65.6K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

دن پر لگائے تیزی سے گزر رہے تھے، حائقہ اب نارمل تھی یا اداکاری کررہی تھی کچھ کہاں نہیں جاسکتا تھا۔
اس کے من میں کیا چل رہا تھا اس نے کسی پر بھی عیاں نہیں کیا تھا، مگر ان سب میں ایک اچھی بات تھی، اس کی بانڈنگ جو بچوں سے دن بدن مضبوط ہوتی جارہی تھی۔
یوں جیسے اس کی زندگی میں ان کے علاوہ کسی چوتھے کی کوئی گنجائش نہ ہو۔
حائقہ اپنی ایک دنیا بسا چکی تھی جس کی رسائی بس جبران اور اس کے بیٹوں کو تھی۔
آج کئی دنوں بعد اس کا اپنے آفس آنا ہوا تھا اور کام حد سے زیادہ، فائل پر جھکی آس پاس کی دنیا سے بےخبر وہ، موبائل پر بجتی بیل اسے ہوش کی دنیا میں لائی۔
بنا نمبر دیکھے اس نے کال اٹینڈ کیے موبائل کان سے لگایا تھا۔
“ہیلو! مسز جبران؟” دوسری جانب سے کسی عورت کی آواز سن کر وہ چونکی۔
“یس؟”
نجانے آگے سے کیا کہاں گیا کہ اسی وقت اپنا کام چھوڑے وہ آفس سے باہر نکلی تھی۔
اسے یوں تیزی سے جاتے دیکھ کر وانیہ نے سر نفی میں ہلایا، جب سے اس کی میم کی شادی ہوئی تھی وہ کبھی نارمل انداز میں واپس نہیں گئی تھی، اب بھی وانیہ کو یقین تھا کہ حائقہ واپس نہیں آنے والی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔
کار سکول کے باہر پارک کیے وہ بیگ کندھے پر لٹکائے تیز قدم اٹھاتی پرنسپل کے آفس کی جانب بڑھی تھی۔
اندر داخل ہوتے ہی جو منظر اس نے دیکھا وہ اس کا دل چیر دینے کو کافی تھا۔
معیز کا ماتھے پر پٹی کی گئی تھی جب کہ پورے چہرے پر ابھی بھی خون کے نشان موجود تھے، اس ساتھ ہی ایک دوسرا بچہ بھی موجود تھا جس کے ماتھے کہ ساتھ ساتھ بازو پر بھی گہری چوٹ آئی تھی۔
حائقہ بےتابی سے معیز کی جانب لپکی تھی۔
“معیز میری جان یہ سب کیسے؟۔۔۔ کس نے کیا؟” اس نے معیز کو باہوں میں بھرا۔
تب سے مضبوطی دکھاتا معیز اب رو دیا تھا، اور ایسا رویا کہ چپ ہونے کا نام تک نہیں لے رہا تھا۔
پندرہ بیس منٹ لگا کر حائقہ نے اسے بہلایا تھا۔
“یہ سب کیا ہے؟۔۔۔”
معیز کو سینے سے لگائے اس نے سوالیہ نگاہوں سے پرنسپل کو دیکھا جنہوں نے گلا صاف کیے بات شروع کی تھی۔
“بہتر ہوگا یہ سوال آپ اپنے بیٹے سے کرے۔۔۔ معیز نے معمولی جھڑپ کی بنا پر عرش کو دھکا دیا اور دیکھیے اسے کتنی چوٹ لگی ہے۔۔۔” پرنسپل نے دوسرے بچے کی جانب اشارہ کیا جس کو واقعی بہت چوٹ لگی تھی۔
“معیز؟” حائقہ نےسوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔
“یہ سب عرش نے شروع کیا ماما۔۔۔ میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا۔۔۔ عرش روز مجھے مارتا تھا، آج بھی مارنے لگا میں نے منع کیا اس نے دھکا دیا پھر میں نے بھی دھکا دیا!” معیز کی بات پر حائقہ کے چہرے کا رنگ لمحے بھر میں سرخ ہوا تھا (غصے والا سرخ)۔
معیز کو لگنےوالی چوٹیں اسے یاد آئی۔
حائقہ کی آنکھوں میں تیرتا غصہ دیکھ کر پرنسپل پریشان ہوئی۔
“ایسا کچھ نہیں ہے، اگر ایسا کچھ ہوتا تو میرے علم ہوتا۔۔۔ معیز ڈونٹ لائے۔۔۔” پرنسپل نے اسے گھورا۔
“میں جھوٹ نہیں بول رہا ماما میں نے ٹیچر کو بھی بتایا تھا اور۔۔۔۔”
“معیز کو ٹیچر کو بلائیے۔۔۔” حائقہ معیز کی بات کاٹتی غصیلے لہجے میں بولی۔
“مسز جبران۔۔۔”
“اپنی ٹیچر کو بلائیے۔۔۔” بحث کی گنجائش نہیں چھوڑی تھی اس نے۔
پرنسپل نے گہری سانس خارج کیے معیز کی ٹیچر کو بلوایا تھا۔
انہیں اب پریشانی نے آن گھیرا، عرش کے پیرنٹس ابھی تک نہیں آئے تھے اور یہاں معملہ انہیں خراب ہوتا نظر آرہا تھا۔
“مے آئی کم ان میم؟” ناک کیے ٹیچر اندر داخل ہوئی۔
“یس مس ذونیرہ یو کین!” پرنسپل نے اجازت دی۔
“یو کال می میم؟” ٹیچر نے سوال کیا۔
“مس ذونیرہ کیا آپ معیز اور عرش کے درمیان ہونے والی لڑائی کے بارے میں جانتی تھی؟” پرنسپل کے سوال پر وہ تھوڑا سا گھبرائی۔
“یس میم، بٹ نتھنگ واز سیریس!” مس ذونیرہ سنبھل کر بولی۔
“نتھنگ واز سیریس؟ ۔۔۔۔ میرا بچہ لہوں لہان ہوئے روزانہ گھر آتا تھا اور تم کہتی ہو نتھنگ واز سیریس؟” حائقہ غصے سے چلاتی اس کی جانب بڑھی تھی۔
مس ذونیزہ نے گھبرا کر دو قدم پیچھے کو لیے تھے۔
“خالہ۔۔۔” عرش نے فوراً ذونیزہ کا ڈوپٹہ تھاما۔
حائقہ کا منہ کھل گیا، ہونٹوں پر استہزایہ مسکراہٹ در آئی۔
“تو یہ بات تھی؟” اس کے لبوں پر تو مسکراہٹ تھی مگر آنکھوں میں بےپناہ غصہ۔
“دیکھیے میم آپ غلط سمجھ رہی ہے۔۔۔” ذونیزہ بری پھنسی تھی، حائقہ نے تاثرات نے اسے خوف میں مبتلا کردیا تھا۔
“شروعات آپ کے بچے نے کی تھی۔۔۔” اور بس حائقہ کا دماغ گھوما تھا۔ ہاتھ اٹھا اور زونیرہ کے چہرے کو سلامی دے چکا تھا۔
پرنسپل بھی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
“مسز جبران۔۔”
“ماما۔۔۔۔”
مگر ان دونوں کو نظرانداز کیے وہ اسی ہاتھ سے عرش کے چہرے پر بھی سلامی دے چکی تھی۔
“یہ تھپڑ تمہیں اور تمہارے بھانجے دونوں کو یاد دلاتا رہے گا کہ معیز جبران کون ہے اور اس کی ماں کون ہے۔۔۔” وہ ذونیرہ کو زہریلی نگاہوں سے دیکھتے بولی۔
“اور آپ پرنسپل صاحبہ آپ تو تیار رہیے اس سکول کو بند نہ کروایا تو میرا نام بھی حائقہ جبران نہیں۔۔۔” پرنسپل نے خوف سے تھوک نگلا تھا۔
“مسز جبران میری بات سنے میں لاعلم تھی، مسز جبران پلیز لسن ٹو می۔۔۔ مسز جبران۔۔۔” وہ ان کے پیچھے بھاگی۔
حائقہ سب کو نظر انداز کیے معیز کا ہاتھ تھامے باہر نکلی جب اندر آتا ذولقرنین اسے دیکھ کر حیران ہوا اور کندھے اچکاتا آفس میں داخل ہوا۔
پرنسپل بھی حائقہ کو چھوڑے اب ذولقرنین کی جانب متوجہ ہوئی تھی۔
مگر جو سین ذولقرنین کو دیکھنے کو ملا وہ اس کا پارہ بڑھانے کو کافی تھا، جلدی سے آفس سے نکلتا وہ حائقہ کے پیچھے بھاگا۔
“ہے یو سٹاپ دئیر!۔۔۔” ذولقرنین کی آواز سن کر بھی ان سنی کرتی وہ معیز کا ہاتھ تھامے تیز تیز قدموں سے گاڑی کی جانب بڑھتی چلی جارہی تھی۔
“ماما ۔۔۔انکل ہمیں پکار رہے ہیں۔۔۔” اس کا ہاتھ ہلائے معیز نے متوجہ کرنا چاہا اسے۔
اس سے پہلے وہ معیز کو جواب دیتی ذولقرنین دوڑتا ہوا اس کی جانب آیا اور بازو سے کھینچ کر اپنی جانب گھمایا تھا۔
ایک جھٹکے سے اس نے اپنا بازو ذولقرنین کی گرفت سے نکالا تھا۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بات کو ان سنا کرنے کی؟” وہ اس پر بھڑکا
“جو بکنا ہے جلدی بکو ۔۔۔ فالتو کا ٹائم نہیں ہے میرے پاس۔۔” رسٹ واچ پر نگاہ دوڑائے وہ بولی۔
ذولقرنین نے دانت کچکچائے۔
“تم جانتی بھی ہو جس بچے پر تم نے ہاتھ اٹھایا وہ کون ہے؟۔۔۔ کس کا بیٹا ہے وہ؟” وہ غصے سے اس کے قریب ہوا۔
“شکل سے انسان اور حرکتوں سے کسی جانور کا لگا مجھے تو۔۔” اس نے مزے سے کندھے اچکائے۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے بیٹے کے لیےایسی زبان استعمال کرنے کی؟” ذولقرنین کا بس نہ چلا کے سامنے کھڑی اس عورت کا منہ توڑ ڈالے۔
“اوہ۔۔۔ مجھے پہلے ہی سمجھ جانا چاہیے تھا کہ وہ تمہارا خون ہے کیونکہ۔۔۔ ایسا کتابچہ صرف تمہارا ہی ہوسکتا ہے” مزے سے اپنے ناخن دیکھے اس نے جواب دیا۔
“ہاؤ ڈئیر یو۔۔۔” ذولقرنین کا ہاتھ ہوا میں بلند ہوا جسے وہ بیچ راہ میں ہی تھام چکی تھی۔
معیز ڈر کے مارے اس کے پیچھے چھپ گیا تھا۔۔۔ ایک افسوس نگاہ اس نے اپنے لاج دلارے پر ڈالی جس کو اس کا باپ اچھا بنانے کے چکر میں کمزور بنارہا تھا۔
“ہاؤ ڈئیر یور سن ٹرائے ٹو ہارم ماین سن۔۔۔ آج تو صرف تمہارے اس جانور کو ایک تھپڑ مارا ہےیقین مانو اگر اگلی بار اس نے میرے بیٹے کو پریشان کیا تو ہاتھ پیر توڑ دوں گی اور اس بات کا لحاظ نہیں رکھو گی کہ اس کا باپ کون ہے؟ سمجھے؟” اس سخت نگاہوں سے وارن کرتی وہ معیز کا ہاتھ تھامے وہاں سے جاچکی تھی۔
ذولقرنین کی شعلہ باز نگاہوں نے اسے گاڑی میں بیٹھتے تک گھورا تھا۔
“یو رلینگویج واز ڈیم فاؤل ماما!(آپ نے بہت خراب زبان استعمال کی ماما)” معیز کے لہجے میں اس کے لیے مایوسی تھی۔
“ہی گوٹ واٹ ہی ڈیزروو۔۔” معیز کو سخت لفظوں میں تنبیہ کیے اس نے کار سٹارٹ کی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
“ماما تھک جائے گی بیٹھ جائے۔۔۔” اسے یہاں سے وہاں چکر کاٹتے دیکھ کر معیز بولا تھا۔
مگر حائقہ نظرانداز کیے دوبارہ چکر کاٹنا شروع ہوگئی تھی۔
“تمہارے باپ کو معلوم تھا کہ وہ تمہیں مارتا ہے؟” حائقہ نے بہت بار کہا گیا جملہ دوبارہ دوہرایا۔
معیز اب بتا کر پچتایا تھا۔
جانتا تھا کہ اب اس کے باپ کی خیر نہیں۔
“حائقہ!۔۔۔ حائقہ!” جبران اس کا نام چلائے لاؤنج میں داخل ہوا تھا۔
حائقہ نے آنکھیں چھوٹی کیے باہر لاؤنج میں موجود اپنے شوہر نامدار کو گھورا۔
غصے سے وہ لاؤنج میں جاپہنچی۔
“ہاں کہو کیا مسئلہ ہے؟” دونوں بازو سینے پر باندھے وہ بولی۔
“تم معیز کے سکول میں کیا کرکے آئی ہو؟۔۔۔ تم نے ذولقرنین کے بیٹے پر ہاتھ اٹھایا؟”
“ذولقرنین کا بیٹا معیز کو مارتا ہے یہ بات تم جانتے تھے نا؟” حائقہ کے سوال پر جبران ٹھٹھکا، اپنا غصہ پل بھر میں اڑن چھو ہوا۔
حائقہ کے تاثرات دیکھ کر جبران کو اپنی جان جاتی محسوس ہوئی۔
“وہ۔۔۔وہ۔۔۔”
“تم جانتے تھے نا کہ وہ بچہ تمہارے بیٹے کو مارتا ہے اور تم خاموش رہے؟” ایک ابرو اچکائے حائقہ نے دوبارہ سوال کیا۔
“بیگم وہ میں۔۔۔ میں سمجھاتا ہوں نا!” جبران کھسیانی ہنسی ہنسے بولا۔
“شکل گم کرلو اپنی، دکھانا مت مجھے دو تین تک!” انگلی اٹھائے وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھی۔
“بیگم بات تو سنے، بیگم!۔۔۔ بیگم؟” جبران اس کے پیچھے پیچھے کمرے کی جانب بڑھا جس کا دروازہ حائقہ اس کے منہ پر بند کرچکی تھی۔
“بیگم!” جبران نے بےچارگی سے کمرے کو دروازے کو دیکھا اور پھر معیز کو جو ان کے پیچھے پیچھے وہاں چلا آیا تھا۔
“یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے!” جبران نے اسے گھورا۔
“میں نے کیا کیا ہے؟۔۔۔” معیز تو اپنے اوپر لگے الزام پر تڑپ اٹھا۔
“میاں بیوی میں ناراضگی ڈلوا دی شیطان کہی کے۔۔۔” اسے گھرکتا جبران پھر بند دروازے کی جانب مڑا۔
“بیگم!” بچوں کی طرح پاؤں زمین پر مارے وہ روہانسا ہوا۔
دوپہر سے شام اور شام سے رات ہوچکی تھی مگر حائقہ جبران نے جبران حیات کے لیے کمرے کا دروازہ نہ کھولا تھا۔
اور اب بھی معیز کے اصرار پر وہ کھانے کے لیے آئی تھی اور جبران کو مکمل نظرانداز کیا تھا۔
جبران نے بارہا بات کرنےکی کوشش کی مگر کوئی فائدہ نہیں، اول تو وہ اسے سن نہیں رہی اور اگر سن بھی لیتی تو آدم اسے جواب نہ دینے دیتا۔
“اب درد تو نہیں نا ہورہا؟” معیز کے ماتھے کی پٹی بدلے حائقہ سوال کیا جس پر اچھے بچوں کی طرح اس نے سر نفی میں ہلایا۔
“ماما آپ میری وجہ سے پاپا سے ناراض ہے؟” معیز نے چہرے پر معصومیت سجائے سوال کیا۔
“نہیں تو کیوں؟”
“وہ پاپا کہہ رہے تھے کہ میں شیطان ہوں اور آپ میری وجہ سے ان سے ناراض ہے۔۔۔” حائقہ کا پارہ پھر سے بڑھا۔
معیز اور آدم کو سلائے وہ باہر لاؤنج میں اپنے شوہر کے سر پر آکھڑی ہوئی۔
“بیگم!” جبران چہکا۔
“من تو چاہ رہا کہ تمہارا منہ توڑ دوں۔۔۔” دانت پیسے وہ غصے سے بولی۔
“بیگم؟” جبران کا ہاتھ دل کو گیا۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے بیٹے کو شیطان کہنے کی؟” وہ دھیمی آواز میں غرائی۔
“وہ؟۔۔۔ وہ تو۔۔۔”
“میرا بیٹا چوٹ لگوائے گھر آیا اور اس کا خیال کرنے کی بجائے تم نے اس معصوم کے دماغ میں شیطان جیسا لفظ ڈال دیا۔۔۔ یو نو واٹ اب دو نہیں بلکہ پورا ہفتہ اپنی شکل مجھے نہ دکھانا اور نہ ہی کمرے میں آنا۔۔۔ گیسٹ روم میں سوؤں تم!” وہ غصے سے بولتی اپنے کمرے کی جانب چل دی تھی۔
جبران پھر اسے منانے کو اس کے پیچھے آیا اور ایک بار پھر اپنے منہ پر دروازے کو بند پایا۔
“اس گیسٹ روم کو تو آگ لگادوں گا میں۔۔۔” خود سے بولتا وہ ایک بیچارگی والی نگاہ اپنے کمرے کے بند دروازے پر ڈالتا جھکے کندھوں سمیت گیسٹ روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ماہ بعد:
ایک ہفتے کی سزا ختم ہوگئی تھی جبران حیات کو معافی مل چکی تھی اور اب اس کی زندگی پرسکون ہوگئی تھی۔
معیز کا سکول حائقہ بدلوا چکی تھی، وہ تو اس کے پرانے سکول پر کیس کرنا چاہتی تھی مگر جبران نے بامشکل اسے روکا تھا۔
کچھ دنوں سے ایک عجیب بوجھل پن اس کی طبیعت میں در آئی تھی۔۔۔ حائقہ ناچاہتے ہوئے بھی وہ سوچ رہی تھی جو وہ سوچنا نہیں چاہتی تھی۔
آج صبح سے ہی اسے وامٹنگ ہوئے جارہی تھی۔۔۔ شک کی بنیاد پر وہ فارمیسی جاپہنچی اور اپنی مطلوبہ شے حاصل کیے گھر واپس آئی تھی۔
اب بس اسے انتظار تھا تو نتیجے کا۔
نتیجہ آ چکا تھا، حائقہ کی آنکھیں پھیل چکی تھی، پہلے شاک اور پھر غصہ در آیا۔
واشروم سے نکلتی وہ بیڈ پر مزے سے سوئے جبران حیات کے سر پر جاپہنچی تھی۔
“جبران حیات!”۔
جاری ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔