153.3K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maseer e Mamnu Episode 05 A Lie Called Bella

ہوٹل فائنیسٹ کی لابی شاندار طریقے سے سجی ہوئی تھی، اور صاف ستھری ماربل کی فرش روشنی کو منعکس کر رہی تھی۔ آخر یہاں ملک کے سیاستدانوں اور بزنس ٹائیکون کا آنا جانا رہتا تھا اور زیادہ تر، امیر خاندان کے لوگ یہاں ٹھہرتے تھے تو اس کی لابی کیا، پورے ہوٹل کو ہی خوبصورت ہونا چاہئے تھا۔ یہ تو لازمی امر تھا۔

تبریز صوفے پر بیٹھا لفٹ کی سمت گھور رہا تھا۔

مہدی فیملی کی ہوٹل مینجمنٹ سخت تھی، اور استقبالیہ ڈیسک ان کے مہمانوں کی معلومات دینے سے انکار کر چکی تھی۔ اس لیے وہ صبح سویرے ہی یہاں آ گیا تھا کہ شاید اس عورت کو دیکھ سکے۔

اس کی محنت رنگ لائی، اور آخرکار وہ اسے نظر آ گئی۔

جیسے ہی وہ حسین عورت بے پرواہی سے باہر نکلی، تبریز فوراً کھڑا ہو گیا۔ گلابوں کا بوکے ہاتھ میں لیے، وہ خود کو نہایت ہینڈسم سمجھتے ہوئے اس کے راستے میں آ گیا۔

“ہیلو، گورجئیس! یہ کیسا اتفاق ہے، میں نے تو سوچا بھی نہ تھا کہ ہم دوبارہ ملیں گے!”

فروین لمحے بھر کے لئے کچھ بول نہ سکی۔

ان کی منگنی ختم ہو چکی تھی، تو یہ شخص بار بار اس کے سامنے کیوں آ رہا تھا؟

تبریز، جس نے اس کی جھنجھلاہٹ کو بالکل محسوس نہ کیا، مسکرا کر بولا:

 “چونکہ ہمارا ملنا قسمت ہے، تو آپ کو اب اپنا نام ضرور بتانا چاہیے، کیا خیال ہے؟”

فروین لب بھینچے اسے دیکھنے لگی۔

وہ اس سے بات کرنے کی خواہشمند نہ تھی، لیکن بلکل اچانک اسے یاد آیا کہ ڈلیوری روم میں یہ شخص بھی موجود تھا جب وہ دو بچوں کو جنم دے رہی تھی اور تب پرسوچ نظروں سے،  اسے دیکھتی وہ بڑبڑانے لگی۔

اس کے لب آہستہ آہستہ ہلے۔

 ” بیلا پاشا ۔”

پاشا اس کی ماں کا خاندانی نام تھا۔

تبریزکی آنکھیں چمک اٹھی اور وہ مسکرانے لگا۔

“کیا آپ فری ہیں، مس بیلا پاشا؟ اتنا حسین اتفاق ہوا ہے کہ آپ سے دوبارہ ملاقات ہوئی ہے تو کیوں نہ ہم ساتھ والے کیفے میں جا کر بات کریں؟”

فروین نے بے پروائی سے سر ہلایا۔

تبریز جوش سے مسکراتے ہوئے آگے بڑھا۔

” یہاں سے چلتے ہیں مس بیلا… ویسے، آپ کی چھوٹی بہن کہاں ہے؟”

فروین نے بھنویں اٹھائیں۔

“میری چھوٹی بہن؟”

“ہاں، وہ چھوٹی سی لڑکی جو کل آپ کے ساتھ ایئرپورٹ سے نکلی تھی۔ آپ تو مشکل سے 20 سال کی لگتی ہیں؛ آپ کی اتنی بڑی بیٹی تو ہو نہیں سکتی، ہے نا؟”

تبریز مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔ فروین نے جواب دینا مناسب نہ سمجھا۔ بلکہ اس نے کہا،

 “چلیں اوپر چلتے ہیں۔”

“یہ بھی اچھا ہوا کہ وہ یہاں نہیں ہے۔ اس طرح وہ ہمیں تنگ نہیں کرے گی… ویسے کیفے کی کیک کافی اچھی ہے۔ آپ اپنی بہن کے لیے بعد میں لے جا سکتی ہیں…”

کسی عورت کو حاصل کرنے کا طریقہ یہ تھا کہ اس کے ارد گرد موجود سب کو خوش کیا جائے اور تبریز اس فن میں بہت ماہر تھا۔

قریب ہی ثالث، جو ہوٹل کا معائنہ کر کے واپس آ رہا تھا، سرد نظروں سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔

اس کے پیچھے، اس کے اسسٹنٹ سجاد نے ہونٹ چبائے۔ “یہ عورت بہت خود غرض ہے، مسٹر ثالث! ایک تو اس نے آپ کو خوش کرنے کے لیے حارث کے قریب آنے کی کوشش کی، اور اب یہ دو کشتیوں کی سواری کر رہی ہے؟”

سجاد کو موقع مل گیا تھا تبصرہ کرنے کا جیسے۔

“اور اس نے اپنی بیٹی کو کسی اور سے جھوٹ بولتے ہوئے اپنی چھوٹی بہن کہہ دیا! جب یہ آپ سے جھوٹ بول رہی تھی، تب تو اتنی محنت کرتے ہوئے نہیں دیکھا!”

پیچھے کھڑے باڈی گارڈ کے چہرے پر سوالیہ نشان واضح تھے۔ کیا واقعی اس بات کا موازنہ کیا جا سکتا ہے؟

ثالث کے چہرے پر سایہ سا چھا گیا۔ اس کی گہری آنکھوں میں سرد پن اتر آیا تھا ، اور پوری لابی کی فضا اچانک سرد پڑ گئی تھی جیسے درجہ حرارت صفر سے منفی پہ چلی گئی ہو۔

، “اس کے بارے میں معلومات اکٹھا کرو۔”

اس نے سرد لہجے میں کہا

“جی، سر۔”

سجاد نے تابعداری سے جواب دیا۔

꧁༺♡ Maseer-E-Memnu ♡༻꧂

کیفے میں داخل ہونے کے بعد، فروین نے کھڑکی کے قریب ایک میز کا انتخاب کیا۔ چند جملوں میں ہی اس نے تبریز کو اپنی منگنی کے موضوع پر بات کرنے پر مجبور کر دیا۔ تبریز اپنی وضاحت دینے کے لئے بےچین تھا لیکن بات کرتے ہوئے اس کا لہجہ نہایت ہتک آمیز تھا ۔

“میں واقعی کوئی گھٹیا انسان نہیں ہوں، مس بیلا، آپ کو نہیں معلوم وہ موٹی عورت کتنی بدصورت ہے۔ اس کے چہرے پر اتنا fat ہے کہ اس کی آنکھیں تقریباً بند ہو جاتی ہیں۔ جب وہ چلتی ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے پوری جگہ ہل رہی ہو۔

وہ تو یہ بہانہ بھی بناتی ہے کہ اس کی موٹاپے کی وجہ ہارمونل انجیکشن ہیں۔ ہا! ایسا ظاہر کرتی ہے جیسے وزن کم ہوتے ہی وہ کوئی حسینہ بن جائے گی۔

اوپر سے وہ دماغی مریضہ بھی ہے۔ اس نے تیسری کلاس کے بعد اسکول چھوڑ دیا اور تب سے اپنے کمرے میں بند رہتی ہے۔ کوئی اسے مارے یا ڈانٹے، وہ چپ رہتی ہے، نہ کوئی احتجاج کرتی ہے اور نہ ہی بدلہ لیتی ہے۔ ایسے ان پڑھ، جاہل اور ذہنی طور پر کمزور موٹی عورت سے میری شادی کرانا سراسر زیادتی ہے، کیا نہیں؟!”

فروین، اپنا چہرہ ہاتھ پر ٹکائے، اس کی باتوں کو سنتے سنتے تقریباً اونگھنے لگی۔ اسے بچپن سے معلوم تھا کہ ایسے تعصب سے بھرے گھر میں رونا اور چیخنا کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ اس نے کبھی مزاحمت نہ کی کیونکہ اپنی ماں کی آخری نصیحت ہمیشہ ذہن میں رکھی تھی—اسے عام اور بے نشان رہنا ہوگا، اور جوان ہونے تک اپنی عقل اور قابلیت کو ظاہر نہیں کرنا چاہیے۔ یہ اس کی زندگی بچانے کا واحد طریقہ تھا اور ابھی بھی وہ خاموشی سے اسے سن رہی تھی۔

“میں واقعی مہر کاظم کی فیملی سے نفرت کرتا ہوں۔ اگر اس کمپنی کا دباؤ نہ ہوتا تو میں اب اریشہ کے بھی آگے پیچھے نہ گھوم رہا ہوتا ” 

تبریز، جو اپنی باتوں میں حد سے آگے جا چکا تھا،اچانک کچھ یاد آنے پہ سنبھل کے بیٹھ گیا

 “اوہ، میں یہ سب کیوں کہہ رہا ہوں؟ آپ کہاں سے ہیں، مس بیلا؟”

” نیویارک “

فروین نے بے پروائی سے ایک جواب بنا دیا۔

تبریز کے گلے میں ایک گھونٹ پھنس گیا۔ یہ تو خوش شکل ہونے کے ساتھ ساتھ، امیر بھی لگتی تھی ۔

اب وہ اور زیادہ چاپلوسی پر اتر آیا۔

 “مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ اتنے بڑے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ تبھی تو آپ کی شخصیت میں اتنا وقار  اور دلکشی ہے “

فروین کو اس کی باتوں میں کچھ خاص دلچسپی نہیں تھی اور اسے مزید پرکھنے کے لیے بات جاری رکھی۔

اس کا رویہ ظاہری طور پر بے پروا لگ رہا تھا، لیکن اس نے اپنے کافی کے کپ پر گرفت مضبوط کر لی تھی۔

 “میں نے سنا ہے کہ آپ کی منگیتر نے پانچ سال پہلے ایک بچے کو جنم دیا تھا، لیکن اسے چھوڑ دیا گیا۔ میں واقعی تجسس میں ہوں—وہ بچہ کہاں گیا؟”

۔ “یہ محض افواہ ہے، مس بیلا! وہ موٹی عورت بچے کو بیرونِ ملک لے گئی تھی!”

تبریز نے فورا وضاحت پیش کی۔ تو مہر کاظم نے آفیشلی یہ  اعلان کیا تھا کہ فروین نے صرف ایک بیٹی کو جنم دیا تھا۔

فروین نے کافی کا کپ زور سے میز پر رکھا اور جھوٹی ناراضگی دکھاتے ہوئے اٹھنے کی اداکاری کی۔

جیسا کہ متوقع تھا، تبریز گھبرا گیا۔

“ایسا نہیں تھا میرا مطلب! ناراض نہ ہو آپ پلیز۔ “

فروین نے ہوشیاری سے اس سے بچتے ہوئے ایک ابرو اٹھائی۔

“تو پھر جواب دو گے یا نہیں؟”

تبریز نے آخر کار جھجکتے ہوئے کہا،

 “انکل کاظم، میرا مطلب ہے کہ مہر کاظم نے اس وقت  معاملہ سنبھالا تھا۔ مجھے واقعی کچھ نہیں معلوم۔”

فروین کو لگا کہ وہ جھوٹ نہیں بول رہا۔

یہ وقت ضائع کرنے کا ایک اور موقع تھا جو وہ سونے میں لگا سکتی تھی۔ تبھی سر جھٹک کے، وہ وہاں سے اٹھنے کا ارادہ کرنے لگی۔

꧁༺♡ Maseer-E-Memnu ♡༻꧂

فروین ہوٹل واپس آئی تو دروازہ کھلتے ہی اندر سے شمائل کی آواز آئی:

“شہزادی آئی ہے! سب راستہ چھوڑو! چھوٹے ڈمی کو اسے چھوڑنے دینا ہے!”

“… ٹھیک ہے۔”

“میرا کینن آزمانا چاہتے ہو؟ چھوٹے ڈمی، دفاعی ٹاور سے نقصان برداشت کرو۔ چلو!”

“میری HP ختم ہو رہی ہے۔”

“ارے، بھاگ کیوں رہے ہو؟ میرے لیے نقصان سہو، تبھی میں پانچ ہلاکتیں لے سکوں گی!”

“میں مر جاؤں گا۔”

“تم مرد ہو یا نہیں؟ ایک گیم میں بھی اتنے بزدل؟ تمہیں ڈر کس چیز کا ہے؟”

شمائل عام طور پر بہت پیاری اور خوش مزاج ہوتی تھی، لیکن گیم کھیلتے ہوئے وہ غصیلے اور بدتمیز رویے کا مظاہرہ کرتی۔ تاہم، آج کے دن وہ خاصی مہذب لگ رہی تھی۔

لیکن یہ بچہ کون تھا جو اس کے ساتھ موبائل گیم کھیل رہا تھا؟ فروین جیسے ہی لونگ کمرے میں داخل ہوئی، اس نے دیکھا کہ شمائل اپنے سلیپنگ سوٹ میں ملبوس، موبائل فون ہاتھ میں لیے، مزے سے کھیل رہی تھی۔ وہ ٹانگیں موڑ کر بیٹھی ہوئی تھی، اور گیم کا آڈیو بھی آن تھا۔

دروازہ کھلنے کی آواز سنتے ہی، شمائل نے مڑ کر دیکھا۔

جب اسے محسوس ہوا  کہ فروین ناراض ہونے والی ہے، تو فوراً ایک چمکتی مسکراہٹ سجائی اور اپنی بڑی، گول آنکھیں جھپکاتے ہوئے کہا،

 “ممی، آپ آخرکار واپس آ گئیں۔ میں بہت بور ہو گئی تھی۔ میں نے آپ کو بہت مس کیا!”

فروین نے خاموشی سے ایک گہری سانس لی۔

حقیقت تو یہ تھی شمائل ہر روز گیم کھیلتی تھی، اس کی وجہ یہ تھی کہ فروین یا تو مصروف ہوتی تھی یا سو رہی ہوتی تھی، اور اس کے ساتھ وقت نہیں گزار پاتی تھی؟

فروین نے اپنی نیند کی خواہش اور بیڈ پر فوراً لیٹنے کی طلب پر قابو پاتے ہوئے کہا،

 “شمائل،  جگہ صاف کرو۔ آج رات ہم باہر کھانا کھائیں گے۔”

“شمائل، آج رات آپ کیا پہننا چاہیں گی؟”

مس مارٹا پوچھنے لگی۔

شمائل  نے سنجیدگی سے جواب دیا۔

 ” Gucci

کا چھوٹا سا گرے سوٹ!”

فروین نے بھنویں چڑھائیں۔

“تم پھر لڑکوں کے کپڑے پہن رہی ہو؟”

شمائل کو ایک عجیب عادت تھی—اسے فروین کے ساتھ باہر جاتے وقت لڑکوں کی طرح تیار ہونا پسند تھا۔

وہ موبائل کی اسکرین کو گھورتے ہوئے بولی،

“ہاں۔ یہ راؤنڈ جلد ختم ہونے والا ہے۔ ممی، ہم کیا کھا رہے ہیں؟”

فروین نے آگے بڑھ کر اس کا موبائل فون چھینا اور جواب دیا،

 “نیچے والے ہوٹل سے پیزا کھائیں گے۔”

 پھر اس نے گیم بند کر دیا۔

“ارے! ہم چھاپہ مارنے والے تھے۔ آپ نے—”

شمائل، جو غصے سے بپھرنے والی تھی، حتیٰ کہ گالی دینے کے قریب تھی، لیکن جب اس کی نظر فروین سے ملی، تو اس نے اپنے ہونٹ بھینچ لیے اور دانتوں کے درمیان سے دو الفاظ نکالے:

“چلتے ہیں ۔”

—-

حارث موبائل فون کی اسکرین کو گھور رہا تھا sweetsam”  گیم سے لاگ آؤٹ ہو چکی تھی اور وائس کال بھی منقطع ہو گئی تھی۔

اس کے دل کی گہرائیوں میں ایک ہلکی سی اداسی پیدا ہوئی۔

صوفے پر بیٹھے طلال نے سکون کا سانس لیا۔

“بیٹا، آخرکار تم نے گیم چھوڑ دیا۔ تمہارے مونسٹر ڈیڈ بہت جلد پہنچنے والا ہے، اس لیے جلدی سے جگہ صاف کر لو!”

حارث، جو افسردہ نظر آ رہا تھا، خاموش رہا۔

طلال نے اس کے موبائل فون پر نظر ڈالی۔

“تم کس کے ساتھ کھیل رہے تھے؟ تمہارا لاگ آؤٹ ہونے کا دل نہیں کر رہا تھا۔ اگر دوبارہ کھیلنا چاہتے ہو، تو اگلی بار میرے ساتھ کھیلنا کیسا؟ میں بہت اچھا کھلاڑی ہوں۔ میں لوکل سرور کے ٹاپ 10 کھلاڑیوں میں شامل ہوں۔ سرور کے ٹاپ کھلاڑی ‘sweetsam’ ہمارے ٹیم لیڈر ہیں، اور ہم دونوں آن لائن دوست ہیں۔ میں ان سے کہوں گا کہ تمہیں ٹیم میں شامل کریں تاکہ تم بھی کھیل سکو۔”

حارث نے فوراً موبائل کی اسکرین بند کی اور کھڑا ہو گیا۔

 “انکل طلال، مجھے پیزا کھانے جانا ہے۔”

طلال نے اپنا سر پکڑ لیا۔

 “ارے، بچے، ایسا نہیں ہو سکتا۔ ثالث اس کی اجازت نہیں دے گا!”

مہدی فیملی کے واحد پوتے کے طور پر، حارث کو بہت خاص حیثیت حاصل تھی۔ اس کا روزانہ کا شیڈول سائنسی طور پر ترتیب دیا گیا تھا، اور وہ اس پر سختی سے عمل کرتا تھا۔

اگرچہ وہ اسکول نہیں جاتا تھا، مگر اس کی مصروفیت بڑوں سے بھی زیادہ تھی۔

آج چونکہ ثالث گھر پر نہیں تھا، طلال کو اپنے معصوم بھتیجے پر ترس آیا اور اس نے سارا دن گیم کھیلنے دیا۔

لیکن… باہر جا کر کھانا؟!

یہ تو ثالث کی برداشت کی حدوں کو آزمانا تھا!

طلال نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی۔

 “کل تم نے میڈیسن نہ کھانے کا بہانہ بنا کر اپنے ڈیڈ کو کیک کھانے لے جانے پر مجبور کیا۔ لیکن یہ طریقہ آج کام نہیں کرے گا۔ بچے، سیدھے رہو…”

لیکن حارث نے جیسے کچھ سنا ہی نہیں۔ وہ سیدھا اپنے کمرے میں گیا اور الماری کھولی۔ جب اس نے Gucci کا محدود ایڈیشن والا چھوٹا گرے سوٹ دیکھا، تو اس نے فوراً پہن لیا۔

طلال رہ گیا اور اسے روکا۔

 ” ثالث نیچے آ چکا ہے!”

حارث نے پرسکون انداز میں جواب دیا،

“ہوں۔ جب تک وہ دروازے پر نہیں ہے، کوئی مسئلہ نہیں۔”

طلال نے اسے جاتے دیکھا اور ایسا لگا جیسے کوئی طوفان آنے والا ہو۔

ایک منٹ بھی نہیں گزرا تھا جب ثالث دروازہ کھول کے اندر داخل ہوا، ہمیشہ کی طرح ماتھے پہ بارہ بجائے۔

جیسے ہی وہ اندر آیا، طلال نے گھبرائے انداز میں اسے دیکھا۔ 

 ” ثالث …”

ثالث مہدی، جو اپنا کوٹ اتار رہا تھا، رکا۔ اس کی گہری نظریں کمرے پر پھسلی اور بلکل اچانک اس کا چہرہ تاریک ہو گیا۔

” حارث کہاں ہے؟”

طلال کی گھبراہٹ مزید بڑھی

 “… وہ نیچے پیزا والے ہوٹل میں ہے۔”

یہ سنتے ہی ثالث نے فوراً مڑ کر قدم اٹھائے لیکن طلال  گھبرا کر چلایا،

 “مجھے پتا ہے یہ میری غلطی ہے، ثالث۔۔۔ پلیز اسے تھوڑا نرمی دکھانا… ارے؟”

ثالث اسے نظرانداز کرتے ہوئے باہر نکل گیا۔

طلال، جو سمجھا کہ وہ بچ گیا، سکون کا سانس لینے ہی والا تھا کہ ثالث کی سرد، گھمبیر آواز سنائی دی

: “واپسی پر تم سے بات کروں گا۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔