Maseer-e-Mamnu – A Forbidden & Powerful Contemporary Romance Novel by Malayeka Rafi | novelR50456 Maseer e Mamnu Episode 19
No Download Link
No categories assigned.
Rate this Novel
Maseer e Mamnu Episode 19
صدف نے اریشہ کو ہلکا سا دھکیلتے ہوئے کہا،
“گاڑی لے کر اپنی بہن کے پیچھے ہوٹل جاؤ، اریشہ تمہارے ڈیڈ اور میں ٹیکسی سے گھر واپس جائیں گے۔”
اریشہ نے غصے سے پاؤں مارتے ہوئے کہا،
“مام، کیوں؟”
صدف نے اپنی آواز دھیمی کرتے ہوئے جواب دیا،
“اگر وہ ہوٹل واپس جا کر نہ آئے تو؟ جا کر اس پر نظر رکھو۔”
تب ہی اریشہ کو آخرکار سمجھ آیا کہ اس کی مام کیا کہنا چاہ رہی تھیں اور وہ فوراً فروین کے پیچھے دوڑ پڑی۔
ہوٹل جاتے ہوئے، حارث گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھا تھا، اس کی نظریں نیچے جھکی ہوئی تھیں، گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا وہ۔ اس نے ابھی صرف عارضی طور پر فروین کو معاہدہ پر دستخط کرنے سے روکا تھا۔ اگر وہ برے لوگوں کے منصوبوں کو مکمل طور پر ناکام بنانا چاہتا تھا، تو اسے کوئی اور حل تلاش کرنا ہوگا۔
اس نے خاموشی سے اپنا سیل فون اٹھایا اور شمائل کو ایک میسج بھیجا:
” شمائل، تم وہیں ہو؟ اٹس ارجنٹ”
شمائل کا جواب تیزی سے آیا تھا۔
“میں یہیں ہوں! کیا ہوا؟”
حارث نیچے دیکھتے ہوئے اسے میسج بھیجنے لگا:
” ڈیڈی کے سیل فون سے ممی کو ایک ای میل بھیجو۔ جلدی کرنا! ای میل میں یہ لکھنا ہے …”
فروین کی بلی جیسی کانچ آنکھیں تھوڑی سی جھکی ہوئی تھی۔ وہ بے پرواہ نظر آنے کی کوشش کر رہی تھی، مگر حقیقت میں اس کے دل میں طوفان اُمڈ رہے تھے اور وہ بے حد بے چین محسوس کر رہی تھی۔
کیا مہر کاظم واقعی اسے اس کے بیٹے کا پتا بتا دے گا اگر وہ معاہدے پر دستخط کر دیتی ہے؟
وہ ابھی اسی بارے میں سوچ رہی تھی کہ اس کا سیل فون اچانک vibrate ہوا۔ اس نے بیزاری سے فون اٹھایا، لیکن جیسے ہی اس پر نظر ڈالی، وہ اچانک منجمد ہوگئی۔اس کے میل باکس میں ایک گمنام ای میل پڑی ہوئی تھی۔ ای میل میں صرف چند الفاظ تھے:
“مجھے تمہارے بیٹے کا پتا ہے۔ معاہدے پر دستخط مت کرو۔”
فروین کی آنکھوں میں فوراً سرد تاثر ابھرا۔ اب یہ ای میل کس نے بھیجی تھی؟ اس نےفون اپنی گود میں افقی طور پر رکھا۔ اس کی دو ٹھنڈی، پتلی اور سفید انگلیاں تیز رفتاری سے فون پر ٹائپ کرنے لگیں تاکہ وہ بھیجنے والے کی جگہ کا پتہ لگا سکے۔
اچانک، اس کی آنکھیں خوف کے مارے پھیل گئیں اور اس کے ہاتھ فوراً پیچھے کھینچ لیے۔
کتنا قریب تھا وہ شخص، جس نے اسے ای میل بھیجا تھا یہ خوش قسمتی تھی کہ وہ وقت پر رک گئی۔ اگر ایک لمحہ اور گزرتا تو اس کا فون زبردستی بند ہو جاتا اور بے کار ہو جاتا۔ اس نے خود سے سوال کیا،
“آخرکار وہ کون تھا جس نے یہ ای میل بھیجی؟ “
ای میل کے مواد کی حقیقت پر غور کرنا ضروری تھا، لیکن سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس نے اچانک اس کو ایک ویک اپ کال دے دی تھی۔ فروین کی لمبی پتلی انگلیاں گاڑی کی سیٹ پر ٹک ٹک کر رہی تھیں، جب کہ وہ اس ہفتے کے دوران جو کچھ بھی ہوا تھا، اس پر غور کر رہی تھی جب وہ امریکہ سے پاکستان واپس آئی تھی۔ جیلانی صاحب اور مہر کاظم خاندانوں کو اس چھوٹی سی کمپنی میں بہت دلچسپی تھی جو اس کی ماں نے اس کے لیے چھوڑی تھی۔
یقیناً، اس کمپنی میں کچھ ایسے راز چھپے ہوئے تھے جن کے بارے میں وہ بے خبر تھی۔ گاڑی تیزی سے ہوٹل پہنچ گئی۔
“کیا؟ تم اب معاہدہ نہیں سائن کرنے والی؟”
گاڑی سے جیسے ہی وہ اتری، اریشہ کی تیز آواز اسے سنائی دی۔
“کیا تمہیں اپنے بیٹے کو ڈھونڈنے کی پرواہ نہیں رہی؟!”
فروین نے ایک ابرو اٹھا کے اسے دیکھا اور طنزیہ انداز میں کہا،
“میں اتنی بے وقوف نہیں ہوں۔ اگر میں معاہدہ سائن کرتی ہوں اور پھر ڈیڈ مجھے جھوٹی معلومات دیتے ہیں، تو میں کیسے جانوں گی کہ وہ سچ ہیں یا نہیں؟”
اریشہ غصے میں اپنے پاؤں کو زمین پر مار کر بولی،
” فروین تم وعدہ کیسے توڑ سکتی ہو؟!”
فروین نے حارث کا ہاتھ پکڑا اور نظریں نیچی کیے ہوئے سرد لہجے میں کہا،
“تم چاہتی ہو کہ میں تمہیں کمپنی دے دوں؟، بتاؤ کہ ڈیڈ میرا بیٹا ڈھونڈ کر کے میرے پاس لے کر آئے پہلے۔”
وہ الفاظ کہنے کے بعد، اس نے حارث کا ہاتھ پکڑا اور سیدھا ہوٹل کی طرف چلنا شروع کر دیا۔ وہ صرف چند قدم ہی چلی تھی کہ اچانک کسی نے پکارا،
” اٹھو پلیز، اٹھو پلیز “
اس نے فوراً پلٹ کر دیکھا۔ فوراً ہی، اس نے ایک درمیانی عمر کے آدمی کو زمین پر گرا ہوا دیکھا۔ اس کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا اور وہ واضح طور پر سانس نہیں لے رہا تھا۔ فروین نے حارث کی طرف دیکھا۔
” اوپر چلی جاؤ تم ، شمائل۔ میں ذرا جا کر دیکھتی ہوں۔”
ہوٹل کی اوپر والی منزل پر، شمائل اپنی حال ہی میں خریدی ہوئی باربی کے بال سنوار رہی تھی۔ ثالث صوفے پر بیٹھا تھا اور سنجیدگی سے اپنے سیل فون کو دیکھ رہا تھا۔ بین الاقوامی ہیکر کیو نے ابھی ابھی اس کے سیل فون کے فائر وال کو بائی پاس کرنے کی کوشش کی تھی۔ اسے نہیں معلوم کہ کیو کا ایسا کرنے کا مقصد کیا تھا۔ وہ اس پر غور کر رہا تھا، تبھی شمائل نے باربی کی شہزادیوں کے لباسوں کی قطار سے ایک گلابی ٹوٹو ڈریس نکالا اور پوچھا،
“یہ کیسا لگ رہا ہے، ڈیڈ؟”
ثالث، جو خود میں، یہ سب دیکھنے کا حوصلہ نہیں کر پا رہا تھا، جواب دیا،
“۔۔۔ یہ ٹھیک ہے۔”
“پھر یہ والا کیسا ہے؟ اس پر اتنے سارے موتی ہیں اور یہ شائن بھی کر ہے!”
“۔۔۔چلے گا۔”
” ڈیڈ، آپ تو بہت لاپرواہ ہیں! آپ نے تو اسے دیکھا ہی نہیں!”
ثالث نے اپنے بیٹے کو دیکھا جس کے ہاتھ کمر پر تھے۔ وہ بہت پیارا لگ رہا تھا اور غصے میں اس کے گال پھولے ہوئے تھے جیسے وہ چھوٹی سی پرنسس ہو۔
اگرچہ ثالث کو اپنے بیٹے کا زندہ دل ہونا بہت پسند تھا، مگر وہ اس کے دیکھنے کے انداز سے اتنا متاثر تھا کہ وہ بس کھڑا ہو گیا اور مطالعہ کرنے کے لیے اسٹڈی روم میں چلا گیا۔
“مجھے کچھ کام ختم کرنے ہیں ۔”
اسے کچھ وقت اکیلا رہنے کی ضرورت تھی۔ اس نے خود کو قائل کرنے کی بہت کوشش کی۔ آخرکار، اس نے خود کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ جب تک اس کا بیٹا پرنسس کا لباس نہیں پہنتا، سب کچھ ٹھیک ہے!
اس موقع پر، سجاد اندر آیا اور اس نے اپنی رپورٹ پیش کی۔ اس نے مؤدب انداز میں کہا،
“مسٹر ثالث، ہم نے مہر کاظم کی دوبارہ تحقیقات کی ہیں۔”
ثالث سیدھا بیٹھ گیا اور سرد آواز میں کہا،
” بتاؤ۔”
فروین مہر کاظم بچپن سے ہی موٹی رہی ہیں۔ صحت کی خرابی کی وجہ سے وہ زیادہ تر اسکول نہیں جاتی تھیں۔ پانچ سال پہلے، وہ تنہائی برداشت نہ کر سکیں اور شادی سے پہلے ایک نامعلوم شخص سے حاملہ ہو گئیں۔ اس کے بعد انہوں نے ایک بیٹی کو جنم دیا۔ کہا جاتا ہے کہ جیلانی صاحب اس بات سے بہت نالاں تھا، اس لیے مہر کاظم کو، مس فروین کو عوامی نگاہوں سے بچانے کے لیے بیرون ملک بھیجنا پڑا…
سجاد نے بنیادی معلومات ختم کرنے کے بعد حیرت کا اظہار کیا،
“ایک بہت عجیب بات ہے، مگر۔ مس فروین کے پانچ سالوں کے دوران باہر ہونے کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے ان کے تمام نشانات مٹا دیے ہوں۔”
ایش تین سال پہلے مشہور ہوئی تھی۔ کسی کے لیے صرف دو سال میں طب سیکھنا بہت مشکل تھا۔ اس کے علاوہ، اس کی تکنیک اتنی بے عیب تھی کہ اس کا مطلب تھا کہ اس نے بہت محنت اور مشق کی ہوگی۔
سجاد نے مزید کہا،
“لیکن ایک بات یقینی ہے— فروین مہر کاظم نے کبھی بھی میڈیکل نہیں سیکھا۔ اس لیے ہم یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ وہ ایش ہو سکتی ہے۔”
ثالث تھوڑا مایوس ہو گیا۔ اس وقت، سجاد نے اچانک اپنے ایئر فون میں آواز سنی۔ سننے کے بعد، اس کا چہرہ تھوڑا بدل گیا…
“ہوٹل کے لابی میں کچھ گڑبڑ ہو گئی ہے۔”
ثالث سنجیدگی سے پوچھنے لگا۔
“کیا ہوا؟”
سجاد نے وضاحت کی،
“ایک گیسٹ لابی میں بے ہوش ہو گیا۔ لابی مینیجر کے مطابق، وہ اب سانس نہیں لے رہا۔ انہوں نے 911 کو کال کر دی ہے۔ خوش قسمتی سے ایک ڈاکٹر قریب ہی موجود تھا، تو وہ ابھی اسے ابتدائی طبی امداد دے رہے ہیں۔”
ہوٹل فائنست کے مہمان یا تو بہت امیر ہوتے تھے یا اعلیٰ سماجی حیثیت کے مالک۔ ہوٹل کو بھی اس واقعے کی ذمہ داری اٹھانی پڑتی، اگر کچھ ہو جاتا، اس لیے ثالث نے فوراً ہدایت دی،
“جا کر دیکھو کیا ہو رہا ہے۔”
“جی، سر۔”
سجاد کے جانے کے بعد، ثالث اسٹڈی سے باہر آیا اور دیکھا کہ اس کا بیٹا لیونگ روم میں نہیں تھا۔ اس نے پوچھا،
” حارث کہاں ہے؟”
نینی نے جواب دیا،
“وہ ساتھ والے گھر چلا گیا ہے۔”
ثالث حیران ہوا۔
ساتھ والے سوئٹ میں طلال نے صوفے پر پڑے کپڑوں کے ڈھیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اعلان کیا،
“یہ سب تمہارے لیے ہیں!”
شمائل نے حیرانی سے کہا،
“سب؟!”
“ہاں، میں کچھ بچوں کے کپڑوں کی دکانوں پر گیا اور ان سے کہا کہ تمہارے سائز کے ہر ڈیزائن کا ایک جوڑا دے دیں!”
طلال نے اس کے ارد گرد گھومتے ہوئے پوچھا
، “کیا تم گیم میں مجھے تھوڑا کم ڈانٹ سکتے ہو؟”
شمائل نے اپنے معصوم انکل کی طرف دیکھا اور پلکیں جھپکائیں۔
“میں کوشش کروں گی!”
جب بھی وہ گیم کھیلنا شروع کرتی، وہ بے قابو ہو کر ایک چھوٹی سی “اوگر” بن جاتی۔ لیکن اس میں اس کا کوئی قصور نہیں تھا، کیونکہ اصل مسئلہ اس کے انکل کی خراب کارکردگی تھی! شمائل نے ایک گہری سانس لی اور بے دلی سے کپڑوں میں ادھر ادھر ہاتھ مارنے لگی۔ اسی دوران اس نے اچانک ایک گلابی شہزادی کا ٹیٹو لباس نکال لیا۔
“شاید انہوں نے غلطی سے اسے بھی پیک کر دیا ہے۔”
طلال نے لباس کو الگ رکھنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، لیکن اس نے اپنے بھتیجے کی چمکتی آنکھیں دیکھیں۔
“یہ تو بہت خوبصورت ہے!”
طلال حیران رہ گیا۔
شمائل نے کہا، “میں یہ پہن کر دیکھتی ہوں!”
اپنے بھائی کا کردار ادا کرنے کے لیے، اسے ہر روز لڑکوں کی طرح کا لباس پہننا پڑتا تھا۔ اس سے اس کی شخصیت بری طرح متاثر ہو رہی تھی! شمائل بیڈروم میں گئی، لباس بدلا، اور آئینے میں دائیں بائیں دیکھنے لگی۔ تبھی اچانک اس کا موبائل فون بجنے لگا۔
اس نے فون اٹھایا،
“ہیلو، حارث!”
” شمائل، فوراً واپس آ جاؤ! تم نے ابھی ابھی ڈیڈی کے فون سے ایک ای میل بھیجی ہے، اور مجھے اس کے نشانات مٹانے ہیں، ورنہ وہ سب جان جائیں گے!”
“اوکے-ڈوکے!”
شمائل بیڈروم سے نکلی۔ وہ جانے ہی والی تھی کہ اس نے ثالث کو ان کے سوئٹ سے باہر نکلتے اور انکل طلال کے طرف آتے دیکھا۔ وہ گھبرا گئی اور بولی،
“میں انکل طلال کے ساتھ ہوں، لیکن ڈیڈی یہاں آ رہے ہیں!”
سیڑھیوں کے قریب چھپے ہوئے حارث نے اپنا سر باہر نکالا۔ اگر ڈیڈی شمائل کو ساتھ لے گئے، تو انہیں واپس بدلنے کا موقع شاید دیر سے ملے گا۔ لیکن اگر ایسا ہوا، تو ڈیڈی کے ای میل کے بارے میں جاننے کا امکان بھی بڑھ جائے گا۔ حارث نے اپنے انکل کی ذہانت پر داؤ لگانے کا فیصلہ کیا۔ وہ اچانک سیڑھیوں سے نکل کر بولا، “ڈیڈی!”
ثالث، جو دستک دینے ہی والے تھے، ایک لمحے کے لیے حیران رہ گئے۔ اس نے آواز کی طرف دیکھا کہ حارث قریب ہی ایک شہزادی کے لباس میں کھڑا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر ثالث ششدر رہ گیا۔ پریشان چہرے کے ساتھ، وہ حارث کو اپنے سوئٹ واپس لے آیا۔ جیسے ہی دونوں اندر گئے، شمائل نے چپکے سے دروازہ کھولا، اپنا لباس تھامے سیڑھیوں کی طرف بھاگی اور نیچے چلی گئی۔
حیران سا طلال اپنی جگہ پر ساکت رہ گیا۔ اس کا بھتیجا شہزادی کے لباس میں گھر واپس چلا گیا تھا؟!
کچھ دیر بعد، جیسے ہی اسے کچھ خیال آیا، وہ گھبرا کر ساتھ والے سوئٹ کی طرف دوڑا۔
” ثالث، وہ لباس میں نے خریدا تھا، لیکن میری بات سنو… یہ وہ نہیں جو تم سوچ رہے ہو!”
دھڑام!
ثالث نے دروازہ بند کر دیا اور دانت پیستے ہوئے کہا، “میرے بیٹے سے دور رہو!”
طلال لب بھینچ کے رہ گیا۔ میں بے قصور ہوں! اس نے دل میں سوچا۔
جس مجرم کی وجہ سے یہ سب ہوا تھا اسے باہر نکالنے کے بعد، ثالث مڑا اور اپنے بیٹے کو غور سے دیکھنے لگا۔
حارث شہزادی کے لباس میں تھا، اور اس کی قدرتی لہریں لیے چھوٹے بالوں پر گلابی ہیڈ بینڈ لگا ہوا تھا۔ اس کے نفیس نقوش اور آج باربی کے بالوں کو مہارت سے سنوارنے کا انداز.. ثالث کے ذہن میں آخرکار شکوک پیدا ہونے لگے۔ اس نے پوچھا،
“کیا تم واقعی میرے بیٹے ہو؟”
حارث نے سنجیدگی سے سر ہلایا۔
ثالث نے اچانک پوچھا،
“تمہاری تھرڈ برتھ ڈے پر میں نے تمہیں کیا تحفہ دیا تھا؟”
حارث نے کچھ لمحے کے لیے خاموشی اختیار کی، پھر جواب دیا،
“… بچوں کے لیے فرانسیسی: پہلے 100 الفاظ اور پروگرامنگ کا تعارف۔”
“پچھلے سال دادی نے تمہیں عید کے لیے کتنے پیسے دیے تھے؟”
” دو لاکھ “
ثالث کے شک و شبہ سے بھرپور تاثرات دیکھ کر، حارث کو تھوڑا برا لگا۔ اس نے اپنا لباس کھینچتے ہوئے کہا، “میں جا کر کپڑے بدل لیتا ہوں۔”
ثالث نے اپنے بیٹے کو بیڈروم میں جاتے ہوئے دیکھا، لیکن تھوڑی دیر تک سوچنے کے بعد بھی، اسے ایسا محسوس ہوا جیسے کچھ گڑبڑ ہے۔ وہ اچانک بیڈروم کی طرف گیا اور دروازہ دھکیل کر کھول دیا۔
کمرے میں کوئی نہیں تھا، لیکن باتھ روم سے پانی کے بہنے کی آواز آ رہی تھی۔ جب سے حارث پانچ سال کا ہوا تھا، اس نے ثالث کو نہلانے سے صاف انکار کر دیا تھا۔
ثالث آگے بڑھا۔ پولیٹیکس کی دنیا میں، سب سے بڑی اور معزز فیملی کے سربراہ، 6 فٹ 2 انچ قد کے ساتھ، چپکے سے دروازے کے قریب کھڑے ہو کر باتھ روم کے اندر جھانک رہا تھا اس وقت…
یہ واقعی ان کا بیٹا تھا۔ اسے کسی نے نہیں بدلا تھا۔
وہ مطمئن تو ہوا، لیکن اس کے دل میں ایک ہلکی سی مایوسی بھی تھی۔ کتنا اچھا ہوتا اگر اس کے ساتھ وقت گزارنے والی اس کی بیٹی ہوتی!
حارث مڑا اور ثالث کو گھورتے ہوئے پایا۔ ان دونوں کی نظریں ملیں اور کافی دیر تک خاموشی چھائی رہی۔
آخر کار، حارث نے ماتھے پر بل ڈال کر سوچا۔
“… ڈیڈی بھی کتنے عجیب انسان ہے۔”
وہ غصے سے چلتے ہوئے بولا،
“ڈیڈی، آپ کو کسی نفسیاتی ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے۔”
《《《¤¤¤¤¤》》》
نیچے لابی میں فروین نے زمین پر گرے آدمی کی طرف دیکھا۔ وہ بالکل بے حرکت تھا، اور لگ رہا تھا کہ اس کی سانسیں رک چکی ہیں۔
“میں میڈیکل کی طالبہ ہوں۔ پیچھے ہٹیں، میں اسے سی پی آر دوں گی!”
اریشہ بھی دوڑتی ہوئی آئی۔ اس نے ایک کاغذ نکالا، آدمی کے منہ پر رکھا، اور سی پی آر دینا شروع کر دیا۔
پہلی نظر میں ہی واضح تھا کہ زمین پر گرا یہ آدمی یا تو بہت امیر تھا یا اعلیٰ سماجی حیثیت رکھتا تھا۔ اگر وہ اسے بچا لیتی تو اسے یقیناً اچھا انعام ملتا لیکن دو منٹ تک سینے کو دبانے کے بعد بھی آدمی نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
فروین نے اسے ایک طرف دھکیل دیا۔
“مجھے دیکھنے دو۔”
اریشہ، جسے ایک طرف دھکیلا گیا تھا، غصے سے چیخی،
“کیوں؟ تم ڈاکٹر نہیں ہو۔ میرا وقت ضائع نہ کرو جو میں اسے بچانے کے لیے استعمال کر سکتی ہوں!”
فروین نے فوراً آدمی کے سینے کو چند بار دبایا۔ اسے ٹینشن نیوموتھوریکس ہو رہا تھا۔ یہ ایک شدید حالت تھی۔ سینے میں سیال جمع ہو جانے کی وجہ سے سی پی آر کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ جب تک ایمبولینس پہنچتی، شاید بہت دیر ہو چکی ہوتی۔ اسے فوری طور پر سینے کی ڈرینج سرجری کی ضرورت تھی!
جب اریشہ نے دیکھا کہ فروین اسے نظر انداز کر رہی ہے، تو وہ اور زیادہ غصے سے چیخی،
“اب مجھے سمجھ آیا! کیا تم اس لیے موقع حاصل کرنا چاہتی ہو کیونکہ وہ آدمی امیر لگتا ہے؟ لے جاؤ اسے یہاں سے! میرا وقت ضائع نہ کرو جو میں اسے بچانے کے لیے استعمال کر سکتی ہوں! جب تک یہ یہاں ہے، میں سی پی آر جاری نہیں رکھ سکتی!”
زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھی درمیانی عمر کی عورت نے اریشہ کی بات سن کر فروین کی طرف دیکھا اور کہا، “تم ڈاکٹر نہیں ہو؟ تو یہاں سے ہٹ جاؤ!”
فروین نے ان کی باتوں پر کان نہ دھرا۔ وہ فوراً کھڑی ہوئی اور استقبالیہ کی طرف دوڑ پڑی۔ وہاں جا کر اس نے فرسٹ ایڈ کٹ مانگی اور جلدی سے واپس لوٹی۔ اس نے دستانے نکالے، الکحل سے اوزاروں کو صاف کیا، اور اپنی کمر سے ایک چھوٹا چاقو نکالا۔ اس نے اوزاروں کو جراثیم سے پاک کیا اور کام کے لیے تیار ہو گئی۔
پھر اس نے اس آدمی کی شرٹ کھولی، اس کے سینے کی درمیانی کالر کی لکیر کے دوسری پسلیوں کے درمیان جگہ پر دباؤ ڈالا اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے چاقو اندر گھونپ دیا۔
جھپاک!!!
زخم سے خون کا فوارہ نکلا جس نے آس پاس کھڑے لوگوں کو، خوفزدہ ہو کے، پیچھے ہٹنے پہ مجبور کر دیا۔ تاہم، زمین پر پڑا آدمی اب بھی کوئی ردعمل ظاہر نہیں کر رہا تھا۔
” مرڈر! مرڈر!”
اریشہ چلانےلگی،
“پولیس کو بلاؤ! اسے گرفتار کرو!”
وہ ابھی ابھی سب کو فروین کے خلاف بھڑکانے میں مصروف تھی جب ارد گرد کا ہجوم ہلچل مچانے لگا۔
اس آدمی کی بیوی بھی چلائی،
“تم کیا کر رہی ہو؟!”
لیکن اگلے ہی لمحے، وہ آدمی جو بالکل بے حرکت پڑا تھا، اچانک دوبارہ سانس لینے لگا! سب خاموش ہو گئے۔
چونکہ ایمبولینس ابھی تک نہیں پہنچی تھی، فروین نے فرسٹ ایڈ کٹ سے ایک انفیوزن ٹیوب نکالی اور اس کے ایک سرے کو مریض کے سینے میں ڈال دیا۔ دوسرا سرا ایک ربڑ کے انگلی کے دستانے میں ڈال دیا۔
اس نے انگلی کے دستانے کے سخت سرے پر نصف انچ سے تھوڑا سا چھوٹا ایک سوراخ کیا۔ یہ سوراخ ایک فلپ کی طرح کام کرتا تاکہ سینے سے ہوا کو آسانی سے باہر نکالا جا سکے، جبکہ باہر کی ہوا کو اندر آنے سے روکا جا سکے۔ زمین پر پڑے آدمی کی سانسیں آہستہ آہستہ مستحکم ہونے لگیں۔
“وہ زندہ ہے! وہ زندہ ہے!”
