267.9K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

No One Wheeling Episode 3

No One Wheeling by Umme Hani

باسم آفس کے گروپ کے ساتھ ساحل سمندر کے نزدیک میٹنگ کے لئے کسی ریسٹورنٹ گیا تھا میٹنگ کے بعد وہ فارغ ہو چکا تھا اس لئے گھر جانے کے بجائے ۔۔۔۔ وہ سمندر پر کے پانی میں چلا گیا ۔۔۔۔ ایک کشش سی ہے سمندر میں بھی کہ جو بھی وہاں چلا جائے اور کچھ دیر سمندر کو دیکھتا رہے تو ممکن ہی نہیں کے پانی میں جائے بغیر رہ سکے ایک عجیب سی کشش ہے یا شاید باز لوگوں کو محسوس ہوتی ہے ایسا ہی ایک کھنچاو باسم کو بھی اپنے آپ میں محسوس ہوتا تھا ۔۔۔ اس لئے پانی میں چہل قدمی کرتے ہوئے وہ اپنی زندگی کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔۔۔

بہن اپنے گھر کی ہو چکی تھی اور رامس ایک بہترین ہمسفر ثابت ہوا تھا ۔۔۔ رائمہ شادی کے بعد بس دو تین بار ہی رامس کے ساتھ ہی ملنے آئی تھی چہرے کی مسکان اور اطمینان باسم کے اندر ایسا سکون سرایت کر گیا تھا کہ لگتا تھا دل سے ایک بہت بھاری بوجھ کھسک گیا ہو ۔۔۔۔ نیلو فر کے والد اب بھی اوپر کے پورشن میں رہتے تھے ۔۔۔ لیکن باسم کے پر زور اصرار پر کھانا انکے ساتھ کھا لیتے تھے ۔۔۔۔ لیکن پہلے پہل بہت منع کرتے رہے تھے

” نہیں بیٹا بیٹی کے گھر کھاؤں پیوں ۔۔۔ شرم سے مر نا جاؤں ” اپنے والد کی بات پر نیلو فر بیچ میں کچھ نہیں بولی تھی ۔۔۔ بس باسم ہی بات کر رہا تھا

” بیٹی کیوں۔۔۔۔ میں کیا آپ کا کچھ نہیں لگتا ۔۔۔۔ میں آپ کا بیٹا نہیں ہوں ” باسم نے انکا ہاتھ بڑی محبت اور اپنایت سے پکڑ کر پوچھا تھا

” تم میرے بیٹے ہی ہو لیکن ۔۔۔۔” وہ کچھ ہچکچائے تھے

” بس بھائی صاحب پھر یہ “لیکن “بیچ میں کہا سے آ گیا ۔۔۔۔ سمجھ لیں کہ باسم داماد نہیں بھانجا ہے آپ کا ۔۔۔۔ آپ بھائی ہیں میرے ۔۔۔۔ بس اب آج کے بعد۔ بلکل تکلف نہیں چلے گا آپ کھانا ہمارے ساتھ کھائیں گئے ۔۔۔۔ ” رابعہ بیگم نے بھی رسانیت سے کہا تھا نیلوفر کے والد کی آنکھوں سے خوشی کے آنسوں بہنے لگے

” کون کہتا ہے کے سگے ہی رشتے ہوتے ہیں ۔۔۔۔ میری سگی بہن نے ایسا زخم دیا کہ اب تک۔ بھرا نہیں ہے اور ایک آپ ہیں بہن کہ سگی بہن سے بڑھ کر ہیں میرے لئے ۔۔۔۔ لیکن پھر اگر میں بھائی ہونے کے ناطے کچھ بھی گھر میں لے کر لاؤں تو آپ بھی انکار نہیں کریں گئے ۔۔۔ ورنہ میرے ضمیر پر بوجھ رہے گا ” نیلو فر کے والد کی بات پر باسم چاہ کر بھی انکار نہیں کر سکا تھا ۔۔۔۔

نیلوفر کے زندگی میں شامل ہوتے ہی جو سب سے بڑا اسے تحفہ ملا تھاوہ اس کا پرموشن تھا تنخواہ۔ بھی بڑھ چکی تھی ۔۔۔۔ اس لئے زندگی بہت تلخیاں کم ہوئیں تھیں خوشحال زندگی کی زمانت ایک حد تک پیسہ بھی ضرور ہے ۔۔۔۔

سامنے یک دم شور سے باسم کا دھیان بٹا تھا ۔۔۔۔ ایک سپیرا شاہد سانپ کا تماشہ دیکھا رہا تھا ۔۔۔ وہ کچھ قریب آیا تو شاہزیب اور نیناں کو دیکھ کر

وہ وہیں رک گیا تھا دونوں شادی کے بعد شاید سیر وتفریح کے لئے آئے تھے اس لئے باسم کو مناسب نہیں لگا کہ وہ جا کر انہیں ڈسٹرب کرے ۔۔۔۔ لیکن شاہزیب ہاتھ میں سانپ پکڑ کر کھڑا ہوا تھا اور اگلے لمحے سانپ کو کو گلے میں۔ مفلر کی طرح پہنا تھا ۔۔۔ سب ہی ایک چیخ کے ساتھ پیچھے ہٹے تھے ۔۔۔ دنگ تو باسم بھی رہ گیا تھا ۔۔۔ لیکن اسکے بعد جو مظاہرہ باسم نے دیکھا اس کا دل دھڑکنا بھول گیا تھا ۔۔۔۔

سانپ شاہزیب کے جسم پر رینگ رہا تھا نیناں کی رنگت پل میں لٹھے کی مانند ہوئی تھی

” شاہ۔۔۔۔ زیب خدا کے لئے سے نیچے اتاریں ” وہ اس قدر خوفزدہ تھی کہ اس سے ذیادہ شاید مزید ہو نہیں سکتی تھی

” کیوں گھبرا رہی ہو میری مینا ۔۔۔ زہر نہیں ہے اس میں ۔۔۔۔ تم پکڑو گی ” شاہزیب بلکل بے خوف تھا سانپ کو بیچ سے پکڑے ۔۔۔۔ دو قدم نیناں کی جانب بڑھا تھا لیکن وہ خوف کے مارے کئ قدم پیچھے ہٹی تھی ۔۔۔۔

” ن۔۔۔نن۔۔۔ نہیں شاہزیب۔ ۔۔۔ پلیز دور پھنکیں اسے ” نیناں کو لگا دل اچھل کر حلق تک پہنچ گیا ہو ۔۔۔ سانپ کبھی اس کی پینٹ کی جیب میں منہ ڈال رہا تھا کبھی اسکے پیٹ پر رینگ رہا تھا اسکے شرٹ کے بٹن پر اسکی پھنکار دیکھ کر نیناں کو لگا کے سکی روح فنا ہو رہی ہو ۔۔۔ لیکن جب وہ سانپ اسکی گردن تک پہنچا یکلخت ہی شاہزیب نے سانپ کو اسکے سر سے پکڑا تھا لوگوں کی چیخیں نکلی تھیں نیناں نے زور سے آنکھیں میچ لی

مزید دیکھنے کی اس میں تاب نہیں تھی شاہزیب

سانپ کاسر ہاتھ میں جکڑ رکھا تھا اور جب تک سانپ کاسر کسی سخت گرفت میں رہے سانپ بے بس سا ہو جاتا اس سے پہلے کے سانپ اپنے بچاؤں کے لئے اسکے وجود پر لپٹ کر اپنی گرفت مضبوط کر کے شاہزیب۔ کو بے بس کرتا شاہزیب نے دوسرے ہاتھ سے اسے بیچ سے پکڑ لیا تھا ۔۔۔ اسے اپنے چہرے کے قریب لا کر دیکھنے لگا ۔۔۔۔باسم آنکھیں چھپکنا بھوک گیا تھا ۔۔۔۔ سپیرہ بھی منہ کھولے دیکھ رہا تھا نیناں نے آنکھیں نہیں کھولیں تھیں ۔۔۔ کچھ لمحے بعد ایک وزنی چیز اپنے کندھوں پر محسوس ہوئی نیناں نے اس وقت سوچنے سمجھنے سے قاصر کھڑی تھی آنکھیں کھولیں تو سانپ اس کے گلے میں لٹک رہا تھا ۔۔۔۔ نیناں کو لگا کے اب تو اسکے جسم سے روح پرواز کر جائے گی ۔۔۔۔ اس سے پہلے کے سانپ کو اپنے وجود پر رینگتا ہوا محسوس کرتی بڑی ہمت کرتے ہوئے اسے اپنی گردن سے سانپ کو پکڑ کر دور پھنکا تھا ۔۔۔۔۔ اور رونے لگی تھی ۔۔۔ وہاں کھڑے لوگ ان دونوں کو ستائشی نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔ دنگ تھے

نیناں بھاگتے ہوئے شاہزیب کے ساتھ لگی تھی ۔۔۔

” شاہزیب آئی ہیٹ یو ” روتے ہوئے وہ اپنے غصے کا اظہار کر رہی تھی

” شاہزیب اسے ساتھ لگا کر اسکی کمر سہلانے لگا نیناں پیچھے ہٹی تھی لیکن شاہزیب نے ہاتھ پھیلا کر اسکے دوسرے کندھے سے پکڑے اسے ساتھ لگائے چلنے لگا تھا

” رو کیوں رہی تھی میری میناں معلوم ہے تمہیں کتنی بہادر ہو تم ۔۔۔۔ سب لوگ تمہیں تفاخر بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔ کیسا لگا میرا آج کا ایڈونچر” اسکے ساتھ چلتے ہوئے وہ بول رہا تھا ۔۔۔یہ سن کر نیناں کا جی چاہا اس حشر بگاڑ دے ۔۔۔

یہ بھلا کونسا ایڈونچر تھا ۔۔۔۔ نینان کو اب بھی سانپ کو اپنے وجود پر رینگتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔ وہ جو اسکے کندھے کے ساتھ لگی چل رہی تھی وہیں رک گئ ۔۔۔ شاہزیب کو بھی رکنا پڑا پھر وہ اس سے الگ ہوئی تھی غصے اور خفگی سے اسے دیکھا تھا

” ایڈونچر ؟ آپ کے لئے زندگی اتنی سستی کیوں ہے شاہزیب ۔۔۔۔ ” وہ چلا کر اپنا غصہ نکال رہی تھی وہ ہنس رہا تھا

” میری جان ابھی تو ابتدا ہے اور تم رو رہی ہو ۔۔۔ دیکھوں تو کیسے کیسے انجوائے کرواتا ہوں تمہیں میں اپنے ساتھ ۔۔۔ سارا ڈر خوف بھول جاؤں گی ۔۔۔۔ ” شاہزیب کی ہر بات اسے اس وقت بری لگ رہی تھی

” مجھے نہیں۔ کرنا یہ سب ” وہ خفگی سے منہ پھلائے بولی ۔۔۔ جسم میں اب بھی سنسی سی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔ سانپ کے خوف سے جسم کو چھوتی ہوئی تیز ہوا بھی کپکپانے پر مجبور کر رہی تھی کیا تھا یہ شخص ۔۔۔۔ خوف نہیں آتا تھا ٹھیک ہے لیکن کراہت تو محسوس کر ہی سکتا تھا ۔۔۔۔ لیکن نہیں اسے اپنے ہونٹوں کے قریب کیا بھی کیسے ہو گا ؟ نیناں جس قدر سوچتی جھرجھری سی لینے لگتی

” نو میری مینا ۔۔۔۔ تمہیں ساتھ لیکر سب کچھ کرنا ہے ۔۔۔ اور ویسے بھی زہر نہیں تھا سانپ میں ۔۔۔ پھر کیوں ڈر رہی تھی تم ۔۔۔۔ جانتی ہوں سانپ کی ہر نسل میں زہر نہیں ہوتا لیکن انسان صرف اس کے خوف سے مر جاتا ہے کہ اسے سانپ نے کاٹ لیا ہے ۔۔۔۔

اصل موت اسے بس سانپ کے زہر کے خوف سے آ جاتی ہے ۔خوف انسان کو جیتے جی مار ڈالتا ہے ۔۔ جانتی ہو مجھے بچپن سے ہی خوف کی انتہا دیکھنے کا بہت شوق تھا ۔۔۔ جب میں بائیک کو ہر زاویے سے چلایا تھا تو جی چاہتا تھا کہ ایک بار اتنی تیز چلاؤں کے ہواؤں میں اڑا دوں ۔۔۔۔جیسا ایک بار ٹی وی یا موویز میں دیکھ لیتا تھا ۔۔۔ ویسے ہی چلانے کی کوشش کرتا تھا ۔۔۔ پہلی بار بڑا ڈر لگتا تھا مجھے بہت دفعہ گرا بھی چوٹ بھی لگی ۔۔۔ لیکن دھیرے دھیرے چوٹوں کا عادی بن گیا ۔۔۔ اور جب ٹریک پر ہیوی بائیک چلائی تو پھر تو لگا ہر خوف ہی دل سے نکل چکا تھا جیسے جیسے خوف کم ہوتا رہا مجھے یہ سب کرنے میں مزہ آنے لگا ۔۔۔ لگتا تھا کہ کوئی نشہ سا ہے ۔۔۔۔ کوئی چیلنج ہے ۔۔۔۔ مت پوچھوں نیناں بائیک کو ون ویلنگ پر چلاتے ہوئے میں کس دنیا میں خود کو دیکھتا تھا ۔۔۔ پھر لوگوں کی تسلیاں سیٹیاں۔۔۔۔ نظریں ۔۔۔۔ او مائے گاڈ ۔۔۔۔۔ مجھے بلندیوں تک لے جاتی تھیں ایسی جگہ پر جہاں سے واپسی ہی نا ممکن ہو ” شاہزیب باتیں کرتے ہوئے جیسے انہیں خیالوں میں کھویا ہوا تھا

۔۔۔” شازیب کی بات سن کر نیناں یک دم اسے کن انکھیوں سے دیکھنے لگی

” ان باتوں کا کیا مقصد ہے شاہزیب ۔۔۔ کہیں اپنی بات سے مکرنے کاارادہ تو نہیں ہے ؟ ون ویلنگ تو نہیں کریں گئے دوبارہ ؟ ” نیناں کو ایک اور خوف نے گھیرا تھا شاہزیب نے

پھر سے اپنا ہاتھ پھیلا کر اسے اپنے کندھے کے ساتھ لگایا تھا

” اپنی بات سے پھرنا نہیں آتا مجھے ۔۔۔ اتنا تو اندازہ ہو جانا چاہیے تھا تمہیں مینا جی ۔۔۔ تم سے محبت کا اقرار کرنے بعد کتنی بار مکرا ہوں میں؟ ۔۔۔

کہا تھا نا تمہیں نیناں ۔۔۔۔ آندھی آئے یا طوفان تمہیں مسز شاہزیب زمان بننے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے۔۔۔ رک پایا کوئی تمہارے اکڑو پوپس کو بھی ہار ماننی پڑی ۔۔۔۔ ” شاہزیب کے یاد دلانے پر وہ مسکرائی تھی

” جانتی ہوں لیکن ویلنگ کے لئے آپکا جنون بھی دیکھا ہے ۔۔۔ جو اب بھی مجھے آپکی آنکھوں میں نظر آتا ہے اور میرا دل کانپ جاتا ہے ۔۔۔۔ ” اگر شازیب اسکے دل میں آنے والے خدشات سے واقف تھا تو وہ بھی اسکی آنکھوں کو دیکھ کر بہت کچھ جان جاتی تھی وہ ہسنے لگا تھا ۔۔۔

” نہیں نیناں ویلنگ کبھی نہیں کروں گا ۔۔۔۔۔ بےفکر رہو ۔۔” وہ چلتے ہوئے بہت دور تک نکل گئے تھے آج کا دن شادی کے بعد دونوں کے لئے پہلا یادگار دن تھا ۔۔۔

رات ڈنر کے بعد ہی وہ گھر پہنچے تھے شاہزیب نے بس چار دن کی۔ چھٹی آفس سے لی تھی ۔۔۔۔ تین دن تو شادی میں گزر گئے تھے ۔۔۔۔ اور چوتھا دن اس نے نیناں کے نام کیا تھا ۔۔۔۔ اگلے دن ایک افراتفری لیکر چڑھا تھا ۔۔۔ ہر کام کے لئے شاہزیب نیناں کو ہی پکار رہا تھا جیسے سرے سے کچھ بھی نہیں آتا تھا

” صبح آفس کے لئے وہ اٹھ تو گئ تھی تا کہ شاہزیب کی تیاری کروا دے لیکن نا پریس کرنا آتا تھا نا ہی ٹائی باندھنی آتی تھی نا ہی کوٹ پہننا آتا تھا ۔۔۔۔ نا یہ پتہ تھا اس کے موزے کہاں رکھے ہیں ۔۔۔۔ شاہزیب خود بھی جھنجھلاسا گیا تھا ۔۔۔۔

” یار تمہیں کچھ بھی نہیں آتا ہے اچھا دو مجھے شرٹ میں پریس کرتا ہوں تم بس ایک چائےکا کپ بنا دو ۔۔۔۔ وہ تو آتی ہے نا ؟” شاہزیب کے کوفت بھرے لہجے میں پوچھے گئے سوال پر نیناں نے نفی میں سر ہلایا تھا ۔۔۔۔ ایک نظر بڑی بے بسی سے شاہزیب نے اس پر ڈالی تھی

” مطلب چائے بھی بنانی نہیں آتی؟ اچھا یوں کرو ٹی وی لاونج میں عاصم سو رہا ہو گااٹھاوں اسے ۔۔۔ کہو کہ امی سے ناشتے کا کہہ دے اور تیار ہو جائے اسے بھی اسکول چھوڑنا ہے” شاہزیب جلدی سے استری اسٹینڈ کے پاس کھڑا جلدی سے اپنی شرٹ پریس کر رہا تھا ۔۔۔۔۔ جب تک نمی اور شازمہ تھیں اسے پتہ نہیں تھا کہ کام کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔ اول تووہ کر کے رکھتی تھی لیکن اگر کبھی آپس کی لڑائی کی وجہ سے شازمہ اسکے کام کرنے سے انکار کر بھی دیتی تھی تو وہ صبح شور ڈال کر کروا ہی لیتا تھا مگر اب مقابل میں نینان تھی ۔۔۔۔ جسے وہ کچھ نہیں کہہ سکتا تھا ڈانٹ بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔۔

شادی کی وجہ سے تھکن سے چور ہونے کے باوجود بھی عاتقہ بیگم کچن میں کھڑی ناشتہ بنا رہی۔ تھیں ۔۔۔۔ نیناں شرمندہ سی تھی ۔۔۔۔ اسے افسوس ہو رہا تھا کہ ایک ککنگ تک اسے نہیں آتی تھی ۔۔۔۔ ساری زندگی رانا بختیار نے اسے ہاتھ کا چھالہ بنا کر رکھا تھا ۔۔۔ اور منگنی کے بعد نکاح اور آنا فانا رخصتی نے کچھ بھی سوجنے نہیں دیا تھا ورنہ نیناں نے یہی سوچا تھا کہ دو سال میں اپنی تعلیم مکمل ہونے کے ساتھ ساتھ ککنگ بھی سیکھ لے گی ۔۔۔۔ عاتقہ بیگم چپ تھیں ۔۔۔ کام بھی جلدی جلدی کر رہی۔ تھیں لیکن تھکن کے آثار چہرے پر صاف عیاں تھے ۔۔۔ نیناں کو احساس تو بہت تھا لیکن آتا کچھ نہیں تھا ۔۔۔۔

لیکن پھر بھی کچن میں جا کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔

عاتقہ بیگم کے منع کرنے پر بھی برتن اور چھوٹی موٹی چیزیں ٹیبل پر رکھنے لگی ۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں سب جا چکے تھے ۔۔۔۔ بس نیناں اور عاتقہ بیگم ہی رہ گئیں تھیں ۔۔۔

عاتقہ بیگم بہت خیال رکھتیں تھیں نیناں کا۔۔۔۔ بات بھی بہت پیار سے کرتی تھیں ۔۔۔۔

زندگی ایک معمول پر آنے لگی تھی ۔۔۔۔

آہستہ آہستہ نیناں چھوٹے موٹے کام سیکھنے لگی تھی ۔۔۔۔ شاہزیب کے کپڑے بھی پریس کر دیتی تھی چائے بھی عاتقہ بیگم سے بنانا سیکھ گئ تھی ۔۔۔۔ شادی کے ایک ہفتے بعد ہی بنا نیناں کے کہے ہی شاہزیب اسے بختیار صاحب کے بنگلے کے سامنے چھوڑ کر چلا گیا تھا کہ وہ جتنے دن چاہے رہ لے جب واپس آنا چاہے اس سے کہہ وہ لینے آ جائے گا ۔۔۔۔ نا نیناں نے اسے اندر آنے کے لئے کہا نا ہی بختیار صاحب نے ایسی کوئی گرم خوشی شاہزیب کے لئے ظاہر کی ۔۔۔ بس بیٹی کو دیکھ ہی نہال ہوتے رہے ۔۔۔۔

ایک تناؤ سا تھا دونوں سسر اور داماد کے بیچ اسٹنڈر کی دیوار خاصی مضبوط تھی ۔۔۔۔ پھر دونوں کی انا جھکنے کو گوارا نا تھی ۔۔۔ نیناں کے لئے یہی بہت تھا کہ وہ شاہزیب کے ساتھ خوش ہے ۔۔۔۔ اور باپ سے بھی ملنے پر پابندی نہیں ہے

دونوں رشتے نبھانے کے لئے اسے قربانی نہیں دینے پڑ رہی تھی

*****…….

دو مہنے باسم نیلو فر کو اسکے بھولے ہوئے کورس کو دوہرانے میں اسکی مدد کرتا رہا ۔۔۔۔ پھر بلا آخر ایک دن یونیورسٹی کا فارم بھی نیلو کے ہاتھ میں تھا وہ ٹکر ٹکر کبھی باسم کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ تو کبھی ہاتھ میں پکڑے فارم کو

” باسم آپ کو لگتا ہے کہ میں پڑھ سکتی ہوں؟ ۔۔۔۔ ” پھر وہی وہم وہی عدم عتمادی جو شاید اسکی شخصیت کا حصہ بن چکی تھی

” ہاں مجھے یقین ہے کہ آپ ضرور پڑھ سکتی ہیں ۔۔۔ ” کل آپ میرے ساتھ جائیں گئیں۔۔۔ فارم فل کریں گئ فیس جمع کرائیں گئیں “باسم اسے تفصیل بتانے لگا

” آپ میرے ساتھ ہوں گئے نا باسم ؟۔۔۔ آپ یہ سب کروا دیجیے گا ” نیلوفر نے مدافعانہ انداز اپنایا

” نہیں فری آپ یہ سب خود کریں گی بنا میری ہیلپ لئے ۔۔۔۔ میں آپ کو صرف یونیورسٹی کے گیٹ پر چھوڑ کر لوٹ آؤں گا ۔۔۔۔ اندر آپ خود جائیں گی ۔۔۔۔ “

” میں کیسے جا سکتی ہوں ۔۔۔۔ وہاں تو لڑکے بھی ہوں گئے ۔۔۔۔ نہیں نہیں آپ میرے ساتھ جائیے گا ” نیلو نروس ہوئی تھی

” لڑکے ہیں تو کیا ہوا ۔۔۔۔ ہمارا معاشرہ مرد عورت دونوں سے ملکر بنا ہے ۔۔۔ اور جس دور میں ہم رہتے ہیں ہر عورت کاواسطہ کسی نا کسی صورت میں مردوں سے پڑتا ہے اسی طرح ہر مرد کاواسطہ بھی مختلف عورتوں سے پڑتا ہے ۔۔۔ کیا آپ یونہی میرے پیچھے چھپی رہا کریں گئیں فری ۔۔۔۔ ” باسم نے بہت رسانیت سے سمجھایا تھا لیکن فری کی رنگت متغیر سی ہو رہی تھی حد درجہ نروس تھی ۔۔۔

” باسم ۔۔۔۔۔ میں نہیں کر پاؤں گی۔۔۔ کسی لڑکے کو سامنے دیکھ کر مجھے پھپو کی باتیں یاد لگتی ہیں ۔۔۔ مجھے لگتا ہے آپ۔ کے علاؤہ ہر لڑکا کبوتر باز ہے ۔۔۔۔ میرا ڈوپٹہ نوچ پھینکے گا ۔۔۔مجھ پر جھوٹا الزام لگا دے گا ۔۔۔۔ میں پڑھ کر کیا کروں گی باسم ۔۔۔ مجھے گھر ہی تو سنبھالنا ہے ۔۔۔۔ خدارا مجھے ان چار دیواری میں ہی بند رہنے دیں مجھے اپنا اپ محفوظ لگتا ہے ” نیلوفر کی بد حواسی اور عدم اعتمادی کا یہ عالم تھا کہ چھپ کر ایک کونے میں زندگی گزارنا اسے آسان لگ رہا تھا ۔۔۔۔ باسم نے نیلو فر کا ہاتھ بڑی اپنایت سے پکڑا

” کیا سمجھوں میں ۔۔۔ میری فری بزدل ہے ۔۔۔ مجھ سے محبت نہیں کرتی میری ایک بات بھی مان نہیں سکتی ۔۔۔۔ “بس یہی ایک۔ایسی بات تھی جو فری کو لاجواب کرنے کے لئے کافی تھی ۔۔۔۔ دوسرے دن وہ چپ چاپ تیار ہو گئ تھی ۔۔۔ باسم اسے یونیورسٹی کے مین گیٹ پر اتار کر چلا گیا تھا ۔۔۔۔ پوری رات نیلوفر نے خود کو آنے والے وقت کے لئے تیار کیا لیکن

اندر جاتے ہی سارااعتماد ہوا تھا ۔۔۔۔ ایک نظر چاروں طرف دوڑائی کئی عمارتیں بنی ہوئی۔ تھیں بہت بڑا سا لان تھا ۔۔۔۔ بہت سے لوگ تھے ۔۔۔ ہجوم والی جگہوں سے وہ شروع سے کتراتی آئی تھی ۔۔۔۔ دھیرے دھیرے سے چل رہی تھی ۔۔۔۔

ہاتھ میں پکڑے ٹشو سے بار بار ماتھے پر آنے والا پسینہ ہونچ رہی تھی ۔۔۔۔۔ پھر ایک لڑکیوں کے گروپ کو روک کر پوچھنے لگی کہ ایڈمشن فارم کہاں جمع کروانا ہے ۔۔۔۔ ان لڑکیوں نے ایک طرف اشارہ کر کے بتایا۔۔۔۔۔ وہ سیدھا وہاں پہنچ گئ ۔۔۔۔ کافی دور تک چلنا پڑا تھا ۔۔۔۔ لیکن جب مطلوبہ جگہ پر پہنچی تو معلوم ہوا کہ اسے غلط اطلاع دی گئ تھی لڑکیوں نے شاید اسے فول بنایا تھا ۔۔۔۔ نیلو کاتو جی چاہا رو دے ضبط کرتے کرتے بھی چند آنسوں آنکھوں کی باڑ سے چھلک ہی گئے تھے ۔۔۔ پھر ایک لڑکی سے آنسوں صاف کرتے ہوئے پوچھا ۔۔۔ وہ لڑکی اچھی تھی پھر نیلو کی حالت اور رونا دیکھ کر اس نے اسے صحیح جگہ بھیجا تھا ۔۔۔۔۔ فارم کے لیے لمبی لائن لگی ہوئی تھی ایک طرف لڑکیوں کی ایک طرف لڑکوں کی لیکن وہ سیدھی جا کر اس لڑکی کے برابر میں کھڑی ہو گئ جو اپنا فارم فیس کے ساتھ سرمٹ کروا رہی تھی ۔۔۔

” سنیں یہ میرا فارم بھی جمع کروا دیں ” نیلو نے اس لڑکی سے کہا ۔۔۔ لیکن اس نے لائن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کرخت لہجے میں جواب دیا

” یہ سب بھی اسی لئے کھڑی ہیں جاؤں جا کر پیچھے کھڑی ہو جاؤں اپنی باری کا انتظار کرو۔۔۔ بڑی آئی فارم جمع کروا دیں ” وہ لڑکی نہایت ہی بدمزاج سی تھی ۔۔۔ نیلوفر تیوری چڑھائے پیچھے کھڑی ہو گئ گرمیوں کی ابتدا تھی پھر کھلی جگہ پر ڈیر گھنٹے کے انتظار کے بعد بھی ابھی دس لڑکیاں باقی تھیں لیکن نیلو کا پیاس سے حلق خشک ہوا تھا ۔۔۔ اپنے آگے کھڑی لڑکی سے یہ کہہ کر وہ اسکی جگہ کا خیال رکھے وہ پانی لیکر آ رہی ہے وہ کینٹن کا پوچھ پاچھ کر کینٹین سے پانی کی بوتل خریدی اور وہیں کھول کر گھونٹ گھونٹ پینے لگی ۔۔۔۔ جیسے جیسے ٹھنڈا پانی اندر جا رہا تھا نیلو کو اپنے حوس درست ہوتے محسوس ہو رہے تھے جو دھوپ کی وجہ سے معطل ہوئے تھے ۔۔۔ سیر ہو کر پانی پینے کے بعد وہ تیزی سے چلتے ہوئے ریجزٹریشن آفس کی طرف بڑھنے لگی لیکن بیچ راستے سینڈل نے دغا دی تھی ۔۔۔۔ سینڈل کے اسٹپ ٹوٹ گئے تھے ۔۔۔۔ اس لئے چلنا مشکل ہوا تھا ۔۔۔ سب کے سامنے ٹوٹی ہوئی چپل سے چلنا مشکل لگ رہا تھا ۔۔۔ پاوں کو گھسیٹ گھسیٹ چلنے سے واقع۔ بہت سی لڑکیاں اس۔ پر ہنس رہیں تھیں ۔۔۔ بہت سے جمعلے بازیاں پاس سے گزرنے والے اسٹوڈنٹ اس پر کر رہے تھے ۔۔۔ آنسوں ضبط کرنا مشکل ہو تھا ۔۔۔۔

” یہ تھی وہ مشکل جس کا سامنا کرنے کے لئے باسم مجھے یہاں اکیلا چھوڑ گئے تھے” ۔۔۔ پہلی بار باسم پر جی بھر کے غصہ آیا تھا ۔۔۔ بڑی زور کا رونا بھی آیا تھا ۔۔۔۔ محبت کی خاطر مان جانے پر افسوس ہوا تھا ۔۔۔ ایک پل محبت کرنے پر بھی دکھ ہوا ۔۔۔

لیکن شو مئ قسمت جب تک وہاں پہنچی آفس کاوقت ختم ہو چکا تھا ۔۔۔۔ پھر تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی ۔۔۔ کون اسے دیکھ رہا ہے ۔۔۔کون نہیں اسے کسی کی پروا نہیں تھی ۔۔۔۔وہیں قریبی بینچ پر وہ بیٹھ کر دونوں ہاتھوں سے منہ چھپائے رونے لگی تھی ۔۔۔۔

باسم ہاف ڈے کی چھٹی لیکر نیلو کو لینے یونیورسٹی پہچا تھا ۔۔۔۔ پورا دن دھیان اسی کی طرف تھا ۔۔۔ دل سے یہ دعا بھی بہرحال نکلی کہ سب ٹھیک سے ہو گیا ہو فری کو مشکل نا پیش آئی ہو ۔۔۔۔ یورسٹی کے اندر داخل ہوتے ہی اس نے ریجزٹریشن آفس کی طرف رخ کیا تھا ۔۔۔ کیونکہ نیلوفر کو اس نے وہیں بیٹھنے کا کہا تھا اس لئے ڈھونڈنے میں ذیادہ دکت نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔

سامنے بینچ پر ہی بیٹھی وہ رو رہی تھی باسم کو دیکھ کر سرخ روئی آنکھوں سے غصے سے نظروں کا زاویہ بدلہ تھا ۔۔۔۔ باسم اس کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا

” فری “

” مر گی فری ” وہ تلملا کر بولی باسم نے اسکے برہم مزاج کو دیکھا تو اسکے برابر میں بیٹھ گیا

” رو کیوں رہی۔ ہیں “

” اپنی بری قسمت پر ۔۔۔۔جو کبھی بھی ٹھیک نہیں کو سکتی ۔۔۔ ” وہ غصے اور بے بسی سے بولی

” اب کیاقسمت کو برا کہتی رہیں گی ۔۔۔ یہ بتائیں فارم جمع کروا دیا” باسم نے موضوع بدلہ

“نہیں ۔۔۔ ” یہ کہہ کر فارم پرس سے نکال کر اس نے باسم کے ہاتھ میں۔ رکھ دیا ۔۔۔

پھر دھیرے دھیرے روتے ہوئے سب کچھ بتایا ۔۔۔وہ خاموشی سے سب کچھ سنتا رہا

” اس میں رونے والی تو کوئی بات نہیں تھی فری ” باسم کی اس بات پر اس کا جی جل کر رہ گیا تھا

اس لئے صرف سخت اور غصیلی نظروں سے اسے دیکھا تھا بولی کچھ نہیں تھی

“اچھا اٹھیں گھرچلیں میرے ساتھ “

” میراسینڈل ٹوٹ گیا ہے ۔۔۔ اور یوں ٹوٹے ہوئے سیڈل کے ساتھ باہر تک جاتے ہوئے مجھے مزید مزاق نہیں بننا” نیلوفر کی بات سن کر باسم نے گہری سانس بھری اپنے شوز اتارے اور نیلو کے پاؤں کے پاس رکھ دیے ۔۔۔ اپنے سینڈل اتار کر مجھے دیں ۔۔۔ اور یہ پہن لیں ۔۔۔ ” باسم کے پاس یہی ایک راستہ بچا تھا

“اور آپ ” نیلو نے حیرت کا اظہار کیا تھا

“میں یونہی باہر چلا جاؤں گا “

“اور لوگ جو باتیں کریں گئے آپ کو ۔۔ مزاق اڑائیں گئے وہ ؟ نیلو فر کی بات پر وہ سنجیدگی سے بولا

” میرا مزاق اڑائیں گئے نا اڑانے دیں ۔۔۔۔ لوگوں کا کام ہی یہی ہے ۔۔۔۔ مجھے فرق نہیں پڑتا فری ۔۔۔ اگر میں لوگوں کی سوچ کے مطابق چلنے کی کوشش کرتا رہا تو کبھی بھی کچھ نہیں کر سکتا جب تک خود اپنے ارادے مضبوط نا بنا لوں۔۔۔۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کے لوگ کیا کہتے ہیں ۔۔۔کیاسمجھتے ہیں ۔۔۔۔کیا فقرے کستے ہیں ” یہ کہہ کر اس نے جھک کر نیلو کے سینڈل اتارنے شروع کیے تھے

” یہ آپ کیا کر رہے ہیں میں خود اتار لوں گی ” نیلو کو یہ سب عجیب سا لگا تھا ۔۔۔۔ سب کے سامنے وہ اس کے سینڈل اتار رہا تھا

” کوئی فرق نہیں پڑتا فری ” اس نے نیلوفر کے سینڈل اتار کر ہاتھ میں لئے اس کا فارم جیب میں ڈالا تب تک وہ اس کے شوز پہن چکی تھی کچھ بڑے تھے لیکن ننگے پاؤں چلنے سے بہتر تھے ۔۔۔۔ باسم موزے پہنے ویسے ہی یونیورسٹی سے باہر آیا تھا دیکھنے والوں نے دیکھا بھی باتیں بھی بنائیں لیکن باسم کی صحت پر کچھ خاص۔ اثر نہیں ہوا تھا ۔۔۔

سب سے پہلے بائیک ایک جوتوں کی شاپ پر روکی نیلو کو نئے سینڈل لیکر دیے پھر گھر لے

آیا ۔۔۔۔

*******……

شام کو آفس سے واپس آتے ہی شاہزیب کمپیوٹر کلاسز دینے چلا جاتا تھا پھر رات کو ہی لوٹتا تھا ۔۔۔۔ گرمیاں نے شدت تو اختیار نہیں کی تھی لیکن اپریل کے مہینے کی گرمی برداشت کرنا وہ بھی بنا اے سی کے نیناں کے لئے مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔ شاہزیب نیند کے معاملے بہت بے خبر سوتا تھا ۔۔۔ہر موسم کو جھیلنے کی بچپن سے عادت تھی ۔۔۔۔عاصم کو ڈرائنگ روم کے ایک سائیڈ پر ایک سنگل بیڈ لگوا دیا تھا ۔۔۔۔ ایک شلف کتابوں کے لئے بنوا دی تھی ۔۔۔۔ پہلی تخواہ ملتے ہی شاہزیب نے صرف دس ہزار عاتقہ بیگم کے ہاتھ میں رکھے تھے ۔۔۔۔ باقی کے پیسوں کے شاہزیب نے دو حصے کیے کیے تھے ۔۔۔ پھر نیناں کو پکڑا دیے

“یہ پیسے بلکل الگ سائیڈ پر رکھنا بس دو ماہ کی سیونگ سے ہی میں ایک سکینڈ ہینڈ اے سی خرید لو گا ۔۔۔۔ تا کہ تمہیں پرابلم نا ہو ” اس بار شاہزیب کی بات پر نیناں نے اختلاف نہیں کیا تھا کیونکہ گرمی سچ میں اس سے۔ برداشت نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔۔ باقی کے پیسے شاہزیب نے خود اپنے لںڈ میں رکھ دیے ۔۔۔۔۔

نیناں بس کچن کے برتن دھوتی دیتی تھی یا پھر چھوٹے موٹے کام کر دیتی تھی لیکن ککنگ رینج کے پاس نہیں جاتی تھی۔۔۔ ایک آدھی بار بریڈ کے سلائس گرم کیے بھی تو گرمی اور چھوٹے سے کچن میں کام کرنے سے پیسنے سے شرابور ہو گی تھی ۔۔۔۔ اسے لگا مزید وہاں رکی تو سانس گھٹ جائے گا ۔۔۔۔۔

کمرے کا فل اسپیڈ میں بھاگتا ہوا پنکھا بھی اس کا پسینہ سکھانے میں نا کام ہو رہا تھا ۔۔۔ اپنا کشادہ اور لگژری کمرہ یاد آیا تھا ۔۔۔ جہاں کا اے سی ہر وقت آن رہتا تھا ۔۔۔۔ چاہے وہ کمرے موجود ہو یا نا ہو ۔۔۔۔

دو دن قیوم صابر کی کال س رہی تھی دو دن سے شاہزیب۔ اسکی کال کو نظر انداز کر رہا تھا ۔۔۔۔

لیکن جب بتدریج مسلسل اسکی کال آتی رہی تو مجبورا اسے اٹھانی پڑی ۔۔۔۔

” جی فرمائیے “

” شاہزیب کل میرے آفس پہنچو ورنہ اچھا نہیں ہو گا تمہارے ساتھ”

” کیا کریں گئے آپ ؟ دھمکی کیسے دے رہے ہو ہاں ۔۔۔ ” شاہزیب غصے سے بولا

” یہ تم کل آؤں تو بتاتا ہوں تمہیں ۔۔۔۔ ” وہ غصے سے غرا کو بول رہا تھا ۔۔۔

” اچھا اچھا آ جاؤں گا ۔۔۔ ” شاہزیب نے مدافعانہ انداز سے فون بند کیا تھا ۔۔۔۔

دوسرے دن افس سے سیدھا قیوم صابر کے پاس ہی گیا تھا ۔۔۔۔

وہ فون کر کے آیا تھا اس لئے اس لئے قیوم صابر اسی کے انتظار میں تھا ۔۔۔۔ اسے کینہ توز نظروں سے دیکھ رہا تھا شاہزیب نے آ کر اس کے سامنے رکھی کرسی غصے سے کھنچی اور ٹانگ ہے ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا ۔۔۔

” اب بولو کیا مسلہ ہے تمہارے ساتھ ” لہجہ اس کا تلخ تھا

” میرا مسلہ میرا پیسہ ہے ۔۔۔۔ سمجھے۔۔۔۔ تمہارے ویزے اور ٹکٹ اور پورا گیم ٹریگ آرگنائز کروانے پر میرے لاکھوں لگ گئے ہیں ۔۔۔ تم نے بہت نقصان دیا ہے مجھے لڑکے ۔۔۔۔ اسکی بھرائی کون کرے گا ” قیوم صابر قہر برساتی نظروں سے دانت کچکچا کر پوچھ رہا تھا شاہزیب اسکے غصے بھرے انداز کو دیکھتے ہوئے استزائیہ انداز سے مسکراتے ہوئے دیکھنے لگا پھر آگے ہو کر ٹیبل پر ہاتھ رکھ کر بولا

” کڑوروں کمائے ہیں تم نے مجھ سے ۔۔۔۔ بنا مجھ سے پوچھے آگ کے کنوئیں میں دھیکلا تھا تم نے یاد ہے سیٹھ ۔۔۔۔ ؟ ” غصے سے تنفس تو شاہزیب کا بھی تیزی سے چل رہا تھا ۔۔۔ قیوم صابر نے نظریں چرائیں۔ تھیں ۔۔۔ یہ سچ ہی تھا کہ اسلام آباد ہونے والے آخری شو کے خطرناک ٹریک کا علم شاہزیب کو میدان میں آنے کے بعد معلوم ہوا تھا کہ اسے کس قیامت سے گزرنا پڑے گا ۔۔۔۔ دس دن کی انتھک محنت کے بعد جب وہ خود بھی تھک چکا تھا اور پھر اس قسم کی سخت آزمائش کی ہمت بھی نہیں کر پا رہا تھا ۔۔۔ اگر ذرا سا چونک جاتا تو یقینا زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا جس طرح سے اس کی بائیک کو آگ لگی تھی

” کڑروں کا سٹا لگایا تھا تم نے مجھ پر ۔۔۔۔۔ کیا سمجھا تھا تم نے شاہو کو سونے دینے والی مرغی جو تمہارے اشاروں پر ہمیشہ ناچتی رہے گی ۔۔۔ شکل سے آلو کا پٹھا دکھتا ہوں تمہیں میں ۔۔۔۔۔ تم میری بولیاں لگاتے رہو بنا مجھ سے پوچھے مجھے موت میں جھونک کر اپنی جیب نوٹوں سے بھرتے رہو اور

مجھے چند لاکھ کا لولی پاپ پکڑا کر سمجھوں کے بچہ ہے ۔۔۔ اسی سے بہل جائے گا ۔۔۔۔ ” شاہزیب کے منہ سے ساری سچائی سن کر قیوم صابر کا غصہ جیسے سمندر کی جھاگ کی طرح غائب ہوا تھا جو کنارے پر آتے ہی دم توڑ دیتی ہے

” دیکھوں شاہو ہم بیٹھ کر ڈیل کر لیتے ہیں ۔۔۔۔ تمہیں پیسے ذیادہ چاہیے تو ٹھیک ہے میں دینے کو تیار ہوں ۔۔۔ ” قیوم صابر مفاہمت پر اتر آیا تھا

” نہیں سیٹھ میں یہ سب چھوڑ چکا ہوں ۔۔۔۔ تمہیں یہاں یہ سمجھانے آیا ہوں کے دوبارہ مجھ سے رابطہ مت کرنا ورنہ تمہاری ساری اصلیت دنیا کو دیکھا دوں گا ” یہ کہہ کر شاہزیب اسکے آفس سے نکل گیا لیکن سامنے آنے والی ایک لڑکی سے بری طرح سے ٹکراتے ٹکراتے بچا تھا ۔۔۔۔

” اوہ ایم سوری ۔۔۔ ” وہ شاید تیزی سے اندر بڑھ رہی تھی ۔۔۔ اور شاہزیب نے بھی غصے سے کمرے دروازہ کھولا تھا اس لئے بے ساختہ ہی بڑی زور کا۔ ٹکراؤ متوقع تھا لیکن شاہزیب یکلخت پیچھے ہٹا تھا وہ لڑکی ایکسکیوز کرنے لگی ۔۔۔۔

جینز کی پینٹ شرٹ بلیک دستانے شولڈ کٹ بال ہاتھ میں پکڑا ہیلمنٹ ۔۔۔۔ پاؤں میں سفید رنگ کے جوگر پہنے وہ عجلت میں تھی ۔۔۔ شاہزیب نے پیچھے ہٹ کر اسے اندر داخل ہونے کی جگہ دی جیسے وہ اندر داخل ہوئی وہ کمرے سے باہر نکل گیا

*******…….

شازمہ پورے مہینے بعد رہنے آئی تھی ۔۔۔۔ نمیرہ بھی بہن کا سن کر پہنچ گئ تھی ۔۔۔۔ صبح اسے شازل چھوڑ گیا تھا تین چار دن اسے رہنے کی اجازت جاوید صاحب سے ہی ملی تھی ۔۔۔ لیکن زمرد بیگم نے چار کے کھانے پکوا کر فریز کروا کر ہی اسے بھیجا تھا ۔۔۔۔

ایک ایک بات وہ روتے ہوئے عاتقہ بیگم کو بتا رہی تھی ۔۔۔

” امی ! تائی اماں کے سینے میں دل نام کی چیز ہی نہیں ہے ۔۔۔۔ نا رحم ہے ۔۔۔۔ ایک دن میں چار ہانڈیاں بنوائیں ہیں مجھ سے “

” یہ زمرد بھابھی ہے کہ ایسی ۔۔۔۔ اکلوتی بہو کہ یہ قدر ہے ان کے دل میں ” عاتقہ بیگم کی تو پہلے ہی اپنی جھٹانی سے کم ہی بنتی تھی ۔۔۔۔

اس لئے شازمہ کے ساتھ ملکر زمرد بیگم کی برائیاں کرتی رہیں۔۔۔۔ کھانا نمی نے بنایا تھا ۔۔۔ بس نیناں اسکے ساتھ لگ گئ تھی ۔۔۔۔ سلاد کاٹ دیا پیاز ٹماٹر کاٹ دیے ۔۔۔۔

رات کے ڈنر پر خرم بھی موجود تھا ۔۔۔۔۔ لیکن نیناں سے کھانا ٹھیک سے کھایا ہی نہیں گیا ۔۔۔ کھانے خوشبو سے ہی جی متلانے لگا تھا وہ تیزی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں گئ تھی ۔۔۔

” اسے کیا ہوا ہے ” شاہزیب کا اس کا یوں اٹھ کر جانا سمجھ سے باہر تھا

” میں دیکھتی ہوں شاہو بھائی آپ کھانا کھاؤ ” نمیرہ اٹھ کر اسکے پیچھے گئ تھی ۔۔۔۔ نیناں واش روم باہر آئی تھی ۔۔۔

” کیا بات ہے نیناں طعبت تو ٹھیک ہے نا “

” پتہ نہیں شاید گرمی کی وجہ سے ۔۔۔۔ ” دن با دن بڑھتی گرمی نیناں سے برادشت نہیں ہو پا رہی تھی ۔۔۔ نمیرہ نے فورا سے پنکھا چلایا تھا ۔۔۔۔ کچھ دیر بعد اسکی طعبت سنبھلی تھی ۔۔۔۔

رات کو بھی وہ کھانے سے منع ہی کرتی رہی ۔۔۔ زبردستی شاہزیب نے اسے جوس پلایاتھا کہ بھوکی

نہیں سونا ۔۔۔۔۔

لیکن صبح بھی نیناں کی طعبت میں بہتری نہیں آئی تھی ۔۔۔۔ آفس جانے سے پہلے وہ عاتقہ بیگم سے کہہ کر گیا تھا کہ نیناں کو ڈاکٹر کو ضرور چیک کروا دیں ۔۔۔۔

لیکن جب رات کو گھر پہنچا تھا تو ماں اور بہنوں کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر حیران تھا

” میں نے آپ سے نیناں کی طعبت کا پوچھا ہے ۔۔۔ رات سے وہ بیمار ہے اور آپ لوگ یوں مسکرا رہیں جیسے میں نے کوئی لطیفہ سنایا ہو ۔۔۔ لیپ ٹاپ بیگ صوفے پر رکھ کر وہ وہیں بیٹھ کر آپ ی ٹائی ڈھلی کرنے لگا ۔” اوہ چشماٹو پسنی پلاؤ ۔۔۔ “

شاہزیب نے سامنے شارٹ اور شرٹ میں بیٹھے عاصم سے کہا ۔۔۔

عاتقہ بیگم شاہزیب کے برابر میں بیٹھ گئ

” میں لیکر گئ تھی نیناں کو لیڈی ڈاکٹر کے ۔۔۔ بس بات ہی ایسی ہے کہ ۔۔۔۔ تم بس فریش ہو جاؤں اور میٹھائی لا کر کھلاؤ بہنوں کو ۔۔۔” عاتقہ بیگم نے واضع اشارہ دیا ۔۔۔۔

” کس خوشی میں میٹھائی کھلاؤ ۔۔۔ نا تو لاڑی لگی ہے میری ۔۔۔ نا ہی تنخواہ بڑھی ہے ۔۔۔۔ جانتی ہیں ایک کلو میٹھائی کا ڈبہ پانچ چھ سو سے کم کا نہیں آتا ۔۔۔۔ ” شاہزیب نے عاصم کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لیتے ہوئے کہا

” شاہو بھائی اتنی کنجوسی بھی اچھی نہیں ہوتی ۔۔۔ ” نمی نے جتایا تھا

” تم تو ابھی سے کنجوسی دیکھا رہے ہو تو جب ہم پھپو بن جائیں گئیں تب تو ۔۔۔۔۔۔ ” شازمہ کی آدھی بات منہ میں ہی تھی جب پانی شاہزیب کے حلق پر لگا تھا ۔۔۔۔ بری طرح اچھو لگا تھا ۔۔۔

” پھپو ۔۔۔۔۔ ؟”

یہ بات دل میں اس نے دہرائی تھی کیونکہ ویسے تو وہ بری طرح سے کھانس رہا تھا