No One Wheeling (Season 2) by Umme Hani NovelR50410 No One Wheeling Episode 4
Rate this Novel
No One Wheeling Episode 4
No One Wheeling by Umme Hani
نیلو فر کا داخلہ ہو چکا تھا ۔۔۔۔
باسم مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔اپ پلیز
مجھے کلاس کے اندر تک چھوڑ کر آئیے گااور سب لڑکوں سے منع کر دیجیے گا کہ مجھ سے بات نا کریں “پہلی بار جب باسم نیلو کو یونیورسٹی لے جانے لگا تواسکی گل فشانیاں سن کر ہسنے لگا
“چھوٹی سے بچی ہیں آپ فری ۔۔۔۔ جو میں کلاس روم تک چھوڑ کر آؤں گا اور کہوں گا کہ دیکھوں میری بیگم کا ٹفن کوئی نہیں کھائے گا “باسم کی بات پر وہ خجل سی ہو گئ باسم ہسنے لگا تھا
“میں صرف یونیورسٹی کے گیٹ تک چھوڑو گا باقی آپ خود مینج کریں گیں غلط صحیح سب آپ خود کریں گئیں تبھی تو با اعتماد ہوں گی انسان غلطیوں سے زیادہ سیکھتا ہے ۔۔۔۔اب بیٹھیں بائیک پر ” نیلو سمجھ گئ تھی کہ وہ روئے دھوئے کچھ بھی کرے لیکن باسم کو کوئی فرق نہیں پڑے گا اس لئے اسے خود ہی حالات سے نمٹنا ہے
اس بار وہ گھبرائی نہیں تھی ۔۔۔ اپنے ڈیمانمنٹ بھی خود ڈھونڈا تھا اور کلاس میں بھی۔ بڑے اعتماد سے بیٹھنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔ برابر بیٹھی لڑکی سے تعارف کے بعد بس ہوتا دن انٹروڈکشن میں ہی گزرا تھا ۔۔۔۔ ساتھ بیٹھی لڑکی کافی باتونی سی تھی اس لئے نیلو کا بھی دل لگا رہا تھا ۔۔۔۔
******…….
“کیا ہو گیا شاہزیب ” عاتقہ بیگم نے اسکی کمر تھپتھپائی تھی ۔۔۔ دو منٹ بعد وہ کھانس کھانس کر سنبھلا تھا ۔۔۔۔
نیناں کمرے میں ہی تھی ۔۔۔۔ بڑی مشکل سے وہ شازمہ اور نمیرہ سے جان چھڑوا کر کمرے میں آیا تھا ۔۔۔
اندر آیا تو نیناں اپنے آنسوں پونچ رہی تھی ۔۔۔ حالت تو شاہزیب کی بھی ایسی تھی کہ رو ہی دے
دو دو نوکریوں کے بعد بھی وہ مہینے کا 35 ہزار کما پا رہا تھا اور اس پر اسکے سمسٹر کی فیس گھر کے اخراجات کے بعد وہ اے سی کے سیونگ کر رہا ۔۔۔۔ لیکن اب تو لگ رہا تھا کہ ۔۔۔ سب کچھ بہت مشکل ہے ۔۔۔ وہ گہری سانس بھر کر نیناں کے پاس بیٹھ گیا ۔۔۔۔ یہ پہلی بات تھی جس کا اظہار نینان سے کرنا مشکل تھا ۔۔۔۔
” تم کیوں رو رہی ہو ” دل میں کہا کے رونا تو مجھے چاہیے ۔۔۔۔ جتنی وہ بچت کے بارے میں سوچ رہا اتنا ہی مہداریاں سر اٹھا رہیں تھیں
” پتہ نہیں ۔۔۔ کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا ہے ” نیناں خود اپنی کیفت سمجھ نہیں پا رہی تھی ۔۔۔ شادی کے بعد اسکی زندگی یک دم سے بدل کر رہ گئ تھی ۔۔۔۔ ابھی تو ٹھیک سے ذمہ داریاں ہی سمجھ نہیں پائی تھی نبھانا تو دور کی بات تھی
پھر ماحول الگ۔۔۔ رہن سہن الگ ۔۔۔ بنا اے سی کے نا رات کی نیند پوری ہوتی تھی نا کچن میں جانے کو دل چاہتا تھا ۔۔۔۔ گھر
بھی ہوادار نہیں تھا ایک گھٹن سی محسوس ہوتی تھی ۔۔۔ انہیں جھمیلوں کو سمجھ نہیں پائی تھی اب یہ ایک نئ ذمہ داری ۔۔۔۔ کم عمر بھی تھی بیس سال کی ہوئی تھی ایف ایس سی کا رزلٹ بھی نہیں آیا تھا ۔۔۔۔ ایسا لگ رہا تھا
کوئی نا معلوم سا بوجھ کندھوں پر ڈل گیا ہو
” سیم ٹو نیناں ۔۔۔ مجھے سچ میں کچھ اچھا نہیں لگ رہا۔۔۔۔۔ مطلب اتنی جلدی سے یہ سب ۔۔۔ ؟ ” نیناں جو شاہزیب سے ایک تسلی بخش سا جواب سننا چاہتی تھی اسے پریشان حال دیکھ کر اور یہ سن کر با مشکل رکے آنسوں دوبارہ بہنے لگے تھے ۔۔۔
” شاہزیب اس میں میرا کیا قصور ہے ” نیناں کے رونے پر وہ زچ ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔ لیکن بات تو سچ تھی اس کا کیا قصور تھا ۔۔۔۔
” یار میں نے کب کہا تمہارا قصور ہے ۔۔۔ اچھا چپ تو کرو ۔۔۔۔ رونے سے کیا ہو گا ۔۔۔ ٹھیک ہے جو ہو گیا سو ہو گیا اللہ مالک ہے ۔۔۔۔ جو انسان دنیا میں آتا ہے اپنا نصیب لیکر آتا ہے ۔۔۔ ہو سکتا ہے میری ترقی ہو جائے ۔۔۔۔ تم پریشان مت ہو اب ” مرتا کیا نا کرتا والی مثال اسوقت شاہزیب پر فٹ
تھی ۔۔۔۔ نیناں کو تسلی دے کر چپ کروایا تھا ۔۔۔۔
اپریل کی بڑھی گرمی ہی کم نا تھی کہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ شروع ہوا گیا تھا ۔۔۔
رات بارہ بجے جانے والی لائٹ رات دو بجے واپس آتی تھی ۔۔۔ کھڑکی سے پردہ ہٹانے کے باوجود مجال تھی کہ ہوا کمرے کے اندر داخل ہو جائے ۔۔۔۔ نیناں تو دو دن میں بوکھلا کر رہ گئ تھی ۔۔۔۔ آدھی رات وہ جاگ کر گزارتی تھی ۔۔۔ چہرہ کملا کر رہ گیا تھا
ایک اپنی نئ بدلنے والی کیفت سے تنگ تھی ۔۔۔ ہر چیز کی بو سے اس کا جی متلانے لگتا تھا اس پر بند کمرے میں بنا پنکھے کے اس کا دم گھٹنے لگا تھا ۔۔۔۔
دو دن تو صبر سے گزار لئے لیکن تیسری رات وہ بے بسی سے رونے لگی تھی ۔۔۔ شاہزیب کی آنکھ اسکی سسکیوں کی آواز سے کھلی تھی ۔۔۔ وہ بھی اس لئے کھل گئی کے لائٹ کے جاتے ہی مچھر کان میں بھنبنانے لگتے تھے ۔۔۔۔ اس پر حبس پسینہ ۔۔۔
شاہزیب نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو نیناں گھٹنوں کو جوڑے اس پر بازو باندھے اپناسر رکھے رو رہی تھی کھڑی سے اندر آنے والی چاند کی ہلکی سی روشنی میں وہ بامشکل اسکو دیکھ پا رہا تھا
” اب تمہیں کیا ہوا ہے ۔۔۔ ایک تو تم پتہ نہیں کیوں بات بات پر رونے لگتی ہو ” شازیب پہلے ہی لائٹ نا ہونے کی وجہ سے کوفت میں مبتلا تھا اس پر نیناں کا رونا
” شاہزیب کیا میں صبح پوپس کے پاس چلی جاؤں چند دن رہنے ؟ ۔۔۔۔ بہت مس کر رہی ہوں انہیں ” اصل تو وہ گرمی سے بے تاب تھی
” یہ رات کے ایک بجے تمہیں بند لائٹ اور گرمی کے ہوتے ہوئے باپ کی محبت تو نہیں رلا سکتی نیناں یہ تو میں سو فیصد وثوق سے کہہ سکتا ہوں ” شاہزیب کوفت بھرے انداز سے بولا اور اٹھ کر بیٹھ گیا ۔۔۔ آنے والی جمائی کو بے زاری سے ہاتھ سے روکا تھا ۔۔
” نہیں شاہزیب ۔۔۔۔ سچی بہت یاد آ رہی ہے ۔۔۔ کل چلی جاؤں ؟ ” نیناں نے التجا کی تھی ۔۔۔۔ شاہزیب کو اسکی حالت پر ترس آ رہا تھا ۔۔۔ کون کہتا ہے کہ محبت کی شادی ہی لائف کی ہیپی اینڈنگ ہے ۔۔۔۔ شاہزیب نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے سوچا
” نیناں گھبرا گی ہو نا میرے ساتھ رہ کر ۔۔۔ گرمی۔۔۔۔ بند لائٹ ۔۔۔۔ چھوٹا سا کمرہ بنا کسی آسائش کے ۔۔۔ تمہیں اس وقت رانا صاحب نہیں اپنی پر آسائش زندگی یاد آ رہی ہے ۔ جو میں شاید تمہیں نہیں دے پا رہا ہوں ۔۔۔ ” نیناں کے دل کی بات شاہزیب کے لبوں پر تھی ایسا ہی تھاوہ جو دل میں وہی لبوں پر ۔۔۔۔ نا وہ اپنے جذبے چھپانے آتے تھے نا باتیں ۔۔۔
” نہیں شاہزیب ۔۔۔۔۔ ای۔۔۔ایسی بات تو نہیں ہے ۔۔۔ میں خوش ہوں ” نیناں نے اسے یقین دلانا چاہا لیکن اسکی آنکھیں اسکی بات کی چغلی کھا رہیں تھیں
” دیکھوں تم مجھ سے سچ بھی کہہ سکتی ہو ۔۔۔۔ میں تمہاری کیفت سمجھ سکتا ہوں ۔۔۔ بے فکر رہو طعنہ نہیں دونگا تمہیں۔۔۔۔ کیا بات ہے بتاؤ مجھے جب محبت مل کر کی ہے تو ہر مشکل بھی مل کر ہی فیس کرنی ہے نا ۔۔۔۔ ” شاہزیب نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر رسانیت سے کہا
” شازیب مجھ سے گرمی برداشت نہیں ہوتی ہے باقی سب ٹھیک ہے ” نیناں نے اپنی سب سے سخت ترین مجبوری بتائی تھی جس کے حل کی اسے اشد ضرورت تھی ۔۔۔
” اسی کے پیسے جمع کر رہا تھا نیناں ۔۔۔ لیکن اب ۔۔۔ ” کہتے کہتے وہ رکا تھا
” اب کیا ” نیناں کے استفسار پر بول نہیں پایا کہ ایک نئے مہمان نے سب کچھ چوپٹ کر رکھ دیا ہے ۔۔۔۔ جسے اس وقت ماں باپ کی مجبوری سمجھنی چاہیے تھی
” کچھ نہیں ۔۔۔۔۔ کرتا ہوں کچھ سیفی سے ادھار لے لیتا ہوں ۔۔۔ کل تک اے سی لگوا دوں گا تمہیں ” شاہزیب نے بات بدلی ۔۔۔ اللہ کی نعمت پر کفار نعمت بھی نہیں ہو سکتا تھا
“اور بل ۔۔۔۔ بل کیسے بھریں گئے ” پہلی بار نیناں نے مڈل کلاس بیوی ہونے کا ثبوت دیا تھا وہ بھی اس لئے کہ چار ہزار کا بل دیکھ کر صبح عاتقہ بیگم کا ہاتھ سینے پر گیا تھا
” اتنا سارا بل ؟ زمان میں تو بہت احتیاط سے بجلی برتی ہوں ۔۔۔ پھر بھی ؟
” یونٹ پر پیسے بڑھ گئے بیگم ۔۔۔۔ تم چاہے سارا دن اندھیرے میں بیٹھی رہو اس سے کم بل آنے والا نہیں ہے ” زمان صاحب نے بل عاتقہ بیگم سے لیکر جیب میں ڈالا تھا نیناں بھی وہیں بیٹھی تھی ۔۔۔۔ اس لئے یہ بات ذہن میں رہ گئ اور اے سی کا سن کر اسے پہلا خیال بل کا ہی آیا تھا اے سے تو بل بھی ہواں سے باتیں کرتا
” بل کی تو فکر ہی مت کروں ۔۔۔ کنڈا سسٹم زندہ آباد ” شاہزیب نے لاپروائی سے کہا
” کنڈا سسٹم مطلب ؟ ” نیناں نے نافہم انداز سے کہا
” ہماری کھڑکی سے باہر بجلی کی تاریں صاف نظر آتی ہیں بس ایک تار پر کنڈا لگا کر نشانہ سامنے لگی مین تار پر لگانا ہے ۔کنڈا اس تار سے سڑک جائے گا ۔۔ پوری رات اے سی چلے گا سکون سے سونا صبح اٹھ کر ہٹا لیں گئے ۔۔۔ بل نہیں آئے گا جمی ہے نا ۔۔۔ وائر نگ کاسارا کام وہ سنبھال لے گا ” شاہزیب نے بڑے فخر سے بجلی چوری کا آسان حل بتایا تھا ۔۔۔
“مطلب بجلی چوری کریں گئے ؟ ۔۔ یہ تو غلط ہے اور اگر پکڑے گئے تو سزا اور جرمانہ الگ سے بھرنا پڑے گا ” نیناں نے فکرمندی سے کہا
” اتنی ہمت نہیں ہے کسی میں ویسے بھی ۔۔۔۔۔یہاں بہت سے فلیٹ والے یہی سب کرتے ہیں اس معاملے میں سب کا ایکا ہے کوئی کسی کا راز فاش نہیں کرتا ۔۔۔ حکومت بھی تو ہمہیں لوٹ رہی ہے وہ بھی دونوں ہاتھوں سے ۔۔۔ کیا حرج ہے ہم بھی تھوڑی سی چوری کر لیں ” شاہزیب کے پاس ہر دلیل موجود تھی ۔۔۔۔ نیناں کو یہ سب ٹھیک نہیں لگ رہا تھا
” شاہزیب یہ سب ٹھیک نہیں ہے “
” اچھا تو جو ہمارے ساتھ ہو رہا ۔۔۔ وہ ٹھیک ہے ؟
میں نے ایم اے کیے بہت سے لڑکوں کو ٹیکسی چلاتے دیکھا کے کیونکہ انہیں میرڈ پر نوکری نہیں ملتی اور جاہل زمیدار نکلی ڈگریاں لئے حکومت کے عہدوں پر فائز ہے نا اہل ہوتے ہوئے بھی ۔۔۔۔ کیا یہ ٹھیک ہے ؟
اچھے خاصے تعلیم یافتہ پوزیشن ہولڈر لوگ بے روزگاری سے تنگ آ کر خود کشی اختیار کر لیتے ہیں۔۔۔۔۔اور ہمارا موروثی سیاسی نظام نا اہلی کے باوجود قائم دائم رہتا ہے ۔۔۔۔ کبھی بھی اسے موقع نہیں ملتا جو اسکی اہلیت رکھتا ہو
کیا یہ ٹھیک ہے ؟
آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہونے پر لوگ اپنی خواہش تو درکنار اپنی ضرورتیں ہی کم کرتے نظر آتے ہیں ۔۔۔ کیا یہ ٹھیک ہے ؟ جہاں حکومت کی طرف سے اتنی لا پروائی ہے تو حرج کیا ہے میری مینا کہ ہم بھی تھوڑی سی خود غرضی دیکھا دیں “
” مجھے پھر بھی ٹھیک نہیں لگ رہا ” نیناں اب بھی اپنے موقف پر قائم تھی ۔۔۔ شاہزیب نے کندھے اچکائے
” او کے نیناں پھر گرمی انجوائے کرو ۔۔۔۔ خبردار جو سو سو کر کے میری نیند خراب کی تو ” شاہزیب نے زچ ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔ یہ سن کر فورا نیناں اپنے موقف سے ہٹی تھی
” شاہزیب آپ کی بات اتنی بھی غلط نہیں ہے ۔۔۔ اتنی سی ذرا سی بے ایمانی تو ہم بھی کر سکتے ہیں کوئی حرج نہیں ہے ۔۔۔ “۔ چہرے پر آنے والے پسینے کو پونچتے ہوئے بولی میں عادت تھی یہ سب برداشت کرنے کی ۔۔۔۔
” چلو پھر اب سونے کی کوشش کرو پندرہ منٹ تک لائٹ بھی آ جائے گی ” ۔۔۔۔ شاہزیب نے شکر کیا تھا ۔۔۔
رات کو یہی بات شاہزیب نے سیفی اور جمی سے کی تھی ۔۔۔۔ جب سے خرم کی شادی نمیرہ سے ہوئی تھی وہ ادھار پیسے خرم سے بلکل نہیں مانگتا تھا ۔۔۔
” تمہارے پاس کتنے ہیں “سیفی ساری بات سن کرکہا
” مشکل سے دس ہزار “
” میرے پاس صرف چھ ہیں ” سیفی نے بتایا
” باقی کے میں کر دونگا ۔۔۔ اور میرے ماموں ایک اچھی حالت کا سکینڈ ہینڈ اے سی کے دیں۔ گئے فٹنگ میں کر دو گا ” جمی نے تسلی دی
” بس دو تین دن رک جا سب ہو جائے گا ” سیفی کی بات پر وہ کچھ مطمئن ہوا تھا ۔۔۔۔
لیکن رات ڈنر پر نیناں نے سب گڑ بڑ کر دی تھی ۔۔۔
شازمہ کے ساتھ ہی وہ بیٹھی تھی ۔۔۔ شازل کے حالات کچھ بہتر تھے اس لئے اس کے کمرے
میں اے سی موجود تھا زمرد بیگم کے ہزار بار ٹوکنے پر بھی وہ اے سی ضرور چلاتا تھا ۔۔۔ پھر گھر کے حالات زمان صاحب کے گھر سے بہتر تھے
اس لئے شازمہ نے بھی جلد واپسی کا فیصلہ کیا تھا
” امی میں شازل کو آج ہی بلا لوں گی ۔۔۔ گھر چلی جاؤں گی ۔۔۔ گرمی سے رات بھر نیند نہیں آئی مجھے ۔۔۔۔۔ وہاں تو پھر کچھ گھنٹے اے سی چل ہی جاتا ہے ۔۔۔ ” شازمہ نے پلیٹ میں سالن ڈالتے ہوئے کہا
” شازی آپی ۔۔۔ کل تو شاید ہمارے کمرے میں بھی اے سی لگ جائے شاہزیب کوشش کر۔ رہے ہیں ” نیناں نے مسکرا کر شاہزیب کو دیکھا تھا جو زمان صاحب کے برابر ہی بیٹھا کھانا کھا رہا تھا ۔۔۔ زمان صاحب منہ سے تو کچھ نہیں بولے لیکن چہرے پر فکرمندی سی ضرور آ گئ تھی ۔۔۔ جانتے تھے بہو بڑے گھر سے آئی ہے ۔۔۔ بہت سی آسائشوں کی عادی ہے ۔۔۔۔ ہر چیز تو نہیں چھوڑ سکتی لیکن شازمہ کہاں کسی کا لحاظ رکھنا جانتی تھی
” اچھا ۔۔۔ ایک کلو میٹھائی کھلانے پر تو کل تمہارے میاں نے دہائی ڈال رکھی تھی ۔۔۔ یہ ستر اسی ہزار اے سی کے کہاں سے آئیں گئے
” سکینڈ ہینڈ لینا ہے ” نیناں کو شازمہ کا لہجہ کچھ عجیب لگا تھا روکھا سوکھا سا شازیب کے اشارے بازیوں پر نیناں کی نظر نہیں پڑی تھی وہ اسے چپ رہنے کا اشارہ کر رہا تھا
” اور بل ؟ ۔۔۔ وہ کون بھرے گا ” شازمہ نے اگلا سوال جڑا تھا
” اسکی فکر نا کریں کنڈا سسٹم ہے نا ۔۔۔ سب ہو جائے گا ” نیناں زمان صاحب کے سامنے بڑے فراٹے سے شاہزیب کے نادر خیالات کا ذکر کیا تھا ۔۔۔ شاہزیب جو اب تک اسے اشارے بازیوں سے چپ رہنے کا کہہ رہا تھا کہ سن کر اپنے ماتھے پر ہاتھ مار کر بیٹھ گیا ۔۔۔ تیر کمان سے نکل چکا تھا ۔۔۔۔ زمان صاحب کو یہ سب سخت نا پسند تھا شاہزیب نے جو کچھ کرنا تھا باپ سے چھپ کر کرنا تھا ۔۔۔ لیکن اب تو نیناں کی مہربانیوں سے ممکن نہیں رہا تھا ۔۔۔
” شاہزیب کیا ہے یہ سب ” زمان صاحب نے کڑے تیور سے کہا
” ک۔۔۔کچ۔۔۔ کچھ ۔۔ نہیں ابو ” نیناں کو وہ گھورنے کے بعد زمان صاحب سے ہچکچا کر بولا جو بڑے دھڑلے سے اس کا راز فاش کر چکی تھی وہ بھی انجانے میں
” کھانا ختم کر کے ذرا میرے کمرے میں ۔ آؤں” یہ کہہ کر زمان صاحب پھر سے کھانا کھانے لگے شاہزیب اب غصلی نظروں سے نیناں کو دیکھ کر نوالے بھی غصے سے چبا رہا تھا نیناں اسے دیکھ کر متذبذب سی ہو گئ ۔۔۔ یہ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ یوں گھور کیوں رہا ہے ۔۔۔ شازمہ کی میسنئ ہنسی نے شاہزیب کو مزید آگ لگائی تھی ۔۔۔
کھانا کھاتے ہی پہلے تو کمرے ۔میں نیناں پر برسا تھا
” تم چپ نہیں رہ سکتی تھی ۔۔۔ کیا ضرورت تھی ساری الف لیلی کی داستان ابو کے سامنے سنانے کی “
” مجھے کیا پتہ تھا شاہزیب کے یہ بات نہیں بتانی ” نیناں نے نافہمی کا مظاہرہ
” جی تو چاہا رہا ہے ایک لگاؤں تمہیں ” وہ غصے کو ضبط کرتے ہوئے بولا ۔۔ نیناں نظریں جھکا گئ ۔۔۔ شرمندہ بھی تھی
” میرا باپ کتابی زندگی جینے کا عادی کے ۔۔۔ سچ ۔۔ ایمانداری ۔۔۔ اصولوں کی پاسداری ۔۔۔ سب کچھ خود پر فرض کر رکھا ہے ۔۔۔ گرمی میں بے حال ہو جانا منظور ہے لیکن بجلی کی چوری نہیں کرنی ۔۔۔۔ تم تو کہہ کر بیٹھ گئ ہو بھکتنا مجھے پڑے گا ۔۔۔ ایک بات میری اچھی طرح سمجھ لو ۔۔۔۔
آج کے بعد تم ابو کے سامنے کچھ نہیں بولو گی ۔۔۔ “
” ٹھیک ہے نہیں بولتی ۔۔۔ لیکن شاہزیب اے سی تو لگ جائے گا نا ؟ ” اس وقت نیناں کو یہی ایک فکر تھی
” پتہ نہیں مجھے ” غصے سے یہ کہتا ہوا وہ کمرے سے نکلا تھا
*********…..
رائمہ امید سے ہوئی تو چند دن میکے رہنے آئی تھی
خوش تھی ۔۔۔۔ شادی کو تو نیلو کے بھی چار ماہ ہو چکے تھے ۔۔۔ لیکن ایسی کسی خوشی اسے نہیں۔ملی تھی ۔۔۔ اگر کچھ ملا تھا تو وہ تھا یونیورسٹی کا داخلہ ۔۔۔۔ رائمہ کے چہرے کی رونق قابل دید تھی ۔۔۔۔نیلو کے دل میں نئے ارمانوں نے چٹکی کاٹی تھی ۔۔۔۔
” ۔۔۔۔ پورا دن نیلو کا رائمہ کے ساتھ باتیں کر کے ہی گزرا تھا
شام کو جب وہ کمرے سے تیار ہو کر کمرے سے نکلی تو برابر والے کمرے سے رائمہ اور رابعہ بیگم کی آواز سن کر رک گئ دونوں اسکے متعلق ہی گفتگوں کر رہیں تھیں
” رائمہ میری بڑی خواہش تھی کہ اللہ میرے گھر بھی بچوں کی رونق لگا دے ۔۔۔ لیکن ان دونوں میاں بیوی کے کچھ اور ہی ارادے لگتے ہیں ۔۔ یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا ہے ۔۔۔۔ اور باسم وہ میری کچھ سننے کو تیار نہیں ہے ۔۔۔۔ کہتا ہے اسے مزید تعلیم دلوانی ہے “رابعہ بیگم کی بات سن کر نیلو افسردہ ضرور ہو گئ تھی
” امی اس میں باسم اور نیلو کا تو کوئی قصور نہیں ہے جب اللہ خیر کر دے گا تو وہ کیوں انکار کریں گئے ۔۔۔۔ آپ بھی اتنا مت سوچا کریں ۔۔۔۔ ” رائمہ نے ماں کی بات کا جواب دیا ۔۔۔۔ نیلو وہاں سے ہٹ کر شام کی چائے بنانے چلی گی آج تو افسانے آتے ہی باسم بھی بہن کو دیکھ کر بہت خوش ہوا تھا ۔۔۔۔ رباب کے نوٹس اسے پکڑا کر رائمہ کے ساتھ ہی بیٹھ گیا تھا چائے بھی اسی سے باتوں کے درمیان ہی پی تھی
” رات کو کھانے کی تیاری میں رائمہ بھی اس کے ساتھ لگ گئ
” رائمہ تم رہنے دو اپنے گھر سے کرتے ہوئے ہی آئی ہو ” نیلو نے شلف پر گوندا ہوا آٹا رکھتے ہوئے کہا پھر توے کے نیچے آگ جلانے لگی
” اس سے کیا فرق پڑتا ہے نیلو ۔۔۔۔ میں تم لوگوں کے ساتھ رہنے آئی ہوں تمہارے ساتھ باتیں کرنے آئی ہوں بوجھ بننے تھوڑی کے نند ہوں تو میم صاحبہ بنکر بیٹھ جاؤں اور یہ چاہوں کے تم میری بھابی ہو تو پانی کا گلاس تم ہی مجھے پیش کرو گی ۔۔۔ “رائمہ آٹے کے باول سے گوندا ہوا آٹا نکال کر روٹی کا پیڑا بنانے لگی
” وہ ٹھیک ہے لیکن کام ہی کتنا ہے اور رباب ہے نا میرے ساتھ ہر کام میں ہاتھ بٹاتی ہے ” نیلو کو پھر بھی رائمہ کا کام کرنا اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔۔
لیکن رائمہ اسکے ساتھ کچن میں مصروف ہی رہی کھانے کے بعد چائے رباب نے بنائی تھی ۔۔۔۔ رباب اور عاصم تقریبا ہم عمر تھے اور میٹرک میں آ چکے تھے ۔۔۔ لیکن پڑھائی کے معاملے میں۔ رباب باسم پر گئ تھی ۔۔۔ لیکن عاصم شاہزیب پر نہیں تھا ۔۔۔۔ چیٹنگ کے ساتھ ہی بی گریٹ لینے کے بعد بھی راضی بازی ہی نظر آتا تھا اور یوں اترا کے چلتا جیسے پورے صوبہ سندھ میں ٹاپ کیا ہو
اور رباب٪ 96لیکر بھی اس افسوس میں گزارتی تھی کے 98 یا 97٪ کیوں نہیں لے پائی ۔۔۔
نیلو رات کو باسم کو رائمہ کے بارے میں بتانے لگی
“باسم کتنی خوشی کی بات ہے نا ۔یہ ” نیلو کی آنکھوں میں ایک چمک سی تھی
” ہاں ہے تو ” گھڑی اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر بولا اور تکیہ درست کر کے لیٹ گیا۔ نیلو بھی لیٹ چکی تھی
” باسم ہمہیں یہ خوشی کب ملے گی ” نیلو فر کو رابعہ بیگم کی باتیں یاد آنے لگیں
” فری یہ اللہ کو پتہ ہے ۔۔۔ میں اور تم تو یہ جان نہیں سکتے ” باسم کو نیلو کا سوال احمکانہ سا لگا تھا
” ہاں وہ تو ہے ۔۔۔ ” وہ مایوس سی ہوئی تھی ۔۔۔
” میں سوچ رہی تھی ۔۔۔ کیوں نا میں رائمہ کی لیڈی ڈاکٹر سے بات کروں “
” کس سلسلے میں ؟”
” باسم نے زریک نظروں سے اسے دیکھا تھا
” یہی کہ میری شادی کو اتنا عرصہ گزرا گیا ہے ۔۔۔ تو ۔۔۔۔ ” نیلو نے ذو معنی بات کی تھی
” فری ۔۔۔ کتنا عرصہ گزر گیا ہے ۔۔۔ کیا سالوں بیت گئے ہیں “
“نہیں لیکن “
“کیا کسی نے اس حوالے سے کچھ کہا ہے آپ سے ؟”
” نہیں تو ” وہ فورا سے مکر گئ تھی
“مجھے نہیں لگتا کہ امی نے ایسا کچھ کہا ہو گا یا رائمہ نے “
” نہیں کسی نے کچھ نہیں کہا ” نیلو نے رخ بدلہ تھا کہ کہیں نیلو کی وجہ سے کوئی بد مزگی نا پیدا ہو جائے پھر اتنی بڑی تو بات بھی نہیں ہوئی تھی
” فری میں دوبارہ یہ بات آپ کے منہ سے سننا چاہتا
اللہ کو جب منظور ہو گا ۔۔۔ وہ خود ہمہیں اس نعمت سے نواز دے گا ۔۔۔ “
باسم کی سنجیدگی پر وہ بھی چپ ہو گئ تھی
*****…….
شاہزیب نے دھڑکتے دل کے ساتھ زمان صاحب کے کمرے کادروازہ دھیرے سے بجایا تھا
” اندر آ جاؤ شاہزیب ” م لہجہ بہت متوزن ساتھا
جب سے نیناں کے معاملات سے دونوں باپ بیٹا گزرے تھے ۔۔۔جس طرح زمان صاحب کے ایک بار منع کرنے پر شاہزیب اپنی محبت سے دستبردار ہوا تھا اور پھر انکی اجازت ملنے پر ہی دوبارہ نیناں سے ملنے گیا تھا ۔۔۔ تب سے ہی زمان صاحب نے دوبارہ شاہزیب سے سخت لہجے سے بات نہیں کی تھی نا ہی ڈانٹتے تھے اور اب تو وہ شادی شدہ تھا ۔۔ پھر گھر کی ذمہ داریوں میں بھی ہاتھ بٹانے لگا تھا ۔۔۔۔
یہ بھی احساس تھا کہ نیناں بھی ذیادہ نخریلی نہیں تھی ۔۔۔ کہ باپ کی دولت کی اکڑ میں ٹانگ ہے ٹانگ رکھے بیٹھی رہے ۔۔۔ اپنے گھر میں تو شاید اٹھ کر پانی بھی نا پیتی ہو لیکن یہاں بہت سے چھوٹے موٹے کام اپنے ذمے لے چکی تھی ۔۔۔۔
شاہزیب انکے کمرے داخل ہو کر اب بھی سر جھکائے ہی کھڑا ہوتا تھا زمان صاحب کی پیشانی پر بل تھے مگر غصے کے نہیں تفکر کے شازیب کو دو پل دیکھتے رہے اس دور میں بھی اگر وہ سر جھکائے نادم سا انکے سامنے کھڑا تھا تو یہ انکی خوش نصیبی اور تربیت کا نتیجہ ہی تھا ورنہ اولاد سراٹھائے آجکل صرف اپنے حقوق کا مطالبہ بڑے بے باکانہ انداز سے کرتی ہے ۔۔۔۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بات کرتی ہے ۔۔۔
” ابو وہ ۔۔۔۔ آپ کو پتہ ہے مجھے ایسی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ لیکن وہ نیناں ۔۔۔۔ ” یہ کہہ وہ چپ ہو گیا پھر کچھ توقف کے بعد گلا صاف کر کے بولا
” میں سمجھا دوں اسے ۔۔۔ لیکن وقت تو لگے گا ۔۔۔ آپ فکر نا کریں ” شاہزیب کی ہچکچاہٹ وہ سمجھ سکتے تھے ۔۔۔ ایک طرف محبت تھی دوسری طرف باپ کی فرمابرداری اس لئے اسے آزما کر مشکل میں ڈالنا نہیں چاہتے تھے
” آرام سے بیٹھو ادھر ۔۔۔۔ مجھے پتہ ہے کہ نیناں اتنی گرمی برداشت کرنے کی عادی نہیں ہے میں نے تمہیں ڈانٹنے کے لئے نہیں بلایا بیٹا مشورہ کرنے کے لئے۔ بلایا ہے ” زمان کی بات سن کر وہ بے یقنی سے بیڈ پر بیٹھ گیا زمان صاحب اپنی رائٹنگ ٹیبل کے پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گئے کرسی کا رخ شاہزیب کی جانب تھا
” دیکھوں بیٹا میں بجلی۔ چوری کے سخت خلاف ہوں اور بل بھرنے کا بھی متحمل نہیں ہوں ۔۔۔۔ لیکن ظاہر ہے نیناں اب ہمارے گھر کی فرد ہے اسکی خواہشات پوری کرنا تو خیر مشکل ہے لیکن ضروریات پوری کرنا بہت اہم ہے ۔۔۔ اور میں سارا بوجھ تم اکیلے پر بھی نہیں ڈال سکتا ۔۔۔۔
اگر نیناں اور تم نے ایک دوسرے سے محبت کی ہے تو عزت دار طریقہ اپنایا ہے ۔۔۔ ہماری رضامندی کو بھی اہمیت دی ہے
پھر میں کیوں اس شادی کو تم دونوں کے لئے سزا بناؤ ۔۔۔ جو میں کر سکتا ہوں وہ ضرور کروں گا ۔لیکن اپنی حیثیت میں رہ کر۔۔
تم ایسا کرو ایک ائیر کولر اپنے کمرے کے لئے لے آؤں ۔۔۔ بل بھی۔ خرچ ہو گااور گرمی کی شدت بھی کم ہو گی ۔۔۔اور تمہاری جیب پر بھی بھاری نہیں ہو گا ۔۔۔” اپنی حیثیت کو مد نظر رکھ کر زمان صاحب نے حل بتایا تھا ۔۔۔
” جی ابو “
” اب جاؤں ” شاہزیب کمرے سے باہر نکل گیا اگلے روز وہ ایک روم کولر لے آیا تھا ۔۔۔۔ کسی سے قرضی لینے کی نوبت بھی نہیں آئی تھی
اور زمان صاحب نے ایک چارجنگ فین لا کر نیناں کے حوالے کیا تھا
” اسے اپنے کمرے میں رکھ لو بیٹا ۔۔۔ جب لائٹ جائے تو چلا لیا کرنا ” نیناں کے لئے لائٹ میں حبس شدہ ماحول میں چارجنگ فین کسی نعمت سے کم نہیں تھا ۔۔۔ روم کولر سے بھی کمرے کا ماحول کافی بہتر سا ہو چکا تھا ۔۔۔۔
******…..
باسم کی ملاقات شاہزیب سے ایک مال میں ہوئی تھی ۔۔۔ سیفی کی منگنی کی خوشی میں شاہزیب نے ٹریٹ لینے کے بجائے شاپنگ کو ترجعی دی تھی اس لئے سیفی کے ساتھ ہی شرٹ خرید رہا تھا ۔۔۔ جب باسم کو اسی شاپ پر دیکھ کر رخ بدل گیا ۔۔۔ باسم اسکی ناراضگی کو سمجھ گیا تھا ۔۔۔ شاہزیب کے ہزار بار کال کرنے پر بھی باسم نے اسکی شادی میں شرکت نہیں کی تھی۔۔۔ وجہ تھی نمیرہ ۔۔۔ شاہزیب کی مہندی کے فنگشن میں وہ آیا تھا ۔۔۔ مہندی انکے اپاٹمنٹ کے نیچے ٹینٹ لگا کر وہیں ارینجمنٹ کی گئ تھی ۔۔۔ شازمہ اور شاہزیب۔ کی مہندی اکھٹی ایک ساتھ ہی منقعد کی گئ تھی ۔۔۔
باسم کے ساتھ نیلو فر رباب اور رابعہ بیگم بھی آئیں تھیں
اندر داخل ہوتے ہی اس کا ٹکراؤ نمیرہ سے ہوا تھا کیونکہ استقبال کے لئے وہی خرم کے ساتھ کھڑی تھی ۔۔۔ سی گرین کلر کے لہنگے میں بندیہ جھومر پہنے سجی ہوئی دلہن ہی لگ رہی تھی ۔۔۔۔ باسم کی اتفاقیہ ایک نظر نمیرہ پر پڑتے ہی ہٹا لی تھی خرم سے ضرور گلے لگ کر ۔ملا تھا ۔۔۔۔
لیکن نمیرہ نے نیلوفر سے ہاتھ ملانے کی بھی زحمت نہیں کی تھی بس رابعہ بیگم سے ہی ہاتھ ملایا تھا ۔۔۔۔ اور انہیں اندر بیٹھنے کا کہنے لگی باسم اندر جاتے ہی شاہزیب سے ملا تھا ۔۔۔ جو سیفی جمی کے ساتھ بیٹھا تھا ۔۔۔ بلیک کلر کی شلوار قمیض پہنے بروان چنری گلے میں ڈالے پیارا لگ رہا تھا ۔۔۔ پھر محبت کے مل جانے کا اپنا ہی الگ ایک روپ ہوتا ہے ۔۔۔ باقی کاوقت باسم نے شاہزیب کے ساتھ ہی گزرا تھا ۔۔۔ سیفی ۔۔۔ جمی خرم کے خطرناک ارادے سن کر شاہزیب انہیں بری طرح سے دھمکا رہا تھا
” دیکھ شاہو ۔۔ تیری شادی کے بڑے ارمان ہیں ہمارے دل میں ۔۔۔ اور اس بار تیری نہیں چلے گی۔۔۔ “جمی کی معنی خیز ہنسی دیکھ کر شاہزیب کو خطرے کی گھنٹی سنائی دی تھی
” کیا مطلب ہے کون سے ارمان پورے کرنے ہیں تم نے “
“سب مہمانوں کے جاتے ہی ۔۔۔ ہم نے اپنی بنو کے ساتھ ۔۔۔ وہ سب کچھ کرنا ہے جو مہندی پر دولہے کے دوست اس کے ساتھ کرتے ہیں تجھے ابٹن لگائے گئے خوشبوں سے نہائیں گئے آخر کو کل شادی ہے تمہاری ۔۔۔ ” سیفی نے شاہزیب کی تھوڑی کو پکڑ کر اپنے ارادوں سے باخبر کیا شاہزیب نے بری طرح سے اس کا ہاتھ جھٹکا تھا
” تمہارا مطلب ہے انڈے اور ٹماٹر وغیرہ ۔۔۔ خبردار ۔۔۔ سیفی ایسا کوئی سین نہیں ہے ۔۔۔ ” شاہزیب نے کرخت لہجہ اپنانا چاہا تھا ۔۔۔
” ابے کیوں نہیں ہے ۔۔۔ دیکھ ہم سب انتظام کر چکے ہیں ۔۔۔ ہزاروں روپے خرچ ہو گئے ہیں ہمارے ۔۔۔ دیکھ یہ تو تجھے کرنا پڑے گا ” اس بار خرم نے دونوں ہاتھ آپس میں مسلتے ہوئے آنکھیں دیکھا کر کہا تھا
” دیکھ خرم تو میری سائیڈ کا ہے میرا پلڑا بھاری ہے آخر رشتے داری بھی کوئی چیز ہوتی ہے ۔۔۔ سیفی اور جمی کاساتھ دینے کی ضرورت نہیں ہے تجھے ۔۔۔ اور باسم کا ووٹ بھی میری طرف ہی ہو گا ۔۔۔ ہے نا باسم ” شاہزیب۔ نے خرم اور باسم کو اپنی طرف کرنے کی کوشش کی
” نہیں بھئ میں پہلے بھی تمہارادوست تھااور اب بھی وہی ہوں اس لئے ۔۔۔ مشکل ہے رشتے داری نبھاؤں ” خرم نے تو صاف انکار کیا تھا ۔۔۔
” بے شک میں دل سے تمہارے ساتھ ہوں شاہزیب۔ ۔۔۔۔ لیکن موقع کی مناسبت سے میرا ووٹ جمی اور سیفی کے ساتھ ہے ۔۔۔ میں نے یہ سین کبھی نہیں دیکھا جہاں دولہے کو اسکے دوست انڈے ٹماٹر مارتے ہیں ۔۔۔ اس لئے میں یہ رسم ضرور کرنا چاہوں گا
“باسم سمیت چاروں ایک طرف ہوئے تھے شاہزیب نے غصے سے سب کو گھور کر منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے دھمکایا تھا
” بچو یاد رہے گا مجھے چھوڑو گا نہیں تم لوگوں کو گن گن کر بدلے لوں گا ” سب کے قہقہوں سے محفل جمی تھی ۔۔۔
کرنا کرانا تو کچھ نہیں تھا سب شاہزیب کی جان نکالنی تھی ۔۔۔۔ مہندی کے ہلے گلے اور بھنگڑے میں باسم سب دوستوں کے ساتھ پیش پیش رہا تھا ۔۔۔ خوش بھی بہت تھا ۔۔۔۔ لیکن شازل اور زمرد بیگم کے مہندی لانے کی رسم پر وہ پیچھے ہٹ گیا تھا ۔۔ رسم کی باری اب شازمہ کی تھی اور سب خواتین کا ہی کام تھا ۔۔۔ اس لئے آگے بڑھنا اسے اچھا نہیں لگا ۔۔۔ نیلو رابعہ بیگم اور رباب کے ساتھ ایک سائیڈ پر بیٹھی رہی اس کا بھی کہ سب رسموں میں شامل ہو لیکن نمیرہ نے ایسی کوئی دلچسپی نہیں دیکھائی تھی عاتقہ بیگم دونوں بچوں کی شادی کی وجہ بوکھلائی پڑیں تھیں ۔۔۔ بس ذرا سی دیر ہی رابعہ بیگم کو وقت دے پائیں تھیں
باسم کا رخ آپ اپنی فیملی کی طرف تھا ۔۔۔ جب نمیرہ کی آواز پر اسے رکنا پڑا
” بات سنے باسم ” باسم نے رک کر پلٹ کر اسے دیکھا ۔۔۔ اس نے پھولوں کے گجروں سے بھری ٹوکری اسے تھما دی ۔۔
“۔ یہ ذرا اوپر گھر میں رکھ دیں گئے اگر آپ کو زحمت نا ہو تو ” نمیرہ کے کاٹدار لہجے کے باوجود اس نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔۔۔۔
وہ ٹینٹ سے نکل کر اوپر کی سیڑیاں چلنے لگا جب نمیرہ بھی اس کے پیچھے آئی تھی ۔۔
“سنئیے ” نمیرہ کی پکار پر وہ رک گیا اسے لگا پھر سے کوئی کام ہو گا وہ لہنگا اٹھاتی ہوئی اس کے سامنے کھڑی ہو گئ
” کیا ایک لڑکی کا محبت کرنا اور اظہار میں پہل کر بیٹھنا اسکی اتنی بڑی اہانت اور غلطی ہے کہ اسے بار بار اس بات کی سزا دی جائے ” نمیرہ کی بات پر کچھ پل تو یہ سمجھ نہیں پایا تھا کہ جواب کیا دے
” نمیرہ دیکھیں میں نے کبھی آپ کی اہانت کرنے کی کوشش نہیں کی ۔۔۔ سب سمجھانا ضروری سمجھا تھا ۔۔۔ باخدا آپ کا دل دکھانا میرا مقصد ہر گز نہیں تھا ۔۔۔۔ اور میرے خیال سے یہ باتیں اب بے معنی سی ہو گئیں ہیں میں اور آپ زندگی میں آگے بڑھ چکے ہیں ۔۔۔ اور خرم واقعی ایک بہت زبردست شخصیت اور کردار کا مالک ہے۔۔۔۔ آپ بہت لکی ہیں نمیرہ “
” وہ لکی ہے وہ خوش نصیب ہے کہ اسے مجھ جیسی بیوی ملی ہے ۔۔۔۔۔ ” وہ برجستہ بولی عجیب سا غرور تھا
” جی بے شک ” باسم نے دھیرے سے کہا
” دیکھیں میں اس لئے آپ سے بات کرنا چاہتی ہوں کہ اب ہمہیں آگے بڑھ جانا چاہیے ۔۔۔۔ میں خرم کے ساتھ اتنی ہی خوش ہوں جتنا کہ آپ اپنی بیوی کے ساتھ ۔۔۔ اس لئے خدارا بار بار میرے سامنے آ کر مجھے وہی لمحے واپس یاد دلا کر اذیت میں مبتلا نا کریں تو بہتر ہو گا ۔جو میں بھولنا چاہتی ہوں ۔۔ میں شاہو بھائی اور شازی آپی کی شادی انجوائے کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔ اور یہ آپکو دیکھ کر ممکن نہیں ۔۔۔ آپ کااحسان ہو گا اگر آپ شاہو بھائی کا پیچھا چھوڑ دیں تو ۔۔۔ کیونکہ جب جب آپ شاہو بھائی سے ملیں گئے خرم سے بھی ملنا پڑے گا اور میراسامنا بھی آپ سے ضرور ہو گا لہذا مہربانی کریں مجھ پر اور چلے جائیں میری زندگی سے۔۔۔۔۔ احسان مند رہوں گی آپ کی ” تلخ لہجے سے کہتے ہوئے اس نے وہ پھولوں والی ٹوکری باسم کے ہاتھ سے چھینی تھی ۔۔۔۔ اور دوبارہ سے ٹینٹ میں چلی گئ باسم کچھ دیر وہیں کھڑا رہا ۔۔۔۔
جتنا وہ یہاں آتے ہوئے خوش تھا اتنا ہی اب چپ اور متفکر سا ہو گیا تھا ۔۔۔ اس نے تو پہلی باری میں ہی نمیرہ کے بڑھتے قدموں کو روک دیا تھا ۔۔۔ کوئی جھوٹاوعدہ کوئی خواب نہیں دیکھایا تھا ۔۔۔ کچھ دیر بعد ہی وہ ہال میں واپس آیا تھا کھاناشروع ہو چکا تھا ۔۔۔ زمان صاحب مصروفیت کے باوجود بار بار باسم کو اپنے پاس بلا رہے تھے ۔۔۔ خوش تھے کے وہ پوری فیملی کے ساتھ آیا ہے ۔۔۔۔ بلکل بیٹے کی طرح ہر کام میں آگے ہے ۔۔۔ باسم چاہ کر بھی کھانا ٹھیک سے کھا۔ نہیں پایا تھا ۔۔۔ ارادہ تو اس کا یہی تھا کہ کھانا کھانے کے بعد کافی دیر تک شاہزیب اور سیفی لوگوں کے ہمراہ بیٹھے گا شغل اور ہلا گلا کرے گا ۔۔۔ لیکن اب کھانا کھاتے ہی واپسی کے لئے تیار تھا ۔۔۔ شاہزیب اور زمان صاحب یہاں تک خرم سیفی جمی نے بھی اسے بہت روکنا چاہا لیکن وہ نہیں رکا تھا بہانہ بنا کر چلا گیا ۔۔۔۔ شادی ولیمے پر شاہزیب کی بہت کالز آئیں تھیں لیکن اس صرف یہ میسج کیا کہہ وہ آفس کے کام میں بزی ہے آ نہیں سکتا۔۔۔۔۔ شاہزیب کی ایک بھی کال نہیں اٹھائی اس سے بات کرتا تو شاید جھوٹ بولنا مشکل ہوتا اس لئے یہی بہتر لگا کہ فون ہی نا اٹھائے
سامنے شازیب نے کن انکھیوں سے اسے دو تین بار دیکھا تھا پھر نظریں بدل کر شرٹ دیکھنے لگا ۔۔۔ باسم کا دل نہیں مانا کہ یوں اس سے ملے بغیر چلا جائے جبکہ وہ اسے دیکھ چکا تھا ۔۔۔ باسم نے تو اسے سمندر ہر بھی دیکھا تھا لیکن خود شاہزیب کی نظروں میں نہیں آیا تھا اس لئے پیچھے ہی رہا لیکن آج تو نظروں کا تصادم ہو چکا تھا ۔۔۔۔ شاہزیب ناراض تھا اس لئے باسم ہی آگے بڑھا تھا
باسم کے پاس جا کر اسے سلام کیا سلام کا جواب شاہزیب نے بڑا متعجب ہو کر دیا تھا جیسے باسم کوئی اجنبی ہو
” واعلیکم السلام۔۔۔۔۔ آپ کون صاحب ؟ ” شاہزیب کے انجان بننے پر وہ مسکرانے لگا
” اچھا اب چھوٹو بھی ناراضگی یار مجھے پتہ ہے کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے ۔۔۔ لیکن باس نے چھٹی نہیں دی تھی سچ کہہ رہا ہوں بہت لیٹ ہو گیا تھا اگر شادی پر آ بھی جاتا تو پل دو پل ہی تم سے مل پاتا ۔۔۔ پھر بھی تو تمہیں شکایت ہونی تھی ” باسم نے واضاحت دی لیکن شاہزیب نے براہ راست باسم سے بات نہیں۔ کی تھی مخاطب سیفی سے اور سنا باسم کو رہا تھا
” سیفی ان صاحب سے کہہ دو کے میں انہیں نہیں جانتا ۔۔۔ ہاں ان سے ملتا جلتا میراایک دوست تھا باسم عبدالرحمن ۔۔۔ جس کی شادی پر میں نے نا نوکری کی پروا کی تھی نا اپنی بہن کی شادی کی ۔۔۔۔ نمی کی شادی سے فراغت ملتے ہی اس کی مہندی پر پہچا تھا اور خرم کی نارضگی کے باوجود ولیمے کا فنگشن ادھورا چھوڑ کر باسم کی بارات کو ترجعی تھی ۔۔۔ کیا ہے نا سیفی کہ شاہزیب کے نزدیک باسم کی اہمیت بہت تھی ۔۔۔ لیکن لوگ بہت سمجھدار ہیں نوکری اور پیسے کو اہم سمجھتے ہیں ۔۔۔ دوست جائے بھاڑ میں ۔۔۔۔ لوگوں کو پروا نہیں ہوتی ۔۔۔ کہ کوئی شخص اپنی ہی شادی پر بیوقوفوں کی طرح اپنے دوست کو فون ہے فون کیے جا رہا ہے ۔۔۔ کیا فرق پڑ جاتا جو دو گھڑی فون پر بات ہی کر لی جاتی ۔۔ لیکن بس دوستی کے نام پر بڑی زور کا تماچہ مارا تھا میرے منہ پر ایک میسج کر کے ۔۔۔ کہ شاہزیب زمان تم تو اس لائق بھی نہیں کہ میں تم سے بات بھی کروں ” شاہزیب کی بات باسم کے دل پر گھونسے کی طرح لگی تھی ۔۔۔ سچ باسم بتا نہیں سکتا تھا اور جھوٹ اسے بولنا آتا نہیں تھا ۔۔۔۔ بہانے بھی کہاں تک وہ بنا سکتا تھاسیدھے سادے مزاج کا بندہ تھا ۔۔۔ اور مخلص بھی بہت تھا ۔۔۔ لیکن بات نمیرہ کی تھی جو اسکے اس استاد کی بیٹی جیسے وہ باپ کی جگہ سمجھتا تھا ۔۔۔۔
اس لئے نمیرہ کا نام تو مر کر بھی نا لیتا ۔۔۔ ہاں شازیب کی باتیں سننا آسان تھا جو وہ سن رہا تھا
” معافی مل سکتی ہے ورنہ جو چاہے سزا دیدو ” باسم نے آنسوں کو پلکوں کی باڑ سے پیچھے دھکیلا تھا جو آنسوں آنکھوں سے نا گریں وہ دل پر گرتے ہیں اس وقت باسم کے آنسوں بھی دل پر کہیں گر رہے تھے ۔۔۔ ۔
” سیفی ان سے کہہ دو میں کہاں اس قابل کہ سزاجزا دے سکوں ۔۔۔ باسم صاحب اب بڑے آدمی ہو چکے ہیں ۔۔۔ ہم جیسوں کو کہاں کچھ سمجھتے ہیں ۔۔۔ آج دیکھ لیا تو میرا خیال آ گیا نا دیکھتا تو اب بھی انجان بنے رہتے ۔۔۔ ” شاہزیب۔ کے دل میں بہت شکوے تھے ۔۔۔۔
” ایسی بات نہیں ہے ۔۔۔ شاہزیب ” باسم رقت آمیز لہجے میں بولا ا ر کار سیفی نے صلہ کروانے میں پہل کی
” چھوڑو بھی شاہو ۔۔۔ تم کیا بے وفا محبوبہ والے نخرے دیکھا رہے ہو ۔۔۔باسم کی کوئی مجبوری ہو گی ورنہ ایسا نہیں ہے وہ چلو اب ختم کرو بات ” سیفی نے ہی شاہزیب کو سمجھایا تھا ہاتھ ۔میں پکڑی شرٹ شاہزیب نے ایک طرف رکھی اور آگے بڑھ کر باسم کے گلے لگا گیا
” اس بار ۔معاف کر رہا ہوں تمہیں باسم عبدالرحمن ۔۔۔ آئندہ ایسا کیا تو ۔۔۔۔۔ ” شاہزیب تو شاید اور بھی بہت کچھ کہتا لیکن باسم کے بینچ۔ کر سینے سے لگانے پر چپ ہو گیا تھا ۔۔۔۔
شکوے سارے بے معنی سے لگنے لگے
