153.3K
28

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Maseer e Mamnu Episode 01

” فروین مہر کاظم، آپ حاملہ ہیں۔”

الفاظ تھے یا کمان سے نکلے تیر، جو اس کے وجود کے آر پار ہوئے تھے۔ وہ حیرت کا بت بن گئی تھی جیسے، ساکت آنکھوں سے، وہ اپنے سامنے بیٹھی اس ڈاکٹر کو دیکھ رہی تھی جس کے الفاظ بجلی کی مانند تھے جو اس کے کانوں میں بجے تھے کہ خواب آلود سی بیٹھی، فروین مہر کاظم کی آنکھیں، حیرت سے مکمل کھل گئی تھی

 “… کیا؟”

وہ مکمل شاک میں آ چکی تھی کہ الفاظ بھی ٹوٹ کے بکھر رہے تھے ۔

” یہ کیسے ؟؟؟ کیا کہہ رہی ہے آپ ڈاکٹر؟ میں پریگننٹ؟؟ میں۔۔۔ “

وہ انیس سال کی ایک معصوم لڑکی تھی، جس کی زندگی میں کوئی مرد کبھی شامل نہ ہوا تھا، وہ تو شادی شدہ بھی نہیں تھی اور نہ ہی اس کا تعلق ان لڑکیوں میں سے تھا جو ہر مرد کے ساتھ جنسی تعلقات بنائے تو پھر یہ کیا سننے کو مل رہا ہے اسے۔

 ڈاکٹر نے اس کے سامنے میڈیکل رپورٹ رکھی تھی جسے اس نے کانپتے ہاتھوں اٹھایا تھا کہ شاک اس قدر بھرپور لگا تھا کہ فروین مہر کاظم جیسی مضبوط اعصاب کی مالک، اس لڑکی کو مکمل ہلا کے رکھ دیا تھا۔

 “آپ کی پریگننسی کا فورتھ فورتھ منتھ چل رہا ہے فروین اور آپ کی ہیلتھ اس قدر بھی اچھی نہیں ہے کہ ہم ایبارشن کا سوچےبھی اور آپ جڑواں بچوں کو جنم دے گی “

ایک اور شاک، جو اس کے وجود اور اعصاب کو مکمل لرزا گیا تھا۔ وہ نم آنکھوں میں حیرت لیے، ڈاکٹر کو دیکھ رہی تھی جیسے وہ فروین کو موت کا پروانہ دے رہی ہو اور اسے یقین نہ آ رہا ہو لیکن کاش وہ موت کا پروانہ ہی ہوتا، کاش ان رپورٹس میں اس کی موت کی کوئی مقرر تاریخ ہی لکھ دی گئی ہوتی تو وہ اپنا نصیب سمجھ کے، موت کا انتظار کرتی لیکن یہ تو وہ روح فرسا خبر تھی جو اسے سنا دی گئی تھی۔

. ꧁༺♡ MaseerEMemnu ♡༻꧂

وہ گھر واپس آ چکی تھی۔ گم صم سی چلتی وہ سیڑھیوں کی طرف جا رہی تھی تاکہ اپنے کمرے میں جا سکے تو بیڈ پہ اپنا خستہ حال وجود پھینک دے تو کچھ سکون آئے۔ آنکھیں بند کر لیں اور سب ٹھیک ہو جائے۔ نہ کوئی ڈاکٹر ہو، نہ اس کے وجود میں پنپتا کوئی ننھا وجود ہو اور نہ کوئی رپورٹس ہو اس کے ہاتھ میں جو کسی بوجھ کی مانند، اس کے ہاتھ پہ دباؤ کا سبب بن رہے تھے۔

نک سک سی تیار، صدف مہر کاظم، سیڑھیوں سے اترتی، آبرو اچکا کے وہ گم صم سی چلتی فروین کو دیکھنے لگی۔ ویسے تو اس عورت کو، فروین نام کے اس وجود سے کوئی خاص دلچسپی نہ تھی لیکن پھر بھی اس کی چھٹی حس،  اسے بھڑکا رہی تھی کہ وہ فروین کے اس گم صم رویے کی وجہ جانے۔

ہمیشہ فروین کے وجود سے خار کھانے والی، صدف مہر کاظم، جب سے اس گھر میں شادی کر کے آئی تھی تب سے فروین اس کی آنکھوں میں چھبنے لگی تھی۔ دس سال کی معصوم سی فروین، جو اپنی ماں کی موت کا سوگ بھی ٹھیک سے نہیں منا پائی تھی جب مہر کاظم نے دوسری شادی کر لی اور فروین کو سوتیلی ماں کے رحم و کرم پہ چھوڑ کے، خود جیسے اپنی بیٹی کے وجود سے بیگانہ ہو گیا تھا۔

آگے بڑھ کے، صدف اس کے ہاتھ سے رپورٹس لے کے، اب ان رپورٹس کو دیکھنے لگی جبکہ فروین خوفزدہ آنکھوں سے، صدف کو دیکھنے لگی اور پھر جیسے ہی صدف نے حیران آنکھوں سے اسے دیکھا تھا تب جیسے فروین ہوش میں آئی تھی، آگے بڑھ کے اس نے صدف کے ہاتھ سے رپورٹس چھیننی چاہی، جسے صدف ناکام بناتی پیچھے ہٹ گئی تھی اور اب تمسخرانہ نظروں سے، فروین کے بھدے وجود کو دیکھنے لگی۔

” ماں کے نقش قدم پہ چلنے والی فروین مہر کاظم پریگننٹ؟؟ کس نے منہ لگا دیا تمہیں؟؟ ہماری فیملی کے منہ پہ کالک ملنے والی فروین کو کون اپنے بستر کی زینت بنا گیا، مجھے بھی پتہ چلے “

فروین رونے والی ہو گئی تھی۔ صدف کے الفاظ زہر کی مانند، اس کے کانوں میں جیسے انڈیلے گئے تھے لیکن وہ کوئی بھی جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔

” کاظم ۔۔۔۔ “

صدف اسے مسکراتی آنکھوں سے دیکھتی، مہر کاظم کو آواز دینے لگی جبکہ فروین بھیگی آنکھیں لیے، نفی میں سر ہلا رہی تھی۔

“کاظم یہاں آئیے “

 تب تک مہر کاظم بھی آ چکے تھے۔

” کیا ہوا ہے؟؟ کیوں اس قدر آوازیں دے رہی ہو “

ان کی نظریں صدف پہ تھی جبکہ وہ رپورٹس مہر کاظم کے ہاتھ میں رکھ کے،  مسکراتی تمسخرانہ نظروں سے فروین کو دیکھ رہی تھی جس کی نظریں صدف سے ہوتی اب مہر کاظم پہ تھی ۔

” کیا ہے یہ ؟؟”

وہ کہہ رہے تھے لیکن بلکل اچانک ان کے چہرے کا رنگ متغیر ہوا تھا۔ طیش بھری نظریں فروین کی طرف اٹھی تھی اور فروین لڑکھڑا کے، پاس رکھی ٹیبل پہ ہاتھ رکھ، سہارا لے چکی تھی۔

” یہ کیا ہے ؟؟”

ان کے آواز کی گرج، پورے لاؤنج میں سنائی دی تھی اور فروین کو اپنا وجود گہری کھائی میں گرتا محسوس ہوا تھا۔

” کیا ہے یہ ؟؟ بدکردار لڑکی “

وہ پھر سے غرائے تھے اور فروین کو اپنا وجود ہوا میں معلق ہوتا محسوس ہوا تھا۔ زور کا تھپڑ اس کے گال پہ رسید ہوا تو اسے اپنا پورا وجود آگ میں جھلستا محسوس ہوا۔ ایک اور تھپڑ رسید ہوا تو جیسے پورا لاؤنج گھومتا محسوس ہوا۔ وہ کچھ سن نہیں پا رہی تھی۔ اس کا ذہن سن ہو چکا تھا۔ وہ بس اپنے مقابل کھڑے مہر کاظمی کو غصہ ہوا دیکھ پا رہی تھی لیکن کچھ سن نہیں پا رہی تھی۔ اس کے گال دہک رہے تھے، اس کا وجود ہوا میں جیسے معلق ہو رہا تھا، اس کی آنکھیں ساکت تھی اور دل ۔۔۔۔ دل تو جیسے ساکن تھا۔

صدف ان کو اپنے ساتھ لاؤنج کی طرف لے کر جا رہی تھی۔ نہ جانے وہ کیا کہہ رہی تھی مہر کاظم سے؟؟ وہ اپنے غصے کا اظہار کر رہے تھے لیکن صدف انہیں پرسکون رہنے کو کہہ رہی تھی جبکہ فروین وہیں ساکت کھڑی تھی اور بلکل اچانک گھٹنوں کے بل نیچے گری تھی کہ اب تو نہ کھڑے رہنے کی سکت تھی اور نہ ہی چلنے پھرنے کی۔اسے منظر سے غائب ہونا تھا لیکن وہ منظر سے غائب بھی نہیں ہو پا رہی تھی۔ سکوت تھا مکمل سکوت۔

. ꧁༺♡ MaseerEMemnu ♡༻꧂

“اس کی حالت دیکھ کے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ پریگننٹ ہے اور دن بہ دن اس کا جسم مزید موٹا ہو رہا ہے، پھر بھی یہ محترمہ کہتی ہے کہ اس کا کسی غیر مرد سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ اوہ کم آن”

یہ اریشہ تھی،  فروین کی سوتیلی بہن جو بےحد نفرت کرتی تھی فروین سے اور اب تو جیسے موقع مل گیا تھا اسے،  وجہ بے وجہ فروین کو باتیں سنانے کا، اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کا۔

اس دن کے بعد سے مہر کاظم جیسے خاموش ہو گئے تھے۔وہ نہ فروین کی طرف دیکھتے تھے، نہ بات کرتے تھے اور نہ ہی اس کی حالت کے حوالے سے کوئی بات کی انہوں نے۔ فروین پہلے کہاں ان کے لئے وجود رکھتی تھی۔ وہ پہلے بھی اس کے وجود سے بےخبر تھے اور آج بھی۔

لیکن آج۔۔۔۔ تبریز جیلانی آیا تھا جن کا خاندان کاروبار کی دنیا میں نامور خاندانوں میں جانا پہچانا جاتا تھا۔ جن کے خاندان سے رشتہ جوڑنے کے لئے، یہاں کا ہر خاندان ہاتھ پیر چلاتا نظر آتا کیونکہ اگر کسی کو بھی، جیلانی خاندان میں تھوڑی سی بھی جگہ ملتی ہے یا پھر جیلانی خاندان کے ساتھ ان کا نام جوڑا جاتا ہے تو اس شخص کو ہر اس شخص پہ فوقیت دی جاتی ہے جو جیلانی خاندان کی سلطنت سے بہت فاصلے پہ ہو۔ سب اقتدار کی بات ہوتی ہے اور اس وقت اقتدار کی بات ہو تو جیلانی خاندان کا سکہ رائج تھا پوری دنیا میں۔

اور پھر ایسے وقت میں،  جب بڑی مشکل سے، جیلانی خاندان کے سپوت، تبریز جیلانی سے، فروین مہر کاظم کی منگنی ہونا کسی اعزاز کی بات تھی ان کے لئے کہ اسی طرح سے تو، مہر کاظم کاروبار کی دنیا میں اپنا سکہ رائج کر سکتا تھا۔ بقول فروین کے، مہر کاظم نے کاروبار کے بدلے میں،  اپنی بیٹی کا سودا کیا ہے لیکن حیرت اس بات پہ تھی کہ اس دن جو وہ فروین پہ برس پڑے تھے، اب کیوں خاموش ہیں؟؟ ایسا کیا کہہ دیا ہے صدف نے ان سے کہ وہ خاموش ہو چکے ہیں۔

” فروین تو شروع سے موٹی،  بھدی اور بدصورت رہی ہے، یہ تو اس کی خوش قسمتی ہے کہ تبریز جیلانی سے اس کی منگنی ہو چکی ہے۔نہ جانے کس نیکی کا صلہ ملا ہے اس لڑکی، جیلانی خاندان سے رشتہ طے پایا ہے اور اسے دیکھو، نہ جانے کس غیر مرد کے ساتھ، منہ کالا کر کے بیٹھی ہے۔پیٹ تو دیکھو اس کا۔ دیکھ کے ہی گھن آتی ہے مجھے، بدصورت، بھدا جسم، بدشکل اور اب یہ پریگننسی۔۔۔۔ اففف مجھے تو اس بات کا ڈر ہے کہ تبریز جیلانی، اس سے منگنی نہ توڑ دے”

یہ ماں بیٹی کی قیاس آرائیاں تھی۔

. ꧁༺♡ MaseerEMemnu ♡༻꧂

چار مہینے مزید گزر چکے تھے جب ایک دن تبریز جیلانی وہاں آیا تھا ۔ آتے ساتھ ہی، اسے اسٹڈی روم میں فروین مل گئی تھی جو مہر کاظم کے ساتھ موجود تھی۔ نظر بےساختہ فروین کے وجود پہ پڑی۔ اس کا پیٹ واضح طور پہ اب نظر آنے لگا تھا۔ آٹھواں مہینہ چل رہا تھا اور اس کا وجود اس قدر بھاری ہو چکا تھا کہ اسے اٹھنے، بیٹھنے میں بھی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا۔

مہر کاظم نے آہستہ آہستہ اسے سب بتا دیا جبکہ خوفزدہ نظریں تبریز جیلانی کے چہرے پہ تھی جس کے چہرے کا رنگ لمحہ لمحہ متغیر ہو رہا تھا۔ مہر کاظم کو ڈر تھا کہ اگر تبریز یہ منگنی توڑ دیتا ہے تو وہ جو اقتدار کے خواب دیکھ رہے ہیں، وہ سب خاک میں مل جائے گا۔ وہ جو جیلانی خاندان سے تعلق جوڑنے کے خواب دیکھ رہے ہیں وہ سب ملیامیٹ ہو جائے گیں اور بزنس کی دنیا میں اس کی حیثیت صفر ہو کے رہ جائے گی تبھی اپنی بات کے اختتام پہ انہوں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا تھا۔

” تبریز کیا آپ یہ اینگجمنٹ توڑ دینا چاہتے ہیں؟؟”

تبریز کی سپاٹ نظریں،مہر کاظم سے ہوتی فروین پہ گئی تھی اور پھر فروین سے ہوتی دوبارہ مہر کاظم پہ۔ سر جھٹک کے وہ اپنی کنپٹی سہلانے لگا۔

” گرینڈ پا، نہیں  مانے گیں کبھی۔۔۔ افففف،  “

جس قدر جھنجھلاہٹ سے اس نے کہا تھا اب اس جھنجھلاہٹ کی جگہ غصے نے لے لی تھی۔ اس نے سرد نفرت بھری نظروں سے فروین کو دیکھا تھا جو اس کی طرف دیکھ بھی نہیں رہی تھی۔

” مجبوری میں ہوئی ہے یہ اینگجمنٹ۔ گرینڈ پا کے کہنے پہ کرنی پڑی ہے مجھے یہ منگنی، ورنہ مجھے تو اس کا یہ بھدا وجود، اس کی بدصورت شکل دیکھ کے ہی، گھن آتی تھی اور اب جب یہ کسی اور کی گندگی اپنے وجود میں پال رہی ہے تو میں کیوں ہیرو بن کے،  اس کی ذمہ داری اٹھاؤں؟؟”

” ارے نہیں تبریز، تم فکر ہی مت کرو، بچے کے اس دنیا میں آتے ہی، میں اس بچے کو فورا یہاں سے دفع کر دوں گا۔میرا وعدہ ہے تم سے۔ “

مہر کاظم، بات بگڑنے کے ڈر سے فورا بولے تھے جبکہ کب سے خاموش بیٹھی، فروین نے پہلی دفعہ چونک کے ان دونوں کو دیکھا تھا۔

” ہرگز نہیں۔۔۔ “

وہ دونوں لب بھینچے، سرد نظروں سے اسے دیکھنے لگے۔

. ꧁༺♡ MaseerEMemnu ♡༻꧂

گزشتہ چند مہینوں میں، وہ ہچکچاہٹ سے لے کر بے بسی کی حالت میں جانے لگی تھی، اور پھر آہستہ آہستہ حقیقت کو نہ چاہتے ہوئے بھی قبول کرنے لگی۔ دن بدن وہ اپنے بچے کی دل کی دھڑکن کو پہلے سے زیادہ واضح طور پر محسوس کر سکتی تھی، اور اس کے ساتھ اس کی جذباتی وابستگی بھی پیدا ہو چکی تھی۔

وہ بچہ بے قصور تھا۔ وہ اسے ترک نہیں کر سکتی تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ جب اس نے آج تک کسی مرد سے کوئی تعلق نہیں بنایا،  نہ کسی مرد سے وہ اس نظر سے ملی تو وہ پریگننٹ؟؟؟ کیسے ہو سکتی ہے ؟؟ اس تمام عرصے میں وہ جتنا سوچ سکتی تھی، اس نے سوچا ، ذہن پہ زور دیا لیکن اسے کوئی بھی ایسا لمحہ یاد نہ آیا کہ وہ کبھی کسی مرد کی طرف بڑھی ہو یا کسی غلط راستے پہ گئی ہو۔ اس کا دماغ تھکنے لگا تو سوچنا چھوڑ کے، وہ اب یہ سوچنے لگی کہ کس طرح سے وہ تبریز جیلانی سے، اپنی منگنی ختم کر دے۔جب وہ شخص اسے ناپسند کرتا ہے،نفرت کرتا ہے تو وہ کیوں قربانی کا بکرا بن رہی ہے ؟؟ اس گھر کی ایک اور بیٹی بھی ہے، اریشہ مہر کاظم۔ اسے بنائے قربانی کا بکرا۔

وہ اٹھ کے کمرے میں ٹہلنے لگی جب بلکل اچانک اسے اپنے پیٹ میں شدید درد کا احساس ہوا تھا۔ اسے محسوس ہونے لگا جیسے اس کے وجود میں، وہ دو پلتے وجود الگ ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ بلند آواز میں چیخ پڑی تھی ۔

. ꧁༺♡ MaseerEMemnu ♡༻꧂

پانچ سال بعد۔۔۔

“مام، اٹھیں۔ جہاز لینڈنگ کی تیاری کر رہا ہے۔”

 فروین کی انکھ کھل چکی تھا اور وہ اپنی پیاری سی بیٹی کو مسکرا کے دیکھنے لگی۔

شمائل مہر کاظم کی بڑی انگور جیسی آنکھیں، اپنی ماں کو جاگتا دیکھ کے مسکرانے لگی۔اس نے اپنے ہاتھوں پر ٹھوڑی رکھ لی۔

 “مام، کیا ہم اس بار پاکستان واپس اس لیے آئے ہیں کہ بابا کو تلاش کر سکے؟”

فروین نے اپنے آرام دہ بزنس کلاس کی سیٹ پر سستی سے بیٹھتے ہوئے انگڑائی لی اور پست لہجے میں کہا، “تمہارے کوئی بابا نہیں ہے۔”

شمائل نے بڑے بوڑھوں کی طرح آہ بھری۔

 “میں اب تین سال کی نہیں ہوں۔ میں آپ کی باتوں پر یقین کرنے والی بلکل بھی نہیں۔ میرے کوئی بابا نہیں ہے؟ کیا میں کسی چٹان سے نکل آئی ہوں یا انٹرنیٹ سے ڈاؤنلوڈ ہوئی ہوں؟؟”

فروین نے کوئی جواب نہیں دیا اور اپنے کندھے تک آتے بالوں کو باندھنے لگی کہ اس کی صاف و شفاف جلد، تیکھی ناک، سرخ لب اور خوبصورت جسم، اسے دلکشی بخش رہے تھے۔

جبکہ شمائل نے ناراضگی سے بڑبڑانا جاری رکھا،

“اگر مام، بابا کو تلاش کرنے کے لیے نہیں، تو پھر کیا بھائی کو ڈھونڈنے آئی ہے ؟؟”

 بھائی…!!

فروین کی نیچی ہوتی بادامی آنکھوں میں ایک سرد تاثر ابھرا تھا۔  اس نے حقیقت میں جڑواں بچوں کو جنم دیا تھا—ایک لڑکا اور ایک لڑکی۔ تاہم، مہر کاظم نے اس کی مرضی کو نظرانداز کرتے ہوئے ان دونوں بچوں کو زبردستی اس سے چھیننے کی کوشش کی تھی اور وہ جو ہاسپٹل بیڈ پہ ، کمزور سی پڑی ہوئی تھی، اپنی پوری طاقت لگا کے، وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی اپنی اور اپنے بچوں کی جنگ لڑنے کے لئے لیکن وہ صرف شمائل کو بچا سکی تھی جبکہ اس کا بیٹا چھین کے لے گئے تھے مہر کاظم۔

اس حادثے نے اس کی ہمت تمام کر دی تھی اور اگر اس لمحے،  اس کی خالہ بروقت واپس نہ آتی اور اسے بیرون ملک لے جا کر علاج نہ کراتی، تو شاید وہ دنیا میں نہ رہتی شاید۔

پانچ سال لگے تھے، تب جا کر اس کی صحت بحال ہوئی۔ اس کے موٹاپے کی حالت، جو بچپن میں ہارمون کے غلط استعمال کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی، بھی بالآخر ٹھیک ہو گئی۔

بہ ظاہر، اس بار فروین کی پاکستان واپسی کی وجہ یہ تھی کہ بالآخر تبریز جیلانی کی فیملی نے منگنی ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی تھی، اور وہ ان معاملات کو نمٹانے آئی تھی۔

لیکن اصل میں، سب سے اہم وجہ اس کا اپنے بیٹے کی تلاش جاری رکھنا تھی۔

آدھے گھنٹے بعد، جہاز مکمل طور پر رک گیا۔

فروین نے شمائل کو سوٹ کیس پر بٹھا کے، وہ سوٹ کیس کو آگے دھکیلتے ہوئے چلنے لگی۔

جیسے ہی اس نے اپنا فون آن کیا، ایک کال موصول ہوئی۔ دوسری طرف ایک لاپرواہ مگر چلبلی آواز تھی۔

 “فروین، تمہیں احتیاط کرنی ہوگی!”

فروین نے بے پرواہی سے ادھر ادھر دیکھتے پوچھا، “کیوں؟”

” ثالث مہدی، جو بزنس ٹائیکون ہے اور جس کی پہنچ یہاں تک کہ امریکہ تک ہے، اس وقت دنیا بھر سے تمہاری ذاتی معلومات جمع کر رہا ہے۔ اس بار وہ تمہیں ڈھونڈنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑے گا!” کال کے پیچھے سے ہی، اس کی آواز جھنجھلاہٹ بھری سنائی دے رہی تھی .