Maseer-e-Mamnu – A Forbidden & Powerful Contemporary Romance Novel by Malayeka Rafi | novelR50456 Maseer e Mamnu Episode 17
No Download Link
No categories assigned.
Rate this Novel
Maseer e Mamnu Episode 17
سجاد کے ہونٹوں کے کنارے ذرا سے کانپے۔
“اس کے مقابلے میں، میں تو دوسری وضاحت پر یقین کرنے کو ترجیح دوں گا۔ ہم نے مس فروین کی مکمل تحقیقات کی ہیں۔ کوئی ایسی عورت جو اسکول تک نہ گئی ہو، وہ ایش نہیں ہو سکتی۔ البتہ، اس بارے میں بات کرتے ہوئے، یہ پتہ چلا کہ وہ ہی وہ تھی جس نے ایش کو ای میل کی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ایش آئی۔ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ جب بھی اس کی پھوپھی کی سرجری کا ذکر آتا، وہ ہمیشہ اتنی پرسکون رہتی تھی۔ آخرکار، اسے یقین تھا کہ ڈاکٹر ایش یہاں آئے گی…”
ثالث نے اپنے ہونٹ سختی سے بھینچ لیے اور بھنویں چڑھائیں۔ پھر اچانک کہا،
“کہیں ایسا جگہ ڈھونڈو جہاں باربی خرید سکیں۔”
—————
ہوٹل فائنیسٹ کی اوپر والی منزل کی سیڑھیوں میں، دونوں بچے خفیہ طور پر ملے تھے۔ شمائل شکایت کر رہی تھی۔
“میں نے دو دن سے کوئی گیم نہیں کھیلا، حارث، ڈیڈی بہت سخت ہیں۔ وہ مجھے موبائل فون استعمال کرنے نہیں دیتے!”
” چلو، پھر اپنی جگہیں ایکسچینج کر لیتے ہیں ۔”
حارث نے اسے تسلی دینے والے انداز میں کہا، شمائل نے فورا سر ہلایا۔
“ہاں، ہاں، ہاں! جب میں ایک دن کھیلوں، تب دوبارہ بدل لینا!”
“ہاں۔”
“ڈیڈی واقعی ممی سے نفرت کرتے ہیں، حارث۔ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟”
شمائل نے اداسی سے کہا۔ حارث نے ماتھے پر بل ڈالے۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا،
“اگر نرم طریقہ کارگر نہیں ہوتا تو پھر سخت طریقہ آزمانا چاہیے۔”
شمائل کی آنکھیں چمک اُٹھیں۔ “
کیا ؟؟ قسم کا سخت طریقہ؟”
دونوں بچوں نے ایک دوسرے کے ساتھ سر جوڑ کر طویل وقت تک بحث کی، پھر آخرکار بے دلی سے علیحدہ ہو گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جانے سے پہلے، شمائل نے آنکھیں جھپکاتے ہوئے فخر سے کہا،
“ویسے، ڈاکٹر نے آج میرا آئی کیو ٹیسٹ لیا تھا۔ میرا آئی کیو واقعی بہت زیادہ ہے! ڈاکٹر نے مجھے پرائز دیا، اور یہاں تک کہ ڈیڈی بھی حیران رہ گئے!”
ممی نے بھی پہلے اس سے کچھ ایسا ہی کرایا تھا، اور اسے سراہا تھا اور جینیئس کہا تھا۔ آج اس نے اپنے بھائی کو فخر محسوس کرایا تھا! حارث، جس نے پھر سے اس پر یقین کیا، نے اس کی تعریف کی۔
“تم واقعی کمال ہو۔”
وہ کمرے میں واپس آیا۔ اسٹڈی روم میں بیٹھا، وہ وقت گزاری کرنے کا سوچ رہا تھا جب کمرے کا دروازہ کھلا اور ثالث تیز قدم اٹھاتا اندر آیا۔ اس نے اپنی کوٹ اتاری،
“اب غصہ نہ ہونا حارث۔ دیکھو، ڈیڈی تمہارے لیے کیا لایا ہے۔”
حارث کی آنکھیں چمک اُٹھیں۔ ظالم ڈیڈی ہمیشہ اسے روزانہ پڑھائی کرنے کی ترغیب دیتا تھا اور شاذ و نادر ہی کھیلنے دیتا تھا۔ آج وہ اس کے لیے کھلونے لے آیا تھا؟
پھر اس نے دیکھا کہ ثالث ایک بڑا گلابی باربی کھلونا لے کر آیا تھا اور اسے اس کی میز پر رکھ دیا۔ حارث کے دماغ میں پھر ایک سوالیہ نشان ابھرا۔ جب اس نے اپنے بیٹے کو ردعمل نہیں دیتے دیکھا، تو وہ سمجھا کہ وہ ابھی تک ناراض ہے اور نرمی سے پوچھنے لگا،
“کیا ڈیڈی تمہارے ساتھ کھیل سکتے ہیں ؟”
حارث نے اسے غیر واضح انداز میں گھورا۔ وہ ابھی تک سوالیہ نشان کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ آخرکار جب اس نے ردعمل دکھایا، تو ثالث بھی مسکرانے لگا۔
“چلو باربی کے بال بناتے ہیں اور اس کا لباس چینج کرتے ہیں۔”
حارث نے باربی کا باکس کھولا اور اسے نکال کے دیکھنے لگا۔ لیکن جب اس نے، باربی ڈول کے بالوں کا ایک لٹ کھینچا تو اس کی انگلیاں — جو پیانو بجاتے وقت انتہائی لچکدار اور مہارت سے کام کرتی تھیں — رک گئیں۔ ثالث نے آنکھیں سکیڑ کے اپنے بیٹے کو دیکھا۔
ایک تنگ نظر کے ساتھ ثالث نے اپنے بیٹے کو دیکھا اور پوچھا،
” حارث، کیا تمہیں چوٹی بنانی آتی ہے؟”
حارث خاموش تھا۔ دونوں کچھ دیر ایکدوسرے کو گھورنے والے انداز میں دیکھتے رہے اور آخر کار حارث نے آہستہ آواز میں کہا۔
“… یہ کتنا اسٹوپڈ ہے۔”
ثالث کا چہرہ تاریک ہوگیا۔ کسی وجہ سے، اس کے بیٹے کا پرسکون اور بے فکر چہرہ اسے اپنے غصے کو قابو میں رکھنے میں ناکام بنا رہا تھا۔
“میں یہ سب تمہارے لیے کر رہا ہوں!”
حارث نے سر جھکایا اور کتاب کھول لی، بالکل اسے نظر انداز کرتے ہوئے۔ ثالث شاکڈ ہو گیا پھر اس نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا جو سوال پر نظر ڈال رہا تھا۔ وہ سوال حارث کے موجودہ نصاب سے آگے تھا، تو اس نے پوچھا،
“کیا تم اتنے مشکل سوال کو سمجھ سکتے ہو جب تمہیں اپنے بنیادی مفاہم کی اچھی سمجھ نہیں ہے؟”
حارث نے سر اٹھایا اور دوبارہ اس کی طرف دیکھا۔ اس سادہ سوال میں کیا مشکل تھا؟ آج اپنے جابر ڈیڈی کے رویے کو سمجھنا واقعی ایک معمہ تھا۔ اس نے سرد انداز میں کہا،
“جب میں پڑھ رہا ہوں، تو مجھے تنگ نہ کریں پلیز۔”
ثالث خاموشی سے لب بھینچ گیا، جب اس نے دیکھا کہ اس کا بیٹا ایسا برتاؤ کر رہا ہے جیسے وہ سوال کو پوری طرح سمجھ گیا ہو، حالانکہ وہ اسے حل نہیں کر پا رہا تھا، اور کہا،
“ٹھیک ہے، جو تم چاہو، وہ کرو!”
اب وہ دیکھ رہا تھا کہ حارث کتنی دیر تک یہ تاثر قائم رکھ سکتا ہے! کھانے کے بعد، ثالث بےحد الجھا ہوا سا اسٹڈی میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس کا بیٹا واضح طور پر بہت پیارا تھا، پھر بھی وہ اچانک پھر سے کیوں اتنا خاموش اور متکلف ہوگیا؟ اگرچہ وہ اب زیادہ نارمل لگ رہا تھا، لیکن کسی ناقابلِ وضاحت وجہ سے، ثالث کو اس کے سابقہ انداز میں بدلے ہوئے برتاؤ کی کمی محسوس ہو رہی تھی، جب وہ باتوں کے ذریعے کسی کو راضی کر لیتا تھا، اور اتنی چمکدار ذہانت دکھاتا تھا۔
اس نے اپنا موبائل فون اٹھایا اور فوراً فیملی ڈاکٹر کو کال کی۔
” حارث کی شخصیت کیوں اتنی بدل رہی ہے؟”
ڈاکٹر نے کچھ دیر سوچا اور جواب دیا،
“شاید کچھ ایسا ہوا ہو جس سے اس کی شخصیت تبدیل ہو گئی ہو۔”
کیا trigger ہو سکتا تھا؟ کیا وہ عورت؟؟؟؟
وہ سوچنے لگا!!!
《《《《》》》》
فروین واشروم سے واپس آ کر فوراً گہری نیند میں چلی گئی۔ شمائل اپنے ہاتھ میں موبائل فون پکڑ کر صوفے پر بیٹھ کر طلال کے ساتھ گیم کھیلنا شروع کر دیا۔ طلال ہمیشہ کی طرح باتوں کا پٹارہ تھا جب وہ کھیل رہے تھے تو اس نے اچانک کہا۔
“کیا تم نے پھر سے ثالث سے لڑائی کی؟ اور، ثالث آج ڈاکٹر ایش کو نہیں ڈھونڈ سکا، اس لیے وہ غصے میں ہے۔ “
“وہ ڈاکٹر ایش کو ڈھونڈ رہا تھا؟”
شمائل دم بخود ہو گئی۔ اس نے بیڈ کی طرف نظر ڈالی اور پوچھا،
” طلال، ڈیڈی ڈاکٹر ایش کو کیوں ڈھونڈ رہے ہیں؟”
، “کیا یہ واضح نہیں؟ یہ تمہارے لیے ہے۔۔۔۔۔۔۔”
طلال نے ابھی بات بھی مکمل نہیں کی تھی جب دروازے کی گھنٹی بجی۔
مس مارٹا کچن میں مصروف تھیں، اس لیے شمائل صوفے سے چھلانگ مار کر دروازے تک گئی اور فوراً دروازہ کھول دیا۔ ثالث اس وقت دروازے کے باہر کھڑا تھا۔ وہ دوبارہ فروین سے درخواست کرنے کا ارادہ کر رہا تھا کہ وہ اوپر جا کر اس کے بیٹے کا خیال رکھا کریں۔ وہ بات کرنے کے لیے تیار تھا کہ اچانک دروازہ کھلا اور فوراً اس کی نظر شمائل پر پڑی۔
ایک طرف کسرتی بدن والا ثالث کھڑا تھا جبکہ دوسری طرف چھوٹی سی شمائل کھڑی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کو دو یا تین سیکنڈ تک گھورتے رہے، پھر شمائل نے بے اختیار دروازہ بند کرنے کی کوشش کی۔ حارث نے اسے بتایا تھا کہ انہیں ایک دوسرے کو اس وقت تک نہیں پہچاننا چاہیے جب تک کہ ممی اور ڈیڈی ایک دوسرے سے محبت نہ کر لیں۔ ورنہ یہ کسی خوفناک کسٹڈی کی لڑائی کو جنم دے گا!
تاہم، ثالث نے ہاتھ بڑھایا اور دروازہ کھول لیا اور پوچھنے لگا۔
“تم یہاں کیا کر رہے ہو، حارث؟”
شمائل گھبرا گئی تھی جبکہ ثالث کا چہرہ تاریک ہو چکا تھا۔ اس نے جھک کر شمائل کو اُٹھایا اور حکم دیا، “میرے ساتھ اوپر چلو!”
لیکن جب ہم اوپر جائیں گے اور حارث ملیں گے تو ڈیڈی کو سب کچھ پتا چل جائے گا! تبھی شمائل نے فورا مزاحمت کی اور شور مچانے لگی۔
“مجھے چھوڑ دو! ممی، ہیلپ می!”
مس مارٹا، جو اس کی آوازیں سن کر کچن سے باہر دوڑ کر آئیں، نے دیکھا کہ ثالث، شمائل کو اپنے بازوؤں میں اُٹھائے ہوئے لفٹ میں جا رہا تھا۔ حیرت زدہ ہو کر، وہ گھبرا کے بیڈروم کی طرف دوڑیں اور گہری نیند میں سوئی ہوئی فروین کو جگایا۔
” فروین! اٹھو،! مسٹر ثالث، شمائل کو اپنے ساتھ لے جا رہے ہیں۔ “
فروین گہری نیند میں تھی، لیکن جیسے ہی مس مارٹا نے اُسے ہلایا، وہ فوراً جاگ گئی۔ اس نے اُٹھ کر سیدھا باہر جانا شروع کیا، اور چپل پہن کر فوراً نکل پڑی، اُس کے پاس بدلنے کا بھی وقت نہیں تھا۔ اس وقت تک، شمائل کو پہلے ہی، ثالث اوپر لے جا چکا تھا۔
جب وہ صدارتی سوئٹ میں داخل ہوئے، اور شمائل نے اپنے غصے سے بھرے ہوئے، پینڈسم ڈیڈی کو اپنے بازوؤں میں اُٹھائے ہوئے اسٹڈی کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا، تو اُس نے دل ہی دل میں سوچا، ہم ختم ہو چکے ہیں! ہم ختم ہو چکے ہیں!
کیونکہ ثالث اُسے مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھا، وہ حارث کو مطلع نہیں کر سکتی تھی اور اب اُن کا راز بے نقاب ہونے والا تھا۔
کڑاک!!
ثالث نے اسٹڈی کا دروازہ کھولتے ہوئے قدم روک لیے۔
اپنے ڈیڈی سے ڈانٹ پڑنے سے بچنے کے لیے، شمائل نے فوراً اپنی غلطی تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ آہستہ آواز میں کہنے لگی۔
” ایم سوری ڈیڈی، شمائل۔۔۔۔”
اس سے پہلے کہ وہ کہہ پاتی
” شمائل نے جان بوجھ کر آپ سے کچھ نہیں چھپایا”، لیکن اس نے دیکھا کہ اسٹڈی واقعی خالی تھی؟
ایک مختصر توقف کے بعد، اُس کے لبوں پر جو الفاظ تھے وہ بدل کر
” حارث نے ایسا جان بوجھ کر نہیں کیا تھا”
میں بدل گئے۔ اس کی بڑی آنکھوں میں مکمل طور پر الجھن نظر آ رہی تھی۔ حارث کہاں تھا؟ وہ کہاں چلا گیا تھا؟ اس کے بیٹے کی نرم اور میٹھی آواز نے ثالث کا غصہ آہستہ آہستہ ختم کر دیا، اور وہ خود کو مزید ڈانٹنے کا حوصلہ نہیں پاتا تھا۔
اس نے نرمی سے شمائل کو نیچے اُتارا اور اس کے کندھوں کو مضبوطی سے پکڑتے ہوئے کہا،
“چاہے کچھ بھی ہو، ٹاپ فلور سے اتنی آسانی سے مت نکلنا، حارث۔”
وہ کانپ رہا تھا۔ پولیٹیکس کی دنیا میں ہونے کی وجہ سے، ثالث پر بہت ساری نظریں تھیں۔ ثالث ایک بار بچپن میں اغوا ہو چکا تھا اور جہنم سے گزر کر ہی زندہ واپس آیا تھا۔ یہ واقعات تقریباً اسے ذہنی صدمے کا شکار کر گئے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے ان برسوں میں اپنے بیٹے کی حفاظت اور اسے عوامی نگاہوں سے چھپانے کے لیے اتنی محنت کی تھی لیکن حارث نے فروین سے کتنی بار ملاقات کی تھی؟ پھر بھی وہ چپکے سے نیچے جا پہنچا! اور سب سے خوفناک بات یہ تھی کہ اُسے کچھ پتا بھی نہیں چلا!
اگر اس کے ارادے برے ہوتے، یا اگر کوئی اُسے نیچے جاتے ہوئے اغوا کر لیتا؟ نتائج… وہ ان کے بارے میں سوچنے کی ہمت بھی نہیں کر سکتا تھا! اپنے ڈیڈی کے غیر متعین خوف کو محسوس کرتے ہوئے، شمائل اچانک اُسے گلے لگا کر اس کے کندھے پر تسلی دیتے ہوئے بولا، “اب میں ایسا نہیں کروں گی، ڈیڈی۔”
اس کے نرم اور چھوٹے سے وجود نے ثالث کو لمحے بھر کے لیے ساکت کر دیا تھا، یہ پہلی بار تھا جب کئی سالوں میں اس کا بیٹا اتنی محبت سے اس کے ساتھ برتاؤ کر رہا تھا۔ ثالث کی پریشانی آہستہ آہستہ سکون پانے لگے جب اُس نے شمائل کے وجود سے، آنے والی ہلکی دودھ جیسی خوشبو کو محسوس کیا۔ اُس نے گہری سانس لی اور سمجھوتے کے طور پر کہا۔
“اگر تم واقعی مس فروین کو اتنا پسند کرتے ہو، تو ہم اُسے یہاں آ کر تمہارے ساتھ وقت گزارنے دے سکتے ہیں۔”
شمائل خاموش ہو گئی۔ اس نے ڈیسک پر رکھی آدھی مکمل ورک بک کو دیکھا اور سوچا، حارث کہاں ہے؟
اسی دوران، طلال، جسے ان دونوں نے نظر انداز کیا تھا، ابھی لِونگ روم میں صوفے پر بیٹھا تھا اور اپنی زندگی کے فیصلوں پر شک کر رہا تھا۔ دو منٹ پہلے، وہ اپنے ٹیم کے لیڈر کے ساتھ گیم کھیل رہا تھا جب اچانک اُس نے ثالث کی غصے والی آواز اور اپنے بھتیجے کے مدد کی پکار سنی۔
گیم میں اُس کا ساتھی ہونے کے ناطے، طلال کو یقیناً حارث کا ساتھ دینا تھا۔ اس لیے، اگرچہ وہ اُس “تھرینٹ” سے بہت ڈرتا تھا، پھر بھی اُس نے دوڑ کے، آ کر حارث کو “خطرے” سے بچانے کی کوشش کی۔ اس طرح، حارث شاید گیم میں اُسے تھوڑا کم ڈانٹے گا، اس نے یہی سوچا لیکن آخرکار، جو کچھ اُس نے دیکھا وہ یہ تھا کہ حارث بالکل محفوظ اور چین سے اپنے ہوم ورک میں مصروف تھا؟
اس وقت اسے شک ہوا تھا کہ شاید اس کی آنکھیں اسے دھوکہ دے رہی ہیں، اور اس نے اپنی آنکھوں کو رگڑ کے خود کو یقین دلانے کی کوشش کی لیکن جب اس نے دوبارہ دیکھا، تب بھی اس کا بھتیجا ابھی بھی وہیں بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے بعد اس نے دوبارہ فون اُٹھایا۔ گیم کی وائس چیٹ ابھی بھی لگی ہوئی تھی، اور وہ اپنے ٹیم کے لیڈر کو مدد کے لیے آواز دیتے ہوئے صاف سن سکتا تھا:
” اسٹوپڈ ڈیڈی، چھوڑو مجھے! میں ممی کے پاس جانا چاہتا ہوں! میں اوپر نہیں جانا چاہتا!”
پھر اس نے اپنے بھتیجے کو پین نیچے رکھتے اور بغیر کچھ کہے، دوڑ کر باہر نکلتے ہوئے دیکھا۔ تقریباً بیس سیکنڈ بعد، دروازہ کھلا۔ ثالث، حارث کو لے کر اندر آیا اور دونوں دوبارہ اسٹڈی میں داخل ہوگئے۔ طلال نے دوبارہ اپنی آنکھیں رگڑیں۔ ثالث جس بچے کو اٹھا کر لے جا رہا تھا، وہ واقعی اس کے بھتیجے کی طرح ہی لگ رہا تھا۔
اور، اس کی ثالث کے ساتھ ہونے والی بات چیت ابھی بھی گیم کی وائس چیٹ کے ذریعے اس کے موبائل فون پر پہنچ رہی تھی… لیکن اگر وہ بچہ جو اس وقت اس کے ساتھ کھیل رہا تھا، اس کا بھتیجا تھا، تو پھر وہ جو ابھی ابھی ہوم ورک کر رہا تھا، وہ کون تھا؟ اور اس کے بھتیجے نے بیس سیکنڈ میں لباس تبدیل کیسے کر لیا؟
طلال خاموشی سے اُٹھا اور اپنے موبائل فون کے ساتھ باہر نکل آیا۔ جیسے ہی وہ باہر گیا، وہ فیملی ڈاکٹر سے ٹکرا گیا۔ اس نے فوراً ڈاکٹر کا ہاتھ پکڑ لیا اور پریشان آواز میں کہا،
” پلیز میرا چیک اپ کریں، ڈاکٹر صاحب۔ مجھے کیوں ہَلیوسینیشنز ہو رہی ہیں جب کہ میں ابھی اتنا جوان ہوں؟ کیا مجھے کوئی ذہنی بیماری ہے؟ میں ابھی مرنا نہیں چاہتا!”
ڈاکٹر چپ رہا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ اچانک بہت مصروف ہو گیا ہو۔ اسی دوران حارث سیڑھیوں کے اسٹیر ہال میں نیچے جا رہا تھا۔ اس کے ساتھ والی سیڑھیوں کے دروازے کے شیشے سے، اس نے اپنے ڈیڈی کو شمائل کے ساتھ کمرے میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا اور فوراً سکون کا سانس لیا۔ یہ خوش قسمتی تھی کہ انکل طلال وقت پر آ گئے۔ ورنہ سب کچھ بے نقاب ہو جاتا۔
وہ وہاں کچھ دیر انتظار کرتا رہا، جب تک کہ شمائل نے اسے ایک وائس میسج بھیجا۔
“انکل طلال نے ابھی تمہیں اور مجھے دونوں کو دیکھا تھا۔ کیا وہ سمجھ جائے گیں؟”
حارث نے جواب دیا،
“نہیں۔”
“کیوں؟”
“وہ ایک سنگل سیل انسان ہے۔ وہ اتنی پیچیدہ باتیں نہیں سمجھ سکتا۔”
ان میں سے کسی کو بھی یہ نہیں معلوم تھا کہ اس کی ایک چھوٹی جڑواں بہن ہے۔ اگر وہ اپنی بہن سے نہ ملتا، تو وہ کبھی نہیں سمجھ پاتا کہ ممی نے اس سے اتنی مانوسیت کیوں دکھائی۔ حتیٰ کہ ظالم ڈیڈی بھی کبھی ایسی باتوں کا تصور نہیں کرتا، تو اس کا سادہ لوح انکل تو کبھی نہیں۔ حارث نے اپنا فون نیچے رکھا اور سیڑھیاں اترنا شروع کر دیں۔
