153.3K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maseer e Mamnu Episode 12

کیا وہ ڈاکٹروں کے بارے میں بات کرنے کے بجائے ٹیوٹرز کا ذکر اس لیے کر رہی تھی کہ وہ اس سے پوچھنے میں شرم محسوس کر رہی تھی؟ تو کیا اس نے پہلے کسی اور بات سے آغاز کرنے کا فیصلہ کیا؟

ثالث سیدھا بات کرنے والا شخص تھا، اس لیے وہ فوراً مدعے پر آ گیا۔ اس نے پوچھا،

“کیا آپ چاہتی ہیں کہ میں آپ کا تعارف دو ڈاکٹروں سے کرواؤں، مس فروین؟ کیا آپ ڈاکٹر شہیر یا ڈاکٹر شازم سے بات کرنا چاہیں گی؟”

فروین حیران ہو گئی۔ اگرچہ ڈاکٹر شہیر اور ڈاکٹر شازم پاکستان کے سب سے مشہور نیوروسرجن تھے، لیکن اگر وہ اس کی پھوپھو کا آپریشن کرتے تو کامیابی کی شرح صرف 50 فیصد تھی۔ وہ ان کے پاس کیوں جاتی؟ اس کے علاوہ، وہ تو ٹیوٹرز کے بارے میں بات کر رہی تھی۔ وہ ڈاکٹروں کا ذکر کیوں کر رہا تھا؟

 “نہیں، مجھے ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ کے پاس وقت ہے تو براہ کم اپنے بیٹے کی طرف زیادہ توجہ دیں!”

اگر واقعی ٹیوٹرز اسے بدسلوکی کا نشانہ بنا رہے تھے، تو ذمہ داری صرف ثالث پر ہی آتی تھی۔ یقیناً وہ بچے کی دیکھ بھال میں لاپروائی برت رہا تھا۔ اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے وہ بچہ اس کا اپنا ہی ہو اور اسے بےحد دکھ ہو رہا تھا ۔ یہ کہنے کے بعد وہ فوراً وہاں سے چلی گئی۔ ثالث نے اسے پیچھے سے تھوڑی حیران نظروں سے دیکھا، لیکن وہ جلد ہی اپنے ہوش میں آ گیا۔ اس کے اندر غصہ ابھرنے لگا، اور اس کا چہرہ مزید سرد ہو گیا۔

سجاد کہے بغیر نہ رہ سکا،

 “میں سمجھ رہا تھا کہ مس فروین اپنی پھوپھو کے لیے اتنی بے حس اس لیے ہیں کہ وہ بے بس ہو چکی ہیں۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ واقعی اسے مرنے کے لیے چھوڑ رہی ہیں۔ وہ بہت ظالم ہیں!”

بغیر آپریشن کے، اس کے پھوپھو کی موت یقینی تھی لیکن اگر وہ آپریشن کروا لیتی، تو کم از کم اس کی 50 فیصد زندہ رہنے کی امید تو ہوتی۔ فیصلہ واضح تھا۔ لیکن وہ عورت واقعی اتنی پاگل اور بے حس تھی کہ اس نے اس کی مدد ٹھکرا دی؟ ثالث بگڑے ہوئے چہرے کے ساتھ لفٹ میں داخل ہو گیا۔

ٹاپ فلور کے صدارتی سوئٹ میں شمائل دبے قدموں سے کمرے میں واپس آئی۔ وہ ابھی اسٹڈی روم میں داخل ہونے ہی والی تھی کہ اس نے ایک سخت چہرے والی عورت کو اپنی طرف آتے دیکھا، جس کے ہاتھ میں ایک اسٹک تھی۔

“تم کیسے اپنے ہوم ورک مکمل کیے بغیر کہیں اور گھومنے جا سکتے ہو، حارث؟ تمہاری شکل اور دماغ کی سست روی دیکھ کر لگتا ہے کہ تم اپنی ماں پر گئے ہو! اوہ، ٹھہرو، تمہارے متعلق یہ کہنا بہتر ہوگا کہ  تم ایک ‘ باسٹرد’ ہو جس کی کوئی ماں نہیں ہے۔ اپنا ہاتھ آگے کرو؛ آج تمہیں اچھا سبق سکھاؤں گی!”

شمائل غصے سے اسے دیکھنے لگی۔ یہ عورت اس کی ماں کی بےعزتی کرنے کی جرات کیسے کر سکتی تھی؟ اور، وہ اس کے بھائی کو مار رہی تھی؟ نرم و نازک سی شمائل فوراً گیمنگ کے دوران والی گرم مزاج لڑکی میں تبدیل ہو گئی۔ اس نے اپنے ہاتھ کمر پر رکھے اور اس بدتمیز ٹیوٹر کو برا بھلا کہنے ہی والی تھی کہ دروازہ اچانک کھل گیا۔

اس نے دیکھا کہ اس کا ہینڈسم ڈید، جو کبھی باس جیسا سنجیدہ، کبھی سرد مزاج، کبھی پرجوش، اور کبھی دل جوئی کرنے والا لگتا ہے،  تیزی سے اندر آ رہا تھا۔ شمائل فوراً سب کچھ بھول گئی۔ اس کی ننھی سی شکل گویا پروں کے ساتھ اڑتی ہوئی آگے بڑھی، لیکن اسی لمحے ٹیوٹر نے اس کا بازو پکڑ لیا۔

ثالث نے اندر داخل ہوتے ہی اپنی جیکٹ اتار دی۔ حسب معمول، اس نے سب سے پہلے یہ پوچھا،

 ” حارث آج کا دن کیسا رہا؟”

ٹیوٹر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا،

 “وہ پھر اپنا ہوم ورک نہیں کر رہا تھا۔ کیونکہ اس نے اپنی اسٹڈیزکا ریویژن نہیں کیا ، اس لیے جب ہم پیچیدہ موضوعات پر بات کرتے ہیں تو وہ سمجھ نہیں پاتا۔ وہ بہت ضدی ہے اور ہماری بات نہیں سنتا۔ نتیجتاً، اس کی پیش رفت اس کے کزن کے مقابلے میں دو سمسٹرز پیچھے رہ گئی ہے!”

یہ سن کر ثالث پریشان ہو گیا۔ اگرچہ اس کے بیٹے کا آئی کیو بہت اعلیٰ تھا، لیکن وہ شرمیلا اور خود میں مگن رہنے والا تھا اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے میں مشکل محسوس کرتا تھا۔ اسے واقعی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اس سے کیسے بات کرے! وہ شمائل کے پاس گیا، اس کے برابر بیٹھا، اور تحمل سے پوچھنے لگا۔

“تم نے اپنا ہوم ورک کیوں نہیں کیا؟”

شمائل قریب سے اپنے ڈیڈ کو دیکھ کر حیران تھی۔ “قریب سے دیکھنے پہ، تو ڈیڈی پہلے سے بھی زیادہ ہینڈسم لگتے ہیں!”

کچھ دیر کے لیے وہ ان کے سوال کا جواب ہی نہیں دے پائی۔ شمائل کی خاموشی دیکھ کر ٹیوٹر نے دل ہی دل میں تمسخر اڑایا۔ واقعی یہ ایک بے وقوف ہے، جو نہ روتا ہے، نہ ہنگامہ کرتا ہے، نہ کسی کی شکایت کرتا ہے۔

تسلی پاتے ہوئے، وہ مزید جھوٹ گھڑنے لگی۔

 “مسٹر ثالث، ہم واقعی بے بس ہو چکے ہیں۔ ہم اسے نہ ڈانٹ سکتے ہیں نہ ہی ڈسپلن دے سکتے ہیں، اس لیے آپ کے پاس اب صرف خاص قسم کے تعلیمی طریقے استعمال کرنے کا آپشن بچتا ہے۔”

شمائل، جو اس وقت اپنے والد کی خوبصورتی میں محو تھی، دل ہی دل میں سوچنے لگی، کیا؟ وہ مجھے ڈسپلن یا ڈانٹ نہیں سکتے؟

شمائل کچھ بولنے ہی والی تھی کہ ثالث نے ماتھے پر شکن ڈال کر پوچھا،

 “کس قسم کے خاص طریقے؟”

ٹیوٹر نے گہرا سانس لیا  اور جواب دیا،

” حارث پیدائشی طور پر آٹزم کا شکار ہے۔ وہ نہ بات کرنا پسند کرتا ہے اور نہ ہی دوسروں کے ساتھ بات چیت کرنا جانتا ہے۔ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو اس کی نشوونما میں رکاوٹ آئے گی۔ میرا خیال ہے کہ آپ اسے یا تو طبی ماہرین کے پاس علاج کے لیے بھیجیں یا ایسے بچوں کے لیے مخصوص اسکول میں داخل کرائیں۔”

یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ اگر حارث کو خصوصی ضروریات والے بچوں کے اسکول بھیج دیا جاتا، تو اسے ذہنی طور پر معذور قرار دیا جاتا۔ یوں وہ اس کا مستقبل تباہ کر سکتے تھے! شمائل الجھن میں پڑ گئی۔ یہ ٹیوٹر تو بہت خراب ہے! وہ دل ہی دل میں بڑبڑائی۔

شمائل نے ثالث کی طرف دیکھا۔ اگر ڈیڈی اس بات پر رضامند ہوتے تو وہ انہیں اپنا والد ماننے سے انکار کر دیتی اور ممی کو بلاتی کہ وہ حارث کو ان کے چنگل سے بچائے۔

ہونہہ!

ثالث کے چہرے کا رنگ فوراً بدل گیا۔ اس نے غصے میں جواب دیا،

” حارث بالکل ٹھیک ہے۔ اسے خصوصی ضروریات والے بچوں کے اسکول جانے کی ضرورت نہیں! اگر تم اسے پڑھا نہیں سکتیں، تو میں کسی اور کو ڈھونڈ لوں گا! سجاد!”

“جی، سر؟”

“اس کا حساب کتاب فوراً نمٹاؤ۔ کل سے اسے آنے کی ضرورت نہیں!”

ثالث کے حکم پہ ٹیوٹر اچانک سے ششدر رہ گئی۔ ثالث عام طور پر ان سے بہت شائستگی سے پیش آتا تھا، جس کی وجہ سے وہ بھول گئی تھی کہ ثالث واقعی ایک دبنگ شخصیت کا مالک ہے۔ وہ غلط بات کبھی نہیں سنتا۔ اس نے بہت بڑی غلطی کر دی تھی۔ اسے ایسا کچھ نہیں کہنا چاہیے تھا۔ اسے تھوڑا دھیرے دھیرے چلنا چاہیے تھا۔

جب ٹیوٹر نے دیکھا کہ وہ نوکری سے نکال دی گئی ہے، تو اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے اس نے ایک سنجیدہ اور مخلصانہ چہرہ بنا کر کہا،

“میں اسلام آباد کی بہترین ہوم ٹیوٹر ہوں، مسٹر ثالث،  میری رائے یقیناً آپ کے بیٹے کے بہترین مفاد میں ہے۔ چونکہ آپ سچائی سننے سے انکار کر رہے ہیں، تو اسے اس طرح سمجھیں کہ میں نے کچھ نہیں کہا۔ حارث کے ساتھ وقت گزار کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ خداحافظ۔”

اس کی باتیں بالکل ویسی تھیں جیسے ایک مثالی استاد کی ہونی چاہئیں۔ ثالث کا غصہ تھوڑا کم ہوا اور اس نے کہا،

“اسے آدھی سال کی اضافی تنخواہ دے دو۔”

ٹیوٹرز خوشی سے جھوم اُٹھی۔ آدھی سال کی تنخواہ بہت زیادہ پیسہ تھی! جو یہ شخص اسے دے رہا تھا۔

 شمائل جو انہیں دھیان سے سن رہی تھی، بہت خوش ہو گئی۔ ڈیڈی نے حارث کو چھوڑا نہیں تھا۔ وہ واقعی اس کا بہت خیال رکھتے تھے۔ تاہم، وہ اس استاد کے جھانسے میں آ گئے تھے!

شمائل نے جب اس  bad tutor کو خوشی خوشی دروازے کی طرف جاتے ہوئے دیکھا، تو اس کی بڑی بڑی انگور جیسی آنکھیں ذرا سی گھومیں اور اس نے پوچھا، “ڈیڈی، کیا میں وہ باسٹرڈ ہوں جس کی ماں نہیں ہے؟”

 ثالث دنگ رہ گیا۔ اس کی نظریں اپنے بیٹے پہ گئی جو معصوم آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اپنی نرم، بچکانہ اور معصوم آواز میں جو کچھ اس نے کہا، وہ سیدھا ثالث کے دل پہ اثر کر گئی تھی۔

“کیا میں واقعی بہت بیوقوف اور کند ذہن ہوں؟ کیا ممی نے ڈیڈی کو نیچا دکھایا؟ کیا ممی نے ڈیڈی کو ہرا کیا ؟؟”

ثالث ششدر رہ گیا۔ اس کے بیٹے نے کم ہی اتنا کچھ کہا تھا لیکن ابھی وہ حیران ہو رہا تھا۔ اس نے اپنے غصے کو روکتے ہوئے نرمی سے پوچھا،

“یہ سب تم سے کس نے کہا حارث؟”

شمائل نے اپنا بازو بڑھایا اور معصومیت سے اپنی چھوٹی سی انگلی سے دروازے کی طرف اشارہ کیا

 “اس نے!”

دروازے پر کھڑی ٹیوٹر کے پاؤں اس وقت کانپ گئے جب اس نے ثالث کو اپنی طرف جبڑے بھینچے دیکھتے ہوئے پایا۔ اس کی سرد آنکھیں اس وقت گویا الاؤ دہک رہی تھی۔  وہ خوف کے عالم میں بولی،

“بیوقوفی کی باتیں مت کرو، حارث —”

شمائل، ثالث کے پیچھے چھپ گئی اور اس کی ٹانگ کو گلے لگا لیا اور پھر ٹیوٹر کی طرف اپنی معصوم آنکھوں سے دیکھتی، زبان نکال کے کہنے لگی۔

” پلیز مجھے دوبارہ مت مارنا، “

ٹیوٹر حیران رہ گئی۔ کیا یہ وہی چھوٹا بیوقوف تھا جو بات نہیں کرتا تھا؟! جب اس نے اپنے بیٹے کی یہ خوفزدہ حالت دیکھی تو ٹیوٹر کو وضاحت کا موقع بھی نہیں دیا اور حکم دیا،

 “اسے باہر لے جاؤ، سجاد!”

“جی، سر۔”

سجاد نے استاد کو پکڑ کر باہر دھکیل دیا۔ ثالث نے شمائل کے سر پر تسلی سے ہاتھ پھیرا اور کہا،

“کیا تم تھوڑی دیر کے لیے اپنے روم میں  کھیل سکتے ہو، حارث؟”

وہ جانتا تھا کہ وہ کیا کرنے والا ہے اب، اس لئے حارث کے لئے وہ منظر دیکھنا غیر مناسب تھا۔ اگرچہ شمائل اپنے والد کے ساتھ رہنا چاہتی تھی، لیکن اسے یہ سمجھ تھی کہ اب اس کے ڈیڈ کو اس bad tutor نمٹنا ہے۔ یہ بالکل ویسا ہی تھا جیسے جب وہ اور ماما باہر جاتے تھے اور ماما اسے آنکھوں پر پٹی باندھ کر بھیڑوں کو گننے کو کہتی تھی جب اس کی مما کو کسی سے لڑائی کرتی ہوتی۔ شمائل نے سر اثبات میں ہلایا ۔

“ٹھیک ہے، ڈیڈی!”

ثالث نے شمائل کو بغیر کسی مشکل کے کھلونا اُٹھاتے ہوئے دیکھا، تب جا کر وہ کمرے سے باہر نکلا۔ کہ اسے تسلی ہو گئی تھی کہ اس کا بیٹا آرام سے یہاں بیٹھ کے، اپنے کھلونوں سے کھیل رہا ہے۔ سجاد بہت ہوشیار شخص تھا۔ اس وقت تک، وہ ٹیوٹر سے سچ اگلوا چکا تھا۔ سر جھکائے ہوئے اس نے کہا،

” اس کو آپ کے چچا اور ان کے خاندان نے رشوت دی تھی۔ وہ حارث کو ضدی اور سائیکو بنانا چاہتے تھے تاکہ ان کے اپنے بچے کمپنی پر قابض ہو سکیں۔ یہ دونوں استاد بڑی والدہ کی طرف سے بھیجے گئے تھے، اور انہیں اس بات کی خبر نہیں تھی “

بڑی والدہ حارث کو سب سے زیادہ عزیز رکھتی تھیں۔ کون سوچ سکتا تھا کہ وہ استاد جنہیں انہوں نے بھیجا تھا، ان کے ناپاک ارادے تھے؟ ثالث نے اپنی مٹھیاں بھینچیں اور پوچھا،

 “انہوں نے حارث کے ساتھ کیا کیا؟”

اس کا ذکر ہوتے ہی سجاد کا سر مزید جھک گیا۔ اس نے آہستہ آواز میں جواب دیا

” انہوں نے حارث کو کھڑا کر کے سزا دی تھی۔ اس کے ہاتھوں پہ مارا اور ڈانٹا۔ اس کے علاوہ یہ دونوں حارث کی تعلیم کے سلسلے میں ہمیشہ غیر سنجیدہ ہی رہے۔ وہ اس سے زیادہ کسی قسم کے جسمانی تشدد کی جرات نہیں کر سکتے تھے کیونکہ وہ بھی ڈرتے تھے کہ کہیں کسی کو ان کے کیے کا پتا نہ چل جائے۔”

ثالث نے زمین پر گھٹنے ٹیک کر بیٹھی کانپتی ہوئی اس  عورت کو سرد نظروں سے دیکھا اور اس کے پیٹ کے اوپر زور سے ٹانگ رسید کی، کہ وہ فوراً خون اُگلنے لگی۔ اس کا سیاہ اور خوفزدہ چہرہ اُسے کسی شیطان کی طرح نظر آ  رہا تھا۔

“اسے باہر پھینک دو۔”

وہ تقریبا دھاڑا تھا۔ سجاد کا دل ثالث کے غصے کو محسوس کرتے ہوئے دہل گیا۔ تاہم، وہ خود بھی غصے میں تھا، تو پھر ثالث کا کیا حال ہوگا، جو ہمیشہ حارث سے محبت اور پیار کرتا رہا تھا۔ بس، اُس کا غصہ ظاہر کرنے کا طریقہ کچھ درست نہیں تھا۔

ثالث کمرے میں واپس آیا۔ جب اُس نے چھوٹی سی شمائل کو صوفے پر بیٹھ کر کھلونا گاڑی سے کھیلتے ہوئے دیکھا، تو اُس کا دل گناہ کے احساس سے بھر گیا۔

حارث اس کے ساتھ بچپن سے تھا۔ اُس نے خود اسے دودھ پلایا تھا اور اُس کے کپڑے بدلے تھے، مگر جب تک وہ ڈیڑھ سال کا نہیں ہو گیا تھا، اُس نے ایک لفظ بھی نہیں بولا تھا۔ جب انہوں نے ڈاکٹر سے مشورہ کیا، تو بتایا گیا کہ حارث کو ہلکا سا پیدائشی آٹزم ہے۔

دادی نے کہا تھا کہ یہ اس لیے تھا کیونکہ بچے کے پاس ماں نہیں تھی اور اس وجہ سے اسے تحفظ کا احساس نہیں تھا۔ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ثالث جیسا بڑا آدمی، جو ہمیشہ پولیٹیکس میں مصروف رہتا ہے، اس کی دیکھ بھال کرے، اس لیے انہوں نے اس کے لیے نرسیں، فیملی ڈاکٹرز اور ٹیچرز کا انتظام کیا تھا۔

جیسے جیسے بڑا ہوتا گیا اور لوگوں سے چھوٹی بات چیت کرنے کے قابل ہوا، یہ اسے اس بات پر قائل کر گیا کہ دادی ٹھیک کہہ رہی تھیں۔ حارث ایک ضدی لڑکا تھا اور ہمیشہ اس کے خلاف جاتا تھا۔ وہ اکثر اتنا غصے میں آ جاتا کہ اسے تقریباً پیٹنے کا دل کرتا۔ اس کے باوجود، وہ ہمیشہ یہی سوچتا رہا کہ یہ ایک ایسا مرحلہ ہے جو تمام نارمل بچوں سے گزرتا ہے۔ یہ سب پچھلے ہفتے کے واقعے تک تھا…

ثالث آہستہ آہستہ چلتے ہوئے شمائل کے پاس بیٹھا، اپنی آواز نرم کی اور کہا،

“ڈیڈی کو معاف کر دو، حارث ۔”

شمائل نے اپنے ننھے بازو پھیلائے اور اپنے ہینڈسم ڈیڈ کو گلے لگا لیا۔

“سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا جب تک آپ اپنی غلطیوں کو تسلیم کریں اور نیا اسٹارٹ لیا کریں، ڈیڈی!”

ثالث نے ایک آہ بھری۔ پھر، سنجیدہ انداز میں کہا

، “ہم اب مزید ٹیچرز نہیں رکھیں گے۔ میں خود تمہیں آگے پڑھاؤں گا۔”

خوشی سے بھرپور شمائل فوراً پتھر کی طرح جامد ہوگئی۔ کیا؟؟ اسے سب سے زیادہ ہوم ورک کرنے سے نفرت تھی!

اوہ شٹ، ہیلپ می حارث!!!

꧁༺♡ Maseer-E-Memnu ♡༻꧂

جب فروین کمرے میں واپس آئی، تو اس نے اپنی بیٹی کو صوفے پر بیٹھا پایا جو کہ معمول کے مطابق گیمز کھیلنے کے بجائے اطاعت سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ وہ اس کے قریب گئی اور حارث کے ماتھے پر بوسہ دیا۔

“آج تم بہت خاموش ہو، بیٹا۔ “

حارث کے ماتھے پر نرم ہونٹوں کے لگنے سے وہ بالکل ساکت ہوگیا۔ مگر ساتھ ہی اس میں ایک توقع کا بھی احساس جاگ اٹھا۔

“ماما کتنی نرم اور مہربان ہیں۔”

اس نے ماما کو گہری نظروں سے دیکھا اور لاشعوری طور پر اٹھ کر ان کے پیچھے چل پڑا۔ جیسے ہی وہ چل رہا تھا، اچانک اس کی ماما رکی اور مسکرا کے اسے دیکھنے لگی۔

 “کیا تم ماما کے ساتھ شاور لینے کا ارادہ رکھتی ہو، شمائل؟”

تب حارث کو احساس ہوا کہ وہ ماسٹر بیڈروم کے باتھ روم میں ماما کے پیچھے پیچھے آ گیا تھا۔ وہ پیچھے ہٹنے والا تھا، لیکن فروین نے جھک کر اُسے اُٹھا لیا اور کہا،

“چھوڑو، پہلے تمہیں شاور دیتی ہوں۔”

حارث کے دماغ میں خطرے کی گھنٹیاں بج اُٹھیں۔

کیا ؟؟؟ اگر ماما اسے شاور دے گی ، تو اس کی لڑکے والی شناخت ظاہر نہیں ہو جاتی؟ وہ فورا لب بھینچ گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *