267.9K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

No One Wheeling Episode 7

No One Wheeling by Umme Hani

سامنے بیٹھے منچلے کو شرارت سوجی

” خالہ جی گستاخی معاف ۔۔۔ لیکن ایک سوال میرے دل ودماغ میں کلبلا رہا ہے ۔۔۔۔ اجازت ہو تو عرض کروں ؟ ” عاتقہ بیگم نے تیوری چڑھائی

” ہاں پوچھو “

” آپ کے ہونہار فرمابردار بیٹے نے love بھی آنکھیں جھکا کر کیا تھا ۔۔۔۔ بنا دیکھے ۔۔۔۔ وہ بھی ایسی طوفانی محبت جیل ۔۔۔مار دھار ؟ امیزنگ ” وہ تمسخرانہ انداز سے بولا ساتھ ہی ساتھ اس نیناں کو دیکھ کر استزائیہ انداز سے ہنسا تھا نیناں اسے گھور کر رہ گئ۔۔۔

“امی یہ حیدری کب آئے گا ” نیناں کا ضبط ختم ہوا تھا ۔۔۔۔

عاتقہ بیگم نے جب باہر جھانک کر دیکھا تو خوش ہو گئیں

” ارے بس یہیں روک دو آ گیا حیدری ۔۔۔ ” عاتقہ بیگم کی بات پر نیناں نے سکون کا سانس لیا تھا ۔۔۔۔ چنچی والے نے بھی اسٹاپ پر جا کے روک

دیا ۔۔۔ نیناں نے اب تک مال میں ہی شاپنگ کی تھی یوں کھلے بازار میں گھومنے پھرنے کا اتنا نہیں پتہ تھا ۔۔۔۔ عاتقہ بیگم نے نیناں کا ہاتھا تھاما اور ایک دوکان پر لے گئی۔ دوکاندار ان کی جان پہچان کا تھا ۔۔۔ لان کارٹن ہر قسم کی لیڈیز ورائٹی تھی

دوکاندار نے عاتقہ بیگم کو دیکھتے ہی سلام جھڑا تھا

” اسلام علیکم باجی آئیے آئیے شریف رکھیں ۔۔۔ ” دوکاندار نے سامنے رکھیں کرسیوں کی طرف اشارہ کیا عاتقہ بیگم نیناں کو ساتھ لئے جم کر بیٹھ گئیں ۔۔۔

” واعلیکم السلام “

“یہ بچی کون ہے ۔۔۔ آپکی دونوں بیٹیوں کو میں اچھے سے جانتا ہوں ” دوکاندار نے عاتقہ بیگم کے ساتھ نیا چہرہ دیکھ کر پوچھا

۔۔۔ یہ بہو ہے میری ۔۔۔۔ میرے شاہزیب کی دلہن ۔۔۔ ” نیناں کو یوں ہر ایک سے متعارف ہونا کچھ عجیب لگا تھا دوکاندار نے بھی بڑے غور سے دیکھنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔

” وہ جو ہر بار آپ کے ساتھ شاپنگ پر آتا تھا بیزار بیزار سا لڑکا ۔۔۔ بار بار

۔۔۔ اٹھیں امی اب بس بھی کریں ۔۔۔ کیا رات کا کھانا یہیں کھا کر اٹھیں گئیں ….. ایسے جمعلے بولتا تھا ” دوکاندار نے یاد کرتے ہوئے کہا عاتقہ بیگم ہسنے لگیں پر بار عاتقہ بیگم کپڑے خریدتے ہوئے کوئی نا کوئی کہانی شروع کر کے بیٹھ جاتی تھیں اور شاہزیب زچ ہونے لگتا تھا

” ہاں وہی ۔۔۔۔ آپ کو تو پتہ ہے بھائی صاحب بچے کہاں سکون سے کچھ لینے دیتے ہیں ۔۔۔۔ “

” ویسے بچے کی شادی بڑی جلدی کر دی آپ نے میرے خیال سے تو وہ ابھی زیر تعلیم ہی تھا ” دوکاندار کے پاس اس وقت گاہک موجود نہیں تھے اس لئے بڑی فرصت سے باتیں ہانک۔ رہا تھا

” ہاں ابھی ایک سال رہتا ایم بی ہونے میں ۔۔۔ ہم نے تو یہی سوچا تھا کہ شادی تعلیم مکمل ہونے کے بعد ہی کریں گئے لیکن ۔۔۔۔ آپ کو تو پتہ ہے یہ محبت کے چکر میں پڑ کر ۔۔۔۔۔ “

” امی سوٹ دیکھ لیں ؟۔۔۔۔ تین بج گئے ہیں ہادی اور سعدی نمی کو پریشان نا کر رہے ہوں ” اس سے پہلے عاتقہ بیگم کی کوئی کہانی دہراتیں ۔۔۔ نیناں نے موضوع بدلہ تھا

” ہاں بھئ جلدی سے اچھے والے برینڈ کے سوٹ دیکھاؤ ۔۔۔ جو سیل پر لگے ہیں ۔۔۔ میرے پوتے شور مچا کر اپنی پھپو کی جان کھائیں گئے ۔۔۔ پھر اسکی بچی بھی چھوٹی سی ہے ۔۔۔۔ تین چھوٹے بچوں کو سنبھالنا بھی کہاں آسان ہے ۔۔۔ اور نمی تو ہے بھی کچھ لا پروا سی ۔۔۔۔ ” نیناں کی کہانی سے دھیان بٹا تھا تو نمی کا خیال آنے لگا دوکاندار سر ہلاتے ہوئے ۔۔۔۔۔ دو تین کیٹ لاک سامنے رکھ دیں

” یہ سب پچھے سال کے ہیں ۔۔۔۔ اس لئے سیل میں آدھی قیمت پر دے رہا ہوں ۔۔۔ جو پسند ہو بتا دیں ” سامنے کیٹ لاک عاتقہ بیگم نے نیناں کو پکڑائی تھیں

” پچھلے سال کے ڈائزئن ؟۔۔۔۔ وہ تو سب آؤٹ آف فیشن ہو چکے ہوں گئے ۔۔۔۔ ” نیناں نے نا پسندیدگی کا اظہار کیا

” جی بیٹا اسی لئے تو آدھی قیمت لگائی ہے ۔۔۔۔ “

نیناں نے بنا دیکھے ہی وہ کیٹ لاک واپس رکھ دیں ۔۔۔ آؤٹ آف فیشن پچھے سال کے سب کے دیکھے پہنے کپڑے وہ اس سال کیسے پہن سکتی تھی۔۔۔۔۔۔ عاتقہ بیگم نے نیناں کے چہرے پر چھائی ناگواری دیکھ بھانپ کر پوچھا

” کیا ہوا نیناں ۔۔۔۔۔ دیکھ تو لو ۔۔۔ پسند تو کر لو بیٹا ۔۔۔۔” عاتقہ بیگم کا شیریں لہجہ اسے ہمیشہ بولنے سے روک دیتا تھا ۔۔۔۔ چاہ کر یہ نہیں کہہ پائی کہ میں ایسے کپڑے نہیں پہن سکتی

” آپ یہ رہنے دیں ۔۔۔۔ مجھے۔ عام سے ہلکی ایمبرائیڈری والے کاٹن کے پلین سوٹ دیکھا دیں ” نیناں نے دوکاندار سے کہا ۔۔۔۔ کم از کم انہیں پہن کر کوئی یہ تو نہیں کہہ سکتا تھا کہ پچھلے سال کے ڈزائن پہن رکھے ہیں نیناں نے خود تمکو تسلی دی تھی

” لیکن وہ عام اسٹف ہے بیٹا ۔۔۔ برینڈ نہیں ہے ” دوکاندار نے صاف گوئی اپنائی

” کوئی بات نہیں اگر برینڈ نہیں ہے تو آپ وہی دیکھا دیں۔۔۔۔” نیناں نے انہیں میں سے تین سوٹ پسند کیے تھے ۔۔۔۔

” اور لے لو نیناں ۔۔۔۔ پیسوں کی فکر مت کرو میرے پاس ہیں ” عاتقہ بی نے رازداری سے کہا ۔۔۔

” نہیں امی بس اتنے ٹھیک ہیں آپ نے بھی خریدنے ہیں ۔۔۔۔ آپ نہیں لیں گئیں ” نیناں جو پتہ تھا کہ وہ بھی اپنے کپڑے خریدنے آئی ہیں

” میں ذرا بازار گھوم لوں پھر دیکھوں گی کہ لوں یا نا لوں آ جاؤں تم ” پیسے نیناں نے پرس سے نکال کر دوکاندار کو دیے تھے ۔۔۔ بازار میں سے عاتقہ بیگم نے دو ٹی شرٹس عاصم کے لئے لیں اور ایک شاہزیب کے لئے ۔۔۔ خوبصورت سے جھمکے نمیرہ اور شازمہ کے لئے ۔۔۔ ایک ٹاپس نیناں کو لیکر دیے ۔۔۔۔ پھر چھوٹے بچوں کے کپڑوں کی دوکان پر چلیں گئیں ہادی اور سعدی کے دو بابا سوٹ لئے اور خوبصورت سا فراک بریرہ کے لئے خریدہ اور آخر میں زمان صاحب کے لئے ایک گھڑی ۔۔۔نیناں کب سے انہیں دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ پیسے اب صرف کرایے کے بچے تھے ۔۔۔۔ عاتقہ بیگم نے اپنے لئے کچھ بھی نہیں خریدہ تھا

” امی آپ نے سارے پیسے تو خرچ کر دئیے اپنے لئے کچھ کیوں نہیں لیا ۔۔۔۔۔ ؟” سارے شاپنگ بیگ اٹھائے اس نے عاتقہ بیگم کے ساتھ چلتے ہوئے کہا تھا

” ارے پچھے سال کے تین جوڑے نئے پڑے ہیں میرے پاس۔۔۔۔۔۔ میرا سیزن گزر جائے گا فکر مت کرو ۔۔۔

نمیرہ کب سے مجھے اس طرح کے جھمکوں کی فرمائش کر رہی تھی ۔۔اور پھر ایسا تو ہو نہیں سکتا کہ نمی کے لئے لوں اور شازی کو بھول جاؤں ۔تم بھی میری فی الحال اکلوتی بہو ہو تمہیں کیسے بھول جاؤں ۔۔ عاصم بھی اب خیر سے کالج جانے لگا ہے

اچھا نہیں لگتا وہیں تین شرٹیں ہی ادل بدل کر پہنتا رہتا ہے ۔۔۔ اور شاہزیب بھی اپنے معاملے میں لاپروا سا ہے ۔۔۔۔ کہاں ہوش رہتی ہے کہ کیا پہننا ہے کیا نہیں ۔۔ بس جو الماری میں نظر آیا پہن لیا ۔۔۔ زمان صاحب کی گھڑی بھی کافی پرانی سی ہو گئ ہے ۔۔۔ روز کالج پڑھانے جاتے ہیں سو لوگوں سے ملنا ملانا ہوتا ہے ۔۔۔ اس لئے لے لی اچھی ہے نا نیناں ” عاتقہ بیگم کو ہر ایک فکر تھی سوائے اپنے ۔۔۔ نیناں انہیں حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ کیا ماں ایسی ہوتی ہے ۔۔۔ اپنے ہر بچے کی فکر کرنے والی ۔۔۔ اپنی ضرورتوں کو اپنے بچوں کی خواہشوں پر قربان کر دینے والی اپنی ماں کو تو کبھی دیکھا تک نہیں تھا ۔۔۔۔ لیکن جو ماں اس وقت اس کے سامنے تھی ۔۔۔۔ ماں ہونے کے مفہوم میں بڑی محبت ۔۔۔ فکرمندی اور نرماہٹ کے خوبصورت معنوں کی زندہ تصویر تھی ۔۔۔۔

” چلو اب شام ہو گئ ہے ۔۔۔۔ نمی کہیں پریشان نا ہو رہی ہو ” عاتقہ بیگم کے مخاطب ہونے پر وہ نیناں چونکی تھی ۔۔۔

نمی تو ان تینوں کی وجہ سے بے حال سی ہو گئ تھی ۔۔۔۔ تینوں بچوں نے اسے نچا کے رکھ دیا ۔۔۔۔ ہادی اور سعدی کو فیڈر دے کر سلایا کر بریرہ کا فیڈر بنانے کمرے سے باہر گئ تھی ۔۔۔۔ بریرہ ہادی اور سعدی سے بڑی تھی بیٹھنے لگی تھی اس لئے دونوں کے پاس بیٹھی ان کے منہ پر دونوں ہاتھوں سے تھپڑ مار مار کر اپنی طرف سے انکی بند آنکھوں کو کھولنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔ لیکن وہ دونوں نیند کی خرابی کی وجہ اور مار کھانے کے باعث گلا پھاڑے رونے لگے ۔۔۔۔ نمیرہ جب کمرے میں آئی تو زچ کی آخری حد پر تھی ۔۔۔۔ بڑی مشکل سے تو اس نے ان دونوں کو گھنٹہ لگا کر سلایا تھا ۔۔۔۔ اور بریرہ صاحبہ نے ایک منٹ میں انہیں جگانے میں نہیں لگایا تھا ۔۔۔۔ ساس بھی اسکی اپنے بڑے بیٹے کے گھر گئ تھی ورنہ اپنی پوتی کو وہ ذیادہ تر اپنے پاس ہی رکھتی تھی ۔۔۔۔

” بریرہ کی بچی ۔۔۔۔ کیا کہو تمہیں میں کیوں جگایا ہے انہیں ۔۔۔۔۔ ” تینوں ہی چھوٹے تھے ۔۔۔ نا سمجھ تھے ۔۔۔۔ بریرہ بھی اپنے باپ اور دادی کی لاڈلی تھی ماں کی ڈانٹ پر بیں بیں رونے لگی ۔۔۔۔ تینوں ہی رونے لگے تھے نمیرہ کا جی چاہا خود بھی انکے ساتھ بیٹھ کر رو دے ۔۔۔۔ پہلے تو اسنے بریرہ کو فیڈر دے کر تکیے پر لیٹایا جو پل میں فیڈر منہ جاتے ہی چپ ہو گئ تھی تھی ہادی اور سعدی کو بہلانے لگی ۔۔۔۔ بڑی مشکل سے وہ دوبارہ سوئےتھے تو شازمہ کا فون آگیا

” ہیلو ” شازمہ بڑی ترنگ میں بول رہی تھی

” کیا ہے شازی آپی ۔۔۔۔ ” نمیرہ اکتائے ہوئے لہجے میں بولی اور کمرے کی لائٹ بند کر کے باہر نکل آئی ۔۔۔ تا کہ شور سے بچے نا اٹھ جائیں

” تمہیں کیا ہوا ہے ۔۔۔ اتنا بیزار کیوں ہو ” شازمہ اسکے کڑے لہجے کو سن کو پوچھنے لگی

” بڑی مشکل سے تینوں بچوں کو سلایا ہے ۔۔۔۔ دو گھنٹوں میں مت مار کے رکھ دی ہے تینوں میری “

” تینوں ؟ سعدی اور ہادی تمہارے پاس ہیں “

” ہاں نا شازی آپی نیناں اور امی بازار شاپنگ کرنے گیئں ہیں ۔۔۔۔ بچے میرے پاس ہیں ” نمیرہ کی بات سن کر شازمہ نے طنز کیا تھا

” واہ اس لڑکی کے عیش ہیں۔۔۔ سارے گھر والوں کو انگلیوں پر نچانا کیا خوب آتا ہے اسے ۔۔۔۔ پکی پکائی میری ماں کے ہاتھوں کی اسے مل جاتی ہے ۔۔۔ گھر کے کاموں کے لئے ابو نے ملازمہ کا بھی انتظام کر دیا کہ بہو بیگم کو کام کی عادت نہیں ہے۔۔۔ اور بازار سیر سپاٹے پر جاتے ہوئے بچے تمہیں تھما جاتی ہے ۔۔۔ اور تم سدا کی بدھو ہو نمی ۔۔۔۔ جو فورا سے ہامی بھر لیتی ہو ۔۔۔ صاف منع کر دیتی ” شازمہ کو نمیرہ کی ہمدری کرنے کی عادت سے سخت چڑ تھی

” کیسے منع کر دیتی شازی آپی ۔۔۔ جب میں بازار جاتی ہوں تو نمی اور امی بھی بریرہ کو سنبھال لیتی ہیں ۔۔۔۔ یونہیں مل بانٹ کر ہی وقت گزرتا ہے ۔۔۔ ” نمیرہ کی بات بات کا الٹا جواب شازمہ کے پاس موجود تھا

” نیناں کہاں اس قابل کے کچھ کرے وہ تو امی ہی سنبھالتی ہوں گی ۔۔۔ میری ماں رو ہے ہی سدا کی بھولی ۔۔۔ بہو رکھنے کا ڈنگ کبھی نہیں آ سکتا انہیں۔۔۔۔ بس ابو کی پڑھائی گئ کتابی باتوں پر زندگی گزارنے کی عادی ہو گئیں ہیں شاید ۔۔۔ کہ اصل بیٹی بہو ہوتی ہے ۔۔۔ اسے بھی بیٹی سمجھ کر رہو ۔۔۔ نیناں بن ماں کی بچی ہے ۔۔۔ اسے ماں بن کر پیار دو گی تو اللہ کی خوشنودی ملے گی ۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ ” شازمہ کا لہجہ تلخ اور طنزیہ تھا

” اس میں غلط کیا ہے شازی آپی ۔۔۔۔ پھر نیناں بھی امی کا بہت خیال رکھتی ہے ۔۔۔ اور اب تو کھانا بھی وہی بناتی ہے ۔۔۔ بس روٹی ہی اس سے نہیں بنتی ۔۔۔۔ میں کل خرم کا پیغام شاہو بھائی کو دینے گئ تھی گئ تھی صبح امی کی طرف ۔۔۔ سارا ناشتہ نیناں نے ہی بنا کر ٹیبل پر رکھا تھا بلکہ مجھے بھی زبردستی بیٹھا لیا ناشتہ کروا کر ہی جانے دیا ۔۔۔۔ اتنی تو اچھی ہے وہ اور کیا چاہیے “

” ہاں تو کوئی احسان تو نہیں کیا ۔۔۔ اس کا فرض ہے یہ سب کرنا ہم بھی اپنے گھروں میں سب کی خدمتیں کرتے ہیں ۔۔۔۔ “

” اچھا چھوڑیں بھی یہ سب باتیں یہ بتائیں کہ تائی اماں کیسی ہیں۔ آپ کو پریشان تو نہیں کرتیں ” نمیرہ نے موضوع بدلہ تھا

” آجکل تو میں نے انہیں نچا کے رکھا ہوا ہے ” شازمہ نے اترا کر ایک آبرو چڑھاتے ہو تفاخر سے کہا

” وہ کیسے ” نمیرہ کو دل چسپی سی ہوئی شازمہ نے ڈاکٹر کا سارا قصہ اسے سنایا ۔۔۔

” شازی آپی کیسے کر لیتی ہیں آپ یہ سب ۔۔۔۔ ” بہن کی کارستانی سن کر نمیرہ متحیر ہوئی تھی

” بس دیکھ لو ۔۔۔ اور خود بھی عقل کے ناخن لو ۔۔۔۔ تھوڑا رعب سے رہا کروں اس نیناں کی بچی کے ساتھ اسے بھی تو پتہ چلے کہ نند کیا ہوتی ہے ۔۔۔۔ اچھا اب میں فون رکھتی ہوں ۔۔۔ کمرے کا دروازہ کھٹک رہا ہے ۔۔ شاید تائی اماں میرے لئے چائے بنا کر لائیں ہیں ” شازمہ یہ کہہ کر فون رکھ دیا ۔۔۔۔ نمیرہ بس بڑی بہن کی چالاکی پر حیران ہی ہی ہو سکتی تھی

******….

شاہزیب کی بات پر سب ہی چند ثانیے تک چپ رہے

” ساتھ کیوں چھوڑیں گئے شاہوں جب ون ویلنگ کرتے ہوئے ہم ایک دوسرے کے ساتھ تھے ۔۔ حالانکہ وہ خطرناک کھیل تھا اور غلط تھا ۔۔۔ تو اب تو جو تو چاہتا ہے وہ نیک کام ہے ۔۔۔ میں تو تمہارے ساتھ ہی ہوں ” پہلی ہامی خرم نے بھری تھی ۔۔۔ باقی بھی تینوں نے اسکی تائید کی تھی ۔۔۔۔

” ٹھیک ہے ۔۔۔ پھر ڈن ہو گیا ۔۔۔ پہلے ہم اپنا کام خفیہ طور پر کریں گئے ۔۔۔۔ جمی تمہارا وہ کزن جو میڈیا میں صحافی ہے ۔۔۔ کل اسے بھی یہاں ہوٹل میں بلا لینا وہ ہمارا بہت ساتھ دے سکتا ہے ” شاہزیب کو جمی کا کزن یاد آیا تھا جس نے اسے جیل میں بند ہونے پر ایک پروپگنڈا پھیلانے میں مدد کی تھی

” ہاں ٹھیک ہے بلا لوں گا ۔۔۔ “

” بس اب مجھے سب سے پہلے اس ہیلمنٹ بوائے کو بے نقاب کرنا ہے پتہ بھی تو چکے کہ وہ موصوف ہے کون ” شاہزیب کو فی حال اس لڑکے میں دلچپسی تھی جو اسکے نام پر قیوم صابر کا۔ کام کر رہا تھا ۔۔۔۔

******”………..

شازمہ نے ایک مہینہ بیڈ ریسٹ کے نام پر زمرد بیگم کو خوب نچایا تھا ۔۔۔۔ ہر چیز اپنے بیڈ پر منگوا کر کھاتی تھی ۔۔۔

زمرد بیگم کی بات کو شازمہ نے انکے خلاف ہی استعمال کیا تھا

” شازل جو تائی اماں کے ساتھ ہوا اگر میرے ساتھ بھی ہو گیا تو ؟ ” ڈاکٹر کے کلینک سے واپسی پر شازمہ نے دنیا بھر کی مظلومیت چہرے پر سجائے شازل سے کہا تھا ایک تو پہلے ہی وہ ماں کی کہانی پر جذباتی تھا پھر لیڈی ڈاکٹر کے ڈرانے پر ہی گھبرا گیا ۔۔۔۔ اس پر شازمہ کی بات نے مزید جذبات کو ہوا دی تھی ۔۔۔ گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے بھی وہ فکرمند سا لگ رہا تھا

” اللہ نا کرے شازو ۔۔۔۔ “

” سچ ہی تو کہہ رہی ہوں ۔۔۔ احتیاط نا کی جائے تو ساری زندگی کا رونا ہی رہ جاتا ہے ۔۔۔۔ ” شازمہ نے اسے متفکر دیکھ کر مصنوعی پریشانی چہرے پر سجائے کہا

” میں امی سے کہہ دونگا کوئی ضرورت نہیں ہے تمہیں بستر سے پاؤں بھی نیچے رکھنے کی ۔۔۔۔ ” شازل کے لفظوں پر شازمہ کے اندر سکون سا اتراتھا

اسکی ترکیب سو فیصد کامیاب گئ تھی لیکن بس ایک ماہ تک ۔۔۔ نمیرہ سے بات کرتے ہوئے وہ اپنا دروازہ لوک کرنا بھول گئ تھی زمرد بیگم اسکے لئے شام کی چائے بنا کر لائیں تھیں دروازے کا نیب گھوما کر ذراسا دروازہ کھلنے پر تو زمرد بیگم خود ہی گھوم کر رہ گئیں تھیں شازمہ نے کیسا سلوک بنایا تھا انہیں ۔۔۔۔۔ خیر کم تو وہ بھی کسی سے نہیں تھیں دروازے کو دھیرے سے بند کیا پھر سے زور سے دستک دی تا کہ شازمہ یہی سمجھتے کے وہ اب آئیں ہیں ۔۔۔۔

******……..

رائمہ نے ایک بیٹے کو جنم دیا تھا ۔۔۔۔۔ سوا مہنہ کرنے میکے آئی تھی ۔۔۔۔ نیلو فر تو اسے بچے کو ہی پکڑے پیار کرتی۔ رہتی تھی ۔۔۔۔

دل میں بچے کی خواہش تو نیلو کے پہلے بھی بہت تھی لیکن چھوٹے سے رائمہ کے بچے نے تو دل کے سارے تار ہلا دینے تھے ۔۔۔۔ نیلو ذیادہ تر اس بچے کو اٹھائے اٹھائے پھرتی تھی ۔۔۔۔ نا گھر کی ہوش تھی نا یونیورسٹی کی ۔۔۔۔

“رائمہ کتنا پیار ہے یہ ۔۔۔۔ معصوم سا ۔۔۔ جتنی بار بھی اسے دیکھوں جی چاہتا بس دیکھتی رہو ” رائمہ کو یخنی کے ساتھ چپاتی دے کر نیلوفر نے پھر سے اسکے بیٹے کو گود میں بھر لیا تھا ۔۔۔۔

” ہاں تو دیکھتی رہا کرو ۔۔۔ ” رائمہ کھانا کھاتے ہوئے بولی نیلوفر اس چھوٹے سے بچے کے چھوٹے اور نازک ہاتھ میں اپنی انگلی پکڑے بڑی حسرت سے اسے دیکھ کر بولی

” رائمہ تم دعا کرو کہ اللہ مجھے بھی جلدی سے ایسا ہی ننھا منا سا تحفہ دیدے ۔۔۔ ” آنکھوں میں نمی تھی

” میں بہت دعائیں کرتی ہوں تمہارے لئے ۔۔۔۔ اللہ میرے بھائی کے بچوں سے اس گھر میں رونق لگا دے ۔۔۔ ” رائمہ اسکی دوست پہلے تھی اور نند بعد میں اسکی تنہائی کا بھی احساس تھا ۔۔۔۔

” میرا بلکل دل نہیں لگتا پڑھائی میں بس باسم کی خواہش پر پڑھ رہی ہوں ۔۔۔۔ ” نا جانے وہ کیوں اپنی صفائیاں دے رہی تھی۔۔۔۔ اس دن رابعہ بیگم کی کہیں باتیں وہ بھول نہیں پائی تھی

” مجھے پتہ ہے کہ یہ۔ باسم کی خواہش کے لیکن فایدہ تو تمہارا بھی ہے ۔۔۔۔ لیکن میرا تمہیں مشورہ ہے نیلو ایک بار ڈاکٹر کے پاس جانا بہتر ہے ڈیر سال ہو چکا ہے ہماری شادیوں کو ۔۔۔۔ اور میں نے سنا ہے کہ شروع میں ہی گود بھر جائے تو ٹھیک ورنہ “۔۔۔۔۔۔۔ رائمہ نے ایک اور خدشہ اس کے سامنے رکھا تھا جو کہ بہت سے لوگوں کے دلوں میں اب بھی گھر کیے ہوئے ہے کہ جلد اولاد ہو جائے تو ہو جائے ورنہ انسان ترستا ہی رہتا ہے ۔۔۔ حالانکہ یہ بھی سراسر لوگوں کی دقیا نوسی سوچ ہے کیونکہ اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے جب اللہ کا حکم ہو وہ اولاد سے نواز دیتا ہے ۔۔۔۔ نیلو کے دل میں نیاسا دھڑکا لگ گیا تھا ۔۔۔۔۔

اس لئے باسم کو راضی کر کے ہی اس نے دم لیا تھا ۔۔۔ ڈاکٹر کے دیے کے گئے ٹیسٹ کی رپوٹوں نے جیسے نیلو کو سکتے میں ڈال دیا تھا باسم کی ہر رپوٹ کلیئر تھی لیکن نیلو میں ماں بننے کی صلاحیت بہت کم تھی ۔۔۔۔۔ یہ سن کر اسے لگا کہ پیروں کی نیچے سے زمین ہی کھسک گئ ہو ۔۔۔ یہ سن کر کچھ پل تو وہ ہل نہیں پائی تھی ۔۔۔۔۔ معاوف سے ذہن کے ساتھ پھٹی پھٹی آنکھوں سے کبھی ڈاکٹر کو دیکھ رہی تھی تو کبھی اپنے ساتھ بیٹھے باسم کو جس کی حالت بھی نیلو سے کچھ مختلف نہیں تھی لیکن مرد تھااس لئے خود کو سنبھالنا جانتا تھا ۔۔۔ ڈاکٹر نے پھر بھی اللہ سے ناامیدی سے منع کیا تھا یہی کہا کہ اللہ چاہے تو کیا نہیں ہو سکتا ۔۔۔ اسے میڈسن بھی دیں لیکن نیلو کے لئے کوئی جمعلہ تسلی بخش نہیں تھا جو اسے مطمئن۔ کر پاتا ۔۔۔۔ بائیک پر بھی غائب دماغی سے وہ بیٹھی رہی ۔۔۔۔ باسم بھی چپ تھا لفظ تو شاید اس کے پاس بھی کھو گئے تھے پورے راستے خود کو سمجھاتا رہا کہ معاملے کو کیسے سلجھانا ہے۔۔ کیونکہ عورت فطرتا اولاد کی چاہ مرد سے ذیادہ ہوتی ہے ۔۔۔۔ اس اولاد کی خواہش ہی ہے کہ مرد کو دوسری شادی کی اجازت تک دے دیتی ہے ۔۔۔۔ اور یہ جبر شاید ایک عورت کے لئے سب سے بڑا جبر ہے ۔۔۔۔ باسم نے ابھی نیلو کو بھی سنبھالنا تھا اور گھر بیٹھی بے قرار ماں کو بھی جو بے تابی سے ان کی رپوٹس کے ٹھیک ہونے کی دعائیں مانگ رہی تھیں ۔۔۔ بائیک سے نیچے اترتے ہی ۔۔۔ باسم نے نیلو سے کہا

” فری آپ رپوٹس کے بارے میں امی سے کچھ نہیں کہیں گئیں ۔۔۔ بس جو کچھ میں ان سے کہو گا اسی بات پر آپ میراساتھ دیں گئیں کوئی اختلاف میں نہیں سنو گا ” باسم کی بات بھی اس نے غائب دماغی سے سنی تھی ۔۔۔۔ اس وقت وہ ہوش میں ہی کہاں جو کچھ سن کر آ رہی تھی وہ اسکے لئے کوئی چھوٹاصدمہ تو تھا نہیں تھا

باسم اندر داخل ہوا تو رابعہ بیگم انہیں دیکھ کر جائے نماز سے اٹھیں تھیں ۔۔۔ انہیں دیکھ کر مسکرانے لگیں ۔۔۔۔ پھر تسبیح سائیڈ پر رکھ کر خود اٹھ کر ان دونوں کے پاس آئیں تھیں ۔۔ دونوں کے چہروں پر پھونکا ۔۔۔

” کب سے تم دونوں کے لئے دعائیں کر رہی تھی ۔۔۔

خیر کی ہی خبر سنانا مجھے اب ” یہ سن کر نیلو کی آنکھوں میں ٹہرے آنسوں کی سطح کچھ اور بلند ہوئی تھی ۔۔۔۔ نا چاہتے ہوئے بھی آنسوں ٹوٹ کر رخسار پر گرے تھے ۔۔۔۔ رابعہ بیگم کی مسکراہٹ جیسے دم توڑ گئ تھی ۔۔۔ دل میں چند لمحوں میں کئ وسوسے گزرے تھے پھر باسم کے اداس چہرے کو دیکھا

” باسم کیا بات ہے ۔۔۔ سب ٹھیک تو ہے نا “

” جی امی سب ٹھیک ہے ۔۔۔ ” یہ کہتے ہوئے وہ سامنے تخت پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔ رابعہ بیگم بھی اس کے پاس بیٹھ گئیں ۔۔۔

” پھر یہ نیلو کیوں رو رہی ہے ” رابعہ بیگم بیٹے کے کی دی گئ تسلی سے کہاں مطمئن ہوئیں تھیں

” امی فری کی ساری رپوٹس بلکل ٹھیک ہیں ۔۔۔ بس میں ہی قابل نہیں ہوں ” یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے

میں چلا گیا ۔۔۔۔۔ رابعہ بیگم کی رنگت یک دم بدلی تھی دل تھما تھا یہی حالت نیلو فر کی بھی تھی ۔۔۔۔ باسم کی بات اسکے لئے بھی ناقابل فہم تھی

کیسا شخص تھا یہ ۔۔۔۔ اس۔ کے ہر غم کو اپنے کشادہ سینے میں مسکراتے ہوئے جذب کر لیتا تھا ۔۔۔

اس کے آنسوں کو اپنے پوروں سے چن کر اسے مسکرانے پر مجبور کر دیتا تھا اور اب اسکے اتنے بڑے عیب کو اپنے سر لے چکا تھا ۔۔۔۔۔

کئ آنسوں نیلو کی آنکھوں سے بہے تھے دل سے اٹھنے والی سسکیاں اب با آواز منہ سے نکلنے پر مجبور ہوئیں تھیں ۔۔۔ رابعہ بیگم بھی رو رہی تھیں نیلو کی سسکیاں سن کر اسے ساتھ لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں ۔۔۔پھر اسے تسلی دینے لگیں

” تم فکر مت کروں اللہ بڑا کارساز ہے ۔۔۔۔ انشاء اللہ ضرور اپنی عنایت سے نوازے گا ۔۔۔۔ ” بہو کو سینے سے لگائے جو دعا نیلو کو دے رہیں تھیں وہ اس لئے تھی کہ عیب اپنے بیٹے میں تھا ۔۔۔۔سچ جان کر شاید اس طرح سے گلے لگا کر دعا نا دے پاتیں ۔۔۔ نیلو تو شاید باسم کے ظرف کے سامنے خاک سی ہو کر رہ گئ تھی

کیاسچ میں مرد ایسا بھی حوصلہ رکھتا ہے ۔۔۔۔

اتنا بڑا ظرف بھی کیا مردوں میں ہوتا ہے ؟

********……..

جمی نے ایک کمرے کا انتظام کیا تھا جہاں کمپوٹر کی سیٹنگ وہ کر چکا تھا اب وہ لوگ ہو کے بجائے اس کمرے میں گزارتے تھے ۔۔۔۔۔ جو لڑکے اس قسم کے کھیل کو تفریح کے طور پر کھیلتے تھے ۔۔۔۔

اور ایسے لڑکوں کو بھی کو تیرا چودہ سال کی عمر سے بھی کم تھے اور بائیک کو تیز رفتار سے چلاتے نظر آتے تھے ۔۔۔ جنکے نا آئی کارڈ بنے تھے نا ہی لائسنس تھے ۔۔۔۔ اور اکثر حادثات کا شکار ہوتے تھے

نا کوئی قانون تھا نا ہی کوئی روک تھام ۔۔۔۔

لڑکے تو لڑکے لڑکیاں بھی بائیک چلانے اور ہیوی بائیک پر ریس لگانے کے ساتھ ساتھ ون ویلنگ پر بھی کرتب دیکھانے لگیں تھیں ۔۔۔اب لیکن یہ رحجان زیادہ تر اپر فیملی کی لڑکیوں میں ذیادہ پایا جاتا تھا ۔۔۔۔

“شاہو یہ ویڈیو دیکھ ” سیفی نے لیپ ٹاپ شاہزیب کی طرف موڑا

ون ویلنگ کے نئے نئے کرتب بائیک پر کیے جا رہے تھے ۔۔۔ لیکن کرنے والی لڑکی تھی ۔۔۔۔ بلیک پینٹ شرٹ میں ہیلمنٹ پہنے وہ بلکل شاہزیب کے انداز سے ویلنگ کر رہی تھی ۔۔۔ اپنی اس بنائی گئ ویڈیو پر اس نے ٹک ٹاک بنائیں ہوئیں تھیں مختلف اینگل سے

” ساری انفارمیشن نکالو اس لڑکی کی ۔۔ نام کیا ہے ۔۔۔ کیا کرتی ہے ۔ ۔۔۔۔ ” شاہزیب نے ایک نظر ڈال کر ہی ہٹای تھی

سیفی دوبار لیپ ٹاپ اپنی جانب موڑ کر دیکھنے لگا

“نام ۔۔مرحا

بی کام کی اسٹوڈنٹ ہے

ارے یہ کیا لکھا ہے اس لڑکی نے

آئی لو ہیلمنٹ بوائے ۔۔۔ ” سیفی کی باقی باتیں شاہزیب نے بے توجہی سے سنی تھی سوائے آخری جمعلے کے

پلٹ کر اس نے لیپ ٹاپ دیکھا تھا اسکرین پر اب اس لڑکی کا چہرہ آہستہ آہستہ واضع ہو رہا تھا ۔۔۔ اس وقت اسی کی آئی ڈی اوپن تھی۔۔۔ وہ لڑکی کئ حیسنوں کو مات دیتی تھی ۔۔۔۔

پھر ایک چھوٹا سا ویڈیو کلپ چلنا شروع ہوا

” آئی لو ہیلمنٹ بوائے ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر اس لڑکی نے ایک فلانگ کس دی تھی پھر آنکھ وینک کی ۔۔۔ ایک جھٹکا سا لگا تھا شاہزیب کو ۔۔۔ ذہن میں ایک جھماکا سا ہوا تھا ۔۔۔۔۔ یہ وہی لڑکی تھی جسے اس نے قیوم صابر کے آفس میں آتے دیکھا تھا ۔۔۔۔

فوری رنگت پر مسکرانے سے ڈمپل پڑتا تھا ۔۔۔۔ جس سے نظر ہٹانا مشکل تھا ۔۔۔۔۔

جمی بھی اسے دیکھنے لگا بلکہ دیکھ کر دیکھتا ہی رہ گیا

” ابے کیا ایٹم ہے یار ” جمی کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں تھیں ۔۔۔۔ جس قدر محویت سے اسے دیکھ رہا تھا شاہزیب نے ایک اچٹتی نظر جمی پر ڈال کر ہٹا لی لیکن پھر سے اسے گھور کر دیکھتے ہوتے ایک چھت اسکے سر پر لگائی وہ جیسے اپنے ٹرانس سے نکلا تھا بوکھلا کر ادھر ادھر دیکھنے لگا

” سدھر جا گنجے ۔۔۔۔۔ تجھے نہیں ملنے والی ۔۔۔۔ ” سیفی نے بھی اسکے آگے سے اڑتے ہوئے بالوں کو دیکھ کر کہا ۔۔۔ جو پیدائشی آگے کی دونوں اطراف سے کم تھے ۔۔۔۔

خرم اور باسم بھی مسکرانے لگے ۔۔۔۔

” اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے ۔۔۔۔ تم سے تو بہت بہتر نظر آتا ہوں میں ۔۔۔۔ ” جمی نے خجل ہوتے ہوئے اپنی بات اوپر رکھی ۔۔۔

” باسم اس لڑکی سے تم ملو گئے ۔۔۔۔ ” شاہزیب کی اگلی بات سن کر باسم متذبذب سا ہوا تھا

” میں ؟ یار تم جمی کے ذمے لگا دو میں تو لڑکیوں سے ذرا پیچھے ہی رہتا ہوں ۔۔۔۔ ” باسم نے ہاتھ کھڑے کیے تھے ۔۔۔۔

” ہاں ہاں ۔۔۔ بلکل ٹھیک ہے ۔۔۔ میں چلا جاؤں گا سیفی ذرا مرحا کا اتاپتہ تو بتانا ” جمی کی تو جیسے دلی کی مراد پوری ہوئی تھی

” جی نہیں تم نہیں جاؤں گئے ۔۔۔ تمہاری نیت میں مجھے کھلم کھلا فتور نظر آ رہا ہے ۔۔۔ تم۔ سب میں ایک باسم ہی شریف ہے ۔۔۔ وہی ٹھیک رہے گا ” شاہزیب کی بات پر جمی کے منہ کے زاویے بگڑے تھے ۔۔۔۔

” لیکن شاہزیب “؟باسم کی پریشانی اب بھی ہنوز تھی

” ڈونٹ آرگیو باسم ۔۔۔ یہ لڑکی بھابھی کی یونیورسٹی میں ہی پڑھتی ہے ۔۔۔۔ تمہیں مشکل نہیں ہو گی ” شاہزیب نے جیسے بات ختم کی تھی ۔۔۔

*******…….

عاصم نے ڈبل ایسٹرا ٹی شرٹس دیکھ کر عاتقہ بیگم کی طرف حیرت سے دیکھا

“امی اتنی اتنی چھوٹی شرٹس لانے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔ اسے بڑی لے آتیں ” عاصم نے جلے کٹے انداز میں سے بڑی شرٹس دیکھ کر طنزیہ ماں سے کہا تھا

” ارے میرے چندہ یہ آخری سائز تھا انکے پاس ۔۔۔ میں نے بہت کہا دوکاندار سے کہ اس سے بڑی ہے تو وہ دیدے ۔۔۔۔ اب تم ہی خود کو کچھ کم لو تو بہتر ہے ” اپنے کیے گئے طنز کا جو جواب عاصم کو ملا تو تلملا سا گیا تھا ۔۔ اس پر نیناں کی ہنسی پر وہ رو دینے کو تھا

،شرٹیں وہیں صوفے پر پھنک کر اپنے ڈرائنگ روم ملے کمرے میں آ گیا سامنے شو کیس کے شیشے سے خود با غور دیکھا جس خود کی پرچھائی کے ساتھ سامنے رکھے ڈنر سیٹ بھی نظر آ رہے تھے۔۔۔

پیٹ تو اس کا،واقع کچھ الگ سا دیکھتا تھا ۔۔ اس نے لمبی سانس اندر کھنچی نکلنی ہوئی تون یک دم اندر گئ تھی ۔۔۔ اپنا آپ کافی بدلا ہوا لگا تھا۔۔۔۔ لیکن چند لمحوں بعد ہی عاصم کو اپناروکا ہواسانس بحال کرنا پڑا ۔۔۔۔ پھر یہ سوچنے لگا کہ وزن کو کم کرنا کون سا نا ممکن امر ہے کوشش کرے تو کیا ہے جوہو نہیں سکتا

*******……..

نیناں کے دل میں یوں تو پہلے بھی عاتقہ بیگم کے لئے بہت عزت تھی محبت بھی تھی لیکن یوں روپ وہ انکا دیکھ رہی تھی ۔۔۔ دل میں ایک انکی عزت اور مقام اور بھی بڑھنے لگا تھا ۔۔۔ اپنے لائے ہوئے جوڑو میں سے ایک جوڑا اس نے عاتقہ بیگم کو دیا تھا

” امی یہ آپکے لئے “

” میرے لئے کیوں بیٹا ۔۔۔ تم اپنے لئے لائی ہو ۔۔۔ پہلے بری میں تمہیں چند جوڑوں سے ذیادہ ۔میں لگا نہیں پائی تھی ۔۔۔۔ اور اب بھی کوئی دس جوڑے تو نہیں لے کر دیے جو تم مجھے۔ بھی بانٹتی پھرو

رکھو اسے اپنے پاس” عاتقہ بیگم نے وہ جوڑا واپس نیناں کی گود میں رکھا تھا

” امی مجھے بہت خوشی ہو گی اگر آپ یہ پہنے گی ۔۔۔ اور اگر آپ نے واپس کر دیا تو مجھے بہت دکھ ہو گا ۔۔۔۔ میرا دل ٹوٹ جائے گا ” نیناں کی محبت بھری بات ہی ایسی تھی کہ وہ چپ سے ہو گئیں

” اچھا ٹھیک ہے لیکنلن پے وعدہ کرو کے آئندہ ایسی ایموشنل بلیک میلنگ تم مجھ سے نہیں کروں گی “

نیناں نے اپنی بانہوں کو عاتقہ بیگم کے گلے کا ہار بنایا تھا ۔۔۔۔ انکے ساتھ لگ گئ تھی عاتقہ بیگم اسکی یک دم ابھرنے والی محبت پر حیران تھی

” امی میں نے کبھی اپنی سگی امی کو نہیں دیکھا

ہمیشہ ہر موقع پر پر انہیں بہت مس کرتی تھی ۔۔۔ تصور میں یہ سوچتی رہتی تھی کہ وہ ہوتیں تو کیسی ہوتیں ۔۔۔۔۔ کبھی کبھی اللہ سے شکوہ بھی کر بیٹھتی تھی کہ میری امی مجھ سے کیوں چھین لی ۔۔۔ اتنی دولت آسائشیں بھی مجھے ماں کی ممتا جیسا سکون نہیں دے پائیں تھیں ۔۔۔ جو

مجھے آپ سے ملی ہے ۔۔۔۔ جب میرا ہاتھ جلا تھا میری تکلیف مجھے آپ کے چہرے پر نظر آئی تھی ۔۔۔ آپ کے ہاتھ سے کھانا کھاتے ہوئے ۔۔۔ پہلی بار مجھے یہ لگا جیسے اللہ نے مجھے میرا یہ قیمتی رشتہ واپس لوٹا دیا ہے ۔۔۔۔ جسے میں بہت مس کرتی تھی ” وہ گرم گرم آنسوں بہاتے ہوئے اپنی محبت کا اظہار کر رہی تھی آبدیدہ تو عاتقہ بیگم بھی ہو گئیں تھیں ۔۔۔۔ نیناں کو اپنے ساتھ لگا لیا

” میں تمہاری ماں ہی تو ہوں میری جان ۔۔۔۔ میں نے کبھی تمہیں بہو سمجھا ہی نہیں ۔۔۔۔

جیسے نمی شازی ہیں ویسی ہی تم بھی

مجھے عزیز ہو پھر ماں کا دل بہت وسیع ہوتا ہے ۔۔۔ مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ ساس بنانا کیا بہت ضروری ہے ساس ماں بھی تو بن سکتی ہے ۔۔۔۔ جب ایک ماں اپنے سگے دس بچوں کو سینے سے لگا کر رکھ سکتے ہیں

انکے عیبوں اور غلطیوں کو چھپا سکتی ہے بچوں کی تکلیف پر تڑپ سکتی ہے تو بہو کو ہر وقت تنقید کا نشانہ بھلا کیوں بنایا جائے ۔۔۔۔ اس لئے ابتدا میں نے خود سے کی ۔۔۔۔ہمارے معاشرے میں ساری توقعات صرف بہوں سے رکھی جاتی ہیں

لیکن میرے خیال سے سب سے پہلے تو ساس کو خود کو بدلنا چاہیے ۔۔۔۔ آنے والی سے ہی کیوں یہ توقع کی جائے کہ وہی خود کو ہمارے طور طریقے کو زبردستی اور مجبور اپنائے

جب ہم اسے اسکی خوبیوں خامیوں سمیت اپنا لیں گئے تووہ بھی خود کو بدلنے کی کوشش خود با خود کرے گی اپنی خوشی سے جیسے تم نے کیا ہے ۔۔۔ اور میں تو خوش نصیب ہوں نیناں کے میری بیٹی نے خود کو اتنا بدل لیا ہے

ورنہ تمہاری جگہ کوئی اور ہوتی تو ۔۔۔۔ چند ماہ میں ہی اکتا کر الگ رہنے کی فرمائشیں کرنے لگتی ۔۔۔ ” عاتقہ بیگم کی آخری بات نے جیسے نیناں

کو نئی الجھن میں ڈالا تھا کافی مہینوں سے وہ رانا بختیار کی آفر کے بارے میں سوچ رہی تھی اور یہ بھی یقین تھا کہ ساس سسر جو اعتراض نہیں ہو گا لیکن عاتقہ بیگم کی آخری بار نے یہ باورا کرو دیا تھا ۔۔۔۔ اسکی یہ بات اسکی ہنستی کھیلتی زندگی کو آگ لگا سکتی ہے

*****…….

آگلے دن ہیلمٹ بوائے کا پھر سے ایک شو منعقد تھا ۔۔۔۔ شاہزیب اور جمی سیفی خرم بھی اس بار ٹکٹ لیکر وہ شو دیکھنے کے لئے بیٹھ گے تھے کیونکہ اس شو کے اختتام پر انہیں اپنا ڈرامہ شروع کرنا تھا ۔۔۔۔ لوگوں کاوہی شور ۔۔۔۔ جوش و خروش پھر سے عروج پر تھا لیکن ہیلمنٹ بوائے کے منظر عام پر آنے اور پرفومس بھی ویسی دیکھانے پر لوگ مایوس ہوئے تھے ۔۔۔۔ جمی اور سیفی نے کھڑے ہو کر کہنا شروع کر دیا

” یہ فیک ہے ۔۔۔۔ یہ وہ ہیلمنٹ بوائے نہیں ہے ۔۔۔ ہمہیں دھوکے میں رکھ کر پیسے ہتھیائے جا رہے ہیں ۔۔۔ یہ جھوٹا شخص ہے ۔۔۔۔ ” اس شور پر اور بھی بہت سے لڑکے کھڑے ہو گئے

” ہاں ہاں یہ وہ نہیں ہے یہ کوئی اور ہے ۔۔۔۔ ” پھر تو وہ بھگڑ مچی کے کافی کرکے میدان کی جانب بڑھنے لگے وہ لڑکا جو چمخود کو ہیلمنٹ بوائے بنا کر پیش کر رہا تھا اندر کی طرف بھاگنے لگا شاہزیب بھی ہال سے غائب ہوا تھا ۔۔۔ اندر جہاں سب کھیلاڑیوں کی عارضی قیام گاہ تھی وہ اس سے واقف تھا اس لئے اس لڑکے کے اندر جانے سے پہلے وہاں موجود تھا ۔۔۔۔ اسکے ساتھ صرف خرم سی تھاسیدی جمی کا کام باہر آگ لگانا تھا جو وہ بخوبی لگا چکے تھے قیوم صابر کے صحیح معنوں میں چھکے چھوٹ گئے تھے ۔۔۔۔ کہ لوگوں سے اپنا آپ چھڑوانا دوبھر ہوا تھا وہ تو اسٹیڈیم نما ہال سے نکل کر سیدھا اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا ۔۔۔۔

٫ چلو ڈرائیور جلدی چلو یہاں سے ۔۔۔۔ چند منٹوں میں اسکی ہوائیاں اڑ گئیں تھیں ۔۔۔۔ پسینے چھوٹ گئے تھے ۔۔۔۔ دوسری ہی باری میں منہ کے بل گرا تھا۔۔۔۔۔

دوسری جانب شاہزیب اور خرم اس لڑکے کے انتظار میں کھڑے تھے ۔۔۔۔

جب وہی لڑکی جس کا نام مرحا تھا نیلے رنگ کی جینر کے اوپر بلیک ٹاپ پہننے وہ بھاگتے ہوئے شاہزیب کی طرف ہی بڑھ رہی تھی ۔۔۔۔ ابھی تو شاہزیب یہ سمجھ بھی نہیں پایا تھا کہ وہ بھاگ کر اسکے پاس کیوں آ رہی ہے جب وہ سیدھی اس کے گلے لگی تھی

” آپ ہی ہیلمنٹ بوائے ہیں نا ؟ کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا میں نے آپ کو ” شاہزیب کے ساتھ لگی وہ یوں بات کر رہی تھی جیسے برسوں کی شناسا ہو بڑی بے تکلف بھی ہو اور شاہزیب وہ تو اندر تک ہل کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔ کسی بھی غیر اور اجنبی لڑکی سے اس قسم کی بے باکی کاتو سوچ بھی نہیں سکتا تھا