Maseer-e-Mamnu – A Forbidden & Powerful Contemporary Romance Novel by Malayeka Rafi | novelR50456 Maseer e Mamnu Episode 18
No Download Link
No categories assigned.
Rate this Novel
Maseer e Mamnu Episode 18
اس نے ابھی ایک قدم ہی نیچے رکھا تھا کہ اس نے تیز قدموں کی آواز سنی۔ فوراً اس کے بعد فروین تیز تیز قدموں سے اوپر آتی ہوئی نظر آئی۔ وہ بہت غصے میں نظر آ رہی تھی، جیسے کسی سے لڑائی کا ارادہ رکھتی ہو۔ جب اس کی نظر حارث پر پڑی، تو اس کے چہرے پر اطمینان کی جھلک آئی اور اس نے پوچھا،
” کہاں جا رہی ہو، شمائل؟”
حارث نے سر ہلایا۔
” گھر “
فروین ایک لمحے کے لیے ہچکچائی لیکن کچھ نہیں کہا۔ اس نے پیچھے مڑ کر نیچے جانے کے لیے قدم بڑھایا اور کہا،
“چلو پہلے گھر چلتے ہیں۔”
پھر اس نے حارث کا ہاتھ پکڑا اور سیڑھیاں اترنے لگیں۔
واپسی کے دوران، اسے لگا جیسے اس کی بیٹی پہلے کی نسبت کہیں زیادہ خاموش ہو گئی ہو۔ کمرے میں واپس آ کر، فروین نے حارث کو اوپر سے نیچے تک غور سے دیکھا۔ وہ اسے گھورنے لگی،
” آڑ یو شیور، کہ ثالث نے تمہارے ساتھ کچھ نہیں کیا، شمائل؟”
جب اس نے ممی کو اتنا پریشان دیکھا تو اس نے فورا سر اثبات میں ہلایا۔ اس وقت مس مارٹا آئیں۔ وہ اپنی پیشانی پر بل ڈال کر پوچھنے لگیں،
” شمائل، تم اس نئے پاجامہ میں کیوں ہو؟ میں نے تو کچھ اور پہنایا تھا۔ “
فروین کی آنکھوں میں فوراً تیزابیت آ گئی جب اس نے یہ سنا۔ ایک لڑکی کا مختلف کپڑوں میں باہر جانا اور واپس آنا—یہ بے شک خطرناک بات تھی۔ جب حارث نے دیکھا کہ فروین شک میں مبتلا ہو رہی ہے تو اس نے مس مارٹا کی طرف پُر سکون انداز میں دیکھا اور جواب دیا،
“نہیں، میں اس پاجامے میں تھی۔ آپ کو غلط لگ رہا ہے “
مس مارٹا نے جب دیکھا کہ وہ اتنا پُر اعتماد ہے، تو تھوڑی دیر کے لیے ہچکچائیں۔
“واقعی؟”
“ہاں۔”
حارث نے پھر بات بدل دی۔ اس نے شمائل کے انداز میں بات کی اور کہا،
“ممی، سو جاؤ۔ میں بھی کھیلنے جا رہی ہوں!”
شمائل تھوڑی عجیب سی برتاؤ کر رہی تھی، مگر فروین تو بہت تھکی ہوئی تھی۔ اس کا ذہن بھی مکمل طور پر دھندلا ہو چکا تھا۔ اس نے سر ہلا کر کہا،
“ٹھیک ہے۔”
وہ سو کر اٹھنے کے بعد ثالث سے حساب کتاب کرنے کا سوچے ہوئی تھی۔ اس کی بیٹی کو اس کے گھر سے اغوا کرنا بغیر کسی سلام دعا کے یہ بالکل ناقابل برداشت تھا لیکن اس بار وہ مسلسل دوپہر تک سوئی رہی۔ جب فروین جاگ کر اٹھی تو اس نے موبائل پہ سوہا کا ٹیکسٹ میسج دیکھا جس میں کہا گیا تھا کہ اس کی پھوپھو جاگ چکی ہیں اور اگر وہ فری ہیں تو شمائل کے ساتھ ان سے ملنے جائیں۔ فروین نے پہلے شاور لیا لیکن جب وہ باہر نکلی تو اس نے مس مارٹا کو شمائل کے ساتھ بحث کرتے پایا۔
مس مارٹا، جو کہ ایک خوبصورت پرنسس ڈریس تھامے ہوئے تھیں، شمائل کو قائل کرنے کی کوشش کر رہی تھیں کہ وہ اسے پہنے۔
“کیوں نہ یہ پہنو، شمائل؟ تم اپنے بزرگوں کے پاس جا رہی ہو، تو مناسب لباس میں ہونا ضروری ہے۔”
حارث بغیر کوئی تاثر دیے، اس گلابی لباس کو دیکھ رہا تھا۔ اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اگر اس نے یہ لباس پہنا تو وہ شرم سے مر جائے گا!
“کیا تم مجھے بتا سکتی ہو کہ آج تم یہ پرنسس ڈریس کیوں نہیں پہنا چاہتی، بیبی؟”
فروین اس سے پوچھنے لگی۔
اگرچہ شمائل کے پاس لڑکوں کے کپڑے بھی تھے، اندر سے وہ حقیقت میں ایک چھوٹی پرنسس تھی۔ اسے ہمیشہ اپنے بزرگوں سے ملنے جاتے وقت خوبصورت لباس پہننا بہت پسند تھا۔ جب فروین کو اس نے خود سے سوال کرتے دیکھا تو فورا مس مارٹا کے ہاتھ سے ڈریس کو تھام لیا کیونکہ خزاں کا موسم تھا، اس ڈریس کے ساتھ سفید لیگنز بھی تھے۔ حارث کچھ نہیں کہہ سکا۔
اس نے کمرے میں جا کر بڑی مشکل سے وہ ڈریس پہنی، پھر باہر آیا۔ جب اس نے فروین کا مطمئن چہرہ دیکھا، تو وہ خاموشی سے آہ بھر کے رہ گیا۔ فیملی کے دوبارہ ملنے کے لیے، وہ واقعی بہت کچھ کر رہا تھا! جب فروین نے دیکھا کہ اس کی بیٹی اتنی مدت کے بعد پرنسس ڈریس پہنے ہوئے اتنی مشکل سے چل رہی ہے، تو اس نے فیصلہ کیا کہ اسے گود میں لے لیں۔ پھر وہ باہر نکل آئیں۔
جب وہ ہال وے میں داخل ہوئیں، تو انہوں نے بے اختیار اپنی بیٹی کا چہرہ چھپایا۔ فروین کی والدہ اس کی پیدائش کے کچھ عرصہ بعد انتقال کر گئیں۔ انہوں نے اپنی آخری ہدایات میں کہا تھا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا اظہار نہ کرے، بلکہ سادگی سے اور معمولی انداز میں رہے جب تک کہ وہ اپنی حفاظت کرنے کے قابل نہ ہو جائے۔ ورنہ وہ خطرے میں پڑ سکتی تھی۔
فروین کو یہ نہیں معلوم تھا کہ اس کی والدہ کس قسم کے خطرے کا ذکر کر رہی تھیں، لیکن اس نے ہمیشہ اپنی والدہ کی ہدایات پر عمل کیا۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے احتیاط اور کم پروفائل رکھنے کی عادت بنا لی۔
دونوں نیچے گئے اور ایک ٹیکسی میں ہاسپٹل پہنچے۔ جب وہ وہاں پہنچے، تو سیدھا وی آئی پی وارڈ میں گئے۔
شائستہ، جس کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی، پہلے ہی جاگ چکی تھیں۔ ہاسپٹل میں کیے گئے چیک اپ سے پتہ چلا کہ اس کے دماغ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا۔ آپریشن بالکل ٹھیک رہا تھا۔
چند دن پہلے سوہا اور برہان کی پریشان کن نظریں اب معمول پہ تھی اور وہ مسکرا کر اسے دیکھ رہے تھے۔ سوہا نے ان کے پاس آ کر حارث کو گلے لگا لیا۔
“کیا تم شمائل ہو؟ تم بہت پیاری اور خوبصورت ہو!”
حارث کچھ نہیں کہہ سکا۔ مسکراہٹوں کے بیچ، اچانک ایک کرخت آواز نے، سب کی متوجہ اپنی طرف مبذول کی۔
” افسوس، آپریشن کے دوران ذمہ داری سے بچنے کے لئے غائب ہو گئیں، اور جب آپریشن کامیاب ہو گیا تو اچھا انسان بن کر واپس آگئیں۔ فروین، تم واقعی بہت چالاک ہو۔”
یہ آواز اریشہ کی تھی جس کی انکھیں غصے سے لال ہو رہی تھی جو انتہائی نفرت بھری نظروں سے فروین کو دیکھ رہی تھی۔ ڈاکٹر ایش نے اُسے جس طرح سے بے نقاب کر دیا تھا، اس کے نتیجے میں اس سال کے میڈیکل کالج کے بہترین گریجویٹ کا خطاب اس سے چھن گیا تھا۔ وہ فروین اور اپنی پھوپھو کی فیملی کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے نفرت بھرے لہجے میں بولی،
“اس نے صرف اپنی انگلیاں ہلائیں اور ایش کو ای میل بھیجی، اور آپ سب اتنے شکر گزار ہو؟ اگر اسے واقعی شائستہ پھوپھو کی پرواہ ہوتی تو آپریشن کے دوران وہ کیوں چلی گئی؟”
وہ چاہتی تھی کہ شائستہ برہان کو اس بات کا دکھ ہو،
جیسے ہی اریشا کے دماغ میں یہ خیال آیا، اس نے شائستہ کی آواز سنی،
“کل کے لیے شکریہ، فروین۔ “
فروین مسکرا کر بولی،
“کوئی بات نہیں۔”
دونوں نے ایک دوسرے کو نظر بھر کر دیکھا۔ جیسے ان کے بیچ ایک خاص سمجھوتہ طے پا چکا ہو اور دونوں نے اریشہ کی باتوں کو نظر انداز کر دیا، جس سے اریشا کا چہرہ شرمندہ سا ہو گیا۔ وہ خود کو مسخرہ سی محسوس کرنے لگی۔ وہ جو ان دونوں کے بیچ اختلاف ایجاد کر رہی تھی جبکہ شائستہ اور فروین نے اس پہ دھیان ہی نہیں دیا۔ غصے اور بے چینی میں وہ کچھ اور کہنے ہی والی تھی کہ صدف نے پوچھا، “
کیا یہ تمہاری بیٹی ہے، فروین؟ یہ تو بہت پیاری ہے۔”
فروین نے بھنویں چڑھائیں۔ اسے صدف کا انداز عجیب لگا۔ اسی وقت، شائستہ نے بھی سوال کیا،
“تم سب یہاں کیوں آئے ہو؟”
ان کے ہاسپٹل داخل ہونے پر مہر کاظم کی فیملی نے کوئی فکر مندی ظاہر نہیں کی تھی، لیکن ان دنوں یہ لوگ اتنی بار یہاں آ رہے تھے۔ وہ واقعی فروین کے ساتھ وقت گزارنے میں خلل ڈال رہے تھے۔ صدف کی آنکھوں میں حقارت کا تاثر تھا۔
کیا شائستہ کو واقعی یہ لگتا تھا کہ وہ ہاسپٹل جیسی جگہ پر آنا چاہتی تھی؟ وہ بھی شایستہ کے لئے؟ یہ سب فروین کے فون کالز کا جواب نہ دینے کی وجہ سے تھا، اس لیے انہیں ہاسپٹل آ کر اسے تلاش کرنا پڑا۔
مہر کاظم، جو آخری شخص تھا، کمرے میں داخل ہوا، اس نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے جواب دیا،
“ہم تمہاری عیادت کرنے آئے ہیں، ظاہر ہے۔”
پھر اس نے صدف کی نظروں کی پیروی کی اور حارث کو دیکھا اور جھوٹی مسکراہٹ چہرے پہ سجا کے کہا،
“تو، کیا یہ شمائل ہے؟ اگرچہ اس کے ڈیڈ شاید بدمزاج ہوں، لیکن یہ کافی پیاری لگتی ہے۔”
حارث نے فوراً جواب دیا،
“میرے ڈیڈ بدمزاج نہیں ہیں۔”
اریشہ ہنسنے لگی ہوئے
، “تم بالکل صحیح ہو۔ تمہاری مام بھی نہیں جانتی کہ تمہارے ڈیڈ کون ہیں۔ شاید وہ بدمزاج نہیں، بلکہ ایک ناقابل برداشت بھکاری ہوں؟ یا شاید کوئی مجرم؟ بہرحال، تمہاری مام کی شکل دیکھتے ہوئے، کوئی معمولی آدمی بھی اس کی طرف دیکھنے کی جرات نہیں کرتا!”
فروین نے حارث کو ان کی نظروں سے بچاتے ہوئے، اپنی آستینیں فولڈ کی اور سرد لہجے میں پوچھا،
“کیا پچھلی بار کی مار تمہارے لیے کافی نہیں تھی؟”
اسے ان کی تضحیک کی پرواہ نہیں تھی، لیکن اسے خوف تھا کہ شمائل کو دکھ ہوگا۔ اریشہ اس تھپڑ کو یاد کرتی دو قدم پیچھے ہو کے، مہر کاظم کے پیچھے چھپ گئی۔
” دیکھئیے ڈیڈ، وہ مجھے مارنا چاہتی ہے ۔ یہاں تک کہ آپ کے سامنے کہہ رہی ہے یہ بات “
مہر کاظم غصے میں آ کر دھمکاتے ہوئے بولا،
“بس ایک بار اور اُسے ہاتھ لگانے کی کوشش کر کے دکھاؤ، فروین تم تو واقعی پاگل ہو گئی ہو، کیا؟!”
صدف آگے بڑھ کر ان کے درمیان تصفیہ کرنے کی کوشش کرتی ہوئی بولی،
“بچوں کے سامنے ایسی باتیں نہیں کرتے، فروین جب میں نے شمائل کو دیکھا تو میں خود کو یہ سوچنے سے نہ روک سکی کہ اگر وہ چھوٹا بچہ اس وقت زندہ ہوتا تو وہ بھی یقینا بہت خوبصورت ہوتا، ہے ناں؟”
اس کے کہتے ہی، فروین نے اچانک اس کی طرف دیکھا۔
ان سالوں میں، اس نے بار بار مہر کاظم سے پوچھا تھا کہ وہ بچہ جو اُس وقت چھوڑ دیا تھا، کہاں ہے۔ لیکن وہ ہمیشہ اس بارے میں خاموش رہا تھا، تو آج یہ بات کیوں اٹھائی جا رہی تھی؟ اور اگلے ہی لمحے مہر کاظم نے پھر سے وہ معاہدہ نکال لیا۔
“کیا تم اپنے بیٹے کو ڈھونڈ رہی ہو؟ تو پھر ملکیت کی منتقلی کے معاہدے پر دستخط کرو، اور میں تمہیں بتاؤں گا کہ میں نے اُس چھوٹے باسٹرڈ کو کہاں چھوڑا تھا!”
فروین نے اپنی مٹھی بھینچ لی۔ اس کی آنکھوں میں بےحد سردمہری آئی تھی جبکہ مہر کاظم نے زوردار انداز میں مزید کہا،
“تمہیں پاکستان واپس آئے ہوئے ہو ایک ہفتہ ہو چکا ہے، اور تم نے کچھ نجی تفتیش کاروں سے رابطہ کیا ہے، مگر مجھے یقین ہے کہ انہیں کوئی خبر نہیں ملی، ہے نا؟”
وہ رک کے فروین کا چہرہ دیکھنے لگا۔
” میں تمہیں یہ بتا دوں—میں ہی وہ واحد شخص ہوں جو اس دنیا میں جانتا ہے کہ تمہارا بیٹا کہاں ہے۔ اگر تم واقعی اپنے بیٹے کو واپس لانا چاہتی ہو، تو پھر اس معاہدے پر دستخط کر دو۔”
فروین کا بیٹا اس کی کمزوری تھا۔ فروین نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے مہر کاظم سے پین لیا اور معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہو گئی۔ یہ منظر دیکھ کر حارث کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں۔
“ممی، نہیں!”
فروین نے اس کی طرف مڑ کر کہا،
” شمائل، شور مت مچاؤ۔ اگر ہم تمہارے بھائی کو تلاش کر سکیں تو میں اپنا سب کچھ چھوڑنے کے لیے تیار ہوں، کمپنی تو پھر کچھ نہیں ہے۔”
اس نے محسوس کیا کہ اس کی ماں اس سے کتنی محبت کرتی ہے۔ حارث کی آنکھوں میں نمی آ گئی اور اس نے فوراً فروین کا ہاتھ پکڑ لیا۔ حارث، سچ بتانا چاہتا تھا، لیکن اگر فروین کو ابھی سچ پتا چلا تو وہ یقیناً اس کے اور اس کی بہن کے ساتھ چلی جائے گی اور ان کے ڈیڈ اکیلے رہ جائے گیں۔ اگرچہ وہ ہمیشہ اپنے اس ظالم ڈیڈ کے خلاف جاتا تھا، لیکن ثالث پھر بھی ایک قابل تعریف ڈیڈ تھے اس کے لئے۔
اسے ابھی تک یاد تھا کہ کس طرح اس کے ڈیڈ، ہمیشہ اسے بچپن میں اپنے کام اور تمام ملاقاتوں میں لے کر جاتے تھے … جب اس نے دیکھا کہ فروین معاہدے پر دستخط کرنے والی ہیں، تو اس ایک لمحے میں، حارث نے اچانک اپنے قریب رکھی ہوئی دودھ کی گلاس اٹھائی اور سارے کاغذوں پر پھینک دی!
فروین نے صرف ایک لفظ لکھا تھا جب دودھ کاغذوں میں جذب ہو گیا۔ پین کا رنگ فوراً بگڑ گیا، جو کہ معاہدے کو ظاہر طور پر غیر معتبر بنا رہا تھا۔ مہر کاظم غصے سے گالیاں دیتے ہوئے بولا،
“کیا کر رہی ہے تو، کمینی؟؟”
حارث نے گلاس معصومیت سے پکڑا اور جواب دیا،
“میرے ہاتھ سے پھسل گیا تھا…”
اس کا جواب سن کر، اریشہ غصے میں آگے بڑھی اور فوراً ہاتھ اٹھایا۔
” تم چھوٹے بدتمیز، جان بوجھ کے کیا ہے تم نے، مار ڈالوں گی میں تمہیں “
فروین جھک کر اُسے اُٹھاتی ہے اور اپنی بانہوں میں اس کو بچاؤ کے طور پر تھام لیتی ہے۔ غصے بھری، سرد نظر سب پہ ڈال کے وہ کہتی ہے۔
، “تمہاری جرات کیسے ہوئی!”
سوہا نے تیزی سے آگے بڑھ کے، اریشہ کو روکا۔
“مجھے یقین ہے کہ اُس نے جان بوجھ کر نہیں کیا، اریشہ۔۔..”
شائستہ نے بھی بے چینی سے اپنا بازو آگے بڑھایا۔
“تم پانچ سال کے بچے کے ساتھ اتنی بدتمیزی سے کیوں پیش آ رہے ہو، کاظم؟ یہ تو بس ایک معاہدہ ہے۔ ایک اور کاپی پرنٹ کر لو!”
مہر کاظم شدید غصے میں تھا۔ فروین بس معاہدے پر دستخط کرنے والی تھی، لیکن پانچ سالہ بچے نے سب کچھ برباد کر دیا تھا! صدف بھی غصے میں دانت پیس رہی تھی۔ تاہم، اس نے زیادہ جذباتی ہونے سے بچتے ہوئے، حکم دیا،
” گھر واپس جا کر معاہدہ دوبارہ پرنٹ کر لیتے ہیں۔”
فروین نے اپنی آنکھیں سکیڑ کے سب کو گھور کے دیکھا پھر اس نے اپنی بیٹی کو اپنے بازو میں دیکھتے ہوئے کہا،
“میں شمائل کو لے کے ہوٹل جا رہی ہوں “
چاہے، بات اس کے بیٹے کو تلاش کرنے کے لیے ہو، وہ اپنی بیٹی کو کسی بھی نقصان کا شکار ہونے نہیں دے گی۔ مہر کاظم نے استہزائیہ انداز میں اسے دیکھا،
“ہاہ، تم ایک ایسی چھوٹی لڑکی کو بہت زیادہ تحفظ دینے کی کوشش کررہی ہو جو چند روپوں کے بھی قابل نہیں۔ ہم گھر پہ تمہارا انتظار کریں گے۔”
فروین، حارث کو اپنی بانہوں میں اٹھائے ہوئے بنا کچھ کہے، باہر نکلی۔
