267.9K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

No One Wheeling Episode 13

No One Wheeling by Umme Hani

“سب سے پہلے مجھے دوبارہ سے ہیلمنٹ بوائے بنکر ہال میں جانا پڑے گا۔۔۔۔ لیکن اس بار میں صابر قیوم کے ریفرنس سے نہیں جاؤں گا ۔۔۔ بلکہ اپنے الگ نام اور پہنچان سے جاؤں گا ۔۔۔ ” شاہزیب نے اپنا پلان بتایا

” اس سے کیا ہو گا ” خرم نے نے سوال کیا تھا

” اسبار مجھ پر سٹا تم لوگ لگاؤں گئے ۔۔۔ ” شاہزیب نے چاروں کو باری باری دیکھ کر کہا

” ہم کیوں ” بیک وقت چاروں نے سوال کیا تھا

” اس لئے کہ ہمہیں ذولفقار کا مسلہ حل کرنا ہے ۔۔۔ جب اسکی بہن کا جہیز ہم ارینج کریں گئے تو وہ ہماری مدد ضرور کرے گااور اس کا میڈیا پر بیان قیوم صابر کے چھکے چھڑا دے گا سمجھوں ایک ہی باری میں صابر قیوم کا کھیل ختم

” ہمم بات میں دم ہے جب اسی کے لوگ اس کے خلاف بیان دیں گئے ۔۔ تو اس کا کھیل تو ختم ہو جائے گا ۔۔۔ “سیفی نے شاہزیب کی بات کی تائید کی تھی

” لیکن تم تو واپس اسی روش پر چل نکلو گئے ” باسم نے شاہزیب سے کہا

” دیکھوں میں صرف دو تین بار ہی یہ کھیل کھیلو گا لوگوں کو پہلی بار میں ہی پتہ چل جائے گا کہ اصل ہیلمنٹ بوائے میں ہوں ۔۔ پھر میں اپنا چہرہ ظاہر کر دوں گا ۔۔۔ اس کے بعد میں ایک کھیل ایس کھلیوں گا جو سب کے ہوش اڑا دے گا ۔۔۔ ایسے ہوش کے دیکھنے والے ون ویلنگ کے نام سے کانپلیں گئے ۔۔۔ ” شاہزیب اس بات پر سب ہی سیدھے ہو کر بیٹھے تھے

” شاہزیب کی کروں گئے تم ‘”

” وہ بتا نہیں سکتا کر لے دیکھاوں گا “

” نہیں ۔۔ مجھے یہ ٹھیک نہیں لگ رہااس میں جاننکا خطرہ ہی ہو گا ۔۔ نا شاہو یہ نہیں ٹھیک کچھ اور سوچتے ہیں” خرم کواپنے دوست کا اندازہ تھاوہ خطروں کےنہ میں جانے سے کہاں خوف کھاتا تھا ۔۔۔ “

” دیکھوں تم لوگ جذباتی ہورہے ہو ۔۔۔ میں بہت خطرناک کھیلوں کو بڑے آرام سے کھیلا ہے ۔۔۔ لوگ زبان کی بات کبھی نہیں نھیں گئے ورنہ سی ویو پر ہونے والی ریس کے بعد باسم کی بات ضرور سنتے ۔۔ تم بتاؤں باسم کتنے لڑکوں نے تمہاری بات سنی ؟” شاہزیب کے سوال پر باسم چپ س ہو گیا

“یہ پاکستانی قوم ہے بنا ڈیمو دیکھنے کبھی بھی باتوں سے نہیں سدھر سکتی ۔۔۔ پھر ڈیمو کو دیکھانا پڑے گا ۔۔ ” اپنی آنکھ ونک کر کے شاہزیب نے لاپروائی سے کہا ۔۔۔ سب چپ تھے لیکن اندر سے پریشان بھی تھے ۔۔۔

“جو وہ کرنے جا رہے تھے بے شک آسان نہیں تھا قیوم صابر کا ریایکشن نا جانے اپنی ہار کے بعد کیا ہوتا کچھ اندازہ نہیں تھا ۔۔۔ چاروں ہی متذبذب تھے کوئی مطمئن تھاتو وہ تھا شاہزیب ۔۔۔

********……

.مرحا پیدائشی ہی ایسی نہیں دماغی چوٹ کی وجہ سے ایسی ہو گئ تھی ۔۔۔۔ پندرہ سال تک وہ گم صم ہی رہی تھی ۔۔ جو کھلا دیا کھا لیا جو دیا رکھ لیا دماغ کو استعمال کرنا اس نے پندرہ سال کے بعد استعمال کرنا شروع کیا ۔۔ لیکن حرکتیں سال بھر بچوں جیسی کرتی تھی ۔۔۔ اسکول کبھی نہیں گئ تھی ۔۔ لیکن جس چیز میں دلچسپی ہوتی وہ کام وہ ایسے پھرتی سے کرتی کے دیکھنے والے کی آنکھ دنگ رہ جائے ۔۔۔

اگر اسے کسی چیز میں دلچسپی تھی تو سائیکلنگ۔۔۔ وہ سائیکل چلانا دنوں میں سیکھ گئ تھی ۔۔۔ مہنے میں ہی وہ ایک ٹائر پر سائیکل چلانے میں کامیاب ہوئی تھی ۔۔۔۔ دو تین سال میں نئے نئے طریقے سے وہ سائیکل چلانے کے طریقے ٹی وی سے دیکھ کر کرتی تھی ۔۔۔ اسی طرح ٹی وی دیکھتے ہوئے بائیک کو ون ویلنگ میں چلاتے دیکھ کر اس نے اپنے باپ سے بائیک کی ضد کی ۔۔۔

باپ کے پاس پیسوں کی کمی نہیں تھی اس لئے ۔۔۔ بائیک توسے دلا دی لیکن گھر کے پیچھے ایک بہت وسیع ٹریک بنوا دیا تھا تا کہ وہ باہر نا نکل سکے ۔۔۔

مرحا کو خالی سڑک میسر ہو چکی تھی ۔۔۔ اس لئے ویلنگ پر بائیک چلانا اس کا پسندیدہ مشغلہ بن گیا تھا ۔۔۔۔

پہلی بار شاہزیب کو مرحا نے ہال میں ہی ویلنگ کرتے دیکھا تھا ۔۔۔۔ جس انداز سے وہ ویلنگ کر رہا تھا ایک ایک منٹ میں دیکھنے والوں کے ہوش اڑا رہا تھا ۔۔۔ مرحا اسکے ایک ایک انداز کو دماغ میں فٹ کر رہی تھی۔۔۔۔۔

گھر آکر اس نے سیم ویسے ہی اپنی ہیوی بائیک چلائی ہر اسٹپ اسی کا اپنایا لیکن رفتار بہت سلو تھی ۔۔۔۔

جو بات اسے شاہزیب میں اسے دلچسپ لگی وہ اس کا یونیک سا نام تھا ۔۔۔ پھر وہ اس کاہر شو دیکھنے لگی ۔تھی۔۔ تالیاں مارتی سیٹی بجاتی ۔۔۔۔ یہاں تک کے اسلام آباد میں ہونے والے سارے شو اس نے براہراست دیکھے تھے ۔۔۔۔ اس کے چلنے کااندازہ دستانے پہننے کا ہیلمنٹ پہنے کا ہاتھ ہلانے ایک ایک چیز پر جیسے وہ فداسی ہونے لگی تھی پہلی بار

دل چاہتا تھا کہ اس کے پاس جائے اور اس کے ہیلمنٹ ہٹا کر اسکا چہرہ دیکھ لے ۔۔۔ لیکن اسلام آباد کے بعد وہ جیسے منظر سے غائب ہو گیا تھا لیکن مرحا کی طلب اور بھی بڑھ گئ تھی کئ بار وہ اپنے باپ سے ضد کر کے قیوم صابر کے آفس صرف یہ جاننے کے لئے گئ تھی کہ اس کا ہیلمنٹ بوائے کہاں غائب ہو گیا ہے ۔۔۔۔ لیکن یہیں ایک جواب ملتا کہ کہ وہ چھوڑ کر جا چکا ہے ۔۔۔۔

مرحا نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا ۔۔۔ بیمار رہنے لگی تھی اس کے والد الگ اسکی وجہ سے پریشان تھے ۔۔۔ شاہزیب کی تصویروں کے فل سائز پوسٹر اسکے کمرے میں آویزہ تھے ۔۔۔۔ ہر انداز سے اس کی تصویریں موجود تھیں ۔۔۔ ہر وقت وہ بلیک پینٹ شرٹ دستانے اور جوگر میں رہتی تھی ہاتھ میں ہیلمنٹ پکڑے ۔۔۔ ایسے ہی اپنی ویڈیو بنا کر اس نے میڈیا پر ڈال دی تعلیم بھی جھوٹی لکھ دی کسی کی آئی ڈی پڑھی اور لکھ دی ۔۔۔

کئ ماہ وہ بیمار رہی اس کے بعد ایک تفصیلی چیک اپ سے یہ کھلا کہ اسے بلڈ کینسر ہے وہ بھی جسعلاج تو ممکن تھا لیکن امریکہ میں ۔۔۔۔ لیکن وہ ٹرٹمنٹ کروانے کو تیار نہیں تھی۔۔۔ ایک بار اپنی گاڑی میں ڈرائیور کے ساتھ قیوم صابر کے آفس میں گئ لیکن حلیہ ایسا تھا جیسے بائیک پر گئ ہو ۔۔۔۔

اتفاق تھا کہ آفس کے اندر جاتے ہوئے شاہزیب سے ٹکراتے ٹکراتے بچی تھی ۔۔۔۔

پہلی نظر میں شاہزیب کا لاپروا ساانداز اور چلنے کے انداز سے وہ کچھ متذبذب ہوئی تھی دل نے جیسے گواہی دی تھی کہ یہ وہیں ہے جیسے وہ ڈھونڈ رہی تھی ۔۔ لیکن جب اندر گئ تو قیوم صابر زچ سا بیٹھا ہوا تھا کچھ شاہزیب کی وجہ سے اور کچھ اس لڑکی کی دیوانگی سے پریشان تھا جوہر چوتھے دن اس کا دماغ کھانے پہنچ جاتی تھی

اس لئے اسے دیکھتے ہی بول پڑا

“یہ جو ابھی باہر نکلا ہے یہ ہے تمہارا ہیلمٹ بوائے جاؤں اسے جا کر پکڑو ۔۔۔ اور خدا کا واسطہ ہے میری جان چھوڑو ۔۔۔۔ ” مرحا فورا سے باہر بھاگی تھی لیکن شاہزیب بائیک اسٹاٹ کر کے جا چکا تھا ۔۔۔۔

پھر کچھ وقت گزرنے کے بعد پھر سے ہیلمنٹ بوائے کاشور اٹھا مرحا بھی شو دیکھنے وہاں پہنچ گئ ۔۔۔

لیکن دیکھ کر مایوس ہوئی تھی وہ لڑکاوہ نہیں تھا ۔نااس کی چال ویسی تھی ناوینلگ کرنے کا انداز ویسا تھا ۔لیکن پھر بھی بھاگ کر اندر چلی گئ جہاں ویلنگ کے ممبر موجود تھے ۔۔۔ جو لڑکا ہیلمنٹ بوائے بنکر آیا تھا اس کا ہیلمنٹ اتار کر دیکھنے لگی وہ کوئی اور تھا.۔۔۔ اس لئے مایوس ہو کر واپس چلی گئ ۔۔۔ گھر جا کر بہت روئی تھی اسی طرح ہر شو میں جاتی تھی ایک بار شاہزیب کو ہال میں بیٹھا دیکھ کر حیران ہوئی تھی اس لئے اس کے پیچھے دوبارہ اندر داخل ہوئی اس سے پہلے کے وہ پھر نظروں سے غائب ہوتا اس کے ساتھ لگ گئ ۔۔۔۔ اس وقت وہ اپنے باپ کے ساتھ گئ تھی ۔۔۔ جو روز اسکی منتیں کرتا تھا کہ وہ اپنا علاج کرو لے ۔۔۔۔

شاہزیب نے فورا سے اسے خود سے جدا کیا تھا

” آپ ہی ہیلمنٹ بوائے ہیں نا ؟ کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا میں نے آپ کو”

” پاگل واگل ہو تم ۔۔۔۔۔ عقل نہیں ہے تمہیں ۔۔۔۔ کوئی یوں کسی غیر کے گلے لگتا ہے کیا ۔۔۔۔ ” مرحا اب بھی مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔ شاہزیب غصے میں ضرور تھا

” آپ غیر تھوڑی ہیں آپ تو ہیلمنٹ بوائے ہیں ۔۔۔۔ میرا کرش ہیں ۔۔۔ آئی لو یو ” وہ بائیس سالہ لڑکی عجیب بیوقوف اور احمق سی لگ رہی تھی ۔۔۔

شاہزیب نے نا گواری سے اسے دیکھا تھا

سامنے سے اس کے والد آ رہے تھے ۔۔۔۔

“میرو ۔۔۔۔ ادھر آؤں بیٹا “

“پاپا یہ ۔۔۔ یہ ۔۔۔ وہی ۔۔ ہیں وہی ہیلمنٹ بوائے “

مرحا خوش ہوتے ہوئے اپنے باپ کو بتا رہی تھی ۔۔۔دیکھنے میں اسکی لڑکی میں بچکانہ پن تھا ۔۔۔۔

اسکے والد نے شاہزیب سے ہاتھ ملایا

” میں مرحا کاوالد ہوں ۔۔۔ بہت خوشی ہوئی تم سے ملکر ” شاہزیب سے ہاتھ ملا کر وہ بس ذرا سا مسکرایا تھا ۔۔۔۔ پھر اپنا کارڈ اسے نکال کر دیا

” یہ اپنے پاس رکھ لو کل مجھ سے ملنے ضرور آنا مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔ “

” میں یہ کیا کرو گا ۔۔۔ مجھے نہیں ملنا کسی سے “

” دیکھوں بیٹا میں بہت پریشان اور مجبور ہوں ۔۔۔۔ اگر تم مجھ سے مل لوں تو بات ذرا تفصیل سے ہو جائے گی ۔۔۔۔ ” انکے چہرے پر چھائی بے بسی دیکھ کر شاہزیب چپ سا ہو گیا تھا پھر وہ مرحا کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے جانے لگے

” پاپا پہلے ہیلمنٹ بوائے کو ساتھ لیکر چلیں وہ پھر سے گم ہو جا آئے گا تو میں کیسے اسے ڈھونڈو گی ” وہ جا آگے کی طرف رہی تھی لیکن دیکھ پیچھے پلٹ کر شاہزیب کو رہی تھی

” مجھے یہ لڑکی کچھ کھسکی ہوئی لگتی ہے ” خرم شاہزیب کے پاس آ کر بولا

” ہمم مجھے بھی ” شاہزیب اسے ہی جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا جو بار بار ہاتھ سے اسے فلانگ کس دے رہی تھی

” پاگل لگتی ہے ۔۔۔ ” شاہزیب نے کہا

” نہیں کچھ بچکانہ ٹائپ کی لگتی ہے ” خرم نے اسکی بات کی تردید کی

چند دن میں شاہزیب اسے بھول بھال گیا تھا ۔۔۔

لیکن مرحا کے والد نے اس کا نمبر قیوم صابر سے حاصل کر لیا تھا ۔۔۔

” ہیلو کین آئی سپیک مسٹر شاہزیب “

” میں بول رہا ہوں آپ کون “

” میں مجتبیٰ مرحا کاوالد آپ سے چند دن پہلے ملاقات ہوئی تھی ۔۔۔ میں نے آپ کو کارڈ دیا تھا ۔۔۔”

” اوہ جی ۔۔جی ۔۔ یاد آ گیا “

” میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں ۔۔۔ “

” لیکن کیوں ملنا چاہتے ہیں “

” دیکھوں بیٹا میں فون پر نہیں بتا سکتا ۔۔۔ تم اگر مجھ سے بس ایک بار مل لو تو میں تمہارا احسان مند رہوں گا ۔۔۔۔ “

” او کے میں آپ کے آفس میں آ جاؤں گا آپ کا کارڈ ہے میرے پاس ۔۔۔ “

شاہزیب دوسرے دن مجتبیٰ صاحب کے آفس میں پہنچ گیا تھا ۔۔۔۔

وہ اسے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئے سب سے پہلے مرحا کا کمرہ دیکھایا ساتھ ساتھ اسکی ذہنی کیفت اور بیماری کے بارے میں بھی بتانے لگے ۔۔۔ کمرہ دیکھ کر ایک پل تو شاہزیب بھی ٹھٹھک گیا تھا ۔۔۔ وہ لڑکی آدھا ذہن رکھنے کے باوجود بعض چیزوں میں بڑے بڑے سمجھدادوں کو مات دیتی تھی ۔۔۔۔

اسکیچز میں وہ شاہزیب کی ہو با ہو شکل بنا چکی تھی ۔۔۔۔۔ پورے کمرے میں صرف اسی کے پوسٹر لگے تھے ۔۔۔۔

” میری بیٹی چند ماہ کی مہمان ہے ۔۔۔ لیکن اگر اس کا علاج ہو جائے تو شاید کچھ دن یا مہنے اور جی سکے ۔۔۔۔ لیکن وہ اپنا علاج کروانے کو تیار نہیں ہے ۔۔۔۔ تمہیں بہت پسند کرتی ہے ۔۔۔ ہوسکتا ہے تم کہو تو مان جائے ” مجتبیٰ صاحب نے کی آنکھوں میں اس کے دیے شاہزیب کو دیکھ کر روشن۔ ہوئے تھے

” مجھے سن کر آپ سے ہمدردی ہے لیکن میں یہ سب نہیں کر سکتا ۔۔۔۔ اتنا پیشن مجھ میں نہیں ہے کہ کسی ابنارمل لڑکی کے ساتھ وقت گزار سکوں ۔۔۔ پھر دو دو نوکریوں کرتا ہوں میرے پاس وقت کہاں ہے کہ یہاں بھی ڈیوٹی دے سکو” ۔”

” دیکھوں بیٹا میں تمہاری مالی ہر قسم کی مدد کرنے کو تیار ہوں جو تم چاہو “

” میں ایسا کچھ نہیں چاہتا “

” تمہیں اچھی جاب چاہیے تو میں تمہیں دے سکتا ہوں ۔۔۔ ایک مرتے ہوئے شخص کی اگر چند خوشیاں تم سے وابسطہ ہیں تو کیا تم اسے یہ نہیں دے سکتے ” مجتبیٰ صاحب کی آنکھوں میں نمی سی تھی ۔۔۔

” ٹھیک ہے میں کوشش کروں گا ۔۔ “

“۔ ہہت شکریہ ۔۔۔۔ “

شاہزیب کو ایک اچھی نوکری کی تلاش تو تھی ۔۔۔۔ پھر وہ شخص خود اسے اپنے آفس میں جاب دینے کو تیار تھا ۔۔۔ سیلری بھی اچھی ہی ملتی ۔۔۔ دو دو نوکریوں سے جان چھوٹ رہی تھی کیا حرج تھا کہ وہ کچھ وقت اسکی بیٹی کو دیدے ۔۔۔ اگر اسے نوکری اچھی جگہ مل جاتی تو بہت جلد اپنے حالات بہتر کر سکتا تھا ۔۔۔۔ بنا رانا بختیار کے بھی وہ اپنا آپ منوا سکتا تھا ۔۔۔ اس لئے مجتبی کی بات مان لی ۔۔۔۔ دوسرے دن وہ اپنے سارے ڈاکومنٹس لیکر ان کے آفس میں پہنچا تھا ۔۔۔ جیسے انہوں نے بس سرسری سا دیکھاتھا ۔۔۔۔

” کمپیوٹر ڈپاٹمنٹ میں تمہارے حوالے کرتا ہوں ۔۔۔ اسکے علاؤہ بہت سے سینئر بھی وہاں موجود ہیں تمہیں بہت کچھ سیکھنے کو بھی ملے گا ۔۔۔ “

” میری سیلری کیا ہو گئ “

” جو تم چاہو “

” دیکھیں سر آپ مجھے میری پوسٹ کو مد نظر رکھ کر بتائیں ۔۔۔ آپ کی بیٹی کا معاملہ الگ ہے ۔۔۔ وہ میں بنا کسی معاوضے کے طور پر بھی کر دوں گا ۔۔۔ ” شاہزیب کی بات سن کر کچھ دیر وہ چپ رہے

” میں تمہاری تنخواہ ایک لاکھ سے اسٹاٹ کر رہا ہوں ۔۔۔ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھا دوں گا ” تنخواہ شاہزیب کی سوچ سے بھی زیادہ تھی ۔۔۔ اس لئے خوش تھا ۔۔۔ پہلی ملاقات مرحاسے اس نے اسکے گھر پر کی تھی لیکن اب ذہنی طور پر تیار تھا ۔۔۔ وہ اپنی بائیک چلا رہی تھی جب مجتبیٰ صاحب اسے اپنے ساتھ اپنے بنگلے کے پیچھے بنے ٹریک پر لے گئے تھے ۔۔۔۔ شاہزیب کے لئے اس لڑکی کا بائیک کو نت نئے طریقے سے چلانا حیران کن تھا ۔۔۔۔ کافی دیر وہ اسے بائیک چلاتے دیکھتا رہا ۔۔۔۔ کون کہہ سکتا تھا کہ وہ آدھا دماغ رکھتی ہے ۔۔۔ یاشایداللہ کی نشانیاں انسان کو دنگ کر دیتی ہیں کسی سے اگر وہ ایک نعمت چھین لیتا ہے تو کوئی ایسی خوبی بھی ضرور عطا کرتا ہے ۔۔۔۔ جو اسے سب سے منفرد کر دے ۔۔۔۔ مرحا جب واپس بائیک چلاتے ہوئے آ رہی تھی تو شاہزیب کو سامنے دیکھ کر بائیک یک دم سے روک دی ایک بے یقینی سی تھی ۔۔۔۔ وہی۔ بائیک سے اتر کر وہ بھاگتے ہوئے اس کے پاس پہنچی تھی ۔۔۔۔ اپنا ہیلمٹ اتارا وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔

” آپ ۔۔۔ ” پھر اپنے والد کو خوش ہوتے ہوئے کہنے لگی

” پاپا یہ یہاں کیسے “

” دیکھ لو میں نے تم سے پرومس کیا تھا نا کہ تمہارے ہیلمنٹ بوائے کو لے آؤں گا دیکھوں میں لے آیا ۔۔۔ اب تم بھی اپنا پرومس پورا کروں گی ۔۔۔ میرے ساتھ ڈاکٹر پر جاؤں گی ” اسکے والد نے یاد دہانی کراواتے ہوئے کہا

“او کے پاپا چلی جاؤں گی ۔۔۔ ” اس وقت تو اسے صرف شاہزیب میں دلچسپی تھی شاہزیب کے سامنے کھڑی وہ کچھ دیر بس اسے دیکھے جا رہی تھی ۔۔۔ سب سے پہلے اسکی جانب ہاتھ شاہزیب نے بڑھایا تھا

” ہیلو مرحا ” مسکراتے ہوئے شاہزیب نے کہا مرحا

تو جتنا حیران ہوتی اتنا کم تھا ۔۔۔

“” آپ کو پتہ ہے ۔۔۔ میں آپ کو بہت پسند کرتی ہوں”

“اہم ہم ۔۔ نہیں تم نے بتایا ہی نہیں ” شاہزیب انجان بن گیا تھا ۔۔۔

” پاپا میں انہیں اپنے کمرے میں لے جاؤں ؟” مرحا نے اپنے والد کی طرف دیکھ کر اجازت طلب کی

” اب یہ تمہارے فرینڈ ہیں اس لئے تم انہیں اپنے کمرے میں لے جاسکتی ہو ” اس کے والد نے مسکرا کر کہا ۔۔۔۔ مرحا نے شاہزیب کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے کمرے میں لے گئ ۔۔۔۔ اپنے اسکچز دیکھانے لگی

” یہ دیکھیں یہ میں نے رات کو بنایا تھا ۔۔۔ ” شاہزیب کااسیچ اسے دیکھاتے ہوئے بتانے لگی

” ہمم بہت خوبصورت ہے ۔۔۔ “

” آپ کو پتا میں آپ کا کوئی بھی ۔۔۔ کوئی شو ایسا نہیں جو لائیو نادیکھا ہو ۔۔۔۔ آپ میرے فیورٹ ہیں” مرحا یوں اسے دیکھ کر بات کر رہی جیسے کوئی درینہ خواہش پوری ہوئی ہو

” میرے علاؤہ اور کون پسند ہے تمہیں کوئی ایکٹر یاایکٹرس ” شاہزیب موضوع بدلنا چاہتا تھا۔۔۔۔ پھر اس قسم کی باتوں کا کوئی تجربہ بھی نہیں تھا

” اور کوئی نہیں بس آپ ۔۔۔۔ ” وہ کسی دیوانوں کی طرح اسے ایک ٹک دیکھ رہی تھی ۔۔۔ وہی نظریں بدل گیا تھا

” اچھا یہ بتاؤں کے ڈاکٹر پر کیوں نہیں جاتی ہو تمہارے ابا تمہاری وجہ اتنے پریشان ہیں “

” وہ ڈاکٹر گندا بچہ ہے ۔۔۔۔ کہتا ہے۔۔۔۔۔ کہتا ہے مرحا کو ہاسپٹل میں چھوڑ دو ۔۔۔۔میں کیوں ہاسپٹل میں رہو ۔۔۔۔ پھر آپ کو کیسے دیکھوں گی آپ سے کیسے ملو گی ۔۔۔ “

” اور اگر میں تمہیں ڈاکٹر کے پاس ملنے آ جاوں تب تو تمہیں ہاسپٹل میں جانے سے کوئی اعتراض نہیں ہو گا نا “

” آپ سچ میں مجھ سے ملنے آؤں گئے ؟

” ہاں میں روز تم سے ملنے آؤں گا لیکن ایک بات تمہیں بھی میری ماننی ہو گی “

” وہ کیا “

” تم ڈاکٹر کو تنگ نہیں کرو گی ۔۔۔۔ دوائی وقت پر کھاؤں گی تا کہ جلدی جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ”

” پھر آپ بھی میری ایک بات مانو گئے “

” وہ کیا “

” آپ مجھ سے شادی کروں گئے ” مرحا کی بات پر وہ دنگ سا رہ گیا تھا ۔۔۔ ایک دم سے چپ سا ہو گیا تھا کیا جواب دے اسکی اس بات کا “

” کہیں نا کہ آپ مجھ سے شادی کریں گئے ۔۔۔۔ “

” پہلے تم ڈاکٹر پر جاؤں ۔۔۔ میں پہلے دیکھوں تم کسی کو تنگ تو نہیں کر رہی پھر بتاؤں گا “

” ٹھیک ہے میں کل ہی چلی جاؤں گی آپ مجھ سے ملنے کس وقت آئیں گئے ؟”

” روز شام کو آیا کروں گا ۔۔۔۔ “

” میں آپ کا انتظار کروں گی ” مرحا نے مسکراتے ہوئے کہا ۔۔۔

” او کے اب میں جاؤں گا ۔۔۔ میری امی میراانتظار کر رہی ہوں گی ۔۔۔” شاہزیب چکھٹا ہو گیا

” کل آئیں گئے ؟

” ہاں آؤں گا “

اگلے روز وہ مجتبیٰ صاحب کے آفس گیا تھا ۔۔۔۔ ایک ہفتے میں کام سمجھ چکا تھا ۔۔۔۔ اور بہت محنت سے کام بھی کر رہا تھا ۔۔۔۔

آفس کے بعد وہ کچھ دیر کے لئے مرحا کے پاس ہاسپٹل جانے لگا تھا ۔۔۔

جب بھی وہ اس کے روم میں جاتا وہ دروازے پر نظریں جمائے اسکی منتظر ہوتی تھی ۔۔۔ اسے دیکھ کر جیسے اس کا مرجھایا ہوا چہرا کھل اٹھتا تھا

اس آدھے ایک گھنٹے میں ذیادہ تر وہی بولتی تھی شاہزیب صرف اسکی باتیں سنتا تھا ۔۔۔۔

کچھ دن بعد ایک نئ فرمائش تھی جو شاہزیب سے کر رہی تھی

” ہیلمنٹ بوائے مجھے اپنے ساتھ بائیک کر بیٹھا کر ون ویلنگ کرو نا ۔۔۔ “

” نو مرحا یہ خطرناک کے تم گر جاؤں گی ” دوا اس کے منہ ڈال کر وہ اسے پانی پلانے لگا ۔۔۔ دوا کھا کر وہ پھر سے اسکی منت کرنے لگی

” بس ایک بار ۔۔۔ آئی پرومس دوبارہ نہیں کہو گی ۔۔۔ مجھے ہواؤں میں اڑنا ہے ۔۔۔ آپ کے ساتھ “

” دیکھو تم چھوٹی سی ہو ۔۔۔۔ میں بائیک بہت تیز چلاتا ہوں ڈر کر چیخنے لگوں گی ۔۔۔ پھر تمہارے پاپا مجھے ڈانٹیں۔ گئے کہ میری بیٹی کو کیوں بیٹھایا “شاہزیب نے ٹالنا چاہا تھا

” نہیں کچھ نہیں کہیں گئے آئی پرومس میں بہت بہادر ہوں ۔۔۔ نہیں ڈروں گی ” وہ پر اعتماد تھی

” او کے میں کوشش کروں گا پرومس نہیں ہے ۔۔” شاہزیب جتنا اس سے دور رہنے کی کوشش کرتا تھا وہ اتنے ہی فاصلے کم کرتی رہتی تھی ۔۔۔۔ بائیک پر اسکے پیچھے بیٹھ کر اسکے کندھے پکڑنے کے بجائے

اسکی کمر سے ہاتھ آگے سے اسے کس کے پکڑ کر بلکل اسکے ساتھ چپک گئ تھی ۔۔۔۔۔

” میرو یوں نہیں بیٹھتے ۔۔۔ “

“لیکن مجھے یوں ہی بیٹھنا ہے اس سے ڈر کم لگے گا “

” ڈر لگ رہا ہے تو مت بیٹھو پھر “

” نہیں مجھے بیٹھنا ہے ۔۔۔ بس آپ چلائیں ۔۔۔ “

شاہزیب نے اس کے ہاتھ اپنے سینے سے ہٹا کر کندھے پر رکھے ۔۔۔۔

بائیک کو ون ویلنگ چلاتے ہوئے شاہزیب نے اسپیڈ

ہلکی ہی رکھی تھی ۔۔۔ کہ کہیں مرحا کو چوٹ نا لگ جائے ۔۔۔ کچھ دیر سڑکوں پر بائیک دوڑانے کے بعد وہ اسے واپس ہاسپٹل میں چھوڑ گیا تھا ۔۔۔۔

کچھ ہی دنوں میں مرحا کی طعبیت میں واضع بدلاؤ آنے لگا تھا اب وہ کھانا کھانے لگی تھی ۔۔۔۔ دوا بھی وقت پر لیتی تھی ۔۔۔۔

پہلے سے کافی بہتری کی طرف آ رہی تھی ۔۔۔ مجتبیٰ صاحب کی خوشی کی انتہا نا تھی ۔۔۔۔

بہت خوش ہو کر وہ شاہزیب کو بتا رہے تھے

” تم تو میرے لئے فرشتہ ثابت ہوئے ہو ۔۔۔ تمہاری وجہ سے میری بیٹی ٹھیک ہورہی ہے ۔۔۔۔ “

” شاہزیب اگر تم اسے میرے ساتھ امریکہ جانے کے لئے تیار کر لو تو وہاں اس کاٹرٹمنٹ بہت اچھا ہو سکتا ہے شاید وہ اس بیماری سے بہتر طریقے سے کر سکے ۔۔۔ اور ہمیشہ کے لئے ٹھیک ہو جائے ۔۔۔۔ “

” میں کوشش کروں گا کہ وہ مان جائے ۔۔۔۔ “

شاہزیب بھی یہی چاہتا تھا کہ وہ اپنا علاج کروانے امریکہ چلی جائے ۔۔۔۔ ایک اولاد اپنے والدین کے لئے کیااہمیت رکھتی ہے یہ وہ بھی جانتا ہے ۔۔

” میرو کیا میری ایک بات مانو گی ” مرحا کوسیب کھلاتے ہوئے شاہزیب نے اسے پوچھا تھا

” ہاں مانو گی بتائیں کیا کروں “

” تم اپنے پاپا کے ساتھ امریکہ چلی جاؤں وہاں کے ڈاکٹر اچھے ہیں دوائی بھی ذیادہ اچھی دیں گئے تم جلدی ٹھیک کو جاؤ۔ گی “

” اور آپ ؟ آپ تو مجھ سے دور ہو جائیں گئے ” مرحا اداس سی ہو کر بولی تھی

” میں یہاں تمہارا انتظار کروں گا “

” نہیں آپ میرے ساتھ وہاں جاؤں گئے تو میں چلی جاؤں گی ۔۔۔ “

” میرو میں نہیں جاسکتا ۔۔ میری امی نہیں مانیں گی “

” پھر میرو بھی نہیں جائے گی۔۔۔۔ ” سیب کا خاشہ اس نے پیچھے کیا تھا

” اور نہیں کھاؤں گی ” مرحا نے صاف انکار کیا تھا

شاہزیب نے ٹشو اسکی طرف بڑھایا تھا کہ وہ منہ صاف کر لے لیکن اس نے ٹشو کو ہاتھ نہیں لگا بلکہ اپنا منہ آگے کیا تھا

” آپ صاف کرو ” شاہزیب کو کبھی کبھی اسکی حرکتیں زچ سی کرنے لگتیں تھیں ۔۔۔۔

زندگی میں کبھی کسی کے اس قسم کے نخرے نہیں اٹھائے تھے۔۔۔ جیسے اس لڑکی کے اٹھا رہا تھا ۔۔۔ ٹشو سے اس کے منہ صاف کیا وہ مسکرانے لگی

” آپ بہت اچھے ہیں ۔۔۔۔ “

” تم بھی اچھی ہو سکتی ہو اگر میری بات مان لو “

شاہزیب جانے کے لئے کھڑا ہو گیا ۔۔

” کل آؤں گا تم سے ملنے “

اگلے روز اسکے کمرے میں جاتے ہوئے اسے شور کی آوازیں آ رہیں تھیں ۔۔۔ مرحا کے چیخنے کی شاہزیب اندر داخل ہوا تو وہ نرس سے انجکشن نہیں لگوا رہی تھی ۔۔۔ زور زور سے چلا رہی تھی ۔۔۔

” اسٹاف کس کے پکڑیں اسے اس لڑکی نے ناک میں دم کر کے رکھ دیا ہے ۔۔۔ نرس خود زچ سی ہو چکی تھی ۔۔۔

” کہا نا نہیں لگواں گی ۔۔۔ اگر میرے پاس بھی کوئی آیاتو دانت سے کاٹ لوں گی ” مرحا نے دھمکی دی تھی

” میں اسے نہیں پکڑو گی کل بھی اس نے مجھے دانت کاٹے ہیں” ایک جونئیر نرس نے بتایا

“کیا ہو رہا ہے یہ سب ۔۔۔ میرو چلو انجکشن لگواں ۔۔۔ ” شاہزیب نے سخت لہجے سے اسے کہا

” نہیں یہ سب گندے بچے ہیں میرو کو انجکشن نہیں لگوانا ہے بہت درد ہوتا ہے ” مرحا نے صاف انکار کیا تھا ۔۔۔

شاہزیب اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا

” میرو انجیکشن نہیں لگوائے گی ۔۔۔۔” وہ پھر سے انکار کرنے لگی

“اگر انجیکشن نہیں لگواں گی تو میں کل سے تمہیں ملنے نہیں آؤں گا ۔۔سمجھی کیا پریشان کر کے رکھا ہے تم نے سب کو ۔۔۔۔ چھوٹی بچی نہیں ہو تم ۔۔۔ ہر وقت ایک ادھم مچائے رکھتی ہو ۔۔۔ چلو بیٹھو ادھر سسٹر انجکشن لگائیں اسے دیکھتا ہوں میں کیسے نہیں لگواتی ہے یہ ” شاہزیب کے ڈانٹ دینے پر وہ سہم سی گئ تھی ۔۔ چپ چاپ انجیکشن بھی لگوانے لگی ۔۔۔۔ لیکن جیسے ہی نرس نے انجیکشن اس کے بازو پر لگانا شروع کیا آنکھیں بند کیے وہ شاہزیب کے ساتھ لگ گئ تھی ۔۔۔ سی کی آواز کے علاؤہ وہ مزید نہیں چیخی تھی ۔۔۔۔ نرس انجیکشن لگا کر جا چکی تھی ۔۔۔۔ شاہزیب نے اسے خود سے پیچھے کیا ۔۔

” دیکھوں میرو تم بچی نہیں ہو ۔۔ اب بڑی ہو چکی ہو اس لئے ۔۔۔ یہ بچکانہ حرکتیں مت کیا کرو ۔۔۔ بار بار میرے ساتھ مت لگا کرو ۔۔۔ مجھے اچھا نہیں لگتا ۔۔۔ ” شاہزیب کا اس کا بے دھڑک ساتھ لگ جانا برا لگتا تھا ۔۔۔ وہ اگر ان نزاکتوں کو نہیں بھی سمجھتی تھی تو سمجھتا تھا

” لیکن مجھے تو اچھا لگتا ہے ۔۔۔ ادھر۔۔ ادھر بڑا سکون سا ملتا ہے جب آپ میرے پاس ہوتے ہیں ” مرحا نے دل کے مقام پر ہاتھ رکھ کر مسکرا کر کہا ۔۔۔

” لیکن مجھے برا لگتا ہے ۔۔۔ بہت برا ۔۔۔۔ ادھر یہاں ۔۔۔ ” شاہزیب نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا

” دیکھوں میری بات غور سے سنو ۔۔۔۔ تم اچھی لڑکی ہو ۔۔۔۔ ” شاہزیب اسے سمجھانا چاہتا تھا لیکن وہ کہاں کچھ سمجھنے کے موڈ میں تھی

” تو پھر شادی کر لیں نا ۔۔۔ جب اچھی لڑکی ہوں تو پھر مجھ دور کیوں رہتے ہیں “

” شادی نہیں کر سکتا ہوں “

” کیوں “

” اس لئے کہ مجھے ایک فیری ڈول پسند ہے ۔۔۔ “

” کیا بہت پیاری ہے وہ ” وہ افسردہ سی ہو کر بولی تھی

” ہاں بہت پیاری ہے “

” مجھ سے ملائیں گئے اسے ” مرحا نے بامشکل یہ پوچھا تھا

” تم ملو گی ؟

” ہاں “

” ٹھیک ہے میں تمہیں بہت جلد اس سے ملواں گا ۔۔۔ “

” اگر وہ مجھے اچھی نہیں لگی تو آپ اس سے شادی مت کرنا مجھ سے کر لینا ” ایک نئ امید مرحا کی آنکھوں میں کافی تھی

” وہ تمہیں بہت اچھی لگے گی کیونکہ وہ مجھے بہت اچھی لگتی ہے ۔۔۔۔ تم اس سے بھی دوست بنا لینا میرو ۔۔۔۔ ” میرو نے کوئی جواب نہیں دیا تھا اگلے روز پہلی بار علاج کے دروان اسکی طعبت بگڑ گئ تھی ۔۔۔ کہ مجتبیٰ صاحب کو آفس چھوڑ کر ہاسپٹل آنا پڑا ۔۔۔۔ لیکن وہ سنبھل نہیں پارہی تھی بار بار شاہزیب کو پکار رہی تھی ۔۔۔ مجتبیٰ صاحب نے کال کر کے شاہزیب اب کو ہاسپٹل بلایا تھا۔۔۔۔

جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوا مرحا رونے لگ گئ تھی ۔۔۔۔

شاہزیب اسکے بیڈ پر بیٹھا تو وہ اسکے گلے لگ گئ

” پہلے آپ بتائیں مجھ سے شادی کریں گئے نا ۔۔۔۔ بولیں “

” ہاں ضرور کروں گا ۔۔۔۔۔ تم سے شادی ۔۔۔ لیکن پہلے تم میری بات مانو گی ۔۔۔۔ ” ۔۔۔شاہزیب نے اسے خود سے پیچھے کیا تھا ۔۔۔۔ مجتبیٰ صاحب بھی دیکھ کر کچھ متذبذب ہوئے تھے جانتے تھے کہ شاہزیب شادی شدہ ہے دو بچے ہیں اس کے ۔۔۔ اور بیٹی کی بڑھتی ہوئی دیوانگی سے کچھ خوفزدہ بھی ہوئے تھے ۔۔۔۔

اگلے روز شاہزیب انکے آفس کے روم میں بیٹھا تھا

” مجتبیٰ صاحب آپ جانتے ہیں کہ میں کبھی بھی مرحا سے شادی نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔ “

” ہاں میں جانتا ہوں ۔۔۔۔ بس ایک بار وہ

میرے ساتھ امریکہ جانے کے لیے تیار ہو جائے اس کا علاج ہو جائے وہ ٹھیک ہو جائے تو میں خود اسے سمجھا دوں گا ۔۔۔ تم فی الحال اسکی ہر بات پر ہامی بھرتے جاؤں ۔۔۔۔ میں تمہارا احسان مند رہوں گا ۔۔۔۔۔ ” ہر بار وہ مجتبی کے آنسوں کے سامنے بے بس سا ہو جاتا تھا

شاہزیب خاموش سا ہو گیا تھا ۔۔۔۔ نیناں کو بھی اس سے ملوا چکا تھا ۔۔۔ اور حقیقت سے آشنا بھی کر چکا تھا

لیکن مرحا نے نیناں کو دیکھ کر جو نا گواری دیکھائی تھی سمجھ گیا تھا کہ وہ نیناں کو پسند نہیں کرتی اور نا ہی نیناں اس سے کاپریٹ کرنے کو تیار ہو گی ۔۔۔۔۔ اسکی کوشش یہی تھی کہ مرحا وہاں سے امریکہ چلی جائے ۔۔۔۔ تا کہ اسکی ذمہ داری بھی ختم ہو ۔۔۔۔

********…….

شاہزیب نے اپنی ایک ویڈیو وائرل کی جس میں اپنے مداحوں کو یہ بتایا کہ وہ ہیلمنٹ بوائے ہے جو اسکے نام پر تماشہ دیکھا رہا تھا وہ فیک ہے اور اس بار وہ خود اسٹیج پر آ کر پرفوم کرے گا ۔۔۔

اس بار اس پر سٹا لگانے والے اسکے اپنے دوست تھے ۔۔۔۔۔

مرحا ضدکر کے اس کاشو دیکھنے ہال میں پہنچی تھی ۔۔۔۔۔۔ پہلی پرفومس پر لوگوں کی تالیوں سے پتہ لگ چکا تھا کہ ہیلمنٹ بوائے واپس آ چکا ہے ۔۔۔۔

اور محفل لوٹ چکا ہے ۔۔۔ قیوم صابر ک تواسے دیکھ کر منہ کھلے کا کھلا رہ گیاتھا۔۔۔۔

کڑروں روپے اس کے نام پر سٹے میں لگے تھے اور جیت بھی اسی ملی تھی لیکن جیب قیوم صابر کے بجائے کسی اور کی بھری تھی ۔۔۔۔

ہاتھ کے طوطے اڑنا کسے کہتے ہیں یہ قیوم صابر کو اب پتہ چلا تھا ۔۔۔۔ اس پر ستم تب ہوا جب شاہزیب نے ہیلمنٹ اتار کر اپنا چہرہ اپنے مداحوں کو دیکھایا تھا ۔۔۔۔۔

لوگ کی خوشی کی انتہا نا تھی پہلی بار اپنے ہیرو کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔ کئ منچلے اسے گود میں اٹھا کر اپنی خوشی کا اظہار کر رہے تھے ۔۔۔۔

ٹی وہ پر جب یہ خبر پھیلی تو سب سے پہلے اور صاحب کے ہوش اڑے تھے ۔۔۔

” ارے شازی ادھر دوا ذرا یہ دیکھ یہ اپنا شاہزیب لگ رہا ہے ۔۔۔۔ ” شازمہ کچن میں مصروف تھی

باہر آ کر ٹی پر بھائی کو دیکھ کر حیران ہوئی تھی ۔۔۔۔

خبر ایسی تھی کہ کوئی بھی انجام نہیں رہا تھا زمان صاحب بھی گھر پہنچے تو شاہزیب کو ہی گھور رہے تھے ۔۔۔۔ کھانا کھائے بنا ہی اپنے کمرے میں چلے گئے ۔۔۔۔

شاہزیب اس بار نیناں کو اپنا حمایتی بنا کر باپ کے سامنے لے جانا چاہتا تھا ۔۔۔ اس لئے پہلے کمرے میں آیا تھا ۔۔۔ نیناں کو بختیار صاحب سے خبر ملی تھی ۔۔۔۔

” نیناں ابو بلا رہے ہیں مجھے ۔۔۔ اٹھو اور میراساتھ دو ۔۔۔ تم انہیں قائل کرو گی توان جائیں گئے میری تو بات بھی نہیں سنیں گئے ۔۔۔۔ ” نیناں کے پاس بیٹھ کر اسکے ہاتھ تھام کر بڑی لگاوٹ سے وہ کہہ رہا تھا ۔۔۔

” شاہزیب کیا بات کو سمجھانے کا کوئی طریقہ نہیں ہے ۔۔۔ ضروری ہے کہ زہر کو جاننے کے لئے زہر چکھا جائے “

” تم کیوں فکرمند ہو رہی ہو ۔۔۔ کچھ نہیں ہو گا

مجھے بس دو تین بار کی بات ہے ۔۔۔۔ لوگ ڈر جائیں گئے۔۔۔۔ خوفزدہ ہوں گئے تو خود با خود پیچھے ہٹ جائیں گئے ۔۔۔۔مجھے کون سا یہ سب زندگی بھر کرنا ہے ۔۔۔ ” شاہزیب کی بات سے اب وہ واقف تھی ۔۔۔ اس لئے اس کاساتھ دینے کو تیار تھی ۔۔۔ اس کے ساتھ وہ زمان صاحب کے کمرے میں گئ تھی