعی نکاح ہو چکا ہے ۔۔۔۔ دل نے کہا جب نیناں لڑکی ہو کر اپنا حق جما چکی ہے تو شاہو تم بھی ایسا ہی کوئی اظہار کر دو ۔۔۔۔ تمہیں یاد ہے ۔۔۔تمہیں خود سے پیچھے کرنے کے بعد میں نے دوبارہ تمہاری طرف دیکھا نہیں تھا ۔۔۔ کھڑی کھول کر باہر دیکھتے ہوئے ہی تم سے بات کی تھی ۔۔۔ اور بات بھی ٹھیک سے نہیں کی تھی۔۔۔۔ بلکہ اس وقت میری کوشش تھی کہ تم جلدی سے وہاں چلی جاؤں ۔۔۔۔ بڑا ہی بے اختیار سا جذبہ ہے یہ نکاح بھی ۔۔۔۔ بس اسکے بعد تو صبر کرنا ہی مشکل تھا۔۔۔۔ تم نے میری نیندیں اڑا کے رکھ دیں تھیں نیناں ۔۔۔ اس لئے میں نے بہت سوچا ۔۔۔ کہ ایسا ممکن ہی نہیں کہ دو سال اپنی تعلیم مکمل کرنے کے دوران میں تم سے ملاقات نا کروں ۔۔۔ پھر ڈر لگا کہ کہیں دل نے مجھے اپنا حق لینے کے لئے اکسایا تو پھر کیا کروں گا ۔۔۔۔ منگنی ایک الگ چیز ہوتی ہے نیناں ۔۔۔ لیکن نکاح سے جذبات الگ رنگ اختیار کر جاتے ہیں ۔۔۔۔ نظریں اور دل کوئی بھی حد متعین رکھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے ۔۔۔۔ اس لئے ۔۔۔ تم سے کہا تھا میں شادی جلدی کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔ رخصتی جلدی چاہیے

تا کہ اپنے حق کو ویسے استعمال کیا جائے جیسے کرنے کا حق ہے ۔۔۔۔ “, جیسے جیسے وہ بات کر رہا تھا نظروں کی بے تابی نے نیناں کو گھبرانے پر مجبور کرنا شروع کیا تھا ۔۔۔۔ اسوقت بات ہی کچھ اس طرح کی ہو رہی تھی کہ نیناں جذباتی ہو کر اسکے ساتھ بے اختیار ہی لگ گئ تھی بنا کچھ بھی سوچے سمجھے ۔۔۔۔ نیناں نے تو بعد میں بھی ایسا کچھ نہیں سوچا تھا جو کچھ وہ سوچ چکا تھا ۔۔۔۔ لیکن آج لگ رہا تھا ۔۔۔۔ بڑا غلط قدم اٹھایا تھا ۔۔۔ اور شاہزیب کا جلدی رخصتی کا فیصلہ بھی ٹھیک ہی لگا تھا دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے ۔۔۔۔۔ نکاح کے بعد کی میل ملاقاتیں دل اور جذبات کو الگ ہی رنگ دیتی ہیں ۔۔۔ کیونکہ یہ معلوم ہوتا یہ ہے اب ہم میاں بیوی ہیں ۔۔۔۔ نیناں کی جو کچھ دیر پہلے

یہ خواہش تھی کہ وہ اسکی تعریف کرے ۔محبت کا اظہار بھی کرے لیکن اب ۔۔۔ چہرے پر شرم حیا کے ساتھ گھبراہٹ بھی طاری ہوئی تھی ۔۔۔ شاہزیب کے ہاتھ سے اس نے اپنا ہاتھ کھنچنا چاہا تھا ۔۔۔۔ نیناں کے چہرے کے بدلتے رنگ دیکھ کر اس نے اس کا ہاتھ اور بھی مضبوطی سے پکڑ لیا تھا

” او میری مینا ۔۔۔ اب کیوں پریشان ہو ۔۔۔ ابھی تو بہت کچھ ہے جو شاہو نے تم سے کہنا ۔۔۔۔۔ ہے ۔۔۔” نیناں کے ہاتھ کو ہونٹوں سے لگا کر اس نے اپنے اپنے جذبات کے اظہار کی ابتدا کی تھی ۔

******…….

شازمہ کمرے میں بیٹھی کب سے شازل کا انتظار کر رہی تھی مگر زمرد بیگم شازل کا پیچھا چھوڑتیں تو وہ شازمہ کے پاس جاتا

شازمہ کو کمرے میں جانے کا کہہ کر کچھ دیر وہ ماں کے پاس بیٹھ کر ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا کہ کہیں انہیں یہ لگے کے جورو کا غلام ہے

جاوید صاحب نے جیب سے سارے انویلوپ نکال کر زمرد بیگم کے حوالے کیے

” یہ لو شادی پر میرے دوستوں نے دیے تھے ” زمرد بیگم نے جھپٹ کر سارے انویلوپ پکڑے تھے ۔۔۔۔ ۔۔

“شازل۔۔۔ زمان اور عاتقہ نے تمہیں بھی پیسے دیے تھے وہ کہاں ہیں ” شازل نے بھی شیروانی کی جیب سے پیسے نکال کر ماں کے ہاتھ میں رکھ دیے

اس وقت تو شازل کو اپنے کمرے میں جانے کی جلدی تھی ۔۔۔ اس لئے جاوید صاحب کے کمرے میں جاتے ہی وہ کھڑا ہو گیا

” بات سن لے میری۔۔۔ بیٹھ ادھر “زمرد بیگم نے بیٹے کو کھسکتے دیکھ کر کڑے تیور دیکھاتے ہوئے کہا وہ بیچارا پھر سے صوفے پر بیٹھ گیا

“۔۔۔۔کان کھول کے میری بات سن لے شازل خبردار جو شازی کو کبھی مجھ پر فوقیت دی تو ۔۔۔۔۔”انگلی اٹھاتے ہوئے زمرد بیگم نے شازل کو تنبہی کی تھی شیروانی کا اوپر کا بٹن کھولے شازل نے اپنا سانس بحال کیا تھا ۔۔۔۔ موضوع ہی کچھ ایسا تھا ۔۔۔۔ بیوی بنے ابھی کمرے میں ہی آئی تھی کہ ماں کو اپنی حکمرانی چھٹنے کا غم ستایا تھا

” پتہ ہے امی ۔۔۔۔ “شازل نے بیزاری سے پھر گھڑی دیکھی جو رات کا ایک بجا رہی تھی

“اور ہاں آج ہی اسے سمجھا دینا کہ میرے تو گھٹنے کسی قابل نہیں ہے اس لئے بیڈ پر بیٹھا کر نار نخرے بھیا میں تو نہیں اٹھا سکتی ۔۔۔۔”زمرد بیگم کو رہ رہ کر ساری باتیں یاد آ رہیں تھی شازل بار بار پہلو بدل رہا تھا ۔۔۔

“جی یہ بھی کہہ دوں گا ۔۔۔۔ اب جاؤں ” شازل نے کوفت سے پوچھا بیٹے کو خشمگین نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ اچھی طرح سے اس کے بدلتے تیور دیکھ رہیں تھیں

“نا مجھے یہ تو بتا تجھے جلدی کس بات کی ہے ۔۔۔۔ کون سی حور پری ہے وہ ۔۔۔ جو پل دو پل ماں کے پاس محال ہو رہا ہے تمہارا “زمرد بیگم کی گھرکی اس وقت شازل پر نا گوار تھی

“امی میں آپ کے لئے کہہ رہا تھا ۔۔۔رات کاایک بج گیا ہے ۔۔۔۔آپ وقت پر نہیں سوئی تو ۔۔۔ سر میں درد شروع ہو جائے گا ۔۔۔۔”شازل نے بہانہ جڑاتھا ۔۔۔تین سال منگنی رہ چکی تھی انکی ۔۔۔پھر شازمہ بے شک نیناں جتنی حسین نہیں تھی لیکن خوبصورتی میں کم کسی سے نہیں تھی اور سب سے بڑھ کر شاز،ل پر جان۔ چھڑکتی تھی ۔۔۔۔زمرد بیگم نے ڈھائی بجے شازل کی جان بخشی تھی ۔۔۔ ۔جب کمرے میں داخل ہوا تھا ۔بیچارا بیزاریت کی آخری حد پر تھا۔۔۔ سامنے شازمہ رو دینے کو تھی ۔۔۔۔ شازل نے نظریں۔ چرائیں ۔۔۔کمرہ بند کیے ۔۔۔۔جب تک اس تک پہنچا تھاوہ غصے سے کھڑی ہو گئ پچھلے ڈھائی گھنٹے سے انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔ اس لئے اب نخرے دیکھانے کی باری شازمہ کی تھی ۔۔۔۔

“کہاں جا رہی ہو تم “شازل شرمندہ شرمندہ سا بولا

“رات کے ڈھائی بجے یہ سوال کرنا بنتا آپ کا ۔۔۔مجھے نیند آ رہی ہے کیونکہ تائی امی صبح نو بجے ناشتہ کرنے کی عادی ہیں ۔۔۔۔ ظاہر ہے گھٹنوں کے درد کے باعث خود اٹھیں گئیں نہیں مجھے ہی اٹھ کر بنانا پڑے گا ۔۔۔۔ “جو باتیں زمرد۔ بیگم نے شازل کو ڈھائی گھنٹے لگا کر شازمہ کو سمجھانے کے لئے کہیں تھیں وہ پہلے سے جانتی تھی ۔۔۔۔ شازل نے اس کا بازو پکڑ کر اسے روکنا چاہا

“شازو تم تو مجھے سمجھو ۔۔۔۔ ابھی امی سے دو گھنٹے کا لیکچر سن کر آ رہا ہوں ۔۔۔۔ پلیز اپنا غصہ کسی اور وقت کے لئے رکھ لو ۔۔۔۔ “شازل کی نیند سے آنکھیں ۔ بھی چور ہو رہیں تھیں ۔۔۔۔شازمہ نے ہی دل بڑا کرتے ہوئے دوبارہ بیڈ کارخ کیا تھا۔۔۔

انگوٹھی پہناتے ہوئے ۔۔۔۔شازل یہ جتانا نہیں بھولا تھا کہ اس سونے کی باریک تار نما انگوٹھی پر ننھا منا سا لگا نگ ڈائمنڈ کا ہے

“دیکھ لوں امی کے لاکھ منع کرنے کر بھی میں نے تمہارے لئے ڈائمنڈ کی رنگ لی ہے “۔۔۔۔شازمہ نے انگوٹھی کو پوری آنکھیں پھیلا کر ڈائمنڈ کی چمک دیکھنے کی کوشش کی مگر نا کام ۔۔۔۔ باقی انگوٹھی سونے کے نام پر دھبہ تھی ۔۔۔۔ شازمہ بار بار انگوٹھی کو جلے دل کے ساتھ دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ سونے کی باریک سی تار پر بلکل ذرا سا ڈائمنڈ کا نگ تھا

“شازو اب منہ دیکھائی کا کہہ کر یہ نا ہو کہ تم انگوٹھی ہر وقت پہنے رکھو” ‘شازمہ ابھی تک اس انگوٹھی نما چیز کو ہی حیرت سے دیکھ رہی تھی شازل کی بات پر دوسراحیرت کا جھٹکا لگا تھا

“مطلب ؟ اس نے انگوٹھی سے نظریں ہٹا کر شازل کو نا فہم انداز سے دیکھا

“یار اتار کر سنبھال کر رکھ دینا ۔۔۔۔ کہیں آتے جاتے ہی پہننا ۔۔۔۔ ڈائمنڈ ہے ۔۔۔برتن دھوتے ہوئے اگر نگ انگوٹھی سے نکل کر نالی میں چلا گیا تو ۔۔۔۔ میرا تو سارا پیسہ ہی ڈوب جائے گا ۔۔۔۔ ” دل تو شازمہ کا انگوٹھی دیکھ کر ہی جل گیا تھا شازل کی بات پر خاک ہوا تھا ۔۔۔۔ شازمہ کا دل تو چاہا انگوٹھی اتار کر شازل کے ہاتھ میں تھما دے

“کہے کہ لو پکڑو اپنی قیمتی انگوٹھی” لیکن کہہ نہیں پائی ۔۔۔۔

بس شازل کو دیکھ کر اسکے چہرے پر زبردستی کی بھی مسکراہٹ نہیں آ سکی تھی

*******……..

باسم آفس کے لئے تیار ہو رہا تھا ساتھ ہی ساتھ ۔۔۔۔ کب سے نیلو کی نا رکنے والی باتوں کے سلسلے کو سن رہا تھا

“باسم میں نے اپکا ٹفن تیار کر دیا ہے ۔۔۔۔اب آفس سے کچھ الٹاسیدھا منگوا کر مت کھا لیجیے گا ۔۔۔”

“ٹھیک ہے “باسم ڈرسنگ کے سامنے کھڑا ٹائی باندھتے ہوئے۔ بولا

“اور ہاں یہ نا ہو کہ اپنے برابر والے کولیگ کو کھلانے بیٹھ جائیں “ساتھ ساتھ وہ بیڈ کی چادر بچھا رہی تھی ساتھ ساتھ پوری پوری تاکید کر رہی تھی

“اچھا “

“اور ایک آخری بات ۔۔۔ شام کی چائے گھر آکر پیجیے گا ۔۔۔۔نا جانے آفس میں کیسی چائے ملتی ہو کپ ٹھیک سے دھلے ہوئے ہوں کہ نہیں ۔۔۔وہ لوگ کہاں پروا کرتے ہیں ان چیزوں کی “بیڈ کے تکے کے کور چینج کرتے ہوئے وہ بول رہی تھی

“گھر آکر ہی پی لوں گا ۔۔۔بس ” باسم نے بات ختم کی تھی

“ہاں بس ۔۔۔۔ اور ہاں یاد آیا مجھے ۔۔۔۔ بائیک چلاتے ہوئے ہیلمنٹ کیوں نہیں پہنتے آپ “فری کی کم گوئی باسم پر تین ماہ میں اچھی طرح کھل چکی تھی ۔۔۔۔ وہ بیڈ کے تکے درست کرتے ہوئے بولی

“کبھی پہنی ہی نہیں ۔۔اور میں ویسے بھی احتیاط سے چلاتا ہوں “باسم اب بال بناتے ہوئے بولا

“پھر بھی باسم آپ کو پہنی چاہیے ۔۔۔۔ آپ احتیاط سے چلاتے ہیں سامنے والا تو نہیں چلاتا نا ۔۔۔۔ “نیلو اب باسم کے پاس آکر بولی

“ٹھیک ہے ایک دو دن تک خرید لوں گا ۔۔۔پھر پہن لیا کرو گا ۔۔۔بس کہ کچھ اور بھی کہنا ہے ” باسم نے اسے احساس دلانا چاہا کہ وہ کرنا بولتی ہے ۔۔۔۔

“ہاں بس میں کہاں زیادہ بولتی ہوں” نیلو فر کی بات پر باسم نے تعجب کا اظہار اسکے کم بولنے پر نا فہم انداز سے کیا تھا ..مگرنیلو کا ٹیپ ریکوڈر جاری تھا

۔۔۔”۔ ناشتے میں آج سے آپ پراٹھہ کھایا کریں گئے ۔۔۔چائے کے ساتھ۔ دو رس کھا کر پورادن کیسے گزرتا ہے آپ کا ” نیلو فر اسکے پاس آ کر پوچھنے لگی

” میں ہیوی ناشتہ نہیں کرتا ہوں فری آپ پلیز چائے ہی بنا دیں “

“ارے خالی چائے کیوں آج آپ میرے کہنے پراٹھہ کھا کر دیکھیں ۔۔۔۔ نا مزہ آیا “نیلو کی بات کو بریک باسم نے اپنا ہاتھ اسکے منہ پر رکھ کر لگائی تھی

“بس فری ۔۔۔۔ کتنا بولتی ہیں آپ ۔۔۔۔۔مجھے اندازہ نہیں تھا ۔۔۔۔ میں نے توآپ کو بس ذیادہ تر خاموش ہی دیکھا تھا “باسم نے اپنا ہاتھ ہٹا کر کہا

“کیا یہ بھی برا لگا آپ کو ۔۔۔۔”نیلو روہانسی ہوئی

” نہیں بس کچھ ان اکسپکٹ سا لگ رہا ہے ۔۔۔مطلب آپ بہت بولتی ہیں ۔۔۔” باسم کی بات سن کر نیلو فر آنکھوں میں نمی لئے کمرے سے نکل گئ۔۔۔۔باسم نے اپنے سر پر ہاتھ مارا ۔۔۔۔

“افف یار کیا ضرورت تھی یہ کہنے کی ۔۔۔۔ مجھے منانے کا بھی کوئی تجربہ نہیں ہے فری میری بات تو سنیں ” باسم اسکے پیچھے گیا تھا ۔۔ تین ماہ میں یہ پہلی ناراضگی تھی جو نیلوفر نے دیکھائی تھی ۔۔۔۔۔

*******……

جب سے رائمہ سسرال آئی تھی ۔۔۔۔ رامس کی بہنوں کے ہر تیسرے دن۔ چکر لگنے لگے تھے ۔۔۔۔

نئ نئ بھائی کے ہاتھ کے کھانے انہیں کچھ زیادہ ہی پسند آئے تھے ۔۔۔۔۔ رقیہ جب آتی تو۔ بیگ اسکے ساتھ ہی ہوتا ۔۔۔ بچے باپ کے ساتھ کھا پی کر واپس لوٹ جاتے مگر وہ رات رکے بغیر نہیں جاتی تھی

” میں تو رات رک کر ہی جاؤں گی اماں رائمہ کے آ جانے سے کیسی رونق سی لگ گئ ہے گھر میں ۔۔۔ میرا تو اپنے گھر پر دل ہی نہیں لگتا “رقیہ نے مسکراتے ہوئے بھابی کو مکھن لگانے کی۔ بھرہور کوشش کی تھی

” میری بہو ہے ہی لاکھوں میں ایک ۔۔۔ اور کیا شاندار ذائقے دار کھانے بناتی ہے خوشبوں۔ چار گھروں تک جاتی ہے ۔۔”۔ رامس کی والدہ نے پاس بیٹھی رائمہ کو ساتھ لگاتے ہوئے پیار جتایا تھا رائمہ نے بھی مسکرا کر تعریف وصول کی تھی ۔۔۔ رامس نے گھڑی دیکھی جو رات کاایک بجا رہی تھی ۔۔۔ پھر رائمہ کو گھور کے دیکھا جو ساس کے پاس جڑ کر بیٹھی تھی ۔۔۔ رقیہ نے ہمیشہ کی طرح بھائی پر حکم چلاتے ہوئے کہا

” اے رامس تو آج صحن میں چارپائی بچھا کر سو جا رائمہ کے ساتھ میں سو جاتی ہوں ۔۔۔ کمر میں بڑا درد رہنے لگا ہے میرے ۔۔۔۔۔ اب چارپائی پر سوئی تو صبح تک تو کمر تختہ ہو جائے گی ۔۔۔ ” رقیہ اپنی بھاری کمر پر دائیاں ہاتھ رکھ کر بولی

” آپاں مجھے اپنے کمرے میں سونے کی عادت ہے ۔۔۔ اس لئے چارپائی پر آپ سو جائیں ورنہ رات کو اپنے گھر چلی جایا کریں۔۔۔۔ چھوٹا سا تو گھر ہے ہم ہی پورے نہیں پڑتے اوپر آپ ہر دوسرے دن پہنچ جاتی ہیں ” رامس کی یہ کہنے کی دیر تھی ۔۔۔ رقیہ نے تو باقاعدہ آواز سے رونا شروع کر دیا تھا

” دیکھ رہی ہو اماں ۔۔۔۔ کتنے ارمان تھے اس کی شادی کے نئ بھابی کے ۔۔۔ لیکن کیارنگ دیکھایا ہے اس نے اپنا ۔۔۔ میرا آنا اسے اب برا لگنے لگا ہے ” رقیہ کے ڈرامائی رونے پر رائمہ اٹھ کر اسکے پاس بیٹھ گئ

” آپاں ان کا یہ مطلب نہیں تھا آپ کا اپنا گھر ہے جب چاہیں آئیں ۔۔۔ ” رائمہ اسکے مگر مچھ کے آنسوں صاف کرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔

“شکر ہے کہ تمہیں تو ۔۔میرا خیال ہے ۔۔۔ورنہ بھائی نے شادی ہوتے ہی کیسی نظریں بدلیں ہیں ” رقیہ خشمگیں نظروں سے رامس کو گھورا تھا

وہ غصے سے اٹھ کر باہر چلا گیا ۔۔۔

صحن پر چارپائی بچھائی اور لیٹ گیا ۔۔۔۔

رائمہ بیچاری بیچ میں پھنس گئ تھی ۔۔۔

نئ نئ شادی ایک طرف شوہر کا بگڑتا موڈاور دوسری طرف نند کے نخرے ۔۔۔

رات بھر رقیہ کے خراٹوں نے چین سے سونے بھی نہیں دیا تھا ۔۔۔ صبح رامس بھی بنا ناشتے کے چلا گیا

رائمہ نے ناشتے کا پوچھا تو بھڑک اٹھا

” میرے ناشتے کی فکر مت کرو تم ۔۔۔بس آپاں کے ناشتے کی کیا کرو سسرال والوں دل جیتو ۔۔۔ بس ” رائمہ کو آنکھیں دیکھاتے ہوئے یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔

رائمہ پریشان سی ہو گئ تھی ۔۔۔۔ اس کم تنخواہ اور تنگ حالات میں بھی رامس نے پھر بھی اس تین ماہ میں رائمہ کو شکایت کا موقع نہیں دیا تھا ۔۔۔۔ کئ باہر باہر سے چھوٹے موٹے ریسٹورنٹ سے کھانا بھی کھلایا تھا اور کراچی کی کافی جگہوں پر گھمایا بھی تھا ۔۔۔۔ رامس کی والدہ بھی بڑا چاؤ اور محبت ہی دیکھا رہیں تھیں ۔۔۔۔ نیندیں ویسے تو ٹھیک ہی تھیں آنا جانا بہت لگائے رکھتی تھیں

رائمہ اب یہ سوچ کر پریشان تھی کہ رامس کو منائے کیسے

******……..

کھڑکی سے ذرا سے ہٹے پردے سے صبح کی چمکتی دھوپ نے نیناں کا دمکتا ہوا روپ دیکھا تھا ۔۔۔

روشنی سیدھی نیناں کے چہرے اور آنکھوں میں پڑی تھی ۔۔۔۔

بند پلکوں پر چمکتی دھوپ نے دستک دی تھی ۔۔۔۔

نیند میں خلل سا ڈالا تھا پیشانی پر پل میں کئ بلو میں اضافہ ہوا تھا ۔۔۔ ناگواری سے نیند سے خمار آلود آنکھوں کو روشنی اپنی رقیب لگی تھی کسمسا اس نے کروٹ بدلی تھی ۔۔۔۔ لیکن ذرا سی آنکھ کھلی تو سامنے شاہزیب کے چہرے پر نظر پڑی جو بے خبر سویا ہوا بھی بہت پیارا لگ رہا تھا ۔۔۔۔ گزری ہوئی رات میں شاہزیب کے والہانہ اظہار نے ایک شرمیلی سی مسکان چہرے پر سجائی تھی ۔۔۔۔۔ گھنے بروان بالوں اور صاف ستھری رنگت کڑے نقش نین کے ساتھ وہ اچھی شکل و صورت کا مالک تھا ۔۔۔۔ ہمیشہ سے لاپروا سا دکھنے والا شاہزیب جو لڑکیوں سے کوسوں دور بھاگتا تھا جس سے محبت کا اظہار بھی نیناں نے خود کیا تھا ۔۔۔۔ اتنا رومنٹک بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔ نیناں نے سوچا نہیں تھا۔۔۔ دل اسکی ہمراہی سے شاد آباد اور پر سکون تھا ۔۔۔۔ شاہزیب سے نظریں ہٹا کر اس نے گھڑی کی طرف دیکھا نو بج رہے تھے ۔۔۔۔

سسرال میں پہلا دن تھا اس لئے مزید سونے کا ارادہ ملتوی کیا تھا ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ کچھ بھی نہیں پتہ تھا کہ ماحول کیسا ہے پھر سب میں اپنا پہلا امپریشن اچھا ڈالنا چاہتی تھی ۔۔۔ اس لئے بستر سے اٹھ کر اپنے بالوں کا جوڑا بنایا ۔۔۔۔۔ اپنے کپڑے نکالنے کے غرض سے الماری کھولی ۔۔۔ سامنے تہہ شدہ کپڑوں پر شاہزیب۔ کی شیروانی لا پروائی سے پھنکی پڑی تھی ۔۔۔ دوسرے خانے نیناں کے عام سے کپڑے بھی تہہ کیے ہوئے رکھے تھے ۔۔۔ الماری کا دوسرا پٹ کھولا تو چند فینسی جوڑے ہی ہینگ تھے ۔۔۔۔ شاہزیب نے جہیز لانے سے نیناں کو سختی سے منع کیا تھا ۔۔۔۔ اس لئے وہ بس دلہن کا جوڑا اور زیور ہی رانا بختیار کے گھر سے پہن کر آئی تھی ۔۔۔

لیکن یہاں بھی کپڑے گنتی کے چند ہی نظر آ رہے تھے ۔۔۔۔ سب سے پہلے اپنا واڈ روب یاد آیا تھا ۔۔۔۔ جہاں ایک سے بڑھ کر ایک جوڑا استری ہو کر ہینگ ہوئے ملتا تھا ۔۔۔۔ ان چند جوڑوں میں سے اس نے نیلے رنگ کا فینسی سوٹ نکال کر واش روم میں چلی گئ ۔۔۔ لیکن اگلے ہی پل الٹے قدم واپس آئی تھی ۔۔۔۔ چھوٹا سا واش روم اندر جاتے ہی چند قدموں پر ختم ہوا تھا ۔۔۔۔ پہلی بار اتنا چھوٹا واش روم دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ اس خیال سے کے اندر جا کر نیناں نے اسے بند بھی کرنا ہے ۔۔۔ اس کا دم گھٹا تھا ۔۔۔۔ دعوے کرنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن محبت کی خاطر مزید آزمائشیں تو اب نیناں کی زندگی شروع ہوئیں تھیں ۔۔۔ پہلے با مشکل گلے سے تھوک نگل کر خود کو اندر جانے کے لئے تیار کیا واش روم کے دروازے کو مکمل بند نہیں کیا تھا ۔۔۔ تھوڑا سا کھلا چھوڑ دیا تھا ۔۔۔۔

فریش ہو کر باہر آ کر ابھی گیلے بالوں پر کنگا کر ہی رہی تھی کسی نے بڑی زور سے دروازہ دھڑدھڑایا تھا ۔۔۔ نیناں بری طرح سے چونکی تھی ۔۔۔

” شاہو بھائی ساڈھے نو ہو رہے ہیں جلدی سے باہر آؤں شازیہ آپی کے گھر ناشتہ بھی لیکر جانا ہے ۔۔۔ ” نمیرہ کی چنگارتی آواز نے نیناں کے کانوں کے پردے تک متاثر کیے تھے لیکن شاہزیب کی نیند پر مطلق کوئی خاص اثر نہیں ہوا تھا ۔۔۔ وہ ٹس سے مس بھی نہیں ہوا تھا ۔۔۔ ویسے ہی اوندھا لیٹا ہوا ہوا دائیں جانب منہ کیے ۔۔۔۔ جیسے اس قسم کی دستک کاعادی ہو لیکن نیناں کے لئے تو جیسے یہ سب کچھ نیا اور انوکھا سا تھا ۔۔۔

اس لئے برش ڈرسنگ پر رکھ کر شاہزیب کے پاس آ گئ ۔۔۔۔ گرمیوں ابتدا تھی اس لئے بنیان پہنے سو رہا تھا۔۔۔ بلکل لا پروائی سے ۔۔۔خود کہیں۔۔۔۔ لحاف کہیں ۔۔۔ ٹانگ کہیں منہ بھی ہلکا سا کھلا ہوا ۔۔۔۔ نیناں نے اسے کندھے سے ہلایا تھا

” شاہزیب ۔۔۔۔ شاہزیب ” لیکن نیناں کا دھیمہ میٹھا لہجہ کہاں شاہزیب کو پکی نیند سے اٹھا سکتا تھا ۔۔۔ وہ ہلا تک نہیں تھا ۔۔۔ دروازہ پھر سے اچانک آنے والے زلزلے کی طرح دھڑدھڑایا تھا ۔۔۔ نیناں نے شاہزیب کو اٹھانے کا ارادہ ملتوی کر کے ڈوپٹہ سر رکھا اور دروازہ کھول دیا سامنے نمیرہ ریشمی بلیک سوٹ پہنے اپنے کھلے گھنگرالے بالوں کے ساتھ میک اپ کیے نک سک سی تیار شیار کھڑی تھی نیناں کو دیکھ کر مسکرا کر گلے لگ گئ

” ہائے میری پیاری بھابی صبح صبح بلکل چاند کا ٹکڑا لگ رہی ہو سچی ” نیناں اسکے بے ساختہ پیار اور تعریف پر مسکرائے بنا نہیں رہ پائی تھی ۔۔۔ کوئی بناوٹ نہیں تھی نمیرہ میں ۔۔۔۔ جو کر رہی تھی دل سے کر رہی تھی ۔۔۔۔ اس سے پیچھے ہٹ کر شاہزیب کو سوتا دیکھ کر بولی

” مجھے پتہ تھا یہ نہیں خود سے اٹھنے والے انہیں تو میں اٹھا سکتی ہوں یا عاصم ۔۔۔۔ ” نمیرہ یہ کہہ کر شاہزیب کے پاس آ گئ اسے کندھے سے پکڑ کر بری طرح سے جھنجھوڑ کر ہلا کے رکھ دیا

” شاہوں بھائی اٹھوں نا شازیہ آپی کے گھر ناشتہ لے کر جانا ہے “

شاہزیب نے با مشکل آنکھیں کھولیں تھیں پھر نمیرہ کو دیکھ کر گھورتے ہوئے بولا

” نمی صبح صبح کون سی افتاد ٹوٹ پڑی ہے تم پر مجھے کہیں نہیں جانا ۔۔۔ اور خبردار۔۔۔۔۔ خبردار جو مجھے جگایا تو ۔۔۔ نکلو کمرے سے باہر اور اپنے اس کالو شاہ سے کہوں کہ لے جائے تمہیں شازی کے گھر ۔۔۔۔۔ اب مجھے مت جگانا ” شاہزیب نے غصے سے اسے گھورتے ہوئے کہا

نمیرہ کا تو حیرت سے منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا ۔۔۔

” شاہوں بھائی نیند میں صبح ہی صبح کیا بول رہے ہو ہوش میں تو ہو ۔۔۔۔ کالو شاہ کسے کہا ہے ۔۔۔۔ ٹہرو ذرا بتاتی ہوں میں خرم کو ۔۔ بیچارا صبح ہی صبح اتنی لمبی لائن پر لگ کر گرما گرم بیس پوریاں لیکر آیا ہے ۔۔۔۔ تا کہ شازی آپی کے گھر ناشتہ وقت پر لے کر جائیں اور آپ ہو کہ ۔۔۔۔ ” نمیرہ روہانسی سی ہو کر بول رہی تھی لیکن شاہزیب نے تکیہ سر اور کانوں کے اوپر رکھا اور پھر سے سو گیا ۔۔۔۔

” سوئے پڑے رہو ۔۔۔۔ ” نمیرہ غصے سے اسکی کمر پر تھکپی مار کر واپس پلٹ گئ پیچھے نیناں بس حیران پریشان ہی کھڑی تھی۔۔۔۔ کسی سے کچھ دیر کے لئے میل ملاقات الگ چیز ہوتی ہے اور کسی کے ماحول میں رہنا دوسری بات ۔۔۔۔ وہ ایک ماڈرن گھر اور ماحول سے آئی تھی ۔۔۔۔ جہاں نوکروں سے ہلکی دھیمی آواز سے بات کی جاتی تھی ۔۔۔۔ اور یہاں کا ماحول بلکل برعکس تھا ۔۔۔۔ نمیرہ نیناں کے پاس آ کر اس کا ہاتھ پکڑے باہر آ گئ ۔۔۔۔ عاتقہ بیگم کچن میں ۔مصروف تھیں ۔۔۔۔۔ زمان صاحب ناشتہ کر چکے تھے بس چاہے پی رہے تھے۔ نیناں کو دیکھ کر اٹھ کر اس نے سر پر پیار دیا ۔۔

” جیتی رہو بیٹا۔۔۔ بیٹھو ناشتہ کرو ” زمان صاحب نے بڑے پیار سے کہاوہ چپ چاپ سے کرسی کھنچ کے بیٹھ گئ ۔۔۔

عاصم پہلی بار اپنے کمرے کے بغیر رات کو لاونج کے صوفے پر سویا تھا ۔۔۔ اس لئے اسے ڈھنگ سے نیند نہیں آئی تھی ۔۔۔۔ اوپر سے نمیرہ میڈیم بھی نو بجے گھر پہنچ گئ تھی ۔۔۔۔ عاصم نے منہ ہاتھ دھو کر اپنی نیند بھگائی تھی ۔۔۔۔۔۔ نیناں کو دیکھ کر سلام کیا ۔۔۔ اور ٹیبل پر بیٹھ گیا ۔۔۔

” یہ شاہزیب کہاں ہے “زمان صاحب نے چائے کا آخری گھونٹ پیتے ہوئے پوچھا

” سو رہے ہیں گھوڑے گدھے بیچ کر میں نے اتنا جاگیا لیکن ڈانٹ کر بھیج دیا مجھے۔۔۔۔ ” نمیرہ ٹیبل پر خرم کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولی ۔۔۔۔

” تم کہاں کرسی سنبھال رہی ہو ۔۔۔ چھوڑو شاہو کو ہم دونون دے آتے ناشتہ۔۔۔ پتہ ہے نا اپنی تائی اماں کی عادت کا ۔۔۔۔ ” خرم ابھی ناشتہ لیکر ہی آیا تھا گرما گرم پوریاں تھی اسے تھا جلدی شازمہ کے گھر پہنچا دے ۔۔۔ زمرد بیگم کے مزاج سے کون واقف نہیں تھا ۔۔۔

” خرم ٹھیک کہہ رہا ہے۔ نمی جاؤں بہن کو ناشتہ دے آؤں ” زمان صاحب نے نمیرہ سے کہہ کر عاصم کی طرف متوجہ ہوئے

” جاؤں عاصم اٹھا کر لاؤ شاہزیب کو ۔۔۔ یہ کیا طریقہ ہے بہو اکیلی ہی بیٹھی ہے ناشتے کے لئے اور اسے سونے سے فرصت نہیں ” زمان صاحب کے کہنے کی دیر تھی عاصم اٹھ کر کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔ اپنا بیڈ دیکھ کر دل چاہا کہ بھائی ساتھ لیٹ کر سو جائے ۔۔۔۔ لیکن باپ کا حکم تھا اس لئے شاہزیب کو کندھے سے ہلانے لگا ۔۔۔۔ لیکن بولا کچھ نہیں ۔۔۔۔ شاہزیب کو لگا کہ نیناں ہو گی ۔۔۔۔ آنکھ اسکی کھل چکی تھی ۔۔۔۔ اس لئے ایک شرارت سی سوجی تھی بند آنکھوں سے ہی کندھے پر رکھے ہاتھ کو پکڑ کر اپنی جانب کھینچا تھا ۔۔۔ بے ساختہ ایک وزنی وجود اس پر گرا تھا ۔۔۔ لیکن وہ اسے اپنے حصار میں لے چکا تھا ۔۔۔

” گڈ مارننگ سوئٹ ہارٹ “

” شاہوں بھائی چھوڑو مجھے ” عاصم کی آواز پر شاہزیب کے چودہ طبق روشن ہوئے تھے ۔۔۔۔ اس نے جھٹ سے آنکھیں کھول کر دیکھا ۔۔۔ چشمہ پہنے عاصم اس سے اپنا آپ چھڑوا رہا تھا ۔۔۔ شاہزیب نے فورا سے اسے خود سے پیچھے کیا تھا ۔۔۔

” موٹے بلے تم میرے کمرے میں کیا کر رہے ہو ” عاصم پیچھے ہٹ چکا تھا ۔۔۔۔ اور شاہزیب بھی اٹھ کر بیٹھ چکا تھا ۔۔۔۔

” مجھے تو ابو نے آپ کو جگانے کے لئے بھیجا تھا مجھے کیا پتہ تھا کہ ۔۔۔ ” وہ غصے سے اسے گھورتے ہوئے بولا ۔۔۔ شاہزیب کو ہی اپنی حرکت پر نظریں چرانی پڑیں

” اچھا اچھا اٹھ گیا ہوں میں ۔۔۔۔ ” وہ رعب جمانے کی نس کام کوشش کرنے لگا

” ہاں وہ تو ٹھیک ہے لیکن آپ نے مجھے کیوں کھنچا تھا وہ بھی اتنی زور سے اور پھر سوئٹ ۔۔۔ “

” وہ ۔۔۔۔ وہ ” شاہزیب کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ بہانہ کیا بنائے

” وہ تم پر پیار بہت آ رہا تھا ۔۔۔۔ یاد ہے کیسے مل کر ہم اس کمرے میں رہا کرتے تھے ۔۔۔۔ بس تمہیں مس کر رہا تھا اس لئے ” شاہزیب کی ڈرامہ بازی عاصم خوب سمجھتا تھا ۔۔۔

” سب سمجھتا ہوں میں بچہ نہیں ہوں ۔۔۔ ابھی جا کر ابو کو بتاتا ہوں ” عاصم کی دھمکی پر شاہزیب کے رہے سہے ہوش بھی اڑے تھے فورا سے اٹھ کر عاصم کے پاس آیا تھا ۔۔۔

” عاصم عاصم ۔۔۔ میرے پیارے بھائی ۔۔۔۔ میرے چاند کے ٹوٹے ۔۔۔میرے مکھن۔۔۔۔ رکںتو تو صحیح ۔۔۔۔ ” عاصم کا ہاتھ پکڑے وہ خوش آمد پر اتر آیا تھا اسکے پھولے پھولے سے گال پکڑ کر بولا

” دیکھ میرے للو ۔۔۔۔ میرے بلے ۔۔۔۔ آخر تمہیں بھی میری ضرورت پڑ سکتی ہے ۔۔۔کبھی نا کبھی ۔۔۔ اس لئے منہ بند رکھو تو بہتر ہے ۔۔۔۔ ” شاہزیب نے بڑے میٹھے سے انداز میں تنبیہ کی تھی

” منہ بند رکھنے کا معاوضہ ہوتا ہے شاہو بھائی ” عاصم نے اپنا کالر ٹھیک کرتے ہوئے کہا ۔۔

” ہاں۔ ہاں معلوم ہے شام کو دے دوں گا تمہیں۔ ببلی چوکلیٹ ۔۔۔۔ اب نکل باہر” لاپروائی سے شاہزیب نے کہا عاصم باہر جانے لگا تو اسے پھر سے پکارا ۔”

” اور شماٹو “

” جی ” عاصم پلٹ کر بولا

” نیناں کہاں ہے “

” باہر امی ابو کے ساتھ ناشتہ کر رہی ہیں “

“اوہ اچھا ٹھیک ہے ” شاہزیب یہ کہہ کر واش روم میں چلا گیا ۔۔۔ جب باہر آیا تو زمان صاحب جا چکے تھے رات کو ولیمے کے ضروری انتظامات دیکھنے کے لئے ۔۔۔

عاتقہ بیگم نے پوری حلوے کے ساتھ ساتھ بریڈاور بیکری کا سامان بھی منگوایا تھا ۔۔۔۔ امیر گھر کی لڑکی بہو بن کر آئی تھی نا جانے ناشتہ کون سا کھانا پسند تھا ۔۔۔ اس لئے آرنج جوس ۔۔۔ کے پیک بھی منگوا لئے تھے ۔۔۔۔

” بیٹا جو پسند ہو بلا تکلف کھاؤں ۔۔۔ ” عاتقہ بیگم کو اتنا کچھ ٹیبل پر رکھ کر بھی تسلی نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔۔ بس کچھ کمی کمی سی لگ رہی تھی ۔۔۔ شاہزیب کا البتہ وہی انداز تھا ۔۔۔ آ کر سیدھا کرسی پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔ عاتقہ بیگم نے ایک گلاس دودھ بیٹے کے سامنے رکھا تھا ۔۔۔

” شاہزیب پہلے دودھ پیو ناشتہ بعد میں کرنا ۔۔۔۔ ” عاتقہ بیگم شاہزیب کو کہہ کر نیناں سے پوچھنے لگی کہ کیا کھائے گی ۔۔۔ جو شاید جھجک سی رہی تھی ۔۔۔۔ ڈور بیل بجنے پر عاتقہ بیگم دروازہ کھولنے چلی گئیں

شاہزیب نے برابر بیٹھی نیناں کے بالوں کی لٹ ہلکی سی کھنچی تھی وہ اسے گھور کر رہ گئ تھی

” میرے بغیر ہی تمہیں ناشتے کا خیال آ گیا تھا ۔۔۔ مجھے نہیں اٹھاسکتی تھیں ۔۔۔ اوپر سے اس چشماٹو کو میرے پاس بھیج دیا ۔۔۔۔ ” دھیرے سے اس نے نیناں کے کان کے قریب ہو کر کہا

” میں نے اٹھایا تھا آپ کو ۔۔۔ لیکن آپ نہیں اٹھے ” یہ کہہ کر وہ گلاس میں جوس ڈالنے لگی جب سامنے کا مین گیٹ پورا کھلا تھا ۔۔۔۔ اور بڑے بڑے ٹوکرے اندر داخل ہونے شروع ہوئے تھے نیناں کا جوس کا گلاس ہاتھ میں رہ گیا تھا اور شاہزیب کا دودھ کا گلاس ۔۔۔۔دونوں کی نظریں سامنے سے آنے والے ٹوکروں پر تھی ۔۔۔۔ رانا صاحب کے گھر سے بیٹی کے لئے پہلا ناشتہ پوری شان شوکت سے اندر داخل ہو رہا تھا اور پورے پورشن میں موجود دس فلیٹ والے منہ کھولے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔ سب کے دروازے کھلے ہوئے تھے کچھ لوگ تو باقاعدہ باہر نکل کر دیکھ رہے تھے اور کچھ لوگوں نے لانے والے ملازم سے پوچھ گچھ بھی شروع کر دی تھی ۔۔۔ کئ لوگوں نے انگلیاں دانتوں میں دبائیں تھیں ۔۔۔۔ شاہزیب کی قسمت پر رشک کیا تھا ۔۔۔ کیا بڑی “چھلانگ لگائی ہے زمان کے بیٹے نے ۔۔۔۔ ارے دس ٹوکرے ناشتے کے آئیں ہیں ۔۔ لگتا ہے جہیز میں بنگلہ اور گاڑی تو ضرورت ملی ہو گی اور وقت گزاری کے لئے ایک شاندار سیٹل بزنس سٹ اپ۔۔۔۔”۔پڑوس کی ایک عورت نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے ٹوکرے اندر جاتے دیکھ کر رشک بھرے لہجے سے کہا

” جبھی تو جہیز کے نام پر کچھ نہیں دیا ۔۔۔ ارے بیٹی نے کون سا یہاں ڈربے میں رہنا ہے ۔۔۔ بس چند دن گزارنے آئی ہو گئ مہمانوں کی طرح یہاں کہاں گزارا کرتی ہیں ایسی امیر زادیاں لڑکے کو ہی ساتھ لے اڑتی ہیں ۔۔۔۔ سنا ہے اکلوتی بیٹی ہے ۔۔۔۔ ورے نیارے ہو گئے عاتقہ کے تو بیٹے کی تو لاٹری ہی نکل آئی ہے ” بڑی للچائی ہوئی نظریں اور لہجے تھے ۔۔۔۔ پھر جہاں وہ لوگ رہتے تھے ۔۔۔ وہاں تو کھسر پھسر بھی بڑے دھڑلے اور اونچی آواز سے کی جاتی تھی ۔۔۔ سامنے کا گھر خرام کا تھااور برابر والے گھر کی خاتون ایک دوسرے گھر کی خاتون سے بلند آواز سے اپنی طرف سے رازدارانہ باتیں کر رہی۔ تھیں جو عاتقہ بیگم کے ساتھ ساتھ شاہزیب اور نیناں بھی سن رہے تھے ۔۔۔۔ نیناں کے لئے یہ بات بھی نئ تھی ۔۔۔۔ لیکن۔ شاہزیب کی غیرت پر جا لگی تھی ۔۔۔۔ ساتھ میں رحمت بی بی بھی آئیں تھیں ۔۔۔

نیناں ان سے ملنے کے لئے کھڑی ہو گئ ۔۔۔ بچپن انکی گود میں گزرا تھا ۔۔۔ اگر وہ ماں نہیں تھیں تو ماں سے کم بھی نہیں تھیں اس لئے دلی وابستگی فطری سی بات اس لئے ان کے گلے لگ کر وہ ملی تھی ۔۔۔۔

وہ بھی اسکے ماتھے پر بوسہ دینے لگیں دعائیں دینے لگیں ۔۔۔۔

عاتقہ بیگم نے بھی مسکرا کر انہیں سلام کیا ۔۔۔

” آئیے نا ناشتہ کیجیے ” عاتقہ بیگم نے خوش دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرسی کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔

” نہیں جی ۔۔۔۔ ہماری اتنی حیثت کہاں ۔۔۔ آپ مالک لوگ ہیں ۔۔۔ میں بس بے بی سے ملنے آئی تھی ۔۔۔ ” رحمت بی بی اپنی حیثیت سے واقف تھی ۔۔۔

” یہ اونچ نیچ حیثت رانا صاحب کے گھر پر ہوں گئیں ۔۔۔۔ ہمارے گھر سب برابر ہیں آپ بیٹھیے ۔۔۔۔ یہاں کرسی پر ۔۔۔۔ اور ناشتہ کیے بغیر بلکل جانے کی اجازت نہیں ہے ” شازیب نے دودھ کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا ۔۔۔

” ہاں بیٹھیں نا رحمت بی بی ۔۔۔ ” نیناں نے بھی کہا تووہ جھجکتے ہوئے بیٹھ گئیں ناشتہ وہی کیا جو سامنے رکھا تھا ۔۔۔۔

جانے سے پہلے رحمت بی بی نیناں کو یہ بتانے لگی کہ کس ٹوکرے میں کیا کیا رکھا ہے ۔۔۔۔ دیسی ناشتے سے لیکر بیکری اور اس کے علاؤہ نا جانے اور کیا کیا تھا ان ٹوکروں میں ۔۔۔۔

” سنئیں ۔۔۔۔ یہ سب سامان واپس لے جائیے ” شاہزیب کی بات پر رحمت بی بی نے متحیر سا ہو کر نیناں کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔ حیران تو نیناں بھی تھی لیکن شاہزیب۔ کی عادت سے واقف تھی ۔۔۔ اس لئے چپ ہی رہی ۔۔۔۔

” لیکن یہ سب صاحب جی نے نیناں کے لئے بھیجا ہے پھر رسم بھی ہے ” رحمت بی بی نے دھیرے سے کہا

” نیناں اب ان کی زمہ داری نہیں ہے ۔۔۔ اور رسم ورواج کی پاسداری کا تکلف رانا صاحب کو ویسے بھی پسند نہیں ت?