153.3K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maseer e Mamnu Episode 09

“وہ بچہ… یہ سب ڈیڈ نے سنبھالا تھا۔ انہوں نے مجھے کبھی کچھ نہیں بتایا۔ مجھے کچھ نہیں پتا…”

روتی ہوئی اریشہ کی باتیں غیر واضح تھیں۔ چونکہ دوسرے لوگ اس سے کچھ فاصلے پر تھے، وہ اس کی باتیں صاف نہیں سن سکے۔

فروین کے ماتھے پہ بل پڑ گئے، جس سے اریشہ اتنی خوفزدہ ہوئی کہ اس نے فوراً دوبارہ بولنا شروع کر دیا۔ “مجھے واقعی کچھ نہیں پتا! میں قسم کھاتی ہوں! اگر میں جھوٹ بول رہی ہوں تو میرا چہرہ داغ دار ہو جائے! میرے چہرے پہ بڑے بڑے پمپلز آ جائے ۔ “

اریشہ بچپن سے ہی خوبصورت ہونے کو ترجیح دیتی تھی اور ہمیشہ یہ حقیقت کہ اس نے اتنی سخت قسم کھائی، ظاہر کرتی تھی کہ اسے واقعی کچھ نہیں پتا۔

فروین اپنی مایوسی چھپا نہ سکی۔ اسے مزید وقت ضائع کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی اور وہ آہستہ سے اٹھی اور باہر چلی گئی۔

جب ثالث کے قریب سے گزرنے لگی، تو فروین کو خیال آیا کہ اس نے ابھی جو کچھ یہاں اریشہ کے ساتھ کیا، اسے لے کے ثالث مہدی کیا سوچ رہا ہوگا۔ وہ اپنے اس رویے کی وضاحت دینا چاہتی تھی اور تبھی اس نے رک کے، ثالث کی طرف دیکھا۔ وہ بھی فروین کو ہی دیکھ رہا تھا اپنی پراسرار اور گہری نگاہوں سے۔ فروین کچھ دیر کے لئے سوچنے لگی اور پھر اس کے لب نیم وا ہوئے تھے لیکن کچھ کہنے سے پہلے ہی، اس پہ جو نیند کا غلبہ تھا وہ اپنی جمائی نہ روک پا رہی تھی۔ دراصل، فروین جو دوائیاں استعمال کر رہی تھی، اس میں نیند کا اثر بھی شامل تھا اور اسی لئے فروین کو ڈاکٹر کی طرف سے سخت تاکید تھی کہ وہ 12 گھنٹے کی نیند ضرور لیا کرے اور اس وقت بھی انہی دوائیوں کا اثر تھا کہ وہ اپنی جمائی نہ روک پائی تھی۔

ثالث مہدی لب بھینچے اسے دیکھ رہا تھا جبکہ پیچھے کھڑے سجاد کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا جو اریشہ کو مارنے کا معاملہ تو ایک طرف، لیکن اب وہ جمائی لے کر مسٹر ثالث کے سامنے اتنے غرور سے پیش آ رہی تھی؟ کیا وہ اپنی برتری ظاہر کر رہی تھی؟

 “میں نے ایکچوئیلی آپ کو چیلنج کرنے کی کوشش نہیں کی، مسٹر ثالث مہدی۔ “

فروین نے آہستگی سے کہا،  سجاد کے لبوں کے کنارے تھوڑے سے پھڑک اٹھے۔ صرف کوئی بے وقوف ہی اس بات پر یقین کرے گا! وہ طنزیہ جواب دینے ہی والا تھا کہ اس نے اپنے باس کی برف جیسی سرد آواز سنی:

“… ہمم۔”

اس نے ہنکارا بھرا تھا، سجاد اپنے باس کے اس ردعمل سے حیران رہ گیا۔ وضاحت دینے کے بعد، فروین آہستہ سے اس کے پاس سے گزرتی چلی گئی۔ ثالث مہدی کی نظروں نے اس کو تعاقب کیا۔ وہ ایک سیدھی اور کھری عورت تھی،  اس کے انداز میں کوئی بناؤٹ یا دل لبھانے والی نرمی نہیں تھی کہ وہ اپنے انداز یا الفاظ سے، ثالث مہدی کو زیر کرنا چاہے۔ وہ جو تھی اس کے سامنے تھی، صاف، سادہ لیکن غصے سے بھرپور، جسے شاید کسی چیز کی تلاش تھی، اور وہ اسے پانے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے لیکن شاید اسے مل نہیں پایا تبھی وہ اداس سی نظر آئی ثالث مہدی کو۔ بلکل اچانک ثالث مہدی کے دل میں، یہ خواہش جاگی کہ وہ اس عورت کی مدد کرے۔ کسی بھی طرح وہ فروین مہر کاظم کی مدد کرنے کی خواہش رکھتا تھا۔

ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا جب پیچھے کھڑے سجاد کی آواز ابھری۔

“یہ تو اچھا ہوا کہ آپ نے انہیں لڑنے سے منع کر دیا۔ ورنہ مس فروین کی مہارت دیکھتے ہوئے، وہ امیر زادے اس کے ہاتھوں بری طرح پٹ جاتے۔”

سجاد نے رک کے ایک نظر ثالث مہدی کے سنجیدہ چہرے کا جائزہ لیا۔

 “لیکن کیا واقعی اس نے غلط سوچا کہ آپ اسے بچا رہے تھے؟ وہ پہلے ہی حارث کے ذریعے آپ کے قریب آنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر اس نے ایسا کچھ غلط سمجھ لیا تو اسے دور کرنا اور بھی مشکل ہو جائے گا!”

ثالث سرد نظروں سے اسے گھورا۔

 “تم بہت بکواس کر  رہے ہو۔”

سجاد فورا خاموش ہو گیا اور نظریں چرانے لگا جبکہ دوسری طرف، شمائل ایک چھوٹی سی ٹی شرٹ، ڈینگی اوورآل، کاؤ بوائے ہیٹ، اور دھوپ کے چشمے پہنے ہوئے تھی، وہ ایک دلکش ہپ ہاپ اسٹائل میں ملبوس لگ رہی تھی۔ وہ اچھلتی ہوئی کیفے میں داخل ہوئی اور اپنا موبائل فون اٹھایا تو دیکھا کہ طلال  نے اسے کئی ٹیکسٹ میسجز بھیجے تھے۔

“کیا تم پہنچ گئی ہو؟ تم پہلے ہی دس منٹ لیٹ ہو!”

“کہیں ایسا تو نہیں کہ تم بھاگ گئی ہو کیونکہ تم واقعی ایک سپر کیوٹ لڑکی ہو؟”

شمائل جواب دینے ہی والی تھی کہ اسے طلال کی کال موصول ہوئی۔ اس نے فون اٹھایا اور کہا،

 “میں یہاں ہوں، ایکس طلال ! ٹیبل نمبر 25… 26… 28!”

طلال پہلے ہی وہاں موجود تھا، وہ منہ بنائے بیٹھا ہوا تھا جبکہ اس کے سامنے تین خالی گلاس پڑے تھے۔

“ہاں، ہاں، ٹیبل نمبر 28، بالکل صحیح۔ تم یہاں ہو؟ کہاں ہو؟”

“نیچے دیکھو۔”

اس نے نیچے دیکھا اور ایک کاؤ بوائے ہیٹ نظر آیا۔

اس کی نظر ہیٹ سے نیچے گئی تو اس نے اپنے بھتیجے، حارث، کا انتہائی مانوس چہرہ دیکھا۔ طلال حیرت زدہ ہو گیا۔ اس نے اپنی آنکھیں ملیں اور دوبارہ کھولیں—لیکن سامنے موجود بچہ وہی تھا۔ وہ مزید الجھن کا شکار ہو گیا اور لاشعوری طور پر فون میں کہا

“لیڈر؟”

“میں یہاں ہوں، ایکس طلال۔ “

اس کے برابر اس کے کم عمر بھتیجے کی بچگانہ آواز سنائی دی۔ فون سے ایک مانوس لڑکی جیسی آواز آ رہی تھی۔ یہ دونوں آوازیں آپس میں ملیں، اور طلال ایسے کرسی میں دھنس گیا جیسے اس نے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو۔ اس نے حیرت سے شمائل کی طرف دیکھا اور ہکلایا،

 “ل-ل-لیڈر؟”

شمائل نے اپنی بڑی، گول آنکھیں جھپکائیں۔

“ہاں، میں ہی ہوں۔”

اسے بھی توقع نہیں تھی کہ ایکس طلال اس کا انکل نکلے گا۔ دونوں نے تو اس کے ڈیڈی( ثالث مہدی ) کے ساتھ پیزا تک کھایا تھا! شمائل نے فون بند کیا، سامنے والی کرسی پر چڑھی، اور بیٹھ گئی۔ پھر اس نے ویٹریس سے کہا،

 “ایک گلاس دودھ، پلیز۔ میں ابھی بڑی ہو رہی ہوں، اس لیے کافی نہیں پی سکتی۔ تھینک یو۔ “

اس کی معصومیت نے ویٹریس کا دل پگھلا دیا۔

“بالکل، کیوٹ گرل ۔ ابھی لاتی ہوں۔”

پھر وہ جلدی سے دودھ لینے بھاگ گئی۔ طلال کو ایسا محسوس ہوا جیسے آسمان اس پر گر پڑا ہو۔

کیا یہ واقعی وہی بھتیجا تھا جو ہمیشہ الفاظ کے ساتھ اناڑی رہا تھا؟ یہ تو صاف ظاہر ہے کہ وہ ثالث کو لے کے  ہمیشہ مذاق کرتا تھا! اور! مہدی فیملی میں پہلے ہی ایک ایسا فرد کافی تھا یعنی وہ خود، جو اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو کر سارا دن گیمز کھیلتا رہتا تھا۔ حارث تو واحد پوتا تھا! وہ ثالث کا اکلوتا بیٹا تھا!

اگر ثالث کو یہ پتا چل گیا کہ وہ حارث کے ساتھ گیمز کھیل رہا تھا… اس سوچ کے آتے ہی، طلال نے مشکل سے تھوک نگلا۔ اسے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اپنی قبر دیکھ رہا ہو۔ وہ سے کانپ اٹھا۔ اچانک، اسے کچھ یاد آیا اور وہ گھبرا کر اپنی جگہ سے اچھل پڑا:

“ش-شٹ! ساڑھے آٹھ بج چکے ہیں! ثالث جلد ہی واپس آنے والا ہے! حارث، فوراً اوپر جا کر اپنا ہوم ورک کرو، ورنہ ثالث ہم دونوں کو مار ڈالے گا!”

اس نے جلدی سے میز پر پیسے پھینکے، شمائل کو اٹھایا، اور ایسے دوڑنے لگا جیسے وہ 100 میٹر ریس میں مقابلہ کر رہا ہو لیکن جیسے ہی وہ دروازے کے پاس پہنچا، اس نے فوراً دیکھا کہ ثالث بار سے باڈی گارڈز کے ساتھ باہر نکل رہا ہے اور لفٹ کے لیے انتظار کر رہا ہے۔

طلال سکتے میں آ گیا۔ اس نے شمائل کو نیچے اتارا اور فوراً کہا،

“سیڑھیوں سے دوسرے فلور پر چلے جاؤ، جب تک میں ثالث کو روکتا ہوں۔ پھر فوراً ٹاپ فلور پر چلے جانا! کسی کو پتہ نہ چلے!”

شمائل کے جواب کا انتظار کیے بغیر، طلال، ثالث کی طرف ایسے دوڑا جیسے اپنی موت کو گلے لگانے کے لیے تیار ہو۔

” ثالث، مجھے تم سے بات کرنی ہے۔”

 “… کس قسم کی بات؟”

ثالث کے پوچھنے پہ، طلال نے مسکرانے کی ناکام کوشش کی کہ  اس کی سرد نگاہوں کا سامنا کرتے ہوئے ہمت مجتمع کرنے لگا۔

، “ایک… دل سے… دل کی بات۔”

“میرے پاس وقت نہیں ہے،”

ثالث نے سرد لہجے میں کہا اور لفٹ میں داخل ہو گیا۔

طلال اس کے پیچھے چلا گیا۔ زیادہ وقت لگانے کے لیے، اس نے گھبراہٹ میں لفٹ کے ہر فلور کے بٹن دبا دیے۔

 ” ث۔۔ ثالث، صرف تھوڑا سا وقت ملے گا…”

ثالث نے اپنی آنکھیں سکڑیں اور ہلکی ناپسندیدگی کے ساتھ کہا،

“بہتر ہوگا کہ انسان بن کے،  بات بتاؤ مجھے کہ کیا مسئلہ ہے اگر کوئی مسئلہ ہے تو “

” ثالث، میرے خیال میں میں…”

 طلال نے اپنے دماغ پر زور دیا لیکن کوئی مسئلہ سوچ نہ پایا۔ آخر کار اس نے زبردستی کہا،۔

 “مجھے… عورتیں پسند نہیں؟”

یہ بات کہنے کے بعد، وہ خود بھی حیران رہ گیا اپنی ہی کہی ہوئی بات پہ۔ کیا بکواس کی ہے میں نے؟ وہ خود کو کوسنے لگا اور جب ثالث کی گھورتی نگاہیں دیکھیں تو وہ مزید  گھبرا گیا۔

 “نہیں، میرا مطلب وہ نہیں تھا، ثالث۔ میں…”

افراتفری میں مبتلا طلال نے بہت سی بے ترتیب باتیں کیں، یہاں تک کہ  اس نے ہر ممکن کوشش کی اپنا اور ثالث کا وقت برباد کر سکے اور تبھی جب وہ ٹاپ فلور پر پہنچے اور دروازہ کھولا، تو حارث کو میز پر اطاعت سے بیٹھ کر پڑھائی کرتے دیکھ کر اس نے سکون کا سانس لیا۔ جب اس نے دیکھا کہ ثالث اسٹڈی میں داخل ہو گیا ہے، تو وہ چپکے سے حارث کے قریب گیا اور آنکھ ونک کی ۔

“تمہارے لیے، میں مکمل طور پر غلط سمجھا گیا ہوں…”

حارث نے اس کی بے مطلب باتیں سن کر اپنے دماغ میں آہستہ آہستہ ایک سوالیہ نشان بنتے دیکھا: ؟ کیا انکل طلال پاگل ہو گئے ہیں؟

جبکہ یہاں شمائل، جو حیران تھی کہ اس کے ڈیڈی اور انکل لفٹ میں چلے گئے، اپنی چھوٹی ٹانگوں کے ساتھ ان کے پیچھے دوڑی۔ بدقسمتی سے، وہ لفٹ نہیں پکڑ سکی۔

کیا انکل نے ابھی اسے ٹاپ فلور پر جانے کو کہا تھا؟

کیا ٹاپ فلور پر صرف دو صدارتی سویٹس نہیں تھے؟

تو کیا اس کا ڈیڈی وہ “ڈمی” تھا جس کا ممی نے ذکر کیا تھا؟

وہ ٹاپ فلور پر جا کر اپنے ڈیڈی سے پوچھنے والی تھی کہ اس نے ممی اور اسے نیچے کیوں بھیجا! کیا ڈیڈی اب اسے پسند نہیں کرتے؟

یہ سوچتے ہوئے، اس نے لفٹ میں قدم رکھا، انگلیوں کے بل کھڑی ہو کر ٹاپ فلور کا بٹن دبایا۔

Hotel Finest

کے انتظامات بہت سخت تھے، اور لفٹ میں جانے کے لیے بھی کمرے کا کارڈ درکار ہوتا تھا۔

شمائل کا کمرہ ٹاپ فلور پر نہیں تھا، اس لیے کارڈ ریڈر پر کارڈ سوائپ کرنے کے باوجود وہ ٹاپ فلور کے بٹن کو روشن نہیں کر سکی۔ اس نے اداس ہو کے، منہ بنایا۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد، اس نے فیصلہ کیا کہ فی الحال 38ویں منزل پر، جہاں اس کا کمرہ تھا، واپس جائے اور پھر سیڑھیوں کے ذریعے اوپر جائے گی۔

لیکن جیسے ہی وہ لفٹ سے باہر نکلی، اس کی ملاقات فروین سے ہو گئی۔ شمائل نےفوراً اپنے پلان پہ کراس کا نشان بنایا ۔

وہ کل بھی اپنے ڈیڈی کو ڈھونڈ سکتی تھی، لیکن اس وقت ممی واضح طور پر کچھ افسردہ لگ رہی تھی ۔

فروین نے کئی نجی جاسوسوں سے رابطہ کیا تھا، لیکن ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا تھا۔ آخر کار، اگر اریشہ کو بھی اس کے بیٹے کے بارے میں کچھ نہیں معلوم تھا، تو شاید اس کے ڈیڈ ہی واحد شخص تھے جو حقیقت جانتے تھے لیکن اس کے والد سے شرائط پر بات کرنا… وہ اریشہ جیسے سادہ دماغ کے نہیں تھے۔

فروین اپنی سوچوں میں گم تھی، ایک چھوٹا سا وجود اچھل کر آیا اور اس کی ٹانگ سے لپٹ گیا۔

“ممی، میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں!”

اس کے خیالات میں خلل پڑا، تو فروین نے اس کا سر سہلاتے ہوئے نرمی سے پوچھا،

“مس مارٹا کے ساتھ کہاں گھومنے گئی تھیں؟”

شمائل نے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو دیکھا اور جھوٹ بولتے وقت شمائل کی آنکھوں میں دیکھنے کی ہمت نہ کی۔

 “ہم صرف ہوٹل کے ارد گرد ہی گھومے۔ یہاں کچھ خاص نہیں تھا انجوائے منٹ کے لئے۔ ممی، میں آپ کے ساتھ سوؤں گی۔”

فروین نے “ٹھیک ہے” کہا اور دروازہ کھولا۔

پھر اس نے مڑ کر دیکھا کہ شمائل دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے دلکش انداز میں کھڑی ہے۔

“ممی، اگر آپ کو میرے بھائی کی یاد آتی ہے، تو آپ مجھے دیکھ لیا کریں۔ وہ بھی یقینا میرے جیسا ہی لگتا ہوگا۔ ہم ٹوینز بہن بھائی ہیں، آخر!”

فروین نے مسکراتے ہوئے کہا،

“لڑکے اور لڑکی کے ٹوینز بہن بھائی ایک جیسے نہیں  ہوتے ہیں۔ وہ عام بہن بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں، اس لیے ان کا بالکل ایک جیسا نظر آنا مشکل ہوتا ہے۔”

شمائل نے مایوسی سے سر جھکا لیا۔

 “کیا واقعی؟ میں نے سوچا تھا کہ وہ بالکل میرے جیسا ہوگا۔”

فروین نے ہنستے ہوئے اسے اندر لے جا کر کمرے میں پہنچایا۔ نہا کر، دونوں بیڈ پر لیٹ گئیں تھیں کہ فروین کا موبائل فون بجا—کال مہر کاظم کی طرف سے تھی۔ فروین نے لب بھینچ لیے اور ایک لمحے کے لیے غور کیا۔ پھر اس نے فون بند کر دیا اور شمائل کے ساتھ سو گئی۔

اگلے دن جب وہ جاگی، تو شمائل پہلے ہی خاموشی سے بیڈ سے نکل چکی تھی اور باہر مس مارٹا کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ فروین نے اپنے موبائل فون پر نظر ڈالی۔ مہر کاظم کی درجنوں مس کالز کے علاوہ، ایک کال اس کی پھوپھی کی بھی تھی۔ پھوپھی نے ان سالوں میں اس کے ساتھ سب سے زیادہ مہربانی کا رویہ رکھا تھا۔ اسی وجہ سے اس کا سومیا کے ساتھ بھی اچھا تعلق تھا۔ فروین نے دوبارہ کال کیا اپنی پھوپھی کو۔

فون بہت جلدی اٹھایا گیا، لیکن ان کے بجائے، مہر کاظم کی آواز سنائی دی:

“میں تو سوچ رہا تھا کہ تم نے ہمیں چھوڑ ہی دیا ہے، فروین!”

فروین نے سستی سے لب کاٹے اور کچھ کھانے کے لیے بستر سے نکل آئی۔

 “کیا بات ہے؟”

“یہ کیا طریقہ ہے؟ مجھے تم سے کچھ پوچھنا ہے—تمہاری بےشرمی کا میں کیا کروں فروین؟ کب سدھرو گی تم؟؟ تمہاری بہن کو پروپوز کرنے والا تھا تبریز جیلانی اور تم نے سب برباد کر دیا اور یہ سب تو کیا کیا، لیکن ساتھ ہی اریشہ کو مارا بھی۔ یہ اوقات ہی تمہاری ؟؟ تم خود یہ کہتی رہی ہو کہ منگنی ختم کرنا چاہتی ہو۔ اب جب کہ تمہاری بات مان لی گئی ہے، تو تم تبریز کے آگے پیچھے دوبارہ گھومنے کی کوشش کیوں کر رہی ہو؟ وہ تمہاری بہن کا منگیتر ہے!”

یہ ہمیشہ سے ہی ایسا ہوتا آیا تھا۔ بچپن سے ہی جب بھی فروین اور اریشہ کے درمیان کوئی اختلاف ہوتا، مہر کاظم بغیر سچائی جانے فوراً فروین کو قصوروار ٹھہرا دیتا اور اب فروین اس کی عادی ہو چکی تھی۔

“وہ ابھی تک اس کا منگیتر نہیں ہے، ہے نا؟”

فروین کے چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ ابھری تھی۔

“وہ بہت جلد میرا داماد بننے والا تھا، لیکن تم نے سب کچھ بگاڑ دیا! فوراً واپس آؤ اور اپنی بہن سے معافی مانگو! ورنہ مجھ پر الزام نہ لگانا اگر میں تمہیں اپنی جائیداد سے نکال دوں!”

“جو کرنا ہے کریں۔ “

فروین نے سرد لہجے میں جواب دے کر فون بند کرنے ہی والی تھی کہ مہر کاظم کے غصے سے چلانے کی آواز آئی،

“تم ناشکری عورت! نہ صرف میری نافرمانی کر رہی ہو بلکہ کیا تمہیں یہ بھی پروا نہیں کہ تمہاری پھوپھی زندہ رہتی ہے یا مر جاتی ہے؟!”

فروین رک گئی۔ “انہیں کیا ہوا؟”

“کیا ہوا؟ ان کے دماغ میں ٹیومر ہے! اگر تمہارے اندر ذرا بھی ضمیر ہے تو فوراً ٹاؤن کے اسپتال آ جاؤ۔ ورنہ تم اپنی پھوپھی کو آخری بار بھی نہیں دیکھ سکو گی!”

“…میں ابھی آ رہی ہوں۔”