No One Wheeling (Season 2) by Umme Hani NovelR50410 No One Wheeling Episode 6
Rate this Novel
No One Wheeling Episode 6
No One Wheeling by Umme Hani
ہر ماہ خرم ایک ناول نمیرہ کو لا دیتا تھا ۔۔۔ کیونکہ ناول پڑھے بنا وہ سو نہیں سکتی تھی ۔۔۔ لیکن جب سے برریرا انکی زندگی میں آئی تھی ۔۔۔ نمیرہ کی مصروفیات بڑھ گئیں تھیں ۔۔۔ لیکن اس کے باوجود ناول دیکھ کر اسکی آنکھیں چمک جاتی تھیں ۔۔۔۔ ناول دیکھ کر نمیرہ نے ناول کا نام زیر لب دہرایا
“پری ذات ۔۔۔۔ خرم یہ کیوں لے آئے ہو مجھے یہ نہیں پڑھنا “
“کیوں “
” اس ناول کا ہیرو کالا ہے بلکل خوبصورت نہیں ہے۔۔۔۔۔
” لیکن دل کا بہت خوبصورت ہے ۔۔۔ انسانیت سے بھرا دل ہے ۔۔۔۔ دوسروں کادرد سمجھنے والا ۔۔۔۔۔۔ وفادار ۔۔۔۔ محبت کے جذبے لبریز دل رکھنے والا ۔۔۔ میں بھی بلکل ایسا ہی ہوں نمی ۔۔۔ تم سے محبت بھی بہت کرتا ہوں تمہارے ناااازک سے احساسات کو بھی سمجھتا ہوں ۔۔۔۔ محبت کے جذبوں بھرا ہوا دل ہے میرا جو تمہارے لئے دھڑکتا ہے دھک دھک کرتے ہوئے میری محبت بھی تمہارے لئے بلکل ویسی ہے جیسی حیا کے لئے جہان سکندر کی تھی ” خرم کی باتوں پر نمیرہ اسے آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھی جو اسے حیران کرنے پر تلا ہوا تھا
” خرم ۔۔۔ تم ٹھیک تو ہو نا ۔۔۔۔ ” نمیرہ نے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا
” ہاں نمی میں بلکل ٹھیک ہوں ۔۔۔۔ ” اس نے نمیرہ کا ہاتھ اپنے چہرے سے پکڑ کر اپنے ہونٹوں پر لگا کہا
” مجھے لگتا ہے سیفی اور جمی نے ضرور تمہیں ڈبل پتی والا پان دھوکے سے کھلا دیا ہے اس لئے بہلی بہکی باتیں کر رہے ہو ۔۔۔ ” نمیرہ کا متحیر ہوئی تھی کیونکہ اس قسم کی کتابیں باتوں والا عشق خرم تو کبھی کر رہی نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔
نا ہی اسے ناول پڑھنے سے دلچسپی تھی ۔۔۔۔ وہ تو اکثر نمیرہ کو ناول پڑھتے دیکھ بھی لیتا تو یہ ضرور پوچھتا تھا
” نمی مجھے ایک بات تو بتاؤں یہ اااااتنییییی لمبی کہانی ہزار ہزار صفحات پر مشتمل تم پڑھ کیسے لیتی ہو ۔۔۔ مجھ سے دس سطروں کا میسج بھی پڑھا نہیں جاتا ۔۔۔۔ “
” تم پڑھ بھی نہیں سکتے ۔۔۔۔ نا ہی ایسی محبت کر سکتے ہو ۔۔۔ نا تعریف ۔۔۔۔ تم سے میں بلکل نا امید ہو چکی ہوں اس لئے تو ناول پڑھتی ہوں اور تصور میں ہیروئن کی جگہ خود کو دیکھتی ہوں اور ہیرو کی جگہ اسے ” نا جانے کس کاتصور نا چاہتے ہوئے نمیرہ کے ذہن کے پردے پر جگمگایا تھا۔۔۔۔
” اسے ” مطلب ۔۔۔۔ جہان سکندر ۔۔۔۔ یا ۔۔۔۔ سالار سکندر ۔۔۔۔۔۔ یا ۔۔۔۔ فارس ۔۔۔الا بلا نا جانے کون کون ” خرم کو جو مشہور نام یاد تھے اس نے بتائے
” ہاں ظاہر ہے ۔۔۔۔ جیسے وہ لاکھوں میں ایک ہیں میں کیا۔۔۔۔ پاکستان کی نوے فیصد لڑکیاں ایسے ہی شوہر چاہتی ہیں ۔۔۔ “
” اس لئے تو پری ذات لایا ہوں تمہارے لئے ۔۔۔۔ جو مجھ سے ذیادہ سانولا ہے اور نین نقش بھی بدھے سے ہیں ۔۔۔۔ تا کہ تمہارے تصور میں ۔۔۔۔ہمیشہ میں رہو
اور تمہیں میری قدر ہو کہ۔۔۔۔ اس سے اچھا تو خرم ہے ۔۔۔۔۔ صرف رنگ ہی سانولا ہے نا۔۔۔ باقی تو میں ٹھیک ٹھاک ہی ہوں اور بال تو ماشاءاللہ بلکل سلکی اور سیدھے ہیں میرے ۔۔۔۔” نمیرہ نے تیکھی نظر سے اسے گھورا تھا خرم ہسنے لگا پھر بیڈ پر لیٹی بریرا کر گود میں لے لیا ۔۔۔۔ اسے پیار کرنے لگا
” پاپا کی گڑیا ۔۔۔۔ بلکل اپنے پاپا جیسی ہے
۔۔۔۔ہے نا بریرہ ” نمی نے غصے سے ناول سائیڈ ٹیبل پر پٹخ دیا
******…….
بائیک کا اچانک سے ٹرک سے ٹکرانا ۔۔۔۔۔ شاہزیب اور عاصم کا گرنا ۔۔۔۔۔ انکے جسم سے ٹرک کا گزرنا۔۔۔۔۔ سب کے رونے آوازیں ۔۔۔۔
نیناں تڑپنا ۔۔۔ بلبلانا ۔۔۔۔۔ قبر پر عاتقہ بیگم کا انا۔۔۔لوگوں کا باتیں بنانا باسم کے مر جانے پر اسکے گھر والوں رونا مشکلات کاسامنا کرنا ۔۔۔ سب کچھ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے حقیقی طور پر ہو رہا تھا ہو نیند میں بھی وہ بے ربط سے جمعلے بڑبڑا رہا تھا
” مجھے کچھ نہیں ہوا ۔۔۔ میں ٹھیک ہوں امی ۔۔۔ آپ کیوں رو رہی ہیں ” لیکن ماں کی تڑپتی آہیں اور بے بسی سے بہتے آنسوں اسے بے چین کرنے لگے تھے
۔۔۔۔ دو سال بعد اس نے دوبارہ سے وہی خواب دیکھا تھا ۔۔۔۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھا تھا پسینے سے شرابور تھا تنفس بری طرح سے بگڑا ہوا تھا ۔۔۔۔۔ پھولے ہوئے سانس کے ساتھ اس نے کمرے کا جائزہ لیا ۔۔۔ اسکے برابر میں ہادی سو رہا تھا اور سعدی نیناں کے ساتھ لگ سویا ہوا تھا ۔۔۔۔ کمرے میں نائٹ بلب کی ہی روشنی تھی ۔۔۔۔ شاہزیب نے دونوں ہاتھوں سے اپناسر پکڑ لیا بے خوف خطر نظر آنے والا شاہزیب اس پل خوف کی اذیت کو با مشکل سہہ رہا تھا ۔۔۔۔ تکلیف کی شدت تھی جو اسکے وجود میں کسی خنجر کی طرح پیوست ہوتی ہوئے محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔ ذہن معاوف ہوا ۔۔۔
اسے لگا ۔۔۔ کہ پل پل مرنے کی تکلیف سے دو چار ہوا ہے ۔۔۔۔ ہر زخم جیسے ادھیڑ کر اتنی ٹھیس دے رہا تھا جیسے دو سال پہلے وہ اس خواب سے سہہ چکا تھا ۔۔۔۔
اپنا لحاف اتار کر وہ کمرے سے باہر نکل گیا آج بھی حلق سوکھ کر کانٹا بنا تھا اس نے فریج کھول کر پانی کی بوتل نکالی اور منہ لگا کر کئ گلاس پی لئے ۔۔۔۔
نیند آج بھی آنکھوں سے غائب تھی فجر کی آذانیں شروع ہوئیں تھیں ۔۔۔۔ دل پر اب بھی اتنا بوجھ محسوس ہوا تھا
وضو کر کے اس بار گھر کے بجائے مسجد نماز ادا کرنے چلا گیا ۔۔۔ اپاٹمنٹ کے اندر ہی ایک۔ چھوٹی مسجد بنی ہوئی تھی نماز کے بعد دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے دل بے قابو ہو تھا آنسوں بہنے لگے تھے ۔۔۔۔
یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ یہ خواب اسے اتنی اذیت میں کیوں ڈال دیتا ہے ۔۔۔۔
******۔۔۔۔۔۔۔
شازمہ تائی کی چرب زبانی سے پہلے ہی واقف تھی پھر خود بھی کسی سے کم نہیں تھی ۔۔۔ شازل بس کاغذ کا ہی شیر ثابت ہوا تھا ۔۔۔۔ شادی کے ایک سال بعد شازمہ امید سے ہوئی تھی ۔۔۔ شازل بہت خوش تھا جاوید صاحب اور زمرد بیگم بھی خوش تھے ۔۔۔۔ لیکن زمرد بیگم نے شازمہ اور شازل کو اپنے سامنے بیٹھا کر صاف کہہ دیا تھا
” دیکھ شازل تیرے سامنے کہے دیتی ہوں ۔۔۔۔ پھر نا کہنا کہ بیوی کا خیال نہیں رکھا میری اماں نے ۔۔۔۔ صفائی اور کپڑوں کے لئے میں ماسی کا انتظام کر دوں گی پر کچن کی زمہ داری شازی ہی سنبھالے گی ۔۔۔۔۔ ارے چار برتن دھونے سے اور چار لوگوں کی روٹی پکانے سے بچے کو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔ ایک تو نیا ہی دور چل پڑا ہے ۔۔۔ آج کل کی بچیوں نے اس خوشی کو بھی بیماری سمجھ کر اپنے سر پر سوار کر لیا ہے ۔۔۔۔ ارے جیسے پتہ چلتا کہ دن کچھ اوپر ہوئے ہیں بستر سنبھال کر بیٹھ جاتی ہیں ۔۔۔ جیسے کوئی لا علاج مرض لگ گیا ہو ۔۔۔۔۔ ایک ہم تھے ۔۔۔۔ سارے کام خود کرتے یہ بھرا سسرال تھا میرا ۔۔۔ تمہاری اماں کی شادی تو تب ہوئی جب ابا میاں ۔۔۔۔ نے اپنے بھائیوں سے حصہ لیکر الگ گھر لیا تھا ۔۔۔ اور آتے ہی زمان کے کان بھر کر مجھے الگ کروا دیا تھا ۔۔۔ کہ کہیں چار دن مجھے روٹی پکا کر دینی نا پڑے جائے ۔۔۔۔ لیکن میں نے تو سسر کے ساتھ ساتھ سسر کے بھائیوں بھابھیوں کے ساتھ بھی وقت گزارا ہے ۔۔۔ ارے چوبیس افراد کا کھانا بھی پکایا ہے اور کپڑے بھی دھوئے ہیں ۔۔۔۔
جبھی تو شازل کے آخری دنوں میں ایسا پاؤں پھسلا کہ شاز،ل کے بعد دوسری اولاد نصیب نا ہوئی ” زمرد بیگم نے آنسوں پونچتے ہوئے اپنی دکھ بھری داستاں بہو بیٹے کو سنائی تھی جسے شازمہ نے تو مارے بندھے ہی سنا تھا البتہ شازل کا دل ماں کے لئے پسپا ہؤا تھا
” ظلم ہے امی سیدھا سیدھا۔۔۔ ابا کو آواز اٹھانی چاہیے تھی ” شازل نے جذبات کی شدت سے کہا
” رہنے بھی تو میاں تمہارے ابا دنیا سے نرالے ہی ہیں ۔۔۔۔ ہما وقت ایک لفظ منہ میں الائچی کی طرح چباتے رہتے ہیں
” ۔۔۔۔تب بھی مجھی پر برسے ۔۔۔یعنی کے حد ہی ہوئی ہے۔۔۔ تم دھیان سے نہیں چل سکتی تھی ” ڈوپٹے کے پلو سے زمرد بیگم نے زبردستی سے نکلے ذرا سے آنسوں کو رگڑ کر صاف کیا تاکہ آنکھیں کچھ سرخی مائل لگنے لگیں ۔ دیکھ ے والے کو لگے کہ رو رو آنکھوں کی حالت بگڑی ہے ۔۔۔ اس سے پہلے شاز،ل کا دل ماں کی ممتا سے مزید جذبات کی رو میں بہتا شازمہ فورا سے اٹھ کر تائی اماں کے پاس بیٹھ گئ انہیں ساتھ لگا لیا
” ہائے تائی اماں بس اور کچھ مت بتائیں میرا دل درد سے پھٹ جائے گا اتنا سہہ ہے آپکی ننھی سے جان نے ۔۔۔۔ ” شازمہ نے ڈرامائی سارے انداز اسٹار پلس کے ساس بہو کے ڈراموں سے اپنائے تھے ۔۔۔ لیکن مقابل میں بھی زمرد بیگم تھیں ۔۔۔۔ سارے حربوں سے واقف تھیں ۔۔۔ پرانی کھلاڑی تھیں
” بس میری بچی تب سے گھٹنوں میں اسی گہری چوٹ لگی کہ اب تک رو رہی ہوں ۔۔۔ ورنہ ایک ہی ایک تو بہو ہے میری میں تو تجھے بستر سے پاؤں نا نیچے رکھنے دیتی ۔۔۔ ” ماں کی بیوی کے لئے محبت دیکھ کر شازل کا سینہ چوڑا ہوا تھا ۔۔۔۔ اپنی لمبی مونچھوں کے کنارے کو اس نے ہاتھ کی دو انگلیوں سے مروڑتے ہوئے جتانے والے انداز سے شازمہ کو دیکھا تھا کہ دیکھو میری جس ماں کی برائیاں تم روز مجھ سے کرتی ہو کتنی محبت کرتی ہیں تم سے ۔۔۔۔ شازمہ میاں کی ہر ادا سے واقف تھی ۔۔۔۔
” میں جانتی ہوں تائی اماں آپ کی محبت پر ذرا شک نہیں ہے کچن کا کام بھی کوئی کام ہے میں کر دیا کرو گی ۔۔۔۔ ” ہامی تو شازمہ بھر لی تھی نا بھی بھرتی تب بھی کرنا تو اسی نے تھا ۔۔۔ لیکن دل کو چین ایک پل نہیں آ رہا تھا ۔۔۔ اس لئے اگلے ہی روز جب ڈاکٹر پر چیک اپ کروانے گئ تو رو رو کر ڈاکٹر کے سامنے اپنی ساس کے ظلم کی دہائیاں دینے لگی ۔۔۔۔ کسی بھی طرح ڈاکٹر کو اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ شاز،ل کے سامنے یہ کہہ دے اسکی بیوی کو بیڈ ریسٹ کی سخت اور اشد ضرورت ہے ۔۔۔۔ ڈاکٹر کو شازمہ کی حالت زار سن کر ترس آ گیا تھا ۔۔۔ اس لئے شازل سے وہی کہا جو شازمہ نے پٹی پڑھائی تھی ۔۔۔۔ ۔۔۔۔
شازل نے بڑی سنجیدگی سے زمرد بیگم کو ڈاکٹر کی بات بتائی اور یہ بھی کہہ دیا کہ ماسی کو کھانے اور روٹی کے لئے بھی رکھ لیں ۔۔۔۔ زمرد بیگم بہنو کی چالاکی پر کلس کر رہ گئیں تھیں ۔۔۔۔
******……..
نیناں کا ہاتھ کافی بہتر ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔ لیکن نشان اب بھی باقی تھے ۔۔۔۔ اتوار کا دن ہی ایک ایسا دن ہوتا تھا کہ وہ پر سکون ہوتا تھا اس لئے ٹی وی لگائے ۔۔۔۔ چینل سرچ کر رہا تھا جب ایک اسپورٹ چینل پر آ کر ہاتھ رکا تھا
“کم بیک۔۔۔ کم بیک۔۔۔ ہیلمنٹ بوائے کم بیک ” شازہزیب جو ڈھلے اور آڑے انداز سے صوفے پر دراز تھا اور ٹانگیں سامنے ٹیبل پر پسارے بیٹھا تھا ۔۔۔۔ سیدھا ہو کر بیٹھا تھا کانوں کو اب بھی بے یقینی تھی ۔۔۔
لوگوں کا ہجوم ایسا تھا کہ شاہزیب کو گزرا وقت یاد آیا تھا ۔۔۔۔ جب وہ میدان میں قدم رکھتا تھا ایک شور سا ہوتا تھا پورے ہال نما میدان میں ہیلمٹ بوائے کے نعروں کی گونج ہر سوسنائی دیتی تھی ۔۔۔۔ ابھی وہ اپنے ٹرانس سے نکلا ہی نہیں تھا کہ قیوم صابر پر کیمرہ فوکس ہوا تھا ایک صحافی نے اس سے سوال و جواب کا سلسلہ شروع کیا تھا
” دو سال سے زائد عرصہ غائب رہنے کے بعد ۔۔۔۔ آپ کا ہیلمنٹ بوائے آج پھر سے جلوہ افروز ہونے جا رہا ہے ۔۔۔ کیا آپ بتانا پسند کریں گئے کہ وہ دو سال سے کیوں غائب تھے ۔۔۔ یہ وہ سوال ہے جو ان کے مداح دو سال سے پوچھ رہے ہیں لیکن آپ کی جانب سے مکمل خاموشی تھی پھر یہ دھماکہ خیز خبر کے ہیلمنٹ بوائے از آ کم بیک ؟ کیا ماجرہ ہے صابر صاحب ” صحافی کے پوچھے جانے والے سوال پر قیوم صابر ۔۔۔ کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی
” ایکچلی آپ سب کے دل عزیز ہیلمٹ بوائے کا ایکسڈنٹ ہو گیا تھا ٹانگ فیکچر ہو گئ تھی ۔۔۔۔ اس لئے زیر علاج تھا ۔۔۔۔ اور جس طرح سے آج تک آپ لوگوں سے اس نے اپنا چہرہ اور نام پوشیدہ رکھا یہ بات بھی راز رکھنا چاہتا تھا ۔۔۔۔ لیکن اب وہ ٹھیک ہو چکا ہے ۔۔۔۔ ابھی کچھ دیر میں اپنے جلوں سے سب کا دل جیتنے والا ہے ۔۔۔ ” صابر قیوم کے چہرے کی رونق بتا رہی تھی کہ سٹا بڑی رقم کا شاہزیب کے نام پر لگا چکا ہے لیکن پرفوم کسی اور سے کرایے گا ۔۔۔ دو پل تو شاہزیب کو صابر قیوم کی شاطرانہ سوچ پر حیرت ہوئی تھی کیسے اس نے چھپے چہرے اور نام پر کھیل شروع کیا تھا کیونکہ جب سے شازیب نے یہ سب کھیل تماشے چھوڑے تھے ۔۔۔۔ قیوم صابر کے دوسرے لڑکوں کو کوئی خاص رسپونس نہیں مل رہا تھا نتجہ یہ نکل رہا تھا کہ صابر قیوم کا نام ڈوبنے لگا تھا ۔۔۔۔
شاہزیب کی دلچسپی اب اس نقلی ہیلمٹ بوائے کو دیکھنے کے لئے آخری حد تک بڑھی تھی ۔۔۔۔۔ اس لڑکے نے کافی حد تک اسے کاپی کیا تھا میدان میں داخل ہونے کاوہی انداز تھا ۔۔۔۔ لیکن قد شاہزیب سے ذرا کم تھا ایک دو سال بعد دیکھنے والے مداحوں نے شاید نوٹس نہیں لیا تھا۔ ۔۔۔۔۔
بس بیلمنٹ بوائے کم بیک کے نعرے فضا میں بلند تھے۔۔۔۔۔
وہ لڑکا ہیوئ بائیک پر بیٹھا ۔۔۔ اور تیز رفتار سے بائیک چلانے لگا ۔۔۔۔ لیکن اسکے چلانے میں وہ بات نہیں تھی نا ہی وہ پرفومس تھی ۔۔۔ اپنی طرف سے وہ کوشش پوری کر رہا تھا لیکن جس جنون کا اظہار شاہزیب کرتا تھا لوگ آنکھ جھپکنا بھول جاتے تھے ۔۔۔۔ پھر جس جس طرح سے وہ تیزی سے ون ویلنگ پر وہ اپنے ہاتھ پاؤں کی گردش کو بدلتا تھا وہ لڑکا ویسے نہیں کر پا رہا تھا لوگوں کا جوش ولولہ جیسے دم توڑتا جا رہا تھا یا وہ پرفومس جو لوگ دیکھنے کے مشتاق تھے وہ لڑکا دیکھانے سے قاصر تھا ۔۔۔۔ آخر میں تالیوں کی گونج میں وہ جان نہیں تھی نا ہی وہ شور اور جوش و ولولہ تھا ۔۔۔۔
صابر قیوم نے وجہ یہ بتائی کہ ٹانگ میں فیکچر ہونے باعث شاید وہ اپنے مداحوں کا دل جیتنے میں کامیاب نہیں ہوا ۔۔۔۔ لیکن اگلی پرفومس جاندار ہو گی ۔۔۔۔ ” ایک جھوٹی تسلی تھی جو صابر قیوم لوگوں کو دے رہا تھا شاہزیب دیکھ کر مسکرایہ
” کب تک چلاؤ گئے سیٹھ صاحب ۔۔۔۔ اپنی چھوٹی کہانی ۔۔۔۔ میں نے کہا تھا ۔۔۔۔ مجھ سے رابطہ مت کرنا ۔۔۔۔لیکن تم نے میرے نام پر کاروبار شروع کر دیا
اب دیکھوں قیوم صابر میں کرتا کیا ہوں تمہارے ساتھ ۔۔۔ اس ہیلمنٹ بوائے کی اصلیت تو میں سب کے سامنے لاؤ گا ۔۔۔۔۔شاہزیب ایک مصصم ارادہ باندھ چکا تھا رات کو چائے کے ہوٹل میں سب دوست اکھڑے ہوئے تھے اب انکی بیٹھک روز کے بجائے ہفتے میں دو تین دن ہی ہوتی تھی ۔۔۔۔۔۔ سب اپنی زندگی میں مصروف ہو چکی تھے ۔۔۔۔ اب بھی شاہزیب
سعدی اور ہادی کے لئے پمپر اور دودھ کا ڈبہ خرید کر وہاں پہنچا تھا باسم سیفی اور جمی پہلے سے ہی موجود محو گفتگوں تھے ۔۔۔۔
شاہزیب نے بیزاری سے ہاتھ میں پکڑا شوہر ٹیبل پر رکھا اور بیٹھ گیا ۔۔۔ شوپر سے خریدی ہوئی چیزیں صاف نظر۔آ رہیں تھیں ۔۔۔شوپر دیکھ کر جمی کو کی آنکھوں میں شرارت ناچی تھی ۔۔۔
” شاہو کل ایف بی پر بڑے مزے کی پوسٹ پڑھی تھی میں نے ۔۔۔۔ تجھ پر ایک دم فٹ ہوتی ہے ؟ پتہ 20k لائیک ملے تھے اس پوسٹ کو اور کمنٹ تو مت ہی پوچھو کتنے تھے ۔۔۔۔ “
” اچھا کیا پوسٹ تھی ” شاہزیب کو ذرا تشویش سی ہوئی۔۔۔
” لکھا تھا نا کام عاشق عشق میں نا کامی کے بعد ۔۔۔۔ دیوانے بنتے ہیں شاعر بننے ہیں ادیب بنتے ہیں ۔۔۔ درد بھری تحریریں لکھتے ہیں ۔۔۔ گانے لکھتے ہیں شہرت کماتے ہیں ۔۔۔۔ پیسہ کماتے ہیں ۔۔۔۔ “
” تو ؟’شاہزیب نے استفہامیہ کندھے اچکائے تھے
“میں تو نا کام عاشق نہیں ہوں ۔۔۔ یہ پوسٹ مجھ پر فٹ نہیں ہوتی سیفی پر ہوتی ہے ۔۔۔۔ شائستہ کے عشق میں نا کامی اسے ہی ہوئی تھی ۔۔۔ ” شاہزیب نے سیفی کو بیچ میں گھسیٹا تھا
” ابے کون سا عشق وہ تو یونہی شاید اچھی لگ گئ تھی مجھے ۔۔۔ اچھا سچا عشق ہوتا تو آج غالب کے ساتھ میری شاعری بھی میٹرک کے نصاب کا حصہ ہوتی ” سیفی کون سا کم تھا پوری بات کو انجوائے کرتا ہوا بولا باسم انکی نوک جھوک پر مسکرانے لگا
” شاہو بات تو پوری سن نا یار ۔۔۔ ابھی تیرا ذکر آنا ہے ۔۔۔۔”
” اچھا چلو پھوٹو منہ سے ” شاہزیب موبائل بھی سائیڈ پر رکھ دیا اور جمی کی طرف متوجہ ہو گیا
” ہاں تو میں بتا رہا تھا کہ نا کام عاشق کا۔۔۔ جو کے اپنا شاہو تو بلکل نہیں ہے ۔۔ اب بات کرتے ہیں کامیاب عاشق کی ۔۔۔۔ جس میں ہمارا شاہو بھی شامل ہے۔۔۔ ہاں تو بات کچھ یوں ہے کہ ۔۔۔۔کامیاب عاشق صرف اور صرف شوہر بنتے ہیں ۔۔۔۔ جنہیں شادی کے بعد شیو کروانے کی بھی فرصت نہیں ملتی ۔۔۔ گھر سے بنا ناشتے کے نکلتے ہیں واپس آ کر بیوی کے ساتھ برتن دھوتے ہیں ۔۔۔ کپڑے استری کرتے ہیں ۔۔۔۔۔
بچوں کو فیڈر پلاتے ہیں اور محبوبہ بیوی فون پر رس بھری باتوں کے بجائے یہ کہتی ہے ۔۔۔ شاہو جی سعدی اور ہادی کے پمپر اور دودھ کا ڈبہ لیتے آنا ” جمی کی بات پر باسم سمیت تینوں کی ہنسی بے اختیار تھی شاہزیب ہی خشمگیں نظروں سے تینوں کو دیکھ کر کھا جانے والے انداز سے گھورا تھا
لیکن بات تو کسی حد تک درست بھی تھی اس لئے تپ کچھ زیادہ چڑھ رہی تھی ۔۔۔۔ اسی اثنا میں خرم بھی وہاں پہنچ گیا تھا اس نے ایک ایسا ہی شوہر ٹیبل پر رکھا رکھا تھا
” سوری یار آج کچھ دیر ہو گئ ۔۔۔۔ وہ بریرہ کی چیزیں لینے تھیں۔ ” خرم نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا
” یہ جو قصہ تم لوگوں نے نمک مرچ کے ساتھ مجھے سنایا ہے یہ عاشقوں کا ہر گز نہیں ہے ہر مرد شادی کے بعد یہیں کرتا نظر آتا ہے ۔۔۔۔ چاہے شادی لو میرج ہو یا ارینج میرج شاہزیب نے خرم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جتایا ۔۔۔۔
” ارے یار میں نے تو صرف ایک پوسٹ سنائی تھی تم خوامخواہ دل ہے لے رہے ہو ۔۔۔ ” جمی باز آنے کے موڈ میں نہیں تھا ۔۔۔
” اب یہ بک بک بند کرو میری بات غور سے سنو مجھے تم لوگوں سے ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔ ” شاہزیب اب اصل مقصد کی طرف آیا تھا
” اور سنجیدہ بھی دکھ رہا تھا ۔۔۔
اس لئے سب ہی سنجیدہ ہو گئے تھے شاہزیب نے صابر قیوم سے ہونے والی پہلی ملاقات سے لیکر آخری ملاقات تک کی ساری بات انہیں بتا دی تھی ۔۔۔۔ خرم تو پہلے ہی جانتا تھا ۔۔۔۔ لیکن باقی تینوں ہونقوں کی طرح اسے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔ باسم کے لئے یہ لڑکا ایک نا بوجھنے والی پہیلی تھا ۔۔۔ ہیلمنٹ بوائے کی شہرت اس نے۔ بھی سن رکھی تھی اسکے مداحوں کی فہرست کافی لمبی تھی لیکن وہ شاہزیب ہو سکتا ہے یہ وہ نہیں جانتا تھا لیکن اس کا آگ کا کھیل تو باسم نے بھی ٹی وی پر دیکھا تھا ۔۔۔۔۔ سیفی اور جمی کی تو بولتی بند تھی ۔۔۔۔۔
” ابے یہ کیا کہانی سنا رہا ہے تو ہمہیں ۔۔۔۔ ” جمی نے کچھ ہوش سنبھالتے ہوئے کہا
” میں وہ سب چھوڑ چکا ہوں اب ۔۔۔ اس لئے اسبات کی اہمیت نہیں رہی ہے میرے نزدیک اب اصل بات سنو ۔۔۔ جو مسلہ مجھے اب درپیش ہے ۔۔۔
” اب کیا ہے ” سیفی نے پوچھا شاہزیب نے اپنے خواب کا ذکر بھی ان سے کر دیا ۔۔۔۔ وہ بھی سب نے خاموشی سے سنا تھا ۔۔۔۔
” جب جب یہ خواب دیکھتا ہوں لگتا ہے ہر بار موت کا مزہ چکھ رہا ہوں ۔۔۔۔۔ مجھے ہر اذیت اور تکلیف خود پر محسوس ہوتی ہے ۔۔۔ سب کے آنسوں مجھے چین نہیں لینے دیتے ۔۔۔ ” شاہزیب کی آنکھوں میں پہلی بار سب نے نمی دیکھی تھی ۔۔۔۔ ورنہ ہر اذیت کو اس نے ہنس کر سہا تھا ۔۔۔۔
” شاہزیب تم اب کیا چاہتے ہو ۔۔۔ ” سوال باسم نے کیا تھا
” میں ایک مہم چلانا چاہتا ہوں “
” کیسی مہم ” خرم نے سنجیدگی سے پوچھا
” ون ویلنگ کے خلاف ۔۔۔۔ جو سب کچھ میں نے خواب دیکھا میں اب تک اسکی اذیت سے نکل نہیں پا رہا ہوں ابو امی نمی سب کے آنسوں اور تڑپنا میری روح تک کو زخمی کر دیتے ہیں۔۔۔ اور ۔۔۔ اور جو نوجوان سچ میں ویلنگ کی وجہ سے حادثے کا شکار ہوتے ہیں ۔۔۔۔ سوچوں یار ان کے گھر پر کیا بیتی ہو گی۔۔۔۔ایک قیامت خیز منظر ہی ہو گا ۔۔۔۔ انکے والدیں کیسے پل پل مرتے ہوں گئے ۔۔۔۔۔ کیسی قیامت گزرتی ہو گی اس شخص پر جو بڑھاپے میں جوان بیٹے کے جنازے کو کندھا دیتا ہو گا موت سے پہلے مر جانے کے مترادف ہے ۔۔۔ افف۔۔۔۔ ” ہزار ضبط کے باوجود شاہزیب اپنے بہنے والے آنسوں پر بے اختیار تھا ۔۔۔۔ سب کی آنکھوں سے آنسوں جاری تھے ۔۔۔
” شاہزیب میں تمہارے ساتھ ہوں ۔۔۔۔ ٫” سب سے پہلے باسم نے شاہزیب کے دونوں ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر کہا تھا ۔۔۔
” میں بھی ” خرم نے بھی۔ باسم کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تھا سیفی اور جمی نے پہلے ایک دوسرے کو دیکھا پھر دونوں نے بھی خرم کے ہاتھ ہاتھ رکھ دیئے “
” سوچ لو تم لوگ یہ رستہ آسان نہیں ہے سب سے پہلا ختلاف تو ہمارے گھر والے کریں گئے ۔۔۔ اور جن کالی بھیڑوں کو میں بے نقاب کرنا چاہتا ہوں وہ سب سے پہلے رشوت کی میٹھائی پولس والوں کے گھروں میں پہنچاتے ہیں ۔۔۔۔
اس لئے ہو سکتا ہے پولیس اسٹیشن کی ہوا بھی کھانی پڑے اور ڈنڈے بھی ۔۔۔۔ میں تو قدم بڑھانے کا حتمی فیصلہ کر چکا ہوں ۔۔۔ اس لئے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔۔۔ لیکن یہ ایک ٹیم ورک ہے ۔۔۔ مجھے تم لوگوں مدد تو درکار ہے لیکن
تم لوگ جانتے ہو شاہوں اصول اور قوانین خود بناتا ہے ۔۔۔۔ اور کسی کو بھی پیچھے ہٹنے کی اجازت نہیں ہے ۔۔۔ اس لئے جو چاہے وہ ابھی سے ہاتھ ہٹا سکتا ہے ۔۔۔۔ مجھے بلکل برا نہیں لگے گا لیکن اگر میرے ہم قدم چلتے ہوئے بیچ رہا می کوئی پیچھے ہٹا تو تو سب سے پہلا تھپڑ مجھ سے کھائے گا ۔۔۔۔ “
شاہزیب کی بات پر سب ہی خاموش ہو گئے تھے گہری سوچ میں پڑ گئے تھے ۔۔۔۔۔ کام مشکل تھا ۔۔۔۔
مقابل میں پسے والے اور اثر و رسوخ والے لوگ تھے
جن کی چنگل میں پھنس جانے والے کبھی کبھار موت کے گھاٹ بھی اتر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔
******………
نیناں کو شاہزیب نے چند دن پہلے ہی پانچ ہزار دیے تھے ۔۔۔ تا کہ وہ عاتقہ بیگم کے ساتھ بازار جا کر اپنے کپڑوں کی خریداری کر لے ۔۔۔ اور پانچ ہزار ماں کے ہاتھ میں بھی رکھے تھے تا کہ وہ بھی کپڑے خرید لیں ۔۔۔۔
ہادی اور سعدی کو نمیرہ کے حوالے کر کے دونوں ساس بہو شاپنگ کے لئے نکلی تھیں نیناں۔ کے لئے یہ پہلا پہلا تجربہ تھا ۔۔۔ اب تک کی زندگی میں کبھی رکشے کا سفر نہیں کیا تھا بڑی سے چادر سر پر اوڑھے وہ عاتقہ بیگم کے ساتھ اپاٹمنٹ سے نکلی تھی سامنے سے آنے والا رکشہ عاتقہ بیگم کے ہاتھ کے اشارے پر رک گیا
” جی بہن کہاں جانا ہے “
” حیدری کی مین مارکیٹ میں اتار دینا ” عاتقہ بیگم نے مطلوبہ جگہ بتائی
” ڈھائی سو روپے لوں گا “
” ڈھائی سو کس بات کا ایک سو تیس روپے میں ہر بار میں جاتی رہی ہوں ۔۔۔۔ بس اسے ذیادہ نہیں دوں گی ۔۔۔ ” عاتقہ بیگم نے دو ٹوک انداز سے کہا
” بہن جی پیڑول کی قیمتوں میں بھی تو پہلے سے اضافہ ہوا ہے ۔۔۔۔ اب کون ایک سو تیس میں لیکر جائے گا ۔۔۔ ” یہ کہہ کر رکشے والا آگے بڑھ گیا
” کمبخت سمجھتے ہیں کہ پسہ آسمان سے اترتا ہے منہ پھاڑے کرایہ مانگتے ہیں ۔۔۔ چلو کچھ آگے چلتے ہیں ۔۔۔ رکشے تو ایک سے ایک مل جائیں گئے ۔۔۔ پندرہ منٹ کے اندر کوئی چار پانچ رکشے والوں سے بحث کرنے پر بھی ایک سو تیس میں کوئی لے جانے تیار نہیں تھا پھر تھا بھی دوپہر کاوقت ۔۔۔ نیناں نے چلچلاتی دھوپ سیدھی چہرے اور آنکھوں پر پڑ رہی تھی ۔۔۔ آنکھیں کھولنا مشکل۔ تھا اس پر گرمی اور پسینہ الگ ۔۔۔
” نیناں یہ لوگ تو مان۔ نہیں رہے اگر تم کہو تو چنچی میں چلتے ہیں ۔۔۔ بیس روپے میں سیدھا حیدری مارکیٹ اتارے گا ۔۔۔ ” عاتقہ بیگم تو اسے اس وقت پیدل بھی کہتیں تو وہ چل پڑتی تیز دھوپ آنکھوں پر پڑنے سے آنکھوں میں پانی سا آنے لگا تھا ۔۔۔ اس لئے ہامی پھر لی ۔۔۔۔ کافی چلنے کے بعد ایک چنچی بھی نظر آ گئ ۔۔۔ جہاں ان دونوں کے علاؤہ اور بھی بہت سی خواتین بیٹھی تھیں اور سامنے کی نشت پر مرد حضرات ۔۔۔ کی تیز نظریں ننیناں پر تھیں ۔۔۔۔ وہ چادر کو درست کرتے ہوئے باہر دیکھنے لگی ۔۔۔۔ شاہزیب سے ملنے سے پہلے اس نے کبھی ڈوپٹہ تک گلے میں نہیں لیا تھا اور اب چادر میں لپٹی ہی باہر نکلتی تھی ۔۔۔۔ عاتقہ بیگم کی جب سامنے بیٹے لڑکوں پر پڑی تو انہیں گھورنے لگیں
” تم لوگوں کے گھر کیا ماں بہنیں نہیں ہیں جو یوں منہ اٹھائے میری بچی کو دیکھ رہے ہو چلو منہ ادھر کرو اپنا ۔۔۔۔ شرم حیا بیچ کھائی۔ بد بختوں ۔ نے
ایک ہمارازمانہ تھا ۔۔۔ ایک گھر کی عزت سارے شہر کی عزت مانی جاتی تھی مجال ہے کوئی نظر اٹھا بھی دیکھ لے ۔۔۔ ” عاتقہ بیگم کو اپنا دور یاد آیا تھا
” ٹھیک کہہ رہی ہو بہن آجکل کے لڑکوں میں تو غیرت نام کی نہیں ہے ” عاتقہ بیگم کے ساتھ بیٹھی خاتون نے بھی تائید کی
” رہنے بھی دو بہن اب میرا بیٹے بھی تو ہیں مجال ہے کہ کسی لڑکی کی طرف آنکھ بھی اٹھا کے دیکھ لیں ۔۔۔ ایسی شرم و حیا اور غیرت مندی ہے دونوں میں کے پوچھے ہی مت ۔۔۔۔ اور فرمابرادری تو ایسی کہ ماں بات کے سامنے سر جھکائے جی جی کرتے ہیں “
” ماشاءاللہ ماشاءاللہ۔۔۔ یہ توآپ کی اچھی تربیت کا نتجہ ہو گا بہن ” وہ خاتوں رشک سے عاتقہ بیگم کو دیکھ کر بولیں
“یہ تو ہے “
” یہ بیٹی ہے آپ کی ؟ بڑی پیاری ہے ۔۔ شادی ہو گئ اسکی ” خاتون۔ نے نیناں کو دیکھ کر پوچھا جو پہلی نظر میں انہیں اچھی لگی تھی
” بہو ہے ۔میری ۔۔ خیر سے دو پوتے ہیں میرے وہ بھی جڑوا “
” بڑی پیاری بہو مل گئ آپ کو ۔۔۔ خاموش اور کم گو “
” ہاں یہ تو ہے ۔۔۔ ارے بڑے امیر باپ کی بیٹی ہے میری نیناں ۔۔۔ بڑے سے بنگلے سے آئی ہے ۔۔۔ اس لئے میں نے سوچا حیدری میں برینڈ کی سیل لگی ہے اپنی بہو کو سارے برینڈ کے جوڑے ہی دلواں گی۔۔۔عام کپڑوں پہنے کی عادت جو نہیں ہے اسے ۔۔۔ ” بڑی فرحت محبت کے جذبات سے عاتقہ بیگم نے بتایا تھا
” اتنے امیر لوگوں کی بیٹی اور چنچی میں سفر ؟ “وہ عورت حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ہوئی تھی ۔۔۔۔ نیناں نے عاتقہ بیگم کا ہاتھ بھی پکڑ کر دبایا کہ وہ چپ رہی۔ سب کو بتانے کی ضرورت ہی کیا ہے لیکن وہ اپنے دھن میں بولے جا رہی۔ تھیں ۔
” ہاں ۔۔۔ میں تو بتانا ہی بھول گئ ۔۔میرے بیٹے کی لو میرج ہوئی ہے ۔۔۔۔ ابا تو اس کے مانتے ہی نہیں تھے ۔۔۔۔ اور میرے میاں نے صاف انکار کر دیا تھا ۔۔۔
لیکن میرا بیٹا پیچھے نہیں ہٹا ۔پولیس تک کے ڈنڈے بھی کروائے تھے اسے نیناں کے ابا نے ۔۔۔ برا سہا ہے اس نے اور نیناں نے تو خودکشی تک کر لی تھی میرے شاہزیب سے شادی کرنے کے لئے ” عاتقہ بیگم کی الف لیلی کی داستان شروع ہو چکی تھی ۔۔۔ نیناں اب باقائدہ انکے کام میں انہیں پکارنے لگی تھی ۔۔۔ سامنے بیٹھے لڑکے جو کچھ دیر پہلے اپنی نظروں کی بے باکی پر اچھا خاصا لیکچر سن کر خفت سے نظریں جھکائے بیٹھے تھے ۔۔۔ اب بڑے انہماک سے شاہزیب اور نیناں کی محبت بھری داستان سن رہے تھے اور نیناں سبکی اور خفت کے مارے سرخ ہو رہی تھی
