153.3K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maseer e Mamnu Episode 11

 چونکہ شام کا وقت تھا اس لئے سیڑھیوں میں روشنی کافی مدھم ہو چکی تھی لیکن ابھی اوپر روشنی میں آنے کے بعد، حارث حیرت سے شمائل کو گھور رہا تھا۔

شمائل کی آنکھیں انگور کی طرح گول اور بڑی تھیں اور اس کا منہ ہلکا سا کھلا ہوا تھا۔ دونوں کافی دیر تک ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ شمائل نے پہلے بات کی۔ “سیڑھیوں میں مرر کیوں ہے؟”

حارث حیران تھا۔ اس کے ہونٹوں کے کنارے ہلکے سے کانپے۔

“یہ مرر نہیں ہے۔”

شمائل حیرت اور الجھن میں پڑ گئی

۔ “پھر تم بلکل میری طرح کیوں نظر آتے ہو؟”

سیڑھیوں میں کچھ لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔ پھر حارث نے جھجکتے ہوئے کہا،

“کیا ہم… ٹوینز ہیں؟”

چھوٹی سی شمائل، جو آخر کار حقیقت کو سمجھ چکی تھی، آگے بڑھ کر خوشی سے حارث سے لپٹ گئی۔

“واہ! میں نے اپنا بھائی ڈھونڈ لیا!”

حارث، جو ہمیشہ دوسروں کے ساتھ جسمانی رابطے سے گریز کرتا تھا، اس وقت وہ کوئی غلط ردعمل ظاہر نہیں کر رہا تھا۔ خونی رشتے واقعی عجیب و غریب ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ماں یا چھوٹی بہن جیسے لوگوں کے ساتھ جسمانی رابطہ دل کو ایک بہت گرمجوشی کا احساس دیتا ہے۔ لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ مما نے اسے گلے لگایا اور اس کے ساتھ کھانا بھی کھایا کیونکہ وہ اسے کسی اور کے طور پر دیکھ رہی تھی؟ یعنی شمائل سمجھ رہی تھی۔ اس احساس نے حارث کو اداس سا کیا۔اس نے تھوڑا اداسی سے پوچھا،

“مما نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟”

شمائل نے فوراً اسے چھوڑ دیا اور جلدی سے وضاحت کی،

“مما نے تمہیں نہیں چھوڑا۔ یہ سب ہمارے بدتمیز نانا کی وجہ سے ہوا، جس نے تمہیں ہم سے دور بھیج دیا تھا۔ ہم امریکہ سے پاکستان اسی لیے واپس آئے ہیں تاکہ تمہیں ڈھونڈ سکیں!”

“سچ میں؟”

شمائل کو خوف محسوس ہوا کہ اس کا بھائی اس پر یقین نہیں کرے گا، تو وہ بار بار سر ہلاتی رہی۔

“یہ سچ ہے! یہ سچ ہے!!”

اس کے نرم ہاتھوں نے حارث کا ہاتھ پکڑا اور اسے سیڑھیوں سے نیچے گھسیٹتے ہوئے کہا،

“چلو، مما کو ڈھونڈتے ہیں۔ وہ تمہیں دیکھ کر ضرور بہت خوش ہوں گی، اور پھر وہ ہمیں گھر لے جائیں گی!”

حارث حیران رہ گیا۔

 “لیکن پاپا کا کیا ہوگا؟”

شمائل رک گئی۔

 “اوہ، یہ تو ٹھیک کہا۔ مما کو پاپا بالکل نہیں چاہیے ہوں گے۔”

“کیوں؟”

“مما کہتی ہیں کہ پاپا ایک مصیبت ہیں اور ان کے خاندانی تعلقات بہت پیچیدہ ہیں، اس لیے وہ انہیں بہت عجیب لگتے ہیں! کیا پاپا مما کو پسند کرتے ہیں؟”

حارث نے ایک انتہائی پیچیدہ انداز سے جواب دیا،

“پاپا تو شاید میری مما سے نفرت کرتے ہیں۔”

“اب ہم کیا کریں؟”

ایک منٹ بعد، دونوں ننھے معصوم سیڑھیوں پر ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ دونوں ایک جیسے لگ رہے تھے، جیسے ایک دوسرے کی کاربن کاپی ہوں۔ انہوں نے اپنے چہرے، جن پر اب بھی بچوں کی سی گولائی موجود تھی، ہاتھوں پر ٹکا رکھے تھے اور حل سوچ رہے تھے۔

“ویسے، میرا نام شمائل ہے! تمہارا نام کیا ہے؟”

” حارث مہدی۔ “

” حارث، میں تمہیں اور پاپا دونوں کو پیار کرتی ہوں، اور میں مما کو بھی نہیں چھوڑ سکتی۔ کیا تمہارے پاس کوئی حل ہے؟”

“…ہاں، میرے پاس ہے۔”

شمائل اچانک خوشی سے اچھل پڑی۔

 “کیا ہے؟”

حارث نے سنجیدگی سے جواب دیا،

 “اگر ہم پاپا اور مما کو ایک دوسرے سے محبت کرنے پر مجبور کر دیں، تو وہ ایک دوسرے کو ناپسند نہیں کریں گے۔”

دونوں بچوں نے اپنے سر ایک دوسرے کے قریب کر لیے اور اس بارے میں بات کرنے لگے۔ جب وہ آخر کار الگ ہوئے تو شمائل نے مشورہ دیا:

“میں پاپا کے ساتھ کھیلنا چاہتی ہوں۔ کیا میں آج رات تمہارا بجائے جا سکتی ہوں؟”

اتفاق سے، حارث بھی اپنی ماں کے ساتھ کچھ وقت گزارنا چاہتا تھا، اس لیے اس نے چمکتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ سر ہلا دیا۔ ایک ٹوٹے ہوئے خاندان کو دوبارہ جوڑنے کے عظیم مقصد کے ساتھ، دونوں بچے خاموشی سے ایک دوسرے کے گھروں کی طرف چل دیے۔

꧁༺♡ Maseer-E-Memnu ♡༻꧂

جیسے ہی فروین وارڈ سے نکل کر ہاسپٹل کے متعلقہ انتظامات کرنے لگی، اس نے فوری طور پر ہاسپٹل کے ڈین سے رابطہ کیا۔ ڈین نے اس کی درخواست فوراً قبول کر لی۔

ایش دنیا کی سب سے مشہور سرجن سمجھی جاتی تھی۔ اس کی کئی سرجری کی ویڈیوز ہسپتالوں اور میڈیکل کالجز میں کلاسک حیثیت رکھتی تھیں۔ اس ہسپتال میں ایش کا آپریشن کرنا خود ہاسپٹل کے لیے ایک اعزاز تھا لیکن ڈین نے چند اضافی درخواستیں کیں—وہ چاہتا تھا کہ کچھ ہسپتال کے لوگ معاون کے طور پر شامل ہوں تاکہ وہ آپریشن کو دیکھ کر سیکھ سکیں۔

فروین، جسے اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا، نے ان درخواستوں کو قبول کر لیا۔

اگلا مرحلہ آپریشن کے مقام اور سہولیات کا تھا۔ ہسپتال کا سامان پرانا تھا اور اتنے پیچیدہ آپریشن کی ضروریات پوری نہیں کر سکتا تھا۔ آخرکار، فروین کو نیویارک سے کچھ سامان عاریتاً منگوانا پڑا۔

متعلقہ کاغذی کارروائی پیچیدہ تھی، اس لیے ان سب کاموں میں دو گھنٹے سے زیادہ وقت لگ گیا۔

جب وہ وارڈ میں واپس آئی، تو اس کا ارادہ اپنی پھوپھو کو تسلی دینے کا تھا لیکن جیسے ہی وہ پہنچی، اس نے وارڈ میں جھگڑے کی آواز سنی۔

مہر کاظم  اپنے روایتی غرور بھری آواز میں کہہ رہا تھا، “اگر تم چاہتی ہو کہ اریشہ،  ڈاکٹر جہانگیر سے تمہاری سرجری کروانے کی بات کرے، تو فروین کو کمپنی کا کنٹرول دینا ہوگا! وہ فضول کمپنی زیادہ اہم ہے، یا اس کے پھوپھو کی زندگی؟”

شائستہ کا سانس بے ترتیب ہو رہا تھا۔

 “اریشہ، بچپن سے میں نے تمہارے ساتھ اچھا سلوک کیا ہے۔ یہی سوال میں تم سے بھی کرنا چاہتی ہوں—کمپنی زیادہ اہم ہے، یا میری زندگی؟”

اریشہ نے اپنی ہونٹ سکوڑے۔

“کب آپ نے میرے ساتھ اچھا سلوک کیا، شائستہ پھوپھو؟ آپ ہمیشہ اُس موٹی کو زیادہ چاہتی تھی۔ جب اپ سلائی کرتی تھیں، تو ہمارے لیے ایک جیسے کپڑے بناتی تھیں۔ لیکن اُس کے لیے زیادہ کپڑا استعمال کرتی تھیں، ٹھیک ہے؟ اگر آپ واقعی میرے ساتھ اچھا کرتی، تو اُس کے لیے بالکل بھی نہ بناتی!”

اریشہ کی باتوں نے بستر پر لیٹی کمزور سی شائستہ کو غصے سے کانپنے پر مجبور کر دیا۔

 “اریشہ، تم—”

 “اور عید پر، اپ نے ہمیں ایک جیسے تحفے دیے تھے، لیکن میں جانتی ہوں کہ آپ اُس موٹی کو الگ سے کچھ اور دیتی تھیں! ہنہ، وہ آپ کومجھ سے زیادہ عزیز ہے، ہے نا؟ اپ کی نظر میں، میری کیا اہمیت ہے؟”

شائستہ نے اپنی مٹھیاں سختی سے بند کر لیے۔

“میں یہ سب اُس کی ماں کی جگہ کر رہی تھی!”

اریشہ نے دوبارہ ہونٹ سکوڑے۔ وہ کچھ اور کہنے والی تھی کہ اچانک—

سوہا نے اریشہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اُس کی آنکھیں رونے کی وجہ سے سوجی ہوئی تھیں۔

” پلیز اریشہ، ڈاکٹر جہانگیر سے ہماری سفارش کرو اور میری ماں کو بچا لو!”

یہ کہہ کر وہ گھٹنوں کے بل گر گئی اور التجا کی،

 ” پلیز اریشہ!”

اریشہ نے اسے جھٹک دیا اور پیچھے ہٹ گئی۔

“یہ مت سوچو کہ میں تمہاری بات مان لوں گی جو تم یہ سب کر رہی ہو۔”

صدف نے بھی کہا، “اوہ، سوہا، تم یہ کیا کر رہی ہو؟ تمہیں فروین سے مدد مانگنی چاہیے!”

یہ سنتے ہی مہر کاظم چونک گیا۔ جیسے ہی اسے ایک اچھا آئیڈیا آیا، وہ بولا،

 “اپنی آنٹی کی بات مانو، سوہا فوراً ہوٹل فائنسٹ جاؤ، فروین کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ جاؤ، اور اس سے تمہاری ماں کو بچانے کی درخواست کرو!

فروین کیا اس ہوٹل میں اچھا شوہر ڈھونڈنے کے لیے نہیں ٹھہری ہوئی؟ اگر وہ شرمندہ نہیں ہونا چاہتی، تو وہ یقینی طور پر معاہدے پر دستخط کرے گی! آخر کو اسے اچھا شوہر بھی تو چاہئے “

باہر کھڑی فروین کی آنکھوں میں سرد چمک ابھری تھی۔ بچپن میں، وہ یہ سوچتی تھی کہ اُس کے ڈیڈ نے اُس کی بہن کو صرف ایک غلط فہمی کی وجہ سے زیادہ ترجیح دی تھی۔ لیکن اب، اُسے اچانک سمجھ آیا کہ یہ سب جان بوجھ کر کیا گیا تھا۔ مہر کاظم نے اپنی باتوں کو جائز ٹھہرانے کے لیے جس ڈھٹائی سے ایسا کہا، اُس نے فروین کے دل میں سرد مہری بھر دی۔

” کاظم !”

شائستہ نے سخت لہجے میں کہا،

 “تم فروین کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو؟!”

پھر وہ سوہا کی طرف چہرہ موڑ کے کہنے لگی

 “میں تمہیں جانے کی اجازت نہیں دیتی!”

سوہا کے چہرے کا رنگ آہستہ آہستہ سفید پڑ گیا، اور وہ خاموشی سے اپنے گھٹنوں پر سر رکھ کے روتی رہی۔

“ان سے منتیں کرنا بند کرو، سوہا۔ اُٹھ جاؤ۔”

شائستہ کے شوہر، برہان، اچانک چیخے۔ انہوں نے مہر کاظم کی طرف اشارہ کیا اور چلائے،

“یہاں سے دفع ہو جاؤ، سب کے سب! تم سب احسان فراموش ہو! شائستہ نے اپنی بھتیجیوں کے لیے سب کچھ دیا، لیکن تم میں سے کوئی بھی انسان کہلانے کے قابل نہیں ہے!”

انہوں نے پاس رکھے گلدستے کو مہر کاظم پر پھینکا اور تینوں کو باہر نکال دیا۔ دروازے کے قریب، ان کی نظر فروین پر پڑی اور وہ رک گئے۔ فروین نے لب کھولے اور آپریشن کے بارے میں بتانے کا ارادہ کیا۔

” برہان انکل …”

برہان کی آنکھیں پہلے ہی سرخ تھیں۔ وہ غصے سے بولے،

 “تم بھی انہی کی طرح ہو۔ دفع ہو جاؤ!”

وارڈ کا دروازہ بند ہو چکا تھا، لیکن اندر ہونے والی گفتگو کی دھیمی آواز اب بھی سنائی دے رہی تھی:

، “ڈٰیڈ، فروین تو—”

سوہا نے کہنا چاہا۔

“اس کا نام مت لینا! تمہاری ماں نے اس کے ساتھ کتنی محبت سے پیش آتی تھی؟ اسے اپنی بیٹی کی طرح سمجھا تھا، لیکن وہ اب مہر کاظم سے مختلف کہاں ہے؟ وہ کمپنی پر اس قدر ضدی انداز میں قابض ہے اور بس تماشائی بنی ہوئی ہے جبکہ تمہاری ماں موت کے قریب ہے!”

برہان غصے میں چلائے تھے۔

، “ایسا مت کہیے فروین کے بارے میں۔ وہ کچھ اس لیے نہیں کر رہی کیونکہ اسے معلوم ہے کہ وہ کمپنی چھوڑ بھی دے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ کسی اور پر اپنا غصہ مت نکالیے۔”

شائستہ نے نرمی سے کہنے کی کوشش کی۔

“مجھے پتا ہے، لیکن جب میں اسے اتنا بے حس دیکھتا ہوں تو دل بہت دکھتا ہے!”

سکندر اچانک جذبات میں بہہ گیا اور زار و قطار رونے لگا۔ فروین، جو باہر کھڑی تھی، شیشے کی کھڑکیوں کے پار ان کی بے بسی اور غصہ محسوس کر سکتی تھی۔

“کیا تمہیں کوئی افسوس نہیں ہوتا؟”

مہر کاظم اس کے پیچھے کھڑا تھا۔

 “ایک کمپنی کی خاطر، کیا تم واقعی اپنی پھوپھو کی زندگی کی پرواہ نہیں کرو گی؟”

یہاں ہونے والے جھگڑے کی آواز اتنی بلند تھی کہ آس پاس لوگ جمع ہونے لگے۔ فروین نے اپنا موبائل نکالا اور سوہا کو ایک ٹیکسٹ میسج بھیجا، جس میں اسے بتایا کہ چند دنوں میں کوئی آ کر اس کی پھوپھو کا آپریشن کرے گا۔ پیغام بھیجنے کے بعد، اس نے مہر کاظم  اور دوسروں کی غصے سے بھری باتوں کو نظرانداز کیا اور پرسکون انداز میں واپس مڑ گئی۔

پاس ہی ثالث، سجاد کے ساتھ کھڑا تھا۔ اس کے کسی رشتہ دار کو آج ہاسپٹل میں داخل کیا گیا تھا، اس لیے وہ خاص طور پر عیادت کے لیے آیا تھا۔ لیکن اس نے یہ سب صورتحال دیکھ لی۔

سجاد کہنے لگا۔

 ” مہر کاظم واقعی بےشرم ہے، لیکن کیا مس فروین کچھ زیادہ ہی بے حس نہیں لگ رہی؟ اسی لیے وہ اتنی غیر جذباتی لگتی ہے۔ سرد اور بےحس۔”

ثالث نے بھنویں سکیڑ کر کہا،

 “دیکھو کہ کیا اس کے پھوپھو کی بیماری کا کچھ کیا جا سکتا ہے؟”

یہ جاننا کوئی مشکل بات نہیں تھی۔ جب وہ گاڑی میں ہوٹل واپس جا رہے تھے تو اس نے ساری معلومات حاصل کر لی تھیں۔

“اس کی حالت واقعی پیچیدہ ہے، جس پر آپریشن کرنا مشکل ہے۔ پاکستان میں صرف دو ماہرین ہیں جو یہ آپریشن کر سکتے ہیں، لیکن کامیابی کا امکان صرف 50 فیصد ہے۔ اتفاق سے، دونوں ماہرین ہمارے ہاسپٹلز میں کام کر رہے ہیں۔”

جب ثالث خاموش رہا تو سجاد سے نہ رہا گیا اور وہ کہنے لگا،

 “اگر مس فروین سمجھدار ہیں، تو وہ اس موقع کو استعمال کریں گی اور آپ کے قریب آنے کی کوشش کریں گی۔”

جب گاڑی ہوٹل فائنیسٹ پہنچی، تو اتفاق سے ثالث نے فروین کو ٹیکسی سے اترتے دیکھا۔ مزید یہ کہ جب اس نے ان کی گاڑی کو دیکھا، تو وہ وہیں رک گئی اور ہوٹل کے اندر داخل نہیں ہوئی۔

کیا وہ ان کا انتظار کر رہی تھی؟ اس نے سوچا تھا۔ دل کی دھڑکن نے ایک بپ بھی مس کی۔

فروین نے واقعی انہیں دیکھ لیا تھا۔ وہ خود بھی نہیں سمجھ پا رہی تھی کہ کیا ہو رہا ہے۔ اس کا اس چار یا پانچ سالہ بچے سے کوئی تعلق نہیں تھا، لیکن پھر بھی جب وہ سوچتی کہ اس کے اساتذہ اسے بدسلوکی کا نشانہ بنا رہے ہیں، تو اسے عجیب بےچینی محسوس ہوتی۔

آج صبح انہوں نے یہ غلط سمجھا کہ میں اس کا پیچھا کر رہی ہوں۔ اگر میں ابھی ان کے پاس گئی تو وہ واقعی مجھے ایک تعاقب کرنے والی سمجھیں گے۔ فروین نے اپنی بلی جیسی سنہری آنکھوں کو تھوڑا سا جھکایا۔ اس نے نظر کے کنارے سے دیکھا کہ ثالث اپنے باڈی گارڈز کے درمیان سے گزرتے ہوئے جا رہا ہے۔ فروین نے اچانک کہا

 “مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے، مسٹر ثالث ۔”

جیسا کہ اسے توقع تھی، تبھی وہ رک گیا اور گہری نظر سے اس کی طرف دیکھا۔ وہ بےحد وجیہہ مرد تھا یہ وہ جانتی بھی تھی اور مانتی بھی تھی اور اس کی آنکھ کے کنارے پر موجود تل اس کی وجاہت کو مزید اجاگر کر رہا تھا۔

“میں آپ کے لیے کیا کر سکتا ہوں، مس فروین؟”

اس نے اسے موقع دے دیا تھا، تو شاید اب وہ عاجزی سے منت کرنے لگے گی، ہے نا؟

فروین نے ذرا بھاری لہجے میں پوچھا،

“کیا آپ کے بیٹے کے اساتذہ پیشہ ور ہیں، مسٹر ثالث؟”

اس نے لفٹ میں صرف اساتذہ کی باتیں سنی تھیں، اور خود اپنی آنکھوں سے کچھ نہیں دیکھا تھا، اس لیے وہ یہ فیصلہ نہیں کر سکتی تھی کہ ان کی باتوں میں سچائی ہے یا نہیں۔ اس نے محض ایک ہلکا سا اشارہ دیا۔ لیکن ثالث کے ماتھے پہ شکنوں کا جال بچھ گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *