Maseer-e-Mamnu – A Forbidden & Powerful Contemporary Romance Novel by Malayeka Rafi | novelR50456 Maseer e Mamnu Episode 10
No Download Link
No categories assigned.
Rate this Novel
Maseer e Mamnu Episode 10
فون بند کرنے کے بعد فروین نے جلدی سے منہ دھویا، کپڑے بدلے، اور باہر نکل گئی۔ جب لفٹ میں آئی، تو اس میں پہلے ہی دو پیشہ ورانہ لباس پہنی ہوئی خواتین موجود تھیں۔ فروین نے لفٹ کے دروازے بند کیے اور اندر داخل ہو گئی۔ نیچے جاتے وقت اس نے آنکھیں بند کیں اور پیچھے دو خواتین کے درمیان ہونے والی گفتگو اس کے کانوں میں پڑی۔
“ہمیں چھوٹے صاحب کے ساتھ ایسا رویہ نہیں رکھنا چاہئے ۔ یہ تو جسمانی سزا ہے۔”
“یہ تم کیا بات کر رہی ہو؟ ہمیں بوڑھی خاتون نے بھیجا ہے۔ ویسے بھی، کیا تم نے نہیں دیکھا کہ چھوٹے صاحب کو مارا گیا، پھر بھی وہ روئے نہیں؟ وہ زیادہ بات بھی نہیں کرتے۔ میں نے سنا ہے کہ وہ آٹزم کا شکار ہیں۔”
“کیا؟ کوئی تعجب نہیں کہ وہ سست اور بھولے بھالے لگتے ہیں۔ میں تمہیں یہ سیکرٹ بتا رہی ہوں، لیکن جب میں نے انہیں ڈانٹتے ہوئے دیکھا تو مجھے تھوڑا اچھا لگا۔ بھلے ہی تمہارے پاس دولت اور شہرت ہو، آخرکار تمہیں بھی ہمارے سامنے اطاعت کرنی پڑے گی! لیکن اگر مسٹر ثالث کو پتہ چل گیا تو؟”
“اگر انہیں پتہ چلا تو بس یہی کہہ دیں گے کہ انہوں نے ہوم ورک مکمل نہیں کیا تھا۔ مسٹر ثاپث، چھوٹے صاحب کے بارے میں بہت سخت ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو روتے یا شور مچاتے ہوئے دیکھ کر ہمت ہار جاتے ہیں، لیکن حارث تو بس خاموشی سے سب کچھ برداشت کرتا ہے… میں تو یہ بھی جانتی ہوں کہ اگر میں اسے لنچ بھی نہ دوں، تو وہ رات تک اس کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہے گا۔”
ڈنگ!
جب لفٹ پہلی منزل پر پہنچی، تو دونوں ٹیوٹرز باہر نکل کر ہوٹل کے ریسٹورنٹ میں کھانے کے لیے چلے گئے۔
فروین، جو ان کے ساتھ باہر نکلی، نے اپنی پیشانی پر بل ڈالا اور فکرمندی سے قدم بڑھائے۔ وہ دونوں اوپر کی منزل سے آئے تھے، لہذا وہ صرف اوپر کی سطح پر موجود صدارت کے سوئٹ سے ہی آئے ہوں گے۔ اس لیے وہ “چھوٹے صاحب” جس کا ذکر وہ کر رہے تھے، وہ یقیناً ثالث مہدی کا بیٹا تھا؟ فروین نے سر جھٹکا اور یہی سوچا کہ وہ اپنے کام سے کام رکھے گی۔
جو ٹیکسی اس نے بک کی تھی وہ آ چکی تھی۔ وہ گاڑی میں بیٹھنے ہی والی تھی کہ پیچھے ہنگامہ سنائی دیا۔ اور یہ واقعی ثالث ہی تھا جو اپنے باڈی گارڈز کے ساتھ باہر آ رہا تھا۔ فروین نے نظریں ہٹائیں اور گاڑی میں بیٹھ گئی۔ گاڑی کے چلنے سے پہلے، اس نے دیکھا کہ ثالث نے اپنے چھوٹے سے بیٹے کو کندھے سے لگایا ہوا تھا جبکہ وہ ثالث کے کندھے میں سر رکھے، خود کو جیسے ساری دنیا سے چھپا رہا تھا۔
اگرچہ اس نے اس کا چہرہ واضح طور پر نہیں دیکھا تھا، وہ شمائل کی عمر کے قریب لگتا تھا، اس لیے وہ شاید شمائل کی عمر کا ہی تھا۔ فروین کے وجود میں اچانک غصہ بھر آیا۔ اس نے اچانک گاڑی کا دروازہ کھولا، باہر نکلی، اور سیدھا ثالث کی طرف بڑھنے لگی۔
اس سے پہلے کہ وہ قریب پہنچ پاتی، باڈی گارڈز نے اسے روک لیا۔
سجاد نے پہلے ہی اسے دروازے کے قریب گھومتے ہوئے اسے دیکھ لیا تھا۔ وہ مذاق اُڑاتے ہوئے بولا،
“مس فروین مہر کاظم، مجھے پتا ہے کہ آپ مسٹر ثالث کا شکریہ ادا کرنے آئی ہیں، پھر ان کا کانٹیکٹ نمبر مانگنے والی ہیں۔ ہم نے یہ طریقے لاکھوں بار دیکھے ہیں۔ کیا آپ تھوڑا زیادہ محنت نہیں کر سکتی اور کوئی نیا طریقہ استعمال نہیں کر سکتی؟”
فروین الجھن میں پڑ گئی۔ ثالث مہدی، اسے دور سے ہی بلیک سوٹ میں نظر آ رہا تھا اور پھر وہ گاڑی میں بیٹھ گیا۔ اس نے فروین کو نہیں دیکھا تھا۔ گاڑی کے چلتے ہی فروین کی آنکھوں میں غصہ بھر آیا۔ یہ ایک نادر موقع تھا جب اس نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ مداخلت کرے گی، کیونکہ وہ چھوٹا سا بچہ تھا، کیسے اس کے ساتھ کوئی بھی ایسا رویہ رکھ سکتا ہے لیکن یہاں سب اس کے متعلق غلط فہمی کا شکار ہو رہے تھے۔
اس نے پلٹ کر جانے کا ارادہ کیا۔ چند قدم چلنے کے بعد، غصہ نہ روک پائی، اور واپس پلٹ کر سجاد کے پاس گئی۔ اس نے اپنا غصہ کنٹرول کرنے کی کوشش کی جو سجاد کی باتوں سے اسے آیا تھا، لیکن آخرکار ناکام ہو گئی۔
“مسٹر سجاد، آپ کو مسٹر ثالث کو نیورولوجسٹ کے پاس لے جانا چاہیے جب وہ فارغ ہوں۔ نرگسیت ایک بیماری ہے۔ اس کا علاج کرائیں۔”
سجاد الجھی نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔ یہ کہہ کے فروین مڑی اور ٹیکسی میں جا کے بیٹھ گئی اور سیدھا ٹاؤن کے اسپتال کی طرف روانہ ہو گئی۔ ہاسپٹل میں زیادہ لوگ نہیں تھے۔ فروین اوپر کی منزل پر گئی اور وی آئی پی وارڈ میں داخل ہوئی۔ وہ ابھی تک اپنی پھوپھی سے نہیں مل پائی تھی کہ مہر کاظم غصے میں اس کی طرف بڑھا اور اس کے منہ پر معاہدہ پھینک دیا۔
” فروین، تمہیں آج ہی ملکیت کی منتقلی کے معاہدے پر دستخط کرنا ہوں گے، اور اپنی بہن سے معافی مانگنی ہوگی! ورنہ تم اپنی پھوپھی کو بچانے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتی!”
فروین نے ماتھے پر بل ڈالا۔ اس سے پہلے کہ وہ جواب دیتی، ایک نرم مگر بے چین آواز اس تک پہنچی۔
“کیا تم مجھے میری قبر تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہو، کاظم؟”
ہاسپٹل بیڈ پر، ایک نرم مزاج کی درمیانی عمر کی عورت جو ہاسپٹل کے گاؤن میں ملبوس تھی، بستر سے اٹھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کے بال کٹے ہوئے تھے، اور بیماری کی وجہ سے وہ خوفناک طور پر دبلی نظر آ رہی تھی۔ اس کے گال دھنسے ہوئے تھے، مگر اس کی نرم شخصیت کو چھپایا نہیں جا سکتا تھا۔
وہ شائستہ کاظم تھیں، اس کی پھوپھی۔ فروین چند قدم آگے بڑھی اور بیڈ کے کنارے بیٹھ گئی۔ اس نے ان کا ہاتھ تھاما اور کہا،
” پھوپھو۔”
شائستہ نے چند لمحے تک فروین کو اوپر سے نیچے تک دیکھا۔ پھر اس کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔
“تم بالکل اپنی ماں کی طرح لگ رہی ہو جب سے تمہارا وزن کم ہوا ہے، فروین۔”
ان کی آواز کانپ رہی تھی
، “تم نے ان سالوں میں باہر کتنی مشکلات جھیلی ہیں۔”
ا تنے سال جب وہ غیر ملک میں رہ رہی تھی، مہر کاظم نے کبھی بھی اس کی مدد نہیں کی۔ اس کی بجائے اس کی پھوپھی ہمیشہ اسے کچھ پیسے بھیجتی تھی تاکہ اس کی روزمرہ کی ضروریات پوری ہو سکیں۔ اگرچہ یہ زیادہ نہیں تھا، لیکن یہ ان کی طرف سے ان کی محبت کا اظہار تھا۔ فروین کا دل پگھل گیا۔
اسی وقت اس کی سوتیلی ماں، صدف قریب آئی
” فروین، تمہاری پھوپھی ہمیشہ تمہارے ساتھ بچپن سے بہت اچھا سلوک کرتی آئی ہے، ہے نا؟ اب وہ بیمار ہے، اور تم ہی وہ واحد ہو جو اسے ٹھیک کر سکتی ہو! تم اسے مرنے تو نہیں دو گی؟”
فروین کا ماتھا شکن آلود ہوا تھا۔ برین ٹیومر… اس نے میڈیکل رپورٹ اور سی ٹی اسکین کو کھولا اور انہیں سنجیدگی سے پڑھنے لگی۔ صدف، جو مسلسل بول رہی تھی،
“تمہاری پھوپھی کا آپریشن بہت مشکل ہے، فروین۔ اگر ذرا سی غفلت ہوئی تو اس کا دماغی نقصان ہو سکتا ہے، اس لیے ہاسپٹل میں کوئی بھی اسے کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ڈاکٹر جہانگیر یزدانی، جو اس ہاسپٹل میں نیورولوجی کے شعبے کے سربراہ ہیں، اریشہ کے کالج میں میڈیسن کے پروفیسر ہیں۔ اگر وہ اس سے درخواست کرے تو شاید وہ خطرہ مول لے کر یہ آپریشن کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔”
صدف نے اس موقع پر ایک گہری آہ بھری اور پھر دوبارہ گویا ہوئی ،
“لیکن اب تبریز کہہ رہا ہے کہ بغیر کمپنی کے وہ تمہاری بہن سے کبھی منگنی نہیں کرے گا۔ تمہاری بہن بہت دکھی اور پریشان ہے۔ اب تم تو کسی سے مدد تو نہیں مانگ سکتی، ہے نا؟ تو جب تک تم اپنی بہن کو کمپنی نہیں دے دیتی، ہم اریشہ کو ڈاکٹر جہانگیر یزدای سے مدد کے لیے کہنے دیں گے۔ تمہاری پھوپھی کا آپریشن کامیاب ہو گا یا نہیں، یہ سب تم پر منحصر ہے۔”
صدف کی بات ختم ہوتے ہی مہر کاظم غصے میں بھڑکنے لگے۔
“تمہیں اریشہ سے معافی بھی مانگنی ہوگی کہ تم نے اس کی خوبصورت شام کو خراب کردیا، تبریز کو جلانے کے لیے اُسے بہکایا اور اس پر ہاتھ بھی اُٹھایا!”
صدف، جو اچھا انسان بننے کی کوشش کر رہی تھی، مہر کاظم کو گھورنے لگی۔
“ہم سب ایک خاندان ہیں، تم یہ سب کیوں کہہ رہے ہو کاظم؟ فروین تمہاری پھوپھی کی بیماری میں ہم مزید دیر کر کے، رسک نہیں لے سکتے، کیوں نہ فوراً معاہدہ پر دستخط کر دو؟”
جب دونوں ایک ساتھ یہ دکھاوا کر رہے تھے، فروین نے اپنی پھوپھی کا سی ٹی اسکین پڑھنا مکمل کیا۔
یہ واقعی تھوڑا پیچیدہ تھا۔ ٹیومر خون کی نالیوں کو گھیر چکا تھا، اور ذرا سی غفلت بھی غلطیوں کا باعث بن سکتی تھی، جس سے اس کی پھوپھی کی موت بھی ہو سکتی تھی۔
اتنے پیچیدہ آپریشن کے لیے نیو یارک میں بھی زیادہ تر ڈاکٹروں کی جرات نہیں ہوگی، لیکن، اس میں صرف فروین ہی شامل نہیں تھی۔
شائستہ نے غصے سے دونوں کو دیکھا،
” کاظم، وہ کمپنی واحد چیز ہے جو فروین کی ماں نے اُس کے لئے چھوڑ گئی ہے۔ تم دونوں اتنے بے شرم کیسے ہو سکتے ہو؟!”
صدف مسکرائی۔
“یہ صحیح نہیں ہے، شائستہ، تمہارا کیا مطلب ہے کہ اس نے فروین کے لیے چھوڑا؟ کاظم اور فروین کی ماں اُس وقت میاں بیوی تھے۔ یہ ان کی مشترکہ جائیداد ہے۔”
“تم کتنی بے شرم ہو…”
شائستہ لب بھینچے صدف کو دیکھنے لگی اور پھر نظریں پھیر کے، فروین کو دیکھنے لگی۔ ،
” فروین، ان کی باتوں کا یقین نہ کرو۔ میری بیماری کا کوئی علاج نہیں ہے۔ چاہے تم معاہدے پر دستخط کر کے انہیں آپریشن کرنے دو، پھر بھی 90% امکان ہے کہ یہ ناکام ہو جائے گا۔ جاؤ یہاں سے تم بس !”
“ٹھیک ہے پھوپھو، میں پھر آؤں گی آپ سے ملنے۔”
فروین میڈیکل ریکارڈ رکھ کر مڑ کر باہر کی طرف روانہ ہوگئی۔
《♡♡♡♡♡》
حارث نے سرد نظروں سے اپنے سامنے رکھے ہوم ورک کو دیکھا جو اسے دوپہر میں نہیں دیا گیا تھا اور نہ ہی اس کے نصاب کا حصہ تھا۔ وہ کچھ نہیں بولا، بس خاموشی سے اپنی ٹیوٹر کو گھورتا رہا۔
ٹیوٹر( صنم ) نے ہونٹ چڑھا کر کہا،
“تم مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟ میں نے سنا ہے کہ تمہارے ڈیڈ نے تمہاری عمر میں یہ سارے سبق باآسانی مکمل کر لیے تھے۔ کیا تمہیں یہ سوال حل کرنا نہیں آتا؟ اگر ایسا ہے تو پھر ضرور تمہاری ماں نے تمہارے آئی کیو جینز کو کم کر دیا ہے!”
“ماں” کا لفظ سن کر حارث نے آخرکار ردعمل کا اظہار کیا۔ اس کے گھورنے میں اب غصے کی بھی جھلک تھی۔ خاموشی سے پین اٹھا کے، وہ اب ورک بک پر جواب لکھنے لگا۔ وہ یہ سوالات پہلے ہی حل کرنا جانتا تھا۔
اُس کی ماں بے وقوف نہیں تھی لیکن جیسے ہی اُس نے جواب مکمل کیا، صنم لب بھینچے اسے دیکھنے لگی
“یہ غلط ہے۔ تم نے پرابلم سولو کرنے کا رف ورک کیوں شامل نہیں کیا؟ میں تمہیں کئی بار بتا چکی ہوں! اپنا ہاتھ بڑھاؤ!”
حارث کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ صنم نے جو کچھ کیا وہ بالکل غیر منصفانہ تھا، اس کے ننھے ہاتھوں پہ صنم نے رولر سے مارا اور پھر وہ اُسے کھڑا ہونے کا حکم دے گئی۔ وہ مسلسل دو گھنٹے تک کھڑا رہا اور وہ ان دو گھنٹوں میں اس قدر تھک گیا تھا کہ تھکن کی تکلیف اُس کے جسم میں پھیل گئی تھی، لیکن اُس نے اپنی زبان نہ کھولی، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر اُس نے کچھ کہا تو مزید مشکلات آئیں گی۔
جب دونوں اُستاد چلے گئے، تو حارث نے میز پر پڑی ہوم ورک کی فائل دیکھی۔ وہ جانتا تھا کہ جو کچھ اُس نے کیا، وہ یقیناً غلط ہوگا۔ لیکن اُسے کوئی پرواہ نہیں تھی۔ اگر وہ صحیح جواب بھی دیتا، تو اُسے پھر بھی کہا جاتا کہ اُس نے ہوم ورک مکمل نہیں کیا
وہ خاموش رہا، کیونکہ اُس کا دل ماں اور اگلے دروازے والی لڑکی کے ساتھ بات کرنے کی خواہش رکھتا تھا۔ وہ لڑکی جو گیمز کھیلنے میں بہت ماہر تھی لیکن وہ اب وہاں نہیں تھی۔ وہ نیچے والے فلور پر چلی گئی تھی۔
حارث اچانک اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔ ادھر ادھر دیکھتا وہ اپنی جیکٹ ڈھونڈنے لگا اور اپنی مطلوبہ جیکٹ اٹھا کے وہ پہن چکا تو اپنے شوز بھی پہننے لگا اور پھر چپ چاپ کمرے سے نکل آیا۔ وہ لفٹ کا استعمال نہیں کر سکتا تھا، کیونکہ باڈی گارڈز وہاں کھڑے تھے۔
اس نے دیوار کے ساتھ چلتے ہوئے کونے تک پہنچ کر سیڑھیوں کی طرف رخ کیا اور دروازہ کھول کر اندر چلا گیا۔
اسی وقت، شمائل نے مس مارٹا کی نظروں سے بچتے ہوئے دروازہ چپکے سے کھولا اور باہر نکل آئی۔ وہ کل نہیں جا سکی تھی، لیکن آج وہ اپنے ڈیڈی کو دیکھنے ضرور جائے گی!
اپنے چھوٹے چھوٹے قدموں سے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے وہ اوپر کی طرف بڑھ رہی تھی۔ شمائل نے حارث کو نیچے آتے ہوئے دیکھا اور دونوں کی نظریں مل گئیں۔
چند لمحوں کے لیے، وہاں مکمل طور پر خاموش چھا گئی تھی، جیسے وقت رُک گیا ہو۔ دونوں کے دل تیزی سے دھڑکنے لگے، اور وہ دونوں ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھ رہے تھے، جیسے کچھ کہنا چاہتے ہوں، مگر کچھ کہہ نہ سکیں۔
شمائل کی آنکھوں میں حیرت تھی، اور حارث کا چہرہ گہری خاموشی میں ڈوبا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ، شمائل نے قدم بڑھایا اور پوچھا،
“تم کہاں جا رہے ہو؟”
حارث نے سر اٹھایا، اس کے جواب دینے میں کچھ لمحے لگے، پھر اس نے صرف سر ہلا کر جواب دیا،
“کہیں نہیں۔”
حارث نے کچھ سوچا اور پھر کہا،
“تم میرے ساتھ اوپر چلنا چاہتے ہو؟”
حارث نے ایک لمحے کے لیے اسے دیکھا، پھر نرم سی ہنسی ہنستے ہوئے کہا،
“تم ہمیشہ کچھ نیا کرتی ہو۔”
شمائل مسکرا کر آگے بڑھ گئی، اور حارث بھی خاموشی سے اس کے پیچھے چل پڑا۔
