Maseer-e-Mamnu – A Forbidden & Powerful Contemporary Romance Novel by Malayeka Rafi | novelR50456 Maseer e Mamnu Episode 06 Daddy or Demon
No Download Link
No categories assigned.
Rate this Novel
Maseer e Mamnu Episode 06 Daddy or Demon
ہوٹل فائنیسٹ میں ہر طرح کے پیزا موجود تھے۔
وہاں مختلف قسم کے ذائقے دستیاب تھے، اور ہر ایک اپنی پسند کے مطابق آرڈر کر سکتا تھا۔
فروین مینو ہاتھ میں لیے خالی میزوں کی طرف جا رہی تھی۔
شمائل بھی اس کے پیچھے تھی۔ چھوٹے سے سوٹ میں ملبوس، اس کی بیٹی بہت خوبصورت لگ رہی تھی، اور اس کی چمکتی آنکھوں میں ایک شریر جھلک تھی۔ “ممی، میں کیک دیکھ کر آتی ہوں۔”
فروین نے “ٹھیک ہے” کہا۔ لیکن جیسے ہی وہ مڑی، اس نے اپنی ‘بیٹی’ کو اپنے پیچھے خاموشی سے کھڑا پایا، جو حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔
حارث محض قسمت آزما رہا تھا، لیکن اسے یقین نہیں تھا کہ وہ واقعی دوبارہ اسے دیکھ لے گا۔ اس کی آنکھوں میں، فروین کو دیکھ کے، بےساختہ چمک سی نمودار ہوئی تھی جو پہلے کبھی نمودار نہیں ہوئی تھی۔
وہ حارث تھا جسے وہ شمائل سمجھ رہی تھی۔ ایک ہی جیسا ڈریسنگ، ایک ہی عمر، ایک ہی جیسی مماثلت۔
فروین نے اسے خاموشی سے مینو پکڑے دیکھا، تو الجھے ہوئے لہجے میں پوچھا،
“کیا تمہیں کیک کا کاؤنٹر نہیں ملا، بیٹا؟”
‘بیٹا’…
حارث کا چہرہ سرخ ہو گیا۔
اگرچہ اس کے دادا دادی بھی کبھی کبھار اسے گھر میں یہی کہتے تھے، لیکن فروین کی آواز آرام دہ اور نرم تھی، جو خاص طور پر محبت بھری محسوس ہو رہی تھی۔
اس کی آنکھوں میں اچانک آنسو آ گئے، اور اس نے اداسی سے پوچھا،
“کیا آپ میری ممی ہیں؟”
فروین حیران رہ گئی۔ اسے لگا کہ شمائل میں کچھ عجیب ہے۔
کیا یہ اس لیے تھا کہ اس نے ابھی گیم بند کر دی تھی؟
اگرچہ شمائل لاڈلی شہزادی تھی، لیکن وہ ہمیشہ ایک زندہ دل اور متحرک بچی رہی تھی۔ یقیناً ایسا نہیں ہوگا، ٹھیک؟
فروین نے جھک کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور دھیمی ہنسی کے ساتھ کہا،
“ٹھیک ہے، یہ سب ممی کی غلطی ہے۔ تم کیا کھانا چاہتی ہو؟ میں آرڈر کر دیتی ہوں، ٹھیک؟”
اس نے مینو اٹھایا۔
“کیا تم پیپرونی پیزا کھانا چاہتے ہو؟”
یہ واقعی ممی ہیں! حارث کی آنکھوں میں حیرانی تھی۔
وہ پوچھنا چاہتا تھا،
“ممی، آپ نے مجھے چھوڑ کیوں دیا؟” اور “آپ اتنے سال کہاں تھیں؟”
لیکن جب یہ سارے الفاظ زبان تک پہنچے، تو اس نے انہیں نگل لیا۔
جو لڑکا ثالث کی پرورش میں بڑا ہوا تھا، اسے اپنے جذبات کا اظہار کرنا مشکل لگتا تھا۔ وہ صرف زور سے سر ہلا سکا۔
“ہاں!”
فروین اس وقت لڑکے کے پیچیدہ جذبات سے بالکل بےخبر تھی۔ اس نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے ایک نسبتاً خاموش اور کونے میں موجود غیر نمایاں میز کی طرف لے گئی۔
دریں اثنا، شمائل، جو کیک ڈسپلے کاؤنٹر کے پاس کھڑی تھی، موس کیک اور بلیک فاریسٹ کیک کے درمیان فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی۔ آخرکار، جب اس نے طے کیا کہ وہ دونوں کھائے گی، تو وہ اپنی ماں کے پاس واپس جانے کے لیے مڑی۔
لیکن جیسے ہی وہ مڑی، اس نے ایک بہت ہی خوبصورت نوجوان کو دیکھا جو تیزی سے اس کی طرف آ رہا تھا۔ پھر، اس نے اپنا لمبا اور مضبوط بازو بڑھایا، اسے اٹھایا اور زبردستی باہر لے جانے لگا۔
“یہ سب کچرا کھانا نہیں کھا سکتے تم “
شمائل، جو حیران رہ گئی تھی، نے زور سے خود کو اس کی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کی۔
“تم کون ہو؟ مجھے حکم کیوں دے رہے ہو؟ چھوڑو مجھے، ہیلپ، کوئی مجھے کڈنیپ کر رہا ہے!”
طلال، جو ان کے پیچھے آیا تھا، نے یہ منظر دیکھ کر بے بسی سے اپنا ماتھا تھام لیا۔ سب ختم ہو گیا تھا۔
بچہ اور “ظالم” پھر آمنے سامنے تھے۔ حارث ضدی اور ڈھیٹ تھا جبکہ ثالث مہدی حکم چلانے والا۔ سب کچھ ٹھیک رہتا جب تک حارث فرمانبرداری سے چلتا رہتا، لیکن جب وہ انکار کرتا، تو گھر میں تباہی لازمی ہوتی۔
طلال گھر فون کر کے اپنے بھتیجے کو بچانے کی درخواست کرنے ہی والا تھا کہ اس نے دیکھا کہ “ظالم” اچانک رک گیا۔ اس کے چہرے پر حیرت کے ہلکے تاثرات نمودار ہوئے۔
ثالث کے گلے پر موجود چند گرم آنسوؤں کے قطروں نے اسے حیرت میں ڈال دیا اور وہ وہیں منجمد ہو گیا۔
یہ… یہ کیا ہو سکتا ہے؟
اس نے اپنی گرفت تھوڑی سی ڈھیلی کی، اور فوراً ایک چھوٹے سے روتے ہوئے چہرے سے سامنا ہوا۔
شمائل زور زور سے رو رہی تھی۔ اس کے آنسوؤں نے اس کے چھوٹے سے جسم کو لرزا دیا تھا۔ اس نے اپنا ننھا سا ہاتھ بڑھا کر ثالث کے چہرے کو چھوا۔
“ڈیڈی… آپ میرے ڈیڈی ہیں…”
ثالث کو سمجھ نہیں آیا کہ کیا کہے۔
اس کا بیٹا ہمیشہ سنجیدہ اور خاموش رہتا تھا، لیکن اس وقت اس کے چہرے پر جذبات واضح تھے۔ اس کی بڑی بڑی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو گر رہے تھے۔
یہ دیکھ کر عجیب سی بے بسی کا احساس ہوا تھا اسے۔
“اب اور نہیں رونا”
ثالث نے دھیمی آواز میں کہا۔ پھر، وہ اپنے ہاتھ سے اس کے آنسو پونچھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ ایک نرم چھوٹے سے ہاتھ نے اس کی انگلیاں پکڑ لیں۔
“ڈیڈی!”
شمائل کے نرم الفاظ سن کر ثالث کو “مرد رویا نہیں کرتے” کہنے کے الفاظ نگلنے پڑے۔
حارث صرف پانچ سال کا تھا۔ وہ اب بھی بچہ تھا۔
ثالث کا سخت اور سرد دل حقیقت میں تھوڑا نرم پڑ گیا۔
“سچ میں؟ صرف کھانے کی وجہ سے اتنا رونا دھونا؟”
ثالث، سنجیدگی سے اسے دیکھتا پوچھ رہا تھا۔
اس کے باوجود، اس نے پہلی بار شمائل کو نیچے زمین پر اتارا جبکہ شمائل نے فوراً اس کا بڑا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا، جیسے ڈر رہی ہو کہ اس کے “ڈیڈی” کہیں غائب نہ ہو جائیں۔ اس نے سر اٹھایا اور کہا،
“ڈیڈی، ہم ساتھ کھانا کھائیں گے۔”
ثالث نے اپنے ہونٹ بھینچے اور گھڑی کی طرف دیکھا۔ “میرے پاس صرف ایک گھنٹہ ہے۔”
طلال، جو کب سے ہکا بکا کھڑا تھا، نے بے ساختہ کہا، “یہ حارث ہے؟ یہ وہی حارث ہے جو بھوکا رہنے اور سزا قبول کرنے کو تیار ہوتا تھا لیکن جھکتا نہیں تھا؟ یہ اچانک اتنا سمجھدار کیسے ہو گیا؟”
ثالث مہدی، کو ڈیڈی بلاتی شمائل بےحد پرجوش تھی۔ اس نے اتنا خوبصورت ڈیڈ ڈھونڈ لیا تھا! چاہے وہ واقعی اس کا باپ ہو یا نہ ہو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا اسے، لیکن اس کا ننھا سا دماغ جو بار بار اسے یہ باور کرا رہا تھا کہ یہی اس کا ڈیڈ ہے اور آگے سے ثالث مہدی نے بھی، اس کے ڈیڈی کہنے پہ، کوئی عکس العمل نہیں دکھایا بلکہ اس کے لاڈ اٹھائے اور یہی بات شمائل کو مزید اس شخص کے قریب کر گئی تھی۔ اسے یہی محسوس ہوا کہ اگر اس کے ڈیڈی ہوتے تو بلکل ثالث مہدی جیسا ہی ہوتا جبکہ دوسری طرف ثالث مہدی، اس کے محبت بھرے رویے کو دیکھتا بار بار یہی سوچ رہا تھا کہ اس کے بیٹے میں اتنی بڑی تبدیلی آئی کیسے ؟؟ وہ ضدی تھا ہی نہیں بلکہ بےحد محبت کا برتاؤ کر رہا تھا، ثالث مہدی سے ۔
“یہ کھائیے، ڈیڈی! یہ مہنگا ہے!”
“صرف جوس نہ پیے، ڈیڈی۔ یہ پیٹ بھر دیتا ہے اور پھر آپ زیادہ کھا نہیں سکیں گے۔”
اب کے ثالث نے اپنے بیٹے کو سنجیدگی سے گھورا جو بالکل مختلف انداز میں برتاؤ کر رہا تھا۔ اسی دوران، طلال، جو اس کے ساتھ بیٹھا تھا، سرگوشی میں بولا،
” ثالث، کیا حارث پر کسی چیز کا سایہ ہو گیا ہے؟”
شمائل نے اپنی پسند کا کھانا چننے کے بعد ثالث کا ہاتھ تھاما اور کونے میں موجود میز کی طرف چل پڑی۔ “ڈیڈی، ممی وہاں ہیں۔”
ثالث کی نظر اس کی انگلی کے اشارے کی طرف گئی اور اس نے دوبارہ کونے میں بیٹھی ہوئی عورت کو دیکھا۔
وہ آرام دہ صوفے پر سست انداز میں ٹیک لگائے بیٹھی تھی، اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں، جیسے اس کے اردگرد ہونے والی چیزوں کا اس سے کوئی تعلق نہ ہو، اور وہ دنیا سے بالکل الگ تھلگ نظر آ رہی ہو۔
اس نے ایک ہاتھ سے اپنے گال کا سہارا لیا ہوا تھا، جب کہ دوسرے ہاتھ میں کانٹا پکڑے وہ بے دھیانی سے کھانا کھا رہی تھی۔ اس کی حرکات میں ایک ناقابل وضاحت کشش تھی۔
اس کی انگلیاں لمبی اور پتلی تھیں، جن کے جوڑ واضح تھے۔ ایسی انگلیاں نہایت چست اور لچکدار ہوتیں اور پیانو بجانے کے لیے بے حد موزوں ہوتی ہیں۔ وہ واقعی بہت خوبصورت تھی۔
اس کے سامنے ایک بچہ بیٹھا تھا، جس کی پیٹھ ان کی طرف تھی۔ بچہ بہت چھوٹا تھا، اس لیے اس کے بالوں کے اوپری حصے کے علاوہ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ غالباً وہ اس کی بیٹی تھی۔نہ چاہتے ہوئے بھی، ثالث لمحہ بھر کے لئے، اس حسن کی دیوی کو دیکھے گیا اور پھر سر جھٹک کے، ثالث نے اپنی نظروں کا رخ شمائل کی طرف کیا ۔
“وہ تمہاری ممی نہیں ہیں۔”
“وہ میری ممی ہیں۔”
سرد لہجے میں ثالث اس کی طرف جھکا
“یہ یاد رکھو، حارث ۔ کسی عورت پر بھروسہ مت کرنا، خاص طور پر… خوبصورت عورتوں پر!”
شمائل کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
افسوس؟
افسوس تو تب ہوگا اگر وہ ممی کو قبول نہ کرے!
اس کی آنکھوں میں اچانک آنسو آ گئے۔
“اگر آپ انہیں میری ممی کو ایسے بولے گیں، تو پھر آپ میرے پاپا نہیں ہیں!”
ثالث کے ماتھے پہ بل پڑ گئے۔ اس کی غصہ بھری نگاہیں لوگوں کے دل چھلنی کر سکتی تھیں، اور اس کی آنکھ کے کنارے پر موجود تل بھی مزید گہرا معلوم ہو رہا تھا۔
آخر وہ عورت اس کے بیٹے کو کس طرح بہکا سکتی تھی؟
اس نے واقعی حارث سے ایسی بات کہلوائی؟
اور پھر…
اچانک اسے کچھ یاد آیا اور اس نے پوچھا،
“تم ان کے ساتھ نیچے آئے تھے؟”
شمائل نے جواب دیا،
“ظاہر ہے۔”
یہ بلکل وہی بات سامنے آئی، جو اس نے سوچا تھا۔
اسے معلوم تھا، حارث اچانک پیزا کیوں مانگ رہا تھا۔
ثالث نے طنزیہ انداز میں ہنکارا بھرا۔ وہ عورت آج دوپہر نیچے کسی اور مرد کے ساتھ فلرٹ کر رہی تھی، اور اب دوبارہ اپنے بیٹے کا سہارا لے کر اسے لبھانے کی کوشش کر رہی تھی۔
ایسا لگ رہا تھا کہ گزشتہ رات اسے دی گئی تنبیہہ، شاید وہ بھول گئی ہے۔ وہ غصے سے شمائل کی طرف پلٹا اور سختی سے بولا،
“اس سے دوبارہ بات مت کرنا۔”
شمائل الجھن میں پڑ گئی۔
اس نے اداس نظروں سے اپنی ماں کی طرف دیکھا، پھر اپنے لمبے اور ہینڈسم ڈیڈ کی طرف دیکھا۔ آخر کار، اس نے دانت بھینچ لیے اور ثالث کے ساتھ آگے بڑھ گئی۔
وہ تو صرف یہ چاہتی تھی کہ اپنی خوبصورت سی ممی کے لئے، اپنے ڈیڈ کو کڈنپ کر لیں۔ کیا سوچ تھی پرنسز کی، یہ بات اگر ثالث کو پتہ چل جاتی تو نہ جانے اور کتنا غصے بھرا چہرہ سہنا پڑتا شمائل کو۔
“پاپا، کیا میری ماما خوبصورت نہیں ہیں؟ وہ تو سیلیبریٹیز سے بھی زیادہ حسین ہیں۔ اگر آپ ان سے شادی کر لیں، تو جب آپ انہیں کہیں لے کر جائیں گے، لوگ کتنے امپریس ہوں گے!”
ثالث الجھن میں پڑ گیا۔
آخر اس عورت نے اس کے بیٹے سے کیا بے ہودہ باتیں کی ہوں گی؟! اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اس عورت کو اتنا سوچ کیوں رہا ہے ؟؟ دن میں کئی بار وہ اس عورت کو سوچتا ہے، اس کی آنکھیں اس عورت کو ڈھونڈتی ہے اور ابھی بھی شمائل بار بار اس کا ذہن، فروین کی طرف متوجہ کرانے کی کوشش کر رہی تھی ۔ تبھی وہ سر جھٹک کے،لب بھینچ گیا۔
فروین، جو آہستہ آہستہ کھا رہی تھی، اس پہ اب نیند کا غلبہ آنے لگا تھا۔
اس کی بیٹی آج شام غیرمعمولی طور پر سمجھداری کا مظاہرہ کر رہی تھی۔ جو عام طور پر کھانے میں نخرے کرتی تھی، اس نے حیرت انگیز طور پر گاجریں نکالے بغیر سب کھا لیں۔ بس مسئلہ یہ تھا کہ وہ کھانے میں کافی وقت لے رہی تھی۔
فروین کو تھوڑی سی فکر لاحق ہوئی لیکن سر جھٹک کے،اس نے پیچھے جھک کر آنکھیں بند کر لیں۔
” اگر تمہیں کیک لینا ہے تو تم جا کے، اپنی مرضی کا لے سکتی ہو “
وہ جانتی تھی کہ شمائل کو کیک اور دوسری چیزیں بےحد پسند ہیں جو میٹھی ہو۔ تبھی حارث سر اثبات میں ہلایا اور کرسی سے اٹھ کے، دوسری طرف چل پڑا۔
اسی دوران، شمائل نے موقع دیکھتے ہوئے جب باقی لوگ اپنے سامان لے رہے تھے، چپکے سے واپس آ کر فروین کو دیکھنے کی کوشش کی۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ کتنی نیند میں ڈوبی ہوئی لگ رہی ہے، تو اسے تھوڑی شرمندگی محسوس ہوئی۔
اس کے ساتھ رات کا کھانا کھانا پہلے ہی اس کی نیند کے وقت میں بہت کمی کر چکا تھا۔
پھر بھی، اس نے پاپا کے ساتھ جانا منتخب کیا اور ماما کو چھوڑ دیا۔ اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔
شمائل اٹھ کر آئی اور ایک آہ بھری۔
” آپ کو نیند آ رہی ہے، ممی؟ چلو واپس چلتے ہیں۔”
شمائل کا پیٹ آخرکار بھر گیا۔ یہ سوچ کے ہی فروین کو تسلی ہوئی تھی ۔
“ٹھیک ہے”۔
نیند میں ڈوبی ہوئی آواز میں کہتی، وہ شمائل کا ہاتھ تھام کے اٹھ کھڑی ہوئی اور ریسٹورنٹ سے لفٹ کی طرف جانے لگی۔
ایک منٹ بعد ہی، حارث واپس آیا، مگر صرف خالی میز دیکھ کر۔ اس کی آنکھوں کی چمک مدھم پڑ گئی، اور اس کے کندھے بھی جھک گئے تھے۔
اسی لمحے پیچھے سے ایک گہری آواز آئی۔
“وقت ختم ہو گیا۔”
حارث کا ننھا سا جسم کانپ اٹھا۔ جب اس نے مڑ کر دیکھا کہ وہ ظالم ڈیمن اس کے پیچھے کھڑا تھا اور بے صبری سے اسے دیکھ رہا تھا۔
اسے معلوم تھا کہ گھر جا کر وہ ضرور ڈانٹے گا اسے، تبھی اداسی اس کے وجود پہ بسیرا کرنے لگی لیکن غیر متوقع طور پر، اگلے لمحے، ثالث جھک کر اسے اٹھا لیتا ہے اور یہ بھی پوچھتا ہے،
” تمہیں پیزا پسند ایا؟ پیٹ بھر گیا تمہارا ؟؟”
حارث کنفیوز سا اس ظالم ڈیمن کو دیکھنے لگا۔ اتنا بدلا ہوا ڈیمن؟؟ غصہ ہی نہیں ہوا اس بات پہ، کہ وہ کہاں غائب تھا؟؟
کیا آج ظالم ڈیمن نے نئے سرے سے بدلنے کا ارادہ کر لیا تھا؟ اس کا ننھا ذہن یہی سوچتا رہا۔
꧁༺♡ Maseer-E-Memnu ♡༻꧂
ڈنگ!
فروین جو بیڈ پہ جانے ہی والی تھی کہ دروازے کی گھنٹی بجی۔ اس پہ نیند غالب تھی اور وہ جلد سے جلد سونا چاہتی تھی اور تبھی عجلت میں یہ کام بھی نمٹا لینا چاہتی تھی، تبھی جب وہ بولی تو آواز میں عجلت تھی۔
“کون ہے؟”
ایک انجان مرد کی آواز اس تک پہنچی۔
“میرا نام مہدی ہے، مس فروین مہر کاظم ۔”
مہدی؟
یہ مسٹر ثالث مہدی کیوں آئے ہیں؟؟
فروین نے آنکھیں گھمائی اور شمائل سے کہا،
“دروازہ کھولو، شمائل ۔”
“ممی، میں اس وقت ایک زبردست ٹیم بیٹل میں ہوں! … پیچھے والوں سے ہوشیار رہو! ارے، طلال ایکس، کتنی بار مر چکے ہو؟ تم تو بہت ہی زیادہ نازک ہو ۔۔۔ اوہہو !”
شمائل، جو صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی، نے اپنی ٹیم کے ساتھیوں پر غصے سے تنقید کی، بغیر اوپر دیکھے۔
مایوس ہو کر، فروین دروازہ کھولنے کے لیے آگے بڑھی۔
دروازے کے باہر ثالث نہیں بلکہ ایک 20 سال کا نوجوان کھڑا تھا۔ وہ سفید آرام دہ لباس میں ملبوس تھا اور دیوار سے ٹیک لگا کر اپنے موبائل فون پر گیم کھیل رہا تھا۔ اس کی گہری آنکھیں، جو ثالث سے مشابہت رکھتی تھیں، قدرے اٹھی ہوئی تھی، اور اس کے چہرے کے نقوش میں ایک روشن اور معصوم سا تاثر تھا۔ وہ بالکل کسی امیر خاندان کے اچھے پرورش یافتہ لڑکے کی طرح لگ رہا تھا۔
جیسے ہی دروازہ کھلنے کی آواز آئی، طلال اپنی گیمنگ ٹیم کے ساتھ کال میں اپنی آواز دھیمی کرتے ہوئے کہا، “لیڈر، میں تو پہلے ہی مر چکا ہوں، اس لیے اس راؤنڈ کے لیے تم پہ ڈیپیند کرتا ہوں اب ۔”
مایکروفون بند کرنے کے بعد، اس نے اپنا سر اٹھایا اور فروین کو ایک نظر اوپر سے نیچے تک دیکھا۔
اسے وہ عورت حیرت انگیز طور پر گوری اور خوبصورت محسوس ہوئی تھی۔ اس کے بلی جیسی، کانچ کی آنکھیں قدرے جھکی ہوئی اور خستہ معلوم ہو رہی تھی، اور اس کے بے تاثر چہرے پر تھکن اور نیند کا غلبہ نمایاں تھا۔
” جی کہئیے؟؟”
فروین نے بوجھل اور بےتاثر لہجے میں پوچھا۔
꧁༺♡ Maseer-E-Memnu ♡༻꧂
