153.3K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maseer e Mamnu Epsiode 02

“…اوہ۔”

فروین کو حیرت ہوئی تھی۔

“فروین، پہلے تم بیرون ملک تھی، اس کی پہنچ سے دور تھی، اس لیے تم اس کے ہاتھ نہ آ سکی لیکن اب جب کہ تم واپس پاکستان آئی ،تو  تم بچ نہیں سکو گی! بطور سب سے مشہور سرجن، کیا تم اس کی دادی کی بیماری کا علاج نہیں کر سکتی؟

ویسے میں نے سنا ہے کہ ثالث مہدی نہایت بڑے دل کا مالک انسان ہے  اور بےحد ہینڈسم بھی ہے، ایسا مرد آسانی سے نہیں ملتا۔ کیا پتہ تم دونوں کو ایکدوسرے سے بےحد محبت ہو جائے کہ دنیا تم دونوں کی محبت پہ داستان لکھ دیں لیلہ مجنوں،  ہیر رانجھے کے جیسا”

فروین نے آنکھیں گھمائی تھی۔

مہدی فیملی، سب سے بڑی کاروباری اور سیاست سے تعلق رکھنے والی فیملی تھی جہاں مہدی خاندان سے تعلق رکھنے والا ہر فرد، عجیب پیچیدہ کرائسز میں پھنسا ہوا تھا اور فروین کو یہی لگتا کہ اس فیملی میں کسی کی بیماری کا علاج کرنا طاقت اور وراثت کی لڑائیوں میں پھنسنے کا سبب بن سکتا تھا۔ وہ کیوں ان امیر اور طاقتور لوگوں کی کھلی اور چھپی لڑائیوں میں پڑتی؟

وہ تو اپنے بیٹے کو ڈھونڈنے کے لیے واپس آئی تھی۔ کسی قسم کی پیچیدگی نہیں چاہیے تھی اسے اپنی زندگی میں۔

جب وہ باہر کے دروازے کے قریب پہنچی، تو اچانک اس نے ہجوم میں ایک جانا پہچانا چہرہ دیکھا۔

 “میری قسمت اتنی اچھی نہیں کہ ایسے ہینڈسم مرد سے مجھے محبت ہو سکے یا پھر اسے مجھ سے محبت ہو سکے۔”

اس نے بےدلی سے جواب دیتے کال ڈسکنیکٹ کر دی تھی، موبائل اپنے بیگ میں ڈالتی، فروین نے سرد نگاہوں سے، اس جانے پہچانے شخص کو دیکھا تھا جو اس کی زندگی کا سیاہ باب تھا۔ اس کی فیملی کے ہر ممبر کی طرح، وہ شخص بھی ایک دھبہ تھا اس کی ماضی کا۔

اسے توقع نہیں تھی کہ اتنی جلدی اس کا سامنا اس شخص سے دوبارہ ہوگا۔

ایئرپورٹ پہ کھڑا وہ شخص، جو پانچ سال پہلے لاابالی سا تھا اور بدتمیز اور بدلحاظ بھی۔ ان پانچ سالوں میں اس میں اتنا ہی بدلاؤ آیا تھا کہ وہ اب میچور نظر آنے لگا تھا۔ وہ کوئی اور نہیں،  فروین کا پانچ سال پرانا فیانسی، تبریز جیلانی تھا۔ جس کے چہرے پہ بیزاریت واضح تھا اور ” فروین ” کے نام کا بورڈ، ہاتھ میں لیے کھڑا،  مسلسل بڑبڑا رہا تھا۔

“یہ منحوس موٹی کب باہر آئے گی؟”

اس کے پیچھے کھڑا، اس کا بٹلر بولا،

 “تبریز سر، تھوڑا حوصلہ رکھیں اپ۔ سنا نہیں تھا آپ نے جیلانی سر کی بات؟؟ بلکہ ہدایت کی تھی آپ کو کہ اگر اینگجمنٹ بھی ختم کرنا چاہ رہے ہو ہم تو بھی اس نازک وقت میں،  معاملات کو زیادہ پیچیدہ نہیں بنائی جائے”

تبریز نے ناگواری سے آبرو اچکائے تھے۔ وہ اس وقت بےحد چڑچڑا  چڑچڑا نظر آ رہا تھا کہ بڑے دادا نے اسے ہی کیوں ایئرپورٹ بھیجا تھا اس موٹی بھینس کو لینے۔

“صبر؟ زیادہ مناسب لفظ نفرت ہوگا! وہ پہلے ہی اتنی موٹی تھی؛ اور، بچہ پیدا کرنے کے بعد تو یقیناً اور بھی موٹی ہو گئی ہوگی۔ وہ تو منگنی بچانے کے لیے اب اور زیادہ بے تاب ہوگی، ہے نا؟ میں اتنا بدنصیب کیوں ہوں کہ اس موٹی سے جان نہیں چھوٹتی میری ؟!”

یہ باتیں قریب آتی فروین کے کانوں تک بھی  پہنچی، وہ اتنی اونچی آواز میں بول رہا تھا کہ قریب سے گزرتا کوئی بھی سن سکتا تھا لیکن اس کے چہرے پر ذرہ برابر بھی فرق نہ آیا، وہ ویسے ہی سرد تاثرات کے ساتھ سامنے دیکھ رہی تھی۔

پچھلے پانچ سالوں میں، اس نے بار بار منگنی ختم کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ لیکن نہ تو مہر کاظم  اور نہ ہی جیلانی صاحب نے اس کی اجازت دی تھی۔ آخر کون کس سے چھٹکارا پانا چاہتا تھا ؟؟ یہ شاید تبریز جیلانی کے بوسیدہ دماغ میں بیٹھ ہی نہیں رہا تھا۔

وہ اس بدلحاظ شخص کی طرف کوئی توجہ دیے بغیر شمائل کے ساتھ فوراً وہاں سے نکلنے کا ارادہ رکھتی تھی جب تبریز بڑبڑانے کے بعد مڑ تھا تاکہ دیکھ سکے کہ اس کی مطلوبہ موٹی بھینس آئی بھی ہے کہ نہیں،  نظر بےساختہ فروین پہ جا کے ٹھہری تھی جو بےحد خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ، اسٹائلش بھی تھی اور بےحد نزاکت سے چلتی، وہ شمائل کے ساتھ باہر کی طرف جا رہی تھی لیکن تبریز کو اس لمحے لگا کہ جیسے پورا ایئرپورٹ جیسے بہار کا سماں پیش کر رہا ہو۔

” ایکسکیوز می،  مے آئی اسک یور نیم پلیز ؟”

فروین کے قریب آتے ہی، تبریز نے بےساختہ سوال کیا تھا۔ فروین نے بنا کوئی جواب دیے سرد آنکھوں سے اسے دیکھا تھا کہ جس قدر نفرت وہ شخص اس کے اندر انڈیل چکا تھا وہ امڈ کے اس کی آنکھوں میں ساکت ہو چکی تھی۔

” فروین مہر کاظم “،

شمائل، جو اپنا سر جھکائے موبائل گیم کھیل رہی تھی، نے اچانک تبریز کے ہاتھ میں پکڑے ہوئے اس بورڈ کی طرف اشارہ کیا اور اس پر لکھا ہوا نام اپنی نرم اور معصوم آواز میں پڑھا۔ پھر وہ پرجوش ہو کر بولی،

 “کیا میں نے صحیح پڑھا؟”

شمائل ساری زندگی بیرون ملک پلی بڑھی تھی اور اس وقت پڑھنے لکھنے کے مرحلے میں تھی، تبھی اسے اردو صحیح سے سمجھ نہیں آتی تھی پھر بھی اپنی کوشش کر لی تھی اس نے۔

فروین نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور سرد لیکن نرم لہجے میں جواب دیا۔

 “ہاں، تم نے صحیح پڑھا۔”

تبریز اس کی ہونٹوں پر موجود ہلکی سی مسکراہٹ دیکھ کے مدہوش سا ہو گیا تھا۔ اس قدر خوبصورت اور دلفریب عورت یہاں پاکستان کیسے پہنچ گئی؟؟ یہ تو جیسے کوئی ماڈل یا کوئی ایکٹریس لیکن شاید ان سے بھی زیادہ حسین اور دلکش کہ تبریز جیلانی اپنی نظریں ہٹانا بھول گیا تھا جیسے۔

فروین اس کی نظروں کی تپش سے بے نیاز ادھر ادھردیکھ رہی تھئ ،  جب اچانک شمائل معصومیت سے پلکیں جھپکاتی، تبریز سے پوچھنے لگی۔

“انکل، کیا آپ ہمیں…”

اس سے پہلے کہ شمائل اپنی بات مکمل کرتی، تبریز ہاتھ میں موجود، نام کا بورڈ پیچھے پھینک چکا تھا اور مسکرا کے شمائل کو دیکھنے لگا۔

“بالکل نہیں، لٹل پرنسز۔ میرا اُس موٹی بھینس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔”

اس کے بدلحاظی سے بات کرنے پہ، شمائل کی بڑی آنکھوں میں ناگواری ظاہر ہوئی تھی ۔

“انکل، کتنے افسوس کی بات ہے کہ آپ اتنی کم عمری میں اندھے ہوگئے، افسوس!”

شمائل کو لگا کہ تبریز شاید اس کی ماں کے بارے میں بات کر رہا ہے کیونکہ وہ فروین کے نام کا وہ بورڈ بھی ہیچھے گرا چکا تھا۔ شمائل کی بات پہ، تبریز لمحہ بھر کے لیے حیران ہوا اور موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فروین لب بھینچے آگے بڑھ گئی ۔ تبریز نے اس کے پیچھے جانے کی کوشش کی، لیکن اس کے اسسٹنٹ نے  اسے روک دیا۔ “مسٹر تبریز، جیلانی صاحب کی ہدایات مت بھولیں۔”

تبریز جو فروین کو جاتا دیکھ رہا تھا،  سر جھٹک کے، لب بھینچ گیا۔

“کاش وہ بدصورت، موٹی بھینس، ان بہنوں کی آدھی بھی خوبصورت ہوتی! تو میں اس کے پرانے ڈرامے سہہ لیتا اور منگنی توڑنے کا فیصلہ نہ کرتا!”

تبریز نے نفرت بھرے انداز پہ تبصرہ کیا۔

. ꧁༺♡ MaseerEMemnu ♡༻꧂

مہدی کارپوریشن کے زیرِ انتظام ہوٹل فائنیسٹ کے صدارتی سویٹ میں، شمائل کے سو جانے کے بعد فروین  نے اپنا موبائل فون دیکھا۔ اس پر مہر کاظم کے سات یا آٹھ مس کالز موجود تھیں۔

جب اس نے دوبارہ کال کی تو اسے مہر کاظم کی غصے سے بھری ہوئی آواز سنائی دی:

” فروین، یہ تم کیا کر رہی ہو؟ فون کیوں نہیں اٹھا رہی؟ تم ہی منگنی توڑنے کے لیے شور مچا رہی تھی، اب فوراً واپس آؤ! اپنی چھوٹی بہن اور تبریز کا وقت ضائع مت کرو، وہ دونوں اپنی زندگی بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں!”

مہر کاظم کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ جیلانی صاحب جیسے باوقار شخصیت سے تعلق ختم کریں، خاص طور پر اس سب کے بعد، جب انہوں نے اتنی محنت سے، بزنس کی دنیا میں اپنی اعلی حیثیت میں بنائی تھی کیونکہ فروین اور تبریز کی منگنی سے، لوگ مہر کاظم کو جاننے لگے تھے اور ان سے بزنس ڈیلز بھی کرنے لگے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ منگنی توڑنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

اب، جب جیلانی صاحب نے فروین کی سوتیلی بہن، اریشہ کے ساتھ یہ رشتہ قائم کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی، تو مہر کاظم کو اس میں کوئی نقصان نظر نہیں آیا۔ اسی کے ساتھ دونوں خاندانوں کے درمیان معاملہ طے پا گیا۔

 “میں ابھی آتی ہوں۔”

فروین نے ہلکی آواز میں کہہ کے کال ڈسکنیکٹ کر دی۔ گہرا سانس لیتی، لب بھینچے وہ مہر کاظم کی سرد آواز کو سوچے گئی۔ بچپن سے جوانی تک، وہ مہر کاظم سے پدرانہ شفقت کے لئے ترستی رہی تھی۔ اس کی ماں کے وفات کے فورا بعد، مہر کاظم نے جو دوسری شادی کیا کی، وہ مکمل فروین کو فراموش کر گیا اور پھر وہ اس قدر سفاک اور ظالم بن گیا کہ فروین کے بچوں کو، اس سے چھیننا چاہا لیکن پھر بھی وہ شمائل کو تو بچا گئی لیکن اس کا بیٹا، وہ نہ جانے کہاں ہوگا ؟؟ کس کے پاس ہوگا ؟؟ کس کو دے دیا ہوگا ؟؟ اس کا مقصد صرف اپنے بیٹے کو ڈھونڈنا تھا اور وہ متیقن تھی کہ اپنے بیٹے کو وہ ڈھونڈ لے گی۔

” فروین میم، کیا سوچ رہی ہے ؟؟”

مس مارٹا، جو کہ شمائل کی آیا تھی، کے سوال پہ، فروین چونک کے کندھے اچکا گئی۔

” مس مارٹا، مجھے اپنے بیٹے کو ڈھونڈنا ہے ۔ “

” میں جانتی ہے فروین میم، ہم پاکستان ہی تو اس لئے آئی ہیں کہ آپ کے بیٹے کو ڈھونڈ سکے اور پھر اس پرنس کو لے کے، ہم واپس امریکہ جائیں۔ “

مارٹا کے پریقین انداز پہ فروین مسکرانے لگی اور پھر سر جھٹک کے اٹھ کھڑی ہوئی ۔

” مجھے جانا ہوگا، جو حساب رہتا ہے ماضی میں میرا، وہ حساب تمام کرنا ہے آج “

” تو کافی پیو ۔ پھر چلی جانا، تھک گئی ہو “

مارٹا کافی کا کپ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہنے لگی تو وہ بھی مسکرا کے کافی کا کپ تھام گئی۔

” تھینک یو مس مارٹا، میرا اور شمائل کا خیال رکھنے کے لئے، خالہ کے بعد، آپ ہی ہے جس پہ مجھے ہمیشہ مان اور یقین ہے “

مارٹا نے مسکرا کے، فروین کے گال، ہاتھ سے چھوئے تھے۔

” تم میری بیٹی جیسی ہو فروین۔ یہ سب کہہ کے مجھے شرمندہ مت کرو”

شمائل کو اس کی آیا، مس مارٹا، کے سپرد کیا، جو بیرون ملک سے ان کے ساتھ واپس آئی تھی، اور باہر نکل آئی۔ وہ ایک عیسائی خاتون تھی لیکن بےحد اچھی خاتون تھی اور فروین کی خالہ کے بعد، مس مارٹا ہی تھی، جس نے ہر مرحلے پہ، فروین کا ساتھ دیا۔

 وہ لفٹ کا انتظار کر رہی تھی، جب اچانک اسے نرم قدموں کی آواز سنائی دی۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو ایک بچہ، جو شرٹ اور ٹراوزر میں ملبوس، الجھے ہوئے بالوں کے ساتھ نیند بھری آنکھوں کے ساتھ لفٹ کے ہال میں کھڑا تھا۔

اس کے چھوٹے بال تھے لیکن  اس کے خوبصورت نقوش کی وجہ سے یہ کہنا مشکل تھا کہ وہ لڑکی ہے یا لڑکا۔

جب وہ بیرون ملک رہ رہے تھے، تو شمائل ہر بار اس کے باہر جانے سے پہلے اسے گلے لگایا کرتی تھی اور اس وقت بھی فروین اس بچے کو دیکھ کے، کسی ٹرانس کی کیفیت میں، عادتاً جھکی اوراس بچے کو گلے لگایا اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا جیسے وہ شمائل کو گلے لگا رہی ہو، اسے محسوس ہوا تھا کہ اس بچے کی نیند بھری آنکھیں کس قدر اپنی اپنی سی لگ رہی ہے، اگرچہ اس کی آواز دھیمی تھی، مگر بہت نرم تھی۔

“بیٹا، میں آج رات تمہارے لیے موس کیک لے کر آؤں گی۔ اب واپس اپنے کمرے میں جاؤ۔”

اس کی نیند بھری آنکھیں، لمحہ بھر کے لیے حیران ہوئی—شاید وہ اتنی نیند میں تھی کہ سوچنے سمجھنے کے قابل بھی نہیں تھی۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا اور مڑ کے جانے لگا۔

یہ منزل صدارتی سویٹ کی اعلیٰ ترین منزل تھی، اور یہاں صرف دو سویٹس موجود تھے۔

ایک وہ تھا جس میں فروین اور شمائل ٹھہرے ہوئے تھے، اور دوسرا سویٹ، کہا جاتا ہے، کہ ثالث مہدی نے اپنے لیے محفوظ رکھا ہوا تھا اور یہ عام لوگوں کے لیے دستیاب نہیں تھا۔

“ڈنگ!” لفٹ پہنچ گئی۔

فروین فوراً اس میں داخل ہو گئی۔ لہٰذا، وہ یہ نہ دیکھ سکی کہ دوسرے صدارتی سویٹ کا دروازہ کھلا۔

ایک لمبا، مضبوط اور پروقار شخصیت کا حامل شخص باہر آیا۔ اس کی کمر لفٹ کے دروازے کی طرف تھی۔ اس کی آواز گہری اور سنجیدہ تھی، اور اس کے وجود میں عجب رعب سا تھا جو دوسروں کو اس شخص سے فاصلہ رکھنے پہ مجبور کرتا تھا۔

“واپس اپنے کمرے میں جاؤ، حارث۔”

اس نے، اس پانچ سالہ حارث مہدی کو واپس کمرے میں جانے کا حکم دیا تھا جبکہ حارث ابھی بھی لفٹ کی طرف دیکھتے ہوئے حیرت سے نظریں جمائے رکھی ہوئی تھی ۔

اس خاتون کے نرم گلے اور ماتھے پر بوسے نے، جو ابھی گئی تھی، مہدی خاندان کے واحد پوتے کو اب شرمندہ سی کر رہی تھی۔ 

اس کا چہرہ پل بھر میں سپاٹ ہو گیا۔ اسے بچپن سے ہی سخت تربیت دی گئی تھی، حتیٰ کہ اس کے کھانے کی غذائیت کا بھی حساب رکھا جاتا تھا۔

لیکن ایک عجیب سی خواہش اچانک اس لڑکے کے دل میں پیدا ہوئی، جو ہمیشہ اپنے جذبات پر قابو رکھتا تھا:

“میں موس کیک کھانا چاہتا ہوں۔”

ثالث مہدی نے اسے ایک نظر دیکھا اور پھر لب بھینچے، ایک ہاتھ سے اٹھا کر کمرے میں لے گیا۔

اپنی رعب دار شخصیت کے ساتھ، جس میں کوئی اس کے قریب آنے کی ہمت نہیں کر سکتا تھا، وہ کمپیوٹر کے پاس گیا اور ویڈیو کانفرنس دوبارہ شروع کر دی۔

دوسری طرف موجود شخص نے رپورٹ دی:

“مسٹر ثالث مہدی، ہمیں تصدیق ہو چکی ہے کہ فروین مہر کاظم واقعی پاکستان واپس آ چکی ہے۔ اس کے علاوہ، ہم نے بڑی قیمت پر اس کی ایک تصویر خریدی ہے۔ میں اسے فوراً آپ کو بھیجتا ہوں۔”

ثالث مہدی کے ہونٹوں سے سرد لہجے میں دو الفاظ نکلے:

“اسے ڈھونڈو!”

. ꧁༺♡ MaseerEMemnu ♡༻꧂