No One Wheeling (Season 2) by Umme Hani NovelR50410 No One Wheeling Episode 8
Rate this Novel
No One Wheeling Episode 8
No One Wheeling by Umme Hani
خرم منہ کھولے یہ سب دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ شاہزیب نے
فورا سے اسے خود سے جدا کیا تھا ۔۔۔ مرحا پیچھے ہٹی تھی شاہزیب غصے سے اسے گھورتے ہوئے بولا
” پاگل واگل ہو تم ۔۔۔۔۔ عقل نہیں ہے تمہیں ۔۔۔۔ کوئی یوں کسی غیر کے گلے لگتا ہے کیا ۔۔۔۔ ” وہ لڑکی اب بھی مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔
” آپ غیر تھوڑی ہیں آپ تو ہیلمنٹ مین ہیں ۔۔۔۔ میرا کرش ہیں ۔۔۔ آئی لو یو ” وہ بائیس سالہ لڑکی عجیب بیوقوف اور احمق سی لگ رہی تھی ۔۔۔ کچھ دیر بعد ہی ایک بڑی عمر کا شخص شاید اسے ڈھونڈتے ہوئے وہاں پہنچا تھا ۔۔۔۔
” مرحا تم کہاں ہو جانی ۔۔۔ میں کب سے تمہیں ڈھونڈ رہا ہوں ۔۔۔۔۔ ” وہ شخص مرحا کے پاس آ کر بولا مرحا کی مسکراہٹ بڑی گہری تھی اور آنکھوں میں خوشی کی چمک تھی ۔۔۔۔
“ڈیڈی دیکھیں یہ وہی ہیں اصلی والے ہیلمنٹ مین”
مرحا کے اس شخص سے کہا ۔۔۔
” ہیلو آئی ایم مجتبیٰ ۔۔۔۔ مرحا کاوالد ” اس شخص نے شاہزیب کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔۔۔۔
نا چاہتے ہوئے بھی شاہزیب نے ان سے ہاتھ ملا لیا
******……
شازمہ جب روٹین چیک اپ کے لئے شازل کے ساتھ ہاسپٹل جانے لگی تو زمرد بیگم بھی انکے ساتھ چلی گئیں ۔۔۔۔
” امی آپ ساتھ جا کر کیا کریں سیڑیاں اتریں گئیں پھر سیڑیاں چڑھیں گئیں ۔۔۔ پھر اپنے گھٹنے پکڑ کر بیٹھیں گئیں ۔۔۔۔ ” شازل کو زمرد بیگم کا جانا سمجھ سے باہر تھا
” ارے رہنے دو میاں تمہیں میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔ میں ڈاکٹرانی سے پوچھو جا کر ۔۔۔۔ کہ مسلہ کیا ہے شازی کے ساتھ ۔۔۔۔ میری بچی کمزور ہوتی جا رہی ہے اتنا سا منہ نکل آیا ہے ۔۔۔۔۔ تمہیں کیا خبر ان سب معاملات کی ۔۔۔۔ ” زمرد بیگم نے مصنوعی محبت جتائی تھی ۔۔۔۔
“ہاں آپ کی بات بھی ٹھیک ہے امی ۔۔۔۔ آپ ٹھیک سے اس لیڈی ڈاکٹر سے پوچھ کر آئیں کہ شازو کے لئے کیا ٹھیک ہے کیا ٹھیک نہیں ہے ” گاڑی میں بیٹھتے ہوئے وہ بولیں
“اسی لئے تو جارہی ہوں ” زمرد بیگم شازمہ کے ساتھ لیڈی ڈاکٹر کے روم بھی ساتھ ہی گئیں تھیں۔۔۔ پہلے تو اس نے چیک اپ کیا ۔۔۔۔ سب کچھ ٹھیک تھا
اس کے بعد وہ شازمہ کو میڈسن کا بتانے لگی
” ایک بات تو بتائیے ذرا ڈاکٹر صاحبہ ۔۔۔۔ کیا چاہے بنانے سے یا کھانا پکانے سے بھی بچہ ضائع ہونے کا ڈر ہے اور بیڈ پر بیٹھ کر میک شیکپ کر کے بوڑھی ساس سے خدمتیں کروانے سے بچہ صحت مند رہتا ہے ۔۔۔ ” شازمہ کاتوایک رنگ آ کر گزرا تھا ڈاکٹر بھی کچھ متذبذب سی ہوئی تھی
” ج۔۔۔جی نہیں “
” میں پوچھتی ہوں ہر کام کو تو ماسیاں لگیں ہیں
چار لوگوں کا ذرا سا کھانا بنا لینا سے کون سا محنت کش کام ؟
” جی کوئی فرق نہیں پڑتا ؟” یہی بات لیڈی ڈاکٹر کے منہ سے نکلنے کی دیر تھی
” تو پچھلی بار کون سے پاٹ پڑھا کر بھجے تھے تم نے میرے بیٹے اور بہو کو ۔۔۔۔ ” زمرد بی نے تو سارے لحاظ پہلے میں پسر کیے تھے اور تیکھے لہجےیں بولیں تھیں ۔۔۔ ڈاکٹر کے ساتھ شازمہ بھی گھبرا گئ تھی
” جی میں نے تو کچھ رسٹ کرنے کا کہا تھا ۔۔۔ بس یہ تھوڑی کہا تھا کہ بلکل بیڈ سے لگ جائے ” ڈاکٹر خود بھی اچھی خاصی گھبرا گئ تھی ۔۔۔ یہیں باتیں زمرد بیگم نے شازل کے سامنے بھی ڈاکٹر کے ذریعے کہلوا دیں
شازمہ کی ساری بات ڈاکٹر نے کھول کر بتا دی تھی۔۔۔ کہ کیسے شازمہ نے ڈاکٹر سے زمرد بیگم کے ظلم کی دہائیاں دی تھیں۔۔۔
شازل پورے راستے شازمہ کو گھورتے ہوئے آیا تھا
اور وہ روتے ہوئے بیٹھی رہی
” غضب خدا کا اتنا جھوٹ اتنی ڈرامے بازی ہے اس لڑکی میں میں تو آج ہی زمان اور عاتقہ کو بلوا کر ساری حقیقت ان کے سامنے کھول کر رکھ دوں گی ۔۔۔۔ یہ کون سا طور طریقہ سیکھا کر بھیجا کے عاتقہ نے اپنی بیٹی کو ۔۔۔۔
میں ہر چیز اسکو بستر پر دے رہی ہوں اور یہ ۔۔۔۔ یہ نواب بنکر نمی کو اپنی کارستانیاں بتا رہی ہے
کہ کیسا بیوقوف بنایا ہے تائی اماں کو ۔۔۔۔ “
زمرد بیگم کے اندر بھڑکتی آگ کہاں کم ہونے والی تھی ۔۔۔ یہ سب سن کر شازل کا پارہ مزید ہائی ہوا تھا
” شازل یہ لڑکی تو ہر ایک کے سامنے میری ناک کروائے گی ۔۔۔۔ ڈاکٹرانی کے سامنے مجھے ظالم بنا دیا ۔۔۔ نا جانے اور کہاں کہاں یہ مظلومیت کی تصویر بنی مجھے ظالم ساس گردانتی پھر رہی ہے ۔۔۔ ” زمرد بیگم تو لال بھبوکا بنی بول رہیں تھیں
” امی آپ ٹینشن لیکر اپنا بی پی ہائی نا کریں
میں چچا چچی کے ساتھ شازیب کو بھی بلاتا ہوں
اپنی محلوں سے آئی بیوی کو تو اس نے ماں کے ساتھ کچن میں چند دن میں لگا دیا تھا ۔۔۔۔ اور بہن جو چھوٹے سے علاقے سے اٹھ کر آئی ہے ہمارے سر پر بیٹھ کر عیش کر رہی ہے ۔۔۔۔ ” شازل بھی غصے سے بھبک کر بولا تھا
” شازل مجھے معاف کر دیں ۔۔۔۔ آئندہ ایسی کوئی شکایت نہیں ملے گی ۔۔۔۔ لیکن پلیز ابو امی کو مت بلوائیں ” شازمہ نے روتے ہوئے شازل سے التجا کی تھی
” شازل ایسا کر گاڑی سیدھی زمان کے گھر کی طرف موڑ لے ۔۔۔۔۔ میں تو اسے بلکل بخشنے والی نہیں ہوں “۔۔۔۔ زمرد بیگم کی تو غصے سے آنکھیں ابل رہیں۔ تھیں ۔۔۔
گاڑی شازل نے زمان صاحب کے گھر کی جانب موڑ لی
سب لوگ ہی ڈنر کر رہے تھے لگے تھے ۔۔۔۔
عاصم کے سامنے صرف سلاد کا بادل ہی رکھا تھا جو اس نے نیناں سے بنوایا تھا ۔۔۔۔
” یہ سب کیا ہے عاصم تم کھانا نہیں کھاو گئے ” زمان صاحب نے عاصم کو منہ کے زاویے بگاڑتے ہوئے سلاد کھاتے دیکھ کر پوچھا
” میں ڈائٹ کرو گا ابو ۔۔۔۔ اس لئے اب پرہیزی کھانا کھایا کرو۔ گا ” عاصم کی بات پر شاہزیب نے اسے حیرت سے اسے دیکھا
” تم اور ڈائٹ ۔۔۔۔ دو مختلف باتیں ہیں ویسے ۔۔۔۔ کتنے دن یہ شوق جاری رکھنے کاارادہ ہے ” شاہزیب نے روٹی توڑتے ہوئے آدھی روٹی دوبارہ ہاپ پاٹ میں رکھتے ہوئے کہا
” چھ ماہ تک تو لازمی کرو گا ” عاصم نے پر جوش ہونے کی پوری کوشش کرتے ہوئے کہا
” چاول تم چھوڑ نہیں سکتے ۔۔۔ بوٹی تمہیں لیگ پیس کی ہی کھانی ہے ۔۔۔۔۔ کھانا کھانے کے بعد بیڈ پر الٹا لیٹ کر موبائل تمہیں یوز کرنا ہے ۔۔۔۔ ہو گئے تم سمارٹ ” شاہزیب نے اسکی ساری کمزوریاں بیان لیں تھیں
” آپ کیوں اسے ہر وقت ڈس ہارٹ کرتے رہتے ہیں ۔۔۔۔ عاصم تم فکر مت کرو ۔۔۔۔ تم ڈائٹ کے ساتھ مارئنگ واک بھی شروع کر دو ۔۔۔ دیکھو کیسے چند ماہ میں تم اسمارٹ ہو جاؤں گئے پھر کوئی بھی لڑکی تمہیں موٹا بلا نہیں کہے گی ” نیناں نے بڑے مزے سے کھانا کھاتے اور اپریشیڈ کرتے ہوئے عاصم کا راز فاش کیا تھا عاصم کا سلاد کا پتا ہاتھ میں پکڑے نیناں کو حیرت دیکھا ۔تھا۔۔۔ ابھی کل ہی تو اس نے نیناں کو اپنی ڈائٹ کرنے کی اصل وجہ بتائی ۔۔۔۔ اور وہ تھی رباب سمیت لڑکیوں کا اسکا مزاق اڑانا
سب ہی نظریں بیک وقت عاصم پر اٹھیں تھیں
“اووووووو تو یہ سب اس لئے ہو رہا ہے کہ لڑکیوں نے اس شماٹو کا مزاق اڑایا ہے مطلب ویسے اسے بلکل ہوش نہیں تھی اپنے آپ کی بس لڑکیوں کی نظر میں اسمارٹ دکھنا ہے ۔۔۔ شاباش صحیح جارہے ہو تم ۔۔۔۔ ” شاہزیب نے اس نئ بات کی طرف زمان صاحب کی توجہ مرکوز کروانی چاہی تھی
” عاصم کیا سن رہا ہوں میں ۔۔۔ ” زمان کی کی گھرکی پر عاصم نے زچ بھری نظروں نے نیناں کو دیکھا تھا ۔۔۔ جو انجانے میں اسے پھنسا چکی تھی ۔۔۔۔ نیناں نے بھی معذرت بھرے انداز سے اسے دیکھا ۔۔۔ شاہزیب کوتو جیسے موقع مل گیا تھا جس کا وہ پورا پورا فایدہ اٹھارہا تھا ویسے بھی عاصم چھوٹے ہونے کے ناطے عاتقہ بیگم کے ساتھ ساتھ زمان صاحب کا بھی لاڈلا تھا سب سے۔ ڈانٹ اسے ہی پڑتی تھیں۔۔۔ لیکن ہر بار کی طرح عاتقہ بیگم نے عاصم کی حمایت کی تھی
“۔ ظاہر ہے بڑے بھائی کا کچھ تو اثر ہونا ہی تھا ۔۔۔۔۔ ” عاتقہ بیگم کی بات پر شاہزیب کا نوالہ بھی منہ میں جاتے جاتے رکا تھا زمان صاحب نے بس کو ختم کرتے ہوئے کہا
” لڑکیوں سے ذرا دور ہی رہنا عاصم ۔۔۔مجھے بلکل پسند نہیں ہے یہ ۔۔۔ “
” ابو قسم لے لیں ۔۔۔۔ میں نے ایسا کچھ نہیں۔ کیا وہ سب اسٹوڈنٹ میرا مزاق اڑاتے ہیں اور اس میں لڑکیاں بھی شامل ہیں میں نے یونہیں نیناں آپی سے کہہ دیا تھا ” عاصم نے وضاحت دی تھی ۔۔۔
” اچھا اچھا ٹھیک ہے کھانا کھاؤ ” زمان صاحب نے بات ختم کی جیسے ہی وہ کھانا کھا کر اٹھے ۔۔۔ عاصم نیناں سے مخاطب ہوا
” یار نیناں آپی آپ بھی نا ۔۔۔۔ ابو سے مار پڑوائیں گی مجھے “
” ایم سوری عاصم ایسے ہی منہ سے نکل گیا ۔۔۔۔ ” نیناں نے شرمندگی سے اعتراف کیا تھا
نیناں ابھی برتن اٹھا ہی رہی تھی جب نون اسٹاپ باہر کی بیل بجی تھی
” کون ہے اتنا بے صبرا ” شاہزیب جو ٹی کھولے نیوز دیکھ رہا تھا ساتھ ہی ساتھ ہادی اور سعدی سے بھی کھیل رہا تھا اٹھ کر دوازہ تک گیس تھا دروازہ کھولا تو سامنے شا،ل اور زمرد بیگم غصے سے بھپرے کھڑے تھے اور شازمہ رو رہی تھی ۔۔۔۔ شاہزیب پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔۔
وہ تینوں اندر داخل ہو گئے۔۔۔ شا،مہ کو دیکھ کر شاہزیب کو اندازہ تو ہو گی تھا کہ۔ ضرور کوئی بات ہوئی ہے ۔۔۔ عاتقہ بیگم بھی لاونج میں تھیں بیٹی کو یوں روتا دیکھ کر گھبرا گئیں تھیں پھر داماد اور جیٹھانی کی تیوری دیکھ پریشان بھی ہوئیں تھیں نیناں ٹیبل صاف کر رہی تھی ۔۔۔ شازمہ کو دیکھ گھبرا وہ بھی گئ تھی ۔۔۔۔
“شازی خیریت تو ہے ۔۔۔ طعبیت تو ٹھیک ہے تمہاری رو کیوں رہی ہو ۔۔۔۔ ” عاتقہ بیگم تو بیٹی کے آنسوں دیکھ کر باقی سب کو بھول بیٹھیں تھیں
” زمان کہاں ہے بلائے اسے ” زمرد بیگم نے سخت اور بلند لہجے سے کہا ۔۔۔۔
” کیا بات ہے تائی اماں اتنا چلا کیوں رہیں ہیں ۔۔۔۔ آرام سے بات کریں ۔۔۔۔ ” شاہزیب نے بھی اسی لہجے میں زمرد بیگم کو جواب دیا ۔۔۔ بہن کے آنسوں دیکھ کر تو تڑپ تو وہ بھی گیا تھا
” ارے میں کہتی ہوں زماں کو بلاؤ ۔۔۔ ” اس بار وہ
اور بلند بولیں تھیں پھر زمان صاحب کو پکارنے لگیں ۔۔۔
” بھابھی آخر ہوا کیا ہے ۔۔۔۔ شازی کیوں رو رہی ہے ” عاتقہ بیگم کی بات تووہ سن نہیں رہیں تھیں ۔۔۔۔
زمان صاحب اپنے کمرے سے نکل کر باہر آ گئے ۔۔۔۔
سامنے ان تینوں کو دیکھ کر کچھ پریشان بھی ہوئے تھے رات کے دس بجے تو کبھی پہلے وہ لوگ نہیں آئے تھے ۔۔۔ پھر بیٹی کی سسکیاں بھابھی اور بھتیجے کے چہروں پر غصہ اور ناراضگی ۔۔۔۔
” بھابھی آپ اس وقت سب خیریت تو ہے ؟ اور یہ شازی کو کیا ہوا ہے ۔۔۔۔ ” زمان صاحب تیز قدموں اور فکرمندی سے آگے بڑھے
“چچا جان آپکی بیٹی کو کچھ نہیں ہوا ہے ۔۔۔۔ ڈرامے باز ہے یہ ۔۔۔۔ ” شازل نے بھبک کر کہا
” کیا ڈرامہ کیا اس نے ۔۔۔۔ ؟ شازیب نے غصے سے شازل کے مقابل کھڑے ہو کر کہا ۔۔۔
” تم تو بیچ میں مت ہی آؤں تو بہتر ہے میں صرف چچا سے بات کرنے آیا ہوں ” شازل کا لہجہ بھی اونچا ہوا تھا ۔۔۔۔
” شاہزیب تم ہٹو پیچھے ۔۔۔۔ ” زمان صاحب نے آگے بڑھ کر شاہزیب کو پیچھے ہٹایا ۔۔۔ آپ لوگ بیٹھیں یہاں ۔۔۔ ” شازل اب بھی شاہزیب کو گھور گھور کر دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ اور جواب شاہزیب بھی اسے قید بھری نظروں سے ہی دیکھ رہا تھا
عاتقہ بیگم شازمہ سے پوچھنے لگیں کہ قصہ کیا ہے لیکن وہ بتدریج روئے جارہی تھی ۔۔۔۔
“شازی ادھر آؤں اور اپنی حرکتیں خود بتاؤں اپنے ابا کو ۔۔۔۔ ” زمرد بیگم ٹانگ ہے ٹانگ رکھ کر بیٹھ گئیں ۔۔۔
” تائی اماں میں نے کہا تو ہے کہ مجھ سے غلطی ہو گئ ہے ۔۔۔۔ آپ کیوں بات کو بڑھا رہی۔ ہیں ” شازمہ نے روتے ہوئے رقت آمیز لہجے میں التجا کی تھی
” بات تو تم نے بڑھائی ہے ۔۔۔ بہو بیگم ۔۔۔۔ گھر کی باتیں جہاں بھر کو سناتی پھرے وہ بھی جھوٹے فسانے ” زمرد بیگم اب بھی تپے ہوئے لہجے سے بول رہیں تھیں ساری بات زمرد بیگم نے ہی زمان صاحب کو بتائی تھی ۔۔۔ لیکن شاہزیب بے یقین تھا ۔۔۔ اس لئے شازمہ کا ہاتھ پکڑ کر کمرے میں لے گیا ۔۔۔۔ اپنے بیڈ پر اسے بیٹھا دیا
” اب بتاؤں شازی سچ کیا ہے ۔۔۔۔ ۔۔ میں نہیں مانتا کہ تم یہ سب کر سکتی ہو یہ سب یقینا اس شازل کے بچے اور تائی اماں کی ملی بھگت ہے ۔۔۔ دونوں نے مل کر ڈرامہ رچایا ہے ۔۔۔۔ تم
مجھے سچ بتاؤں پھر دیکھوں میں کیا کرتا ہوں ان کے ساتھ ” وہ بھی غصے سے پوچھ رہا تھا ۔۔۔ شروع سے تو دونوں دیوارنی جھیٹانی کی کبھی بنی نہیں تھیں اور اپنے بچوں کو بھی بچپن سے ایسے ہی قصے سنا رکھے تھے جس میں وہ مظلوم اور مخالف ظالم ہو
” تم تو جانتے ہو تائی اماں کی عادت کو بات کا بتنگڑ بنا دیتی ہیں ۔۔۔۔
ہر وقت میں بس کام میں جتی رہتی ہوں ۔۔۔ رہنے والے چار افراد ہیں لیکن برتن یوں جمع رہتے ہیں جیسے ڈھیروں افراد استعمال کرتے ہوں ۔۔۔۔ پھر ڈاکٹر بھی تائی کے شور شرابے سے گھبرا کر اپنی بات سے مکر گئ ۔۔۔۔۔
شازل تو ہے ہی کان کا کچا ۔۔۔ بس جو ماں نے کہہ دیا وہی اسے سچ لگتا ہے ” شازمہ نے بھائی کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے جو منہ میں آیا کہہ دیا
” چلو میرے ساتھ باہر اور سب کے سامنے تائی اماں کی حرکتیں بتاؤں ۔۔۔ اگر تم چپ رہوں گی تو ہر بات کا الزام تم ہی لگے گا “
“نہیں شاہو رہنے دو ۔۔۔۔ میں چپ ہی ٹھیک ہوں
رہنا تو مجھے وہیں ہے ۔۔۔۔ وہ لوگ ۔میرا جینا دوبھر کر دیں گئے ۔۔۔۔۔”
“کیوں کر دیں جینا دوبھر ۔۔۔ میں منہ نا توڑ دوں ان کا شادی کی ہے تمہاری ۔۔۔۔ اپنا آپ بیچا نہیں ہے انکے سامنے جو سب کچھ چپ چاپ سنیں گئے ۔۔۔ اٹھوں تم “
” رہنے دو شاہو ۔۔۔۔۔ تم جانتے ہو تائی اماں کے مزاج کو مجھے ہی جھوٹا ثابت کریں گی ۔۔۔ جب شازل کی ہمیشہ انکی بات کو مقدم رکھے گا تو میں لڑ کر کیا کرو۔ گی بس تم کچھ مت کہو ورنہ گھر تو ۔میرا ہی خراب ہو گا ۔۔۔۔” شازمہ بری طرح سے پھنس گی تھی ۔۔۔۔ اپنے جھوٹ کو بھائی کے سامنے سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔۔ شاہزیب تو سدا کا جذباتی تھا کیا خبر شازل سے الجھ ہی نا جاتا ۔۔۔ خود اپنی غلطی کا اعتراف کر کے بھی اسکی نظر میں میں گر نہیں سکتی تھی ۔۔۔۔ اس لئے بہانوں سے کام چلانے لگی ۔۔۔ شاہزیب نے روتی ہوئی بہن کے سر ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔۔
” تم پریشان مت ہو ۔۔” یہ کہہ وہ باہر نکل گیا ۔۔۔ زمان صاحب متفکر سے چپ بیٹھے تھے ۔۔۔
کچھ دیر بعد شازمہ بھی باہر آ گئ
” شازی بھابھی سے معافی مانگو ” زمان صاحب کی بات پر زمرد بیگم کی اتراہث عروج پر تھی عاتقہ بیگم اور شاہزیب۔ نے تاسف سے زمرد بیگم اور شازل کو دیکھا تھا
” جو منہ پھلائے بیٹھے تھے شازمہ خرما خرما چلتے ہوئے زمرد بیگم کے پاس آکر بیٹھ گئ
” تائی اماں مجھ سے غلطی ہو گئ مجھے معاف کر دیں میں تو پہلے آپ کے شازل کے سامنے ہاتھ جوڑ کر منتیں کر چکی تھی ۔۔۔۔ مجھے معاف کردیں ابو امی تک بات کو مت لے کر جائیں۔۔۔ ” شازمہ نے ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے کہا
عاتقہ بیگم کے ساتھ ساتھ سامنے ڈائنگ ٹیبل کی کرسی پر خاموش بیٹھی نیناں کا بھی دل پسیج کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔ زمرد بیگم کا سخت رویہ نیناں کو برا لگا تھا ۔۔۔ شازمہ کے لئے دل میں ہمدردی سی ہونے لگی تھی ۔۔۔۔۔ عاصم بھی ماتھے پر بل ڈالے غصے سے تائی اماں کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” بھئ میں تو صاف بات سب کے سامنے کرنے کی عادی ہوں یہ باتوں کو گھمانا تمہاری ماں کو آتا ہو گا مجھے نہیں ۔۔۔۔ زمان یہ سامنے بیٹھی کے تمہاری بیٹی پوچھو اس سے پورے دن میں کتنے کام کرواتی ہوں میں اس سے ۔۔۔۔۔ سوائے کھانا بنانے یا چار برتن دھلوانے کے ؟ ارے اب اپنی بہو کو ہی دیکھ لو ماشاءاللہ سے۔ امیر کبیر باپ کی اکلوتی بیٹی ہے ۔۔۔۔ اپنے گھر تو پانی بھی نوکروں سے پیا ہو گا ۔۔۔۔ عاتقہ کون سا اسے بستر پر بیٹھا کر کھلاتی ہے ۔۔۔۔ دو دو بچوں کو سنبھالنے کے ساتھ اسے عاتقہ کے ساتھ کچن میں کام کرتے تو میں نے خود کئ بار دیکھا ہے ۔۔۔۔۔ کیسی نرم گفتار لڑکی ہے مجال ہے جو آج تک اس بچی کی میں نے اونچی آواز بھی سنی ہو ۔۔۔۔ دھیرے دھیرے بولتی ۔۔۔۔ ایک شازی ہے ۔۔۔ ایسے تٹخ کے جواب دیتی ہے کہ کیا بتاؤں میں ” نیناں کو خوامخواہ میں اپنا آپ شازمہ کا قصوروار سا لگنے لگا تھا بھلانا اسے بیچ میں گھسٹنے کی تک ہی کیا تھی ۔۔۔۔ ۔۔۔ کچھ شازمہ اسے دیکھ بھی یوں رہی تھی جیسے سارا کیا دھرا نیناں کا ہو ۔۔۔۔ شاہزیب سے تائی کی باتیں نا قابل برداشت تھیں اس لئے وضاحت دینے لگا
” میری امی نیناں کی ذرا ذرا سی باتوں کا بتنگڑ بنا کر میرے سسر سے شکایتیں لگانے نہیں چلی جاتیں گھر کی بات گھر میں ہی حل کی جاتی ہے تائی اماں۔۔۔۔۔ بہت حوصلہ چاہیے ہوتا ہے بہو رکھنے کا ۔۔۔۔ ہزاروں چیزیں نیناں سے بھی غلط ہوتیں ہیں مجال ہے جو امی کے ماتھے پر بل بھی آیا ہو ۔۔۔۔ “شاہزیب چپ نہیں رہا تھا ۔۔۔۔ اسے دل میں رکھنے کی عادت ہی کہاں تھی پھر بات کسی حد تک ٹھیک تھی زمان صاحب نے بھی اس شاہزیب کو ٹوکا نہیں تھا
” ہاں تو میں نے کون سا سر پھاڑ دیا ہے شازی کا ۔۔۔۔ اور تمہاری بیوی کیا ڈاکٹروں اور دوسرے لوگوں کے سامنے تمہارے ماں کی ظلم کی جھوٹی داستانیں سناتی ہے ۔۔۔۔۔ ” زمرد بیگم دل اب تک نہیں بھرا تھا
” یہ تو اللہ ہی جانتا ہے جھوٹی داستانیں ہیں یا سچی ” شاہزیب نے خشمگین نظروں سے زمرد بیگم کو دیکھا تھا ۔۔۔ شاہزیب کا تو بس نہیں چل رہا تھا کیا نا کر گزرے تائی اماں کے ساتھ۔۔۔ زمان صاحب نے ہی بات آگے بڑھائی
” شاہزیب چپ رہو تم ۔۔۔۔ شازی مجھے آئندہ تمہاری شکایت نا ملے ۔۔۔۔ اور میں کل آؤں گا جیدی بھائی سے ملنے بھی ۔۔۔ ان سے بھی بات کروں گا وہ گھر کے بڑے ہیں ۔۔۔گھر کے ان معاملات کو گھر ہی خوش اسلوبی سے حل کر کے بڑے ہونے ثبوت دیں ۔۔۔۔ یوں شکایتیں لیکر آنے سے دونوں گھرانوں کے دلوں میں تنفر اور نفرت ہی بڑھے گی ۔۔۔ جو کہ بلکل غیر مناسب ہے ۔۔۔۔ جو عزت ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے ہے اچھا ہے کہ وہ ویسے ہی قائم رہے ۔۔۔۔۔ ” یہ کہہ زمان صاحب کھڑے ہو گئے
” نیناں بیٹا ” زمان صاحب نے سامنے ٹیبل کے پاس کرسی پر بیٹھی نیناں کو پکارا
” جی ابو “
” بیٹا تائی اماں اور باقی سب کے لئے چائے بنا دو ۔۔۔۔ ” زمان صاحب نے نیناں کا مخاطب کرنے کے بعد زمرد بیگم کو دیکھا
” بھابھی چائے ضرور پی کر جائیے گا ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے میں چلے گئے ۔۔۔۔ نیناں چائے بنانے کچن میں چلی گئ ۔۔۔ شاہزیب جان بوجھ کر شازل اور زمرد بیگم کے سامنے رکھے صوفے پر بیٹھ گیا
میدان چھوڑ کر بھاگا اس نے کہا سیکھا تھا ۔۔۔
آپ ی گھرتی ہوئی نظریں شال پر گاڑےہوئے اسے گھور رہا تھا ۔۔۔۔ شازل بھی گاہے بگاہے اسے غصلی نظروں سے دیکھ رہا تھا
******……..
جب سے نیلو کو رپوٹس کا پتہ چلا تھا رائمہ کے بیٹے عبداللہ سے اسکی محبت میں ایک شدت سی بڑھنے لگی تھی ۔۔۔۔ رائمہ بھی منع نہیں کرتی تھی پتہ تھا کہ اولاد کی چاہ کیا ہوتی ہے بھائی کے بارے میں سن کر دل مغموم سا ہوا تھا ۔۔۔ باسم کے کندھے لگ کر بھی خوب روئی تھی
” رامس کو میں منا لوں گی باسم عبداللہ کو تم رکھ لو وہ بھی تمہارا ہی بیٹا ہے ؟” دل پر بڑا بھاری پتھر رکھ کر رائمہ نے بھائی کی محبت میں یہ قربانی دینے کا سوچا تھا
” پاگل ہو گئ ہو تم اتنا کمزور سمجھتی ہو مجھے ۔۔۔ کہ اللہ کی آزمائش پر ہار جاؤں گا ۔۔۔۔
اللہ انشاللہ مجھے اولاد سے نوازے گا ۔۔۔ عبداللہ کو اللہ تمہاری اور رامس کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے رکھے ” باسم نے بہن کو بھی تسلی تھی رپوٹس اس نے الماری میں۔ جہاں دین تھیں کسی کو نہیں دی کہ گائیں تھیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔ رات کو رائمہ اپنی ماں کے ساتھ سوئی ہوئی تھی جب نیلو عبداللہ کو دھیرے اٹھا کر اپنے کمرے میں لے آئی ۔۔۔۔
باسم سو رہا تھا ۔۔۔ نیلو نے عبداللہ کو اپنے بستر پر لیٹا دیا پھر اس کا فیڈر بھی بنا کر لے آئی ۔۔۔۔ اسے فیڈر پلا کر اسکے برابر میں لیٹ گئ ۔۔۔۔ بڑے غور اور فرحت محبت سے اسکے ایک ایک نقش کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔
پھر شدت محبت سے کبھی اسکے ماتھے کو چومتی کبھی اسکے نرم گداز سے رخساروں کو کبھی چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو اسکی نازک سی انگلیوں
کو ۔۔۔۔۔انسوں بہاتے ہوئے ۔۔۔۔ وہ حسرت بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی یہ وہ نعمت تھی جو شاید اسکے نصیب میں نہیں لکھی تھی ۔۔۔۔
عبداللہ نیلوفر کے والہانہ پیار پر اٹھ بیٹھا تھا اسکے رونے پر باسم کی آنکھ کھلی تھی ۔۔۔۔ موندی موندی آنکھوں سے نیلو کی گود میں عبداللہ کو دیکھ کر ایک پل تو خواب سا لگا تھا وہ اسے گود میں لئے بہلا رہی تھی ۔۔۔۔ اتنی رات گئے بھلا نیلو کیوں ایک ماں سے اس کا بچہ اٹھا لائے گی ۔۔۔۔
جب پوری آنکھیں کھول کر دیکھی تو خواب کے سچ ہو جانے پر یقین بختہ ہوتے ہی اٹھ بیٹھا تھا
نیلوفر عبداللہ کو بہلا کر چپ کروا رہی تھی ۔۔۔ کچھ دیر میں ہی وہ چپ بھی ہو گیا تھا چوبیس گھنٹوں میں اٹھارہ گھنٹے تو نیلوفر کے ساتھ رہتا تھا ۔۔۔۔ اسکی گود کی پہچان اور عادت بھی ہو چکی تھی ۔۔۔۔
“فری رائمہ کہاں ہے ۔۔۔۔ ” باسم نے مخاطب کرنے پر نیلو فر اس پر نظر پڑی تھی ورنہ وہ تو عبداللہ میں ہی مگن تھی
” سو رہی ہے ۔۔۔”
” اور آپ چپکے سے عبداللہ کو اسکے پہلو سے اٹھا کر لے کر آ گئیں ہیں کیوں فری ؟ ” ہر بار کی طرح یہ بات بھی باسم جان چکا تھا ۔۔۔ فری نے نظریں بدلیں تھیں ۔۔۔۔
” باسم وہ ۔۔۔ آپ سو گئے تھے ۔۔۔ مجھے نیند نہیں آ رہی تھی ۔۔۔۔ پھر سوچا عبداللہ کو رات کو جاگنے کی عادت ہے ۔۔۔۔۔ خوامخواہ رائمہ کو پریشان کرے گا ۔۔۔۔ اس لئے اٹھا کر لے آئی “
” اور اگر نیند میں رائمہ کی آنکھ کھل گئی اور عبداللہ کو اپنے پاس نا پا کر وہ پریشان ہو گئ پھر ؟ ” باسم نے بڑی محبت سے کہتے ہوئے عبداللہ کو اسکی گود سے لیا تھا ۔۔۔۔ پھر بیڈ سے کھڑا ہو گیا ۔۔۔
” باسم اسے کہاں لے کر جا رہے ہیں “
” وہیں جہاں اسکی جگہ ہے ۔۔۔ اسکی ماں کی گود ۔۔۔ ” یہ کہہ کر باسم کمرے سے باہر چلا گیا نیلو
وہیں چپ کی چپ رہ گئ کچھ بھی نہیں کہہ سکتی تھی اسے ۔۔۔۔ کرنا کچھ وہ خود پر لے رہا تھا صرف نیلوفر کی محبت کی وجہ سے ۔۔۔۔
باسم جب واپس آیا تو نیلوفر بیڈ پر لیٹ گئ تھی ۔۔۔ موٹے موٹے کئ آنسوں تکیے پر جزب ہوئے تھے ۔۔۔ باسم کو دیکھ کر اس نے آنسوں صاف کیے اور کروٹ بدل گئ ۔۔۔۔
” فری اللہ پر بھروسہ نہیں ہے آپ کو ۔۔۔۔ یا اسکے خزانوں میں کمی کا اندیشہ ہے ؟” نیلو نے نے باسم کی بات پر کروٹ بدلی تھی۔۔۔ اسکی طرف دیکھ کر رنجیدگی سے بولی
” میری قسمت بری ہے باسم ۔۔۔ پہلے ماں کے پیار ترستی رہی اور اب اولاد کے پیار کو ترسوں گی
” قسمت بہت اچھی ہے آپکی بس یہ سب اللہ کی آزمائش ہے وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ میرے بندے مجھ پر کتنا یقین رکھتے ہیں ۔۔۔۔ میں آپ کو حضرت زکریا کاواقعہ سناتا ہوں وہ بے شک پہلے آپ نے سن رکھا ہو گا ۔۔۔ لیکن کیا ہے نا ہے فری ایمان کی تجدید کرنے کی تاکید ہمارے بنی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمہیں۔ فرمائی کے تا کہ ہم مایوس نا ہوں
حضرت زکریا کوئی اولاد نہیں تھی ۔۔۔ حضرت مریم سے ان کا رشتہ خالو کا تھا لیکن وہ انکے کفیل۔ بھی تھے اس لئے انکے حجرے میں اکثر چلے جایا کرتے تھے ۔۔۔۔ اور وہاں اکثر بے موسمی پھل اور بہت سی نعمتیں دیکھ کر حضرت مریم سے یہ پوچھتے یہ سب تمہیں کس نے دیں وہ کہتی اللہ نے دیں ہیں اللہ کے کیا مشکل ہے ۔۔۔۔
یہ سوچ کر حضرت زکریا نے بھی اپنے لئے اولاد کی دعا کی جو قبولیت کے درجے کو پہنچی ۔۔۔۔ فرشتوں نے اولاد کی خوشخری سنائی ۔۔۔وہ کہنے لگے بھلا مجھے کیسے اولاد ہو سکتی ہے میں تو بوڑھا ہو چکا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے ۔۔۔۔لیکن
دینے والا جب کن فیکن کا مالک ہو ۔۔۔۔ تو کون ہے جو اس سے سوال و جواب کرے ۔۔۔۔ اللہ نے انہیں حضرت یحیی علیہ السلام سے نوازہ تھا ۔۔۔۔
ان سب واقعات کو اللہ نے کلام پاک میں بار بار بیان کر کے ہمہیں یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ مجھ سے نا امید کبھی مت ہونا ۔۔۔۔۔
تپتے ریگستان میں حضرت اسماعیل کے رونے اور ایڑیاں مارنے پر پھوٹنے والا آب زمزم کا کنواں تاقیامت جاری و ساری رہے گا کون ہے جو آب زمزم جو روک سکے ۔۔۔۔۔ یہ اللہ کی رحمت کی وہ نشانیاں ہیں فری جس سے اللہ پاک اپنے ایمان والوں کو تسلی دیتے ہیں ۔۔۔۔ کہ میں رب یوں اپنے بندوں کو آزماتا ضرور یوں لیکن مایوس لوٹاتا کبھی نہیں ۔ہوں پھر آئے روز آپ کا کیوں نہ چھپ کر رونا ۔۔۔۔ عبداللہ کے ساتھ اتنا زیادہ محبت کاوالہانہ اظہار؟ ۔۔۔ فری کیا بلکل امید چھوڑ بیٹھی ہیں کیاڈاکٹر اللہ سے بڑی ہے ؟یا اللہ کی ذات اتنی کمزور کے آپ کو صحت مندی سے نواز نہیں سکتی ۔۔۔۔ “
” ایسا تو نہیں ہے باسم ۔۔۔۔ بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے “
” جب آپ کو یہ پتہ ہے تو پھر رونے کا کیا مقصد ” باسم نے اس نے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا
” کتنے دن آپ نے میرے اسی بات کی وجہ سے اداس کر دیے ہیں ۔۔۔۔ جرمانہ بھر لو آپ سے ” باسم نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا
” میں نے ایسا کب کیا ؟
” اچھا پھر وہ کون ہے ۔۔۔ جو نا آفس جاتے ہوئے مجھے مسکرا کر دیکھتی ہے نا آفس سے واپس لوٹنے ہوئے میرااستقبال ہنس کر کرتی ہے ۔۔۔۔ ” باسم کے شکوے پر وہ خجل سی ہوئی تھی ۔۔۔
” ایم سوری باسم “
” سوری سے کام نہیں چلے گا جرمانہ دینا پڑے گا ۔۔۔ محبت کا اظہار کرنے میں بہت کنجوس ہیں آپ ۔۔۔۔ اور اظہار صرف میاں پر ہی واجب نہیں ہوتا بیوی پر بھی ہوتا ہے ۔۔۔۔ مجھے آپ مسکراتی اور ہنستی ہوئی بہت اچھی لگتی ہیں لیکن یہ نہیں معلوم کہ میں آپ کو کیسے اچھا لگتا ہوں ؟” باسم کی بات پر وہ جھنپ سی گئ تھی
******……
نیناں جب کمرے میں آئی شاہزیب شازمہ کی وجہ سے فکرمند ہی بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔۔۔
گھر کے ماحول میں بھی کشیدگی سی تھی ۔۔۔۔
عاتقہ بیگم بھی رو رہیں تھیں اور زمان صاحب بھی اپنی جگہ پریشان تھے ۔۔۔
“شاہزیب کیوں پریشان ہیں آپ ۔۔۔۔ ؟ نیناں پہلے تو اسے دیکھ چپ رہی لیکن جب اسے تکیے پر ٹیک لگائے کسی سوچ میں گم دیکھا تو اس کے برابر میں ٹیک لگا کر بیٹھ گئ اس کا ہاتھ تھام لیا شاہزیب اس کی جانب دیکھنے لگا
” کیوں اتنی ٹینشن لے رہے ہیں ۔۔۔۔ ٹھیک ہو جائے گاسب ” نیناں کے میٹھاس بھرے لہجے کا اثر تھا کہ وہ نفی سر ہلا گیا
” نہیں کچھ نہیں ۔۔۔۔۔ بس تائی اماں اور شازل کے رویے کی وجہ سے پریشان تھا “
” شاہزیب ابو کہہ تو رہے ہیں کہ وہ بات کریں گئے جیدی انکل سے ۔۔۔ ٹھیک ہو جائے گا سب فکر مت کریں “
” دیکھا نا تم نے شازی کیسے رو رہی تھی ۔۔۔۔ پتہ نہیں میں کیسے ضبط کیے بیٹھا تھا ورنہ دل تو چاہا اس بیغیرت کا منہ توڑ دوں جو ماں کی ہر بات پر ہاں ہاں کی گردان کیے جارہا تھا ۔۔۔۔ کمینہ ۔۔۔۔ یہ نہیں معلوم کہ بیوی کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں ۔۔۔۔ ” وہ بھی ضبط سے گزر رہا تھا آپس میں بہن بہن بھائی جتنا مرضی لڑ لیں لیکن اگر بہن یوں روتی پریشان ہوتی دیکھ لیں تو بھائیوں کا خون جوش ضرور مارتا ہے
” یوں پریشان ہونے سے کیا سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔۔ نہیں نا پھر کیوں پریشان ہو رہے ہیں ۔۔۔ بس کچھ نہیں سوچنا آپ نے۔۔۔۔۔ ” نیناں نے تکیہ درست کیا شاہزیب اب لیٹ چکا تھا
شاہزیب کاغصہ بھی کافی حد تک ختم ہو چکا تھا
لیکن دھیان بہن کے آنسوں کی طرف ہی لگا ہوا تھا ۔۔۔ نیناں نے اس کا بازو سیدھا کیا اور بازو پر سر رکھ کر لیٹ گئ ۔۔۔۔۔ شاہزیب نے نیناں کی جانب دیکھ کر کہا
” نیناں میں سونا چاہتا ہوں اس لئے پلیز اپنی جگہ پر جاؤں ” شاہزیب کا اب بھی موڈ بحال نہیں ہوا تھا نیناں اسے یوں پریشان دیکھنا نہیں چاہتی تھی اس لئے باتوں سے بہلانے لگی
” میں اپنی جگہ پر ہوں شاہو جی ۔۔۔ جب سے آپکے دو بیٹے ہماری زندگی میں آئے ہیں ۔۔۔۔ ہمہیں تو خود میں لگا کے رکھ دیا ہے ۔۔۔۔ لگتا ہی نہیں ہے ہماری کوئی اپنی لائف بھی ہے ۔۔۔۔ بس اب ان دونوں کو بھوک لگی ہے ۔۔۔۔ اب پیمپر چینج کرنا ہے ۔۔۔۔ اب یہ نواب سو رہے ہیں اس لئے جلدی سے اپنے کام نمٹا لو۔۔۔۔ اور آپ کو بھی میں تو نظر ہی آتی ہوں بس ہادی ۔۔۔ اور سعدی ہی نظرآتے ہیں ۔۔۔ ” نیناں کے شکوے پر وہ حیران ہوا تھا اسے مسلہ اپنے ہی بچوں سے تھا
” نیناں تم بچوں جیلس کر رہی ہو ؟”
” ہاں تو اور کیا کرو ۔۔۔ کتنے دن گزر جاتے ہیں۔۔۔ آپ بس ان دونوں کو ہی ٹائم دیتے ہیں ۔۔۔ پھر سو جاتے ہیں میں تو جیسے کچھ ہوں ہی نہیں ۔۔۔۔ مجھے تو یہ میرے بچے کم اور سوکن ذیادہ لگتے ہیں ” نیناں نے منہ پھیلائے خفگی سے کہا شاہزیب کی ہنسی بے اختیار تھی ۔۔۔
” تو میری مینا کو میری محبت میں شراکت برداشت نہیں ہے ۔۔۔ چاہے وہ اسکے اپنے بچوں کی ہی کیوں نا ہو۔۔۔” شاہزیب نے نیناں کے چہرے پر بکھری لٹ کو کہا
“اگر کسی دن میں سچ میں تمہاری سوکن لے آیا تو کیا کروں گی ” شاہزیب کو نیناں کی جیلسی کی حد دیکھنی تھی اس لئے بس یونہی کہہ گیا تھا ۔۔۔ نیناں بے ساختہ اٹھ کر بیٹھی تھی بڑی کڑی نظر سے اسے دیکھا تھا
” شاہزیب ۔۔۔ میں جان سے مار ڈالوں گی اسے ۔۔۔۔ ” بڑے خطرناک تیور سے وہ بول رہی تھی ۔۔۔ شاہزیب اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا
” مرد کو چار شادیوں کی اجازت پتہ کیوں دی گئ ہے ۔۔۔ کیوں کہ عورت سہہ جانے کا حوصلہ رکھتی ہے
اس لئے مجھے پتہ ہے تم مجھ سے جتنی محبت کرتی ہو ۔۔۔میری محبت میں تم سوکن بھی برداشت کر لو گی ۔۔۔۔ ” شاہزیب کواسے چھیڑنے میں مزا آ رہا تھا ۔۔۔ نیناں رو دینے کو تھی
” شاہزیب ۔۔۔۔ آپ سچ میں دوسری شادی کریں گئے ؟ ۔۔۔ ” آنکھوں میں آنسوں بھرے تھے ۔۔۔ شاہزیب اٹھ کر بیٹھ گیا اس سے زیادہ اس کا امتحان نہیں لے سکتا تھا
” ایک تم مجھ سے سنبھالی نہیں جا رہی ہو ۔۔۔ پھر دو دو باڈی گارڈ تمہارے ایک ساتھ مجھے کچھ اور سوجنے ہی نہیں دیتے ہیں ۔۔۔۔۔ پورا مہینہ یہ سوچنے میں گزر جاتا ہے ۔۔۔ شاید کوئی ہزار دوہزار بچت کر ہی لوں لیکن بچت تو ایک طرف سیفی سے ادھار مانگنے پر جاتے ہیں ۔۔۔ اور چلا میں دوسری شادی کرنے ۔۔ یہ سوچنے کی بھی فرصت نہیں ہے ۔۔۔اور ہر لڑکی نیناں تھوڑی ہو سکتی ہے ۔۔۔۔ کہ میری محبت میں اپنے تخت و تاج
چھوڑ کر چلی آئے ۔۔۔۔۔ بس یونہی مزاق کر رہا تھا میری جان ۔۔ ” پیار سے اس کا گال کھنچ کر بولا
” شاہزیب مجھے ایسا مزاق بھی پسند نہیں ہے ۔۔۔ ” نیناں اب بھی خفا سی بول رہی تھی
” اچھا میری مینا ۔۔۔ اب موڈ ٹھیک کرو اپنا آئندہ نہیں کروں گا ۔۔۔ “
” پہلے پرومس کریں کل مجھے گھمانے لیکر جائیں گئے ۔۔۔ برنس روڈ کی چاٹ بھی کھلائیں گئے ۔۔۔ ” نیناں نے اپنی شرط بتائی
“منظور ہے اب پلیز لائٹ آف کر دو صبح چھٹی نہیں ہے آفس جانا ہے ۔۔۔۔ ” نیند سے اب شاہزیب کی آنکھیں بند ہو رہیں تھیں
