153.3K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maseer e Mamnu Episode 08

کرتا تھا۔ اگر اس نے یہ سب چپکے سے نہ دیکھا ہوتا، تو وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ تبریز نے اس کے لیے اتنی بڑی سرپرائز تیار کی ہے۔

اریشہ مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ، آہستہ آہستہ باہر کی طرف چلنے لگی۔

جب اس نے دوبارہ نظر اٹھائی، تو اس نے فروین کو دیکھا، جو اپنے پاجامے اور چپلوں میں ملبوس اپنا ٹیک آؤٹ آرڈر لینے کے لیے باہر آ رہی تھی۔

اس کی نظریں نیچی تھیں، اور اس کے ریشمی بال اس کی پشت پر کھلے ہوئے تھے۔ وہ دودھ جیسی سفید جلد اور بے عیب نقوش کی مالک تھی۔ اس کی نیند بھری شکل نے اسے کسی حد تک ایک آرام دہ چہل قدمی کرتے ہوئی خاتون جیسا بنا دیا تھا۔

ایسے حلیے کے باوجود، اس کے اردگرد موجود لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔ اریشہ نے غصے میں لب بھینچ لیے کہ حسد کی آگ پہ قابو رکھنا، اس کے لیے ناممکنات میں سے تھا۔

یہ عورت ہوٹل فائن اسٹ میں رہنے کی استطاعت کیسے رکھ سکتی ہے؟ یقیناً امیر بننے کا ڈرامہ کر رہی تھی۔

اس نے تیزی سے قدم فروین کی طرف بڑھائے۔

“تمہارے پاس تو کپڑے بھی نہیں بچے، اور پھر بھی تم اس ہوٹل میں رہنے کی ضد کر رہی ہو۔ کیا تم یہاں کسی امیر آدمی کو پھانسنے کا منصوبہ بنا رہی ہو، فروین؟ پہلے ایک بار اپنے آپ کو دیکھو تو سہی! کیا تم واقعی یہ سمجھتی ہو کہ صرف اپنے چہرے کا استعمال کر کے لوگوں کو بے وقوف بنا سکتی ہو تاکہ وہ تمہارے لیے ادائیگی کریں؟”

فروین، جو ایک ہاتھ میں اپنا ٹیک آؤٹ پکڑے ہوئے تھی اور دوسرے ہاتھ میں اپنے موبائل پر پیغام پڑھ رہی تھی، الجھن میں نظر آئی۔

اس نے لاپرواہی سے موبائل پر دو بار ٹیپ کیا اور تبریز کے بھیجے گئے اسپام میسجز ڈیلیٹ کر دیے۔ پھر بے دلی سے اریشہ کو دیکھتی بولی،

 “ہاں، کم از کم میرے پاس ایک چہرہ ہے جس پر فخر کیا جا سکتا ہے۔”

اس کی بلی سی کانچ  آنکھیں، اریشہ کے چہرے پر بے پروائی سے گھومیں۔ اس کے یہ چند الفاظ ہی کافی توہین آمیز تھے۔ اریشہ غصے سے لال ہو گئی۔

کیا وہ یہ کہہ رہی تھی کہ وہ بے شرم ہے؟ یا یہ کہ وہ بدصورت ہے؟ یا شاید دونوں؟ اریشہ کی آنکھیں سکڑ گئیں۔ پھر وہ اچانک مسکرا دی۔

” فروین، کیا تمہیں معلوم کرنا ہے کہ تمہارا وہ چھوڑا ہوا بچہ کہاں ہے؟ اگر ہاں، تو رات آٹھ بجے بار میں مجھ سے ملنا۔”

خوبصورتی کا کیا فائدہ؟ آخر کار، تبریز نے اسے چھوڑ ہی دیا تھا، ہے نا؟ وہ چاہتی تھی کہ فروین اپنی آنکھوں سے دیکھے کہ تبریز کس طرح اسے پرپوز کرنے والا ہے۔

یہ الفاظ کہہ کر اریشہ مڑ کر چلی گئی کہ اپنے تئیں وہ خود کو یہ اطمینان دیے چکی تھی کہ تبریز، فروین سے منگنی توڑ چکا ہے پھر چاہے وہ جتنی بھی خوبصورت کیوں نہ ہو۔  فروین کی آنکھوں میں ٹھنڈا سا تاثر ابھرا جب اس نے اسے جاتے ہوئے دیکھا۔

رات آٹھ بجے پھر بار کا ذکر؟

اس نے اپنی نظریں ہٹائیں اور ٹیک آؤٹ لے کر اوپر چلی گئی۔

꧁༺♡ Maseer-E-Memnu ♡༻꧂

اگرچہ یہ صدارتی سویٹ بہترین درجے کے نہیں تھے، لیکن پھر بھی ان میں کچن موجود تھا۔ شمائل اب حد سے بڑھ رہی تھی؛ انہیں ہر وقت باہر کا کھانا نہیں کھانا چاہیے۔ ان کے روز کے کھانے مس مارٹا ہی بناتی تھیں۔

ڈنر کے وقت، مس مارٹا نے گوشت اور سبزیوں کے ساتھ متوازن کھانا تیار کیا۔ فروین پورا دوپہر مصروف رہی تھی۔ جب وہ کھانے کے لیے بیٹھی تو اس نے دیکھا کہ شمائل کے چہرے پر پریشانی کے تاثرات تھے۔

شمائل نے اپنی گول گول چھوٹی ہتھیلی سے اپنی ٹھوڑی کو سہارا دیا اور گہری سانس لی۔

“ممی، مجھے بوریت ہو رہی ہے۔”

فروین نے لاپرواہی سے اس کا گال دبایا اور قدرے کھردری آواز میں کہا،

“بیبی، تم اپنے گیمز کیوں نہیں کھیل رہی؟”

شمائل نے اکتاہٹ بھری آہ بھری۔

 “یہ ویک اینڈ ہے۔ سب اسکول کے بچے چھٹی پر ہیں۔”

فروین کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ اسے لگا کہ شاید شمائل بھول گئی تھی کہ وہ ابھی صرف کنڈرگارٹن کی طالبہ ہے۔ اس نے شمائل کی طرف کھانے کی پلیٹ بڑھائی اور پوچھا،

 “تم کیا کرنا چاہتی ہو؟ میں تمہارے ساتھ ٹائم گزاروں گی، تم پریشان مت ہو بیٹا “

شمائل نے سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا،

“کوئی بات نہیں، ممی۔ آپ مصروف ہیں۔”

پھر اس کی گول گول آنکھیں ادھر ادھر گھومنے لگیں۔ “کیا آپ مس مارٹا کو کہہ سکتی ہیں کہ وہ رات آٹھ بجے ہوٹل کے گرد میرے ساتھ چکر لگائیں؟”

فروین ہنس پڑی۔

 “بالکل۔”

شمائل ہمیشہ ہوشیار اور ذہین بچی رہی تھی۔ وہ کسی کو بھی اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیتی تھی۔ فروین کو یہ فکر نہیں تھی کہ مس مارٹا اس کے ساتھ جائے۔

کھانے کے بعد، تینوں دروازے پر الگ ہو گئے۔

فروین  پہلی منزل پر اپنی ملاقات کے لیے چلی گئی۔ جب اس نے دیکھا کہ اس کی ماں لفٹ میں داخل ہو چکی ہے، شمائل نے اپنا موبائل نکالا اور وائس میسج بھیجا:

 ” مسٹر ایکس طلال،  میں باہر ہوں! تم کہاں ہو؟”

طلال کا جواب فوراً آیا:

“پہلی منزل کے کیفے میں، میز نمبر 28۔ میں تمہارا یہاں انتظار کر رہا ہوں!”

شمائل مسکرا دی۔

“ٹھیک ہے! میں ابھی آ رہی ہوں!”

فروین، وہاں پہنچ کے، اریشہ کے پاس والے صوفے پر جا کے بیٹھ گئی اور پیچھے کی طرف سر رکھ کے آنکھیں موند گئی کہ ابھی بھی اسے تھکاوٹ تھی۔ اس کی لمبی پلکیں اس کے گالوں پر سایہ فگن تھی۔

 “تمہارے پاس کرنے کے لیے کچھ اور نہیں ہے اریشہ؟”

پاس بیٹھی اریشہ نے اسے غصے سے گھورا۔ بات اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ تبریز اسے چھوڑ چکا تھا، منگنی توڑ چکا تھا،  لیکن اس کی بہن اب بھی اتنی پُرسکون تھی۔ یہ اسے کسی مسخرہ پن ہی لگ رہا تھا۔ اریشہ نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لی۔ اچانک، وہ مسکراتی آنکھوں سے فروین کا مذاق اڑانے لگی۔

“ذرا بتاؤ، فروین، اگر تم پہلے سے موٹی نہ ہوتیں اور اتنی خوبصورت ہوتیں، تو کیا تبریز منگنی توڑ دیتا؟”

فروین کی آنکھیں اچانک کھل گئیں، اور اس کی بلی کی طرح تیز آنکھوں میں ایک چمک نمودار ہوئی۔

 “تمہارے کہنے کا کیا مطلب ہے؟”

اس کے موٹاپے کی وجہ ہارمونل دوائیوں کے غلط استعمال کا نتیجہ تھی، حالانکہ اس نے وزن کم کرنے کے لیے بہت محنت کی اور بہت تکلیف برداشت کی، لیکن اس کے جسم کو اپنی صلاحیتیں دوبارہ بحال کرنے کے لیے وقت درکار تھا۔ اریشہ کے الفاظ سے لگ رہا تھا کہ شاید…

اریشہ اس کا فوری ردعمل دیکھ کے، نخوت سے ہنسنے لگی۔ اس کی آنکھوں میں نفرت کا اظہار واضح تھا، اور اس نے زہریلے انداز میں کہا،

 “ہم دونوں مہر کاظم کی بیٹیاں ہیں، تو صرف تمہیں جیلانی فیملی میں شادی کا موقع کیوں ملے؟ لیکن اگر تم اب بھی موٹی ہوتیں تو کیا ہوتا؟ اب دیکھ لو، تبریز  واقعی مجھ سے محبت کرنے لگا ہے!”

فروین خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔

“تو کیا ہوا اگر تم نے وزن کم کر لیا ہے؟ اب بہت دیر ہو چکی ہے! اس خوبصورت چہرے کا بھی کیا فائدہ؟ اگر تمہیں یہ بوجھ نہ اٹھانا پڑتا، تو شاید تم کوئی اور مرد ڈھونڈ سکتی تھیں… لیکن اب؟ تف، تف۔”

فروین کی آنکھوں میں غصہ اُبلنے لگا۔ یہ سوچ کر کہ اس کی سوتیلی ماں نے محض ایک منگنی کے لیے اتنی ظالمانہ حرکت کی تھی، اس کا دل مزید جل اٹھا۔ وہ صرف پانچ سال کی تھی جب اسے ہارمونل دوائیوں کے انجیکشن لگائے گئے تھے! وہ غصے سے پھٹنے ہی والی تھی کہ…

… اچانک بار کی تمام روشنیاں گل ہو گئیں، اور موسیقی بھی رک گئی!

دو سیکنڈ بعد، ایک سفید روشنی رقص گاہ کے مرکز پر چمکی!

تبریز سفید سوٹ میں ملبوس، خوبصورت اور پرکشش نظر آ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک گٹار تھا۔ اس کی آمد کے ساتھ ہی سامعین چیخ اٹھے۔

” تبریز ! تبریز!”

وہاں موجود لڑکے اور لڑکیاں اس کی نام کے نعرے لگانے لگے۔ اس نے اپنے دوستوں کو دعوت ہی اس لئے دی تھی تاکہ اس کے نام کا ماحول بن سکے وہاں۔ تبریز مسکرایا۔ اس نے شہادت کی انگلی اٹھا کر سامعین کو خاموش ہونے کا اشارہ دیا اور وہ سب فورا خاموش ہو گئے۔

اس نے گٹار کے تاروں پر چند بار چھیڑ چھاڑ کی، اور ایک دلکش دھن بن گئی۔ ساتھ ہی اس نے گنگنانا شروع کردیا، حالانکہ یہ کسی مشہور گلوکار کے برابر نہیں تھا، لیکن سننے کے قابل تھا۔ اریشہ پرجوش ہو کر کھڑی ہو گئی، اور جذبات سے اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

تبریز بےحد دلکش لگ رہا تھا!

گانا مکمل کرنے کے بعد، اس نے گٹار ایک طرف رکھا اور مائیک تھامتے ہوئے بولا،

 “آج میں نے یہ جگہ بک کروائی اور اتنے سارے دوستوں کو مدعو کیا کیونکہ میں ایک خاص لڑکی سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ پہلی بار جب میں نے تمہیں دیکھا، تب سے میں نے سوچا کہ تم واقعی بےحد حسین ہو، بےحد دلکش کہ تم پر سے نظریں ہٹانا بھول جائے  ۔”

“واہ! تبریز! تبریز!”

ہر طرف سے شور بلند ہوا، اور ماحول اپنی بلندیوں پر پہنچ گیا۔

تبریز نے ہلکا سا ہاتھ ہلایا۔ فوراً ہی چھت پر موجود غبارے پھٹے، اور ان میں سے گلاب کی پتیاں برسنے لگیں!

یہ لمحہ بےحد رومانوی تھا!

اریشہ نے خوشی سے اپنا چہرہ، ہاتھوں سے ڈھانپ لیا، اس کی آنکھوں میں خوشگوار حیرت کے آثار نمایاں تھے۔ وہ پرجوش انداز میں فروین کی طرف مڑ کر طنزیہ لہجے میں بولی،

“دیکھا؟ تبریز تمہیں کتنی بےرخی سے دیکھتا تھا، لیکن آج میرے لیے کتنی محنت کر رہا ہے! تم جیسی دس لڑکیاں بھی میری ایک انگلی کے برابر نہیں!”

اریشہ کے چہرے پر غرور اور خوشی کا رنگ نمایاں ہو گیا۔ خاص طور پر جب اس نے ارد گرد لڑکیوں کی حسرت بھری نظریں دیکھیں، تو اس کا دل خوشی سے جھوم اٹھا!

پھر اس نے دیکھا کہ تبریز آہستہ آہستہ گلابوں کا گلدستہ ہاتھ میں لیے اس کی طرف بڑھ رہا ہے…

ارد گرد موجود ہجوم نے خود ہی راستہ بنا لیا، جیسے دونوں کے درمیان ایک پل بن رہا ہو۔

اریشہ فورا سیدھی ہوئی اور خوشی سے چند قدم آگے بڑھی۔ اسے لگا کہ یہ دن اس کی زندگی کا سب سے شاندار لمحہ ہے!

لیکن وہ یہ نہیں دیکھ پائی کہ اس وقت تبریز کی نظریں صرف ایک ہی وجود پر مرکوز تھیں۔ اس مدھم روشنی والے بار میں بھی، صوفے پر بیٹھی فروین کا وجود چمک رہا تھا اور سب کی توجہ کا مرکز بن رہی تھی۔ اس کی نظر میں کوئی اور—اریشہ تک—نہ تھی۔

اریشہ چند قدم آگے بڑھ کر رکی۔ جیسے ہی اس نے تبریز کو قریب آتے دیکھا، اس کی مسکراہٹ بے اختیار مزید بڑھ گئی۔ اب تبریز شاید اس کے سامنے گھٹنے ٹیک کر، پروپوز کرنے والا تھا۔

مگر اچانک… اس نے آنکھ کے اشارے سے، اپنے دوستوں کو فروین پہ حملہ کرنے کا اشارہ کیا تھا اور یہ سب بلکل اچانک ہوا تھا کہ وہاں موجود کسی کو، کچھ سوچنے کا موقع تک نہیں ملا۔

گلاس وال کے ذریعے، ثالث مہدی نے فورا ً صوفے پر بیٹھی فروین کو دیکھ لیا تھا۔ اس کے چہرے پہ سرد تاثرات تھے ۔ وہ خونخوار، سرد نظروں سے، اریشہ کو دیکھ رہی تھی۔ لیکن نہ جانے کیا ہوا تھا کہ اس کے ارد گرد موجود سب کے چہروں پر سرد تاثر ابھرا تھا۔ لگتا تھا کہ وہ سب مل کر اس پر حملہ کرنے والے تھے؟ لیکن فروین کی سرد نظریں اریشہ پہ تھی اور وہ بلکل اچانک اریشہ پہ حملہ آور ہونے کا سوچ رہی تھی تاکہ اپنے بچے کے بارے میں اس سے معلومات حاصل کر سکے جو کہ اس وقت وہ تبریز کے چکر میں،  شاید اسے بتانا بھول رہی تھی۔ جیسے ہی ثالث مہدی کو لگا کہ وہ سب فروین پہ حملہ آور ہو رہے ہیں، وہ بلکل اچانک تیزی سے بار میں داخل ہوا۔

” اسٹاپ “

اس کی گہری، ٹھنڈی اور تیز آواز نے فروین کو روک لیا۔ وہ لب بھینچے ثالث مہدی کو دیکھنے لگی۔ چند تربیت یافتہ باڈی گارڈز کا ایک گروہ اندر داخل ہوا اور فوراً بار کو گھیر لیا۔ بار کے بیچ و بیچ کھڑا وہ شاندار مرد، قیمتی ترین سوٹ پہنے ہوئے تھا۔ اس کی آنکھ کے کونے پر وہ تل بھی، شاید سرد مہری سے فروین کو دیکھ رہا تھا، فروین کو اسے دیکھ کے، ہمیشہ یہی محسوس ہوتا۔   اس کی سرد نگاہوں نے ارد گرد کا جائزہ لیا۔

“ہوٹل فائنٹس میں گروپ لڑائیاں ممنوع ہیں!”

فروین، جو ابھی لڑائی کے موڈ میں آئی تھی، فوراً دلچسپی کھو بیٹھی۔

‘ اچھا؟؟ اس مرد کے پاس کتنے زیادہ اصول تھے۔ اس کا اثر اس کی پرفارمنس پر پڑ رہا تھا۔’

اس نے بس سوچا تھا۔ اس کی موجودگی سے متاثر ہو کر، باقی سب نے بھی کوئی حرکت کرنا بند کر دیا۔

 تھا۔  تبریز، جو سارے حالات کا ذمہ دار تھا، ہمت کر کے پوچھا،

 “آپ کون ہیں؟”

سجاد، جو ثالث مہدی کے پیچھے کھڑا تھا، نے جواب دیا،

“یہ جناب ثالث مہدی ہیں۔”

ہوٹل فائنسٹ کے مالک ثالث مہدی؟؟…

تبریز نے سوچا، اس نے سنا تھا کہ وہ یہاں اسلام آباد میں،  امریکا سے کاروباری دورے پر آیا ہے۔ اس کے خاندان نے تبریز کو ہزاروں بار خبردار کیا تھا کہ اس کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہ کرے۔ سب کے چہرے یکدم بدل گئے۔

سجاد کو سمجھ نہیں آیا کہ اس کے باس نے اچانک مداخلت کیوں کی، لیکن چونکہ اس نے اصول وضع کیے تھے، ان کو نافذ کرنا ضروری تھا۔

تبھی اس نے گلا کھنکھار کر، اپنی ٹھوڑی اٹھاتے ہوئے حکم دیا،

“ہوٹل فائنسٹ میں لڑائی؟ کیا تم لوگوں کو اپنی زندگی سے محبت نہیں رہی؟ باہر جاؤ سب!”

سب لوگ فوراً باہر نکلنے لگے جیسے وہ جان بچا کر بھاگ رہے ہوں۔ جب فروین نے دیکھا کہ اریشہ بھی ہجوم کے ساتھ جانے کی تیاری کر رہی ہے تو اس کی آنکھوں میں نفرت چمکی اور  اس نے اریشہ کا بازو پکڑ لیا۔

 ” اریشہ کچھ ایسا ہے جو تم نے ابھی تک نہیں بتایا مجھے۔”

اریشہ اس وقت مکمل طور پر پریشان اور بے بس ہو چکی تھی۔ وہ خوفزدہ نظروں سے ثالث کی طرف دیکھتے ہوئے صرف جلدی سے جانا چاہتی تھی۔ اس نے سرگوشی میں کہا،

“تم پاگل کیوں ہو رہی ہو؟ چھوڑو مجھے!”

“ٹھیک ہے۔ چھوڑ دیتی ہوں۔۔۔۔۔ تمہیں “

 فروین نے اطاعت سے اس کا بازو چھوڑ دیا۔ اریشہ نے اطمینان کا سانس لیا۔ جیسے ہی وہ مڑ کر جانے والی تھی، اچانک ایک زبردست دھکا اس کے پیچھے سے آیا اور وہ ہوا میں اچھل گئی۔ اریشہ سامنے کی میز سے ٹکرا کر نیچے گر گئی۔ اسے ایسا محسوس ہوا جیسے اس کے تمام اندرونی اعضاء ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے ہو۔

پاؤں اس کی پیٹھ پہ مارنے کے بعد، فروین اس کے پاس آئی اور اسے بالوں سے پکڑ لیا۔

 “اب تمہیں یاد آیا جو تم مجھے بتانا چاہ رہی تھیں؟”

اریشہ کی آنکھیں کھل گئیں۔ اس کی آنکھوں میں سرخیاں سی آ گئی تھی اور وہ چلانے لگی

، “یہ مجھ پہ تشدد کر رہی ہے، مسٹر ثالث مہدی!”

ثالث مہدی ماتھے پہ بل ڈالے دیکھنے لگا۔ فروین کا، اریشہ کو دھکا دینا،  غیر متوقع طور پر بےحد پرزور تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ فروین کے پاس کچھ خاص مہارتیں ہیں، جیسے اس نے کچھ خاص ٹریننگ لے رکھی ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا، سجاد نے اسے سرزنش کی۔

 “ہوٹل فائنسٹ میں گروپ لڑائیاں منع ہیں، مس فروین مہر کاظم ۔ کیا آپ کی نظر میں مسٹر ثالث کے قوانین کی کوئی اہمیت  نہیں ہے؟”

فروین نے تھوڑا سا اوپر دیکھتے ہوئے لب نیم وا کیے۔ اس کے انداز میں کوئی بدلحاظی یا بدتمیزی کا عنصر نہیں تھا اور جب بولی تو آواز نرم تھی۔

“میں اکیلی ہوں، میں کسی گروپ کا حصہ نہیں ہوں۔”

اس کے الفاظ نے سجاد کو خاموش کر دیا۔ اریشہ یہ سب دیکھ کےفورا چلانے لگی۔

“ہیلپ ۔۔۔ !”

فروین نے ایک سرد نگاہ سے ارد گرد دیکھا اور پھر پوچھا

، ” تم لوگ جو گروپ بنائے ہوئے ہو، کیا تماشا دیکھنے کا دل چاہ رہا ہے تم لوگوں کا؟”

یہ دیکھ کر کہ اب کوئی آگے نہیں آ رہاا، اس نے اریشہ کو نیچے دبوچتے ہوئے اسے دیکھا۔، وہ صرف اپنے بیٹے کا پتہ جاننا چاہتی تھی اور یہ سب کچھ اتنا بدصورت نہیں بنانا چاہتی تھی۔ وہ بس آرام سے اپنے بچے کے بارے میں جاننا چاہتی تھی لیکن جب اریشہ نے اسے، ماضی کی باتیں یاد دلائی کہ کس طرح سے، اسے پانچ سال کی عمر میں ہارمونز کے انجیکشن لگائے گئے؟ ایسی دشمنی نے اس کی سارے ضبط کو ختم کر دیا تھا۔

پھر ایک زور سے تھپڑ کی آواز آئی! اس نے اریشہ کو بےرحمی سے تھپڑ مارا تھا، جب اس کا گال واضح طور پہ سوجھتا ہوا نظر آیا۔ تو اس نے آہستہ سے کہا

” اگر تم خاموش رہنا جاری رکھو، تو میں تمہیں اتنی بری طرح پیٹوں گی کہ تم خود کو بھی نہیں پہچان پاؤ گی “

کانپتی ہوئی اریشہ اب مزید برداشت نہ کر پائی ۔ وہ روتے ہوئے بول پڑی۔ ” میں بول رہی ہوں،  میں۔۔۔۔ میں بول رہی ہوں۔۔۔ وہ بچہ ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *