65.6K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

“کک۔۔۔کیا ہوا؟” حائقہ کے چلانے پر وہ تیزی سے اٹھ بیٹھا تھا۔
“کیا ہے یہ؟” حائقہ نےاپنے ہاتھ میں موجود سٹریپ کی جانب اشارہ کیا تھا۔
“کیا ہے؟” بھنویں اچکائے اس نے حیرانگی سے سوال کیا۔
“تم نے تو کہاں تھا میں ماں نہیں بن سکتی تو یہ کیا ہے؟” اسکی بات کا مطلب سمجھے جبران نے اس کے ہاتھ سے سٹریپ کھینچی۔
“معجزہ؟” کھسیانی ہنسی ہنسے وہ بولا۔
دونوں ہاتھ کمر پر ٹکائے حائقہ نے آنکھیں مزید چھوٹی کیے اسے گھورا تھا۔
“ہم گائنی ڈاکٹر کے پاس جارہے ہیں ابھی۔۔۔” وہ اسے حکم دیے خود کمرے سے نکل چکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت وہ دونوں ڈاکٹر کے کیبین میں بیٹھے سوالیہ نگاہوں سے اسے گھور رہے تھے جس نے گہری سانس خارج کیے سر نفی میں ہلایا تھا۔
“مسٹر جبران آپ نے کیا رپورٹ ٹھیک سے پڑھی نہیں تھی؟۔۔۔ رپورٹ میں صاف صاف لکھا تھا کہ مسز حائقہ کے مدر بننے کے چانسز کم ہیں یہ نہیں کہ وہ ماں نہیں بن سکتی۔۔۔” ڈاکٹر کی بات سنتے ہی حائقہ نے جبران کو غصیلی نگاہوں سے گھورا جو تھوک نگلتا نظریں چرارہا تھا۔
ڈاکٹر نے اس کے شک کی تصدیق کردی تھی، وہ پریگنینٹ تھی۔۔۔ جبران کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا مگر حائقہ کی مسلسل گھوریوں پر وہ چاہ کر بھی یہ خوشی منا نہیں پارہا تھا۔
“بیگم یقین کرو میری کوئی غلطی نہیں وہ تو ذولقرنین نے ایسا کہاں اور پھر رپورٹ بھی۔۔۔” جبران اس کی منتیں کرتا اس کے پیچھے پیچھے باہر چلا آیا۔
مگر اس کی ایک نہ سنتی وہ گاڑی لیے وہاں سے جاچکی تھی۔
“یاررر۔۔۔۔” اب تو وہ اکتا گیا تھا اس عورت کے موڈ سوینگز سے۔
اب اسے غصہ آنے لگا تھا اور کسی پر نکالنا بھی تھا مگر کون؟
۔۔۔۔۔۔۔
“آہ!” اپنے منہ پر ہاتھ رکھے ذولقرنین مکے کی شدت کو سہے نہیں پایا تھا۔
“کیا حرکت ہے یہ؟” جبران نے اسی کے آفس میں آکر اسے مارا تھا۔
“تم گھٹیا انسان تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے جھوٹ بولنے کی؟” جبران اس پر بھڑکا تھا۔
“میں نے کیا جھوٹ بولا ہے؟” ذولقرنین حیران ہوا۔
“تم نے بکواس کی تھی کہ حائقہ ماں نہیں بن سکتی تو پھر وہ کیسے۔۔۔” کہتے کہتے وہ رکا۔
“وہ کیسے؟” ذولقرنین نے گال پر ہاتھ رکھے سوال کیا۔
“کچھ نہیں۔۔۔” جبران اپنی خوشی اس سے شئیر نہیں کرنا چاہتا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی خوشیوں کی اس حاسد کی نظر لگ جائے۔
“تو پھر یہ کہ اس کی رپورٹ میں ایسا کچھ کیوں نہیں آیا؟۔۔۔ رپورٹ کے مطابق وہ بلکل ٹھیک ہے!” جبران نے جان بوجھ کر بات بدلی۔
“میں نے کوئی جھوٹ نہیں بولا سچ بتایا تھا، مجھے ڈاکٹر نے یہی بتایا تھا۔۔۔” ذولقرنین نے پلٹ جواب دیا۔
“اگر تمہاری یہ بات بھی جھوٹ نکلی نا تو دیکھنا کیا کرتا ہوں میں تمہارے ساتھ!” جبران اسے انگلی دکھاتا وہاں سے جاچکا تھا۔
“عجیب پاگلوں کا خاندان ہے یہ۔۔۔” ذولقرنین نے دانت پیسے تھے۔
ہاں اس دن وہ ریسیپشن پر گیا ضرور تھا مگر حائقہ کی رپورٹ بدلوانے نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
ذولقرنین سے ہوتا وہ حائقہ کے پرانے ڈاکٹر کے پاس گیا تھا جنہوں نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ذولقرنین نے جھوٹ نہیں بولا تھا۔
میسکیرج کے وقت حالات ایسے بن گئے تھے کہ ڈاکٹر کے نزدیک حائقہ کا دوبارہ سے ماں بننا واقعی ایک معجزہ تھا۔
ہسپتال سے باہر نکلے جبران نے اپنی قسمت اور آنکھیں دونوں کو کوسا تھا۔۔۔
ذولقرنین کے کہے جملے نے اتنا اثر دکھایا تھا کہ اس نے رپورٹ کو ٹھیک سے پڑھا نہیں۔
اور اب اپنی بیگم کو ناراض کرچکا تھا وہ ہر بار کی طرح۔
“یار میں ہی کیوں پھنستا ہوں ہر بار۔۔۔” ہسپتال کے باہر موجود بینچ پر بیٹھے اس نے ایک بار پھر خود کو کوسا تھا۔
“شادی شدہ ہو؟” عقب سے ایک انجان آواز آئی۔
جبران نے نگاہیں اٹھائے اس آدمی کو دیکھا جس کے حالات بھی اسی کی طرح ناساز تھے۔
“جی۔۔۔ مگر آپ کو کیسے پتہ چلا؟” جواب دیے جبران نے حیرانگی سے سوال کیا۔
“کیونکہ میں بھی ہوں!” گہری سانس خارج کیے اس نے دھیمی مسکان لبوں پر سجائے جواب دیا۔
“دائم۔۔۔” اس نے اپنا تعارف کروایا۔
“جبران۔۔۔” جبران بھی فوراً بولا۔
“برا نہ مانو تو وجہ جان سکتا ہوں؟” اشارہ جبران کی حالت کی جانب تھا۔
“بیوی کو ناراض کر بیٹھا ہوں۔۔۔” جبران نے منہ بنائے جواب دیا۔
“تو منا لو!” دائم نے کندھے اچکائے۔
“کیسے؟” اس نے منہ بنایا۔
دائم نے مسکرا کر اسے منانے کا طریقہ بتایا۔
جبران نے سر نفی میں ہلایا۔
“اونہوں!۔۔۔ وہ ایسے کبھی نہیں مانے گی، میری والی کچھ الگ ہے، بلکہ سب سے الگ بہت الگ۔۔۔” جبران نے کندھے اچکائے۔
“ٹرسٹ می برو یہ لڑکیاں جتنی مرضی الگ ہو مگر یہاں آکر پگھل ہی جاتی اور پھر بھابھی (حائقہ) چاہے جتنی مرضی الگ ہو مگر میری بیوی کا قابلہ نہیں کرسکتی۔۔۔” وہ ہنس دیا۔
“ہوں؟”
“یااللہ یہاں ہیں آپ اور میں پاگلوں کی طرح پورا ہسپتال چھان چکی تھی۔۔۔” دائم کے سر پر آئی وہ غصے سے بھڑکی۔
“تمہیں ٹائم تھا رخِ نور اور پھر میں وہاں کھڑا رہ کر کیا کرتا؟” دائم نے مزے سے کندھے اچکائے۔
“تو جو مجھے پورا ہسپتال گھومایا اس کا کیا؟” دونوں بازو کمر پر ٹکائے سوال کیا۔
“تو تم مجھے کال کرلیتی؟” دائم نے ایک ابرو اچکائی۔
“اپنا موبائل چیک کیجیئے لیکچرار صاحب!” رخِ نور نے موبائل کی جانب اشارہ کیا۔
دائم نے فوراً پینٹ کی پاکٹ سے موبائل نکالا تھا جہاں چھ سات مس کالز آئی ہوئی تھی۔
“وہ!” دائم نے مسکراہٹ دبائے معذرت کی۔
رخِ نور کا سر غصے سے نفی میں ہلایا۔
“مجھے تو سمجھ نہیں آتی کہ آپ کو یونی میں لیکچرار رکھ کس نے لیا؟” ہر بار مارا جانے والا طعنہ دوبارہ مارا تھا۔
“یہ تم ہر بار میری جاب کو بیچ میں مت لایا کرو۔۔۔”دائم برا منا چکا تھا۔
وہ دونوں اب ایک دوسرے سے بحث کرتے وہاں سے جاچکے تھے جبکہ جبران دائم کے دیے گئے آئیڈیا پر غور کررہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔
شام کو اس کی گھر واپسی ہوئی تھی، ٹیکسی ڈرائیور کو کرایہ دیے وہ ہاتھ میں موجود گلاب کا بڑا بوکے لیے گھر میں داخل ہوا۔
اسے لان میں ہی حائقہ بچوں کے پاس بیٹھی نظرآئی تھی۔
بوکے پیچھے کو چھپائے وہ چہرے پر بڑی مسکان سجاتا اس کے پاس چلا آیا۔
گلا کھنکھارے اس نے حائقہ کو اپنی جانب متوجہ کرنا چاہا مگر حائقہ نے شاہانہ انداز میں اسے نظرانداز کیا۔
جبران نے ہمت نہیں ہاری ویسے بھی یہ تو اب روز کا تھا۔
اس کے پاس گھٹنے کے بل بیٹھے گلاب کا بوکے اس کی گود میں رکھے جبران نے اس کے دونوں ہاتھوں کو تھاما تھا۔
حائقہ نے سوالیہ نگاہوں سے اسے گھورا۔
“سوری۔۔۔” جبران نے معافی مانگی۔
“مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔۔”
“بیگم معاف کردو نا۔۔۔ میں نے جان بوجھ کر تو نہیں نہ کیا کچھ۔۔۔” معصومیت سے آنکھیں پٹپٹائے جبران بولا۔
“معاف کردو نا اپنے اس شوہر کو!۔۔۔ ناراض مت ہو اور پھر اب اتنی بڑی خوشی ملی ہے اسی کی خاطر معاف کردو!” اس کو ہاتھوں کو نرمی سے سہلائے اس نے معافی مانگی تھی۔
“ٹھیک ہے کیا معاف۔۔۔ تمہیں تو ٹھیک سےمنانا بھی نہیں آتا!” نرمی سے جواب دیے حائقہ نے گلاب کی پتیوں کو چھوا تھا۔
جبران نے دل میں لاکھ بار دائم کا شکرادا کیا تھا۔
حائقہ کی جانب سے ملنی والی خوشخبری نے ان سے جڑے رشتوں میں ایک بھونچال پیدا کردیا تھا۔
طاہرہ بیگم کے خوشی کے مارے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے، پوری زندگی اس سے خار کھانے والے سارہ اور میسم بھی قابو میں نہیں آرہے تھے، حائقہ تو ان کے بدلتے انداز پر گھوم کر رہ گئی تھی جو روزانہ کوئی نا کوئی بچوں کا سامان لیے اس کے گھر میں آ دھمکتے۔۔۔
آخرکار گیسٹ روم بھی ختم ہوچکا تھا۔۔۔اس کی جگہ آنے والے بےبی کا کمرہ بنادیا گیا تھا جس کے حق میں حائقہ ہرگز نہیں تھی مگر سب کو خوش دیکھ کر وہ خاموش رہی تھی۔
طاہرہ بیگم کی نصیحتیں اور سارہ میسم کا کئیرنگ انداز سب کچھ نیا اور انوکھا تھا اس کے لیے۔
ان سب میں بھی بس ایک انسان کا انتظار تھا اسے ‘ارسم امین’ کا۔
یہ نہیں تھا کہ ارسم امین کا دل نہیں تھا اس سے ملنے کا مگر طاہرہ بیگم نے جو آئینہ انہیں دکھایا تھا اس پر وہ خود سے ہی شرمندہ تھے۔
اب انہیں احساس ہوا تھا کہ واقعی زرتاج کا بدلا انہوں نے حائقہ سے لیا تھا، شرمندگی نے انہیں کہی کا نہیں چھوڑا تھا۔
وہ اس کے پاس جانا چاہتے تھے مگر اس کا ردعمل سوچ ان کے قدم روک جاتے۔
وقت تیزی سے گزرتا چلا گیا تھا اور بلآخر وہ وقت بھی آگیا تھا جس کا ان سب کو بےصبری سے انتظار تھا۔
حائقہ جبران نے بیٹی کو جنم دیا تھا، کوئی اور تو نہیں مگر آدم جبران اس نئے اضافے کو برداشت نہیں کرپارہا تھا۔
وہ اس سلطنت کا چھوٹا اور راجہ بیٹا تھا مگر اب یہ نئی مخلوق اس کی جگہ لے چکی تھی جس کا اظہار جبران نے اس کے منہ پر ناخن چبائے کرڈالا تھا۔
“بری بات آدم وہ بہن ہے ہماری۔۔۔” پیار سے اس پری کا گال سہلائے معیز نے اسے منع کیا جس پر آدم نے آنکھیں گھمائیں تھیں۔
“می ماما!” وہ زور سے حائقہ کو گلے لگا چکا تھا جبکہ قاتلانہ نگاہیں اس معصوم پر ٹک تھی جو بڑے بھائی کے نام پر اس عجوبہ سے فلحال انجان تھی۔
سب لوگ حائقہ سے آکر مل چکے تھے مگر اس کی نگاہیں دروازے پر جمی دیکھ جبران چونکا تھا۔
“کیا ہوا حائقہ؟” الیانہ (ان کی بیٹی) کو واپس لٹائے جبران نے حائقہ سے سوال کیا جو لب چباتی سر نفی میں ہلاچکی تھی۔
“ہے!۔۔۔ مجھ سے شئیر نہیں کرو گی؟” جبران نے اس کے دونوں ہاتھوں کو تھاما تھا۔
“ڈیڈ نہیں آئے؟” سر جھکائے اس کا لہجہ مدہم تھا۔
جبران نے گہری سانس خارج کی اب کیا بتاتا وہ تو ہر روز آتے تھے، مگر ان میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اس کے سامنے آپاتے اپنے کیے پر شرمندہ تھے۔
“تم ان سے ملنا چاہو گی؟” جبران نے سوال پر اس نے فوراً سر اثبات میں ہلایا۔
محبت سے اس کے ماتھے پرلب رکھے وہ بنا کچھ بولے جاچکا تھا کمرے سے باہر، حائقہ نے مسکرا کر اپنی سوئی ہوئی بیٹی کو دیکھا تھا۔
یونہی دیکھتے کب اس کی آنکھ لگی وہ جان نہ پائی۔
آنکھ کھلی جب نرم ہاتھ کا احساس اپنے سر پر پایا، مندی آنکھوں سے پاس بیٹھے ارسم امین کو دیکھا جن کی آنکھوں میں آنسوؤں اور لبوں پر مسکان تھی۔
“ڈیڈ؟” اس کے لبوں نے سرگوشی۔
“حائقہ!” نجانے کتنے سالوں بعد اس نے اپنے نام کی پکار میں محبت کو پایا تھا۔
“ڈیڈ۔۔۔” اس کی آنکھیں جھلملائی۔
“شش! اب مزید نہیں رونا میرا بچہ۔۔۔ ایم سوری۔۔۔” اسے سینے سے لگائے وہ بولے تو حائقہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔
اس کے رونے سے الیانہ کی بھی آنکھ کھل گئی اور وہ رونا شروع ہوگئی تھی۔
ارسم امین مسکرا کر الیانہ کی جانب بڑھے اسے باہوں میں بھرے انہوں نے اسے سلانے کی کوشش کی تھی۔
“یہ بلکل تمہارے جیسی ہے، معصوم، پاک اور بہت پیاری۔۔۔ جانتی ہو وہ دن میری زندگی کا سب سے خوبصورت دن تھا جب تم اس دنیا میں آئی اور میں بدنصیب جس نے اس کی قدر نہیں کی۔۔۔”
“ڈیڈ۔۔۔”
“ایم سوری میری جان میں نے سب خراب کردیا۔۔۔ تمہاری لائف کو سپوئل کردیا۔۔۔” سوئی ہوئی الیانہ کو دوبارہ اس کی جگہ پر لٹائے وہ اس کے پاس آ بیٹھے۔
“اپنے ڈیڈ کو معاف کردو۔۔۔”
“اگر آپ دوبارہ مجھے بھول گئے تو؟۔۔۔” حائقہ نے اپنا شک ظاہر کیا۔
“نہیں کبھی نہیں۔۔۔ ایک بار یہ غلطی کرچکا ہوں دوبارہ نہیں۔۔۔”
“مجھے دوبارہ خود سے مایوس مت کیجیئے گا ڈیڈ۔۔۔”
“کبھی نہیں۔۔۔” انہوں نے وعدہ کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔
آج الیانہ کا عقیقہ تھا اور پورے فنکشن آدم جبران کا منہ بنا رہا تھا، خود کو ملنے والی ساری اہمیت اب کسی اور کے حصے میں جاچکی تھی جو بات آدم جبران کو بالکل برداشت نہیں تھی۔
فنکشن ختم ہوتے ہی سب اپنے گھروں کو جاچکے تھے، بچیں بھی سو چکے تھے حائقہ ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہونے کے لیے گھر کے دروازے کی سیڑھیوں میں بیٹھ چکی تھی۔
جبران کافی کے دو مگ تھامے اس کے پاس آ بیٹھا تھا۔
“کافی۔۔۔” مگ حائقہ کی جانب بڑھایا۔
“خوش ہو؟” اس کے لبوں پر موجود مسکراہٹ دیکھ کر جبران مسکرایا تھا۔
“بہت زیادہ۔۔۔ سب کتنا اچھا اور ٹھیک ہوگیا ہے نا؟” اس نے مسکرا کر جبران سے سوال کیا تھا۔
“ایک سوال پوچھو؟” جبران نے اجازت چاہی۔
“ہوں!”
“تم تو اپنے ڈیڈ سے نفرت کرتی تھی نا پھر اتنی آسانی سے معاف کردیا؟”
“نفرت نہیں کرتی تھی ان سے بس ناراض تھی میں۔۔۔” اس نے کندھے اچکائے۔
“میں زندگی میں بہت سے مشکل مراحل سے گزری ہوں جبران، میں نے ہمیشہ سے ایک ہیپی لائف کی تمنا کی تھی اور اب جب وہ مجھے ملنے جارہی تو میں اسے یوں جانے نہیں دے سکتی۔۔۔۔”
جبران کی آنکھیں حیرت سے پھیلی تھیں۔
“واٹ! ایسے کیوں دیکھ رہے ہو مجھے؟” حائقہ نے حیرانگی سے سوال کیا۔
“اپنی بیوی کی دریا دلی دیکھ کر حیران۔۔۔ مجھے تو لگا تم ان بدلا لینے والوں میں سے ہو جو کسی کو نہیں بخشتے!” جبران ہنس دیا۔
“اب اتنی بری بھی نہیں ہوں اور کس سے بدلا لیا میں نے؟”
“باقیوں کا معلوم نہیں مگر کم از کم مجھے کبھی نہیں بخشا تم نے۔۔۔” جبران کے شکوے پر وہ دل کھول کر ہنسی تھی۔
“تمہارے معاملے میں چل سکتا ہے تم تو میرے اپنے ہو!” حائقہ کی بات پر ناچاہتے ہوئے بھی مسکراہٹ جبران کے لبوں پر مچل اٹھی تھی۔
“ویسے واقعی کبھی دل میں بدلا لینے کا خیال نہیں آیا؟۔۔۔ کسی سے بھی نہیں؟۔۔۔ ذولقرنین سے بھی نہیں؟” جبران نجانے کیوں جاننے پر منحصر تھا۔
“شائد کبھی آیا ہو مگر اب نہیں اور جہاں تک بات رہی ذولقرنین کی تو اس سے بدلا لینے کا کوئی فائدہ؟۔۔۔ ویسے بھی اس کی اولاد ہی کافی ہے اس کے لیے۔۔۔” آخری جملہ منہ میں بڑبڑائی تھی وہ۔
“مجھے کسی سے کوئی بدلہ نہیں چاہیے جبران، مجھے کسی سے کچھ نہیں چاہیے۔۔۔ بس ایک فیملی چاہیے تھی جو مجھے مل چکی ہے، اردگرد موجود لوگوں کو نظرانداز کیے مجھے بس اب اپنی زندگی میں سیدھا آگے بڑھنا ہے!” اس نے کندھے اچکائے۔
“سیدھا کیوں؟۔۔۔ کبھی کبھار دائیں بائیں جانب بھی دیکھ لینا چاہیے شائد کوئی اپنا مل جائے؟” جبران نے بائیں جانب بیٹھی حائقہ کو محبت بھری نگاہوں سے دیکھا تھا۔
“مگر میرے بائیں جانب تو کوئی نہیں!” حائقہ نے اپنی بائیں جانب دیکھا تو جبران کا منہ بن گیا۔
“ایک نمبر کی موڈ سپائلر ہو تم!” جبران برا منائے وہاں سے اٹھ کر جانے لگا مگرحائقہ ہنستی ہوئی اس کا ہاتھ تھامے اسے واپس اس کی جگہ بٹھا چکی تھی۔
“ایک نمبر کے بچے ہو تم!” اسکا گال کھینچتی وہ اس کے کندھےپر اپنا سر ٹکا گئی۔
اس کی زندگی اب پرسکون تھی، جو چاہا، جس کی خواہش کی وہ پالیا۔۔۔ اب کچھ نہیں چاہیے تھا جو تھا وہ بہت تھا۔
ختم شد۔