267.9K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

No One Wheeling Episode 11

No One Wheeling by Umme Hani

رات کے بارہ بجے تک شاہزیب یہ سوچتا رہا کہ نیناں کو فون کرے یا نا کرے ۔۔۔۔ پہلے تو شوہر والی انا آڑے آ گئ کہ جب قصوروار میں نہیں تو بیوی کے سامنے کیوں جھکوں ۔۔۔۔

لیکن جب باسم کی بات کی طرف توجہ جاتی تو جان سی نکلنے لگتی تھی ۔۔۔ بے چینی بڑھنے لگتی تھی ۔۔۔۔۔ دل کا یہ عالم تھا کہ ابھی اسے لینے پہنچ جائے ۔۔۔۔

کمرے کے چکر کاٹ کاٹ کے تھک کر بیڈ پر بیٹھ گیا

” وہ بیوی ہے میری۔۔۔ مجھے بھلا گھبرانے کی ضرورت کیا ہے ۔۔۔ ابھی کرتا ہوں اسے فون ۔۔۔۔ مجھے ڈر کس بات کا ہے ۔۔۔۔ کل ہی واپس لیکر آتا ہوں اسے ۔۔۔۔۔ “موبائل پکڑا اور نیناں کا نمبر ڈائل کیا گلاصاف کر کے آواز میں کچھ دبدبہ پیدا کرنے کی کوشش کی ۔۔۔ شاہزیب کی ایک عادت تھی ۔۔۔ غصے میں بہت کچھ کہہ جاتا تھا کر جاتا تھا لیکن جیسے ہی غصہ ختم ہوتا تھا ۔۔۔ پھر مصنوعی رعب غصہ دبدبہ چاہ کر بھی وہ کر نہیں پاتا تھا ۔۔۔ دس دن کی بیوی کی جدائی نے ہر غصے ناراضگی کو بے معنی کر دیا تھا ۔۔۔۔

فون ریسیو نہیں ہوا تھا ۔۔۔ شاہزیب نے دو تین بار کال کی لیکن نو رسپونس واٹس اپ پر میسج کیا

” نیناں کال اٹھاو ” نیناں نے میسج ریڈ کیا تھا لیکن جواب نہیں دیا

” نیناں میں کل لینے آ رہا تمہیں تیار رہنا ” شاہزیب کے لئے یہی بہت تھا کہ وہ میسج پڑھ رہی ہے

” مجھے نہیں آنا شاہزیب ۔۔۔ ” نیناں کا میسج پڑھ کر شاہزیب کو غصہ آنے لگا تھا ۔۔۔ وہ اب تک اپنی ضد پر قائم تھی ۔۔۔۔

” نیناں ۔۔۔۔ مجھے کچھ نہیں سننا ہے کل شام کو تیار رہنا ۔۔۔۔ “

” میں نہیں آؤں گی ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر واٹس اپ آف ہو چکا تھا ۔۔۔

” اچھا تو یہ بات ہے ۔۔۔۔ دیکھتا ہوں کیسے نہیں آتی ہو تم ۔۔۔۔۔ تمہارے تو اچھے بھی واپس آئیں گئے ۔۔۔۔” ایک مصصم ارادہ باندھ کر وہ لیٹ گیا تھا اگلے روز ٹھیک پانچ بجے شاہزیب نے بائیک کا ہارن دینا شروع کیا تھا نیناں صوفے پر بیٹھی تھی فورا سے کھڑی ہو گی دل کی یک بارگی سے دھڑکا تھا لیکن پھر سب کچھ یاد آنے پر پھر سے صوفے پربیٹھ گئ۔۔۔۔ باہر چوکیدار نے دروازہ کھول دیا تھا۔۔۔

“سلام صاب “سر پر ہاتھ رکھ کر پٹھان نے سلوٹ مار کر سلام کیا تھا

“وعلیکم السلام۔۔۔ بچے کہاں ہیں ” شاہزیب نے معدافعانہ انداز سے کہا

“صاحب یہیں لان میں کھیل رہے ہیں ڈرائیور کے ساتھ “

“باہر لاؤ دونوں کو “شاہزیب کے کہنے پر چوکیدار دنوں بچوں کو باہر لے آیا شاہزیب نے دونوں بچوں کو بائیک پر بیٹھایا اور بائیک دوڑا لے گیا چوکیدار منہ کھولے حیرت سے دیکھتا رہ گیا ۔۔۔

پھر بھاگتے ہوئے اندر گیا نیناں لانج میں بیٹھی تھی چوکیدار کو دیکھ کر سمجھی کہ شاید شاہزیب نے نیناں کو بلانے کے لئے چوکیدار سے کہا ہے

” بی بی صاحب وہ صاحب جی آئے تھے ۔۔۔ ہادی اور سعدی کو لیکر چلے گئے ” نیناں کے یہ سن کر ہوش اڑے تھے ۔۔۔

فورا سے کھڑی ہو گئ

” کیا مطلب بچوں کو لیکر چلے گئے ۔۔۔۔ چھوٹے سے بچوں کو کیسے لے جاسکتے ہیں ۔۔۔میرے بغیر ۔۔۔” نیناں کو اب بھی یقین نہیں آ رہا تھا فورا سے باہر لان سے تیز قدم اٹھاتی ہوئی مین گیٹ کھول کر دیکھا لیکن وہ واقع بچوں کو لے کر جا چکا تھا ۔۔۔۔

نیناں جلدی سے اندر آئی اپنے فون سے شاہزیب کو کئ کال کیں لیکن اس نے فون نہیں اٹھایا تھا ۔۔۔ نیناں کو توقع نہیں تھی کہ وہ یہ سب کرے گا ۔۔۔

******…….

شاہزیب دونوں بچوں کو لیکر جب گھر پہنچا تو دروازہ عاتقہ بیگم نے کھولا تھا شاہزیب کے ساتھ دونوں بچوں کو دیکھ کر خوش ہو گئیں تھیں ۔۔۔ انہیں لگا نیناں پیچھے آ رہی ہو گئ

” آ گئ تم دونوں کو دادی کی یاد ۔۔۔ ” ہادی کو گود میں لئے وہ بولیں شاہزیب نے اندر داخل ہوتے ہی دروازہ بند کر دیا ۔۔۔۔

‘ شاہزیب دروازہ تو کھولو نیناں کو آنے دو ” عاتقہ بیگم کو لگا کہ شاہزیب نے غلطی سے دروازہ بند کیا ہے

” امی وہ نہیں آئی ۔۔۔۔ ” شاہزیب کی بات پر انہوں نے نا فہم انداز سے بیٹے کو دیکھا تھا جو ماں سے نظریں چرا رہا تھا ۔۔۔۔

“وہ نہیں آئی کیا مطلب؟ ۔۔۔ کیوں نہیں آئی ؟ ۔۔۔۔ پھر بچے اپنی ماں کے بغیر کیسے آ گئے شاہزیب “

” آپ کی بہو کا دماغ بہت زیادہ خراب ہو گیا ہے ۔۔۔۔ اس لئے میں اپنے بچوں کو لے آیا ہوں ۔۔۔ اب دیکھنا کیسے دو گھنٹوں میں واپس آتی ہے عقل بھی ٹھکانے آ جائے گی ” شاہزیب نے چٹکی بجا کر یوں کہا جیسے کوئی بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہو بڑے آرام سے صوفے پر بیٹھا تھا اور سعدی کو زمین پر بیٹھا دیا

” مطلب کیا ہے تمہارا شاہزیب ۔۔۔ ؟ کہا ہے نیناں ؟ ” عاتقہ بیگم تیوری چڑھائے اسکے برابر میں بیٹھ کر پوچھنے لگیں

” امی وہ ناراض ہے مجھ سے ۔۔۔۔ ” شاہزیب نے آنکھیں بند کیں صوفے پر سر ٹکایا وہ بولنے لگا

” کس بات پر ۔۔۔۔ ” عاتقہ کو کچھ شک تو پہلے سے تھاورنہ میکے وہ کبھی بھی اتنے دن کے لئے کبھی نہیں گئ تھی ۔۔۔ نا شاہزیب نے کبھی اتنے دن رہنے دیا تھا ۔۔۔۔۔ شاہزیب نے آنکھیں کھولیں اور ساری بات ماں کو بتا دی۔۔۔۔

” شرم تو نہیں آئی تمہیں ایسی بیہودہ حرکت کرتے ہوئے ۔۔۔۔ بیچ بازار میں یہ سب تماشہ لگاتے ہوئے ” عاتقہ بیگم نے ساری بات سن کر بیٹے کو ہی ڈانٹنا شروع کیا تھا

” امی ۔۔۔ میری بیوی مجھے کسی کی بانہوں میں نظر آئے گی تو میں چپ تو نہیں رہو گا آپ کو میں غلط لگ رہا ہوں؟ ” شاہزیب نے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے تعجب سے پوچھا

” ہاں تم ہی غلط ہو ۔۔۔ ایک تو بنا وجہ جانے تم نے ذرا سی بات کا تماشہ بنا دیا پھر سب کے سامنے تم نے اسے طلاق کی دھمکی دی ۔۔۔۔ نیناں کی جگہ میں ہوتی تو رکھ کےتھپڑ تمہارے منہ پر مارتی ۔۔۔۔ ارے میں دنیا کے سامنے تعریفیں کرتی نہیں تھکتی کہ میرا شاہزیب ایسا ہے ویسا ہے اور ایک تم ہو ۔۔۔۔۔ ” عاتقہ بیگم غصے سے لال ہیلی سی ہو گئیں تھیں ۔۔۔ بیٹے سے اس قسم کی حماقت کی توقع نہیں تھی ۔۔۔۔ عاصم بھی وہیں بیٹھا سب کچھ سن رہا تھا

” عاصم جا ۔۔۔ذرا جا کر رکشہ لیکر آ ڈیفنس کا ” عاتقہ بیگم نے عاصم سے کہا،اور خود اپنے کمرے میں اپنی چادر اوڑھنے چلی گئیں شاہزیب انکے پیچھے انکے کمرے کی جانب بڑھا تھا ۔۔۔۔

” امی آپ نیناں کو لینے نہیں جائیں گئیں آپ کو کوئی ضرورت نہیں ہے اس کے سامنے جھکنے کی ۔۔۔۔ میں بھی دیکھتا کتنے دن بچوں کے بغیر رہتی ہے خود آئے گی ہاتھ جوڑتے ہوئے ۔۔۔ ” شاہزیب نے قطعی انداز سے کہا

ایک تھپڑ شاہزیب کے منہ پر پڑا تھا ۔۔۔ بیٹے کی فرسودہ سوچ پر عاتقہ بیگم کو غصہ آیا تھا ۔۔۔۔ پہلی بار اس پر ہاتھ اٹھایا تھا شاہزیب تو دنگ سا رہ گیا تھا

” ایک ماں سے اس کے بچے چھین کر تم اس کا صبر آزمانا چاہتے ہو ۔۔۔۔ تا کہ وہ خوشی اور رضا مندی کے بجائے بے بس اور لاچار ہو کر تمہارے سامنے جھک جائے۔۔۔۔ واہ بیٹا واہ ۔۔۔۔اچھا صلہ دے رہے ہو میری تربیت کا میں نیناں کو لینے نہیں جارہی ۔۔۔۔۔بچوں کو انکی ماں کے پاس چھوڑنے جا رہی ہوں ۔۔۔۔ پھر نیناں کی مرضی ہے کہ تمہیں اپنائے یاچھوڑ دے ” یہ کہہ عاتقہ بیگم کمرے سے باہر نکلی تھیں

سامنے لاونج میں نیناں کھڑی تھی ۔۔۔۔۔ کچھ دیر پہلے ہی ڈرائیور کے ساتھ وہاں پہنچی تھی ۔۔۔ بچوں کو یوں باہر سے لے جانے کا مطلب سمجھ گئ تھی ۔۔۔۔ کہاں اتنے چھوٹے بچوں کے بغیر رہ سکتی تھی اس لئے بختیار صاحب کے آفس کے آنے سے پہلے ہی ڈرائیور کے ساتھ گھر پہنچ گئ تھی

گھر کادروازہ بند نہیں تھا عاصم رکشہ لینے جانے والا تھا اسلئے دروازہ کھولا تو وہ اندر آ گئ تھی

عاتقہ بیگم اور شاہزیب کے مابین ہونے والی گفتگوں بھی سن چکی تھی۔۔۔۔ عاتقہ بیگم کی آنکھوں میں بھی آنسوں جاری تھے ۔۔۔۔ نیناں بھی رو رہی تھی پورے راستے روتے ہوئے ہی آئی تھی ۔۔۔۔

“نیناں ” عاتقہ بیگم نے اسے سامنے دیکھ کر پکارا شاہزیب۔ کی اسکی جانب پشت تھی ماں کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے وہ پلٹ کر پیچھے دیکھنے لگا نیناں کو کھڑے دیکھ کر اپنی مزید تذلیل سی محسوس ہوئی تھی ۔۔۔ فورا سے ماں کے کمرے سے نکل کر نیناں کو گھورتے ہوئے اپنے کمرے میں چلا گیا پورے زور سے دروازہ بند کیا ۔۔۔ ساتھ ہی نیناں کو لگا اس کا دل بھی بند ہوا ہو ۔۔۔۔ ظاہر ہے ماں سے پڑنے والا تھپڑ بھی نینان کے ناکردہ گناہ۔ میں شامل ہوا ہو گا ۔۔۔۔ ٹپ ٹپ کئ آنسوں نیناں کی آنکھوں سے بہے تھے ۔۔۔

عاتقہ بیگم اسکے پاس آ گئیں ۔۔۔۔ نیناں کو سینے لگایا تووہ بے اختیار رونے لگی ۔۔۔

” امی ۔۔۔۔” منہ سے بس یہی ایک لفظ نکلا تھا ۔۔

” چپ ہو جاؤں ۔۔۔۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہ سب چل رہا ہے تم دونوں کے بیچ ۔۔۔ ورنہ شاہزیب کو کبھی بچوں کو یوں لانے نہیں دیتی ۔۔۔ نیناں ۔۔۔۔ ” عاتقہ بیگم نے دل گرفتگی سے کہا لیکن نیناں کی سسکیاں اور ہچکیاں نہیں رک رہیں تھیں ۔۔۔۔ رونا تو کسی اور بات پر آ رہا تھا دل کی دنیا لٹ گئ تھی ۔۔۔۔۔ جن خوابوں کو اب تک پروان چڑھا رہی تھی ۔۔۔۔ خود کو ہمیشہ شاہزیب کے دل کا حکمران بنا سمجھتی رہی تھی ۔۔۔۔لیکن اب وہاں کوئی اور برابر کی جگہ لے چکی تھی ۔۔۔۔ چھن سے سارے خواب ٹوٹے تھے جن کی کرچیاں دل کے ساتھ ساتھ آنکھوں میں بھی چبھ رہی تھیں ۔۔۔۔

کیا کہے گی اپنے باپ سے جس شخص کی خاطر جان گوانے سے گریز نہیں کیا تھا وہ پھر سے دل کی دنیا بسائے بیٹھا ہے ۔۔۔۔۔

عاتقہ بیگم اسے اپنے کمرے میں لے گئیں

” عاصم بہن کو پانی لا کر دو ۔۔۔۔رو رو کر بے حال ہوگئ ہے ۔۔۔۔ ” عاصم بھی چپ چپ سا تھا ۔۔۔۔ پانی کی گلاس لا کر نیناں کو دیا ۔۔۔۔ دو گھونٹ بھر کر ہی اس نے واپس رکھ دیا ۔۔۔

” نیناں ۔۔۔ میں نے تمہیں ہمیشہ بیٹی سمجھا ہے ۔۔۔ لیکن شاید میری محبت میں کمی رہ گئ تھی جو تم مجھے ماں نہیں سمجھ سکی ” عاتقہ بیگم نے بہت رسانیت سے بات شروع کی تھی

“امی میں آپ کو اپنی ماں ہی سمجھتی ہوں “نیناں نے روتے ہوئے کہا

” ماں سمجھتی تومجھ سے بات کرتی نیناں چپ چاپ سے میکے نا چلی جاتی ۔۔۔ شاہزیب نے جو کیا وہ غلط کیا لیکن ایک شکایت تو مجھے تم سے بھی ہے تم نے مجھے بھی کچھ نہیں بتایا ورنہ یہ نوبت کبھی نا آتی “

” آپ کو کیا لگتا ہے امی میں اسبات پر جا کر میکے بیٹھ جاؤں گی ۔۔۔۔ ٹھیک ہے میں اسی بات کی وجہ سے گئ تھی لیکن واپس بھی آنے لگی تھی ۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔” یہ کہہ وہ رونے لگی

” لیکن کیا ۔۔۔ “

” پہلے عاصم کو باہر بھیجیں یہ شرم ناک بات میں عاصم کے سامنے نہیں بتا سکتی ” نیناں کو لگا جو بات وہ کرنے جارہی ہے عاصم کے سامنے مناسب نہیں ۔۔۔

عاتقہ بیگم نے عاصم کو باہر بھیج دیا

” تم باہر جاؤں اور دروازہ بند کر کے جانا “

عاصم کمرہ بند کر کے چلا گیا

” ہاں اب بتاؤں ” عاتقہ بیگم کو نیناں نے ہاسپٹل والی ساری بات بتا دی ۔۔۔ کچھ پل تو عاتقہ بیگم کو بھی یقین نہیں آیا پھر سر پکڑے بیٹھ گئیں

” کم بخت کو یہ کیا نئ سوجی ہے ۔۔۔ اسکی تو میں آج ٹانگیں ہی توڑ دوں گی آنے دو زمان صاحب کو دیکھوں ذرا ۔۔۔۔چار جوتے باپ کے کھائے گا تو کیسے سیدھا ہوتا ہے ۔۔۔۔ یہ مرد ذات ہوتی ہی بے اعتبار ہے

ساری زندگی عورت جوڑ توڑ کر کے گھر بناتی رہے چلاتی رہے کبھی اس سے پیار کے چار جمعلے نہیں بولیں گئے اور جہاں کسی لڑکی نے ہنس کے بات کر لی ہوگئے اس پر فدا ۔۔۔۔۔ ” عاتقہ بیگم کو شاہزیب پر غصہ آنے لگا تھا ۔۔۔

” امی انہوں نے اس لڑکی سے شادی کا وعدہ بھی کیا ہے “

” ارے بھاڑ گیا اس کا وعدہ ۔۔۔۔۔ آنے دو زمان کو دیکھوں کیسے تیر کی طرح سیدھا ہوتا ہے باپ کے سامنے ۔۔۔۔ ” عاتقہ بیگم نیناں کے آنسوں پونچنے تھیں ۔۔۔۔۔

********…….

شاہزیب کمرے میں ڈرسنگ کے سامنے کھڑا گال پر پڑے تھپڑ کے نشان دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ اتنی تکلیف تھپڑ سے نہیں ہوئی تھی جتنی ماں کے تھپڑ مارنے سے ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ ہمیشہ اس رخسار کو عاتقہ بیگم نے صرف چوما ہی تھا جسے آج نیناں کی بدولت لال کر کے رکھ دیا تھا ۔۔۔۔

” پورا گال سرخ کر دیا ہے پکڑ کے ۔۔۔۔ یہ بھی نہیں سوچا کہ بیٹا اب بڑا ہو گیا ۔۔۔ شادی شدہ ہے دو بچوں کا باپ ہے ۔۔۔ رکھ کے چماٹ منہ پے مار دیا ۔۔۔وہ بھی اس نیناں کی بچی کے سامنے اسے تو اچھی شہ مل گئ ہو گی سارا رعب ختم کر دیا ہے میرا امی نے بیوی کے سامنے ۔۔۔۔ ” شاہزیب کی اپنی الگ فکر تھی ایک الگ سے خدشے ۔۔۔۔ پھر بیڈ پر بیٹھ گیا

” خیر چال تو میری بھی پوری کامیاب ہوئی ہے ۔۔۔۔ کیسے بھاگتی ہوئی پہنچی ہے گھر ۔۔۔۔ اب دیکھتا ہوں کیسے جاتی ہے واپس ۔۔۔۔ ” شاہزیب اپنی کامیابی پر کچھ کچھ شاد بھی ہوا تھا ۔۔۔۔

” ذرا آؤں تو صحیح تم کمرے میں ۔۔۔۔ ایسا سیدھا کرو گا یاد کرو گی ۔۔۔۔ اور تھپڑ کا بدلہ تو الگ سے لونگا تم سے ۔۔۔۔ ” تکیہ درست کر کے چت بیڈ پر لیٹ گیا ۔۔۔۔

دو گھنٹے یونہیں دل جلاتا رہا ۔۔۔ پھر عاصم دروازہ ناک کر کے اندر داخل ہوا

” مجھے بھوک نہیں ہے ۔۔۔ نکلو کمرے سے باہر ۔۔۔ ” شاہزیب نے غصے سے کہا

“میں کھانے کا انوٹیشن دینے کے لئے نہیں آیا ابو آپ کو کمرے میں بلا رہے ہیں بڑے غصے میں ہیں ۔۔۔ امی اور نیناں آپی بھی وہیں ہیں ۔۔۔ خیر منائیں اپنی ” عاصم نے جلے ہوئے انداز سے کہا تھا ۔۔۔ نیناں کے آنسوں نے عاصم کا دل بھی موم کیا تھا ۔۔۔۔

” ابو ؟ مر گئے یار” شاہزب اٹھ کر بیٹھ گیا

” ۔۔۔۔ تھپڑ مار تو لیاتھا امی نے ۔۔۔۔ پھر ابو کو بتانے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔۔ ” شاہزیب کے تو ہوش اڑ کر رہ گئے تھے ۔۔۔۔

” اب پچھتاوا کیا جب چڑیا چگ گئ کھیت ” عاصم نے مسکرا کر آگ لگائی تھی کوئی اور موقع ہوتا تو شاہزیب اسے ایک ضرور لگاتا لیکن اسوقت اسے عاصم سے مطلب تھا ۔۔۔

” شماٹو ادھر آ ذرا ” شاہزیب نے بڑے رازدانہ انداز سے عاصم کو بلایا وہ بھی خرامہ خرامہ قدم بھرتا ہوا اس کے پاس پہنچا تھا

” جی بولیں ” عاصم نے بھی تیوری چڑھا کر پوچھا شاہزیب نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے پاس بیٹھایا

” آ نا میرے شہزادے ۔۔۔ میرے ہیرو ۔۔۔ میرے بلے ۔۔۔۔ میرے پاس آ کر بیٹھ ۔۔۔ ” اس کے گال کی پیار سے چٹکی بھر کے کہا ۔۔۔۔ اپنا کام نکلوانے کا شاہزیب کا یہ طریقہ خاصا پرانہ تھا ۔۔۔ عاصم بھی چپ چاپ بیٹھ گیا

” نیناں اور امی کے درمیان کچھ بات چیت ہوئی ہو گی ۔۔۔نیناں نے رو رو کے میری برائیاں بھی کی گئ ہوں گی امی سے ۔۔۔ ذرا بتاؤں مجھے کیا کیا شکایتیں لگائی ہیں اس نے میری ” عاصم نے تیکھی نظر شاہزیب پر ڈالی

” رو تو وہ رہیں تھیں ۔۔۔۔ لیکن مجھے کمرے سے باہر بھیج دیا تھا۔۔۔۔۔ کہہ رہیں تھیں اتنی شرمناک بات عاصم کے سامنے نہیں بتا سکتی ” عاصم نے صاف گوئی کی تھی

” شرمناک بات میں نے ایسا کیا کیا ہے ” شاہزب متعجب ہوا تھا

” اچھا یہ بتا ابو سگریٹ تو نہیں پی رہے ” شاہزیب اب زمان صاحب کے غصے کا اندازہ لگانا چاہ رہا تھا۔۔۔۔۔

” نہیں سگریٹ نہیں پی رہے بس ہاتھ پیچھے کیے چکر کاٹ رہے ہیں ۔۔۔ وہ بھی فل ایکشن میں ” عاصم کی بات سن کر وہ کھڑا ہو گیا شرٹ درست کی

” اللہ مالک ہے جو ذلالت لکھی ہے وہ دیکھنی ہی پڑے گی ۔۔ ہٹو پیچھے ” دل کو سمجھا کر وہ کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔ کمرے سے نکل کر زمان صاحب کے کمرے کا دروازہ ناک کیا

” اندر آو ” وہی گرجدار آواز تھی ۔۔۔۔ شاہزیب کا حلق خشک ہوا تھا ۔۔۔

کمرے داخل ہوا تو نیناں عاتقیہ بیگم کے ساتھ بیٹھی تھی ۔۔۔۔ کینہ توز نظروں سے اس نے نیناں کو دیکھا تھا نظروں کے تصادم پر ہی وہ گڑبڑا سی گئ تھی ۔۔ اس لئے نظریں بدل گئ ۔۔۔

” زمان اسے کہیں میری بیٹی کو گھور گھور کے دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے ” عاتقہ بیگم نے شاہزیب کو دیکھ کر کہا

” شاہزیب ” باپ کی دھاڑ پر وہ نظریں ہی جھکا گیا تھا ۔۔۔

” ج۔۔جی ابو ” دل اچھل کر حلق میں ایا تھا

” کیا سن رہا ہوں میں ۔۔۔۔ بہت شوق ہے تمہیں مار دھاڑ کرنے کا بہت بڑے بدمعاش ہو تم ۔۔۔۔ کیا تماشہ لگایا ہے تم نے بازار میں “

” ابو وہ ۔۔۔۔ میں غصے میں تھا ۔۔۔۔ پھر غلطی نیناں کی بھی تھی ” شاہزیب نے اپنا دفاع کرنے کی کوشش کی

” کیا غلطی تھی ۔۔۔ اگر بازار کی دھکم پیل میں وہ گر رہی تھی اور اسکے کزن نے سہارے سے اسے گرنے سے بچا لیا تو تم اسی کا منہ توڑ دو گئے ۔۔۔۔ بیچ بازار بیوی کو طلاق کی دھمکی دو گئے ۔۔۔۔۔

” ابو میں نے صرف ڈرانے کے لئے کہا تھا ” شاہزب نے ایک غصیلی ترچھی نظر جھکی گردن سے بھی نیناں پر ڈال کر کہا

” تم نے کہا بھی کیسے ۔۔۔۔ یہ لفظ تمہاری زبان پر آیا کیسے ۔۔۔۔ دوبارہ اگر یہ لفظ تم نے بھولے سے نیناں کے سامنے لیا تو دیکھوں کیسے جان نکالتا ہوں میں تمہاری ۔۔۔۔ یہ مت سمجھوں کہ نیناں صرف تمہاری بیوی ہے اس لئے جیسے چاہے اسے دھمکاتے رہو گئے

اپنی بیٹی بنا کر اسے ہم یہاں لائیں ہیں ۔۔۔۔ ہماری زمہ داری ہے وہ ۔۔۔۔

اور دوسری بات آج کے بعد اگر تم اکیلے بچوں کو نیناں سے چھین کر لائے تو ٹانگیں توڑ دوں گا تمہاری ” ساری بات شاہزیب نے گردن جھکائے سنی تھی

” جی ابو “

” شکل گم کرو اپنی اب ” زمان صاحب نے پھنکارتے ہوئے کہا شاہزیب باہر جانے لگا

” ارے زمان وہ لڑکی والی بات توآپ نے کی نہیں” عاتقہ بیگم کو پھر کچھ یاد آیا تھا ۔۔۔

” رکو ” زمان صاحب نے فورا سے شاہزیب کے تیز چلتے قدموں کو بریک لگوائی تھی

” یہ کون سی نئ کہانی شروع کر رہے ہو تم ۔۔۔ یہ لڑکی کون ہے ” زمان صاحب کے منہ سے لڑکی کا سن کر یک دم تو شاہزیب کے ذہن میں بھی دور دور تک کوئی لڑکی نہیں آئی تھی

” لڑکی۔۔؟ کون سی لڑکی ؟ ” شاہزیب نے نافہمی سے پوچھا

” اچھا کون سی لڑکی ؟ وہی جس سے شادی کے وعدے کرتے پھر رہے ہو ” عاتقہ بیگم کی واضع بات پر بھی اسے مرحا یاد بلکل نہیں آئی تھی

” کس سے وعدے کیے ہیں ۔۔۔ کون سی لڑکی امی۔۔۔ ۔ کیوں خوامخواہ میں مجھ پر غلط الزام لگا رہی ہیں امی ؟ شاہزیب کو لگا ماں جان بوجھ کر پٹوانے کے موڈ میں ہیں

” ہاسپٹل والی ۔۔۔۔ جس کے گلے لگ کر شادی کاوعدہ کر رہے تھے ” پوری بات نیناں نے سو سو کرتے بتائی تھی ۔۔۔۔ بات کیا بتائی تھی اسکے اندر سے جان نکالی تھی ۔۔۔ شاہزیب کو ایک پل میں سب یاد آیا تھا

“افف یہ نیناں بھی ۔۔۔۔ یہ وہاں کیا کر رہی تھی ۔۔۔ “

” اب یاد آیا یا کچھ اور بھی بتائیں ” عاتقہ بیگم نے کڑے تیوروں سے پوچھا ۔۔۔

” امی ۔۔وہ ۔۔”

” کون ہے وہ لڑکی ” زمان صاحب نے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا

” کوئی نہیں ہے ابو ۔۔۔ قسم سے میں کوئی وعدہ نہیں کیا میں نے کسی سے شادی کرنے کا ” شاہزیب بری طرح سے پھنس چکا تھا

” لڑکی کون ہے وہ ۔۔۔ شاہزیب ایک بات کان کھول کر سن لو خود سے سدھر جاؤں ورنہ میرا سدھارنے کا طریقہ تم جانتے ہو ۔۔۔۔ “

“ابو خدا کی قسم نیناں کے علاؤہ میں کسی اور لڑکی کے بارے سوچ بھی نہیں سکتا ہوں “

” یہ جھوٹ بول رہے ہیں ۔۔۔۔ میری کوئی پروا نہیں ہے انہیں ” نیناں پھر سے رونے لگی تھی ۔۔۔ عاتقہ بیگم نے اسے ساتھ لگا لیا ۔۔۔

شاہزیب کمرے سے باہر نکل گیا یہ بات اسکے گمان بھی نہیں تھی ۔۔۔

کمرے میں آکر سر پکڑ کے بیٹھ گیا

” اچھی نیکی کی ہے میں جو میرے ہی گلے کا پھندا بن گئ ہے ۔۔۔۔یار ” شاہزیب سوچ میں پڑ گیا تھا ۔۔۔۔۔

******

نیناں عاتقہ بیگم کے ساتھ شازمہ اور نمیرہ کے کمرے میں بچوں کے ساتھ لیٹ گئ تھی ۔۔۔۔

رات دیر تک شاہزیب اس کا انتظار ہی کرتا رہ گیا ۔۔۔۔ لیکن وہ نہیں آئی تھی ۔۔۔۔۔

صبح ناشتہ بھی عاتقہ بیگم نے شاہزیب کو گھوریوں سے ساتھ دیا تھا ۔۔۔۔ آفس کی واپسی پر بھی نیناں بس عاتقہ بیگم کے ساتھ ساتھ ہی نظر آ رہی تھی ۔۔۔

رات کو ڈنر کے بعد جیسے ہی زمان صاحب اپنے کمرے ۔میں گئے ۔۔۔ نیناں بھی ٹیبل سے کھڑی ہو گئ شاہزیب کو بات کرنے کا موقع نہیں دے رہی تھی وہ بھی کھڑا ہو کر نیناں کے سامنے آ گیا

” نیناں میرے سارے کپڑے ان پریس ہیں ۔۔۔ صبح کے لئے کپڑے پریس کر دو ” شاہزیب نے جان بوجھ کر نیناں سے کام کہنے لگا بہانے سے اسے کمرے میں لے جانا چاہتا تھا ۔۔۔ لیکن عاتقہ بیگم سن دونوں کے بیچ میں کھڑی ہو گئیں

” تمہاری نوکر نہیں ہے وہ خود کرو اپنے کام ۔۔۔ نیناں تم جاؤں کمرے میں ” نیناں نے بھی تیوری چڑھائی اور کرسی پر بیٹھے ہادی کو گود میں لیا کھڑی ہو گی ۔۔۔

” امی مجھے نیناں سے بات کرنی ہے ۔۔۔۔ نیناں چلو کمرے میں ” شاہزیب نے با رعب لہجے میں کہا نیناں عاتقہ بیگم کے پیچھے چھپ سی گئ تھی

” کوئی ضرورت نہیں ہے میری بیٹی پر رعب جمانے کی ۔۔۔ “

” امی یہ بیوی ہے میری ۔۔۔ “

” پہلے بیوی کی عزت کرناسیکھوں پھر بات کرنا ۔۔ “

” نیناں تمیں سنائی دے رہا ہے کیا کہہ رہا ہوں میں ۔۔۔” شاہزیب عاتقہ بیگم کے پیچھے چھپی نیناں سے مخاطب ہوا ۔۔۔ نیناں کمرے میں چلی گئ ۔۔۔

” امی “

” چپ رہو تم ۔۔۔ “

” ٹھیک ہے مت سنیں میری بات ۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے میں آ گیا

اگلے روز شاہزیب کے آفس آنے سے پہلے عاتقہ بیگم نے ایک خوبصورت سا جوڑا نیناں کو پہننے کے لئے نکال کر دیا ۔۔۔

” اسے پہنو اور اچھا سا میک اپ کر کے تیار ہو جاؤں ۔۔۔۔ تم نے تو اپنا اپ چھوڑ ہی دیا ہے ۔۔۔ بیوی جب تک معشوق بنی نظر آتی رہے میاں اس کا عاشق ہی رہتا ہے جہاں وہ بیوی دیکھنے لگے مرد کی توجہ ہٹنے لگتی ہے ۔۔۔۔ چلو شاباش تیار ہو جاؤں ۔۔۔۔ آج تمہیں دیکھ کر اسے ساری لڑکیاں ن بھول جائیں تو پھر مجھے کہنا ۔۔۔۔ ” عاتقہ بی اس کا ماتھا چوم کر کمرے سے نکل گئ ۔۔۔ نیناں کچھ دیر تو انہیں دیکھتی رہ گئ ۔۔۔ واقعی وہ ساس تو کہیں سے نہیں تھی ۔۔۔۔ ماں ہی تھیں ۔۔۔۔ ورنہ ساس ایسی کب ہوتی ہیں وہ تو تائی اماں جیسی

ہوتی ہے جو بیٹے کی ہر غلط بات پر اس کا ساتھ

دے کر بہو سے بیٹے کا دل خراب کر دیتی ہیں ۔۔۔

نیناں اس بات پر پچھتائی تھی کہ عاتقہ بیگم سے بات کیوں نہیں کی ۔۔۔۔ اتنے دن رو دھو کر گزارتی رہی ۔۔۔۔۔

رات کو بہت اچھے سے تیار ہوئی تھی ۔۔۔ شاہزیب پہلی ڈالتے ہی نظریں ہٹانا بھول گیا تھا ۔۔۔۔۔

بار بار نظریں نیناں پر جا کر رک جاتیں تھیں ۔۔۔۔

رات کو عاتقہ بیگم کے ساتھ کچن سمیٹ رہی تھی جب عاصم اندر کچن میں داخل ہوا تھا ۔۔۔

” امی وہ ابو آپ کو بلا رہے ہیں “

” آ رہی ہوں “

” نیناں بس برتن دھو کر تم اب آرام کرو باقی بس میں سنبھال لوں گی “۔ عاتقہ بیگم یہ کہہ کر کچن سے باہر نکل گئیں ۔۔۔ نیناں برتن دھو رہی تھی جب اپنے بلکل پیچھے کسی کی گرم سانسیں کی تپش گردن پر محسوس ہوئی تھی ۔۔۔ وہ بے ساختہ پلٹی تھی ۔۔۔۔ اگلے لمحے شاہزیب کے حصار میں تھی