Maseer-e-Mamnu – A Forbidden & Powerful Contemporary Romance Novel by Malayeka Rafi | novelR50456 Maseer E Mamnu Episode 27 A Night That Went Wrong
No Download Link
No categories assigned.
Rate this Novel
Maseer E Mamnu Episode 27 A Night That Went Wrong
وہ اکثر حارث سے رابطے میں رہتی اور اسے “ممی” کہنے کی بھی اجازت دیتی تھی۔ بظاہر ایسا لگتا تھا کہ وہ اس کے بیٹے کو استعمال کرکے اس کے قریب آنا چاہتی ہے، لیکن جب بھی وہ اس کے سامنے ہوتی، تو ایک بے پرواہ سا رویہ اپنا لیتی۔ یہ تقریباً ایسا محسوس ہوتا جیسے وہ واقعی اسے غلط سمجھ رہا ہو! لیکن آخر کار، آج شام اس نے اچانک اس کے بیٹے کے ساتھ مل کر سازش کی، پہلے اسے نشہ دیا اور پھر اسے ایک پیغام بھیجا کہ نیچے آجائے۔ اور اب، وہ دونوں یہاں بند تھے۔ کیا وہ آخر کار یہ سب کر کے، اسے اپنے جال میں پھنسا کے، یہاں اس کمرے میں، ایک حسین رات گزار کے، اسے نیچا دکھانا چاہ رہی تھی ۔ نشے میں وہ اس کی حد دیکھنا چاہتی تھی شاید، کسی وجہ سے، وہ اس کا کچھ حد تک انتظار کر رہا تھا۔ لیکن جیسے ہی یہ خیال اس کے ذہن میں آیا، تبھی باتھ روم کا دروازہ کھلا اور وہ دھند اور نمی میں گھری ہوئی باہر نکلی۔ پردے کے پیچھے سے، جو چیز سب سے پہلے اس کی نظر میں آئی، وہ ایک نازک قدموں کی جوڑی تھی۔ اس کے پاؤں ننگے تھے، اور اس کی انگلیاں گول اور صاف تھیں۔ وہ کچھ حد تک دلکش لگ رہی تھیں۔ ثالث نے محسوس کیا کہ جیسے اس کی دھڑکنیں بڑھنے لگی ہو، وہ خواہش، جسے وہ عرصے سے دبا رہا تھا، ہلکی سی بیدار ہونے لگی۔ پھر اس کی نظریں، اس کی نازک ٹخنیاں اور سیدھی اور صاف پنڈلیاں دیکھنے لگی، پردہ ایک طرف ہٹ گیا اور فروین باتھ ٹاول میں لپٹی، وہاں کھڑی تھی۔ شاید اس لیے کہ وہ ابھی شاور لے کے، کلی تھی، اس کے گال سرخ ہو رہے تھے اور بال بھی نم تھے جو اس کے صاف اور نازک کندھوں سے چپکے ہوئے تھے، جب کہ پانی کے بوندیں کے چہرے سے، اس کی گردن سے ہوتے، نیچے پھسلتے، شاور ٹاول میں جذب ہو رہے تھے۔۔ اسی لمحے، ثالث کو اپنا وجود بوجھل ہوتا محسوس ہونے لگا، سانسیں بھاری ہونے لگی جبکہ گہری نظریں، شاور ٹاول میں موجود، اس نازک وجود پہ تھی کہ وہ نظریں نہیں ہٹا پا رہا تھا اس حسین وجود سے۔ اسے اپنے وجود میں گرمی کی شدید لہر سی پھیلتی محسوس ہوئی تھی۔ اپنے پیٹ کے نچلے حصے میں اچانک گرمی کی ایک لہر محسوس کی، اس نے اپنی مٹھیاں بھینچ لیں اور ایک لمحے کے لیے اپنے اوپر سے قابو کھو بیٹھا۔ اس کا یہ غیر معمولی رویہ فروین کی نظروں سے بھی اوجھل نہ رہا۔ صوفے پر بیٹھے شخص کے گال غیر معمولی طور پر سرخ تھے، اور اس کی گہری آنکھوں میں خواہش کی جھلک نمایاں تھی۔ وہ معمول سے کچھ کم سرد دکھائی دے رہا تھا، اور اس کی آنکھ کے کونے پر موجود تل نے اس کی شخصیت میں ایک دلکشی پیدا کر دی تھی جو عام طور پر وہاں نہیں ہوتی تھی۔ صوفے پر نیم دراز اس کا انداز واقعی کشش سی پیدا کر رہا تھا؟ فروین نے ماتھے پر شکن ڈالتے ہوئے پوچھا، “تم یہاں کیا کر رہے ہو؟” اس کے الفاظ مکمل ہونے کی دیر تھی کہ صوفے پر بیٹھا شخص اچانک اس کی طرف جھپٹا۔ اس کی زبردست طاقت نے فروین کو سیدھا پیچھے دیوار سے جا ٹکرایا! “چونکہ مس فروین نہا چکی ہیں اور اتنا جوش و خروش دکھا رہی ہیں، تو میں…” بوجھل سرگوشی کرتا، اپنی بات ادھوری چھوڑ کے، اس نے اپنا سر نیچے کیا اور اس کی گردن پہ اپنے لب رکھے تھے، اس کی جلتی ہوئی سانسیں فروین کو لرزنے پر مجبور کر گئی۔ اس کے کلون کی خوشبو، جیسے فروین کے حواسوں پہ چھانے لگی، لمحے بھر کے لئے، ان لبوں کے لمس نے، فروین کے حواس مختل کر دیے تھے۔ چونکہ وہ بہت لمبا تھا اور اس کے بالکل قریب آ کر کھڑا تھا، اس کی پیٹھ تھوڑی سی جھک گئی تھی جب وہ اس پر جھک کر کھڑا ہوا۔ ان کہی سی خواہش نے جیسے فروین کے پورے جسم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے، اسے اپنا حلق آہستہ آہستہ خشک اور گرم محسوس ہونے لگا لیکن وہ اپنے حواس بحال رکھنے کی کوشش کرنے لگی اور ثالث کو دھکیلنے کی کوشش کی، لیکن اسے احساس ہوا کہ وہ بہت مضبوط ہے ۔ وہ اب بھی اس کی گردن پہ، بےترتیب انداز میں اپنی شدتیں بکھیر رہا تھا ۔ فروین نے ہوش میں رہتے ہوئے، اپنے بائیں گھٹنے کو اٹھایا، اور اس کے سب سے حساس حصے پر حملہ کر دیا۔ لیکن اگلے ہی لمحے، ثالث کے ہاتھوں کی گرفت تھی اس کی ٹانگ پہ۔ سر جھٹک کے، وہ لب بھینچے حیران آنکھوں سے فروین کو دیکھنے لگا۔ “اس کا کیا مطلب ہے؟” فروین نے سرد آواز میں ہنکارا بھرا۔ اس نے پھرتی سے ہوا میں چھلانگ لگائی اور اپنے بائیں پاؤں سے اس کو ایک زوردار کک مار دی! بام! ثالث نے فوراً اپنا بازو آگے بڑھایا اور اس حملے کو روک لیا۔ فروین نے ایک اور مکا مارا۔ اس کے مکے کی تیز رفتار حرکت کو محسوس کرتے ہوئے، ثالث نے مڑ کر خود کو بچایا۔ اسی دوران، فروین کا دوسرا مکا ہوا کے ساتھ اس کی طرف آیا اور اس کے کان کے قریب سے گزرتا ہوا گزر گیا۔ کیا رفتار تھی! وہ سوچ کے رہ گیا ۔۔۔ ایک پل میں، دونوں نے چند گھونسوں کا تبادلہ کرنے کے بعد فوراً پیچھے ہٹ کر اپنے درمیان فاصلہ بنا لیا۔ فروین نے ماتھے پر شکن ڈالی۔ اس کی بلی جیسی کانچ آنکھوں میں چھپا ہوا غصہ تھا۔ وہ کچھ کہنے ہی والی تھی کہ اچانک شاور ٹاول پھسل کر نیچے گر گیا اور اس نے اپنے پورے جسم میں سرد لہر سی محسوس کی۔ فروین کا دماغ ایک لمحے کے لیے جامد ہوگیا۔ پھر، اس نے فوراً نیچے جھک کر ٹاول اٹھانے کی کوشش کی، مگر وہ گڈمڈ ہو کر مڑا ہوا تھا اور فوراً سیدھا نہیں ہو پا رہا تھا۔ ثالث کو اپنی طرف حیرانی سے دیکھتے ہوئے، فروین نے پلک جھپکتے ہی ٹاول اٹھایا اور اسے ثالث کے چہرے پر دے مارا۔ وہ بوکھلا کے، ٹاول پکڑ کر اُتارنے والا تھا، تو اس نے فروین کی سرد آواز سنی، “اگر تم نے اسے اُتارنے کی کوشش بھی کی، تو میں تمہیں اس کمرے سے زندہ نہیں جانے دوں گی!” ثالث دنگ رہ گیا۔ زندگی بھر میں کسی نے اسے ایسی دھمکی نہیں دی تھی! تاہم، فروین کی آواز میں جو غصہ تھا، اس نے اس کے تمام حرکات روک دیں۔ وہ… کیا اس کے ساتھ کچھ نہیں کرنا چاہتی تھی؟ فروین نے اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جلدی سے پاس پڑا شاور کوٹ کھینچ کے پہنا۔ ، “مجھے بھی نشہ دیا گیا ہے۔” ثالث، جس کی حواس بہت تیز تھے، ان آوازوں کو سن رہا تھا۔ ان آوازوں سے اندازہ لگا کر، وہ جان گیا کہ دوسری طرف نے پہلے ہی اپنے کپڑے پہن لیے ہیں۔ اس نے ٹاول اُتار کر اس کی طرف غور سے دیکھا اور ماتھے پر شکن ڈالتے ہوئے کہا، “کیا تم یہ کہنا چاہ رہی ہو کہ یہ تم نہیں تھیں؟” فروین کے ہونٹ طنزیہ انداز میں مسکرائے۔ ، “خود پر اتنا اعتماد نہ رکھیں، مسٹر ثالث۔ ” ثالث کچھ نہ کہہ سکا۔ اس نے جو ٹاول دونوں ہاتھوں میں پکڑا ہوا تھا، اسے لاپرواہی سے اپنے جسم کے سامنے رکھ لیا اور ہچکچاتے ہوئے پوچھا، “اگر تم وہ نہیں تھیں، تو پھر یہ کس نے کیا؟” یہ دیکھ کر کہ وہ اب مزید جوش میں نہیں تھا، فروین مڑی اور اسٹڈی کی طرف چل دی۔ “ایک منٹ ۔” اس نے اسٹڈی سے کپڑوں کا سیٹ نکالا اور پہن لیا۔ پھر، اپنے لیپ ٹاپ کو اٹھا کر وہ لونگ روم کی طرف چل دی۔ جب اس نے دوبارہ اسے دیکھا، تو ثالث پہلے ہی صوفے پر واپس بیٹھ چکا تھا۔ اس کے گالوں میں ابھی بھی ہلکی سی سرخی تھی، مگر باقی وہ بالکل ٹھیک نظر آ رہا تھا۔ مردانہ وجاہت کا بھرپور شاہکار، بلند قامت، کسرتی بدن کا مالک، خوبرو اور اعلی شخصیت ۔ فروین نے خفیہ طور پر ایک متاثر کن آہ بھری اور سوچا— “کیا زبردست خود پر کنٹرول رکھتا ہے۔” اگر وہ بچپن سے ہی بہت ساری دوائیں لے رہی ہوتی، جس کی وجہ سے وہ بیشتر نشہ آور اشیاء سے محفوظ ہو چکی تھی، تو شاید فروین بھی اپنے آپ پر قابو نہ رکھ پاتی! پھر بھی، اس نے صرف دو منٹ میں اپنے پریشان کن خیالات کو دبا لیا تھا۔ ثالث کی گہری آنکھوں میں مدھم روشنی چمکی جب اس نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ “تمہارے پاس ابھی بھی ارادہ بدلنے کا وقت ہے، مس فروین۔” فروین کنفیوژ ہو گئی۔ وہ مرد واقعی اپنے آپ پر بہت زیادہ اعتماد کرتا تھا۔ اس نے طنزیہ لہجے میں کہا، “مجھے تم میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، مسٹر ثالث، چاہے تم اور میں کسی کے جال کا شکار ہو کر، میرے سامنے مکمل طور پر ننگے کھڑے ہوں، میں پھر بھی کچھ محسوس نہیں کروں گی۔” کیا واقعی وہ نہیں تھی؟ ثالث نے حقیقت میں ایک دھندلا سا پچھتاوا محسوس کیا۔ اس کے باوجود، اس نے زبانی طور پر کچھ نہیں کہا “… ایسا لگتا ہے کہ وہ تم ہی تھی جو ابھی مکمل طور پر ۔۔۔۔۔۔ امممممم ۔” وہ بات ادھوری چھوڑ گیا جبکہ فروین ششدر رہ گئی۔ اس کا چہرہ فوراً تناؤ میں آ گیا اور وہ سیدھا اس کی طرف بڑھی۔ اس نے اپنا لیپ ٹاپ میز پر رکھا، کھولا اور اس کے سامنے دھکیل دیا۔ ۔ “کیا؟” ثالث ھیرانی سے پوچھنے لگا۔ فروین نے آہستہ سے کہا “اپنا اکاؤنٹ پاس ورڈ انٹر کرو اور سکیورٹی کیمروں کی نگرانی چیک کرو! چاہے ہم یہ نہ جان پائیں کہ ہمیں کس نے نشہ دیا، لیکن ہم کم از کم یہ تو معلوم کر سکتے ہیں کہ ابھی ابھی دروازہ کس نے بند کیا تھا؟” فروین کی اتنی پختہ یقینیت دیکھ کر ثالث کا مزید منہ بن گیا۔ اس نے بے دلی سے چند بٹن دبائے اور پھر انٹر کی کو دبایا۔ فوراً کمپیوٹر پر اصل وقت کی سکیورٹی کیمروں کی فوٹیج آ گئی۔ ابھی دروازے کے سامنے تین لوگ کھڑے تھے۔ ان کے چہرے تقریباً دروازے سے چمٹے ہوئے تھے، ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اندر کیا ہو رہا ہے سننے کی کوشش کر رہے ہوں… تینوں کیمرے کی طرف رخ کیے ہوئے تھے۔ لیکن جب سے دونوں بچوں کو حقیقت کا پتہ چلا تھا، وہ جان بوجھ کر ہمیشہ راہداریوں میں ماسک پہننے لگے تھے تاکہ کوئی ان کے بارے میں کچھ نہ جان سکے۔ کیمرے کی ریزولوشن بھی بہت کم تھی، اس لیے دونوں بچوں کے درمیان فرق کرنا فوراً ممکن نہیں تھا۔ ثالث نے ایک لمحے کے لیے تذبذب کا مظاہرہ کیا۔ پھر، اس نے پہلے ایک بچے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، “یہ شاید حارث ہے۔” فروین نے طنزیہ انداز میں کہا، “یہ میری بیٹی ہے۔” ، دونوں بچوں کا نہ صرف قد ایک جیسا تھا بلکہ ان کا جسمانی ڈھانچہ بھی بالکل یکساں تھا۔ فروین صرف اس وجہ سے شمائل کو پہچان سکی کیونکہ اس نے اسپائیڈر مین کا لباس پہنا ہوا تھا۔ ثالث نے سر ہلاتے سے پوچھا، “واقعی؟” وہ پہچاننے سے قاصر تھا۔ چنانچہ اس کی نظر طلال پر جا ٹھہری۔ جیسے ہی اس نے طلال کو دیکھا، اس کے وجود میں غصے کی شدید لہر اٹھی۔ فروین کی طنزیہ آواز اس کے قریب سے سنائی دی، “یہ شاید آپ کے چھوٹے بھائی ہیں، مسٹر ثالث ۔” دروازے کے باہر تین سر قطار میں ایک کے بعد ایک لگے ہوئے تھے۔ ان کے سر ایک طرف مڑے ہوئے تھے، اور انہوں نے اپنے کان دروازے سے لگا رکھے تھے تاکہ کمرے کے اندر کی آوازیں خاموشی سے سن سکیں۔ دھڑام! ٹھک! دھم! کمرے کے اندر ہونے والے شور نے تینوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ حیران شمائل اور حارث نے طلال کی طرف دیکھا۔ “انکل طلال، ممی اور ڈیڈی کیا کر رہے ہیں؟ کیا وہ کمرہ توڑ رہے ہیں؟” طلال فخر سے جواب دیا، “وہ ایک دوسرے سے ‘لڑائی’ کر رہے ہیں! یہ وہ لڑائی نہیں ہے جو بچوں کو سمجھنی چاہیے! بہرحال، اس لڑائی کے بعد ان کا تعلق ضرور بہتر ہوگا!” شمائل کو تھوڑی فکر ہوئی۔ اس نے پوچھا، “کیا لڑائی اتنی شدت سے ہونی چاہیے؟” طلال نے بھنویں چڑھائیں اور جواب دیا، “بالکل! یہاں تو ‘جان’ بھی داؤ پر لگ سکتی ہے! تم دونوں بھی ماضی میں ہونے والی ان کی لڑائی کا نتیجہ ہو!” شمائل پریشان ہو گئی۔ اس نے ماتھے پر بل ڈال کر پوچھا، “لیکن اگر ممی نے ڈیڈی کو اتنا مار دیا کہ وہ ٹوٹ جائیں تو؟” حارث، جو پہلے ہی غصے میں لگ رہا تھا، مزید برہم ہو گیا۔ “ڈیڈی کسی عورت پر ہاتھ کیسے اٹھا سکتے ہیں؟ یہ تو بالکل غیر مہذب بات ہے! اسی لیے وہ ممی کو قائل نہیں کر پاتے۔” طلال پریشان ہو گیا۔ پھر بھی، اس نے تھوڑی دیر اور دلچسپی سے کمرے کے اندر کی آوازیں سنیں اور دل ہی دل میں متاثر ہوا—ثالث واقعی ثالث ہی تھا۔ شور شرابا خاصا زوردار تھا۔ تاہم، یہ شور جلد ہی بند ہو گیا۔ طلال نے دروازے کے ساتھ کان اور زیادہ قریب کیا اور دھیمی آواز میں پوچھا، “مجھے تم لوگوں کا ثالث سے حقیقت چھپانا برا لگ رہا ہے۔ تم کب اسے سب کچھ بتاؤ گے؟” شمائل چونکہ فوری طور پر حاضر دماغ تھی، لیکن اس معاملے میں اس کی کوئی پختہ رائے نہیں تھی، اس لیے اس نے اپنے بھائی کی طرف دیکھا۔ حارث نے ہونٹ بھینچتے ہوئے جواب دیا، “میں ممی کے گریٹ گرینڈما کی بیماری ٹھیک کرنے کے بعد سب کچھ بتا دوں گا۔” دروازے کے پیچھے حارث نے سب کچھ بہت واضح سوچ لیا تھا۔ حقیقت کو اندھا دھند چھپانا اس کے والدین کے لیے بے عزتی کے مترادف تھا، خاص طور پر اس وقت جب اس کی ماں ابھی بھی اسے دنیا بھر میں تلاش کر رہی تھی اور ناقابل تصور ذہنی اذیت سے گزر رہی تھی۔ اگر اگلے چند دن ایک ساتھ گزارنے کے بعد بھی وہ ایک دوسرے سے محبت نہ کر سکے، تو وہ ان پر مزید زور نہیں ڈالے گا۔ طلال کچھ کہنے ہی والا تھا کہ اچانک دروازہ زور سے ہلنے لگا—کوئی اندر سے دروازہ پیٹ رہا تھا۔ کمرے کے اندر سے غصے بھری آواز گونجی: ” طلال، فوراً یہ دروازہ کھولو!” ایک منٹ بعد، دھاتی تالا کھول دیا گیا۔ غصے سے بھرے ثالث نے حارث اور طلال کو اوپر لے جا کر سزا دینے کا فیصلہ کیا۔ فروین کو اس بات کی پروا نہیں تھی کہ وہ طلال کو کیسے سزا دے گا۔ اس وقت وہ صوفے پر بیٹھی شمائل کو گھور رہی تھی۔ سخت لہجے میں اس نے پوچھا “یہ سب کیوں کیا، شمائل؟” شمائل نے سر جھکا لیا اور انگلیوں کو گھورتے ہوئے خاموشی اختیار کر لی۔ وہ اتنی خوفزدہ تھی کہ کچھ کہنے کی جرات نہ ہوئی۔ فروین نے اپنا لہجہ نرم کرتے ہوئے پوچھا، “کیا تم چاہتی ہو کہ میں ثالث مہدی کے ساتھ رہنا شروع کر دوں؟” شمائل نے اثبات میں سر ہلایا اور جواب دیا، “ممی، اگر آپ ڈیڈی—میرا مطلب ہے، ثالث کو اپنا شوہر بنا لیں، تو سوچیں کتنی شاندار بات ہوگی جب آپ اسے ساتھ لے کر جائیں گی! نہ صرف وہ خوبصورت ہیں بلکہ وہ امیر بھی ہیں! کیا آپ ایسا نہیں چاہتیں؟” فروین نے بے اختیار سر پکڑ لیا۔ اس نے اپنی کنپٹیاں سہلائیں اور پوچھا، “یہ ناقص خیال کس کا تھا؟” شمائل نے اس بار بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنے انکل کو بیچ دیا: ” طلال چاچو کا!” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
