267.9K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

No One Wheeling Episode 12

No One Wheeling by Umme Hani

باسم نیلوفر کو یونیورسٹی لینے گیا یونیورسٹی کے گیٹ پر ہی کھڑا تھا ۔۔۔ نیلوفر اپنی ایک دوست کے ساتھ باہر نکلی تھی۔۔۔ نئ نئ ایک لڑکی دوستی ہوئی تھی پہل بھی اس لڑکی نے کی تھی ۔۔۔ اس لئے ابھی نیلو یہ نہیں بتا پائی تھی کہ باسم سے اس کارشتہ کیا ہے

” ہائے نیلو تمہارا بھائی کتنا ہینڈسم ہے ” نیلو فر کی دوست کی باسم کو دیکھ آنکھیں پھیلیں تھیں

” یہ میرے ہسبنڈ ہیں ” نیلو نے خفگی سے کہا ماتھے پر کئ بل پڑے تھے

” یہ ہسبنڈ ہیں تمہارے ؟ وہ حیرت سے چلا ہی پڑی تھی ۔۔۔۔

” ہاں اس میں اتنا حیران ہونے والی کیا بات ہے ” نیلو کو اسکی حیرت پر تعجب تھا

” مجھے تو لگا تم ان میرڈ ہو اور یہ ہینڈ سم سا لڑکا تمہارا بھائی ہو گا ۔۔۔۔ او کے بائے نیلو ” وہ منہ کے زاویے بگاڑتے ہوئے چلی گئ ۔۔۔ نیلو فر کو لگا جیسے اس لڑکی کو نیلوفر سے ذیادہ باسم میں دلچسپی ہو جب وہ باسم کے پاس پہنچی اچھا خاصا موڈ آف تھا

” کیا بات ہے فری ۔۔۔۔ اتنا موڈ آف کیوں ہے “

” کچھ نہیں عجیب لڑکیاں ہیں ۔۔۔۔۔ شرم نہیں آتی دوسرے کے شوہروں پر نظر رکھتے ہوئے ۔۔۔۔ “

” کس نے کس کے شوہر پر نظر رکھ لی ہے جو آپ کو برا لگ رہا ہے “

” وہ جو میری دوست ہے وہ کب سے آپ کو ہی دیکھ رہی تھی اوپر سے نظر بھی کمزور ہے اسکی کہہ رہی تمہارا بھائی بہت ہینڈسم ہے ۔۔۔۔ یہ بھی نظر نہیں آتا کہ شوہر ہے میرا ” باسم کے پیچھے بیٹھتے ہوئے بولی باسم مسکرانے لگا

” دیکھنے والے کو کیا پتہ کہ لڑکا لڑکی کا کیا رشتہ ہے اس لئے کوئی ایسے بھی ہوتے ہیں جو بہن بھائی کو دیکھ کر بھی ڈیٹ سمجھ لیتے ہیں اور کچھ میاں بیوی کو بہن بھائی ۔۔۔۔ اس میں برا ماننے والی تو کوئی بات نہیں “

” لیکن وہ ہوتی کون ہے آپ کو اس نظر سے دیکھنے والی ۔۔۔۔ لڑکی ہو کر لڑکوں کو بے شرموں کی طرح دیکھتے ہوئے ذرا شرم نہیں آتی اسے ۔۔۔۔ ” پورے راستے نیلوفر کو اس لڑکی پر غصہ ہی آتا رہا۔۔۔۔۔

******……..

“رباب کل سی ویو پر ہماری بائیک ریس ہے تم بھی ساتھ چلو ۔۔۔۔ ” رمیز نے پہلی بار رباب سے فرمائش کی تھی ۔۔۔۔

” میں کیوں جاؤں مجھے انٹسڈ نہیں ہے ” کتابیں بند وہ لائبریری سے اٹھنے کا سوچ رہی تھی جب رمیز اسکے پاس آ کر بیٹھا تھا

” رباب سمجھوں نا یار تم جاؤں گی تو وہ بھی تمہارے ساتھ جائے گی ۔۔۔۔ اور میں چاہتا ہوں کہ وہ مجھے بائیک کے مقابلے میں جتتے ہوئے دیکھے ” رمیز نے۔ ملتجی لہجے میں کہا

” اور تم پر فدا ہو جائے ” رباب ہسنے لگی

” ایزیکلی ۔۔۔۔ یہ چاہتا ہوں ۔۔۔ پھر تم آؤں گی نا ” رمیز نے بڑی آس سے پوچھا

” رمیز میں ایسے کبھی کہیں گئ نہیں پھر بھائی سے اجازت نہیں ملے گی ۔۔۔۔ “

” ہم کالج سے کلاس ڈمپ کریں گئے سب ملکر جائیں گئے ۔۔۔۔۔ چھٹی سے پہلے واپس آ جائیں گئے ۔۔۔ ” رمیز رباب کو منانے کی کوشش کر رہا تھا

” پھر بھی رمیز ۔۔۔۔ بھائی سے پوچھے بنا میں کبھی کہیں نہیں گئ ” رباب متذبذب سی تھی ۔۔۔

“رباب کچھ نہیں ہو گا ٹرسٹ می “

” او کے ٹھیک ہے میں وعدہ نہیں کرتی ۔۔۔ “

” میرب کو ساتھ ضرور تیار کر لینا ” یہ کہہ وہ چلا گیا ۔۔۔۔ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اور انکی پسندیدگی کی رازداں تھی رباب ۔۔۔۔۔

رباب نے رمیز سے کہہ تو دیا تھا لیکن باسم سے پوچھے بنا جانا اسے مناسب نہیں لگ رہا تھا اس لئے رات کو بھائی کے پاس صحن کے تخت پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔ نیلو چائے بنا کر وہیں بیٹھ گئ تھی رباب نے جب بھی بھائی سے کوئی بات منوانی ہوتی تھی تو اسکے کندھے پر سر رکھے بازو گلے میں ڈالے لاڈ ضرور دیکھاتی تھی ۔۔۔۔ باپ یاد بھی نہیں تھا لیکن بھائی نے خوب لاڈاٹھائے تھے ۔۔۔

” بڑا پیار آ رہا ہے بھائی پر ۔۔۔۔ ” نیلوفر نے پیار سے رباب کو دیکھ کر کہا

” وہ تو مجھے روز ہی آتا ہے ۔۔۔ “

” ہاں آتا تو روز ہے لیکن آج روبی کو کچھ چاہیے ہو گا ۔۔۔ کیونکہ ایسی مہربانیاں بھائی پر تب ہی ہوتی ہیں جب روبی کو کچھ خاص چاہیے ہوتا ہے ۔۔۔ “

” بھائی مجھے آپ کی اجازت چاہیے کل کالج میں میرے بہت سے کلاس فیلو بائیک ریس میں حصہ لے رہے ہیں ۔۔۔۔ مجھے وہ دیکھنے جانا ہے ” بڑے لاڈسے اس نے باسم سے کہا تھا

” بائیک ریس ؟ کون کون حصہ لے رہا ہے ؟

” میری کلاس کے چند لڑکے ہیں “

” عاصم بھی تمہاری کلاس میں ہے نا روبی ؟ کیاوہ بھی شامل ہے ؟”

” نہیں وہ بہت ڈر پوک سا ہے ۔۔۔ اسے تو بائیک چلانی تک نہیں آتی ۔۔۔۔ “

” ڈر پوک نہیں ہے ۔۔۔ اچھا شریف سا بچہ ہے بھولا بھالا سا پڑھنے میں کیسا ہے “

” ایک نمبر کاچیٹر ہے ” رباب نے ناک چڑھا کر کہا تھا

” روبی ” باسم نے آنکھیں دیکھائی۔ تو وہ ہنس کر بھائی سے پیچھے ہٹ گئ

” سچ کہہ رہی ہوں بھائی ۔۔۔۔ آپ کو پتہ پیپر میں مجھے چیٹنگ کے طریقے سمجھا رہا تھا با مشکل ہی پاس ہوتا ہے ۔۔۔۔ “

” اچھا تم یہ بتاؤں واپسی کب ہو گی میں خود تمہیں لینے آ جاؤں گا ۔۔۔۔ “

“کالج کی چھٹی کے ٹائم ہی ۔۔۔۔ “

” او کے ۔۔۔ تم میرا وہیں انتظار کرنا “

” ٹھیک ہے بھائی ” اب وہ مطمئن تھی باسم کے لئے بھی یہ اچھا موقع تھا وہاں موجود لڑکوں کو بائیک ریس کے نقصانات بتانے کا کیوں ایسی ریس میں لڑکوں کی بھیڑ سی جمع ہوتی ہے ۔۔۔۔ رباب کو اجازت دینے کی بڑی وجہ یہ بھی تھی ۔۔۔۔

******……..

“شاہز۔۔۔۔۔۔۔” نیناں ابھی کچھ بول بھی نہیں پائی تھی کہ شاہزیب اس کے منہ ہاتھ رکھ چکاتھا

” شش ایک دم چپ ۔۔۔۔ نیناں میں کمرے میں تمہارا انتظار کروں گا ۔۔۔۔ شرافت سے آج کمرے میں آ جانا۔۔۔۔” یہ کہہ نیناں کو چھوڑ کر باہر چلا گیا ۔۔۔۔

نیناں نے برتن دھوئے اور کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔

کچھ ہی دیر میں عاتقہ بیگم بھی پہنچ گئیں ۔۔۔

بچے سو چکے تھے ۔۔۔۔

” امی کیا مجھے اب شاہزیب کو معاف کر دینا چاہیے “

” بلکل بھی نہیں ۔۔۔۔ اسے بھی تو پتہ چلے بیوی کی اہمیت کیا ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ تمہارے ابو بھی جوانی میں ایک بار ایسے ہی کسی چکر میں پھنس گئے تھے ۔۔۔ اسوقت شازمہ اور شاہزیب ہی چھوٹے تھے جب مجھے زمان کی لیکچر کی کتاب میں سے ایک گلاب کے پھول کے ساتھ ایک خط موصول ہوا ۔۔۔ انکی کوئی شاگردہ تھی جو دل و جان سے ان پر فدا ہو چکی تھی وہ لڑکی تو انکی زندگی سے جا چکی تھی لیکن مجھے علم نہیں تھا ۔۔۔۔ زمان کابس یہ قصور تھا کہ دوسال سے اس کا خط پھول سمیت کتاب میں سنبھالے رکھا تھا ۔۔۔۔ جو میرے ہاتھ لگ گیا ۔۔۔ پہلے تو میں بھی تمہاری طرح بہت روئی دھوئی دونوں بچوں کا ہاتھ پکڑا اور اماں کے گھر جا بیٹھی ۔۔۔۔ آٹھ دن بعد زمان منانے بھی آئے پر میں نے جانے سے انکار کر دیا… اماں کو جب خبر ہوئی کہ یہ ماجرہ ہے تو زمان کو کہا ذرا بیٹھک میں بیٹھوں میاں اور بیوی بچوں کو لیکر ہی جانا ۔۔۔ ” یہ کہہ کر میرے پاس کمرے میں آ گئیں کہنے لگیں

“عاتقہ کیا عقل گھاس چرنے بھیج دی ہے تو نے ۔۔۔۔ میاں کو اکیلا چھوڑ کر تو تو خود ایک عورت کو اپنے گھر کی راہ دیکھا رہی ہے ۔۔۔۔ اپنے گھر جا اور میاں کے سر پر بیٹھ کر ناراضگی دیکھا آج تو لینے آ گیا ہے ۔۔۔۔ روز روز نہیں آئے گا ۔۔۔ بس اماں کی بات سیدھی میرے دل میں لگی تھی ۔۔۔۔ چار دن تک میں نے زمان سے خوب منتیں کروائیں تھیں ۔۔۔ وعدہ لیا کہ دوبارہ آنکھ اٹھا کر کسی لڑکی نہیں دیکھیں گئے پھر جا کر مانی تھی میں ۔۔۔۔ تمہیں اس لئے بتا رہی ہوں کہ تم بھی کچھ ہوش کے ناخن لو ۔۔۔۔ خبردار جو شاہزیب کے نخرے اٹھائے تو ۔۔۔۔ جب تک دل سے توبہ نا کر کے یونہی روز تیار ہو کر اسکے سامنے جایا کرو ۔۔۔۔ اسے بھی پتہ چلے کہ اسکی بیوی کسی سے کم نہیں ہے ۔تم میکے چلی ۔جاوں گی تو کہاں اسے فکر ہو گی تمہاری یہاں رہ کر اسے اپنا احساس دلاو ” عاتقہ بیگم نے نیناں کے پیار سے گال تھپتھپا کر کہا

” ہاں آپ بلکل ٹھیک کہہ رہیں ہیں ۔۔۔۔ ایسے ہی یہ بھی ٹھیک ہوں گئے ” نیناں کو ساس کی ہر بات پر اعتبار سا ہونے لگا تھا ۔۔۔۔۔ اس لئے لیٹ گئ ۔۔۔۔

موبائل پر میسج کی ٹیون بجی تھی نیناں نے فورا سے واٹس اپ کا میسج چیک کیا جہاں انتظار کاایموجی بنا ہوا تھا ۔۔۔ دل تو اندر سے اسکا بھی برقرار ہو رہا تھا لیکن

نیناں نے موبائل بند کر کے رکھ دیا صبح چھٹی تھی ۔۔۔ اس لئے آرام سے اٹھی تھی ۔۔۔۔ لیکن شاہزیب ناشتے پر باہر نہیں آیا تھا عاتقہ بیگم اور زمان صاحب ناشتے کر کے شازمہ سے ملنے جیدی صاحب کے گھر گئے تھے ۔۔۔ عاصم شاہزیب کو جگانے گیا لیکن واپس آ گیا

” شاہو بھائی کہہ رہے سر میں درد ہے ناشتہ نہیں کروں گا ۔۔۔ شاید بخار ہو رہا ہے ۔۔۔

” یہ کہہ کر ٹیبل پر بیٹھ گیا اور ناشتہ کرنے لگا

” بخار ہو گیا ہے ۔۔۔ میں دیکھتی ہوں ” نیناں کی ساری ناراضگی ختم ہوئی تھی ۔۔۔ فورا سے کمرے میں گئ تھی وہ ہائے ہائے کر رہا تھا

” شاہزیب بخار کیسے ہو گیا آپ کو ” اس کے پاس آ کر لحاف منہ سے ہٹایا وہ آنکھیں بند کیے لیٹا تھا ۔۔۔ نیناں نے ماتھے پر ہاتھ رکھا لیکن بخار محسوس نہیں ہوا تھا ۔۔۔ جان چکی تھی میاں کی ڈرامے بازی کو اس سے پہلے کے واپس جاتی وہ آنکھیں کھول کر اس کا بازو پکڑ اپنے پاس بیٹھا چکا تھا

نیناں کا بازو پکڑے وہ اٹھ بیٹھا تھا ۔۔۔ کچھ دیر اسے ناراض ناراض چہرے کو دیکھتا رہا

” رات کو کیوں نہیں آئی تھی تین بجے تک جاگ کر تمہارا انتظار کیا ہے ۔۔۔ ” خمار آلود لہجے میں پوچھ رہا تھا

” آپ نے مجھ سے جھوٹ بولا ہے کہ بخار تھا ” نیناں نے خفگی سے پوچھا

” ہاں بولا ہے جھوٹ ۔۔۔ ” اس نے بے فکری سے اعتراف کیا تھا

” ہاتھ چھوڑیں میرا ۔۔۔ مجھے آپ سے بات نہیں کرنی ہے “

” نا چھوڑو تو کیا کرو گی ۔۔۔ ” وہ ڈھٹائی سے بولا

” آپ کو مجھ سے محبت نہیں ہے ” وہ رہانسی ہو کر بولی تھی

” بلکل بھی نہیں ہے ۔۔۔ ” شاہزیب نے اعتراف کیا تھا نیناں کی جان جلی تھی

” میری پروا بھی نہیں ہے ۔۔۔ “

” نہیں ہے تمہاری پروا ۔۔۔ ” وہ اسکی ہر بات کو من و عن تسلیم کر رہا تھا

” آپ کیسے کسی اور لڑکی سے محبت کر سکتے ہیں شاہزیب ” نیناں جیسے بے بس سی ہوئی تھی

” کر سکتا ہوں ۔۔۔۔ اور کرتا ہوں ۔۔۔ بہت محبت کرتا اس سے ۔۔۔۔ کیا کر لو گی تم ” آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے اس نے نیناں کے تپے ہوئے چہرے کو دیکھا تھا ۔۔۔ تیز چلتے تنفس سے پھولے سانسوں کی آمد و۔ رفت سے جان سکتا تھا کہ ان باتوں سے نیناں کے دل کی حالت اسوقت کیا ہو رہی ہے ۔۔۔

” آپ کو شرم نہیں آتی میرے سامنے یہ سب کہتے ہوئے ” ٹپ ٹپ آنسوں نیناں کی آنکھوں سے بہے تھے

” مجھے کیوں شرم آئے گی ۔۔۔۔۔ تمہیں مجھ پر بھروسہ جو اتنا ہے نیناں۔۔۔۔ مجھے تمہارے بھروسے پر پورا اترنا چاہیے ۔۔۔ میری محبت پر شک ہے تو ٹھیک ہے تم شک کرو میں تمہیں وہ سب سچ میں کر کے دیکھا دیتا ہوں ۔۔۔۔۔” اسکے آنسوں اپنے ہاتھ کے پروں سے چنتے ہوئے وہ بڑے مخمود نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا

” شک تو آپ بھی مجھ پر کرتے ہیں ” نیناں نے شکوہ کیا تھا

” نہیں نیناں میں تم پر کبھی شک نہیں کر سکتا ۔۔۔

” جبھی حیدر کو اتنا مار تھا ” نیناں نے جتایا ۔۔۔۔

” اسے میں نے یہ یاد دلانے کے لئے مارا تھا کہ نیناں کو چھونے کا حق صرف میرا ہے کسی اور کا نہیں ۔۔۔۔

” میری اس سے اتفاقیہ ملاقات ہوئی تھی ۔۔۔” نیناں نے وضاحت دی

“جانتا ہوں “

“بچوں کے بھاگنے کی وجہ سے میں گرنے لگی تھی ۔۔۔ اگر وہ مجھے ناسنبھالتا تو میں گر جاتی “

” تو گر جاتی نیناں ۔۔۔۔” شاہزیب کی بات پر نیناں سے حیرت سے دیکھنے لگی

” بازار میں ۔۔۔۔مال میں۔۔۔۔ روز ہزاروں خواتین ٹکرا کر گر جاتی ہیں ۔۔۔۔ گرتی ہیں ۔۔۔ خود سے اٹھتی ہیں خود ہی سنبھلتی ہیں ۔۔۔ کسی غیر مردوں کی بانہوں کا سہارا نہیں لیتیں اگر کوئی یوں انہیں تھامنے کی کوشش بھی کرے تو سب سے پہلا تھپڑ اسی کو مارتی ہیں ۔۔۔ کہ تم کون ہوتے ہو مجھے ہاتھ لگانے والے ۔۔۔ اگر یہی تھپڑ تم حیدر کے مار دیتی نیناں تو قسم خدا کی میری مار سے وہ سو فیصد بچ جاتا ۔۔۔۔ میں کیا کوئی بھی مرد یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اسکی بیوی گرتے ہوئے کسی غیر مرد کی بانہوں کا سہارا لے کوئی فلمی سین تو نہیں تھا نیناں کے لڑکی ٹکرا کر گر جائے اور ہیرو اسے آکر تھام لے اور دیکھنے والے تماشائی تالیاں بجانے لگیں اس قسم کے رومنٹک سین پر واہ واہ کریں ۔۔۔ آئندہ ایسا اتفاق ہو تو بے شک زمین پر گر جانا۔۔۔

دوسروں کی نظروں سے گرنے سے زیادہ بہتر ہے ۔۔۔۔

دوسری بات یہ ہے نیناں کہ اگر تم نے مجھے ہاسپٹل کے کسی کمرے میں کسی لڑکی کے ساتھ دیکھ لیا تھا تو وہیں سے واپس کیوں لوٹ گئ ۔۔۔۔ تم بیوی تھی میری پورا دروازہ کھول کر اندر آتی ۔۔۔۔ جو چاہے مجھ سے سوال کرتی ۔۔۔میں تمہارے سوالوں کے جواب ضرور دیتا ۔۔۔لیکن نہیں ۔۔۔۔ تم نے آدھی بات دیکھی اور آدھی سنی اور واپس لوٹ گئ۔۔۔۔۔۔ مجھے کیا خبر کے کس بات کو لیکر تم میکے بیٹھی ہو ۔۔۔۔ الہام نہیں ہوتے مجھے ۔۔۔۔ ورنہ تمہیں کلیر کر دیتا ۔۔۔۔ تمہیں میسج کیا تھا کہ تمہیں لینے آؤں گا ۔۔۔ کہا تھا نا میں نے۔ ؟۔۔ لیکن آنے سے انکار تم نے خود کیا تھا ۔۔۔۔ میں تمہیں بہت مس کر رہا تھا نیناں ۔۔۔ اس لئے تمہیں واپس بلانے کے لئے جو صحیح لگا وہ کر دیا یہ نہیں سوچا کہ ٹھیک کیا ہے کہ غلط کیا ہے بس یہ جانتا تھا کہ سعدی اور ہادی کی خاطر تم فورا سے واپس آ جاؤں گی۔۔۔۔۔ آؤں گی تو بیٹھ کر اختلافات بھی ختم کر لیں گئے لیکن ۔۔۔۔ تم نے تو ایک نیا محاذ میرے خلاف کھڑا کر دیا ۔۔۔۔

اب بھی تمہیں میں غلط لگ رہا ہوں تو ٹھیک ہے ۔۔۔ تمہارے سامنے بیٹھا ہوں جو چاہے سزا دو ۔۔۔ افف بھی کر جاؤں تو نام بدل دینا میرا ” شاہزیب نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔

” ایم سوری شاہزیب ” نیناں نظریں جھکائے بولی

“اٹس او کے ۔۔۔۔۔ بس اتنی سی بات تھی نیناں بارہ دن پہلے بھی یہ سب کلئر ہو سکتا تھا اگر تم میرے آفس سے واپس آنے کا انتظار کر لیتی ۔۔۔۔ تمہیں کیا لگا تھا میں تمہیں رانا صاحب کے گھر جانے سے روک رہا تھا ۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ میں بس یہ چاہتا تھا کہ جو بات آج کلیر ہوئی ہے وہ تب ہو جاتی ۔۔۔۔ یہ ہمارا آپس کا معاملہ تھا ہمہیں خود سولو کرنا چاہیے تھا

نا کے امی ابو کے سامنے مجھے جوابدہ ہونا پڑتا ۔۔۔۔ لیکن تم نا جانے کب سوچ سمجھ کر چلنا سیکھوں گی ۔۔۔ کیا کہو تم سے ۔۔۔۔۔ “

” کہا نا شاہزیب ایم سوری ” شاہزیب کا ہاتھ تھامے وہ واقعی شرمندہ تھی

” نیناں میں چاہتا ہوں کہ سب سے پہلے ہم اپنی پروبلم خود سولو کرنے کی کوشش کریں ۔۔۔ بند کمرے میں بیٹھ کر ۔۔۔۔ جیسے محبت اظہار بند کمرے میں کیا جاتا ہے ۔۔۔۔ اسی طرح لڑائی بھی بند کمرے تک رہنی چاہیے ۔۔۔۔ ہاں اگر بات ہم دونوں کے اختیار میں نا ہو تو پھر امی ابو کے سامنے بے شک رکھ دی جائے ۔۔۔

ہر شخص کی اپنی ایک عزت نفس ہوتی ہے میری مینا ۔۔۔ اور مرد میں یہ حس کچھ زیادہ ہوتی ہے ۔۔۔۔ میں جس اسٹیج پر آ چکا ہوں اچھا نہیں لگتا کہ تمہارے سامنے ابو سے ڈانٹ کھاو۔۔۔۔

اس لئے پلیز دوبارہ ایسا کرنے سے پہلے تم مجھ سے بات کلیر ضرور کرنا ۔۔۔۔۔ ” شاہزیب بہت رسانیت سے سے سمجھا رہا تھا نیناں نے اثبات میں سر ہلایا تھا

” نیناں میں ایک نئے عزم کے لئے قدم بڑھا چکا ہوں اس کے ضروری ہے کہ تم میری ہم قدم ہو کر میراساتھ دو ۔۔۔۔ تمہیں شاید یہ بات میں ابھی نہیں بتاتا لیکن تم مرحا کو دیکھ چکی ہو ۔۔۔۔ اور غلط فہمی کا شکار بھی ہو چکی ہو اس لئے اب ضروری ہے میں تمہیں ہر بات سے آگاہ کر دوں اس سے پہلے کے ہمارے رشتے میں کوئی آنچ آئے ۔۔۔

” کیسا عزم شاہزیب ۔۔۔ “

” نو ون ویلنگ کا ۔۔۔۔ میں اور میرے سب دوست ون ویلنگ کے خلاف ایک ٹیم ورک کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں ۔۔۔۔ تا کہ بہت سے لڑکے جو اسکی وجہ سے حادثات کا شکار ہوتے ہیں ۔۔۔ وہ اس قبیح کھیل سے بچ جائیں ۔۔۔۔

مرحا بھی میرے لئے اسی کڑی سی جڑا ہوا صرف ایک کیس ہے ۔۔۔۔ لیکن میں تمہیں اب اسکے بارے میں بتاؤں کا نہیں بلکہ اس سے ملوانے لے جاؤں گا جب تم اس سے ملو گی تمہیں تمہارے سارے سوالوں کا جواب مل جائے گا ۔۔۔ بس ایک بات اپنے دل ودماغ اچھی طرح سے بیٹھا لو نیناں ۔۔۔۔

میں ایک عام سا مرد ہوں ۔۔۔۔ لڑکیوں میں میری دلچپسی کتنی کم ہے یہ تم اچھی طرح سے جانتی ہو ۔۔۔۔ میری سوچ میرا عزم کچھ اور ہے ۔۔۔ مجھے چیلنج کرنا اور انہونی یا مشکل چیزوں کو کرنے کا شوق ہے ایک چارم سا نظر آتا ہے مجھے ان سب میں ۔۔۔۔ بس میری لائف میں میرا فرسٹ اوپین یہی ہے ۔۔۔ تم سے ملنے سے پہلے ۔۔۔ مجھے محبت بھی نہیں کرنی تھی ۔۔۔۔ امی ابو جس سے چاہے شادی کر دیتے میں زندگی بھر اس سے نبھا لیتا ۔۔۔ لیکن پھر تم اچھی لگنے لگی ۔۔۔۔ دل میں تم بس گئ تھی اس لئے زندگی میں بھی تمہیں شامل کر لیا ۔۔۔۔۔ اب ہم دونوں ایک پریکٹکل لائف میں ہیں نیناں دو بچے ہیں ہمارے ۔۔۔۔ میری لائف کمپلیٹ ہے میں بہت خوش ہوں اور کوشش یہی کی ہے تم بھی مجھ سے خوش رہو ۔۔۔ پہلے تو یہ سمجھ لو کہ تمہارے علاؤہ میری زندگی میں لڑکی تو کوئی نہیں آئے گی ۔۔۔۔۔۔ اس لئے اسے شبہات دل میں پال کر تم ہماری میرڈ لائف کو خراب کرنا چاہتی ہو تو تمہاری مرضی ہے لیکن میں روز تمہیں وضاحتیں ہر گز نہیں دونگا ۔۔۔۔۔

شام کو تیار رہنا میں تمہیں مرحا سے ملوانے لے جاؤں گا ۔۔۔۔ اب جاؤں اچھا سا ناشتہ بناؤں میرے لئے ۔۔۔ میں فریش ہو کر آتا ہوں ” نیناں کے سر بوسہ دے کر وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا تھا ۔۔۔

اگر جذبات کے بجائے رشتوں کو ذرا وقت دیا جائے تو انسان بہت سے غلط فیصلوں سے بچ جاتا ہے

******………

رباب کے لئے یہ پہلا تجربہ تھا جو۔ سمندر کے کنارے خالی سڑک کے اطراف کھڑے ہو کر ۔۔۔۔ بائیک ریس کا دیکھنا ۔۔۔ جہاں وہ کھڑی تھی اسی کے کالج کے کئ اسٹوڈنٹ کھڑے تھے ۔۔۔۔ عاصم بھیڑ میں سے نکل کر اسکے برابر میں کھڑا ہوا تھا

” روبی تم لوگ میرے ساتھ آؤں یہاں لڑکوں کا رش ذیادہ ہے کالج کے علاؤہ بھی بہت سے آوارہ لڑکے یہاں جمع ہیں ۔۔۔۔ ” عاصم نے غیر دانستہ ہی اس کا ہاتھ پکڑا تھا ۔۔۔ اور اسکے ساتھ کھڑی میرب کو بھی وہاں سے چلنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔ لڑکوں کو پیچھے ہٹاتے ہوئے وہ ان چند لڑکیوں کو وہاں سے باہر لے آیا تھا اور ایک ایسی جگہ کھڑا کر دیا جہاں رش نہیں تھا ۔۔۔۔

” تم لوگ یہاں کھڑی ہو جاؤں ” عاصم نے رباب کا ہاتھ چھوڑ کر کہا ۔۔۔۔

کچھ ہی دیر میں وہاں آٹھ سے دس لڑکے بائیک چلاتے ہوئے اپنے موجودگی ٹریک پر آ کر کھڑے ہو گئے ۔۔۔۔

بھیڑ میں مختلف ناموں کی آوازیں گونجنے لگیں ۔۔۔

پھر ایک سیٹی کی آواز پر ریس شروع ہوئی تھی وہی چند منٹ کی مسافت کے بعد ایک پہیے پر بائیک چلنے لگی تھی ۔۔۔ تالیاں سیٹیاں بجنے لگیں تھیں ۔۔۔۔ رمیز ہی اب تک سب سے آگے تھا ۔۔۔۔ وہی جوش وہی جنون آسمان کو چھونے کی خواہش جو اس عمر کے لڑکوں میں نیا نیا بیدار ہوتا ہے ۔۔۔۔

رمیز کی آنکھیں بھی اسی نشے میں چور تھیں ۔۔۔ پھر یہ بھی پتہ تھا میرب یہ سب دیکھ رہی ہے تو جذبات کچھ زیادہ ہی کھل کر دیکھائے جا رہے تھے ۔۔۔

اسوقت وہ بالی اور ولی وڈ کا ہیرو تصور کر رہا تھا ۔۔۔۔

بائیک پر رمیز کھڑا ہو چکا تھا ایک پاؤں ہوا میں لہراتا ہی سا اس کی بائیک نے جیت کاربن جاتا تھا ۔۔۔۔۔ رباب کے ساتھ ساتھ میرب اور دوسری لڑکیاں بھی آنکھ جھپکنا بھول گئیں تھیں ۔۔۔۔۔

پھر تالیوں کاایساشور اٹھا تھا تالیوں کی گونج کے علاؤہ ہر آواز گم ہو چکی تھی ۔۔۔ جیت کاسہرا رمیز کے سر بندھا تھا ۔۔۔۔

” اٹس امیزنگ ” رباب کی حیرت سے آنکھیں پھیلیں تھیں ۔۔۔ کئ منچلے جو اس کو دیکھنے آئے تھے ۔۔۔۔ اسے کھیلنے کے جذبہ رکھنے لگے تھے ۔۔۔ ایک خواہش عاصم کے دل میں بھی جاگی تھی ۔۔۔

دیکھ کر لگا کہ رمیز نے جو کیاایسا بھی کوئی مشکل امر نہیں تھا بس ذرا سا بائیک کا ٹائر ہی تواٹھانا ہے ۔۔۔۔ باسم رباب کو لینے آیا تو موقع اچھا تھا اس لئے ایک گروپ کے پاس پہنچ گیا ۔۔۔۔

” کیا میں آپ لوگوں سے بات کر سکتا ہوں ” باسم نے نوجوان لڑکوں کو مخاطب کیا ۔۔۔

” جی کہیے ” عاصم بھی انہیں شامل تھا

” دیکھیں یہ کھیل ٹھیک نہیں جان کا خطرہ ہے ۔۔۔۔

لوگ روز اس کھیل سے حادثات کا شکار ہوتے ہیں ” باسم کی بات کسی نے بھی توجہ سے نہیں سنی تھی آہستہ آہستہ سب ہی کھسکنے لگے ۔۔۔۔

” بھائی یہ لوگ نہیں سننے سمجھنے والے آپ چلیں ” رباب باسم کا ہاتھ پکڑے وہاں سے لے گئ

باسم کو افسوس سا ہوا تھا ۔۔۔۔ اسے لگا لڑکے اسکی بات سنے گئے ۔۔۔ لیکن ان کے بگڑتے منہ دیکھ کر لگ رہا تھا کہ سمجھنا تو درکنار سننے کے بھی روادار نا ہوں

******……

دوپہر تک عاتقہ بیگم واپس آ چکیں تھیں ۔۔۔۔ شام کو نیناں تیار شیار ہو کر شاہزیب کے ساتھ جانے سے پہلے عاتقہ بیگم سے اجازت لینے آئی تھی

” جاؤ بیٹا پوچھنے کی کیا ضرورت ہے خوش رہو آباد رہو ۔۔۔۔

بیٹے اور بہو کے چہرے کی دلکشی سے دل مسرور ہوا تھا ۔۔۔۔

بائیک اسی ہسپتال کے سامنے کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔۔ جہاں نیناں نے اس لڑکی کو دیکھا تھا ۔۔۔۔ کمرہ بھی وہی تھا ۔۔۔۔۔

کمرہ شاہزیب نے نوک کرنے کے بعد کھولا تھا س۔ء وہی لڑکی بیڈ پر ہاسپٹل کا گاؤن پہنے بیٹھی تھی

شاہزیب کو دیکھ کر کھل ڈی گئ تھی لیکن اس کے ساتھ نیناں کو دیکھ کر مسکراہٹ معدوم ہو کر غائب ہوئی تھی پیشانی پر کئ بل پڑے تھے نیچے کا ہونٹ کاٹنے لگی تھی ۔۔۔۔ شاہزیب نے نیناں کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا یہ دیکھ کر مرحا نے اپنا پورا رخ بدلہ اور اسکی طرف پشت کیے بیٹھ گئ ۔۔۔۔

شاہزیب شاید اسکی ان سب باتوں سے وقف تھا یہ سب نیناں کے نیااور کچھ عجیب بھی تھا شولڈر کٹ بالوں میں منہ کے زوایے بری طرح سے بگاڑے وہ بیٹھی تھی ۔۔۔

” مرحا ادھر دیکھوں ۔۔۔۔ تم سے ملنے کون آیا ہے “

” نہیں مجھے ملنا اس گندی بچی سے ۔۔۔۔ ” نیناں کو لگا کسی چھوٹی بچی سے شاہزیب مخاطب ہو وہ لڑکی دیکھنے جوان تھیچاندارخاور آواز ایک چھوٹی بچی جیسا تھا

” میرو یہ گندی بچی نہیں ہے تم نے کہاں تھا نا کہ تمہیں سچ مچ والی باربی ڈول دیکھنی ہے ۔۔۔ تو میں سچ مچ والی باربی ڈول کو اپنے ساتھ لایا ہوں ” یہ سن کر مرحا نے بے ساختہ پہلو بدلہ تھا فورا سے صرف گردن موڑ کر نیناں کو سر سے پیروں تک دیکھا چادر میں لپٹی لڑکی فیری ڈول تو کہیں سے نہیں لگ رہی تھی ایک عام سی لڑکی تھی ہاں تھی خوبصورت ۔۔۔۔ مرحا کے ماتھے پر سلوٹیں اور بڑھیں تھیں چھوٹی سی ناک چڑھا کر نا گواری سے بولی

” جھوٹ جھوٹ جھوٹ ۔۔۔۔ ہیلمٹ بوائے ہو آر آ لائیر ۔۔۔ فیری ڈول ایسے کپڑے نہیں پہنتی ” مرحا نے شاہزیب کی بات کی ترید کی نیناں کبھی اس لڑکی کو حیران نظروں سے دیکھ رہی تھی کبھی شاہزیب کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔

” شاہزیب مجھے نہیں ملنا کسی سے یہ شاید پاگل لڑکی ہے ۔۔۔ ا۔۔آپ چلیں یہاں سے ” نیناں بری طرح سے گھبرا سی گئ تھی ۔۔۔ شاہزیب کو بازو سے پکڑ کر باہر جانے کا کہنے لگی

” نہیں نیناں پاگل نہیں ہے اس کا ذہن آدھا ہے ۔۔۔۔ اسوقت وہ بائیس سال لڑکی نہیں آٹھ سالہ بچی ہے ۔۔۔۔” شاہزیب نے دھیرے سے نیناں کو بتایا

” نہیں نا شاہزیب مجھے ڈر لگ رہا ہے آپ چلیں واپس ۔۔۔ جیسے وہ مجھے دیکھ رہی ہے کچھ اٹھا کر ما دے گی ” نیناں کو مرحا کی گھورتی نظروں سے اور بھی خوف آیا تھا ۔۔۔۔

” نیناں کیا ہو گیا تمہیں ۔۔۔۔ کچھ نہیں ہوتا میں ہوں نا تمہارے ساتھ آؤں اور ڈرو مت ۔۔۔ ” شاہزیب نے دھیرے سے نیناں کے کام میں کہا اور نیناں ڈرتے ڈرتے ہی اس کے بیڈ کے پاس آ رہی تھی شاہزیب کے بازو کو کس کے پکڑ رکھا تھا ۔۔۔۔ شاہزیب نے بیڈ کے پاس رکھی کرسی پر نیناں کو بیٹھایا ۔۔ اور خود بیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔

” میرو ۔۔۔۔ ” شاہزیب کے پکارنے مرحا نے دوبارہ سے چہرہ دوسری جانب موڑا تھا

” تم ادھر نہیں دیکھوں گی ” شاہزیب کے استفسار پر مرحا نے نفی میں سر ہلایا

” پھر میں واپس جاؤں ” شاہزیب کے اس سوال پر بھی سر نفی میں ہلاتھا

” یہ ڈول گندی بچی ہے اسے واپس ٹوائز شاپ پر چھوڑ کر آؤں ہیلمٹ بوائے ۔۔۔ مجھے یہ بلکل پسند نہیں ہے ” مرحا نے نا گواری سے جواب دیا

” لیکن یہ مجھے پسند ہے ۔۔۔ بری مشکل سے اسے خرید کے لایا ہوں ۔۔۔۔ واپس نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔ “

” ٹھیک پھر میں سے توڑ کر باسکٹ میں ڈال دیتی ہوں ” مرحا کی بات پر نیناں جھٹ سے کرسی سے کھڑی ہوئی تھی رنگ فق ہوا تھا ۔۔۔ حلق خوف سے خشک ہوا تھا۔۔۔ شاہزیب کو خوفزدہ نظروں سے دیکھنے لگی تھی اس نے نظروں سے تسلی دی تھی

” مرحا ایک بار غور دیکھوں اسے تمہیں اچھی لگے گی ۔۔۔ ” شاہزیب کے کہنے پر مرحا نے اپنا رخ اسکی طرف موڑ لیا ۔۔۔۔ پہلے شاہزیب کو غور سے دیکھنے لگی ۔۔۔۔ پھر اسکے پیچھے کرسی پر بیٹھی نیناں کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔

” ہیلمنٹ بوائے ۔۔۔۔ مجھے یہ سب بھی اچھی نہیں لگ رہی ” نیناں کا بڑا تنقیدی جائزہ لینے کے بعد بھی مرحا کی رائے نہیں بدلی تھی ۔۔۔۔

” اچھا لیکن مجھے تو بہت اچھی لگتی ہے ۔۔۔۔ چلو چھوڑو اسے یہ بتاؤں دوا کھائی تم نے انجکشن لگوایا کہ نہیں

” دوا۔۔۔ دوا ایخ تھو تھو تھو ” مرحا یوں ظاہر کرنے لگی جیسے منہ میں کڑوی کسیلی گولی رکھ دی یو نیناں پھر گڑبڑائی تھی ۔۔۔

” ڈرامہ مت کرو میرو ۔۔۔۔ میں بات نہیں کروں گا تم سے چلو منہ ٹھیک کرو ۔۔۔ ” شاہزیب کی کہنے کی دیر تھی مرحا بلکل نارمل ہو کر بیٹھ گئ تھی شاہزیب نے سائیڈ سے انٹر کام کا بزر دبایا ایک نرس کچھ دیر میں وہاں پہنچ گئ تھی

” دوا کی ہے میرو نے ؟ شاہزیب نرسسے پوچھنے لگا

” نہیں جی میں نے کھلائی تھی لیکن میرے منہ پر تھوک دی ۔۔۔۔ ” نرس شاہزیب کو بتا رہی تھی

اور مرحا نظریں چرائے شاہزیب کی شرٹ کے بٹن سے کھیل رہی تھی ۔۔۔ جیسے آپ ی خفت مٹانے کی کوشش کر رہی ہو

” میرو ۔۔۔۔ دوا کیوں نہیں کھائی

” نرس گندی بچی ۔۔۔ آلو کی پٹھی ہے ۔۔۔۔ ” مرحا نے تیوری چڑھائے نرس کو غصے سے دیکھ کر کہا

” مجھے کڑوی دوائی دیتی ہے ۔۔۔ اتنی اتنی ۔۔۔۔ اینی زور کا ٹیکہ لگاتی ہے ۔۔۔۔ میں اس کاسر پھاڑ۔ ۔۔۔ کر سارا سارا گندا خون نکال دوں گی ۔۔۔ اس کے زور سے سوئی چبھاؤں گی پھر یہ ٹھیک ہو گی گندی۔۔۔۔ گندی بچی ہے یہ نرس ” نیناں ہونق بنی اسے دیکھ رہی تھی جو کھا جانے والے انداز سے نرس کو دیکھ رہی تھی اور لڑ شاہزیب کی شرٹ کے بٹن سے رہی تھی ۔۔۔

” نرس آپ دوا مجھے دیں ۔۔۔ میرو جو دوا ہیلمنٹ بوائے خوف کھلائے گا میرو کو دوا بلکل کڑوی نہیں لگے گی کیونکہ میں چوکلیٹ لایا ہوں ۔۔۔ اپنی جیب سے شاہزیب نے چوکلیٹ نکالی نرس نے دوا نکال شاہزیب کی ہتھیلی پر رکھ دی ۔۔۔

شاہزیب کے ہاتھ میں دوا دیکھ کر مرحا نے آنکھیں بند کیں اور منہ کھول لیا وہ ہاتھ سے اسکے منہ میں دوا ڈال رہا تھا پھر پانی بھی اسے اپنے ہاتھ سے ہلایا ۔۔۔ پھر اسے چوکلیٹ کھول کر دی ۔۔۔ کسی چھوٹے بچے کی طرح مرحا نے چوکلیٹ کھائی تھی ہاتھ منہ سب چوکلیٹ سے بھر گئے تھے پھر اپنے گندے ہاتھ شاہزیب کو دیکھانے لگی ۔۔۔ شاہزیب نے سائیڈ پر رکھے ٹشو اسکی طرف بڑھائے وہ نفی میں سر ہلانے لگی

” شرٹ سے صاف کروں گی “

” نو میرو یہ گندی بات ہے “

” بس آخری دفعہ ” وہ ہونٹ ٹہرے کر کے رو دینے والے انداز سے بولی شاہزیب نے گہری ٹھنڈی سانس بھری

” او کے کرو صاف یہ آخری دفعہ ہے ” شاہزیب نے جیسے ہار مانی تھی وہ دونوں ہاتھ شاہزیب کی شرٹ پر پھیرنے لگی ہاتھ صاف کرنے کے بعد اپنے چوکلیٹ سے بھرے ہونٹ اسکی شرٹ کے قریب لا کر اسکی جیب کے قریب رکھ کر صاف کرنے لگی ۔۔۔ مرحا تو خوش تھی لیکن نیناں یہ دیکھ کر رو دینے کو تھی ۔۔۔

شاہزیب کی نظریں صرف نیناں پر تھی جو نا جانے کس ضبط سے گزر رہی تھی ۔۔۔

” شاہزیب بہت ہو چکا ۔۔ چلیں سب یہاں سے ” نیناں کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔

” او کے مرحا میں کل اسوقت آؤں گا جب تم نرس کو تنگ نہیں کرو گی ۔۔۔ اور دوا بھی نہیں تھوکو گی ” شاہزیب کھڑا ہو کر ٹشو سے اپنی شرٹ صاف کرتے ہوئے بولا ۔۔۔

” پہلے بتاؤں مجھ سے شادی کب کرو گئے ۔۔۔ کتنے دن ہو گئے ہیں ۔۔۔۔ مجھے شادی کرنی ہے “

” شادی ہوسپٹل میں تو نہیں ہوتی نا میرو ۔۔۔ تم پہلے ٹھیک ہو جاؤں گھر واپس آ جاؤں پھر ہم شادی کریں گئے “

” ٹھیک ہے ۔۔۔ پھر ہم پہلے بائیک پر بیٹھیں گئے ۔۔۔ اسے آگ کے ۔۔۔۔ آگ کے اوپر چلائیں گئے ۔۔۔ ٹھیک ہے اس کے بعد ۔ ۔ اس کے بعد شادی کریں گئے ۔۔۔

پھر ہم بیچ میں آگ لگا کر پھر گول گول چکر لگائیں گئے پھر شادی ہو جائے گی ۔۔۔ میں رات کو فلم میں دیکھا تھا کہ شادی کو ۔۔۔ ہم بھی ایسے ہی کریں گئے ‘” مرحااسے انڈین فلم کا کوئی شادی کاسین ہنستے ہوئے پر جوش انداز سے برا رہی تھی

” ہاں ہم بلکل ایسے ہی شادی کریں گئے ۔۔۔ لیکن پہلے تم ٹھیک ہو جاؤں پھر ” شاہزیب یہ کہہ کر نرس سے بات کرنے لگا ۔۔۔ پھر نیناں کے ساتھ باہر نکل گیا ۔۔۔ میاں سے اپنے آنسوں چھپانے مشکل ہو رہے تھے ۔۔۔

کتنے مزے سے وہ لڑکی کون کون سے حق جما رہی تھی ۔۔۔ اچھی کم عقلی پائی تھی ۔۔۔ نیناں کو اس لڑکی سے ذرابھی ہمدردی محسوس نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔۔

کمرے سے نکل کر نیناں کی نظر شاہزیب کی شرٹ پر پڑھی جو چوکلیٹ سے ستایاناس ہو چکی تھی ۔۔۔ لیکن ذیادہ تکلیف اسکی گردن پر لگی چوکلیٹ دیکھ ہوئی تھی جو شاید منہ صاف کرتے ہوئے مرحا کے ہونٹوں سے اسکی گردن پر لگ گئ تھی اپنی چادر کے کونے سے اس نے شاہزیب کی گردن صاف کی تھی ۔۔۔ کچھ بولی نہیں تھی ۔۔۔ گھر واپس آ کر کمرے میں چلی گئ ۔۔۔ شاہزیب بھی سیدھا کمرے میں آیا تھا اپنی شرٹ بدلنے لگا ورنہ عاتقہ بیگم دیکھ لیتیں تو سو سوال کرتیں ۔۔

“شاہزیب آپ کو کیاضرورت ہحخاس پاگل لڑکی کی اس قسم کی حرکتیں برداشت کرنے کی “

” نیناں چند مہنے کی مہمان ہے وہ کینسر کی مریضہ ہے ۔۔۔ اگر میری وجہ سے چند لمحے س کے اچھے گزر رہے ہیں تو حرج کیا ہے ۔۔۔ “

وہ نیناں کے پاس آ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔

” کیا مرتے ہوئے شخص کو ہم اپنے وقت میں تھوڑا سا وقت بھئ نہیں دے سکتے ۔۔۔ ؟” شاہزیب اسک چہرہ دونوں ہاتھوں میں لیکر پوچھ رہا تھا نیناں کے لئے یہ دوسرا انکشاف تھا