153.3K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maseer E Mamnu Episode 14

“تم نے کل رات گیم پر لاگ ان کیوں نہیں کیا۔۔۔؟”

طلال منہ میں بریڈ ٹھونسے ہوئے دھیمی آواز میں بات کر رہا تھا کہ اسے اچانک کچھ انوکھا سا محسوس ہوا اور تبھی آہستہ سے اپنا سر موڑا اور دیکھا کہ آمرانہ انداز میں ثالث اس کے پیچھے کھڑا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایسا تاثر تھا جیسے وہ اسے مار ڈالنا چاہتا ہو۔

طلال اتنا خوفزدہ ہوا کہ وہ کرسی سے اچھل کر کھڑا ہوگیا۔

 “ک-کچھ ہوا ہے ثالث؟”

ثالث نے سر جھٹکا اور طلال  اور شمائل کے درمیان چلتے ہوئے کہا،

 “اگلے سویٹ میں کوئی نہیں رہ رہا۔ تم وہاں منتقل ہو سکتے ہو۔”

 طلال الجھ گیا۔ اسے اس شخص پہ غصہ آنے لگا جیسے نفرت سی محسوس ہو رہی ہو۔جب شمائل کا پیٹ بھر گیا، تو وہ اٹھ کر ثالث کے پیچھے آئی اور اس کی ٹانگوں کے گرد اپنے بازو حائل کر دیے۔ پھر، وہ اوپر دیکھ کر پیار سے پوچھنے لگی،

“کیا آپ آج مجھے فلم دیکھنے لے چلیں گے، ڈیڈی؟”

ثالث انکار کرنے ہی والا تھا، تو اس کے بیٹے نے خوشامدی انداز میں کہا،

 “پلیز، ڈیڈی! پلیز ۔ “

وہ معصومیت بھرا لہجہ…!

ثالث جھک کر شمائل کو اٹھانے لگا۔

 ” بھیک مانگنے والے انداز میں بات مت کیا کرو، حارث”

شمائل کی بڑی، گول آنکھیں جھپکیں۔

“تو کیا آپ جائیں گے؟”

“۔۔۔ ٹھیک ہے۔”

اپنے بیٹے کو خوش کرنے کے لیے، ثالث نے آج کے تمام کام اور ملاقاتیں ملتوی کر دی تھیں۔ چونکہ وہ فلم دیکھنے جانا چاہتا تھا، تو وہ اسے ساتھ لے جائے گا۔

دونوں نے دوپہر کا وقت منتخب کیا اور ایک کارٹون فلم کا ٹکٹ خریدا۔ جانے سے پہلے، شمائل نے خفیہ طور پر حارث کو ایک پیغام بھیجا

: “سب تیار ہے، حارث! تم کیا کر رہے ہو؟”

حارث بہت تیزی سے جواب دیا:

“ہم پہلے ہی روانہ ہو چکے ہیں۔”

فروین کیسے انکار کر سکتی تھی؟ وہ ہمیشہ سوتی رہتی تھی، اس لیے اپنے بچے کے ساتھ دوسروں کی نسبت کم وقت گزارتی تھی۔ لہٰذا، جب تک درخواست زیادہ نہ ہو، وہ شمائل کی ہر بات مان لیتی تھی کیونکہ اگلے دن اسے سرجری کرنی تھی، اس نے دوپہر کے 2 بجے تک نیند پوری کی۔ پھر، وہ حارث کو لے کر سینما گھر چلی گئی، جب کہ بیچ بیچ میں جمائیاں بھی لے رہی تھی۔

سینما کے دروازے پر، اس نے حارث کو اچھنبے سے دیکھا

 “یہ صرف ایک فلم ہے، شمائل ۔ کیا واقعی اس کی ضرورت تھی؟”

 حارث نے ماسک لگا رکھا تھا جسے وہ دوبارہ ٹھیک کر ے لگا۔

 “۔۔۔ یہ بیماریوں اور جرمز سے بچاؤ کے لیے ہے۔”

فروین  نے اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔

 “اور یہ گلاسز؟”

حارث نے انہیں تھوڑا سا اوپر کیا اور مسکراتے ہوئے جواب دیا،

“یہ اچھے لگتے ہیں۔”

“۔۔۔ جی، اگر تم کہتے ہو۔”

فروین نے تاسف سے سر ہلایا۔  پاپکارن اور کوکا کولا خریدے، پھر حارث کا ہاتھ پکڑ کر اسے سینما ہال میں لے گئی۔ اپنے مختص کیے گئے سیٹوں پر بیٹھنے کے بعد، حارث نے اپنا موبائل نکالا اور اپنی بہن کو ایک پیغام بھیجا:

“کیا تم پہنچ چکی ہو؟”

شمائل اس وقت ثالث کے پیچھے سینما ہال میں غصے سے چل رہی تھی۔ وہ پاپ کارن کھانا چاہتی تھی، لیکن اس کے ڈیڈ نے سختی سے منع کر دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ صحت کے لیے مضر ہے۔ وہ بہت ظالم تھا! شمائل کو تو یہی لگا۔ ثالث کو بڑے سینما ہالز سخت ناپسند تھے۔ نہ صرف یہ کہ وہاں بہت زیادہ لوگ ہوتے تھے بلکہ ماحول بھی گندی ہوتی تھی۔ لیکن چونکہ اس کے بیٹے نے یہ تجربہ کرنا تھا، اس لیے یہ مناسب نہیں تھا کہ وہ پورے سینما کو بُک کروا لیتا۔

وہ چہرے پر ناراضگی لیے، سینما میں داخل ہوا اور شمائل کو اپنی بانہوں میں اٹھائے ہوئے تھا۔ جب وہ ان سیٹوں تک پہنچا جو اس کے بیٹے نے آن لائن ٹکٹ کے ذریعے خریدی تھیں، تو اس نے فوراً فروین کو وہاں بیٹھے دیکھا۔ سینما ہال میں بہت اندھیرا تھا، لیکن وہ اتنی گوری تھی کہ آنکھوں کو چکاچوند کر دیتی تھی۔

اس کی آنکھیں نیم بند تھیں اور وہ اونگھ رہی تھی۔ اس نے اپنے بازو آرام سے باندھ رکھے تھے اور وہ اس وقت سو رہی تھی۔

ثالث کے چہرے پر مایوسی چھا گئی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ آخر اس کا بیٹا اچانک فلم دیکھنے کے لیے کیوں بضد ہوا اور خود ہی ٹکٹ بھی خرید لیے۔ تو آخر کار، یہ سب اسی عورت کی چال تھی۔ وہ پلٹ کر جانے کا سوچ رہا تھا، لیکن جب اس نے اپنے بیٹے کی ذہنی حالت کے بارے میں سوچا تو اس نے اپنے آف موڈ کو سائیڈ پہ رکھا اور شمائل کو اپنے اور اس کے درمیان بٹھا دیا۔ وہ اسے دوبارہ قریب آنے کا موقع کبھی نہیں دے گا۔

  دونوں چھوٹے بچے، جنہوں نے ماسک پہنے ہوئے تھے، ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر اشارہ کرنے لگے۔ اگر ڈیڈی اور ممی ایک دوسرے کے ساتھ نہ بیٹھیں تو وہ ایک دوسرے سے محبت کیسے کریں گے؟!

اسی وقت فلم شروع ہوئی۔ فروزن کا تھیم سانگ چلنے لگا۔ ایک ہی نظر میں یہ فلم شمائل کی توجہ اپنی جانب کھینچ گئی اور وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔ آدھے گھنٹے بعد شمائل نے اچانک پاپ کارن کی خوشبو محسوس کی۔ وہ کارٹون میں مگن تھی اور لاشعوری طور پر فروین کو کہنی ماری اور کہا،

“پاپ کارن، ممی!”

فروین، جو اونگھ رہی تھی، نیم غنودگی میں “ٹھیک ہے” کہہ کر جاگی۔ پھر اس نے پاپ کارن کا ایک ٹکڑا اٹھایا، شمائل کا ماسک اتارا، اور اسے اس کے منہ میں ڈال دیا۔

حارث حیرت زدہ رہ گیا جبکہ ثالث، جو فلم میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا تھا، نے جیسے ہی دیکھا کہ اس نے کیا کیا، اس کے چہرے کے تاثرات فوراً سخت ہو گئے۔

وہ اپنی بیٹی کو کھلانے کے بجائے اس کے بیٹے کو کھلا رہی تھی۔ اگر یہ سب اس کی توجہ حاصل کرنے اور اسے اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش نہیں تھی، تو پھر وہ اس کے عمل کو اور کس طرح سمجھ سکتا تھا؟!

” یہ کیا بدتمیزی ہے؟”

جیسے ہی فروین کو اپنے قریب سے سرد بڑبراہٹ سی  محسوس ہوئی، تو اس نے آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھولیں اور اس کی طرف دیکھا۔ ثالث کی گہری اور سنجیدہ آنکھوں، جن میں تھوڑی سی سرد مہری بھی تھی، کا سامنا کرتے ہوئے وہ ایک لمحے کے لیے حیران رہ گئی۔

کیا وہ خواب دیکھ رہی تھی؟

ورنہ، وہ فلم تھیٹر میں ثالث کو کیوں دیکھ رہی تھی؟

اس کی نیند فوراً غائب ہو گئی۔ اس نے سستی سے اپنی نظریں پھیری اور سوچنے لگی، کیا یہ محض اتفاق ہے؟ یا ثالث اس لیے آیا ہے کہ وہ مجھ پر شک کرتا ہے کہ میں ایش ہوں اور مجھے پرکھنے آیا ہے؟ معاملہ الجھتا جا رہا تھا۔

وہ ظاہر کرنا چاہتی تھی کہ اس نے اسے دیکھا ہی نہیں، لیکن اس کی چھٹی حس اسے بتا رہی تھی کہ یہ آدمی ابھی بھی اسے گھور رہا ہے۔ اور اس کے چہرے پر سرد تاثرات بھی ہیں۔ فروین نے اس کی طرف رخ کر کے رسمی انداز میں سلام کیا:

“کتنا بڑا اتفاق ہے، مسٹر ثالث ۔”

اتفاق؟

ثالث کے چہرے کے تاثرات مزید سرد ہو گئے۔ “

یہ تو الگ بات ہے کہ ہم ایک ہی فلم دیکھ رہے ہیں، لیکن ہماری سیٹیں بھی ایک دوسرے کے ساتھ ہی ہیں؟ واقعی بہت بڑا اتفاق ہے!”

فروین الجھن میں پڑ گئی۔ وہ اتنا طنزیہ کیوں بول رہا تھا؟ اس نے ماتھے پر شکن ڈالتے ہوئے کہا:

“آپ اس سے کیا مطلب نکال رہے ہیں، مسٹر ثالث؟”

ثالث سرد لہجے میں کہنے لگا،

“میں نے تمہیں پہلے ہی بتایا تھا کہ مجھے یہ بالکل پسند نہیں کہ کوئی میرے بیٹے کو استعمال کر کے میرے قریب آنے کی کوشش کرے۔ کیا تم میری بات بھول گئی ہو، مس فروین؟”

فروین حیران رہ گئی۔ وہ بار بار اس کو غلط سمجھ رہا تھا۔ کیا اسے ابھی تک سکون نہیں ملا؟ جو بار بار ہر عمل کا رخ اپنی طرف لے جاتا ہے۔ فروین نے آہستہ سے اپنی نظر ہٹا لی اور سنجیدگی سے سامنے دیکھنے لگی۔

“مسٹر ثالث، آپ واقعی ایک ایٹریکٹو آدمی ہیں، لیکن آپ کو اتنا خودپسند بھی نہیں ہونا چاہیے۔ آپ جیسے مرد، جو عورتوں سے زیادہ خوبصورت لگتے ہیں، میری پسند نہیں ہیں۔”

فروین کے سنجیدہ لہجے پہ، ثالث نے آنکھیں گھمائی تھی۔

 “تمہارا ہر  عمل اتنا واضح ہیں، مس فروین، اور پھر بھی آپ اپنی نیت چھپانے کی کوشش کر رہی ہے؟ میں صاف بتا دوں—مجھے تم میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اگر تمہیں مجھے لبھانے کا وقت مل رہا ہے، تو بہتر ہوگا کہ تم اپنی پھوپھو کی بیماری کے علاج کے بارے میں سوچو۔”

آپ سے سیدھا تم ؟؟ اس کے الفاظ نے فروین کو غصہ دلایا۔ یہ آدمی یقیناً دماغی طور پر بیمار ہے! اس نے سرد لہجے میں کہا

، “فکر نہ کریں، میری پھوپھو کی بیماری کے بارے میں آپ کو بالکل بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں!”

جب اس نے اس موضوع کو اتنے ہلکے انداز میں ٹال دیا، تو ثالث اور بھی غصے میں آ گیا۔ وہ جواب دینے ہی والا تھا کہ ان کے سامنے والی قطار میں اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھا ایک فلم دیکھنے والا شخص اچانک مڑا اور جھنجھلا کر بولا،

 “ارے، ہم فلم دیکھ رہے ہیں۔ کیا آپ دونوں یہاں اپنی باتوں سے پریشان کرنا بند کر سکتے ہیں؟!”

ثالث حیران رہ گیا۔ فروین بھی حیران رہ گئی۔

سینما ہال اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ ثالث کو معلوم نہیں کیوں، لیکن جب کسی اور نے اسے اور فروین کو شادی شدہ جوڑے کے طور پر غلط سمجھا تو اسے فوراً  ناگواری محسوس نہیں ہوئی۔ اس کے بجائے، اس کے اندر ایک ہلکی سی حیرت اور بے یقینی کا احساس پیدا ہوا، جو آسانی سے سمجھا نہ جا سکتا تھا۔ بےحد انوکھا سا احساس جو اسے برا نہیں لگ رہا تھا لیکن اس احساس کو نام دینے سے قاصر تھا وہ 

وہ فلم دیکھنے والا شخص مزید سنجیدگی سے بولا،

 “آپ دونوں میاں بیوی اپنے بچوں کے سامنے تھوڑا بہتر رویہ اختیار نہیں کر سکتے؟ آپ انہیں ڈرا رہے ہیں!”

فروین نے اس سمت دیکھا جہاں وہ شخص اشارہ کر رہا تھا۔ اس نے نیچے نظر ڈالی تو وہاں شمائل بیٹھی ہوئی تھی، جس نے ماسک پہنا ہوا تھا اور صرف اس کی آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔ ثالث نے جھک کر اسے اٹھا لیا۔ وہ ناپسندیدگی سے بولا،

“یہ آخری بار ہے کہ میں تمہیں وارننگ دے رہا ہوں، مس فروین۔ اگلی بار اگر تمہیں میرے بیٹے کے قریب دیکھا تو میں کچھ برداشت نہیں کروں گا!”

یہ کہہ کر وہ فوراً وہاں سے چلا گیا۔ فروین حیران رہ گئی۔ اس نے دوسری طرف دیکھا اور خود حیرت زدہ رہ گئی جب اس نے وہاں حارث کو بیٹھا دیکھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ابھی جب وہ شمائل کو کھلا رہی تھی تو غلطی سے اس کا ہاتھ دوسری طرف چلا گیا تھا، کیا ایسا ہی ہوا تھا؟ جب وہ سوچ میں پڑی ہوئی تھی، حارث نے خاموشی سے اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا،

 “چلیں، ممی۔”

اس نے اشارہ دیا کہ پہلا ڈیٹ ناکام ہو چکا ہے۔

꧁༺♡ Maseer-E-Memnu ♡༻꧂

جب وہ ہوٹل واپس پہنچے تو شام کے چار بج چکے تھے۔

فروین پھر سے سو گئی۔ اگلے دن کا آپریشن سات یا آٹھ گھنٹے تک چلنے والا تھا۔ اگر وہ اچھی نیند نہ لیتی تو اس کے پاس اس کو مکمل کرنے کی طاقت اور توانائی نہ رہتی۔ حارث، جو اس کے پاس تھا، بےچینی سے شمائل کو میسج بھیجنے لگا:

” شمائل، وہاں سب کیسا چل رہا ہے؟”

دریں اثنا، اوپر والی منزل پر۔

شمائل ثالث کے مقابل کھڑی تھی جو بےحد غصے میں تھا لیکن خود پہ کنٹرول کیے ہوا تھا۔

 “آئندہ تمہیں اس عورت سے رابطہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔”

شمائل کی بڑی بڑی آنکھوں میں شکوہ تھا۔ اس نے پوچھا،

 “کیوں؟”

چونکہ بچوں کے سامنے کسی کے بارے میں برا بولنا ٹھیک نہیں تھا، ثالث نے فوراً جواب نہیں دیا لیکن سجاد، جو اس کے قریب تھا، بولا،

“یہ اس لیے کیونکہ وہ عورت ایسی ہے جو اپنی پھوپھو کی بیماری کے باوجود کچھ نہیں کرتی اور سنیما جا کر فلمیں دیکھتی ہے! بہت ظالم خاتون ہے وہ “

شمائل گھبرا گئی اور غصے میں جواب دیا،

 “ممی ظالم نہیں ہے! وہ سب سے زیادہ رشتوں کو اہمیت دیتی ہیں! وہ دادی پھوپھو کو ضرور بچائیں گی!”

ثالث کے تاثرات سرد ہو گئے۔ یہ تو الگ بات تھی کہ وہ اس کے بیٹے کو “ممی” کہنے پر مجبور کر رہی تھی، لیکن اب وہ اس کی پھوپھو کو “دادی پھوپھو” بھی کہنے لگا تھا؟

” آپ ایک برے ڈیڈی ہو! اپ ان کے بارے میں ایسا نہیں کہہ سکتے! میں آپ سے بات نہیں کر رہی!”

شمائل نے ناراضگی سے منہ پھولا لیا۔ کیسے اس کے ہینڈسم ڈیڈی،  اس کی ممی کو برا کہہ سکتے ہیں ، اس کا تو دل ہی ٹوٹ گیا تھا اپنے ہینڈسم ڈیڈی کی طرف سے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، اور وہ سیدھی بیڈروم کی طرف بھاگ گئی۔ ثالث نے غصے میں اپنی مٹھیاں بھینچ لیے۔ وہ آج اپنے بیٹے کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کر رہا تھا، لیکن اب اس عورت کی وجہ سے اس نے اپنے بیٹے کو رُلا دیا!

 اسی وقت، سجاد جوش سے بولا،

“مسٹر ثالث، ہمیں خبر ملی ہے کہ ڈاکٹر ایش آج شہر کے ہاسپٹل میں ایک آپریشن کے لیے آ رہی ہیں! آپریشن کے دوران مشاہدے کی اجازت دی گئی ہے۔ میں نے ایک جگہ محفوظ کر لی ہے اور کسی کو وہاں بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ اس بار ہم ایش کو ضرور پکڑ لیں گے!”

ثالث نے کچھ دیر سوچا، پھر بیڈروم کی طرف دیکھا۔  “میں خود جاؤں گا!”

《■■■■■■■■》

اگلے دن وہ طے کیے ہوئے وقت کے مطابق ہاسپٹل میں داخل ہوئی تھی لیکن وہ  فوراً آپریٹنگ روم نہیں گئی۔ وہ پہلے اپنی پھوپھو سے ملنے وارڈ میں گئی تاکہ انہیں تسلی دے سکے۔ جیسے ہی وہ اندر گئی، پریشان سی سوہا اس کے پاس آئی اور بولی،

” فروین، کیا یہ سچ ہے کہ تم نے کل مجھے جو میسج بھیجا تھا کہ امی کا آپریشن آج ہوگا؟”

فروین نے سر ہلایا۔

 “ہاں۔”

ان کے قریب اریشہ طنزیہ لہجے میں بولی،

” فروین، تم کتنی جاہل ہو! کیا تمہیں معلوم ہے کہ شائستہ پھوپھو کا ٹیومر ایک بہت خطرناک جگہ پر ہے؟ عام سرجنز کے لیے اس پر آپریشن کرنا ناممکن ہے!”

فروین نے اسے دیکھا اور کہا،

“مجھے یہ معلوم ہے۔”

“اگر تمہیں معلوم ہے تو پھر تم نے کسی کو آپریشن کے لیے بلانے کا کیوں سوچا؟ یہ واضح ہے کہ تم ان کی زندگی کو ہلکا لے رہی ہو!”

 اریشہ نے سکندر اور سومیا کی طرف دیکھ کر کہا، “میں نے بہت پہلے ڈاکٹر جہانگیر کو شائستہ پھوپھو کا سی ٹی اسکین دکھایا تھا، اور وہ بھی اس آپریشن کو انجام دینے میں ہچکچا رہے ہیں۔ کیا تم واقعی سمجھتی ہو کہ وہ ڈاکٹر جہانگیر سے بہتر کوئی ڈاکٹر لا سکتی ہے؟”

سکندر نے یہ سنا تو کچھ ہچکچاتے ہوئے پوچھا،

 ” فروین، سچ بتاؤ، آپریشن کی کامیابی کا تناسب کتنا ہے؟”

فروین کے جواب دینے سے پہلے ہی اریشہ طنزیہ انداز میں بولی،

 “میں تمہیں سچ بتاتی ہوں—ایسے آپریشن میں پورے ملک میں صرف دو ڈاکٹر ہی 50% کامیابی کا تناسب حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ، سب کا تناسب صرف 10% ہے! اگر آپریشن نہ کیا جائے تو شائستہ پھوپھو دو ماہ تک زندہ رہ سکتی ہیں، لیکن اگر آپریشن ہوا تو 90% امکان ہے کہ وہ آج آپریٹنگ روم سے زندہ باہر نہیں آئیں گی!”

اس کے الفاظ نے سوہا کو اتنا خوفزدہ کر دیا کہ اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔

“کیا کوئی بہتر ڈاکٹر نہیں ہے؟”

“ہاں، ہے!”

 اریشہ نے کہا،

“ڈاکٹر ایش، دنیا کی سب سے بہترین سرجن۔ ان کے لیے کوئی بھی سرجری ناممکن نہیں! وہ 100% کامیابی حاصل کر سکتی ہیں۔ بدقسمتی سے، ڈاکٹر ایش اس وقت ملک سے باہر ہیں، اور بہت سے امیر اور بااثر لوگ بھی انہیں تلاش نہیں کر سکتے، تو عام لوگ کیسے انہیں اس کام پر راضی کریں گے؟”

ـــــ

وارڈ میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ جب اریشہ اپنی کامیابی پر خوش ہو رہی تھی اور سکندر اور سومیا نے تمام امیدیں کھو دی تھیں، تو تینوں نے اچانک فروین کی دھیمی آواز سنی:

“اگر ایسا ہے، تو کیا تم جانتی ہو کہ میں نے کس ڈاکٹر کو بلایا ہے؟”

꧁༺♡ Maseer-E-Memnu ♡༻꧂.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *