153.3K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maseer e Mamnu Episode 16

ثالث نے غصے میں آ کر اپنا مکا میز پر مارا۔ وہ جو ہمیشہ کاروباری دنیا میں جتنی بھی چالبازی اور جھوٹ کا سامنا کرتا تھا، اس سب کا مقابلہ مہارت اور سکون سے کرتا تھا، لیکن آج وہ خود کو کچھ بے بس محسوس کر رہا تھا۔ کیا کرنا چاہیے تھا اس کے بارے میں؟ دروازے پہ دستک ہوئی تو دونوں دروازے کی طرف دیکھنے لگے جہاں سجاد اشارہ کرتے ہوئے، ثالث کو باہر آنے کا کہہ رہا تھا۔ سر جھٹک کے وہ کمرے سے باہر نکل آیا۔
“وقت آگیا ہے، مسٹر ثالث ۔”
اس نے پہلے ہی پوچھ گچھ کر لی تھی—ایش کا آپریشن سات گھنٹے طویل تھا۔ اگر وہ ابھی چل پڑے تو وقت بالکل ٹھیک ہوگا۔
چالث نے سنجیدگی سے اٹھتے ہوئے کہا،
“چلیں۔”
ثالث نے کمرے سے نکلتے ہوئے اپنے بیٹے کی طرف ایک نظر ڈالی—جو اپنی گڑیا کے بال سنوار رہا تھا۔ وہ ہلکا سا گانا گنگنا رہا تھا اور نرمی سے گڑیا کے بالوں کی چوٹی باندھ رہا تھا۔ پھر اس نے ایک لباس کا سیٹ اٹھایا اور گڑیا کو وہ پہنانا شروع کر دیا۔ اس نے بار بار اپنے غصے کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی۔ آخرکار اس نے کہا،
“ڈیڈی تھوڑی دیر کے لیے باہر جا رہے ہیں، حارث۔ جب میں واپس آؤں گا تو ہم مل کر ائیرو پلین سے کھیلیں گے۔”
شمائل نے اسے نظرانداز کر دیا۔ ثالث نے پھر کہا،
“میں شام کو واپس آ کر تمہیں ایک باربی لے کر دوں گا۔”
شمائل کی آنکھوں میں چمک آ گئی اور اس نے ثالث کی طرف خوش ہوتے دیکھا۔ لیکن پھر اس نے خود کو روکا اور نظریں چرا کر کہا،
” شمائل حارث کو باربی گڑیا نہیں چاہیے۔ مجھے ممی چاہیے۔”
” شمائل حارث” کیا تھا؟! اس نے سوچا، اور دل میں ایک خالی پن محسوس کیا۔ اسے، ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کے دل میں لاکھوں تیر چبھے ہوں، دل ٹوٹا ہوا ہوٹل سے باہر نکلا اور سجاد کے ساتھ ہاسپٹل کی طرف روانہ ہو گیا۔ یہ بات یقینی بنانے کے لیے کہ وہ ایش سے مل سکے، ثالث نے فیصلہ کیا کہ وہ آپریشن تھیٹر میں جائے گا۔
” یہ نفسیاتی مسئلہ ہے، مسٹر ثالث ۔ آپ کا کیا خیال ہے، کیا ہم مس فروین کو بلوا کر حارث سے بات کروا لیں؟”
ثالث نے لب بھینچ لیں۔ فروین کے بارے میں سوچنے سے اسے مزید غصہ آ گیا۔ جب وہ وہاں پہنچا تو آپریشن ابھی تک چل رہا۔ اس کی نظروں نے فروین کو ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن وہاں وہ نہیں تھی ۔ اس کے دل میں، فروین کے لئے مزید غصہ بھرنے لگا۔ کس قدر بےحس تھی وہ عورت، ثالث نے ماتھے پہ بل ڈالے سوچا تھا۔ اس نے پھر سے سجاد کی تجویز کو رد کر دیا۔
“نہیں، یہ ضروری نہیں ہے۔”
اگرچہ اس کا بیٹا معمول کے مطابق نہیں تھا، کم از کم وہ بے رحم اور بے رحم نہیں تھا۔ سرد آواز میں جواب دینے کے بعد دروازہ کھولا اور آپریٹنگ روم میں داخل ہو گیا۔ آپریٹنگ روم کے اندر، تمام روشنی آپریٹنگ ٹیبل پر مرکوز تھی۔ اس کی نظریں براہ راست ڈاکٹر ایش پر مرکوز ہو گئیں جو اس وقت مکمل توجہ کے ساتھ آپریشن کر رہی تھی! اسے دیکھ کر، اس کے چہرے پر ایک ہلکا سا حیرت کا اظہار آیا۔ ثالث نے پہلے ایش کی ایک تصویر دیکھی تھی، لیکن جو عورت آپریشن کر رہی تھی، وہ تصویر والی عورت سے کہیں زیادہ پتلی لگ رہی تھی؟ وہ خاموشی سے ہجوم کے پیچھے کھڑا تھا۔
آپریشن کے درمیان کسی کو بھی آپریٹنگ روم میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ اگر یہ ہاسپٹل مہدی فیملی کا نہ ہوتا تو اس کے لیے یہاں آنا بھی بہت مشکل ہوتا۔ لہٰذا، ثالث نے قواعد کی مکمل پابندی کی اور فوراً آگے نہیں بڑھا۔ وہ یہ چاہتا تھا کہ ایش آپریشن مکمل کر لے، پھر وہ اس کے قریب جائے گا۔ آپریٹنگ روم میں بہت خاموشی تھی۔ کبھی کبھار ایک عورت کی پیشہ ورانہ مگر آواز سنائی دیتی تھی:
” پیشنٹ کی ہارٹ بیٹ کیا ہے؟”
” پیشنٹ کا بلڈ پریشر کیا ہے؟”
“#10 بلیڈ۔
“ہیموسٹیٹک فورسپس۔”
وہ شاید چھ گھنٹے تیس منٹ سے مریض پر آپریشن کر رہی تھی۔ اس کے پیچھے کھڑا اسسٹنٹ مسلسل اس کا پسینہ پونچھ رہا تھا، لیکن اس کے باوجود، اس کے ہاتھ ابھی تک بہت مستحکم تھے اور ان میں لرزنے کا کوئی نشان نہیں تھا۔
اس کی نظریں آپریٹنگ ٹیبل پر گہری توجہ سے مرکوز تھیں، اور اس کا چہرہ سنجیدہ تھا۔ اگرچہ اس کا چہرہ نظر نہیں آ رہا تھا، پھر بھی وہ ایک ناقابلِ بیان دلکشی کا مظاہرہ کر رہی تھی۔
ثالث نے ابتدا میں یہ سوچا کہ وہ بہت جلد پہنچ گئے ہیں اور اسے بیس منٹ یہاں انتظار کرنا پڑے گا، جس سے وہ تھوڑا سا پریشان ہوگیا تھا۔ لیکن یہ آپریشن کافی لمبا گیا جس سے ثالث کو بوریت ہونے لگی اور آخر کار آپریشن ختم ہوا جب فروین کی آواز گونجی۔
” آپریشن کمپلیٹ ہو گیا ہے ۔ باقی تم سنبھالو”
اس کے پیچھے کھڑے اسسٹنٹ نے جواب دیا،
“جی، ٹھیک ہے۔”
چیف سرجن وہ شخص تھا جو آپریشن کرتا تھا، جبکہ اسسٹنٹ آخر میں سادہ سے ٹانکے لگاتا تھا۔ اب تک آپریشن میں سب کچھ بخوبی چل رہا تھا۔
مگر اس وقت! ایسا لگ رہا تھا کہ کسی نے حادثاتی طور پر اسسٹنٹ کے ہاتھ میں رکھی ٹرے کو دھکیل دیا ہو، اور اس میں پڑی چھری اچانک زمین پر گر گئی! سب ایکدم چونک سے گئے تھے۔ آپریشن ٹیبل کے ارد گرد کی لائٹس بہت تیز تھیں، جس کی وجہ سے اطراف کا منظر نسبتاً سیاہ نظر آ رہا تھا۔ ایش، جو ان اسسٹنٹس کے درمیان چھپی ہوئی تھی، نے فوراً مداخلت کی۔ اس کی آواز میں غصہ تھا۔
، “تم لوگ اتنے غافل کیوں ہو؟ خوش قسمتی ہے کہ آخر میں صرف ٹانکے لگانے باقی ہیں۔ تم لوگ، میرے ساتھ جا رہے ہو!”
“ٹھیک ہے۔”
اسسٹنٹس اور ایش سب ایک ہی رنگ کے سرجیکل گاؤن پہنے ہوئے تھے اور سیدھے اسٹیرائل ایریا کی طرف جا رہے تھے۔ ثالث فوراً ان کے پیچھے پیچھے چلا آیا۔
اسٹیرائل ایریا میں پہنچ کر، انہوں نے اپنی گوگلز، ماسک اور دستانے اُتارے اور بہتے پانی سے ہاتھ دھوئے۔ ان میں سے ایک کے سوا باقی سب کے بال لمبے تھے۔
ایش کے بال لمبے نہیں تھے۔ چنانچہ ثالث سیدھا اسی ڈاکٹر کے پیچھے چل کر، جس کے بال کندھے تک آ رہے تھے، اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا،
“ہیلو، ایش۔ میں نے آپ کے بارے میں بہت سنا ہے۔”
تاہم، جو ڈاکٹر مڑ کر اسے دیکھنے لگی، وہ بےحد سادہ سی تھی۔ اس نے ثالث کو حیرت سے دیکھا اور کہا،
“ڈاکٹر ایش تو جا چکی ہیں۔ میں لِیلی ہوں، ان کی اسسٹنٹ۔ آپ کون ہیں؟”
ثالث نے اپنی بھنویں چڑھائیں۔ تب اسے یہ احساس ہوا کہ وہ دھوکہ کھا گیا تھا۔ کیا ایش واقعی یہ سمجھتی تھی کہ وہ آج بچ کر جا سکتی ہے؟ اس نے ایک قدم پیچھے ہٹ کر اپنا موبائل فون نکالا اور سجاد کو کال کی۔ اس کی آواز بےحد سرد تھی
، “آپریشن روم کے تمام راستوں کو بند کر دو اور اندر موجود تمام افراد کی جانچ پڑتال کرو!”
“جی، سر۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوپریٹنگ روم میں، فروین نے اپنی آنکھوں کے کونے سے ثالث مہدی کو وارڈ سے باہر جاتے ہوئے دیکھا۔ اس نے آپریٹنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے گہری سانس لی ۔ اسے پہلے ہی یہ علم تھا کہ ایش کے طور پر آپریشن کرنے کے لیے آنے سے خبریں باہر جائیں گی اور وہ شخص جو سماجی حیثیت میں بلند مقام رکھتا تھا، اس کی توجہ ضرور حاصل کرے گا۔ لہٰذا، اس نے اس بات کے لیے پہلے ہی تیاری کر رکھی تھی۔
یہ ایک عام سی بات تھی کہ چیف سرجن معمولی چیزوں جیسے کہ سیوننگ نہیں کرتا۔ تاہم، فروین نے اپنی پھوپھی پر آپریشن کرتے وقت کامل نتیجے کی توقع رکھی تھی، اس لیے اس نے سوچا تھا کہ وہ یہ کام خود کرے گی۔
سب کے لیے، ایش اور اس کے اسسٹنٹس جا چکے تھے۔ کون جانتا تھا کہ وہ پہلے کے ہنگامے میں بس مڑ کر دیکھ رہی تھی اور حقیقت میں ابھی تک یہاں موجود تھی؟ وہ تیزی سے حرکت کرتی، صرف دس منٹ میں اس نے سیوننگ مکمل کر دی تھی۔ آخرکار، اپنی پھوپھی کے مختلف ڈیٹا انڈیکیٹرز چیک کرنے کے بعد، اس نے اعلان کیا،
“آپریشن کامیاب رہا۔”
آپریشن کے بعد کی دیکھ بھال ایک پیشہ ور نرس کو سونپ دی گئی۔ اس کے بعد وہ اور باقی دو اسسٹنٹس، جو ڈاکٹرز کو آپریشن دیکھنے کے لیے لے کر گئے تھے، اسٹرائل ایریا میں داخل ہو گئے۔ فروین نے گہری سانس لی اور آنکھوں میں نیند کی لہر محسوس کی۔
سات گھنٹے کے آپریشن کا جسم پر جو اثر پڑا، وہ ناقابل تصور تھا۔ ان لوگوں کے لیے جن کا جسمانی مزاج قدرتی طور پر کمزور ہو، یہ بہت سزا دینے والا کام تھا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ جب وہ واپس جائے گی تو اسے شاید 14 سے 15 گھنٹے تک مسلسل نیند آئے گی۔ اچانک اس نے لِیلی کو اسٹرائل ایریا میں اپنی طرف دیکھتے ہوئے دیکھا۔ فروین رکی۔ ایک عجیب سا احساس اُٹھا، جیسے کچھ برا ہونے والا ہو۔
اگلے لمحے، اس نے دیکھا کہ آپریشن روم کے دروازے پر سیاہ لباس میں ملبوس باڈی گارڈز کھڑے ہیں اور ہر شخص کی شناخت چیک کر رہے ہیں۔
“اس کا کیا مطلب ہے، مسٹر ثالث؟ ہمیں آپریشن کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ پھر ہمیں آپ کی غیر ضروری تفتیش کا سامنا کیوں کرنا پڑ رہا ہے؟”
یہ للی تھی جو غصے میں ثالث مہدی کو دیکھ رہی تھی جبکہ وہ شخص جو دروازے پر کھڑا تھا، اس کی موجودگی میں عجیب تناؤ سا محسوس ہو رہا تھا ماحول میں۔ اس کی وجاہت، اس کا اونچا قد اور کسرتی بدن کے خدوخال، اسے اس پورے میں ماحول میں چھایا ہوا محسوس ہو رہے تھے کہ ایک سخت نوعیت کا دباؤ محسوس ہو رہا تھا۔ اس کے ساتھ کھڑا، سجاد بے تاثر چہرے کے ساتھ جواب دے رہا تھا،
“میں معافی چاہتا ہوں، مس، آپ اس ہاسپٹل کی ملازمت پر ڈاکٹر نہیں ہیں۔ اگر مریض کو کوئی نقصان پہنچا تو ہمیں اس کا جواب دینا پڑے گا۔ اس لیے، براہ کرم اپنی انفارمیشن چھوڑ کے جائیے۔”
فروین نے آنکھیں میچ کے اندر ہی اندر ایک گہری سانس لی،
“یہ تانا شاہ اتنا آسانی سے جان نہیں چھوڑنے والا۔”
کیا اس سے لڑا جائے اب؟ لیکن سات گھنٹے مسلسل آپریشن کے بعد، اس کے کمزور وجود میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اب بحث کرے، اوپر سے، فی الحال اس سے کھڑا بھی نہیں ہوا جا رہا تھا زیادہ کمزوری محسوس ہونے کی وجہ سے۔ ان سب کے چکر میں، اسے یہ خبر نہیں تھی کہ ثالث اس پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔ اگرچہ وہ سرجیکل گاؤن میں ملبوس تھی، اس کا جسمانی انداز ایش سے بہت مشابہت رکھتا تھا۔
سب لوگ سجاد کے ساتھ تعاون کر رہے تھے، مگر وہ اکیلی پیچھے کھڑی تھی اور خود میں ہمت مجتمع کر رہی تھی کہ اس سچویشن کو کیسے ہینڈل کرے، باوجودیکہ اسے اس وقت جسمانی کمزوری ہو رہی تھی۔
ثالث اس کے پاس آیا اور اس کے سامنے کھڑے ہو کر کہا،
“یہ واقعی ایک اچھا جال تھا، تم مجھے تقریباً پھانس ہی لیتی۔”
سب کی نظریں اب فروین پر تھیں،
“ڈاکٹر ایش، کیوں نہ اپنا ماسک اُتار دو؟”
ثالث کی مبہم لیکن سرد آواز گونجی، فروین نے اس بلند قامت شخص کو سر تا پا دیکھا۔ جس کے ہونے سے، پورا ماحول تناؤ کا شکار ہوتا محسوس ہو رہا تھا ۔ فروین نے اچانک ہنستے ہوئے، اپنا ماسک اور گگلز اُتارے، جو اس کے سرجیکل کیپ پر لٹک گئے اور اس کے سیاہ بال بھی اسی حرکت میں بکھر گئے۔ ثالث کی آنکھوں کی پتلیاں پھیل گئیں، اور اس نے حیرانی سے اسے دیکھا کہ یہ وہی عورت ہے، جسے وہ جانتا تھا۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ یہ وہ ہو؟
فروین نے نظریں جھکائیں جیسا کہ وہ ہمیشہ کرتی تھی، اور مدھم آواز میں کہا،
“چونکہ آپ نے مجھے پکڑ لیا ہے، اب میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔”
ثالث کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ پھر اس نے مزید فروین کو سنا۔
“میں واقعی غلط تھی کہ میں نے آپریشن روم میں چھپ کر اپنی پھوپھو کی نگرانی کی۔ اگر ہاسپٹل مجھے اس کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے تو میں قبول کرتی ہوں۔”
پھر اس نے سرد مہری سے کہا،
“لیکن مریض کے رشتہ دار ہونے کے ناطے، مجھے لگتا ہے کہ ہاسپٹل کو میری کنڈیشن کو سمجھنا چاہیے۔”
اس کی آواز سرد اور صاف تھی، جیسے گلاس کی چمک، جو ایک سکون اور سنجیدگی کا تاثر دیتی تھی۔ ثالث کے ذہن میں سب سے پہلا خیال یہ آیا:
“تو، اس نے اپنی پھوپھو کی اس حالت کو نظرانداز نہیں کیا تھا۔۔ “
فروین نے سامنے کھڑے اس شخص کو گھورتے ہوئے دیکھا۔ اس کی گھمبیر آنکھوں میں گہرائی سی تھی، عجیب سا، ان کہی سا تاثر۔ حتی کہ اس کی آنکھ کے قریب موجود تل بھی پراسرار سا لگ رہا تھا۔ فروین نہیں جانتی تھی کہ وہ اس پر یقین کرتا ہے یا نہیں۔
“اگر مس فروین، میری ایک شرط پر رضا مندی ظاہر کریں، تو ہاسپٹل کی طرف سے میں یہ وعدہ کر سکتا ہوں کہ آپ کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جائے گا۔”
ثالث کی بات پہ، وہ اچھنبے سے اسے دیکھنے لگی۔
“کیا شرط ہے؟”
ثالث نے آہستہ سے کھنکھار کر گلا صاف کیا۔
“میرے ساتھ ہوٹل چلنا ہے اور میرے بیٹے کو دو گھنٹے وقت دینا یے۔ “
حارث رات سے ہی اس سے ناراض تھا اور اس نے اس سے بات نہیں کی، حتیٰ کہ وہ باہر بھی گیا، اور مسلسل ممی کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ اب جب کہ اسے یہ معلوم ہو چکا تھا کہ فروین اتنی سرد اور بے حس عورت نہیں ہے، نرم دل اور مہربان خاتون ہے تو اس کا بیٹا یقیناً خوش ہو جائے گا اگر وہ اسے فروین سے ملنے کی اجازت دے۔ فروین حیران تھی۔ اگر اس کی یادداشت درست تھی، تو جب ان کی پہلی ملاقات ہوئی تھی، اس نے اس سے کہا تھا کہ میرے بیٹے سے دور رہے۔ جب وہ کل فلم دیکھنے گئے تھے، اس نے پھر سے اسے ایک اور تنبیہ کی تھی۔ کیا یہ آدمی اچانک اپنی عقل سے پیدل ہو گیا تھا؟
فروین کے آنکھوں کی حیرانی، ثالث کو مضطرب کر گیا۔ اس کے قریب آنے کے لیے، اس عورت نے حارث کی منظوری حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی تھی۔ اس لیے وہ کبھی بھی اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دے گی! وہ ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ فروین نے سرد نگاہوں میں عجیب تاثر ابھرا۔
“آپ غلط فہمی کا شکار ہیں، مسٹر ثالث میں نہ تو بچوں کی دیکھ بھال کرنے والی ہوں اور نہ ہی آپ میرے متعلق ایسا کچھ سوچ سکتے ہیں ۔”
ثالث رکا تھا، فروین ایک قدم آگے بڑھیں۔ اس کے انداز میں بلکل جھکاؤ نہیں تھا بلکہ وہ ثالث کے مقابل پراعتماد کھڑی تھی۔
“اور اگر ہاسپٹل واقعی مجھے جوابدہ ٹھہرانا چاہتا ہے تو براہ کرم میرے وکیل سے رابطہ کریں۔”
کہہ کر، اس نے اپنا منہ ماسک سے ڈھانپ لیا، ایک آہ بھری، آہستگی سے ثالث کے قریب سے گزری اور آپریشن روم سے باہر نکل گئی۔ اس پہ مسلسل نیند کا غلبہ تھا۔
اس کے پاس کسی بچے کے ساتھ کھیلنے کا وقت کہاں تھا؟ اس وقت سب سے اہم بات یہ تھی کہ جلدی سے گھر جا کر سو جائے! حتیٰ کہ ثالث کو بھی لوگوں کو اپنی مرضی سے حراست میں رکھنے کا حق نہیں تھا۔
اگر وہ ایش کو نہیں ڈھونڈ سکا، تو اس کے پاس ان کو چھوڑنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔
ہوٹل واپس جاتے ہوئے گاڑی میں سجاد نے شکایت کی،
“کیا ایش alien ہے؟ وہ اتنی عجیب عورت کیوں ہے؟ جب میں باہر پہرا دے رہا تھا تو وہ کیسے نکل گئی؟”
ثالث، جو پچھلے سیٹ پر بیٹھا تھا، نے جواب دیا،
“تین ممکنہ وضاحتیں ہیں۔ ایک، ہماری معلومات غلط تھیں اور ایش لمبے بالوں والی ہے۔ دو، ایش کے پاس بہت اچھے طریقے ہیں اور وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئی، مگر یہ کم امکان ہے۔”
“ہاں، ہم نے ہاسپٹل کے احاطے کو بہت محفوظ طریقے سے گھیر لیا تھا۔ جب تک ہاسپٹل میں زیر زمین سرنگ نہ ہو یا وہ اڑ نہ سکتی ہو، وہ باہر نہیں نکل سکتی۔”
پھر سجاد نے کچھ سوچتےسوال کیا،
“تیسری ممکنہ وضاحت کیا ہے؟”
ثالث کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اُس نے مڑ کر گاڑی سے باہر دیکھا اور آہستہ سے کہا،
” فروین مہر کاظم ہی ایش ہے۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *